100 Days Punjab Governmnet | Imran khan Speech | Samaa … — Transcript

عمران خان نے پنجاب حکومت کے 100 دنوں کے پروگرام پر بات کی، انصاف، ترقی اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔

Key Takeaways

  • انصاف کی فراہمی قوم کی یکجہتی اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔
  • پنجاب کے بجٹ کی منصفانہ تقسیم سے تمام علاقوں کی ترقی ممکن ہے۔
  • لاہور میں آلودگی اور غیر متوازن ترقی کے مسائل کو فوری حل کرنا ہوگا۔
  • حکمرانوں کی ایمانداری اور ملک سے وابستگی ترقی کی کنجی ہے۔
  • معاشی خسارے اور قرضوں کا بڑھنا ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

Summary

  • عمران خان نے تحریک انصاف کے جلسوں اور 100 دن کے پروگرام کی وضاحت کی کہ یہ جلسہ نہیں بلکہ ایک ترقیاتی پروگرام ہے۔
  • انہوں نے پنجاب حکومت کے مالی خسارے اور جنوبی پنجاب کے احساس محرومی پر روشنی ڈالی۔
  • عمران خان نے انصاف کی اہمیت بیان کی اور ایسٹ پاکستان کی علیحدگی کی مثال دی۔
  • انہوں نے پنجاب کے بجٹ کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تمام علاقوں کو برابر ترقی ملے۔
  • لاہور میں آلودگی اور پھیلاؤ کے مسائل کی نشاندہی کی اور اس کے بچوں اور بوڑھوں پر اثرات بتائے۔
  • عثمان بزدار کی قیادت کی تعریف کی اور ایمانداری کو سب سے بڑی خوبی قرار دیا۔
  • انہوں نے پاکستان کی موجودہ معاشی حالت اور قرضوں کے بڑھنے پر تشویش ظاہر کی۔
  • عمران خان نے ملک میں سرمایہ کاری اور حکمرانی کے مسائل پر تنقید کی۔
  • انہوں نے ماضی کے دور اور موجودہ دور کے درمیان ترقیاتی فرق کو واضح کیا۔
  • ملک میں یکجہتی اور انصاف کی فراہمی کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:01
Speaker A
مجھے پتا ہے
00:03
Speaker A
کہ ہم سب تحریک انصاف کے جلسوں کو یاد کر رہے ہیں۔
00:17
Speaker A
اور ہمارے میں سے کئی اس 100 ڈے پروگرام کو جلسہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ یہ نہیں بن سکتا۔
00:29
Speaker A
اب آپ نے خاموشی سے سننا ہے۔
00:34
Speaker A
یہ ضروری ہے آپ کے لیے کہ ایک پنجاب گورنمنٹ نے جو 100 ڈے پروگرام اپنا دیا 100 دن کا۔
00:44
Speaker A
میں یہ چاہتا ہوں وہ ذرا غور سے آپ کی سن بھی رہے تھے لیکن کئی غلط جگہ پہ نعرے مار رہے تھے کیونکہ آپ کی پھر سے کوشش تھی کہ اس کو جلسہ بنانے کے لیے جو کہ یہ نہیں ہے جلسہ۔
00:56
Speaker A
اب ذرا سنیں۔
00:57
Speaker A
سب سے پہلے
00:58
Speaker A
اب بس بس بس
00:59
Speaker A
اچھا جی میں پہلے تو ہاشم آپ کو آپ نے جو پریزنٹیشن کی بڑی کرسپ زبردست پریزنٹیشن تھی۔
01:59
Speaker A
ہمیں پتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں جی آپ پرانی حکومت کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔
02:06
Speaker A
یہ ضروری ہے کرنا کہ آپ کمپیئر کسے کر رہے ہیں؟
02:20
Speaker A
جب تک آپ یہ نہیں بتائیں گے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے جب تک آپ کو ان کا پتا نہیں چلے گا تو کس سے آپ اپنا موازنہ کریں گے؟
02:36
Speaker A
تو یہ ضروری تھا بتانا کہ جو جس حالات کے اندر یہ صوبہ ملا ہے۔
02:50
Speaker A
یہ ادھر سے ہی آگے جائیں گے نا۔
02:56
Speaker A
بلڈ تو ادھر سے ہو گا۔
03:00
Speaker A
جدھر سے ان کو ملا ہے تو وہ بڑا اچھا آپ کی پریزنٹیشن تھی کہ تقریباً 1200 ارب روپے کا ایک صوبہ خسارہ کر بیٹھا تھا۔
03:20
Speaker A
اور پروویڈنٹ فنڈ 100 ارب کا پروویڈنٹ فنڈ یعنی کہ بیچارے جو ہمارے مزدور ہیں ان کا جو فنڈ تھا وہ بھی ہضم کر بیٹھی تھی۔
03:33
Speaker A
لیکن جو سب سے پہلے آپ نے جو بات کی جو جو آپ نے آخر میں بات کی کہ جو پیسہ تھا جنوبی پنجاب کا وہ بھی خرچ کر دیا گیا اور جگہوں پہ اور جنوبی پنجاب کا شیئر نہیں ملا وہ بڑا امپورٹنٹ ہے۔
03:52
Speaker A
اچھا
03:53
Speaker A
اب ایک منٹ سب نے میرے سے آپ نے وعدہ کرنا ہے کہ یہ ایک جلسہ نہیں ہے۔
04:04
Speaker A
یہ جلسہ نہیں ہے۔
04:07
Speaker A
مجھے پتا ہے ہمارا دل کر رہا ہے جلسہ کرنے کو۔
04:10
Speaker A
میرا بھی دل کر رہا ہے۔
04:11
Speaker A
یہ جلسہ نہیں ہے۔
04:12
Speaker A
ذرا غور سے
04:14
Speaker A
غور سے سنیں ذرا اب میری بات۔
04:15
Speaker A
دیکھیں ہماری زندگی کے اندر
04:19
Speaker A
میری زندگی میں
04:20
Speaker A
ایسٹ پاکستان گیا۔
04:23
Speaker A
ایسٹ پاکستان وہ جگہ تھی جدھر سارا یعنی
04:30
Speaker A
ایک یونینیمس ووٹ تھی پاکستان کی 1947 میں۔
04:39
Speaker A
اور وہ جو کہ پاکستان کے لیے ترستے تھے۔
04:47
Speaker A
اور مجھے یاد ہے کہ میں جب ایک ایگزیبیشن میچ کھیلنے گیا ہندوستان کے خلاف ڈھاکہ میں
05:01
Speaker A
تو وہ مجھے کبھی نہیں بھولتا کہ وہ تب تک بنگلہ دیش بن چکا تھا تقریباً 18 سال سے بنگلہ دیش تھا۔
05:11
Speaker A
اور وہ بڑا غصہ بھی تھا پاکستان کے خلاف
05:17
Speaker A
ویسٹ پاکستان کے خلاف تو جب میں وہاں ہندوستان کے خلاف 1989 میں ایک میچ کھیلا جو ہم نے جیتا ان سے
05:30
Speaker A
تو آپ یقین کریں کہ مجھے ایسے لگا کہ میں نے لاہور میں میچ جیتا ہے۔
05:40
Speaker A
سارا کا سارا سٹیڈیم ڈھاکہ میں سٹیڈیم
05:46
Speaker A
پاکستان زندہ باد کے نعرے مار رہا تھا۔
05:50
Speaker A
اور سارے راستے میں سٹیڈیم سے جو ہماری بس گئی ہوٹل تک
05:59
Speaker A
راستے میں لوگ سڑکوں پہ کھڑے تالیاں بجا رہے تھے۔
06:03
Speaker A
تو وہ ہمارے سے کیوں الگ ہوئے؟
06:11
Speaker A
یہ سمجھنے کی بات ہے کہ دیکھیں ایک وجہ ہوتی ہے کہ سارے لوگ ایک قوم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
06:21
Speaker A
اور وہ جو سب سے بڑی وجہ جس کی وجہ سے ایک عام انسان ایک خطہ
06:31
Speaker A
ایک قوم کا حصہ بنتا ہے۔
06:34
Speaker A
وہ ایک لفظ ہے انصاف۔
06:38
Speaker A
لوگ لوگ جب ایک معاشرہ ان کو انصاف دیتا ہے
06:45
Speaker A
وہ اس معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
06:49
Speaker A
کیونکہ انصاف کس کو چاہیے ہوتا ہے؟
06:52
Speaker A
کمزور انسان کو۔
06:54
Speaker A
کمزور کو انصاف اس لیے چاہیے نہیں تو طاقتور اس سے جو مرضی کر سکے۔
07:01
Speaker A
ظلم کر سکے۔
07:03
Speaker A
اور پھر خطہ بھی مثلاً ایک خطہ بھی ایک ملک کا حصہ بنتا ہے اس لیے
07:10
Speaker A
کہ ان کے لیے ان کو وہاں انصاف ملتا ہے۔
07:14
Speaker A
تو جب انصاف نہیں ملتا وہ سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے انتشار کی
07:21
Speaker A
اور علیحدہ ہوتا ہے ایک ملک سے
07:25
Speaker A
علیحدگی کے لیے لوگ کمپین چلاتے ہیں۔
07:29
Speaker A
تو ایسٹ پاکستان کے لوگوں نے کہا ہمیں انصاف نہیں مل رہا۔
07:34
Speaker A
بار بار کہتے رہے کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا۔
07:38
Speaker A
نہیں سنا گیا۔
07:40
Speaker A
اور آہستہ آہستہ وہ موومنٹ پہلے انصاف پہ شروع ہوئی حقوق کی بات ہوئی۔
07:48
Speaker A
پھر آخر میں علیحدگی کی بات ہو گئی۔
07:51
Speaker A
تو ہم نے اس سے سیکھنا ہے۔
07:55
Speaker A
ایک قوم یا ایک انسان یا ایک ادارہ آگے ہی بڑھتا ہے جب اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔
08:04
Speaker A
نہیں تو وہ غلطیاں دہراتے رہتے ہیں اور وہی مسٹیکس بعد میں اور نقصان پہنچاتی ہیں۔
08:09
Speaker A
تو یہ جو ہاشم آپ نے سٹیٹسٹکس دیں کہ جو پیسہ پچھلے سات سال میں 250 ارب غالباً آپ نے کہا کہ
08:21
Speaker A
250 ارب روپیہ جنوبی پنجاب کا وہاں خرچ نہیں ہوا۔
08:30
Speaker A
تو اس کا مطلب کہ ایک احساس محرومی پیدا ہو گئی اور یہ بڑھتی جانی تھی۔
08:36
Speaker A
اسی طرح بلوچستان کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوئی۔
08:41
Speaker A
اس کی وجہ سے وہاں انتشار ہوا۔
08:45
Speaker A
اور یہی وجہ ہے کہ اس ملک کو کمزور کرنے میں یہ جو ناانصافی ہے اس کو پھر فائدہ اٹھاتے ہیں ملک کے مخالف اور پھر ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
08:56
Speaker A
تو یہ جو ہم نے آج پریزنٹیشن دیکھی پنجاب گورنمنٹ نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ منصفانہ تقسیم ہو گی پنجاب کے بجٹ کی
09:08
Speaker A
علاقوں کے اندر شہروں کے اندر۔
09:13
Speaker A
اگر یہ نہیں ہوتی
09:15
Speaker A
اب آپ یہ دیکھ لیں کہ اس سے نقصان کیا؟
09:20
Speaker A
ایک ایک تو نقصان ہوتا ہے کہ
09:24
Speaker A
علیحدگی کی طرف لوگ چلے جاتے ہیں انتشار ہوتا ہے۔
09:28
Speaker A
دوسرا اب نقصان کیا ہو رہا ہے؟
09:31
Speaker A
اتنا پنجاب کا آدھا بجٹ لاہور پہ خرچ کر دیا۔
09:38
Speaker A
لاہور بہتر ہو گیا باقی شہروں سے۔
09:41
Speaker A
لیکن اس کا نقصان کیا ہوا کہ باقی علاقوں سے لوگ لاہور کی طرف آنا شروع ہو گئے۔
09:51
Speaker A
اب لاہور کے اندر وہ مسئلے مسائل آ رہے ہیں۔
09:58
Speaker A
جو آگے لاہور کے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
10:05
Speaker A
یہ جو آج آپ باہر پلوشن دیکھ رہے ہیں۔
10:10
Speaker A
اس کی اور بھی وجوہات ہیں۔
10:13
Speaker A
بٹے بھی بند کیے پنجاب گورنمنٹ اب ان کو ریفارم بھی کر رہی ہے کہ آگے ایک نئی ٹیکنالوجی آ رہی ہے کہ وہ پلوشن نہ کریں۔
10:23
Speaker A
ہندوستان سے آتی ہے پلوشن وہ بھی ہے۔
10:26
Speaker A
ایک یہ بھی ہے کہ درخت کاٹ دیے ہیں لاہور کا جو گرین کور تھا وہ کم کر دیا ہے۔
10:32
Speaker A
لیکن ایک سائز بھی بن گیا لاہور اتنا بڑا ہو گیا ہے۔
10:36
Speaker A
اور جب ایک شہر بڑھتا جاتا ہے کنکریٹ بڑھتی جاتی ہے تو جو صاف کرتی ہے ہوا کو ایک چیز جو درخت ہے
10:45
Speaker A
وہ کور کم ہوتا جاتا ہے ہریالہ کم ہوتا جاتا ہے تو پلوشن کے آج لاہور میں جو لیولز ہیں
10:54
Speaker A
وہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔
10:57
Speaker A
اور اس کا نقصان بچوں کو چھوٹے بچوں کو اور بوڑھوں کو یہ آنے والے دنوں میں اتنا اس کا نقصان ہونا ہے بیماریاں ہونی ہیں۔
11:06
Speaker A
اور بچوں کے اندر ایک ایک بیماری ہے سٹنٹڈ لنگ گروتھ وہ لنگ ہی نہیں پوری طرح جو وہ پوری طرح بڑھتا ہی نہیں ہے
11:14
Speaker A
کیونکہ ایک انفیکشن شروع ہو جاتی ہے اس میں۔
11:17
Speaker A
اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم
11:20
Speaker A
باقی علاقوں کو بھی ڈویلپ کریں۔
11:23
Speaker A
یہ بھی ایک وجہ ہے۔
11:25
Speaker A
اور اس کے لیے یہ بڑا اچھا آپ نے سٹیپ لیا ہے پہلے تو میں آپ کو اس کی مبارکی دیتا ہوں
11:32
Speaker A
کہ آپ نے سوچا پہلی دفعہ کہ ایک
11:40
Speaker A
ایک انکلوسو ڈویلپمنٹ ہو ساروں کو خطوں کو برابر کا ان کو شیئر ملے۔
11:47
Speaker A
دوسرا عثمان بزدار صاحب چیف منسٹر صاحب
11:50
Speaker A
میں یہ اب 100 دن ہو چکے ہیں۔
11:53
Speaker A
اور جگہ جگہ میں نے بڑی عجیب قسم کی تنقید بھی سنی کہ جی
12:01
Speaker A
عثمان بزدار کو آپ نے غلط آدمی بنا دیا ہے
12:06
Speaker A
اور ہر طرح کی میں نے چیزیں سنی۔
12:08
Speaker A
تو میں آج 100 دن ہو گئے ہیں۔
12:12
Speaker A
میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں
12:17
Speaker A
جو سربراہ ہوتا ہے اس کی کوالٹی کیا ہوتی ہے؟
12:21
Speaker A
سب سے بڑی ایک کوالٹی سب سے زیادہ ہے۔
12:30
Speaker A
باقی اچھی اچھی بھی کوالٹیز ہوں لیکن اگر ایک کوالٹی نہ ہو
12:37
Speaker A
کوئی باقی کوالٹیز کا کوئی فائدہ نہیں۔
12:41
Speaker A
اور وہ ہے ایمانداری۔
12:48
Speaker A
چھٹیاں ہو رہی ہیں باہر۔
12:50
Speaker A
علاج ہو رہا ہے باہر۔
12:51
Speaker A
عیدیں ہو رہی ہیں باہر۔
12:53
Speaker A
بچے پڑھ رہے ہیں باہر۔
12:56
Speaker A
اور حکمرانی کر رہے ہیں پاکستان میں۔
13:00
Speaker A
یہ آپ سب کے لیے مجھے یہ سمجھائیں کہ یہ کیسا لیڈر ہو گا؟
13:07
Speaker A
وہ کیسے وفادار ہو گا اپنے ملک سے؟
13:12
Speaker A
جب اس کی اربوں روپے کی دولت باہر پڑی ہے۔
13:17
Speaker A
وہ کیسا وہ جو لیڈر جس کی چھٹیاں ہی پاکستان میں نہیں ہیں۔
13:23
Speaker A
اور جس کے بچے باہر پڑھ رہے ہیں اور باہر بزنسز کر رہے ہیں۔
13:28
Speaker A
جس کی بزنس باہر ہے یہ سوچیں کہ حکمرانی پاکستان میں
13:33
Speaker A
اور بزنس پاکستان سے باہر۔
13:36
Speaker A
اور پھر لوگوں کو باہر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں آ کے سرمایہ کاری کرو۔
13:42
Speaker A
تو ہم نے کیسے ان لوگوں کو برداشت کیا؟
13:46
Speaker A
آج جو آپ یہ دیکھ رہے ہیں خسارے
13:51
Speaker A
یہ جو ملک ایک وہ ملک جو سارے اس علاقے میں ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا جب ہم سکول میں پڑھتے تھے۔
14:02
Speaker A
وہ آج ایک وہ حال ہے آج یہ چھوڑ کے گئے ہیں جدھر
14:11
Speaker A
کہ پھر سے میں یہ لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ آپ کو سمجھ آنی چاہیے اس ملک سے کیا ہوا۔
14:16
Speaker A
کہاں سنگاپور 50 سال پہلے اور کہاں پاکستان تھا۔
14:22
Speaker A
پاکستان کو ساری دنیا آپ نے اگر پاکستان کو
14:26
Speaker A
لیڈرز کو دیکھنا تھا
14:30
Speaker A
دیکھیں کہ ایوب خان جب باہر گیا امریکہ گیا تو اس کو کیسی ریسپشن ملی۔
14:38
Speaker A
ایئرپورٹ پہ پرائم پریزیڈنٹ ملنے آیا۔
14:43
Speaker A
سڑکوں پہ اوپن گاڑی میں پھر رہا ہے۔
14:47
Speaker A
جب انگلینڈ گیا تو پاکستان کے سربراہ کو کیا ریسپشن ملی؟
14:52
Speaker A
کیا ریسپیکٹ تھی اس کی؟
14:55
Speaker A
تو پاکستان کہاں تھا کہاں سنگاپور تھا؟
14:59
Speaker A
آج 21 کروڑ کے پاکستانیوں کو کی ایکسپورٹس
15:08
Speaker A
ہماری ایکسپورٹس ہیں 24 ارب ڈالر۔
15:12
Speaker A
اور سنگاپور جو 50 لاکھ کا سنگاپور ہے اس کی ایکسپورٹس 330 ارب ڈالر ہیں۔
15:21
Speaker A
ملائشیا کی 220 ارب ڈالر ایکسپورٹ ہے۔
15:25
Speaker A
چھ کروڑ کا ملائشیا ہے۔
15:28
Speaker A
تو ہم جو یہ پیچھے رہ گئے ہیں اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے۔
15:34
Speaker A
کہ جو اس ملک کے اوپر حکمرانی کرتے تھے ان کے سٹیکس ہی نہیں تھے پاکستان میں۔
15:42
Speaker A
ان کو کیا فکر ہو کہ ملک بینکرپٹ ہو رہا ہے؟
15:46
Speaker A
قرضے لے رہے ہیں؟
15:47
Speaker A
قرضے واپس کیسے کرنے ہیں؟
15:50
Speaker A
قرضے لے رہے ہیں ان پراجیکٹس کے لیے جو مزید اور نقصان خسارہ کر رہے ہیں۔
15:56
Speaker A
آپ اگر قرضہ لینا بھی تھا تو اس پراجیکٹ کے لیے قرضہ لے جو آپ کے لیے ویلتھ کریئیٹ کرے
16:02
Speaker A
دولت بنائے۔
16:04
Speaker A
مثلاً میں فیکٹری کے لیے قرضہ لیتا ہوں فیکٹری میں نفع ہوتا ہے میں پھر قرضہ واپس کر دیتا ہوں۔
16:11
Speaker A
لیکن یہ اورنج ٹرین یہ میٹروز یہ تو مزید اور نقصان کر رہی ہیں۔
16:17
Speaker A
ان کے لیے قرضے لیے۔
16:19
Speaker A
اور مزید نقصان کیا۔
16:21
Speaker A
قرضے اور چڑھتے گئے۔
16:23
Speaker A
تو کیا ان کو فکر نہیں تھی؟
16:28
Speaker A
اگر میرا بھی سب کچھ باہر ہو۔
16:31
Speaker A
مجھے کیا فکر ہو کہ ملک مقروض ہوتا جائے؟
16:36
Speaker A
اس لیے عثمان بزدار کا یہ ہے کہ اس کا جینا مرنا سب کچھ پاکستان میں ہے۔
16:48
Speaker A
اب میں
16:51
Speaker A
یہ جو قدم اٹھایا لوگ اس کے اوپر ابھی
16:58
Speaker A
میں حیران ہوں کہ میڈیا نے بھی اس چیز کو اتنا نہیں اٹھایا۔
17:03
Speaker A
یہ جو اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو ہے۔
17:08
Speaker A
اب یہ انکروچمنٹ ہے کیا؟
17:11
Speaker A
ایک تو ہوتی ہے نا کہ میری زمین پہ کوئی قبضہ کر لے۔
17:15
Speaker A
وہ بھی ہوتا ہے۔
17:18
Speaker A
لیکن ایک ہے کہ سرکاری زمین پہ قبضہ کر لے۔
17:21
Speaker A
پہلے تو یہ ہمیں پاکستان میں یہ سمجھنا ہے۔
17:24
Speaker A
کہ سرکاری زمین کا مطلب عوام کی زمین۔
17:29
Speaker A
یہ میری زمین تو نہیں ہے یہ جو انہوں نے اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو پہ زمینیں چھڑوائیں
17:34
Speaker A
اور اب تک ایک سو 60 ارب روپے کی
17:41
Speaker A
160 ارب روپے کی انہوں نے زمینیں جو قبضہ ہوئے تھے وہ چھڑوائی ہیں۔
17:50
Speaker A
اب یہ سوچیں۔
17:53
Speaker A
کہ یہ کس کا فائدہ ہو رہا ہے؟
17:56
Speaker A
یہ عوام کا فائدہ ہو رہا ہے۔
17:58
Speaker A
یہ عوام کی دولت ہے عوام کی زمینیں جو چھڑوائی جا رہی ہیں۔
18:03
Speaker A
اور اس میں بڑے بڑے بڑے بڑے مافیاز ہیں
18:09
Speaker A
جن کے خلاف ٹکر لی ہے۔
18:12
Speaker A
تو پہلے کیوں نہیں ہوا؟
18:14
Speaker A
کیوں نہیں پہلے کسی نے فکر کی کہ یہ عوام کی زمینوں کے اوپر قبضے ہوئے ہوئے ہیں؟
18:20
Speaker A
اسلام آباد میں 350 ارب روپے کی زمین چھڑوائی ہے قبضہ گروپ سے۔
18:30
Speaker A
اب یہ آپ نے سمجھنا ہے۔
18:33
Speaker A
کہ جب یہ یہ جو جو ڈرائیو ہے یہ اینٹی انکروچمنٹ
18:41
Speaker A
یہ عوام کی عوام کے لیے ہو رہی ہے۔
18:44
Speaker A
عوام کے اثاثے ہیں۔
18:46
Speaker A
جب کرپشن کے خلاف ڈرائیو کرتے ہیں یہ عوام کا پیسہ چوری ہوتا ہے۔
18:52
Speaker A
جو بھی کرپشن ہوتی ہے نا یہ یاد رکھیں یہ عوام کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
19:00
Speaker A
کرپشن کیسے؟
19:01
Speaker A
اب میں تو آفس میں بیٹھا ہوا ہوں نا چار مہینے سے۔
19:05
Speaker A
اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں ہوتا کیا ہے۔
19:08
Speaker A
کوئی انویسٹر آتا ہے۔
19:11
Speaker A
اور بڑے ماشاء اللہ اللہ کا کرم ہے کہ جو جس طرح کے انویسٹر اب پاکستان آ رہے ہیں
19:19
Speaker A
انشاء اللہ یہ ملک میں آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کیا
19:24
Speaker A
اچھے اچھا ٹائم آئے گا۔
19:27
Speaker A
اب ہوتا کیا ہے؟
19:28
Speaker A
انویسٹر آتا ہے جی۔
19:30
Speaker A
انویسٹر کہتا ہے جی کہ اچھا جی میں مثلاً
19:37
Speaker A
مثلاً میں ایک مثال دے رہا ہوں میں کیونکہ ابھی بات نہیں کروں گا
19:42
Speaker A
ایگزیکٹ چیزوں پہ جو میرے سامنے آ رہی ہیں۔
19:46
Speaker A
لیکن مثلاً وہ میں کہتا ہوں اچھا جی میں یہ آپ کو گیس بیچنا چاہتا ہوں۔
19:52
Speaker A
آپ نے گیس خریدنی ہے صرف آپ نے کرنا کیا ہے؟
19:59
Speaker A
گیس مثلاً 10 سینٹ کی 10 روپے کی گیس ہے۔
20:05
Speaker A
آپ اسے صرف یہ کہہ دیں اچھا جی
20:09
Speaker A
میں آپ سے 12 روپے کی خرید لیتا ہوں بتانا نہ کسی کو۔
20:12
Speaker A
میں 12 روپے کی گیس خریدتا ہوں جس کی قیمت ہے 10 روپے
20:17
Speaker A
تو وہ جو ایکسٹرا 2 روپے میری جیب میں آتے ہیں
20:23
Speaker A
اس کی قیمت عوام مہنگی گیس سے دیتی ہے۔
20:29
Speaker A
جب بجلی کے پاور سٹیشنز کے اوپر جب یہ بجلی آئی پی پیز جو لگیں
20:36
Speaker A
تو ان کے اوپر جب ریٹ دی گئی
20:43
Speaker A
تو اس جو ریٹ اگر اگر جب میں صرف پیسہ بنانے کے لیے یہ کرنا ہے
20:50
Speaker A
کہ بجائے میں اس کو ریٹ دوں 10 روپے کی میں 12 روپے کی دے دیتا ہوں۔
20:55
Speaker A
وہ 12 روپے کے اندر میرے پاس اربوں روپے آ جاتا ہے۔
21:01
Speaker A
لیکن قوم کو بجائے 10 روپے کی 12 روپے کی بجلی پڑ جاتی ہے۔
21:06
Speaker A
تو اس طرح مہنگائی ہوتی ہے۔
21:10
Speaker A
جب کرپشن ہوتی ہے تو وہ قیمت عوام ادا کرتی ہے۔
21:16
Speaker A
یہ کوئی حکومت کا پیسہ نہیں چوری ہوتا۔
21:19
Speaker A
یہ عوام کا پیسہ چوری ہوتا ہے۔
21:22
Speaker A
اب اس لیے دنیا کرپشن کے اوپر پوری طرح
21:26
Speaker A
کوئی بھی کوئی بھی معاشرہ جو آگے بڑھتا ہے وہ کرپشن کو پھڑکنے نہیں دیتا۔
21:33
Speaker A
پورے ان کے ادارے کرپشن کو کنٹرول کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کو عوام کی فکر ہوتی ہے۔
21:39
Speaker A
ہوتا کیا ہے کہ آپ کی اب مثلاً اگر آپ مہنگی بجلی اور گیس دیتے ہیں
21:45
Speaker A
تو آپ کی جو انڈسٹری ہے وہ مقابلہ نہیں کر سکتی ہندوستان کی اور
21:51
Speaker A
بنگلہ دیش کی انڈسٹری سے۔
21:54
Speaker A
تو آپ کی انڈسٹری پیچھے رہ جاتی ہے۔
21:58
Speaker A
آپ کی انڈسٹری اب بند ہونی شروع ہو جاتی ہے۔
22:00
Speaker A
بے روزگاری ہونی شروع ہو جاتی ہے۔
22:03
Speaker A
آپ کے پاس فارن ایکسچینج کم ہو جاتا ہے۔
22:06
Speaker A
ڈالر کی کم ہو جاتے ہیں روپیہ
22:10
Speaker A
روپیہ گرنا شروع ہو جاتا ہے ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے۔
22:14
Speaker A
تو جب کرپشن کرتے ہیں وہ سارے معاشرے کو تباہ کرتے ہیں۔
22:19
Speaker A
اس لیے ملک جب اوپر جاتا ہے جو بھی ملک اوپر جاتا ہے
22:23
Speaker A
جو بھی ملک خوشحال ہیں وہاں کرپشن نہیں ہے۔
22:27
Speaker A
سوئٹزرلینڈ دیکھ لیں۔
22:30
Speaker A
نیوزی لینڈ جو ملک دیکھ لیں جو خوشحال ہے جن کے لوگ خوشحال ہیں وہاں کرپشن نہیں ہے۔
22:36
Speaker A
چائنا نے جب یہ اوپر جا رہا تھا اور اب چائنا دنیا کی سب سے تیزی سے اکانومی اوپر جا رہی ہے
22:43
Speaker A
چائنا نے سب سے پہلے یہ پچھلے پانچ سال میں ہم ابھی جب چائنا گئے تھے
22:50
Speaker A
تو انہوں نے بتایا کم از کم 400 وزیروں کو انہوں نے کرپشن میں پکڑا ہے۔
22:57
Speaker A
400 وزیروں کو۔
23:00
Speaker A
پتا نہیں کتنے ہزار انہوں نے وہ پکڑے ہیں جو گورنمنٹ آفیشلز ہیں۔
23:06
Speaker A
تو وہ کسی وجہ سے پکڑے ہیں نا۔
23:08
Speaker A
ملک اوپر جانے کے لیے۔
23:10
Speaker A
تو اس لیے ہم جب کرپشن کی بات کرتے ہیں
23:14
Speaker A
ہم یہ ابھی یہ جو سارا ڈرامہ ہو رہا ہے اسمبلی کے اندر یہ کیا ہو رہا ہے؟
23:21
Speaker A
ہمارے اوپر کہہ رہے ہیں بار بار یہ اپوزیشن والے کہ جی یہ گورنمنٹ کی وجہ یہ گورنمنٹ ہمارے اوپر انتقامی کاروائی کر رہی ہے۔
23:30
Speaker A
کون سی انتقامی کاروائی کر رہی ہے؟
23:32
Speaker A
ابھی تک ایک نیب کا کیس ہمارے دور میں نہیں ہوا۔
23:38
Speaker A
سارے نیب کے کیس پہلے کے چل رہے ہیں پچھلے ایک ایک سال پہلے کے۔
23:42
Speaker A
ہم نے تو کوئی نہیں نیب کا کیس کیا۔
23:45
Speaker A
جو ابھی شور مچا ہوا ہے وہ جو ابھی ایف آئی اے نے جو پکڑے ہیں
23:51
Speaker A
یہ فیک اکاؤنٹس
23:55
Speaker A
جس کے اوپر شور مچایا ہوا ہے۔
23:57
Speaker A
وہ 2015 میں پہلی دفعہ آیا تھا سامنے۔
24:02
Speaker A
لیکن کیونکہ اس وقت اپنی چارٹر آف ڈیموکریسی کے نام پہ ایک مک مکا ہوا ہوا تھا کچھ نہیں ہوا۔
24:09
Speaker A
پھر 2017 میں پتا چلا فیک اکاؤنٹس ہیں۔
24:12
Speaker A
پھر کچھ نہیں ہوا۔
24:15
Speaker A
یہ پھر جب کیئر ٹیکر گورنمنٹ آئی تو چیف جسٹس نے ایکشن لیا فیک اکاؤنٹس پہ۔
24:21
Speaker A
تو ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔
24:24
Speaker A
ہم نے تو صرف روکی نہیں کاروائی۔
24:27
Speaker A
لیکن شور وہاں مچا ہوا ہے کہ جی یہ دیکھیں تحریک انصاف نے کیا کیا۔
24:32
Speaker A
اب اور کیا کیا اسمبلی میں؟
24:34
Speaker A
اسمبلی نہیں چل رہی جی۔
24:37
Speaker A
کیونکہ جی لیڈر آف دی اپوزیشن اپوزیشن وہ بنیں گے شہباز شریف۔
24:43
Speaker A
اب شہباز شریف نیب کے جیل کے اندر ہیں۔
24:47
Speaker A
اب ان کو آپ پارلیمنٹ کی اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی کے اوپر بٹھانے لگے ہیں۔
24:53
Speaker A
جو کمیٹی پارلیمنٹ میں احتساب کرتی ہے اس کے اوپر شہباز شریف بیٹھ جائیں گے۔
24:59
Speaker A
وہ دنیا میں مذاق اڑے گا۔
25:01
Speaker A
ہماری جمہوریت کا مذاق اڑے گا۔
25:03
Speaker A
اڑ رہا ہے دنیا کے اندر کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں احتساب
25:08
Speaker A
اور دوسری طرف جو احتساب کے جیل میں ہے وہ یہ احتساب کی کمیشن اوپر چلا رہا ہے۔
25:14
Speaker A
ہم نے ان کو کہا کسی اور کو بنا دو۔
25:15
Speaker A
نہیں اسی کو بنانا ہے۔
25:19
Speaker A
پھر
25:21
Speaker A
وہ اس سے پہلے انہوں نے پچھلی اسمبلی میں کیا کیا؟
25:27
Speaker A
قانون اسمبلی نے پاس کیا کہ ایک مجرم ایک کرپٹ آدمی پارٹی کی سربراہی کر سکتا ہے۔
25:36
Speaker A
ایک نیشنل اسمبلی ایک پارلیمنٹ قانون پاس کرتی ہے۔
25:40
Speaker A
تو کیا؟
25:42
Speaker A
ہماری جمہوریت کی کیا ریپوٹیشن رہ گئی؟
25:47
Speaker A
ایک طرف کہتے ہیں کہ جی بڑی مقدس ہے پارلیمنٹ۔
25:51
Speaker A
دوسری طرف یہ حرکتیں کرتے ہیں خود ہی پارلیمنٹ کو ڈی ویلیو کر دیتے ہیں۔
25:56
Speaker A
میں
25:59
Speaker A
اپنے اپنے جو پارٹی کی ہماری لیڈرشپ ہے۔
26:04
Speaker A
میں نے ان کو کہا جو بھی یہ کہتے ہیں
26:07
Speaker A
ان کی بات مانتے رہو۔
26:11
Speaker A
صرف ایک بات
26:15
Speaker A
ہم مان نہیں سکتے۔
26:19
Speaker A
یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم آپ احتساب سے پیچھے ہٹ جائیں۔
26:31
Speaker A
اس لیے
26:33
Speaker A
اس لیے
26:36
Speaker A
کہ یہ اس ملک کی سالمیت کے لیے اس کے فیوچر کے لیے ہماری آنے والی نسلوں کے لیے
26:44
Speaker A
جب تک ہم نے اس ملک میں کرپشن کو ہاتھ نہ ڈالا
26:51
Speaker A
کرپٹ لوگوں کو ہم نے جیلوں میں نہ ڈالا
26:56
Speaker A
اس ملک کا مستقبل خطرے میں ہے۔
27:00
Speaker A
اس لیے ہم ساری آپ کی باتیں مان لیں گے
27:04
Speaker A
لیکن ہم یہ نہ ہمیں کہنا کہ اکاؤنٹیبلٹی سے پیچھے ہٹ جاؤ۔
27:10
Speaker A
میں نے 22 سال پہلے سیاست ہی میں آیا تھا کرپشن کے خلاف۔
27:17
Speaker A
اور اگر اگر آج
27:21
Speaker A
آج یہ کہتے ہیں کہ جی جمہوریت بچانے کے لیے مفاہمت کر لیں جی۔
27:28
Speaker A
اچھا ماحول کر دیں اسمبلی میں۔
27:32
Speaker A
پہلے آپ گورنمنٹ کو استعمال کرتے ہیں پیسہ بنانے کے لیے۔
27:37
Speaker A
پھر اسمبلی اسمبلی کو استعمال کرتے ہیں وہ کرپشن کا پیسہ بچانے کے لیے۔
27:42
Speaker A
یہ نہیں ہو گا۔
27:45
Speaker A
یہ میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں کہ ہم جتنا بھی جو بھی ہو جائے
27:50
Speaker A
یہ ہماری آخری چیز ہے۔
27:55
Speaker A
اچھا جی اب
27:57
Speaker A
میں صرف تین چار موٹی چیزیں بات کرنا چاہتا ہوں جو کہ ہم آگے
28:03
Speaker A
جو ہمارا آگے کا ڈائریکشن ہے۔
28:07
Speaker A
سب سے پہلے ہم نے جو سول پروسیجر کوڈ جو ہم نے اس کا قانون لے کے آئے ہیں
28:15
Speaker A
وہ ابھی کر رہے ہیں اس کو اس کی لیجسلیشن بن گئی ہے۔
28:20
Speaker A
اب جیسے ہی ماحول ابھی تک تو سٹینڈنگ کمیٹیز ہی نہیں تھیں۔
28:25
Speaker A
اب آئی ہیں تو ہم نے سب سے پہلے قانون جو پاس کرنا ہے وہ یہ کہ سول پروسیجر کا کوڈ کا مطلب
28:31
Speaker A
کہ ایک سال کے اندر سارے سول کیسز کا ہم نے فیصلہ کروانا ہے۔
28:41
Speaker A
30 30 سال لگ جاتے ہیں زمین کے کیسز پہ۔
28:43
Speaker A
بھری ہوئی ہیں عدالتیں زمین کے کیسز سے۔
Topics:عمران خانپنجاب حکومت100 دن کا پروگرامانصافترقیپنجاب بجٹآلودگیعثمان بزدارمعاشی خسارہقرضے

Frequently Asked Questions

عمران خان نے 100 دن کے پروگرام کو جلسہ کیوں نہیں کہا؟

عمران خان نے وضاحت کی کہ 100 دن کا پروگرام جلسہ نہیں بلکہ ایک ترقیاتی اور حکومتی کارکردگی کا جائزہ ہے جس کا مقصد عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہے۔

پنجاب میں احساس محرومی کی کیا وجوہات ہیں؟

جنوبی پنجاب کو بجٹ میں مناسب حصہ نہ ملنے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے وہاں احساس محرومی پیدا ہوئی جو ملک میں انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔

عمران خان نے لاہور میں آلودگی کے مسائل پر کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ لاہور میں درختوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی کنکریٹ کی وجہ سے آلودگی بہت زیادہ ہو گئی ہے جو بچوں اور بوڑھوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →