عمران خان دھاندلی کے الزامات پر بات کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن کی تشکیل پر روشنی ڈالتے ہیں۔
Key Takeaways
- موجودہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی مشترکہ انتخابی کوشش ہے۔
- دھاندلی کے الزامات کی صورت میں عمران خان مکمل تعاون کرنے کو تیار ہیں۔
- 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے متعدد پٹیشنز آئیں۔
- انتخابات کی شفافیت کے لیے سیمپل حلقوں کی جانچ ضروری ہے۔
- تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کیئر ٹیکر حکومت بنی تھی۔
What the video covers
- عمران خان دھاندلی کے الزامات پر بات کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان کی تردید کا ذکر کرتے ہیں۔
- موجودہ الیکشن کمیشن کو پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے منتخب کیا تھا، یہ پی ٹی آئی کا نہیں تھا۔
- کیئر ٹیکر حکومت تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنی تھی۔
- عمران خان دھاندلی کے الزامات کی صورت میں مکمل تعاون اور مدد کی پیشکش کرتے ہیں۔
- 2013 کے انتخابات میں 400 پٹیشنز الیکشن کمیشن کو موصول ہوئیں جن میں دھاندلی کے الزامات تھے۔
- انہوں نے صرف چار حلقوں کے سیمپلز کھولنے کی تجویز دی تھی تاکہ 2018 کے انتخابات شفاف ہوں۔
- تمام سیاسی جماعتوں نے ان کی اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔
- عمران خان دھاندلی کے الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور شفافیت پر زور دیتے ہیں۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
جو اخری میرا پوائنٹ ہے دھاندلی کا۔
Speaker A
اج پولیٹیکل پارٹیز کہہ رہی ہیں دھاندلی ہوئی۔
Speaker A
سب سے پہلے میں ان کو کہوں کہ جو یہ موجودہ الیکشن کمیشن ہے یہ دو مین پولیٹیکل پارٹیز نے منتخب کی تھی۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے۔
Speaker A
یہ الیکشن کمیشن پی ٹی ائی کی نہیں تھی۔
Speaker A
اور کیئر ٹیکر گورنمنٹ بھی ان ساری گورنمنٹس نے ان ساری پولیٹیکل پارٹیز کے مشاورت سے بنی تھی۔
Speaker A
میں اج یہ کہتا ہوں کہ جو بھی اپ کسی حلقے میں اپ کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ہم اپ کی پوری مدد کریں گے۔
Speaker A
ہم ہم سارے حلقوں کو کھلوائیں گے جو اپ کہتے ہیں کہ جس میں دھاندلی ہوئی۔
Speaker A
جب 2013 کا الیکشن ہوا 400 پٹیشنز تھیں جس میں لوگوں نے کہا ساری پارٹیز نے کہا دھاندلی ہوئی اور 400 پٹیشنز تھیں الیکشن کمیشن کے پاس۔
Speaker A
میں نے کہا چار کھول دو صرف 400 میں سے صرف میں نے کہا چار سیمپل لے لو تاکہ 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو۔
Speaker A
یہ ساری پارٹیز جو اج کہہ رہی ہیں دھاندلی ہوئی ان سب نے میری مخالفت کی۔
Topics:عمران خاندھاندلیالیکشن کمیشنپیپلز پارٹینون لیگپی ٹی آئیالیکشن 2018کیئر ٹیکر حکومتسیاسی جماعتیںالیکشن شفافیت











