Imran Khan Speech in PTI Jalsa at Multan 15th May 2015 — Transcript

عمران خان کا ملتان جلسہ، نیا پاکستان، بدعنوانی، تعلیم، صحت، اور انصاف کی اہمیت پر زور۔

Key Takeaways

  • ملتان جلسے میں عمران خان نے نیا پاکستان کے نظریے کو اجاگر کیا۔
  • موجودہ حکومت کی بدعنوانی اور عوامی مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔
  • تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کو ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا۔
  • پختونخواہ میں بلدیاتی نظام کی اصلاحات اور میرٹ پر مبنی پولیس کی کامیابی کی مثال دی گئی۔
  • عوام کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی ترغیب دی گئی۔

Summary

  • عمران خان نے ملتان کے جلسے میں نیا پاکستان بنانے کے لیے دو نظریات کے درمیان مقابلے کا ذکر کیا۔
  • انہوں نے موجودہ حکومت پر بدعنوانی، وعدے خلافی اور عوام کی حالت زار پر تنقید کی۔
  • تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کو قوم کی ترقی کے لیے بنیادی ستون قرار دیا۔
  • انہوں نے پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات اور مالیاتی نظام کی اصلاحات کی مثال دی۔
  • پولیس میں سیاسی مداخلت اور میرٹ کی کمی کو جرائم کی بڑھوتری کی وجہ بتایا۔
  • ملتان میں میٹرو منصوبے پر تنقید کی کہ یہ عوامی ضروریات سے ہٹ کر ہے۔
  • انہوں نے عوام کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی تلقین کی۔
  • پختونخواہ میں پولیس کی اصلاحات اور جرائم میں کمی کو ایک کامیابی قرار دیا۔
  • انہوں نے نواز شریف اور نون لیگ کی حکومت کی نااہلی اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر شدید تنقید کی۔
  • عمران خان نے عوام کو 21 مئی کے الیکشن میں حصہ لینے اور تبدیلی کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:17
Speaker A
میرے ملتان کے شہریو
00:31
Speaker A
آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں
00:34
Speaker A
کہ گرمی کے باوجود
00:40
Speaker A
اس شاندار استقبال کا آپ کا شکریہ
00:46
Speaker A
میں آج صرف ایک بائی الیکشن کے لیے جلسہ کرنے نہیں آیا
00:58
Speaker A
عبدالجبار کے لیے صرف ان کے الیکشن کے لیے جلسہ کرنے نہیں آیا
01:47
Speaker A
میں آپ سب کو یہ یاد دلانے آیا ہوں
01:56
Speaker A
کہ یہ مقابلہ ہے دو سوچوں کا، دو نظریوں کا
02:05
Speaker A
ایک نظریہ ہے جس کو ہم کہتے ہیں نیا پاکستان
02:11
Speaker A
اور دوسری طرف جو ابھی شاہ محمود قریشی نے آپ کو کہا کہ 1970 سے باریاں لے رہی ہیں دو جماعتیں
02:30
Speaker A
باریاں لیتے ہیں، وعدے کرتے ہیں
02:38
Speaker A
قوم پیچھے جا رہی ہے
02:40
Speaker A
قوم غریب ہو رہی ہے
02:43
Speaker A
لیکن جو لوگ باریاں لے رہے ہیں
02:50
Speaker A
ان کے بینک اکاؤنٹ بھی بڑھ رہے ہیں
02:55
Speaker A
جائیدادیں بھی بڑھ رہی ہیں
02:58
Speaker A
پہلے ان کی بڑھ رہی تھیں
03:03
Speaker A
اب ان کے بچوں کی
03:06
Speaker A
تو میرے ملتان کے شہریو
03:11
Speaker A
یہ دو سوچ کا مقابلہ ہے
03:15
Speaker A
ایک وہی سوچ جو سیاست میں آتی ہے ذاتی مفادات کے لیے
03:21
Speaker A
جو سیاست میں وعدے کرتے ہیں آپ سے
03:28
Speaker A
اور صرف اور صرف مقصد ہوتا ہے
03:35
Speaker A
کہ اپنی اور اپنے اولادوں کے لیے پیسہ بنائیں
03:40
Speaker A
20 سال پہلے جن کے پاس باہر کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں تھے
03:46
Speaker A
جائیدادیں نہیں تھیں
03:49
Speaker A
آج اربوں ڈالر باہر پڑا ہے
03:52
Speaker A
اور پاکستان سارے برصغیر میں
03:57
Speaker A
پیچھے رہ رہا ہے
04:00
Speaker A
یعنی سب سے زیادہ انسانوں کے اوپر جو خرچہ کرنا چاہیے تھا جس ملک پہ
04:08
Speaker A
جو 50 سال پہلے برصغیر میں سارے ممالک سے آگے تھا
04:14
Speaker A
آج ہیومن ڈویلپمنٹ میں سب سے پیچھے رہ گیا ہے
04:20
Speaker A
ہیومن ڈویلپمنٹ کا مطلب کہ ہم سب سے کم خرچہ کرتے ہیں اپنے لوگوں کے اوپر
04:27
Speaker A
ان کی صحت پہ، ان کے علاج پہ
04:33
Speaker A
ان کو انصاف دینے پہ
04:36
Speaker A
تو قومیں تو یہ میٹرو بسیں اور اوور پاسز اور انڈر پاسز اور موٹروے بنانے کے سے قومیں آگے نہیں بڑھتی
04:44
Speaker A
قوم تب آگے بڑھتی ہے
04:50
Speaker A
جب اس قوم کے لوگوں کے اوپر خرچہ کیا جاتا ہے
04:56
Speaker A
تو یہ جو دو سوچ ہیں وہ کیا ہیں
05:01
Speaker A
ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں
05:07
Speaker A
جس پہ انسانوں کی قدر ہو
05:11
Speaker A
جس پہ انسانوں کی عزت ہو
05:14
Speaker A
جس میں تعلیم کے اوپر سب سے پیسہ زیادہ خرچ کیا جائے
05:19
Speaker A
جس میں لوگوں کے روزگار کی فکر ہو
05:24
Speaker A
جس میں کسانوں کی، محنت کشوں کی قدر کی جائے
05:30
Speaker A
تو میں آج آپ کے سامنے ملتان کے لوگوں
05:36
Speaker A
میں آپ کے سامنے پھر سے آپ کو یاد کرانا چاہتا ہوں
05:43
Speaker A
جو دھرنے میں بار بار کنٹینر میں آپ کو میں ایک بات یاد کراتا رہا
05:51
Speaker A
کہ جب تک لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوتے
06:00
Speaker A
ان کے ان کے حقوق نہیں ملتے
06:03
Speaker A
کنٹینر پہ میں آپ کو بار بار کہتا رہا
06:09
Speaker A
کہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا
06:17
Speaker A
جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے
06:23
Speaker A
جب بھی آپ سے کوئی ظلم اور ناانصافی ہو
06:30
Speaker A
پاکستانیو، ملتان کے شہریو
06:35
Speaker A
اپنے حقوق کے لیے آپ کھڑے ہوں
06:40
Speaker A
دو مہینے سے میرے گھر کے باہر پختونخواہ کے لوگ دھرنا دے رہے ہیں
06:47
Speaker A
کوئی ٹیچر تھے
06:51
Speaker A
کوئی صحت کے محکمے سے لوگ تھے
06:55
Speaker A
دو مہینے انہوں نے میرے گھر کے باہر دھرنا دیا
07:01
Speaker A
اور دو مہینے کے بعد پختونخواہ کی حکومت
07:05
Speaker A
اور ان لوگوں کے بیچ میں
07:10
Speaker A
میں نے ان کو بٹھا کے
07:13
Speaker A
لوگوں کو انصاف دیا
07:16
Speaker A
آج وہ سارے واپس چلے گئے مطمئن
07:19
Speaker A
مجھے یہ بتائیں کہ کیا نواز شریف کے گھر کے باہر کوئی دھرنا دے سکتا ہے
07:25
Speaker A
کوئی بلاول ہاؤس کے باہر دھرنا دے سکتا ہے
07:30
Speaker A
نواز شریف کے کے باہر 2000 پولیس ہے
07:36
Speaker A
کسی کی جرات ہے رائیونڈ جانے کی
07:38
Speaker A
نہیں جا سکتے
07:40
Speaker A
ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں
07:44
Speaker A
کہ کسی بھی رکشے والے کی، ریڑھی والے کی، چھوٹے کسان کی
07:51
Speaker A
کسی مزدور کی
07:53
Speaker A
کسی سے ظلم ہو
07:58
Speaker A
وہ پرائم منسٹر کے گھر کے باہر جا سکے
08:01
Speaker A
ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں
08:04
Speaker A
برطانیہ میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ جو پرائم منسٹر کا گھر ہے
08:11
Speaker A
کسی کو بھی جب کسی چیز کے اوپر انہوں نے مظاہرہ کرنا ہو، ان سمجھے ان کو انصاف نہیں ملا
08:20
Speaker A
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر جاتے ہیں لوگ
08:23
Speaker A
پاکستانیو
08:26
Speaker A
ملتان کے رہنے والو
08:29
Speaker A
آپ بھی یہ سمجھ جائیں
08:32
Speaker A
کہ یہ الیکشن نہیں ہو رہا 21 تاریخ کو
08:37
Speaker A
آپ پروٹیسٹ کر رہے ہیں
08:41
Speaker A
آپ مذمت کر رہے ہیں
08:45
Speaker A
کہ جو وعدے کیے تھے نون لیگ نے
08:50
Speaker A
کتنے وعدے پورے کیے ہیں
08:53
Speaker A
کتنی دفعہ آپ سے شہباز شریف نے کہا تھا
08:59
Speaker A
کہ میں لوڈ شیڈنگ کم کروں گا
09:02
Speaker A
کتنی دفعہ کہا تھا
09:05
Speaker A
کہا تھا
09:07
Speaker A
شہباز شریف مجھے ہاتھ کھڑا کر کے بتائیں
09:12
Speaker A
کہ بار بار شہباز شریف نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میں چھ مہینے میں لوڈ شیڈنگ کم کروں گا
09:20
Speaker A
لوڈ شیڈنگ کم ہوئی
09:23
Speaker A
مجھے یہ لوڈ شیڈنگ تو چھوڑیں
09:28
Speaker A
کیا بجلی کی قیمت دگنی نہیں ہوئی
09:32
Speaker A
تو جب نہ لوڈ شیڈنگ کم ہوئی
09:39
Speaker A
مجھے یہ بتائیں کیا جرم کم ہوئے
09:43
Speaker A
کیا پولیس بہتر ہوئی
09:46
Speaker A
کیا سکول بہتر ہوئے
09:49
Speaker A
دانش سکول چل رہے ہیں
09:52
Speaker A
ذرا جا کے دیکھیں دانش سکول کا کیا حال ہے
09:56
Speaker A
کیا ہسپتالوں میں بہتر علاج ہو رہا ہے
10:01
Speaker A
کیا سیوریج سسٹم ٹھیک ہے
10:03
Speaker A
کیا صاف پینے کا پانی مل رہا ہے
10:07
Speaker A
لیکن تحفہ کیا مل رہا ہے ملتان کے لوگوں کو
10:14
Speaker A
60 ارب روپے کی میٹرو بن رہی ہے اچھی بھلی سڑکوں
10:20
Speaker A
بہترین سڑک کو توڑ کے
10:24
Speaker A
میٹرو بننے لگی ہے
10:27
Speaker A
کیا آپ کو میٹرو کی ضرورت تھی یا بہتر ہسپتالوں کی ضرورت تھی
10:32
Speaker A
کیا آپ کو یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے ڈھائی کروڑ بچے سکولوں کے باہر ہیں
10:41
Speaker A
ملکوں کی اتنی آبادی نہیں ہوتی
10:46
Speaker A
جتنے ہمارے بچے سکولوں کے باہر ہیں
10:51
Speaker A
پاکستان وہ ملک ہے
10:55
Speaker A
جدھر ڈھائی لاکھ بچہ مرتا ہے گندا پینا پانی پینے کی بیماریوں سے
11:02
Speaker A
وہ ملک ہے
11:05
Speaker A
ہر 20 منٹ پہ ایک عورت بیچاری مرتی ہے ڈیلیوری پہ
11:13
Speaker A
یہ وہ ملک ہے
11:16
Speaker A
جدھر 40 فیصد ہماری آبادی اپنا پورے قد پہ نہیں پہنچ سکتی
11:24
Speaker A
کیونکہ ان کو خوراک نہیں صحیح ملتی
11:28
Speaker A
تو کیا یہ 60 ارب کی میٹرو کی ضرورت تھی ملتان کو
11:35
Speaker A
یہ پیسہ کسانوں کو دیتے
11:39
Speaker A
وہ بیچارے کسانوں سے پوچھیں
11:43
Speaker A
کہ کیا ان کو بوریاں مل رہی ہیں جو گندم کی کٹائی ہوئی ہے
11:48
Speaker A
کتنوں کو بوریاں مل رہی ہیں
11:51
Speaker A
اس سے پہلے پھٹی کی قیمت ملی
11:54
Speaker A
نہیں ملی
11:56
Speaker A
یہی پیسہ کسانوں پہ لگا دیتے یہ ہسپتال ٹھیک کرنے پہ لگا دیتے
12:02
Speaker A
اور سب سے زیادہ اگر یہ تعلیم پہ لگا دیتے
12:07
Speaker A
تو اس سے کتنا اور آپ کو فائدہ تھا
12:11
Speaker A
لیکن کمیشن نہیں ملنی تھی جو میٹرو پہ ملنی ہے
12:16
Speaker A
پیسہ نہیں بننا تھا جو میٹرو سے بننا ہے
12:20
Speaker A
اسلام آباد کو تباہ کر دیا ہے
12:22
Speaker A
سارا کھود دیا ہے
12:25
Speaker A
پنڈی کو تباہ کر دیا ہے
12:27
Speaker A
دکانداروں کو تباہ کر دیا ہے
12:31
Speaker A
میٹرو بنا کے
12:34
Speaker A
پنڈی کے ہسپتالوں میں ایک خبر پڑی تھی
12:39
Speaker A
بچے کو چوہے نے کاٹ کے مار دیا
12:43
Speaker A
چار چار لوگ ایک بستر میں پڑے ہوئے ہیں ہسپتالوں میں
12:47
Speaker A
لیکن وہ میٹرو بن رہی ہے
12:50
Speaker A
اور پھر سے میں آپ کو یاد کراؤں کتنا بڑا ظلم ہے
12:56
Speaker A
کہ ڈھائی کروڑ بچہ سکولوں سے باہر ہے
13:01
Speaker A
تو میں اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں
13:04
Speaker A
کیونکہ آپ نے اپنی ووٹ سے
13:09
Speaker A
حکومت کو یہ نون لیگ کو بتانا ہے
13:13
Speaker A
نون لیگ کو آپ نے بتانا ہے کہ آپ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے
13:19
Speaker A
اور اپنی ووٹ سے آپ نے بتانا ہے
13:24
Speaker A
کہ ہم نون لیگ کو جس طرح بھی وہ الیکشن جیتی تھی
13:30
Speaker A
اس الیکشن میں ہم نے نہیں جیتنے نہیں دینا
13:34
Speaker A
ملتان کے لوگو
13:38
Speaker A
ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ
13:40
Speaker A
21 کے لیے تیار ہو
13:43
Speaker A
اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں
13:47
Speaker A
کہ کیسے یہ نظام ہم ٹھیک کر سکتے ہیں
13:52
Speaker A
پختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن آ رہا ہے اس مہینے کے آخر میں بلدیاتی الیکشن ہے
13:58
Speaker A
پختونخواہ میں کیا ہوگا
14:00
Speaker A
یہ سنیں ذرا
14:02
Speaker A
پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں ایک پروونشل فنانس ایوارڈ ملے گا
14:09
Speaker A
چیف منسٹر نہیں فیصلہ کرے گا
14:14
Speaker A
کہ پیسہ کدھر خرچ کرنا ہے
14:17
Speaker A
سیدھا پیسہ ضلعوں میں جائے گا
14:21
Speaker A
ضلعے کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ ہم نے پیسہ کدھر خرچ کرنا ہے
14:27
Speaker A
ملتان اگر پشاور ہے
14:31
Speaker A
تو پشاور کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ ان کو میٹرو چاہیے
14:37
Speaker A
یا انہوں نے اپنا سیوریج سسٹم ٹھیک کرنا ہے صاف پینے کا پانی لینا ہے
14:43
Speaker A
تعلیم پہ لگانا ہے
14:45
Speaker A
یہ پشاور کے لوگ فیصلہ کریں گے
14:50
Speaker A
چیف منسٹر فیصلہ نہیں کرے گا
14:53
Speaker A
ہر ضلع فیصلہ کرے گا کہ انہوں نے جو پروونشل فنانس ایوارڈ ہے
14:59
Speaker A
وہ فیصلہ کریں گے ہم نے پیسہ کدھر خرچ ہوگا
15:04
Speaker A
دوسرا پختونخواہ میں انشاءاللہ
15:09
Speaker A
جو ہم نظام لے کے آئیں گے یہ 30 تاریخ کے بعد
15:14
Speaker A
بلدیاتی الیکشن کے بعد
15:18
Speaker A
وہ سارے پاکستان کے لیے مثال بنے گی
15:22
Speaker A
سب سے پہلے ضلعے کی جو
15:26
Speaker A
الیکٹڈ نمائندے ہوں گے وہ فیصلہ کریں گے
15:32
Speaker A
اور پیسہ ڈائریکٹلی ان کو جائے گا
15:36
Speaker A
چیف منسٹر نہیں فیصلہ کرے گا
15:41
Speaker A
ضلعے کے منتخب کیے ہوئے نمائندے وہ فیصلہ کریں گے پیسہ کدھر خرچ ہوگا
15:47
Speaker A
اور مجھے بڑا فخر ہے کہ پختونخواہ کی پولیس
15:52
Speaker A
آج مثالی پولیس بن گیا ہے سارے پاکستان میں
15:57
Speaker A
کراچی میں حادثہ ہوا
16:00
Speaker A
پولیس کچھ نہیں کر سکتی کراچی میں
16:04
Speaker A
کیوں نہیں کر سکتی
16:07
Speaker A
کیونکہ پولیس کو سیاسی کر دیا ہے
16:11
Speaker A
سیاسی بھرتیاں پولیس میں
16:14
Speaker A
میرٹ کا سسٹم نہیں ہے
16:17
Speaker A
کوٹے ملے ہوئے ہیں آپس میں کہ تم اتنے پولیس والے رکھوا لو
16:22
Speaker A
فلانا منسٹر اتنے پولیس والے رکھوا دے
16:27
Speaker A
اور پولیس میں بھرتیاں کرنے میں پیسے لیتے ہیں
16:32
Speaker A
پیسہ بنتا ہے
16:34
Speaker A
کیسے پولیس مقابلہ کر سکتی ہے مجرموں کا
16:38
Speaker A
کراچی میں جب تک پولیس غیر جانبدار نہیں بنتی
16:44
Speaker A
میرٹ پہ نہیں آتی
16:47
Speaker A
غیر سیاسی نہیں ہوتی
16:50
Speaker A
کبھی بھی پولیس
16:53
Speaker A
کبھی بھی کراچی میں امن نہیں آئے گا
16:57
Speaker A
کیونکہ رینجرز رینجرز کا کام نہیں ہے
17:01
Speaker A
یہ پولیس کا کام ہے
17:03
Speaker A
پختونخواہ میں
17:06
Speaker A
کیونکہ کوئی پولیس میں سیاسی مداخلت نہیں ہے
17:11
Speaker A
این ٹی ایس امتحان دے کے پولیس میں بھرتی ہوتا ہے
17:15
Speaker A
کوئی سفارش نہیں ہے
17:18
Speaker A
سب سے زیادہ سارے صوبوں میں سے دیکھ لیں
17:23
Speaker A
اگر پولیس والوں کے خلاف
17:27
Speaker A
ایکشن لیا گیا پختونخواہ میں لیا گیا
17:31
Speaker A
اس کا نتیجہ
17:33
Speaker A
وہ صوبہ جدھر سب سے زیادہ یہ دہشت گردی کا نقصان ہوا
17:41
Speaker A
پچھلے سال کے مقابلے میں اس ایک سال میں 60 فیصد جرم کم ہوئے ہیں پختونخواہ میں
17:47
Speaker A
کیونکہ
17:49
Speaker A
پولیس میں میرٹ ہے
17:52
Speaker A
کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے
17:56
Speaker A
کسی سیاسی مخالف کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کی
18:02
Speaker A
پنجاب میں کیوں جرم اوپر چلے گئے ہیں
18:06
Speaker A
کیونکہ پنجاب میں پولیس سے غلط کام کروائے جاتے ہیں
18:11
Speaker A
پنجاب کی پولیس میں سیاسی مداخلت ہے
18:15
Speaker A
کوئی پولیس والا بھرتی نہیں ہو سکتا
18:20
Speaker A
جب تک اس کی سفارش نہ ہو
18:23
Speaker A
پنجاب کے اندر
18:27
Speaker A
پولیس میں پروموشن نہیں ہو سکتی
18:31
Speaker A
جب تک رائیونڈ سے کلیئرنس نہ ملے
18:35
Speaker A
پنجاب کی پولیس
18:38
Speaker A
سیاسی کر دی گئی ہے
18:41
Speaker A
میرٹ نہیں ہے
18:43
Speaker A
آج میں ذرا یہ سنیں
18:46
Speaker A
آج میں آئی جی پنجاب کا بیان ابھی سن رہا تھا ٹی وی پہ آتے ہوئے
18:52
Speaker A
یہاں کوئی تحریک انصاف کے
18:54
Speaker A
کارکنوں کا کچھ کچھ میڈیا کے ساتھ کچھ ہوا
18:59
Speaker A
ہم ابھی انکوائری بھی کر رہے ہیں
19:02
Speaker A
ہم انکوائری کر رہے ہیں کہ ہوا کیا
19:05
Speaker A
آئی جی پنجاب وہاں سے لاہور سے سٹیٹمنٹ دیتا ہے
19:11
Speaker A
کہ میں مذمت کرتا ہوں اس کی
19:13
Speaker A
تحریک انصاف کی مذمت کرتا ہوں
19:16
Speaker A
شرم کرو
19:18
Speaker A
شرم کرو آئی جی
19:20
Speaker A
شرم آنی چاہیے تمہیں
19:23
Speaker A
آئی جی صاحب
19:27
Speaker A
آئی جی صاحب آپ پاکستان کے ٹیکس پیئر کے پیسے سے تنخواہ لے رہے ہیں
19:33
Speaker A
یا شریفوں سے تنخواہ لے رہے ہیں
19:36
Speaker A
کون پیسہ دے رہا ہے آپ کو
19:37
Speaker A
ہم دے رہے ہیں پاکستانی قوم دے رہی ہے
19:41
Speaker A
ٹیکس کے پیسے سے آپ کام کر رہے ہیں
19:44
Speaker A
آپ کو شرم نہیں آتی
19:46
Speaker A
کہ آپ شریفوں کے ملازم بنے ہوئے ہیں
19:51
Speaker A
میں آج تم سے
19:54
Speaker A
انشاءاللہ زیادہ دیر نہیں ہے
19:58
Speaker A
اور میں ابھی اس بات پہ آنے لگا ہوں
20:02
Speaker A
کہ جو دھاندلی کی انہوں نے الیکشن میں
20:09
Speaker A
یہ 2015 میرا دل کہہ رہا ہے کہ نیا پاکستان کا سال ہے
20:13
Speaker A
اور انشاءاللہ یہ نیکوکارو
20:17
Speaker A
جو ایس ایس پی نیکوکارو جیسے پولیس والوں کو ہم اوپر لے کے آئیں گے
20:23
Speaker A
اور یہ شریفوں کے ملازموں کو پولیس سے باہر نکالیں گے
20:28
Speaker A
کون بچائے گا پاکستان
20:31
Speaker A
ہم سب مل کے عمران خان
20:34
Speaker A
اور اب اب میں آتا ہوں
20:37
Speaker A
جو میری قوم مجھے اتنا فخر ہے اپنی پاکستانی قوم پہ
20:42
Speaker A
کہ 126 دن کے دھرنے میں جو آپ نے میرا ساتھ دیا
20:50
Speaker A
اور دھرنے کے دوران جو میں ملتان آیا تھا سٹیڈیم میں
20:56
Speaker A
زندگی میں میں نہیں بھول سکتا جو آپ کا جوش اور جذبہ
21:03
Speaker A
سارا سٹیڈیم ہی بھرا تھا
21:06
Speaker A
باہر بھی لوگ کھڑے ہوئے تھے
21:09
Speaker A
تو جو آپ سب نے
21:12
Speaker A
مل کے میرے ساتھ
21:16
Speaker A
126 دن دھرنے پہ گزارے
21:21
Speaker A
اس کی وجہ سے
21:23
Speaker A
اور جو ہمارے لوگ شہید ہوئے
21:27
Speaker A
ان کی شہادتیں ضائع نہیں گئیں
21:32
Speaker A
کیونکہ جوڈیشل کمیشن پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں بنی ہے
21:38
Speaker A
اور جوڈیشل کمیشن میں جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں
21:44
Speaker A
میں ابھی سے ہی آپ کو مبارک دے رہا ہوں پاکستانیو مبارک
21:50
Speaker A
کہ ایک بڑی عجیب چیز نکلی جوڈیشل کمیشن میں
21:56
Speaker A
کیا نکلی
21:58
Speaker A
کہ پتہ چلا کہ الیکشن کمیشن نے اضافی بیلٹ پیپر چھاپے
22:07
Speaker A
یہ بھی چیز سامنے آ گئی
22:09
Speaker A
وہ کہتے ہیں جی ہم تو چھاپتے ہیں 5 فیصد 4 فیصد ایکسٹرا پیپر
22:15
Speaker A
اضافی بیلٹ پیپر
22:18
Speaker A
لیکن پاکستانیو ایک اور چیز سامنے آئی
22:25
Speaker A
کہ ایک حلقے میں 100 اضافی بیلٹ پیپر جا رہے ہیں
22:31
Speaker A
اور ساتھ والے حلقے میں جس میں خواجہ سعد رفیق تھے
22:38
Speaker A
ایک لاکھ 26 ہزار بیلٹ پیپر جا رہے ہیں
22:44
Speaker A
یعنی کہ 80 ہزار ایکسٹرا بیلٹ پیپر
22:49
Speaker A
تو یہ بڑی مزیدار چیزیں سامنے آ رہی ہیں
22:55
Speaker A
اگر جوڈیشل کمیشن نہ بنتی یہ نہیں پتہ چلنا تھا
23:00
Speaker A
اچھا نون لیگ کہتی ہے
23:04
Speaker A
کہ ان حلقوں میں بھی اضافی بیلٹ پیپر زیادہ گئے ہیں
23:10
Speaker A
جدھر تحریک انصاف جیتی ہے
23:14
Speaker A
گئے ہیں
23:16
Speaker A
تحریک انصاف جیتی ہے
23:19
Speaker A
لیکن میں آج آپ کو بتا رہا ہوں تحریک انصاف آپ کی دھاندلی کے باوجود
23:26
Speaker A
جیت نہیں سکے
23:29
Speaker A
دھاندلی بھی نہیں کر کے جیت سکے
23:32
Speaker A
اور دھاندلی کرنی بھی نہیں آئی صحیح طرح کیونکہ سارے انکشاف سامنے آ رہے ہیں
23:40
Speaker A
اور میں سب سے زیادہ
23:43
Speaker A
کل کی انتظار کر رہا ہوں
23:47
Speaker A
کل کیا ہو رہا ہے
23:49
Speaker A
کل میرا حلقہ جو سپیکر صاحب کا بھی حلقہ ہے میں بڑے ادب سے سپیکر صاحب کا نام لے رہا ہوں
23:57
Speaker A
این اے 122
24:00
Speaker A
اب کل ٹرائیبیونل میں اس کا کیس جا رہا ہے
24:04
Speaker A
بڑی دیر سے میں انتظار
24:06
Speaker A
دو سال ہو گئے انتظار کرتے ہوئے
24:10
Speaker A
آخر
24:12
Speaker A
آخر ٹرائیبیونل میں اب کیس جائے گا اور پاکستانیو تیار ہو جاؤ
24:18
Speaker A
یہ بڑا مزیدار کیس ہے
24:21
Speaker A
پہلے تو این اے 125 کی وکٹ گری اب این اے 122 کی گرے گی
24:27
Speaker A
اب مجھے نظر آ رہی ہے
24:31
Speaker A
این اے 122 کی بیچ والی وکٹ
24:37
Speaker A
میں کیوں کہہ رہا تھا چار حلقے
24:39
Speaker A
پرائم منسٹر تو نہیں بن جانا تھا چار حلقوں سے میں نے
24:43
Speaker A
میں اس لیے کہہ رہا ہوں
24:46
Speaker A
اور میرے پاکستانیو یہ غور سے سنو یہ میں آخری بات کر رہا ہوں
24:52
Speaker A
دیکھیں جب تک آپ کی ووٹ کی اہمیت نہیں ہوگی
24:57
Speaker A
جمہوریت نہیں آئے گی
25:00
Speaker A
کبھی حکمران آپ کی خدمت نہیں کریں گے اگر ان کو پتہ ہو کہ وہ دھاندلی کر کے جیت سکتے ہیں
25:08
Speaker A
کبھی ایک عام آدمی ایک ریڑھی والا ایک چھابڑی والا ایک چھوٹا دکاندار ایک چھوٹا کسان ایک رکشہ والا
25:16
Speaker A
کبھی بھی ان کی اس معاشرے میں قدر نہیں ہوگی
25:23
Speaker A
اگر آپ کی ووٹ چوری ہوگی
25:29
Speaker A
جب تک آپ کی ووٹ کی اہمیت نہیں ہوگی
25:36
Speaker A
پیسہ آپ پہ یہ حکمران خرچ نہیں کریں گے
25:41
Speaker A
میٹرو پہ خرچ کریں گے کمیشن بنانے کے لیے پیسہ بنانے کے لیے
25:46
Speaker A
آپ کے اوپر نہیں خرچ کریں گے
25:49
Speaker A
میں یہ چار حلقوں کے لیے صرف اس لیے کھڑا ہوا تھا
25:54
Speaker A
ایم این اے بننے کے لیے تو نہیں
25:56
Speaker A
میں تو تین این اے کے حلقوں سے جیت چکا تھا
26:01
Speaker A
تیسری سیٹ بھی جیت چکا تھا
26:03
Speaker A
میں تو صرف اس لیے کھڑا ہوا تھا
26:09
Speaker A
کہ میرے پاکستانیوں کی ووٹ کی اہمیت ہو
26:14
Speaker A
قدر ہو
26:16
Speaker A
تاکہ میری قوم کی قدر ہو
26:19
Speaker A
میں اس لیے کھڑا ہوا تھا
26:22
Speaker A
کہ میں چاہتا تھا کہ میرے پاکستان کے اندر حقیقی جمہوریت آئے
26:27
Speaker A
یہ بادشاہ جو خاندانی اپنے بچوں کو تیار کر رہے ہیں آپ کو غلام بنانے کے لیے
26:34
Speaker A
ان کو صرف تب شکست ہم دے سکتے ہیں کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں
26:41
Speaker A
میں اس لیے 126 دن کا دھرنا دیا تھا
26:47
Speaker A
کہ کمیشن بنے تاکہ تفتیش ہو
26:50
Speaker A
انکشاف ہوں
26:53
Speaker A
کہ اصل میں انہوں نے کیسے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا
26:58
Speaker A
اور جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں کم از کم اس جوڈیشل کمیشن کے بعد یہ ہوگا
27:04
Speaker A
کہ کبھی کسی کی جرات نہیں پڑے گی الیکشن میں دھاندلی کرنے کی
Topics:عمران خانملتان جلسہنیا پاکستانتعلیمصحتانصافبدعنوانیپختونخواہ پولیسنون لیگالیکشن 2015

Frequently Asked Questions

عمران خان نے ملتان جلسے میں کس موضوع پر بات کی؟

عمران خان نے ملتان جلسے میں نیا پاکستان بنانے کے لیے دو نظریات کے درمیان مقابلے، بدعنوانی، تعلیم، صحت، انصاف، اور عوامی حقوق پر زور دیا۔

پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے عمران خان کا کیا موقف ہے؟

عمران خان نے کہا کہ پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کے بعد پیسہ ضلعوں کو براہ راست جائے گا اور مقامی نمائندے فیصلہ کریں گے کہ فنڈز کہاں خرچ ہوں، جو کہ ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام ہے۔

عمران خان نے موجودہ حکومت پر کیا تنقید کی؟

انہوں نے موجودہ حکومت پر بدعنوانی، وعدے پورے نہ کرنے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ناکامی، اور عوام کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →