عمران خان کا ملتان جلسہ، نیا پاکستان، بدعنوانی، تعلیم، صحت، اور انصاف کی اہمیت پر زور۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- ملتان جلسے میں عمران خان نے نیا پاکستان کے نظریے کو اجاگر کیا۔
- موجودہ حکومت کی بدعنوانی اور عوامی مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔
- تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کو ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا۔
- پختونخواہ میں بلدیاتی نظام کی اصلاحات اور میرٹ پر مبنی پولیس کی کامیابی کی مثال دی گئی۔
- عوام کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی ترغیب دی گئی۔
What the video covers
- عمران خان نے ملتان کے جلسے میں نیا پاکستان بنانے کے لیے دو نظریات کے درمیان مقابلے کا ذکر کیا۔
- انہوں نے موجودہ حکومت پر بدعنوانی، وعدے خلافی اور عوام کی حالت زار پر تنقید کی۔
- تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کو قوم کی ترقی کے لیے بنیادی ستون قرار دیا۔
- انہوں نے پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات اور مالیاتی نظام کی اصلاحات کی مثال دی۔
- پولیس میں سیاسی مداخلت اور میرٹ کی کمی کو جرائم کی بڑھوتری کی وجہ بتایا۔
- ملتان میں میٹرو منصوبے پر تنقید کی کہ یہ عوامی ضروریات سے ہٹ کر ہے۔
- انہوں نے عوام کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی تلقین کی۔
- پختونخواہ میں پولیس کی اصلاحات اور جرائم میں کمی کو ایک کامیابی قرار دیا۔
- انہوں نے نواز شریف اور نون لیگ کی حکومت کی نااہلی اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر شدید تنقید کی۔
- عمران خان نے عوام کو 21 مئی کے الیکشن میں حصہ لینے اور تبدیلی کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
میرے ملتان کے شہریو
Speaker A
آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں
Speaker A
کہ گرمی کے باوجود
Speaker A
اس شاندار استقبال کا آپ کا شکریہ
Speaker A
میں آج صرف ایک بائی الیکشن کے لیے جلسہ کرنے نہیں آیا
Speaker A
عبدالجبار کے لیے صرف ان کے الیکشن کے لیے جلسہ کرنے نہیں آیا
Speaker A
میں آپ سب کو یہ یاد دلانے آیا ہوں
Speaker A
کہ یہ مقابلہ ہے دو سوچوں کا، دو نظریوں کا
Speaker A
ایک نظریہ ہے جس کو ہم کہتے ہیں نیا پاکستان
Speaker A
اور دوسری طرف جو ابھی شاہ محمود قریشی نے آپ کو کہا کہ 1970 سے باریاں لے رہی ہیں دو جماعتیں
Speaker A
باریاں لیتے ہیں، وعدے کرتے ہیں
Speaker A
قوم پیچھے جا رہی ہے
Speaker A
قوم غریب ہو رہی ہے
Speaker A
لیکن جو لوگ باریاں لے رہے ہیں
Speaker A
ان کے بینک اکاؤنٹ بھی بڑھ رہے ہیں
Speaker A
جائیدادیں بھی بڑھ رہی ہیں
Speaker A
پہلے ان کی بڑھ رہی تھیں
Speaker A
اب ان کے بچوں کی
Speaker A
تو میرے ملتان کے شہریو
Speaker A
یہ دو سوچ کا مقابلہ ہے
Speaker A
ایک وہی سوچ جو سیاست میں آتی ہے ذاتی مفادات کے لیے
Speaker A
جو سیاست میں وعدے کرتے ہیں آپ سے
Speaker A
اور صرف اور صرف مقصد ہوتا ہے
Speaker A
کہ اپنی اور اپنے اولادوں کے لیے پیسہ بنائیں
Speaker A
20 سال پہلے جن کے پاس باہر کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں تھے
Speaker A
جائیدادیں نہیں تھیں
Speaker A
آج اربوں ڈالر باہر پڑا ہے
Speaker A
اور پاکستان سارے برصغیر میں
Speaker A
پیچھے رہ رہا ہے
Speaker A
یعنی سب سے زیادہ انسانوں کے اوپر جو خرچہ کرنا چاہیے تھا جس ملک پہ
Speaker A
جو 50 سال پہلے برصغیر میں سارے ممالک سے آگے تھا
Speaker A
آج ہیومن ڈویلپمنٹ میں سب سے پیچھے رہ گیا ہے
Speaker A
ہیومن ڈویلپمنٹ کا مطلب کہ ہم سب سے کم خرچہ کرتے ہیں اپنے لوگوں کے اوپر
Speaker A
ان کی صحت پہ، ان کے علاج پہ
Speaker A
ان کو انصاف دینے پہ
Speaker A
تو قومیں تو یہ میٹرو بسیں اور اوور پاسز اور انڈر پاسز اور موٹروے بنانے کے سے قومیں آگے نہیں بڑھتی
Speaker A
قوم تب آگے بڑھتی ہے
Speaker A
جب اس قوم کے لوگوں کے اوپر خرچہ کیا جاتا ہے
Speaker A
تو یہ جو دو سوچ ہیں وہ کیا ہیں
Speaker A
ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں
Speaker A
جس پہ انسانوں کی قدر ہو
Speaker A
جس پہ انسانوں کی عزت ہو
Speaker A
جس میں تعلیم کے اوپر سب سے پیسہ زیادہ خرچ کیا جائے
Speaker A
جس میں لوگوں کے روزگار کی فکر ہو
Speaker A
جس میں کسانوں کی، محنت کشوں کی قدر کی جائے
Speaker A
تو میں آج آپ کے سامنے ملتان کے لوگوں
Speaker A
میں آپ کے سامنے پھر سے آپ کو یاد کرانا چاہتا ہوں
Speaker A
جو دھرنے میں بار بار کنٹینر میں آپ کو میں ایک بات یاد کراتا رہا
Speaker A
کہ جب تک لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوتے
Speaker A
ان کے ان کے حقوق نہیں ملتے
Speaker A
کنٹینر پہ میں آپ کو بار بار کہتا رہا
Speaker A
کہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا
Speaker A
جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے
Speaker A
جب بھی آپ سے کوئی ظلم اور ناانصافی ہو
Speaker A
پاکستانیو، ملتان کے شہریو
Speaker A
اپنے حقوق کے لیے آپ کھڑے ہوں
Speaker A
دو مہینے سے میرے گھر کے باہر پختونخواہ کے لوگ دھرنا دے رہے ہیں
Speaker A
کوئی ٹیچر تھے
Speaker A
کوئی صحت کے محکمے سے لوگ تھے
Speaker A
دو مہینے انہوں نے میرے گھر کے باہر دھرنا دیا
Speaker A
اور دو مہینے کے بعد پختونخواہ کی حکومت
Speaker A
اور ان لوگوں کے بیچ میں
Speaker A
میں نے ان کو بٹھا کے
Speaker A
لوگوں کو انصاف دیا
Speaker A
آج وہ سارے واپس چلے گئے مطمئن
Speaker A
مجھے یہ بتائیں کہ کیا نواز شریف کے گھر کے باہر کوئی دھرنا دے سکتا ہے
Speaker A
کوئی بلاول ہاؤس کے باہر دھرنا دے سکتا ہے
Speaker A
نواز شریف کے کے باہر 2000 پولیس ہے
Speaker A
کسی کی جرات ہے رائیونڈ جانے کی
Speaker A
نہیں جا سکتے
Speaker A
ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں
Speaker A
کہ کسی بھی رکشے والے کی، ریڑھی والے کی، چھوٹے کسان کی
Speaker A
کسی مزدور کی
Speaker A
کسی سے ظلم ہو
Speaker A
وہ پرائم منسٹر کے گھر کے باہر جا سکے
Speaker A
ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں
Speaker A
برطانیہ میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ جو پرائم منسٹر کا گھر ہے
Speaker A
کسی کو بھی جب کسی چیز کے اوپر انہوں نے مظاہرہ کرنا ہو، ان سمجھے ان کو انصاف نہیں ملا
Speaker A
10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر جاتے ہیں لوگ
Speaker A
پاکستانیو
Speaker A
ملتان کے رہنے والو
Speaker A
آپ بھی یہ سمجھ جائیں
Speaker A
کہ یہ الیکشن نہیں ہو رہا 21 تاریخ کو
Speaker A
آپ پروٹیسٹ کر رہے ہیں
Speaker A
آپ مذمت کر رہے ہیں
Speaker A
کہ جو وعدے کیے تھے نون لیگ نے
Speaker A
کتنے وعدے پورے کیے ہیں
Speaker A
کتنی دفعہ آپ سے شہباز شریف نے کہا تھا
Speaker A
کہ میں لوڈ شیڈنگ کم کروں گا
Speaker A
کتنی دفعہ کہا تھا
Speaker A
کہا تھا
Speaker A
شہباز شریف مجھے ہاتھ کھڑا کر کے بتائیں
Speaker A
کہ بار بار شہباز شریف نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میں چھ مہینے میں لوڈ شیڈنگ کم کروں گا
Speaker A
لوڈ شیڈنگ کم ہوئی
Speaker A
مجھے یہ لوڈ شیڈنگ تو چھوڑیں
Speaker A
کیا بجلی کی قیمت دگنی نہیں ہوئی
Speaker A
تو جب نہ لوڈ شیڈنگ کم ہوئی
Speaker A
مجھے یہ بتائیں کیا جرم کم ہوئے
Speaker A
کیا پولیس بہتر ہوئی
Speaker A
کیا سکول بہتر ہوئے
Speaker A
دانش سکول چل رہے ہیں
Speaker A
ذرا جا کے دیکھیں دانش سکول کا کیا حال ہے
Speaker A
کیا ہسپتالوں میں بہتر علاج ہو رہا ہے
Speaker A
کیا سیوریج سسٹم ٹھیک ہے
Speaker A
کیا صاف پینے کا پانی مل رہا ہے
Speaker A
لیکن تحفہ کیا مل رہا ہے ملتان کے لوگوں کو
Speaker A
60 ارب روپے کی میٹرو بن رہی ہے اچھی بھلی سڑکوں
Speaker A
بہترین سڑک کو توڑ کے
Speaker A
میٹرو بننے لگی ہے
Speaker A
کیا آپ کو میٹرو کی ضرورت تھی یا بہتر ہسپتالوں کی ضرورت تھی
Speaker A
کیا آپ کو یاد رکھیں پاکستان وہ ملک ہے ڈھائی کروڑ بچے سکولوں کے باہر ہیں
Speaker A
ملکوں کی اتنی آبادی نہیں ہوتی
Speaker A
جتنے ہمارے بچے سکولوں کے باہر ہیں
Speaker A
پاکستان وہ ملک ہے
Speaker A
جدھر ڈھائی لاکھ بچہ مرتا ہے گندا پینا پانی پینے کی بیماریوں سے
Speaker A
وہ ملک ہے
Speaker A
ہر 20 منٹ پہ ایک عورت بیچاری مرتی ہے ڈیلیوری پہ
Speaker A
یہ وہ ملک ہے
Speaker A
جدھر 40 فیصد ہماری آبادی اپنا پورے قد پہ نہیں پہنچ سکتی
Speaker A
کیونکہ ان کو خوراک نہیں صحیح ملتی
Speaker A
تو کیا یہ 60 ارب کی میٹرو کی ضرورت تھی ملتان کو
Speaker A
یہ پیسہ کسانوں کو دیتے
Speaker A
وہ بیچارے کسانوں سے پوچھیں
Speaker A
کہ کیا ان کو بوریاں مل رہی ہیں جو گندم کی کٹائی ہوئی ہے
Speaker A
کتنوں کو بوریاں مل رہی ہیں
Speaker A
اس سے پہلے پھٹی کی قیمت ملی
Speaker A
نہیں ملی
Speaker A
یہی پیسہ کسانوں پہ لگا دیتے یہ ہسپتال ٹھیک کرنے پہ لگا دیتے
Speaker A
اور سب سے زیادہ اگر یہ تعلیم پہ لگا دیتے
Speaker A
تو اس سے کتنا اور آپ کو فائدہ تھا
Speaker A
لیکن کمیشن نہیں ملنی تھی جو میٹرو پہ ملنی ہے
Speaker A
پیسہ نہیں بننا تھا جو میٹرو سے بننا ہے
Speaker A
اسلام آباد کو تباہ کر دیا ہے
Speaker A
سارا کھود دیا ہے
Speaker A
پنڈی کو تباہ کر دیا ہے
Speaker A
دکانداروں کو تباہ کر دیا ہے
Speaker A
میٹرو بنا کے
Speaker A
پنڈی کے ہسپتالوں میں ایک خبر پڑی تھی
Speaker A
بچے کو چوہے نے کاٹ کے مار دیا
Speaker A
چار چار لوگ ایک بستر میں پڑے ہوئے ہیں ہسپتالوں میں
Speaker A
لیکن وہ میٹرو بن رہی ہے
Speaker A
اور پھر سے میں آپ کو یاد کراؤں کتنا بڑا ظلم ہے
Speaker A
کہ ڈھائی کروڑ بچہ سکولوں سے باہر ہے
Speaker A
تو میں اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں
Speaker A
کیونکہ آپ نے اپنی ووٹ سے
Speaker A
حکومت کو یہ نون لیگ کو بتانا ہے
Speaker A
نون لیگ کو آپ نے بتانا ہے کہ آپ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے
Speaker A
اور اپنی ووٹ سے آپ نے بتانا ہے
Speaker A
کہ ہم نون لیگ کو جس طرح بھی وہ الیکشن جیتی تھی
Speaker A
اس الیکشن میں ہم نے نہیں جیتنے نہیں دینا
Speaker A
ملتان کے لوگو
Speaker A
ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ
Speaker A
21 کے لیے تیار ہو
Speaker A
اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں
Speaker A
کہ کیسے یہ نظام ہم ٹھیک کر سکتے ہیں
Speaker A
پختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن آ رہا ہے اس مہینے کے آخر میں بلدیاتی الیکشن ہے
Speaker A
پختونخواہ میں کیا ہوگا
Speaker A
یہ سنیں ذرا
Speaker A
پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں ایک پروونشل فنانس ایوارڈ ملے گا
Speaker A
چیف منسٹر نہیں فیصلہ کرے گا
Speaker A
کہ پیسہ کدھر خرچ کرنا ہے
Speaker A
سیدھا پیسہ ضلعوں میں جائے گا
Speaker A
ضلعے کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ ہم نے پیسہ کدھر خرچ کرنا ہے
Speaker A
ملتان اگر پشاور ہے
Speaker A
تو پشاور کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ ان کو میٹرو چاہیے
Speaker A
یا انہوں نے اپنا سیوریج سسٹم ٹھیک کرنا ہے صاف پینے کا پانی لینا ہے
Speaker A
تعلیم پہ لگانا ہے
Speaker A
یہ پشاور کے لوگ فیصلہ کریں گے
Speaker A
چیف منسٹر فیصلہ نہیں کرے گا
Speaker A
ہر ضلع فیصلہ کرے گا کہ انہوں نے جو پروونشل فنانس ایوارڈ ہے
Speaker A
وہ فیصلہ کریں گے ہم نے پیسہ کدھر خرچ ہوگا
Speaker A
دوسرا پختونخواہ میں انشاءاللہ
Speaker A
جو ہم نظام لے کے آئیں گے یہ 30 تاریخ کے بعد
Speaker A
بلدیاتی الیکشن کے بعد
Speaker A
وہ سارے پاکستان کے لیے مثال بنے گی
Speaker A
سب سے پہلے ضلعے کی جو
Speaker A
الیکٹڈ نمائندے ہوں گے وہ فیصلہ کریں گے
Speaker A
اور پیسہ ڈائریکٹلی ان کو جائے گا
Speaker A
چیف منسٹر نہیں فیصلہ کرے گا
Speaker A
ضلعے کے منتخب کیے ہوئے نمائندے وہ فیصلہ کریں گے پیسہ کدھر خرچ ہوگا
Speaker A
اور مجھے بڑا فخر ہے کہ پختونخواہ کی پولیس
Speaker A
آج مثالی پولیس بن گیا ہے سارے پاکستان میں
Speaker A
کراچی میں حادثہ ہوا
Speaker A
پولیس کچھ نہیں کر سکتی کراچی میں
Speaker A
کیوں نہیں کر سکتی
Speaker A
کیونکہ پولیس کو سیاسی کر دیا ہے
Speaker A
سیاسی بھرتیاں پولیس میں
Speaker A
میرٹ کا سسٹم نہیں ہے
Speaker A
کوٹے ملے ہوئے ہیں آپس میں کہ تم اتنے پولیس والے رکھوا لو
Speaker A
فلانا منسٹر اتنے پولیس والے رکھوا دے
Speaker A
اور پولیس میں بھرتیاں کرنے میں پیسے لیتے ہیں
Speaker A
پیسہ بنتا ہے
Speaker A
کیسے پولیس مقابلہ کر سکتی ہے مجرموں کا
Speaker A
کراچی میں جب تک پولیس غیر جانبدار نہیں بنتی
Speaker A
میرٹ پہ نہیں آتی
Speaker A
غیر سیاسی نہیں ہوتی
Speaker A
کبھی بھی پولیس
Speaker A
کبھی بھی کراچی میں امن نہیں آئے گا
Speaker A
کیونکہ رینجرز رینجرز کا کام نہیں ہے
Speaker A
یہ پولیس کا کام ہے
Speaker A
پختونخواہ میں
Speaker A
کیونکہ کوئی پولیس میں سیاسی مداخلت نہیں ہے
Speaker A
این ٹی ایس امتحان دے کے پولیس میں بھرتی ہوتا ہے
Speaker A
کوئی سفارش نہیں ہے
Speaker A
سب سے زیادہ سارے صوبوں میں سے دیکھ لیں
Speaker A
اگر پولیس والوں کے خلاف
Speaker A
ایکشن لیا گیا پختونخواہ میں لیا گیا
Speaker A
اس کا نتیجہ
Speaker A
وہ صوبہ جدھر سب سے زیادہ یہ دہشت گردی کا نقصان ہوا
Speaker A
پچھلے سال کے مقابلے میں اس ایک سال میں 60 فیصد جرم کم ہوئے ہیں پختونخواہ میں
Speaker A
کیونکہ
Speaker A
پولیس میں میرٹ ہے
Speaker A
کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے
Speaker A
کسی سیاسی مخالف کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کی
Speaker A
پنجاب میں کیوں جرم اوپر چلے گئے ہیں
Speaker A
کیونکہ پنجاب میں پولیس سے غلط کام کروائے جاتے ہیں
Speaker A
پنجاب کی پولیس میں سیاسی مداخلت ہے
Speaker A
کوئی پولیس والا بھرتی نہیں ہو سکتا
Speaker A
جب تک اس کی سفارش نہ ہو
Speaker A
پنجاب کے اندر
Speaker A
پولیس میں پروموشن نہیں ہو سکتی
Speaker A
جب تک رائیونڈ سے کلیئرنس نہ ملے
Speaker A
پنجاب کی پولیس
Speaker A
سیاسی کر دی گئی ہے
Speaker A
میرٹ نہیں ہے
Speaker A
آج میں ذرا یہ سنیں
Speaker A
آج میں آئی جی پنجاب کا بیان ابھی سن رہا تھا ٹی وی پہ آتے ہوئے
Speaker A
یہاں کوئی تحریک انصاف کے
Speaker A
کارکنوں کا کچھ کچھ میڈیا کے ساتھ کچھ ہوا
Speaker A
ہم ابھی انکوائری بھی کر رہے ہیں
Speaker A
ہم انکوائری کر رہے ہیں کہ ہوا کیا
Speaker A
آئی جی پنجاب وہاں سے لاہور سے سٹیٹمنٹ دیتا ہے
Speaker A
کہ میں مذمت کرتا ہوں اس کی
Speaker A
تحریک انصاف کی مذمت کرتا ہوں
Speaker A
شرم کرو
Speaker A
شرم کرو آئی جی
Speaker A
شرم آنی چاہیے تمہیں
Speaker A
آئی جی صاحب
Speaker A
آئی جی صاحب آپ پاکستان کے ٹیکس پیئر کے پیسے سے تنخواہ لے رہے ہیں
Speaker A
یا شریفوں سے تنخواہ لے رہے ہیں
Speaker A
کون پیسہ دے رہا ہے آپ کو
Speaker A
ہم دے رہے ہیں پاکستانی قوم دے رہی ہے
Speaker A
ٹیکس کے پیسے سے آپ کام کر رہے ہیں
Speaker A
آپ کو شرم نہیں آتی
Speaker A
کہ آپ شریفوں کے ملازم بنے ہوئے ہیں
Speaker A
میں آج تم سے
Speaker A
انشاءاللہ زیادہ دیر نہیں ہے
Speaker A
اور میں ابھی اس بات پہ آنے لگا ہوں
Speaker A
کہ جو دھاندلی کی انہوں نے الیکشن میں
Speaker A
یہ 2015 میرا دل کہہ رہا ہے کہ نیا پاکستان کا سال ہے
Speaker A
اور انشاءاللہ یہ نیکوکارو
Speaker A
جو ایس ایس پی نیکوکارو جیسے پولیس والوں کو ہم اوپر لے کے آئیں گے
Speaker A
اور یہ شریفوں کے ملازموں کو پولیس سے باہر نکالیں گے
Speaker A
کون بچائے گا پاکستان
Speaker A
ہم سب مل کے عمران خان
Speaker A
اور اب اب میں آتا ہوں
Speaker A
جو میری قوم مجھے اتنا فخر ہے اپنی پاکستانی قوم پہ
Speaker A
کہ 126 دن کے دھرنے میں جو آپ نے میرا ساتھ دیا
Speaker A
اور دھرنے کے دوران جو میں ملتان آیا تھا سٹیڈیم میں
Speaker A
زندگی میں میں نہیں بھول سکتا جو آپ کا جوش اور جذبہ
Speaker A
سارا سٹیڈیم ہی بھرا تھا
Speaker A
باہر بھی لوگ کھڑے ہوئے تھے
Speaker A
تو جو آپ سب نے
Speaker A
مل کے میرے ساتھ
Speaker A
126 دن دھرنے پہ گزارے
Speaker A
اس کی وجہ سے
Speaker A
اور جو ہمارے لوگ شہید ہوئے
Speaker A
ان کی شہادتیں ضائع نہیں گئیں
Speaker A
کیونکہ جوڈیشل کمیشن پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں بنی ہے
Speaker A
اور جوڈیشل کمیشن میں جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں
Speaker A
میں ابھی سے ہی آپ کو مبارک دے رہا ہوں پاکستانیو مبارک
Speaker A
کہ ایک بڑی عجیب چیز نکلی جوڈیشل کمیشن میں
Speaker A
کیا نکلی
Speaker A
کہ پتہ چلا کہ الیکشن کمیشن نے اضافی بیلٹ پیپر چھاپے
Speaker A
یہ بھی چیز سامنے آ گئی
Speaker A
وہ کہتے ہیں جی ہم تو چھاپتے ہیں 5 فیصد 4 فیصد ایکسٹرا پیپر
Speaker A
اضافی بیلٹ پیپر
Speaker A
لیکن پاکستانیو ایک اور چیز سامنے آئی
Speaker A
کہ ایک حلقے میں 100 اضافی بیلٹ پیپر جا رہے ہیں
Speaker A
اور ساتھ والے حلقے میں جس میں خواجہ سعد رفیق تھے
Speaker A
ایک لاکھ 26 ہزار بیلٹ پیپر جا رہے ہیں
Speaker A
یعنی کہ 80 ہزار ایکسٹرا بیلٹ پیپر
Speaker A
تو یہ بڑی مزیدار چیزیں سامنے آ رہی ہیں
Speaker A
اگر جوڈیشل کمیشن نہ بنتی یہ نہیں پتہ چلنا تھا
Speaker A
اچھا نون لیگ کہتی ہے
Speaker A
کہ ان حلقوں میں بھی اضافی بیلٹ پیپر زیادہ گئے ہیں
Speaker A
جدھر تحریک انصاف جیتی ہے
Speaker A
گئے ہیں
Speaker A
تحریک انصاف جیتی ہے
Speaker A
لیکن میں آج آپ کو بتا رہا ہوں تحریک انصاف آپ کی دھاندلی کے باوجود
Speaker A
جیت نہیں سکے
Speaker A
دھاندلی بھی نہیں کر کے جیت سکے
Speaker A
اور دھاندلی کرنی بھی نہیں آئی صحیح طرح کیونکہ سارے انکشاف سامنے آ رہے ہیں
Speaker A
اور میں سب سے زیادہ
Speaker A
کل کی انتظار کر رہا ہوں
Speaker A
کل کیا ہو رہا ہے
Speaker A
کل میرا حلقہ جو سپیکر صاحب کا بھی حلقہ ہے میں بڑے ادب سے سپیکر صاحب کا نام لے رہا ہوں
Speaker A
این اے 122
Speaker A
اب کل ٹرائیبیونل میں اس کا کیس جا رہا ہے
Speaker A
بڑی دیر سے میں انتظار
Speaker A
دو سال ہو گئے انتظار کرتے ہوئے
Speaker A
آخر
Speaker A
آخر ٹرائیبیونل میں اب کیس جائے گا اور پاکستانیو تیار ہو جاؤ
Speaker A
یہ بڑا مزیدار کیس ہے
Speaker A
پہلے تو این اے 125 کی وکٹ گری اب این اے 122 کی گرے گی
Speaker A
اب مجھے نظر آ رہی ہے
Speaker A
این اے 122 کی بیچ والی وکٹ
Speaker A
میں کیوں کہہ رہا تھا چار حلقے
Speaker A
پرائم منسٹر تو نہیں بن جانا تھا چار حلقوں سے میں نے
Speaker A
میں اس لیے کہہ رہا ہوں
Speaker A
اور میرے پاکستانیو یہ غور سے سنو یہ میں آخری بات کر رہا ہوں
Speaker A
دیکھیں جب تک آپ کی ووٹ کی اہمیت نہیں ہوگی
Speaker A
جمہوریت نہیں آئے گی
Speaker A
کبھی حکمران آپ کی خدمت نہیں کریں گے اگر ان کو پتہ ہو کہ وہ دھاندلی کر کے جیت سکتے ہیں
Speaker A
کبھی ایک عام آدمی ایک ریڑھی والا ایک چھابڑی والا ایک چھوٹا دکاندار ایک چھوٹا کسان ایک رکشہ والا
Speaker A
کبھی بھی ان کی اس معاشرے میں قدر نہیں ہوگی
Speaker A
اگر آپ کی ووٹ چوری ہوگی
Speaker A
جب تک آپ کی ووٹ کی اہمیت نہیں ہوگی
Speaker A
پیسہ آپ پہ یہ حکمران خرچ نہیں کریں گے
Speaker A
میٹرو پہ خرچ کریں گے کمیشن بنانے کے لیے پیسہ بنانے کے لیے
Speaker A
آپ کے اوپر نہیں خرچ کریں گے
Speaker A
میں یہ چار حلقوں کے لیے صرف اس لیے کھڑا ہوا تھا
Speaker A
ایم این اے بننے کے لیے تو نہیں
Speaker A
میں تو تین این اے کے حلقوں سے جیت چکا تھا
Speaker A
تیسری سیٹ بھی جیت چکا تھا
Speaker A
میں تو صرف اس لیے کھڑا ہوا تھا
Speaker A
کہ میرے پاکستانیوں کی ووٹ کی اہمیت ہو
Speaker A
قدر ہو
Speaker A
تاکہ میری قوم کی قدر ہو
Speaker A
میں اس لیے کھڑا ہوا تھا
Speaker A
کہ میں چاہتا تھا کہ میرے پاکستان کے اندر حقیقی جمہوریت آئے
Speaker A
یہ بادشاہ جو خاندانی اپنے بچوں کو تیار کر رہے ہیں آپ کو غلام بنانے کے لیے
Speaker A
ان کو صرف تب شکست ہم دے سکتے ہیں کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں
Speaker A
میں اس لیے 126 دن کا دھرنا دیا تھا
Speaker A
کہ کمیشن بنے تاکہ تفتیش ہو
Speaker A
انکشاف ہوں
Speaker A
کہ اصل میں انہوں نے کیسے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا
Speaker A
اور جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں کم از کم اس جوڈیشل کمیشن کے بعد یہ ہوگا
Speaker A
کہ کبھی کسی کی جرات نہیں پڑے گی الیکشن میں دھاندلی کرنے کی
Topics:عمران خانملتان جلسہنیا پاکستانتعلیمصحتانصافبدعنوانیپختونخواہ پولیسنون لیگالیکشن 2015











