PM Imran Khan Powerful Speech At Ghotki Jalsa | 30 Mar … — Transcript

وزیراعظم عمران خان کا گھوٹکی جلسے میں کرپشن، غربت اور سندھ کی ترقی پر طاقتور خطاب۔

Key Takeaways

  • کرپشن پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
  • قرضوں کی قسطیں ملک کی معیشت پر بھاری بوجھ ہیں۔
  • سندھ کے وسائل کے باوجود کرپشن کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے۔
  • صاف اور شفاف انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے ضروری ہیں۔
  • غربت کم کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز اور توجہ دی جائے گی۔

Summary

  • وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی جلسے میں کرپشن کو پاکستان کی سب سے بڑی بیماری قرار دیا۔
  • انہوں نے مہاترم محمد کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کرپشن قوم کو غریب اور مقروض کر دیتی ہے۔
  • پاکستان کی تاریخی قرضوں اور ٹیکس آمدنی میں قرضوں کی قسطوں کے بوجھ پر روشنی ڈالی۔
  • سندھ کے وسائل کے باوجود غربت کی بڑھتی ہوئی شرح اور کرپشن کی وجہ سے ترقی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔
  • گھوٹکی میں گیس رائلٹی کے باوجود ترقیاتی کاموں کی کمی پر سوال اٹھایا۔
  • 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے مالی مسائل اور قرضوں کی قسطوں کی تفصیل بیان کی۔
  • صاف اور شفاف انتخابات کے لیے دھرنے اور ٹرین مارچ کی دعوت دی۔
  • سندھ اور بلوچستان میں غربت کم کرنے کے لیے خصوصی پروگرامز کا اعلان کیا۔
  • ملک کی جمہوریت اور عوامی فلاح کے لیے کرپٹ عناصر کے خلاف سخت موقف اپنایا۔
  • عمران خان نے سندھ کے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی ترقی کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
تو اب تو اپ وہی گانا گا سکتے ہیں نہیں تو وہ تو میں چاہتا تھا اپ بھی ترانہ گا دیں تبدیلی ا گئی ہے
00:07
Speaker A
جناب علی گوہر ماڑ صاحب
00:11
Speaker A
پہلے تو میں اپ کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اپ نے مجھے یہاں دعوت دی
00:20
Speaker A
اور تمبو کے نیچے اتنے زیادہ لوگوں کو اپ نے میرے ساتھ دعوت دی میں اپ سب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں
00:28
Speaker A
اور میں مجھے افسوس ہے کہ اج ہمارے علی اپ کے بھائی علی محمد گوہر ماہر یہاں نہیں ہیں تو میں ہم چاہتے ہیں ان کا ایک اپریشن ہے انشاءاللہ وہ بھی وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی یہاں ہوں
00:48
Speaker A
تو وہ ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ جلدی صحت مند ہو
00:51
Speaker A
میں اپنے جی ڈی اے کے ممبرز تحریک انصاف کے ایم کیو ایم کے پارلیمنٹیرینز
01:00
Speaker A
میرے سارے گیسٹ جو اوپر بیٹھے ہوئے ہیں
01:05
Speaker A
معزز ہمارے اونریبل پولیٹیشنز
01:10
Speaker A
میں سب کو اج یہ پیغام دینے کے لیے ایا ہوں
01:16
Speaker A
ایا تو ان کی دعوت پہ ہوں لیکن میرا ایک پیغام ہے
01:20
Speaker A
ابھی مہاترم محمد ائے میری دعوت پہ پاکستان
01:25
Speaker A
مہاترم محمد جو اپ میں سے نہیں جانتے وہ مسلمان دنیا میں وہ ایک سٹیٹس مین تھے
01:34
Speaker A
جنہیں اپنی قوم کو اٹھا کے اپنے غریبوں کو ملیشیا کے غریبوں کو اٹھا کے اوپر لے گئے
01:43
Speaker A
جب وہ ائے تھے تو ملیشیا کا جو اوسط امدنی یعنی جس کو پر کیپیٹا کہتے ہیں
01:52
Speaker A
ملیشیا کی پر کیپیٹا ڈیڑھ ہزار یا ہزار ڈالر تھی
01:58
Speaker A
اور وہ جب گئے تو وہ نو ہزار ڈالر پہ پر کیپیٹا لے گئے
02:04
Speaker A
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خوشحال کر کے چلے گئے
02:07
Speaker A
ملیشیا کو تبدیل کر گئے
02:09
Speaker A
ملیشیا ایک مثال بن گیا مسلمان دنیا میں کہ ایک جمہوریت کے اندر
02:16
Speaker A
ایک لیڈر نے اپنی قوم کو خوشحال کر دیا
02:21
Speaker A
ادارے مضبوط کر دیے
02:23
Speaker A
تو جب جب وہ گئے تو وہ جب 17 سال انہوں نے حکومت کی
02:30
Speaker A
الیکٹڈ لیڈر تھے جب وہ گئے تو ان کے ملک میں
02:36
Speaker A
کرپٹ لیڈرشپ ائی
02:40
Speaker A
اور ان کا جو ایک خوشحال ملک تھا
02:45
Speaker A
وہ مقروض ہونا شروع ہو گیا
02:48
Speaker A
اور پھر عوام عوام نے کہا کہ مہاترم محمد جو 93 سال کے تھے
02:56
Speaker A
93 سال کے ریٹائرمنٹ سے واپس ائے پھر عوام نے ان کو وزیراعظم بنایا
03:02
Speaker A
انہوں نے کہا کہ اپ ہمارے ملک کو ٹھیک کریں
03:07
Speaker A
کیونکہ کرپٹ کرپٹ حکومت نے ان کے ملک کو مقروض کر دیا
03:15
Speaker A
تو میں یہ کہنے کا مطلب یہ ہے
03:18
Speaker A
کہ یہ یاد رکھیں
03:22
Speaker A
قومیں غریب نہیں ہوتیں
03:26
Speaker A
کرپشن قوم کو غریب کر دیتی ہے
03:29
Speaker A
اور مقروض کر دیتی ہے
03:33
Speaker A
پاکستان ایک جب میں لوگوں کو بار بار یہ یاد کراتا ہوں کہ جب میں بڑا ہو رہا تھا
03:40
Speaker A
تو پاکستان سارے ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا
03:46
Speaker A
ہماری مثال دی جاتی تھی
03:49
Speaker A
کہ یہ پاکستان کا ڈویلپمنٹ ماڈل دیکھو یہ ملک کیسے اوپر جا رہا ہے
03:55
Speaker A
اور جو اج دنیا میں یہ ایشیا میں جو چند دو تین ترقی یافتہ ملکوں میں سے ساؤتھ کوریا
04:02
Speaker A
ساؤتھ کوریا پاکستان ا کے تو انہوں نے ہمارا ماڈل لیا تھا ڈویلپمنٹ کا
04:08
Speaker A
تو وہ پاکستان کا مقام تھا
04:12
Speaker A
تو اگر اج پاکستان تاریخی قرضوں میں پڑا ہوا ہے
04:18
Speaker A
اج تاریخی قرضہ چڑھا ہوا ہے پاکستان پہ بچے بچے پہ قرضہ چڑھا ہوا ہے
04:24
Speaker A
اور اگر ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پہ
04:32
Speaker A
ہمیں ہر روز ہر روز صرف جو قرضوں پہ سود دینا پڑتا ہے
04:39
Speaker A
وہ چھ ارب روپیہ ہے
04:44
Speaker A
جو ماضی میں اور خاص طور پہ پچھلے دس سال میں
04:51
Speaker A
جس طرح کے بے دردی سے اس ملک کو مقروض کیا گیا
04:57
Speaker A
اس کی وجہ سے اج ہمارا جو ٹوٹل ٹیکس میں پیسہ اکٹھا ہوتا ہے
05:04
Speaker A
وہ ہے ساڑھے چار ہزار ارب روپیہ
05:11
Speaker A
اس میں سے دو ہزار ارب روپیہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں جاتا ہے
05:19
Speaker A
تو اس لیے
05:24
Speaker A
میں نے اپ کو مہاترم محمد کی مثال دی
05:30
Speaker A
کہ کس طرح ملیشیا جب اوپر چلا گیا تھا
05:37
Speaker A
کرپٹ حکومتوں نے اس کو مقروض کر دیا
05:40
Speaker A
اج قرضوں میں ہے اج ملیشیا کے اوپر بھی قرضے چڑھے ہوئے ہیں
05:46
Speaker A
تو اب میں سندھ پہ اتا ہوں
05:51
Speaker A
سندھ پاکستان کا سب سے خوشحال صوبہ ہونا چاہیے
05:57
Speaker A
کراچی فائنینشل کیپیٹل سندھ میں ہے
06:03
Speaker A
کراچی پاکستان کا فائنینشل کیپیٹل ہے
06:08
Speaker A
وہ سندھ میں ہے
06:12
Speaker A
سب سے زیادہ گیس نکلتی ہے سندھ کے اندر
06:19
Speaker A
یہاں زرخیز زمین ہے یہاں چاول یہاں کپاس یہاں گنے مرچیں
06:27
Speaker A
یہ سب کچھ سندھ میں ہے
06:31
Speaker A
زمینوں کو نکالتی ہے
06:34
Speaker A
تو کیا وجہ ہے کہ اندرون سندھ میں
06:41
Speaker A
سارے پاکستان سے سب سے زیادہ غربت ہے
06:47
Speaker A
وجہ ایک ہے
06:49
Speaker A
کرپشن
06:53
Speaker A
کرپشن ایک وہ ملک جس میں سب سے زیادہ وسائل بھی ہوں
06:59
Speaker A
کرپشن اس ملک کو مقروض کر دیتی ہے
07:03
Speaker A
غربت پھیلا دیتی ہے
07:04
Speaker A
میں اپ کو ایک افریقہ کے ایک ملک کی مثال دیتا ہوں
07:10
Speaker A
ایک نہیں دو لے لیں
07:12
Speaker A
نائیجیریا
07:15
Speaker A
وہاں بے پناہ تیل
07:18
Speaker A
تیل نکلتا ہے
07:21
Speaker A
اور کانگو ایک ملک ہے جو کہ معدنیات
07:27
Speaker A
ہر قسم کی معدنیات وہاں ہیں
07:30
Speaker A
ہیرے وہاں ہیں
07:33
Speaker A
بڑے بڑے ہیروں کی کانیں ہیں وہاں
07:37
Speaker A
کانگو غریب ترین ملک ہے 70 فیصد کانگو کی ابادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے
07:44
Speaker A
کیونکہ کانگو میں کرپٹ لیڈرشپ نے سارے وسائل کے اوپر قبضہ کر لیا ہے
07:50
Speaker A
تو یہ ہے پاکستان کی کہانی اور اپ کی سندھ کی کہانی
07:55
Speaker A
دس سالوں میں علی گوہر صاحب اپ نے بتایا کہ گیس رائلٹیز کا
08:00
Speaker A
گھوٹکی میں جو تقریبا 70 فیصد سندھ کی جو
08:07
Speaker A
سندھ کی 70 فیصد گیس یہاں گھوٹکی سے نکلتی ہے
08:12
Speaker A
تقریبا ڈھائی سو کنویں ہیں
08:15
Speaker A
ڈھائی سو گیس کے کنویں ہیں یہاں
08:19
Speaker A
یہاں گھوٹکی میں صرف پھر لیں اور اپ دیکھیں کہ وہ ڈسٹرکٹ
08:27
Speaker A
جو سب سے اگے ہونی چاہیے تھی یا یونیورسٹیز ہونی چاہیے تھی بہترین سکول ہونے چاہیے تھے
08:36
Speaker A
انڈسٹریل زونز گیس کے اوپر ہونی چاہیے تھی وہ سب سے پیچھے رہ گئی
08:42
Speaker A
اور دس سالوں میں میں نے فائنینس منسٹری سے پتہ چلوایا
08:49
Speaker A
کہ پچھلے دس سالوں میں سندھ میں صرف جو گیس کی رائلٹی ائی ہے
08:56
Speaker A
وہ ہے 234 ارب روپیہ
09:02
Speaker A
234 ارب روپیہ گیس کی رائلٹی ائی ہے سندھ کے اندر پچھلے دس سالوں میں
09:11
Speaker A
کیونکہ این ایف سی اوارڈ میں سب کچھ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے
09:18
Speaker A
سینٹر کے پاس فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تو
09:20
Speaker A
فیڈرل گورنمنٹ تو ویسے ہی بینکرپٹ ہے
09:24
Speaker A
یہ بھی میں اپ سب کو بتا دوں کہ علی گوہر صاحب اپ نے ہمارے سے پوچھا کہ سینٹر سے ہیلپ چاہیے سندھ کو
09:32
Speaker A
اور خاص طور پہ گھوٹکی کو
09:36
Speaker A
میں ذرا اپ سب کو بتا دوں کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینٹر کے حالات کیا ہیں
09:43
Speaker A
جو ٹیکس سے پیسہ اکٹھا ہوتا ہے میں نے جس طرح اپ کو بتایا ساڑھے چار ہزار ارب ہے
09:49
Speaker A
اس کے اوپر ایک اور ایک ہزار ارب اور ا جاتا ہے تو ساڑھے پانچ ساڑھے پانچ ہزار ارب ٹوٹل پیسہ ہے سینٹر کے پاس
09:56
Speaker A
فیڈرل گورنمنٹ کے پاس
10:00
Speaker A
اس میں سے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے تقریبا دو ہزار ارب نکل جاتا ہے
10:09
Speaker A
باقی رہ گیا ساڑھے تین ہزار ارب
10:12
Speaker A
ساڑھے تین ہزار ارب میں ڈھائی ہزار ارب سیدھا صوبوں کو چلا جاتا ہے
10:21
Speaker A
باقی رہ گیا ایک ہزار ارب صرف ڈیفنس کے لیے ہمیں 1700 ارب روپیہ دینا پڑتا ہے
10:26
Speaker A
تو پہلے ہی سینٹر 700 ارب روپے کا خسارے میں چلا جاتا ہے
10:32
Speaker A
اس لیے
10:36
Speaker A
اپ نے ٹرین مارچ کرنی ہے میں تو بار بار دعوت دے بیٹھا ہوں
10:40
Speaker A
کنٹینر ہمارا تیار ہے ڈی چوک کے لیے ادھر ا جائیں دھرنا بھی دے دیں بے شک
10:47
Speaker A
ہم اپ کو ہم اپ کو کھانا پینا بھی بھجوا دیں گے کنٹینر میں
10:50
Speaker A
لیکن ذرا اؤ سٹیمنا چیک کرتے ہیں ہم ساڑھے چار مہینے
10:56
Speaker A
ساڑھے چار مہینے ہم نے دھرنا دیا تھا اپنی چوری کے لیے نہیں دیا تھا
11:04
Speaker A
ملک کی جمہوریت کے لیے صاف اور شفاف الیکشنز کے لیے دیا تھا
11:13
Speaker A
میں
11:17
Speaker A
میں اج پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں
11:22
Speaker A
یہ جو پہلے کہتے تھے وہ شریف برادران کہتے تھے زرداری کرپٹ ہے
11:30
Speaker A
زرداری اور اس کے بیٹے وہ کہتے تھے وہ کرپٹ ہے
11:35
Speaker A
اج وہ دونوں جمہوریت بچانے کے لیے اکٹھے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں
11:42
Speaker A
میں اج اپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ اپ جو مرضی کرنا چاہتے ہیں کریں
11:47
Speaker A
اکٹھے ہو جو مرضی کرنا چاہتے ہیں
11:51
Speaker A
ہم نے اپ کو نہیں چھوڑنا
11:58
Speaker A
یہ قوم اپ کو معاف نہیں کرے گی
12:01
Speaker A
اپ کے پاس صرف ایک راستہ ہے
12:05
Speaker A
پیسہ واپس کریں قوم کا پھر ہم اپ کو چھوڑیں گے
12:11
Speaker A
اس کے علاوہ
12:15
Speaker A
اپ نے ٹرین مارچ کرنی ہے
12:17
Speaker A
میں تو بار بار دعوت دے بیٹھا ہوں
12:20
Speaker A
کنٹینر ہمارا تیار ہے ڈی چوک کے لیے
12:22
Speaker A
ادھر ا جائیں دھرنا بھی دے دیں بے شک
12:27
Speaker A
ہم اپ کو
12:31
Speaker A
ہم اپ کو
12:33
Speaker A
کھانا پینا بھی بھجوا دیں گے کنٹینر میں لیکن ذرا اؤ سٹیمنا چیک کرتے ہیں
12:38
Speaker A
ہم ساڑھے چار مہینے ساڑھے چار مہینے ہم نے دھرنا دیا تھا
12:42
Speaker A
اپنی چوری کے لیے نہیں دیا تھا
12:47
Speaker A
ملک کی جمہوریت کے لیے صاف اور شفاف الیکشنز کے لیے دیا تھا
12:55
Speaker A
میں
12:59
Speaker A
میں اج اپنے سندھ کے لوگوں کو
13:04
Speaker A
کیونکہ میں یہاں بہت پہلے اتا تھا
13:08
Speaker A
شروع میں پولیٹکس میں انے سے پہلے تو شکار پہ اتا تھا
13:13
Speaker A
پولیٹکس میں ا کے شکار بھی ختم ہو گیا
13:18
Speaker A
کیونکہ شکاری
13:21
Speaker A
شکار تبدیل ہو گیا
13:28
Speaker A
اب اب میں جب اتا رہا ہوں پولیٹکس میں
13:33
Speaker A
تو میں پھر سے کہتا ہوں
13:36
Speaker A
سب سے
13:40
Speaker A
سب سے
13:42
Speaker A
سب سے
13:44
Speaker A
جی
13:48
Speaker A
میں جب سے
13:51
Speaker A
سندھ اتا رہا ہوں
13:55
Speaker A
میں نے سندھ کو پیچھے جاتے دیکھا ہے
14:00
Speaker A
سندھ میں غربت بڑھتی دیکھی
14:04
Speaker A
سندھ کا جو انفراسٹرکچر ہے
14:10
Speaker A
اپنے سامنے اس کو نیچے جاتا دیکھا
14:15
Speaker A
کیونکہ جو سندھ کا پیسہ تھا
14:21
Speaker A
ہمیں سب کو پتہ ہے کہ سندھ کا پیسہ کدھر گیا
14:25
Speaker A
جو سندھ کے لوگوں کا پیسہ تھا
14:29
Speaker A
سب کو پتہ ہے کدھر گیا
14:30
Speaker A
اس لیے
14:33
Speaker A
اس لیے
14:36
Speaker A
میں اپنے سندھ کے لوگوں کو یہ اج پورا یقین دلانا چاہتا ہوں
14:44
Speaker A
کہ پہلے تو مجھے موقع نہیں ملا ادھر بہت بڑی جنگ چل رہی تھی
14:52
Speaker A
پنجاب میں پیناما کے اوپر
14:57
Speaker A
پیناما کے ڈاکوؤں کے خلاف جنگ چل رہی تھی مافیا کے خلاف جنگ چل رہی تھی
15:03
Speaker A
موقع نہیں ملا اندرون سندھ انے میں
15:07
Speaker A
اب میں پورا زور لگاؤں گا اندرون سندھ میں
15:14
Speaker A
اس لیے نہیں
15:16
Speaker A
دیکھ میری ذرا اج بڑی غور سے بات سنیے
15:19
Speaker A
اس لیے نہیں اؤں گا کہ ہمیں ووٹس چاہیے اور ہم نے الیکشن جیتنی ہیں
15:25
Speaker A
الیکشن تو سندھ کے بغیر بھی جیتا جا سکتا ہے اگر ہم پختونخواہ میں اور پنجاب میں
15:31
Speaker A
الیکشن جیت جائیں تو گورنمنٹ تو بن جاتی ہے
15:34
Speaker A
اس لیے کہ میں یہ سمجھتا ہوں
15:38
Speaker A
کہ سارے پاکستان کو اوپر اٹھنا چاہیے ایک صوبے کو نہیں اوپر اٹھنا چاہیے
15:44
Speaker A
ایک شہر اوپر نہیں
15:47
Speaker A
سارا پاکستان اوپر ائے
15:49
Speaker A
اس لیے
15:50
Speaker A
اس لیے
15:53
Speaker A
ہم نے بلوچستان پہ بھی پورا زور لگانا ہے
15:59
Speaker A
ہمارے بلوچستان کے علاقے بھی پیچھے رہ گئے ہیں
16:03
Speaker A
ہم نے سندھ میں اور خاص طور پہ اندرون سندھ میں پورا زور لگانا ہے جدھر دونوں علاقوں میں غربت بہت اوپر ہے
16:09
Speaker A
سب سے زیادہ پاکستان میں غربت بلوچستان کے علاقوں میں اور اندرون سندھ میں ہے
16:16
Speaker A
اور جو ہم ابھی ایک پروگرام لے کے ائے ہیں غربت کم کرنے کا پاورٹی ایلیویشن کا
16:24
Speaker A
انشاءاللہ وہ اب دیکھیں گے پاکستان کا سب سے بہترین پروگرام ہے کہ ہم نے یہاں اس ملک میں غربت کیسے کم کرنی ہے
16:32
Speaker A
یہ ہم نے اس پہ بڑی کام کیا ہوا ہے
16:36
Speaker A
چائنہ بھی ہم گئے چائنہ جب گئے تو ہم نے ان سے پورا کیونکہ جو چائنہ نے کیا وہ کسی ملک نے نہیں اج تک کیا
16:43
Speaker A
کسی ملک نے اس طرح غربت کم نہیں کی جو چائنہ نے کی ہے
16:48
Speaker A
تو ان سے بھی ہم نے پورا سیکھا ہے اور اب ہم پوری طرح انشاءاللہ اپ دیکھیں گے
16:54
Speaker A
یہ پروگرام اب زمین پہ لے کے ا رہے ہیں پورا زور لگائیں گے
17:01
Speaker A
ہم نے کوششیں کرنی ہیں کہ جو جو ڈسٹرکٹ پیچھے رہ گئے ہیں
17:09
Speaker A
ان ڈسٹرکٹس کے اوپر اوپر زور لگانا ہے
17:13
Speaker A
ہم جو اب چیزیں کر رہے ہیں عوام کی صحت کے لیے ہیلتھ کارڈز
17:19
Speaker A
یہ ایک ہیلتھ کارڈ جو ہیلتھ انشورنس پہلی دفعہ پاکستان میں اس پیمانے پہ ائی ہے کہ سات لاکھ 20 ہزار روپیہ
17:29
Speaker A
ایک خاندان کو ملتا ہے کہ کہیں بھی جا کے اس سات لاکھ 20 ہزار روپے میں اگر وہ بیماری گھر میں ہو وہ کہیں بھی جا کے علاج کروا سکتے ہیں
17:36
Speaker A
پرائیویٹ ہاسپٹل یا گورنمنٹ ہاسپٹل میں جا سکتے ہیں
17:41
Speaker A
ہیلتھ کارڈ لے کے ا رہے ہیں
17:45
Speaker A
ہم نے ایک خاص پروگرام لے کے ا رہے ہیں کہ ہم نے کیسے جو ہماری خواتین ہیں
17:55
Speaker A
جو جن کی صحت ٹھیک نہیں جن کی جو جو بالکل غربت کی لکیر پہ ہیں ان کی ہم نے کیسے مدد کرنی ہے
18:02
Speaker A
کیسے ان کو اوپر اٹھانا ہے
18:06
Speaker A
کیسے ہم نے غریب ڈسٹرکٹس کے پاس پہلے جانا ہے
18:14
Speaker A
کیسے ہم نے ان کی مدد کرنی ہے کہ وہ اپنی زندگی بہتر کر سکیں
18:20
Speaker A
قرضے دینے ہیں سود کے بغیر جو وہ جو ہمارے نوجوان ہیں جو غریب گھرانوں کے ہیں
18:25
Speaker A
جو کہ اپنی بے روزگار ہیں کیسے وہ روزگار لے سکتے ہیں
18:31
Speaker A
انشاءاللہ یہ سارا ایک پورا غربت کم کرنے کا پاکستان میں پورا ایک جہاد کرنی شروع کرنے لگے ہیں
18:40
Speaker A
اور جو سندھ کے لوگوں اپ کو خاص طور پہ جو اپ کا سب سے زیادہ مسئلہ اندرون سندھ میں ہے
18:49
Speaker A
کہ جو پولیس کو استعمال کیا جاتا ہے
18:55
Speaker A
جھوٹی ایف ائی اریں کٹواتے ہیں
18:58
Speaker A
مخالفوں کے اوپر ظلم کرتے ہیں
19:02
Speaker A
یہ جو سب سے زیادہ سندھ میں ظلم کی سیاست ہے
19:08
Speaker A
کہ لوگوں کو خوف اتنا خوف زدہ کر دیتے ہیں کہ لوگ ڈرتے ہیں ان کے کسی اور کو ووٹ دینے سے
19:16
Speaker A
یہ جو خوف ہے
19:20
Speaker A
یہ اب ہماری جنگ ہے کہ اس سندھ کے اندر یہ جو خوف ایڈمنسٹریشن کے ذریعے لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے
19:28
Speaker A
جو لوگوں کو کسانوں کا پانی کاٹ دیا جاتا ہے
19:32
Speaker A
ایک کسان بیچارے کا غریب کسان کا پانی روک دو
19:35
Speaker A
اس کی تو زندگی تباہ کر دی
19:38
Speaker A
یہ انشاءاللہ پوری طرح اب میں اپ کے ساتھ کھڑا ہوں گا
19:44
Speaker A
پورا زور لگاؤں گا اپ کے لیے
19:48
Speaker A
مسلسل اتا رہوں گا
19:51
Speaker A
اس لیے نہیں کہ ووٹس لینی ہے
19:54
Speaker A
اس لیے
19:57
Speaker A
کہ ہم نے سندھ کو تبدیل کرنا ہے
20:01
Speaker A
اندرون سندھ کے اندر جو مشکلات ہیں لوگوں کی وہ ہم نے اسان کرنی ہے
20:07
Speaker A
جو پیسہ ہے مثلا یہ جو اپ نے علی گوہر صاحب اپ نے جو شروع میں بات کی
20:14
Speaker A
اپ کی یہ جو پیسہ ہے رائلٹیز کا
20:18
Speaker A
یہ تو رائلٹیز کا پیسہ جانا ہی پہلے چاہیے جس ڈسٹرکٹ کے اندر سے گیس نکلتی ہے
20:24
Speaker A
پہلے تو ان لوگوں کا حق بنتا ہے
20:29
Speaker A
امریکہ میں ٹیکسز کے اندر تیل نکلا
20:34
Speaker A
ایک ان کا صوبہ تھا ٹیکسز اس کے اندر تیل نکلا تو اج بھی امریکہ میں چلے جائیں
20:40
Speaker A
سب سے امیر لوگ ٹیکسز میں ہیں
20:43
Speaker A
تو پہلے تو وہ خوشحال ہوا پھر باقی امریکہ خوشحال ہوا
20:47
Speaker A
یہاں میں سوئی گیس کے اندر گیس نکلتی ہے
20:51
Speaker A
اور وہاں ادھر جا کے دیکھیں ان علاقے کے اندر جدھر سے گیس نکلتی ہے
20:56
Speaker A
غریب ترین لوگ ہیں بیچارے
21:00
Speaker A
ایسے کہ کس کو کوئی ہزار سال پرانی جس طرح کے وہ زمانے میں وہ رہ رہے ہیں
21:06
Speaker A
سونا نکلتا ہے
21:07
Speaker A
تانبا نکلتا ہے گیس نکلتی ہے تیل نکلتا ہے
21:12
Speaker A
سب سے پہلے اس علاقے کو انشاءاللہ ہم فائدہ پہنچائیں گے اور پھر باقی علاقوں کو فائدہ پہنچے گا
21:18
Speaker A
میں اپ سب کا شکر گزار ہوں
21:22
Speaker A
علی گوہر صاحب بہت بہت شکریہ اپ کا مجھے یہاں دعوت دینے کا
21:28
Speaker A
اور انشاءاللہ جو ہماری اب پلاننگ ہوگی سندھ کے ساتھ وہ اپ کے ساتھ مل کے
21:35
Speaker A
انشاءاللہ ہم پورا سندھ کا پلان بنائیں گے
21:38
Speaker A
اپ کا بہت بہت شکریہ
21:42
Speaker B
وزیراعظم عمران خان گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے
21:48
Speaker B
انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ اور بلوچستان کو پاکستان کے دوسرے حصوں کے برابر
Topics:عمران خانگھوٹکی جلسہکرپشنغربتسندھ کی ترقیپاکستان کی معیشتقرضےصاف انتخاباتمہاترم محمدٹرین مارچ

Frequently Asked Questions

عمران خان نے گھوٹکی جلسے میں کرپشن کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ کرپشن قوم کو غریب اور مقروض کر دیتی ہے اور یہ پاکستان کی سب سے بڑی بیماری ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

سندھ میں غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کی کیا وجہ ہے؟

سندھ میں وسائل کے باوجود کرپشن کی وجہ سے غربت بڑھ رہی ہے، اور گیس رائلٹی کے باوجود ترقیاتی کاموں میں کمی ہے۔

عمران خان نے ملک کی معیشت کے حوالے سے کیا اہم نکات بیان کیے؟

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پر تاریخی قرضے ہیں، ٹیکس آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی قسطوں میں جاتا ہے، اور وفاقی حکومت مالی مشکلات کا شکار ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →