وزیراعظم عمران خان کا خیبر ایجنسی جلسہ میں خطاب، قبائلی علاقوں کی ترقی، روزگار، اور افغانستان امن پر زور۔
Key Takeaways
- قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
- نوجوانوں کو روزگار اور قرضوں کی سہولت دی جائے گی۔
- افغانستان میں امن کے لیے سیاسی مشورے دیے گئے۔
- طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے سے تجارت میں اضافہ ہوگا۔
- حکومت قبائلی علاقوں کی تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر توجہ دے رہی ہے۔
Summary
- وزیراعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، جن میں جبہ ڈیم، بارہ ڈیم، اور شلمان واٹر سپلائی شامل ہیں۔
- انہوں نے نوجوانوں کے لیے سستے اور سود سے پاک قرضے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تاکہ روزگار کے مواقع بڑھ سکیں۔
- طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی ہدایت دی گئی تاکہ تجارت اور روزگار کو فروغ ملے۔
- افغانستان میں امن کے لیے انٹرم گورنمنٹ کے قیام کا مشورہ دیا تاکہ انتخابات کے بعد انتشار نہ ہو۔
- قبائلی علاقوں کے لیے سالانہ ایک سو ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جو اگلے دس سال تک جاری رہے گا۔
- تعلیم، ہسپتالوں کی بہتری، کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر اور 3G/4G انٹرنیٹ کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
- خیبر میں اکنامک کوریڈور بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
- اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
- وزیراعظم نے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو روشن مستقبل کا یقین دلایا۔
- خطاب میں قبائلی علاقوں کی معاشی اور سماجی ترقی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔











