Imran khan speech in Kasoor Jalsa | 22 January 2017 | 2… — Transcript

عمران خان کا قصور جلسے میں کرپشن، سپریم کورٹ اور پاکستان کی بہتری پر خطاب۔

Key Takeaways

  • کرپشن پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
  • سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی بہتری کے لیے اہم ہے۔
  • نیب کو آزاد اور طاقتور بنانا ضروری ہے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔
  • چین کی ترقی کی مثال سے سیکھنا چاہیے۔
  • جمہوریت میں سب کے لیے ایک قانون ہونا چاہیے، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ نہیں۔

Summary

  • عمران خان نے نواز شریف کی کرپشن اور سپریم کورٹ میں ان کے خلاف کارروائی پر بات کی۔
  • انہوں نے پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے غربت اور معیشت کی خرابی کی نشاندہی کی۔
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کی بہتری کے لیے اہم قرار دیا۔
  • کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور نیب کی اصلاحات کا وعدہ کیا۔
  • چین کی ترقی اور کرپشن پر قابو پانے کی مثال دی۔
  • پاکستان کے کسانوں کی مشکلات اور ہندوستان کے کسانوں کو دی جانے والی سہولیات کا موازنہ کیا۔
  • نواز شریف اور ان کے خاندان پر مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے۔
  • سیاسی مخالفین کے خلاف بات چیت اور جمہوریت کی اصل روح پر زور دیا۔
  • موجودہ نیب کی ناکامی اور اس کے کرپٹ عناصر کی حمایت پر تنقید کی۔
  • مختلف سیاسی شخصیات اور ان کے کردار پر تبصرہ کیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:01
Speaker A
ساری مغربی جمہوریت میں
00:03
Speaker A
پرائم منسٹر استعفیٰ دیتا ہے
00:08
Speaker A
اور ہمارا پرائم منسٹر کہتا ہے مجھے استثنا ہے
00:14
Speaker A
میں کوئی خاص آدمی نہیں آیا ہوں کہ عام آدمی جھوٹ بولے تو وہ جیل میں اور وہ بھی کرپشن پہ
00:21
Speaker A
اور میں جھوٹ بولوں تو مجھے استثنا ہے
00:26
Speaker A
میرے پاکستانیوں
00:28
Speaker A
یہ جو ہو رہا ہے سپریم کورٹ میں
00:32
Speaker A
یہ انشاءاللہ جو بھی فیصلہ ہوگا سپریم کورٹ کا پاکستان بدل رہا ہے
00:39
Speaker A
ہمارا ملک تبدیل ہو رہا ہے پہلی دفعہ پرائم منسٹر کی سپریم کورٹ میں تلاشی لی جا رہی ہے
00:45
Speaker A
کبھی پہلے نہیں ہوا
00:50
Speaker A
اور مجھے خوشی یہ ہے
00:53
Speaker A
میں اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ یہ میری قوم نے
00:58
Speaker A
میرے ساتھ سڑکوں پہ نکلے جدوجہد کی ٹیئر گیسیں کھائی
01:06
Speaker A
لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا
01:10
Speaker A
اس کے باوجود ہمارے ملک کے نوجوان ہماری خواتین
01:17
Speaker A
اس خوف سے کہ ڈنڈے پڑیں گے
01:21
Speaker A
اس خوف سے بالکل گھبرائے نہیں
01:25
Speaker A
نکلے باہر
01:26
Speaker A
اور آخر میں نواز شریف کو پاکستان کے سپریم کورٹ میں ہم لے کے آئے
01:34
Speaker A
اور انشاءاللہ
01:36
Speaker A
جو میں دیکھ رہا ہوں
01:39
Speaker A
جو میں دیکھ رہا ہوں آج قصور کے لوگو
01:44
Speaker A
نواز شریف اس میں بچنے نہیں لگا
01:49
Speaker A
یہ بچنے نہیں لگا
01:51
Speaker A
اگر قطری کا اگر قطری کا خط جھوٹ نکلا نواز شریف کی چھٹی
01:57
Speaker A
اگر دوسرا اگر آئی سی جو پیناما کا انکشاف ہوا
02:03
Speaker A
کہ مریم شریف اصل مالکہ ہے لندن کے فلیٹس کی نواز شریف کی چھٹی
02:10
Speaker A
اور اگر
02:13
Speaker A
جو بی بی سی نے کہا اور جو ہم بھی کہتے ہیں
02:18
Speaker A
کہ 93 میں فلیٹ لیے تھے لندن کے
02:24
Speaker A
انہوں نے کہا کوئی مالک بدلے نہیں تب سے
02:28
Speaker A
یعنی کہ کوئی قطری کے پاس نہیں تھا
02:32
Speaker A
تو پھر بھی نواز شریف کی چھٹی
02:38
Speaker A
اور جہاں تک ہم جانتے ہیں چار ان کے وزیروں نے کہا
02:43
Speaker A
کہ 93 میں یہ میفیئر کے فلیٹ لیے گئے
02:49
Speaker A
چار وزیروں نے کہا
02:52
Speaker A
چار وزیروں نے نہیں کہا صرف
02:57
Speaker A
ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں 98 میں یہ کہا
03:02
Speaker A
پھر بی بی سی نے 98 کے اندر ڈاکومنٹری بنائی اس میں کہا کہ ان کے فلیٹ تھے
03:08
Speaker A
90 کی دہائی میں
03:11
Speaker A
اور الحفیق بینک کی ججمنٹ ہے کہ یہی چار فلیٹ
03:17
Speaker A
یہی چار فلیٹ انہوں نے گروی لکھوائے تھے
03:21
Speaker A
اس لیے
03:23
Speaker A
مجھے جو آگے نظر آ رہا ہے
03:27
Speaker A
میں تو اس ہفتے کی انتظار کر رہا ہوں
03:31
Speaker A
یہ جو آنے والا ہفتہ ہے
03:35
Speaker A
اس میں بڑے بڑے اور انکشاف ہوں گے
03:38
Speaker A
ہم انتظار کر رہے ہیں
03:40
Speaker A
اور میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں
03:43
Speaker A
یہ اس لیے نہیں
03:45
Speaker A
اس لیے نہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارا سیاسی مخالف ہار جائے سپریم کورٹ میں ناک آؤٹ ہو جائے
03:51
Speaker A
ہم اس لیے کہہ رہے ہیں
03:53
Speaker A
نوجوانوں غور سے سن لو
03:57
Speaker A
جب تک ہم کرپشن کی کینسر پہ قابو نہیں پائیں گے
04:03
Speaker A
کوئی مستقبل نہیں ہے آپ کا
04:05
Speaker A
یہاں ہو کیا رہا ہے
04:07
Speaker A
آپ کے قصور کے لوگ پاکستان کے محنت کش بیرون ملک جاتے ہیں کام کرتے ہیں پیسہ کماتے ہیں
04:14
Speaker A
واپس پاکستان بھیجتے ہیں
04:17
Speaker A
ان کے پیسے پہ پاکستان چل رہا ہے
04:21
Speaker A
اور چھوٹا سا طبقہ اس ملک سے پیسہ چوری کر کے منی لانڈرنگ کر کے پیسہ باہر بھیجتا ہے
04:28
Speaker A
اس ان تھوڑے لوگوں کی وجہ سے پاکستان تباہ ہو رہا ہے
04:33
Speaker A
کیسے ہوتا ہے
04:35
Speaker A
جب یہاں سے پیسہ روپے کو ڈالر میں تبدیل کر کے
04:41
Speaker A
ہنڈی کے ذریعے باہر بھیجتے ہیں
04:45
Speaker A
تو پاکستان میں ڈالروں کی کمی ہوتی ہے
04:49
Speaker A
اس کے لیے ہمیں آئی ایم ایف سے قرضہ لینا پڑتا ہے ڈالر لینے پڑتے ہیں
04:55
Speaker A
اور دیگر اور بھی اداروں سے ہمیں پیسے لینے پڑتے ہیں
04:59
Speaker A
جب ہم قرضہ لیتے ہیں
05:02
Speaker A
تو قرضہ قرضوں کی قسطیں کون ادا کرتا ہے
05:07
Speaker A
قرضوں کی قسطیں کون ادا کرتا ہے
05:09
Speaker A
آپ ادا کرتے ہیں
05:10
Speaker A
کیسے ادا کرتے ہیں
05:13
Speaker A
مہنگائی کے ذریعے ٹیکس لگتے ہیں
05:17
Speaker A
ٹیلی فون پہ ٹیلی فون موبائل کارڈ پہ ٹیکس 40 روپیہ 100 روپیہ میں
05:23
Speaker A
ڈیزل پہ ٹیکس 50 فیصد ٹیکس
05:28
Speaker A
پیٹرول پہ ٹیکس 50 فیصد ٹیکس
05:32
Speaker A
جی ایس ٹی ہر چیز پہ 17 پرسنٹ ٹیکس یہ سارا ٹیکس آپ دیتے ہیں
05:37
Speaker A
قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پہ
05:40
Speaker A
قرضے کن کی وجہ سے
05:42
Speaker A
قرضے کون کھاتے ہیں
05:44
Speaker A
فائدہ کون اٹھاتا ہے
05:47
Speaker A
اس کی قیمت پاکستان کی عوام ادا کرتی ہے غربت سے
05:53
Speaker A
یہ جو غربت ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے
05:57
Speaker A
ہمارے جو کسان خاص طور پہ ہمارے کسانوں کی جو تباہی آ رہی ہے
06:04
Speaker A
اس کی بہت بڑی وجہ کرپشن ہے
06:08
Speaker A
ہندوستان کے کسانوں کو ہندوستان کی گورنمنٹ مدد کرتی ہے
06:12
Speaker A
سستی کھادیں دیتی ہے سستی بجلی دیتی ہے سستا پانی دیتی ہے
06:18
Speaker A
سستی کیڑے مارنے کی دوائیاں دیتی ہے
06:23
Speaker A
اس لیے ہندوستان کا کسان زیادہ پیداوار نکالتا ہے پاکستانی کسان سے
06:28
Speaker A
ہمارے پاس پیسہ ہی نہیں ملک چلانے کے لیے
06:32
Speaker A
کیونکہ یہاں سے پیسہ چوری ہو کے باہر جاتا ہے کرپشن کے ذریعے
06:39
Speaker A
تو میرے پاکستانیوں
06:42
Speaker A
میرے پاکستانیوں
06:44
Speaker A
یاد رکھیں کہ جو ملک جس نے سب سے زیادہ کرپشن کم کی وہ ہے چائنہ
06:51
Speaker A
چائنہ نے 30 سالوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے
06:57
Speaker A
70 کروڑ لوگوں کو
06:59
Speaker A
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہے
07:01
Speaker A
70 کروڑ لوگوں کو 35 سال میں غربت سے نکالا ہے
07:06
Speaker A
کیا کیا چائنہ نے
07:08
Speaker A
چائنہ نے اپنے کسانوں کی مدد کی
07:11
Speaker A
اپنے چھوٹے کسانوں کی مدد کی
07:15
Speaker A
چائنہ نے چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں لگائیں
07:19
Speaker A
لوگوں کے لیے روزگار پیدا کیا
07:22
Speaker A
چائنہ نے اپنے بچوں کو تعلیم دی
07:26
Speaker A
انہوں نے اپنے لوگوں کا بہتر صحت علاج بہتر کیا ہسپتال بنائے خوراک دی
07:32
Speaker A
تو جب ان کی غربت کم ہوئی
07:36
Speaker A
صرف یہ نہیں ہوا کہ غریب جب غریب کم ہوتے ہیں ان کے پاس پیسہ آتا ہے
07:41
Speaker A
وہ چیزیں خریدتے ہیں سرمایہ کاری ہوتی ہے
07:46
Speaker A
ملک میں روزگار پیدا ہوتا ہے ملک میں خوشحالی آتی ہے
07:50
Speaker A
70 کروڑ لوگوں کو 35 سال میں غربت سے نکالا
07:54
Speaker A
لیکن ایک دوسرا کام کیا چائنہ نے
07:57
Speaker A
چائنہ نے کرپشن کے اوپر قابو پایا
08:01
Speaker A
کیونکہ کرپشن ہو کرپشن میں کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا
08:07
Speaker A
تو جانتے ہیں چائنہ نے تین سال میں
08:11
Speaker A
کیا کیا
08:13
Speaker A
11 لاکھ 11 لاکھ سرکاری لوگوں کو کرپشن میں پکڑا 11 لاکھ
08:21
Speaker A
200 وزیروں کو تین سال میں پکڑا کرپشن میں
08:28
Speaker A
200 وزیروں کا احتساب کیا اور 11 لاکھ
08:34
Speaker A
11 لاکھ بڑے بڑے سرکاری نوکروں کا انہوں نے احتساب کیا سزائیں دیں
08:40
Speaker A
اس لیے وہ ملک آگے ہے
08:43
Speaker A
ہمارے ملک میں
08:48
Speaker A
چھوٹا چور جیل میں اور بڑا ڈاکو اسمبلیوں میں
08:52
Speaker A
انشاءاللہ
08:54
Speaker A
نیا پاکستان بنے گا
08:57
Speaker A
انشاءاللہ یہ جو ہو رہا ہے
09:00
Speaker A
جو بھی ہوگا سپریم کورٹ میں پاکستان کا فائدہ ہوگا
09:04
Speaker A
انشاءاللہ جو بھی ہوگا
09:06
Speaker A
یہ یاد رکھیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا
09:11
Speaker A
کہ بڑی قومیں برباد ہوئیں تباہ ہوئیں
09:17
Speaker A
جدھر ایک قانون کمزور کے لیے اور دوسرا قانون نواز شریف کے لیے
09:24
Speaker A
طاقتور کے لیے ایک قانون اور بیچارے غریب آدمی کے لیے دوسرا قانون
09:29
Speaker A
کوئی قوم نہیں ترقی کر سکتی
09:32
Speaker A
انشاءاللہ
09:35
Speaker A
یہ وقت آنے والا ہے
09:38
Speaker A
میں آپ کو یہ وعدہ کرتا ہوں کہ یہ وقت آنے والا ہے
09:42
Speaker A
تحریک انصاف کی حکومت آئے گی
09:46
Speaker A
نیب ایسی بنائیں گے
09:49
Speaker A
نیب ایسی بنائیں گے ایک ایماندار ایک دلیر آدمی کو نیب کے اوپر بٹھائیں گے
09:56
Speaker A
وہ نہیں جو اب ایک کرپٹ آدمی نیب پہ نواز شریف نے بٹھایا ہوا ہے
10:03
Speaker A
ایک آزاد اور طاقتور نیب جو عمران خان کا بھی احتساب کر سکے
10:09
Speaker A
جو اس کے وزیروں کا بھی احتساب کر سکے
10:12
Speaker A
وہ اس ملک کو ٹھیک کرے گی
10:16
Speaker A
یہ نیب نہیں جو پٹواریوں کو پکڑتی ہے
10:21
Speaker A
اور ابھی تک ایک بڑے ڈاکو کو نہیں پکڑا
10:26
Speaker A
اگر یہ نیب ٹھیک ہوتی مجھے آج سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہ پڑتی
10:31
Speaker A
اس نیب نے نواز شریف کو پکڑ لینا تھا
10:34
Speaker A
کیونکہ نیب کا قانون ہے کہ اگر آپ آپ کے پاس ایک اثاثہ مل جائے
10:41
Speaker A
جو آپ نے ڈکلیئر نہیں کیا جس کے پاس جس کے لیے خریدنے کے لیے آپ کے پاس پیسہ نہیں
10:48
Speaker A
تو آپ کی ذمہ داری ہے آپ بتائیں پیسہ کدھر سے آیا
10:52
Speaker A
یہ جو میفیئر کے فلیٹ ہیں یہ نواز شریف آپ کی ذمہ داری ہے
10:57
Speaker A
بتائیں منی ٹریل کدھر سے آئی
10:58
Speaker A
کدھر سے پیسہ آیا
11:00
Speaker A
کون سی آمدنی تھی
11:02
Speaker A
اور آپ کے بچوں کے بتائیں کیا پراپرٹی ہے
11:06
Speaker A
اپنی بیٹی کی پراپرٹی بتائیں
11:08
Speaker A
اپنے رشتہ داروں کی بتائیں
11:10
Speaker A
یہ نیب کا قانون ہے کہ جب ایک پتہ چل جائے کہ آپ کے پاس ایک پراپرٹی ایسی ہے
11:18
Speaker A
جو آپ خرید نہیں سکتے تھے سارا آپ کو بتانا پڑتا ہے
11:24
Speaker A
نواز شریف
11:28
Speaker A
نواز شریف
11:31
Speaker A
اگر آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں تو میری بات سنیں
11:38
Speaker A
میں میں کہتا ہوں کہ آپ پاکستان کے کرپشن کے بادشاہ ہو
11:43
Speaker A
میں یہ کہہ رہا ہوں
11:45
Speaker A
میں یہ اپنے کسی چھوٹے عہدے دار کو نہیں کہہ رہا میں کہہ رہا ہوں
11:50
Speaker A
نواز شریف آپ بھی میرے سے ڈائریکٹ بات کریں یہ گھٹیا سی موٹو گینگ سے مجھے بری بھلی گالیاں نہ پڑوائیں خود بات کریں
12:00
Speaker A
وہ آپ کی بیٹی بیٹھ جاتی ہے مریم
12:02
Speaker A
وہ ساری موٹو گینگ ہر شام کو ان سے پوچھتی ہے دانیال عزیز تم نے عمران خان کو آج گالیاں نکالی
12:09
Speaker A
وہ کہتے ہیں بی بی مریم میں نے تو اتنی گالیاں نکالی میرا بیٹا ہی مجھے کہتا ہے کہ باپ
12:15
Speaker A
مجھے سکول میں لوگ برا بھلا کہتے ہیں
12:20
Speaker A
تو مریم آ کے اسے کہتی ہے دانیال تم ایسے ہی عمران خان کو گالیاں نکالو
12:26
Speaker A
جیسے تم نواز شریف کو کہتے تھے کرپٹ جو تم مشرف کے ساتھ تھے
12:31
Speaker A
اس کے بعد
12:35
Speaker A
اس کے بعد ایک
12:39
Speaker A
ایک بڑا اچھا میں نے پڑھا
12:42
Speaker A
ایک ہوتا تھا جیمز بونڈ ہم پڑھتے تھے مائی نیم از بونڈ جیمز بونڈ
12:47
Speaker A
اب ایک نیا آیا ہے مائی نیم از بونڈ پرائس بونڈ
12:52
Speaker A
سعد رفیق
12:54
Speaker A
سعد رفیق 18 ٹرین کے ایکسیڈنٹ ہو چکے ہیں
12:59
Speaker A
لیکن تم جا کے خدمت کر رہے ہو بادشاہ سلامت کی کرپشن بچانے کے لیے
13:07
Speaker A
اور
13:10
Speaker A
یہ گوجرہ میں میں نے سنا چھ لوگ اور بیچارے ہلاک ہو گئے ہیں
13:14
Speaker A
کچھ شرم کرو
13:16
Speaker A
کچھ تمہاری ذمہ داری ہے
13:19
Speaker A
وزیر ہو
13:21
Speaker A
لیکن وہاں کھڑے ہو کے چیخیں مار رہا ہوتا ہے عمران خان یہ وہ ہے
13:27
Speaker A
کیونکہ مریم نے بعد میں کہنا ہوتا ہے کہ ہاں سعد رفیق آج تم نے اچھا شور مچایا عمران خان کے خلاف
13:33
Speaker A
اور خواجہ آصف
13:35
Speaker A
ایک اور ہے
13:37
Speaker A
سیالکوٹ کا
13:40
Speaker A
وہ بھی بڑی شور مچاتا ہے
13:43
Speaker A
او خواجہ آصف آپ نے تو خود کہا تھا کہ نواز شریف کے یہ فلیٹ ہیں 90 کی دہائی میں
13:50
Speaker A
جو بی بی سی کہہ رہا ہے
13:52
Speaker A
تب جھوٹ بول رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ہو
13:56
Speaker A
تو میرے پاکستانیوں
13:59
Speaker A
میں نواز شریف کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھو ان لوگوں کو
14:05
Speaker A
خود آؤ اسمبلی میں آؤ
14:09
Speaker A
میں بھی آؤں گا تم بھی اسمبلی میں آؤ وہاں ڈیبیٹ ہوتی ہے
14:14
Speaker A
میں کہوں گا
14:17
Speaker A
تمہارے اوپر بات کروں گا تم میرے اوپر کرنا
14:20
Speaker A
اور پھر اصل جمہوریت آپ کو پتہ چلے گی
14:24
Speaker A
یہ نہیں کہ میرے پیچھے یہ لوگوں کو چھوڑو
14:27
Speaker A
تو آخر میں
14:31
Speaker A
آخر میں
14:34
Speaker A
اچھا ہاں ڈیزل کی بات کر رہے ہیں
14:36
Speaker A
آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن نظر نہیں آ رہے ہیں
14:44
Speaker A
فضل الرحمن مجھے لگ رہا ہے کہ ان کو خدشہ ہو رہا ہے کہ نواز شریف کے برے دن آ رہے ہیں
14:51
Speaker A
اور
14:53
Speaker A
اسفندیار کی بھی آواز نہیں آ رہی
14:56
Speaker A
اچکزئی کی بھی آواز نہیں آ رہی
14:58
Speaker A
لگ رہا ہے کہ چوہے کشتی سے چھلانگ مار رہے ہیں نیچے
15:04
Speaker A
ان کو ڈر ہے کہ کشتی ڈوب رہی ہے
15:08
Speaker A
انشاءاللہ پاکستان کے اچھے وقت آ رہے ہیں
15:11
Speaker A
ہم نے یہ وہ پاکستان بنانا ہے جو علامہ اقبال کا نظریہ تھا
15:15
Speaker A
اور قائد اعظم کی خواب تھی
15:18
Speaker A
ہمیں وہ لیڈر چاہیے قائد اعظم کی طرح
15:22
Speaker A
جو انگریزی میں تقریر کرتا تھا اور لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی لیکن لوگ کہتے تھے جو بھی کہہ رہا ہے سچ بول رہا ہے
15:30
Speaker A
ہمیں وہ قائد ہمیں وہ لیڈر چاہیے
15:32
Speaker A
ہمیں وہ لیڈر نہیں چاہیے
15:36
Speaker A
جو جو بھی میں دیکھ رہا تھا بل گیٹس کے ساتھ پرچیوں سے بات کر رہا ہے
15:41
Speaker A
اس سے پہلے اوباما کے سامنے پرچیاں پڑھ رہا ہے
15:44
Speaker A
ہمیں وہ لیڈر چاہیے
15:47
Speaker A
جو اس ملک پہ ایماندار ہو
15:50
Speaker A
جو ہمارا آئین کہتا ہے صادق اور امین
15:53
Speaker A
مغرب میں لیڈرز ایماندار ہوتے ہیں اگر ایماندار جھوٹ بولتے ہوئے بھی پکڑا جائے فارغ
16:00
Speaker A
کرپشن
16:02
Speaker A
کرپشن تو ایسی چیز ہے کہ جس وقت آتی ہے ایک کرپشن کا دھبہ لگتا ہے لیڈر
16:08
Speaker A
جو بھی ہوتا ہے وزیر ہوتا ہے ممبر پارلیمنٹ ہوتا ہے
16:13
Speaker A
پرائم منسٹر ہوتا ہے فوری طور پہ ریزائن کرنا پڑتا ہے
16:16
Speaker A
کیوں ضروری ہے ایمانداری ایک پرائم منسٹر کی
16:21
Speaker A
کہ وہ قوم کے ٹیکس کی رکھوالی کرتا ہے
16:26
Speaker A
وہ قوم کے ٹیکس کی رکھوالی کرتا ہے
16:30
Speaker A
مجھے یہ بتائیں
16:33
Speaker A
کیا آپ اپنا ٹیکس نواز شریف کے پاس پیسہ اپنا پیسہ نواز شریف کے پاس رکھوائیں گے
16:38
Speaker A
ہاتھ کھڑا کر کے بتائیں اگر نہیں بتائیں
16:43
Speaker A
یعنی جب آپ جب آپ کا لیڈر ایسا ہو کہ آپ اپنا ٹیکس اس کو دیتے ہیں
16:48
Speaker A
ڈرتے ہیں کہ وہ چوری ہو جائے گا کون ٹیکس دے گا
16:52
Speaker A
یہ پاکستانی دنیا میں پانچ ان ملکوں سے سب سے زیادہ خراج دیتے ہیں
16:57
Speaker A
اور یہ سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں اس لیے
17:01
Speaker A
کہ ان کا ٹیکس چوری ہوتا ہے کرپشن ہوتی ہے
17:04
Speaker A
تو انشاءاللہ وہ جو پاکستان جو ہم نے بنانا تھا اور نہیں بنا
17:10
Speaker A
جو انشاءاللہ نیا پاکستان ہوگا
17:13
Speaker A
جو پاکستان عدل اور انصاف پہ ہوگا
17:16
Speaker A
انصاف کا مطلب کہ سب کو حق ملے گا
17:19
Speaker A
عدل کا مطلب کہ جو جن کو اللہ نے زیادہ دیا ہے وہ اپنے حصے سے ان کو دیں گے
17:25
Speaker A
جن کو اللہ نے کم دیا ہے یا نہیں دیا
17:29
Speaker A
ہم نے وہ فلاحی ریاست بنانی ہے
17:33
Speaker A
وہ قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے
17:36
Speaker A
وہ انصاف کا نظام لے کے آنا ہے
17:40
Speaker A
جس کے لیے پاکستان بنا تھا
17:42
Speaker A
اور انشاءاللہ
Topics:عمران خانکرپشننواز شریفسپریم کورٹپاکستاننیبقصور جلسہمعیشتچینجمہوریت

Frequently Asked Questions

عمران خان نے اس خطاب میں کرپشن کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ کرپشن پاکستان کی سب سے بڑی بیماری ہے جو ملک کی ترقی کو روکتی ہے اور اس کے خاتمے کے بغیر ملک کا مستقبل تاریک ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں عمران خان کا کیا موقف ہے؟

عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہوگا اور یہ ملک کی بہتری اور تبدیلی کا باعث بنے گا۔

نیب کی اصلاحات کے حوالے سے عمران خان نے کیا وعدہ کیا؟

عمران خان نے وعدہ کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے پر نیب کو ایک ایماندار اور طاقتور ادارہ بنایا جائے گا جو کرپشن کے خلاف موثر احتساب کرے گا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →