عمران خان کا قصور جلسے میں کرپشن، سپریم کورٹ اور پاکستان کی بہتری پر خطاب۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- کرپشن پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
- سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی بہتری کے لیے اہم ہے۔
- نیب کو آزاد اور طاقتور بنانا ضروری ہے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔
- چین کی ترقی کی مثال سے سیکھنا چاہیے۔
- جمہوریت میں سب کے لیے ایک قانون ہونا چاہیے، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ نہیں۔
What the video covers
- عمران خان نے نواز شریف کی کرپشن اور سپریم کورٹ میں ان کے خلاف کارروائی پر بات کی۔
- انہوں نے پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے غربت اور معیشت کی خرابی کی نشاندہی کی۔
- سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کی بہتری کے لیے اہم قرار دیا۔
- کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور نیب کی اصلاحات کا وعدہ کیا۔
- چین کی ترقی اور کرپشن پر قابو پانے کی مثال دی۔
- پاکستان کے کسانوں کی مشکلات اور ہندوستان کے کسانوں کو دی جانے والی سہولیات کا موازنہ کیا۔
- نواز شریف اور ان کے خاندان پر مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے۔
- سیاسی مخالفین کے خلاف بات چیت اور جمہوریت کی اصل روح پر زور دیا۔
- موجودہ نیب کی ناکامی اور اس کے کرپٹ عناصر کی حمایت پر تنقید کی۔
- مختلف سیاسی شخصیات اور ان کے کردار پر تبصرہ کیا۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
ساری مغربی جمہوریت میں
Speaker A
پرائم منسٹر استعفیٰ دیتا ہے
Speaker A
اور ہمارا پرائم منسٹر کہتا ہے مجھے استثنا ہے
Speaker A
میں کوئی خاص آدمی نہیں آیا ہوں کہ عام آدمی جھوٹ بولے تو وہ جیل میں اور وہ بھی کرپشن پہ
Speaker A
اور میں جھوٹ بولوں تو مجھے استثنا ہے
Speaker A
میرے پاکستانیوں
Speaker A
یہ جو ہو رہا ہے سپریم کورٹ میں
Speaker A
یہ انشاءاللہ جو بھی فیصلہ ہوگا سپریم کورٹ کا پاکستان بدل رہا ہے
Speaker A
ہمارا ملک تبدیل ہو رہا ہے پہلی دفعہ پرائم منسٹر کی سپریم کورٹ میں تلاشی لی جا رہی ہے
Speaker A
کبھی پہلے نہیں ہوا
Speaker A
اور مجھے خوشی یہ ہے
Speaker A
میں اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ یہ میری قوم نے
Speaker A
میرے ساتھ سڑکوں پہ نکلے جدوجہد کی ٹیئر گیسیں کھائی
Speaker A
لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا
Speaker A
اس کے باوجود ہمارے ملک کے نوجوان ہماری خواتین
Speaker A
اس خوف سے کہ ڈنڈے پڑیں گے
Speaker A
اس خوف سے بالکل گھبرائے نہیں
Speaker A
نکلے باہر
Speaker A
اور آخر میں نواز شریف کو پاکستان کے سپریم کورٹ میں ہم لے کے آئے
Speaker A
اور انشاءاللہ
Speaker A
جو میں دیکھ رہا ہوں
Speaker A
جو میں دیکھ رہا ہوں آج قصور کے لوگو
Speaker A
نواز شریف اس میں بچنے نہیں لگا
Speaker A
یہ بچنے نہیں لگا
Speaker A
اگر قطری کا اگر قطری کا خط جھوٹ نکلا نواز شریف کی چھٹی
Speaker A
اگر دوسرا اگر آئی سی جو پیناما کا انکشاف ہوا
Speaker A
کہ مریم شریف اصل مالکہ ہے لندن کے فلیٹس کی نواز شریف کی چھٹی
Speaker A
اور اگر
Speaker A
جو بی بی سی نے کہا اور جو ہم بھی کہتے ہیں
Speaker A
کہ 93 میں فلیٹ لیے تھے لندن کے
Speaker A
انہوں نے کہا کوئی مالک بدلے نہیں تب سے
Speaker A
یعنی کہ کوئی قطری کے پاس نہیں تھا
Speaker A
تو پھر بھی نواز شریف کی چھٹی
Speaker A
اور جہاں تک ہم جانتے ہیں چار ان کے وزیروں نے کہا
Speaker A
کہ 93 میں یہ میفیئر کے فلیٹ لیے گئے
Speaker A
چار وزیروں نے کہا
Speaker A
چار وزیروں نے نہیں کہا صرف
Speaker A
ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں 98 میں یہ کہا
Speaker A
پھر بی بی سی نے 98 کے اندر ڈاکومنٹری بنائی اس میں کہا کہ ان کے فلیٹ تھے
Speaker A
90 کی دہائی میں
Speaker A
اور الحفیق بینک کی ججمنٹ ہے کہ یہی چار فلیٹ
Speaker A
یہی چار فلیٹ انہوں نے گروی لکھوائے تھے
Speaker A
اس لیے
Speaker A
مجھے جو آگے نظر آ رہا ہے
Speaker A
میں تو اس ہفتے کی انتظار کر رہا ہوں
Speaker A
یہ جو آنے والا ہفتہ ہے
Speaker A
اس میں بڑے بڑے اور انکشاف ہوں گے
Speaker A
ہم انتظار کر رہے ہیں
Speaker A
اور میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں
Speaker A
یہ اس لیے نہیں
Speaker A
اس لیے نہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارا سیاسی مخالف ہار جائے سپریم کورٹ میں ناک آؤٹ ہو جائے
Speaker A
ہم اس لیے کہہ رہے ہیں
Speaker A
نوجوانوں غور سے سن لو
Speaker A
جب تک ہم کرپشن کی کینسر پہ قابو نہیں پائیں گے
Speaker A
کوئی مستقبل نہیں ہے آپ کا
Speaker A
یہاں ہو کیا رہا ہے
Speaker A
آپ کے قصور کے لوگ پاکستان کے محنت کش بیرون ملک جاتے ہیں کام کرتے ہیں پیسہ کماتے ہیں
Speaker A
واپس پاکستان بھیجتے ہیں
Speaker A
ان کے پیسے پہ پاکستان چل رہا ہے
Speaker A
اور چھوٹا سا طبقہ اس ملک سے پیسہ چوری کر کے منی لانڈرنگ کر کے پیسہ باہر بھیجتا ہے
Speaker A
اس ان تھوڑے لوگوں کی وجہ سے پاکستان تباہ ہو رہا ہے
Speaker A
کیسے ہوتا ہے
Speaker A
جب یہاں سے پیسہ روپے کو ڈالر میں تبدیل کر کے
Speaker A
ہنڈی کے ذریعے باہر بھیجتے ہیں
Speaker A
تو پاکستان میں ڈالروں کی کمی ہوتی ہے
Speaker A
اس کے لیے ہمیں آئی ایم ایف سے قرضہ لینا پڑتا ہے ڈالر لینے پڑتے ہیں
Speaker A
اور دیگر اور بھی اداروں سے ہمیں پیسے لینے پڑتے ہیں
Speaker A
جب ہم قرضہ لیتے ہیں
Speaker A
تو قرضہ قرضوں کی قسطیں کون ادا کرتا ہے
Speaker A
قرضوں کی قسطیں کون ادا کرتا ہے
Speaker A
آپ ادا کرتے ہیں
Speaker A
کیسے ادا کرتے ہیں
Speaker A
مہنگائی کے ذریعے ٹیکس لگتے ہیں
Speaker A
ٹیلی فون پہ ٹیلی فون موبائل کارڈ پہ ٹیکس 40 روپیہ 100 روپیہ میں
Speaker A
ڈیزل پہ ٹیکس 50 فیصد ٹیکس
Speaker A
پیٹرول پہ ٹیکس 50 فیصد ٹیکس
Speaker A
جی ایس ٹی ہر چیز پہ 17 پرسنٹ ٹیکس یہ سارا ٹیکس آپ دیتے ہیں
Speaker A
قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پہ
Speaker A
قرضے کن کی وجہ سے
Speaker A
قرضے کون کھاتے ہیں
Speaker A
فائدہ کون اٹھاتا ہے
Speaker A
اس کی قیمت پاکستان کی عوام ادا کرتی ہے غربت سے
Speaker A
یہ جو غربت ہمارے ملک میں پھیل رہی ہے
Speaker A
ہمارے جو کسان خاص طور پہ ہمارے کسانوں کی جو تباہی آ رہی ہے
Speaker A
اس کی بہت بڑی وجہ کرپشن ہے
Speaker A
ہندوستان کے کسانوں کو ہندوستان کی گورنمنٹ مدد کرتی ہے
Speaker A
سستی کھادیں دیتی ہے سستی بجلی دیتی ہے سستا پانی دیتی ہے
Speaker A
سستی کیڑے مارنے کی دوائیاں دیتی ہے
Speaker A
اس لیے ہندوستان کا کسان زیادہ پیداوار نکالتا ہے پاکستانی کسان سے
Speaker A
ہمارے پاس پیسہ ہی نہیں ملک چلانے کے لیے
Speaker A
کیونکہ یہاں سے پیسہ چوری ہو کے باہر جاتا ہے کرپشن کے ذریعے
Speaker A
تو میرے پاکستانیوں
Speaker A
میرے پاکستانیوں
Speaker A
یاد رکھیں کہ جو ملک جس نے سب سے زیادہ کرپشن کم کی وہ ہے چائنہ
Speaker A
چائنہ نے 30 سالوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے
Speaker A
70 کروڑ لوگوں کو
Speaker A
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہے
Speaker A
70 کروڑ لوگوں کو 35 سال میں غربت سے نکالا ہے
Speaker A
کیا کیا چائنہ نے
Speaker A
چائنہ نے اپنے کسانوں کی مدد کی
Speaker A
اپنے چھوٹے کسانوں کی مدد کی
Speaker A
چائنہ نے چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں لگائیں
Speaker A
لوگوں کے لیے روزگار پیدا کیا
Speaker A
چائنہ نے اپنے بچوں کو تعلیم دی
Speaker A
انہوں نے اپنے لوگوں کا بہتر صحت علاج بہتر کیا ہسپتال بنائے خوراک دی
Speaker A
تو جب ان کی غربت کم ہوئی
Speaker A
صرف یہ نہیں ہوا کہ غریب جب غریب کم ہوتے ہیں ان کے پاس پیسہ آتا ہے
Speaker A
وہ چیزیں خریدتے ہیں سرمایہ کاری ہوتی ہے
Speaker A
ملک میں روزگار پیدا ہوتا ہے ملک میں خوشحالی آتی ہے
Speaker A
70 کروڑ لوگوں کو 35 سال میں غربت سے نکالا
Speaker A
لیکن ایک دوسرا کام کیا چائنہ نے
Speaker A
چائنہ نے کرپشن کے اوپر قابو پایا
Speaker A
کیونکہ کرپشن ہو کرپشن میں کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا
Speaker A
تو جانتے ہیں چائنہ نے تین سال میں
Speaker A
کیا کیا
Speaker A
11 لاکھ 11 لاکھ سرکاری لوگوں کو کرپشن میں پکڑا 11 لاکھ
Speaker A
200 وزیروں کو تین سال میں پکڑا کرپشن میں
Speaker A
200 وزیروں کا احتساب کیا اور 11 لاکھ
Speaker A
11 لاکھ بڑے بڑے سرکاری نوکروں کا انہوں نے احتساب کیا سزائیں دیں
Speaker A
اس لیے وہ ملک آگے ہے
Speaker A
ہمارے ملک میں
Speaker A
چھوٹا چور جیل میں اور بڑا ڈاکو اسمبلیوں میں
Speaker A
انشاءاللہ
Speaker A
نیا پاکستان بنے گا
Speaker A
انشاءاللہ یہ جو ہو رہا ہے
Speaker A
جو بھی ہوگا سپریم کورٹ میں پاکستان کا فائدہ ہوگا
Speaker A
انشاءاللہ جو بھی ہوگا
Speaker A
یہ یاد رکھیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا
Speaker A
کہ بڑی قومیں برباد ہوئیں تباہ ہوئیں
Speaker A
جدھر ایک قانون کمزور کے لیے اور دوسرا قانون نواز شریف کے لیے
Speaker A
طاقتور کے لیے ایک قانون اور بیچارے غریب آدمی کے لیے دوسرا قانون
Speaker A
کوئی قوم نہیں ترقی کر سکتی
Speaker A
انشاءاللہ
Speaker A
یہ وقت آنے والا ہے
Speaker A
میں آپ کو یہ وعدہ کرتا ہوں کہ یہ وقت آنے والا ہے
Speaker A
تحریک انصاف کی حکومت آئے گی
Speaker A
نیب ایسی بنائیں گے
Speaker A
نیب ایسی بنائیں گے ایک ایماندار ایک دلیر آدمی کو نیب کے اوپر بٹھائیں گے
Speaker A
وہ نہیں جو اب ایک کرپٹ آدمی نیب پہ نواز شریف نے بٹھایا ہوا ہے
Speaker A
ایک آزاد اور طاقتور نیب جو عمران خان کا بھی احتساب کر سکے
Speaker A
جو اس کے وزیروں کا بھی احتساب کر سکے
Speaker A
وہ اس ملک کو ٹھیک کرے گی
Speaker A
یہ نیب نہیں جو پٹواریوں کو پکڑتی ہے
Speaker A
اور ابھی تک ایک بڑے ڈاکو کو نہیں پکڑا
Speaker A
اگر یہ نیب ٹھیک ہوتی مجھے آج سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہ پڑتی
Speaker A
اس نیب نے نواز شریف کو پکڑ لینا تھا
Speaker A
کیونکہ نیب کا قانون ہے کہ اگر آپ آپ کے پاس ایک اثاثہ مل جائے
Speaker A
جو آپ نے ڈکلیئر نہیں کیا جس کے پاس جس کے لیے خریدنے کے لیے آپ کے پاس پیسہ نہیں
Speaker A
تو آپ کی ذمہ داری ہے آپ بتائیں پیسہ کدھر سے آیا
Speaker A
یہ جو میفیئر کے فلیٹ ہیں یہ نواز شریف آپ کی ذمہ داری ہے
Speaker A
بتائیں منی ٹریل کدھر سے آئی
Speaker A
کدھر سے پیسہ آیا
Speaker A
کون سی آمدنی تھی
Speaker A
اور آپ کے بچوں کے بتائیں کیا پراپرٹی ہے
Speaker A
اپنی بیٹی کی پراپرٹی بتائیں
Speaker A
اپنے رشتہ داروں کی بتائیں
Speaker A
یہ نیب کا قانون ہے کہ جب ایک پتہ چل جائے کہ آپ کے پاس ایک پراپرٹی ایسی ہے
Speaker A
جو آپ خرید نہیں سکتے تھے سارا آپ کو بتانا پڑتا ہے
Speaker A
نواز شریف
Speaker A
نواز شریف
Speaker A
اگر آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں تو میری بات سنیں
Speaker A
میں میں کہتا ہوں کہ آپ پاکستان کے کرپشن کے بادشاہ ہو
Speaker A
میں یہ کہہ رہا ہوں
Speaker A
میں یہ اپنے کسی چھوٹے عہدے دار کو نہیں کہہ رہا میں کہہ رہا ہوں
Speaker A
نواز شریف آپ بھی میرے سے ڈائریکٹ بات کریں یہ گھٹیا سی موٹو گینگ سے مجھے بری بھلی گالیاں نہ پڑوائیں خود بات کریں
Speaker A
وہ آپ کی بیٹی بیٹھ جاتی ہے مریم
Speaker A
وہ ساری موٹو گینگ ہر شام کو ان سے پوچھتی ہے دانیال عزیز تم نے عمران خان کو آج گالیاں نکالی
Speaker A
وہ کہتے ہیں بی بی مریم میں نے تو اتنی گالیاں نکالی میرا بیٹا ہی مجھے کہتا ہے کہ باپ
Speaker A
مجھے سکول میں لوگ برا بھلا کہتے ہیں
Speaker A
تو مریم آ کے اسے کہتی ہے دانیال تم ایسے ہی عمران خان کو گالیاں نکالو
Speaker A
جیسے تم نواز شریف کو کہتے تھے کرپٹ جو تم مشرف کے ساتھ تھے
Speaker A
اس کے بعد
Speaker A
اس کے بعد ایک
Speaker A
ایک بڑا اچھا میں نے پڑھا
Speaker A
ایک ہوتا تھا جیمز بونڈ ہم پڑھتے تھے مائی نیم از بونڈ جیمز بونڈ
Speaker A
اب ایک نیا آیا ہے مائی نیم از بونڈ پرائس بونڈ
Speaker A
سعد رفیق
Speaker A
سعد رفیق 18 ٹرین کے ایکسیڈنٹ ہو چکے ہیں
Speaker A
لیکن تم جا کے خدمت کر رہے ہو بادشاہ سلامت کی کرپشن بچانے کے لیے
Speaker A
اور
Speaker A
یہ گوجرہ میں میں نے سنا چھ لوگ اور بیچارے ہلاک ہو گئے ہیں
Speaker A
کچھ شرم کرو
Speaker A
کچھ تمہاری ذمہ داری ہے
Speaker A
وزیر ہو
Speaker A
لیکن وہاں کھڑے ہو کے چیخیں مار رہا ہوتا ہے عمران خان یہ وہ ہے
Speaker A
کیونکہ مریم نے بعد میں کہنا ہوتا ہے کہ ہاں سعد رفیق آج تم نے اچھا شور مچایا عمران خان کے خلاف
Speaker A
اور خواجہ آصف
Speaker A
ایک اور ہے
Speaker A
سیالکوٹ کا
Speaker A
وہ بھی بڑی شور مچاتا ہے
Speaker A
او خواجہ آصف آپ نے تو خود کہا تھا کہ نواز شریف کے یہ فلیٹ ہیں 90 کی دہائی میں
Speaker A
جو بی بی سی کہہ رہا ہے
Speaker A
تب جھوٹ بول رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ہو
Speaker A
تو میرے پاکستانیوں
Speaker A
میں نواز شریف کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھو ان لوگوں کو
Speaker A
خود آؤ اسمبلی میں آؤ
Speaker A
میں بھی آؤں گا تم بھی اسمبلی میں آؤ وہاں ڈیبیٹ ہوتی ہے
Speaker A
میں کہوں گا
Speaker A
تمہارے اوپر بات کروں گا تم میرے اوپر کرنا
Speaker A
اور پھر اصل جمہوریت آپ کو پتہ چلے گی
Speaker A
یہ نہیں کہ میرے پیچھے یہ لوگوں کو چھوڑو
Speaker A
تو آخر میں
Speaker A
آخر میں
Speaker A
اچھا ہاں ڈیزل کی بات کر رہے ہیں
Speaker A
آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن نظر نہیں آ رہے ہیں
Speaker A
فضل الرحمن مجھے لگ رہا ہے کہ ان کو خدشہ ہو رہا ہے کہ نواز شریف کے برے دن آ رہے ہیں
Speaker A
اور
Speaker A
اسفندیار کی بھی آواز نہیں آ رہی
Speaker A
اچکزئی کی بھی آواز نہیں آ رہی
Speaker A
لگ رہا ہے کہ چوہے کشتی سے چھلانگ مار رہے ہیں نیچے
Speaker A
ان کو ڈر ہے کہ کشتی ڈوب رہی ہے
Speaker A
انشاءاللہ پاکستان کے اچھے وقت آ رہے ہیں
Speaker A
ہم نے یہ وہ پاکستان بنانا ہے جو علامہ اقبال کا نظریہ تھا
Speaker A
اور قائد اعظم کی خواب تھی
Speaker A
ہمیں وہ لیڈر چاہیے قائد اعظم کی طرح
Speaker A
جو انگریزی میں تقریر کرتا تھا اور لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی لیکن لوگ کہتے تھے جو بھی کہہ رہا ہے سچ بول رہا ہے
Speaker A
ہمیں وہ قائد ہمیں وہ لیڈر چاہیے
Speaker A
ہمیں وہ لیڈر نہیں چاہیے
Speaker A
جو جو بھی میں دیکھ رہا تھا بل گیٹس کے ساتھ پرچیوں سے بات کر رہا ہے
Speaker A
اس سے پہلے اوباما کے سامنے پرچیاں پڑھ رہا ہے
Speaker A
ہمیں وہ لیڈر چاہیے
Speaker A
جو اس ملک پہ ایماندار ہو
Speaker A
جو ہمارا آئین کہتا ہے صادق اور امین
Speaker A
مغرب میں لیڈرز ایماندار ہوتے ہیں اگر ایماندار جھوٹ بولتے ہوئے بھی پکڑا جائے فارغ
Speaker A
کرپشن
Speaker A
کرپشن تو ایسی چیز ہے کہ جس وقت آتی ہے ایک کرپشن کا دھبہ لگتا ہے لیڈر
Speaker A
جو بھی ہوتا ہے وزیر ہوتا ہے ممبر پارلیمنٹ ہوتا ہے
Speaker A
پرائم منسٹر ہوتا ہے فوری طور پہ ریزائن کرنا پڑتا ہے
Speaker A
کیوں ضروری ہے ایمانداری ایک پرائم منسٹر کی
Speaker A
کہ وہ قوم کے ٹیکس کی رکھوالی کرتا ہے
Speaker A
وہ قوم کے ٹیکس کی رکھوالی کرتا ہے
Speaker A
مجھے یہ بتائیں
Speaker A
کیا آپ اپنا ٹیکس نواز شریف کے پاس پیسہ اپنا پیسہ نواز شریف کے پاس رکھوائیں گے
Speaker A
ہاتھ کھڑا کر کے بتائیں اگر نہیں بتائیں
Speaker A
یعنی جب آپ جب آپ کا لیڈر ایسا ہو کہ آپ اپنا ٹیکس اس کو دیتے ہیں
Speaker A
ڈرتے ہیں کہ وہ چوری ہو جائے گا کون ٹیکس دے گا
Speaker A
یہ پاکستانی دنیا میں پانچ ان ملکوں سے سب سے زیادہ خراج دیتے ہیں
Speaker A
اور یہ سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں اس لیے
Speaker A
کہ ان کا ٹیکس چوری ہوتا ہے کرپشن ہوتی ہے
Speaker A
تو انشاءاللہ وہ جو پاکستان جو ہم نے بنانا تھا اور نہیں بنا
Speaker A
جو انشاءاللہ نیا پاکستان ہوگا
Speaker A
جو پاکستان عدل اور انصاف پہ ہوگا
Speaker A
انصاف کا مطلب کہ سب کو حق ملے گا
Speaker A
عدل کا مطلب کہ جو جن کو اللہ نے زیادہ دیا ہے وہ اپنے حصے سے ان کو دیں گے
Speaker A
جن کو اللہ نے کم دیا ہے یا نہیں دیا
Speaker A
ہم نے وہ فلاحی ریاست بنانی ہے
Speaker A
وہ قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے
Speaker A
وہ انصاف کا نظام لے کے آنا ہے
Speaker A
جس کے لیے پاکستان بنا تھا
Speaker A
اور انشاءاللہ
Topics:عمران خانکرپشننواز شریفسپریم کورٹپاکستاننیبقصور جلسہمعیشتچینجمہوریت











