عمران خان کی کراچی جلسے میں تقریر، نئے پاکستان کے خواب اور کراچی کی اہمیت پر زور۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- کراچی نئے پاکستان کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
- امن کے بغیر سرمایہ کاری اور ترقی ممکن نہیں۔
- مسلح گروپوں کی سیاست کراچی کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
- قوم کو اپنی حالت بدلنے کے لیے خود کوشش کرنی ہوگی۔
- تحریک انصاف تبدیلی کے لیے پرعزم ہے اور عمران اسماعیل کی کامیابی اہم ہے۔
What the video covers
- عمران خان نے کراچی کے شہریوں اور NA-246 کے پاکستانیوں سے خطاب کیا۔
- نئے پاکستان کے خواب کو پورا کرنے میں کراچی کی اہمیت پر زور دیا۔
- کراچی کی تاریخی ترقی اور مہاجر کمیونٹی کی جدوجہد کو سراہا۔
- کراچی میں امن کی ضرورت اور مسلح گروپوں کی سیاست کی مذمت کی۔
- الطاف حسین کی تقریر اور ان کی قیادت پر تنقید کی۔
- کراچی کے سرمایہ کاروں کے دبئی اور دیگر ممالک جانے کی وجوہات بیان کیں۔
- پاکستان میں دہشت گردی اور فوجی شہداء کا ذکر کیا۔
- یمن کی جنگ میں پاکستان کے ملوث ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
- تحریک انصاف کی جدوجہد اور عمران اسماعیل کی انتخابی کامیابی کی اہمیت بتائی۔
- قوم کو اپنی تقدیر بدلنے اور خود جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
ایاک نعبد وایاک نستعین
Speaker B
عمران خان عمران خان عمران خان
Speaker A
کراچی کے شہریوں این اے 246 کے پاکستانیوں
Speaker A
ایک حلقے کے لیے نیشنل اسمبلی کی سیٹ کے لیے
Speaker A
مجھے تو ضرورت نہیں تھی یہاں کراچی آنے کی
Speaker A
ایک سیٹ اور مل جائے گی کیا فرق پڑے گا
Speaker A
میں آج کیوں کراچی آیا ہوں
Speaker A
عمران اسماعیل کے لیے آج جلسہ کرنا ہے کیوں کراچی آیا ہوں
Speaker A
میں آج کراچی اس لیے آیا ہوں پاکستانیوں
Speaker A
کہ جو میرا خواب ہے نئے پاکستان کا وہ نئے کراچی کے بغیر نہیں پورا ہو سکتا
Speaker A
اگر اگر پرائم منسٹر کی کرسی کے لیے
Speaker A
صرف میری جدوجہد تھی تو نواز شریف کی طرح مجھے کراچی آنے کی کوئی ضرورت نہیں
Speaker A
وزیراعظم بنا ہے
Speaker A
کتنی دفعہ کراچی آیا ہے
Speaker A
کتنی دفعہ کراچی آیا ہے
Speaker A
کیونکہ وہ سمجھتا ہے
Speaker A
کہ اگر آپ پنجاب کو جیت لیں
Speaker A
پختونخواہ میں سیٹیں لے لیں
Speaker A
آپ وزیراعظم بن جائیں گے
Speaker A
اور
Speaker A
انشاءاللہ اسی سال جوڈیشل کمیشن کے انشاءاللہ
Speaker A
فیصلے کے بعد
Speaker A
جب الیکشن ہوگا
Speaker A
تو انشاءاللہ تحریک انصاف پنجاب بھی جیتے گی
Speaker A
اور پختونخواہ بھی جیتے گی
Speaker A
لیکن
Speaker A
میں پھر بھی کراچی آیا ہوں
Speaker A
اس لیے
Speaker A
اور میں چاہتا ہوں بڑے مطمئن سے میری بات سنیں
Speaker A
کہ کراچی کی کتنی اہمیت ہے نئے پاکستان کو بنانے میں
Speaker A
کراچی میں
Speaker A
پرائم منسٹر کی کرسی کے لیے نہیں آیا
Speaker A
کراچی تو جب میں آتا ہوں
Speaker A
تو لوگ کہتے ہیں کہ آیت الکرسی پڑھ کے آؤ
Speaker A
خوف ہے
Speaker A
لیکن کراچی کے لوگوں میری بات سنو
Speaker A
آپ پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے لوگ ہو
Speaker A
سب سے پڑھے لکھے لوگ ہو آپ یہاں
Speaker A
اور کراچی
Speaker A
کراچی تو وہ شہر ہے جدھر قائد اعظم پیدا ہوئے تھے
Speaker A
اور
Speaker A
یہ جو مہاجروں کے نام پہ سیاست ہوتی ہے
Speaker A
کراچی کے لوگوں یہ غور سے سنو بات
Speaker A
دیکھیں
Speaker A
میری جو والدہ کی طرف سے خاندان تھا وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے 1947 میں پاکستان آیا
Speaker A
میرے جو والد صاحب کا خاندان تھا وہ پہلے سے ہی میاں والی میں اور پاکستان میں بسا ہوا تھا
Speaker A
والدہ کی طرف سے مہاجر
Speaker A
ماں باپ کی طرف سے پٹھان
Speaker A
والد
Speaker A
والد کی طرف سے سنیں سنیں سنیں
Speaker A
والد کی طرف سے سرائیکی
Speaker A
ہوں میں لاہوری
Speaker A
پنجاب میں میں پیدا ہوا
Speaker A
خاندان میرے پنجاب میں ہے
Speaker A
تو میں کیا ہوں
Speaker A
پاکستانی ہوں
Speaker A
پاکستانی ہوں
Speaker A
تو یہ جو مہاجر کی بات ہے
Speaker A
کراچی کے لوگوں بڑے غور سے سنو
Speaker A
میرے جو والدہ کے خاندان تھے
Speaker A
جو والدہ کے خاندان جو ہجرت کر کے آئے تھے
Speaker A
ان کو زیادہ جدوجہد کرنی پڑی
Speaker A
اپنے گھر چھوڑ کے آئے
Speaker A
اپنے بزرگوں کی قبریں چھوڑ کے آئے
Speaker A
زمینیں چھوڑ کے آئے
Speaker A
کاروبار چھوڑ کے آئے
Speaker A
لیکن جب وہ پاکستان میں آئے کیونکہ انہوں نے محنت زیادہ کی اور جدوجہد زیادہ کی
Speaker A
وہ میرے والد کے خاندان سے آگے بڑھ گئے
Speaker A
آگے نکل گئے
Speaker A
کیونکہ اللہ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ جتنی انسان جدوجہد کرتا ہے
Speaker A
اللہ اس کو طاقتور بنا دیتا ہے
Speaker A
جتنی وہ محنت کرتا ہے
Speaker A
جتنی وہ جس طرح علامہ اقبال نے کہا تھا کہ تندے باد مخالف کے نہ گھبرائے عقاب
Speaker A
یہ تو چڑھتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
Speaker A
مشکلیں آپ کو
Speaker A
کراچی کے لوگ جو ہجرت کر کے آئے تھے
Speaker A
جو مہاجر تھے
Speaker A
آپ یقین کریں کہ وہ سب سے تیزی سے پاکستان میں اوپر گئے
Speaker A
تیزی سے آگے بڑھے
Speaker A
سارے بیوروکریٹس اچھے مہاجر تھے
Speaker A
فوج میں مہاجر تھے
Speaker A
انٹلیکچول مہاجر تھے
Speaker A
خطیب مہاجر تھے
Speaker A
کرکٹ میں حنیف محمد تھا پھر میرے ساتھ جاوید میانداد تھا
Speaker A
ہاکی میں صلاح الدین تھے
Speaker A
سمیع اللہ تھا
Speaker A
مہاجر تھے
Speaker A
آگے بڑھے
Speaker A
آگے نکل گئے
Speaker A
پاکستان کو بھی آگے لے گئے
Speaker A
کوئی سیاسی تحریک کراچی کے بغیر پاکستان میں شروع نہیں ہوتی تھی
Speaker A
کراچی سے شروع ہوتی تھی
Speaker A
تو میں اب سوال پوچھتا ہوں
Speaker A
کہ کیا ہوا
Speaker A
یہ 1985 تک جو شہر پاکستان کو لیڈرشپ دیتا تھا
Speaker A
انٹلیکچولز دیتا تھا
Speaker A
بزنس میں آگے تھا
Speaker A
سیاست میں آگے تھا
Speaker A
1985 کے بعد آپ کے سامنے تاریخ ہے کراچی کی
Speaker A
کیا ہوا کراچی کو
Speaker A
وہ شہر جدھر سارے پاکستان میں لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آتے تھے
Speaker A
پوری دنیا سے لوگ کراچی میں آیا کرتے تھے
Speaker A
عبدالرحمن بہادر
Speaker A
جو شارجہ کپ ہوتا تھا وہ کراچی میں پڑا ہوا تھا
Speaker A
کراچی وہ شہر تھا جو 1985 تک تیزی سے ترقی کر رہا تھا
Speaker A
جب سے مہاجروں کے نام پہ سیاست ہوئی بندوق کی سیاست شروع ہوئی
Speaker A
جو مہاجروں کا پوٹینشل تھا وہ بجائے اوپر جانے کے نیچے آگیا
Speaker A
یہی یہاں سے مہاجر اردو بولنے والے
Speaker A
ہیوسٹن میں امریکہ میں جاتے
Speaker A
وہی ایک خاندان ادھر رہ جاتا ہے خاندان کا ایک ایک فرد اپنے خاندان سے پاکستان کراچی میں رہ جاتا ہے
Speaker A
دوسرا ہیوسٹن چلا جاتا ہے
Speaker A
10 سال کے بعد جو باہر جاتا ہے وہ اوپر چلا جاتا ہے
Speaker A
اور یہاں وہیں کا وہیں
Speaker A
کیا وجہ ہے
Speaker A
کیونکہ کراچی جو اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا
Speaker A
روشنیوں کا شہر تھا
Speaker A
پرامن علاقہ تھا
Speaker A
رات کو کسی کو فکر نہیں تھی اپنی جان اور مال کی
Speaker A
وہ کراچی ایک لسانیت کے نام ہو گیا
Speaker A
جو سب سے زیادہ پوٹینشل اور پڑھے لکھے لوگ تھے
Speaker A
وہ کراچی میں محدود ہو گئے
Speaker A
جنہوں نے لیڈرشپ دینی تھی
Speaker A
وہ مہاجر کے نام پہ سیاست میں یہاں پھنس گئے
Speaker A
اور وہ ان میں سے بجائے خطیب نکلنے کے انٹلیکچول نکلنے کے مجرم نکلنے شروع ہو گئے
Speaker A
اور مجھے یہ بتائیں
Speaker A
میں میں کل غلطی سے الطاف حسین کی تقریر ٹی وی پہ سنی
Speaker A
میں سن رہا تھا
Speaker A
تو میں نظر اپنے آپ کو
Speaker A
آپ کو اپنے تاثرات بتانا چاہتا ہوں
Speaker A
کبھی الطاف حسین
Speaker A
سنجیدہ ہو جائیں
Speaker A
کبھی وہ رونا شروع کر دیں
Speaker A
کبھی وہ مذاق کرنا شروع کر دیں
Speaker A
اور کبھی گانا گانا شروع کر دیں
Speaker A
میں سوچا
Speaker A
ریحام بی بی میرے پاس دیکھ رہی تھی ٹی وی
Speaker A
میں نے ریحام بی بی کو کہا کہ اللہ
Speaker A
یہ وہ شہر ہے جدھر سب سے پڑھے لکھے لوگ اور ڈائنامک لوگ رہتے ہیں
Speaker A
وہ کیسی یہ تقریر سن رہے ہیں
Speaker A
وہ کیا سوچ رہے ہیں
Speaker A
کہ یہ 23 سال سے لیڈر باہر بیٹھا ہوا ہے
Speaker A
اور الطاف بھائی اگر آپ تقریر سن رہے ہیں تو مائنڈ نہ کرنا کہ میں سچ بول رہا ہوں
Speaker A
کہ 23 سال سے کبھی مجھے دنیا میں ایک مثال بتا دو
Speaker A
کہ لیڈر باہر بیٹھا ہوا ہے 23 سال سے اور اس کی پارٹی گورنمنٹ میں بیٹھی ہوئی ہے
Speaker A
یہ مجھے سمجھائیں
Speaker A
کبھی دنیا میں مجھے ایک
Speaker A
میں چیلنج کرتا ہوں
Speaker A
مجھے ایک موقع بتا دیں دنیا کی تاریخ میں جدھر یہ ہوا ہو
Speaker A
دیکھو پاکستانیوں اور میرے کراچی کے لوگوں
Speaker A
دیکھو
Speaker A
یہ ایک الیکشن کے لیے نہیں آیا
Speaker A
میرا ایک خواب ہے نئے پاکستان کا
Speaker A
نیا پاکستان آپ کے بغیر نہیں بن سکتا
Speaker A
آپ اگر شرکت نہیں کریں گے
Speaker A
اور اپنی تقدیر بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے
Speaker A
اللہ کی قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا
Speaker A
جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے
Speaker A
میں بھول ہی گیا
Speaker A
کہ آغا خان بھی کراچی میں پیدا ہوئے تھے
Speaker A
اور آغا خان کی بھی پاکستان موومنٹ میں
Speaker A
تحریک پاکستان میں بہت بڑی کنٹریبیوشن تھی
Speaker A
میں
Speaker A
تو سنیں
Speaker A
میرے پاکستانیوں کراچی کے لوگوں سنو
Speaker A
دیکھو
Speaker A
کراچی ہے پاکستان کا فائنینشل سینٹر
Speaker A
اگر ادھر امن نہیں ہوگا
Speaker A
ہمارا پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا
Speaker A
کیونکہ اگر امن نہیں ہوگا
Speaker A
سرمایہ کار پاکستان میں نہیں آئے گا
Speaker A
کراچی میں سب سے بڑے بڑے پاکستان کے سرمایہ کار رہتے ہیں
Speaker A
وہ ان سے پوچھیں
Speaker A
وہ کیوں بنگلہ دیش جا رہے ہیں
Speaker A
وہ کیوں ملیشیا جا رہے ہیں
Speaker A
دبئی
Speaker A
صرف ایک سال میں 430 ارب روپے کی پاکستانیوں نے پراپرٹی خریدی
Speaker A
430 ارب روپے کی ایک سال میں
Speaker A
اس میں سے یا تو کرپٹ سیاستدان تھے
Speaker A
بیوروکریٹ تھے
Speaker A
یا تو پیسہ چوری کر کے دبئی لے گئے
Speaker A
اور اس میں سے کئی کراچی کے ایسے لوگ تھے
Speaker A
بزنس مین تھے
Speaker A
جن کو خوف ہے یہاں
Speaker A
جن کی جان اور مال کی حفاظت نہیں ہے
Speaker A
میرے پاکستانیوں آپ آگے نہیں بڑھ سکتے
Speaker A
جب تک کراچی میں امن نہیں ہوگا
Speaker A
اور کراچی میں امن کبھی بھی نہیں ہوگا
Speaker A
جب تک پولیٹیکل پارٹیز اپنے ساتھ مسلح گروپوں کو رکھیں گی
Speaker A
جب تک وہ عوام کے صحیح نمائندوں کو اوپر آنے نہیں دیں گی
Speaker A
اب ہم نے میں یہاں آیا ہوں
Speaker A
میں یہاں آپ کے پاس آیا ہوں
Speaker A
عمران اسماعیل
Speaker A
الیکشن جیت بھی گیا
Speaker A
تو ایک اور سیٹ ہو جائے گی
Speaker A
کوئی بڑی بات نہیں ہوگی
Speaker A
لیکن اگر عمران اسماعیل الیکشن جیت گیا
Speaker A
اور کراچی کے لوگ اور یہاں خاص طور پہ آپ
Speaker A
جو کراچی کا دل ہو
Speaker A
اگر آپ فیصلہ کر دیں
Speaker A
اپنی تقدیر بدلنے کا
Speaker A
یاد رکھیں
Speaker A
آپ یہاں سے نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے
Speaker A
میں
Speaker A
میں آج آپ کے پاس صرف اس لیے آیا ہوں
Speaker A
کیونکہ پاکستانیوں میں خواب دیکھتا ہوں
Speaker A
ساری زندگی میں نے خوابیں دیکھی ہیں
Speaker A
نو سال کا تھا
Speaker A
تو خواب دیکھتا تھا کہ ایک دن ٹیسٹ کرکٹ کھیلوں گا
Speaker A
جب ٹیسٹ کرکٹ کھیلی
Speaker A
تو خواب دیکھتا تھا کہ دنیا کا بیسٹ آل راؤنڈر بنوں گا
Speaker A
جب بیسٹ آل راؤنڈر بن گیا
Speaker A
تو خواب تھی کہ میں پاکستان کو ورلڈ کپ جتاؤں گا
Speaker A
اور
Speaker A
شوکت خانم کی خواب دیکھی
Speaker A
نمل یونیورسٹی کی خواب دیکھی
Speaker A
اور ایک دن یہ خواب دیکھتا تھا
Speaker A
کہ میرا پاکستان
Speaker A
جاگے گا
Speaker A
اور یہ جو
Speaker A
ظالم طبقہ ہے
Speaker A
ظالم طبقہ ہے
Speaker A
یہ آپس میں جو متحد ہیں
Speaker A
اکٹھے ہیں جب بھی تحریک انصاف کچھ کرتی ہے سارے اکٹھے ہو جاتے ہیں
Speaker A
میں نیشنل اسمبلی گیا
Speaker A
میرا تو دل بھی نہیں تھا جانے کو
Speaker A
لیکن یمن کا مسئلہ آگیا
Speaker A
مجھے خوف ہو گیا
Speaker A
کہ 11 سال پہلے اسی نیشنل اسمبلی میں میں نے کہا تھا
Speaker A
کہ امریکہ کی جنگ میں نہ جاؤ اپنی فوج وزیرستان نہ بھیجو
Speaker A
اسمبلی میں کھڑے ہو کے میں نے کہا تھا
Speaker A
کہ ہم اپنے لوگوں کے اوپر جب فوج بھیجیں گے
Speaker A
ہماری فوج دلدل میں پھنس جائے گی
Speaker A
ہمارے دشمن فائدہ اٹھائیں گے
Speaker A
اس ملک میں دہشت گردی ہوگی
Speaker A
لیکن ڈالروں کے لیے ڈالروں کے لیے جو ظالم طبقہ چھوٹا سا جو ملا ہوا ہے
Speaker A
مجھے کہتے ہیں طالبان خان ہے
Speaker A
اور فوج بھیج دی
Speaker A
اور آج نتیجہ دیکھو
Speaker A
80 ہزار پاکستانی مر چکا ہے
Speaker A
کتنے فوجیوں نے شہادت دی ہے
Speaker A
ہمارے قوم کا
Speaker A
100 ارب ڈالر تباہ ہو چکا ہے
Speaker A
تو پاکستانیوں
Speaker A
جب یمن کا میں نے سنا اور اخبار میں پڑھا
Speaker A
مجھے پھر خوف ہو گیا
Speaker A
کہ پھر ڈالروں کے لیے ہمارے حکمران پھر ہمیں ایک اور دلدل میں پھنسانے جا رہے ہیں
Speaker A
میں نیشنل اسمبلی گیا
Speaker A
بڑا میرے خلاف سب اکٹھے ہوئے
Speaker A
نعرے لگائے
Speaker A
برا بھلا کہا
Speaker A
کوئی فرق نہیں پڑا
Speaker A
کیونکہ پاکستانیوں یاد رکھنا
Speaker A
عزت اللہ دیتا ہے
Speaker A
عزت اللہ دیتا ہے
Speaker A
کوئی کوئی اسمبلی میں
Speaker A
جدھر جمع ہو کے آوازیں لگائیں
Speaker A
جو مرضی کہہ دیں
Speaker A
جب تک انسان سچ اور حق پہ کھڑا ہے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا
Speaker A
اور بے شک
Speaker A
اسمبلی میں کھڑے ہو کے تو شیر آیا شیر آیا اور تھپے لگائے
Speaker A
اس کو عزت نہیں دے سکتے آپ
Speaker A
عزت اوپر والا دیتا ہے جو سچ اور حق پہ کھڑا ہوتا ہے
Speaker A
تو اسمبلی میں جانے سے کوئی بڑا بات نہیں ہوگی
Speaker A
لیکن کراچی کے لوگوں وہ جو خواب ہم دیکھ رہے ہیں
Speaker A
میرا خواب پورا کرنے کے لیے آپ 23 تاریخ کو
Speaker A
ایک نئے کراچی اور نئے پاکستان کو ووٹ ڈالنا
Speaker A
اور انشاءاللہ آپ دیکھیں
Speaker A
انشاءاللہ آپ دیکھیں
Speaker A
اسی 200 2015 میں الیکشن ہوگا
Speaker A
کیونکہ مجھے پتا ہے
Speaker A
کہ پاکستانی قوم جو نکلی اپنے حق کے لیے کھڑی ہوئی
Speaker A
126 دن کا دھرنا دیا
Speaker A
126 دن کے دھرنے کے بعد پاکستانی قوم کی جیت ہوئی
Speaker A
جوڈیشل کمیشن بنی
Speaker A
پہلی دفعہ پاکستان کے اندر
Speaker A
تحقیق ہوئی
Speaker A
اور ہمیں پتا ہے الیکشن میں کیا ہوا
Speaker A
ہمیں پتا ہے الیکشن میں کیا ہوا
Speaker A
نبیل گبول کہتے ہیں
Speaker A
کہ پولنگ بوتھ خالی پڑے تھے ایک لاکھ 40 ہزار ووٹ کدھر سے آگیا
Speaker A
اب تو اچھا ہے
Speaker A
اب تو رینجر ہو گئے ایک اندر ایک باہر
Speaker A
اب دیکھیں گے 23 تاریخ کو کتنے ووٹ پڑتے ہیں
Topics:عمران خانکراچی جلسہنئے پاکستانامنمہاجر کمیونٹیتحریک انصافسیاسی جدوجہدالطاف حسینسرمایہ کارییمن جنگ











