Why Surah Fil Was Revealed? – The World’s First AI-Visu… — Transcript

سورہ فیل کی نزول کی کہانی، ابراہہ کے حملے اور اللہ کے معجزے کی تفصیل، نبی پاک کی ولادت سے قبل کا تاریخی واقعہ۔

Key Takeaways

  • اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی حفاظت کے لیے معجزاتی طور پر ابراہہ کی فوج کو شکست دی۔
  • سورہ فیل کا نزول مکہ والوں کو اللہ کی قدرت اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا یقین دلانے کے لیے ہوا۔
  • عبد المطلب کی حکمت اور ایمان نے مکہ والوں کو حوصلہ دیا۔
  • یہ واقعہ نبی پاک کی ولادت سے پہلے ہوا، جو اسلامی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔
  • قرآن کی آیات کی گہرائی اور معانی کو سمجھنا ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

Summary

  • سورہ فیل کا نزول ابراہہ کے حملے کے پس منظر میں ہوا جو کعبہ کو تباہ کرنے آیا تھا۔
  • ابراہہ یمن کا حکمران تھا جس نے ایک شاندار کلیسہ بنا کر مکہ کی تجارت کو متاثر کرنا چاہا۔
  • کعبہ کی حفاظت کے لیے مکہ والوں نے دعا کی اور اللہ نے ہاتھیوں کی فوج کو شکست دی۔
  • ابراہہ کی فوج پر آسمان سے پرندوں نے پتھر برسائے اور اسے برباد کر دیا۔
  • یہ واقعہ ہاتھی والے سال ہوا، جو نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے چند دن پہلے تھا۔
  • سورہ فیل کا مقصد قریش کو یہ باور کرانا تھا کہ اللہ ہی کعبہ کا محافظ ہے۔
  • عبد المطلب نے ابراہہ سے اونٹ واپس مانگے اور کعبہ کی حفاظت پر ایمان رکھا۔
  • ویڈیو میں قرآن کی آیات کی تشریح اور ان کے معانی کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
  • سورہ فیل کی کہانی سے آج کی زندگی میں ایمان اور اللہ کی قدرت کا درس ملتا ہے۔
  • ویڈیو میں مختلف سکالرز کی رائے اور تاریخی حقائق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
یہ بات ہے قرآن کی اب جار میں کعبہ توڑ دوں گا اور مکہ کی ہستی اپنے ہاتھ سے مٹاؤں گا بلکل میرے حضور کیوں نہیں یہ بات ہے ہاتھی والے سال کی یہ بات ہے اس انسان کی جس نے اللہ کے گھر کعبہ کو گرانے کا ارادہ کر لیا کتنا
00:26
Speaker A
خوبصورت ہے میرا کلیسہ اب پتا چلے گا دنیا کو میں ہوں اب رہا یمن کا حاکم اور میرا یہ گردہ گھر چھین لے گا مکہ والوں کے پیروں کی زمین یہ ہوگا اب نیا کعبہ یہ بات ہے سورہ فیل
00:51
Speaker A
کی جب بھی قرآن کے اس ترجمے کی آواز کانوں میں پڑھتی ہے نا میرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ نے ان ہاتھی والوں کے
01:08
Speaker A
ساتھ کیا کیا پر افسوس ہم میں سے بہت کم ہے جو یہ جانتے ہیں کہ کیوں کیا مجھے اچھی طرح یاد ہے ہاتھی والے سال ہی اللہ کے نبی کی ولادت ہوئی تھی کون بھول سکتا ہے وہ سال کون تھا اب رہا اور
01:23
Speaker A
کیوں وہ اللہ کے گھر کو توڑنا چاہتا تھا کیا ہے سورت کے نازل ہونے کی پیچھے کی کہانی اور سب سے زیادہ امپورٹنٹ چوتہ سال پرانی اس سورت کا آج ہماری زندگی میں کیا کام ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب جانیں گے
01:49
Speaker A
اس ویڈیو پر بہت سارے سکولرز کا یہ ماننا ہے کہ سور فیل مکہ میں اس لئے نازل ہوئی تاکہ قریش کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ جس نبی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ مخالفت کر رہے ہیں وہ نبی اصل میں اس اللہ
02:18
Speaker A
کا پیغام دے رہے ہیں جس کا گھر گعب آئے ہیں لوگ ایک ایک کر کے ان پر ایمال لارہے ہیں تم کیا کہتے ہو اس بارے میں مان لو کہ محمد سچے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں انہیں روکنا ہی ہوگا
02:35
Speaker A
ذرا سوچ کر دیکھو اگر ہم ان بوتوں کو نکال پھیکیں گے تو کیا ہوگا ہوگا کیا نہ تین سو ساٹھ بوت ہوں گے اور نہ ہی ہم سربی گرمی کے وہ سپر کر سکیں گے ہو سکتا ہے آس پاس کے قبیلے ہم پر
02:49
Speaker A
حملہ کر دے جیسے ابراہا نے کیا ابراہ اصل میں یہ بات ہے سال پانچ سو ستتر عیسوی کی ابھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت نہیں ہوئی تھی یمن کا حاکم ابراہ آج بہت خوش تھا اس نے شہر سنا میں ایک شاندار کرسچن کلیسہ بنوایا تھا
03:10
Speaker A
جو سونے چاندی اور قیمتی جوارا سے سجا ہوا تھا اسے امید تھی کہ اب لوگ مکہ نہیں جائیں گے بلکہ اس کے کلیسے کا تواف کریں گے اور یمن بزنس کا نیا مرکز بن جائے گا دیکھنا افزار یہ گرجہ گھار یمن کی نئی
03:26
Speaker A
تقدیر لکھے گا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسلتا رہا۔ لیکن کعبہ کی شان میں کوئی کمی نہ آئی۔ ہر روز سورج کی پہلی کرن کے ساتھ الگ الگ ملکوں کے نجانے کتنے قافلے مکہ کی گلیوں میں داخل ہونے۔
03:43
Speaker A
یہ دور دراد علاقوں کے لوگ کعبہ کا تواف کرتے ہیں، اپنے بتوں کو چڑھاوا چڑھاتے ہیں اور پھر تجارت کر کے اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ مکہ میں ہر طرح کا ہنر ہے صحیح کہا آؤ کچھ چاکو خریدیں
04:00
Speaker A
بادار کی وہ رونک کعبہ کی برکت کا ثبوت ہے یہ مٹی کے برتن بہت خوب بنائے ہیں کیا دام ہے ان کا مکہ میں ساری دنیا کے پھل ملتے ہیں بلکل وہ دیکھو ادھر ہندوستانی سیب بھی ہے مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ابراہ کا غصہ بڑھتا چلا گیا اس کی ہر
04:21
Speaker A
کوشش ناکام ہو گئی سمجھ نہیں آتا ابزار اس کے کلیسے بن ندر تو سب کی جاتی لیکن دل دل تو صرف کعبہ کی طرف مائل تھا اور اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے دن راتوں میں ڈھل گئے راتیں مہینوں میں بدل گئے اور پھر اس چیکتی خاموش رات میں اس نے
04:54
Speaker A
فیصلہ کیا اور کچھ دنوں بعد حملہ کرنے کی وجہ بھی مل گئی مکہ کے کچھ شریر نوجوانوں کو اس بات کی خبر ہو چکی تھی کہ ابراہا یمن کو نیا بزنس سلٹر بنانا چاہتا ہے کعبہ ان کے لئے صرف عمارت نہیں تھی بلکہ ان کے
05:25
Speaker A
دین اور عزت کا معاملہ تھا اور اسی وجہ سے کچھ بددو لوگوں نے اس کلیسیوں کو برباد کرنے کا ارادہ کر لیا تو یہ ہے وہ عمارت کتنی خوبصورت ہے آج کے بعد نہیں رہے گی چلو جلی کرو
05:50
Speaker A
دیکھتے ہی دیکھتے کلیسہ آگ کے شولوں میں لپٹ گیا شیشے ٹوٹ کر گرنے لگے اور وہ چمچماتی عمارت گھلا دھوہ ہو گئی اب چلو آگ اپنا کام خود کر لے گی میرا کلیسہ میرا کلیسہ میرا کلیسہ اب جار یہ صرف کلیسہ نہیں جلایا گیا ہے یہ
06:12
Speaker A
میری شان میرا نام میرا فکر کچھ سکولرز یہ بھی کہتے ہیں کہ مکہ کے کچھ شرارتی بددو لوگوں نے اس کلیسے کو ناپاک کر دیا اور اسی بات کو وجہ بنا کر ابراہا ساٹھ ہزار لوگوں کی فوج لے کر مکہ پہنچ گیا اس کی فوج میں مضبوط
06:44
Speaker A
جاباز کالے حپشی سپاہی تھے جن کے جسم راک کے اندھیری کی طرح سیاہ تھے وقت آ گیا ہے خداوند ابراہا کے لیے جان دینے کا کیا تم تیار ہو؟ وہ سب اپنی طاقت کے نشے میں چور اللہ کے گھر کو برباد کرنے کے
07:03
Speaker A
لیے تیار تھے تو چلو آگے بڑھو ابراہا کی فوج نے راستے میں ان قبیلوں کے سرداروں کو بندی بنا لیا جنہوں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا یا پھر مکہ کا راستہ دکھانے سے منع کر دیا اور جب یہ فوج مکہ کے قریب پہنچی تو اس فوج
07:23
Speaker A
کو دیکھ کر مکہ والوں کی ہوش اڑ گئے وہاں پر ایک افرا تفریقہ عالم مچ گیا مگر ان سب میں سب سے زیادہ خوفناک تھے ان کے ہاتھی چنگارتے چیختے ہاتھیوں نے مکہ والوں کی روح کو فنا کر دیا یا اللہ
07:50
Speaker A
یہ کونسی مخلوق ہے مکہ والوں نے آج تک اتنے بڑے جانور کو نہیں دیکھا تھا چنگارتے چیختے ہاتھیوں نے ان کی روح کو فنا کر دیا وہ سب اپنا گھر بار چھوڑ کر پہاڑوں پر بھاگے ہیں لیکن کعبہ کے سردار
08:28
Speaker A
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب نے حمت نہیں ہاری انہوں نے فیطلہ کیا کہ وہ خود ابراہ سے بات کریں گے اور اس خیال کے آتے ہی وہ ابراہ کے قیمے تک پہنچ گئے انہیں دیکھ
08:46
Speaker A
کر ابراہ غرور سے بھر اٹھا اس نے ان سے کہا عبد المطلب اگر کعبہ کی بھیق مانگنے آئے ہو تو لاک جاؤ میں اسے برباد کر کے ہی یہاں سے واپس جاؤں گا۔ ابراہ کی اس بات نے عبد المطلب کو احساد دلا
09:01
Speaker A
دیا کہ یہ آدمی اپنی نفرت میں اندھا ہو چکا ہے۔ اس لیے انہوں نے اس سے کعبہ کی سلامتی کی کوئی بات نہیں کی۔ بلکہ اس سے کہا کہ وہ ان کے دو سو اونٹ لوٹا دے۔ وہ اونٹ جو ابراہ کی فوج نے
09:12
Speaker A
قید کر لیا ہے۔ میں یہاں اپنے دو سو اونٹ لینے آیا ہوں جنہیں آپ کے سپاہیوں نے اقتید کر لیا ہے۔ عبد المطلب کی یہ بات سن کمال ہے مانگے بھی تو کیا اونٹ کیا تم کعبہ کی سلامتی نہیں چاہتے کعبہ
09:28
Speaker A
کا مالک اللہ ہے وہ اس کی حفاظت خود کرے گا میں اونٹوں کا مالک ہوں ان کی حفاظت میری ذمہ داری ہے لہٰذا میرے اونٹ مجھے دے دیجئے اب رہا غصے سے بھر گیا اس نے ان کے دو سو اونٹ واپس لوٹا دیئے
09:43
Speaker A
اور ارادہ کر لیا کہ وہ کعبہ کو تباہ و برباد کر کے مانے گا صبح میں اس کعبہ کو تور دوں گا بلکل میرے حضور اس دن مکہ کی وہ ہوا سانس رو کے بہر رہی تھی عبد المطلب قریش
09:57
Speaker A
کی دوسرے سرداروں کے ساتھ اللہ سے دعا مانگ رہی تھی یہ وہ وقت تھا جب پورا مکہ اپنے بتوں کو بھول گیا اور وہ صرف ایک اللہ سے دعا مانگنے لگے اے اللہ ہماری مدد کر ہمیں اس مصیبت سے نکال دے
10:11
Speaker A
خدایہ انسان اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما رحم کر ان سب کی دعائیں ان کا ڈر ان کی سسکیاں ہوا میں گھل گئی اور پھر وہ سب اللہ کے گھر کو اس کے حوالے کر پہاڑوں پر چلے
10:34
Speaker A
گئے ہیں او میرے اللہ تیرا گھر کعبہ تیرے حوالے دوسری طرف اب راہ چلایا میں نے کہا آگے پر ہو انہیں فوجی چیخیں ختم کر دو ان ہاتھیوں نے ایک شاندار تماشا کھڑا کر دیا مگر سب سے بڑے ہاتھی محمود نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا وہ وہیں
11:21
Speaker A
زمین پر بیٹھ گیا لاکھ کوشش ہی کی گئیں سو دھکے مارے گئے لیکن اس کے باوجود ہاتھی ٹس سے مس نہ ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے ہی لوگوں کو کچل کر رہے تھے جب ان ہاتھیوں کو واپس الٹا چلایا جاتا تو وہ دوڑنے لگتے لیکن جب انہیں
11:46
Speaker A
مکہ کی طرف کاغا کی طرف دھگیلا جاتا تب وہ زمین پر بیٹھ جاتے और फिर लोगों ने वो मनजर देखा जिसका तसवुर भी नामंगिन था बाबा वो देखिया आस्मान की तरफ ये क्या मुसीबत है सुभान अल्बा देखते ही देखते लाखो परिंदों ने आस्मान को ठक लिया
12:27
Speaker A
ان پرندوں نے اپنی چونچ پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنگریوں کو پکڑا ہوا تھا۔ اور کچھ لمحے بعد پرندوں کے جھنڈ نے ان پتھروں کو ایک ساتھ زمین پر چھوڑ دیا۔ آسمان کے ہزاروں چھوٹے چھوٹے پتھر برسنے لگے۔ اونچی بلندیوں سے گرتا ہوا ہر پتھر
12:58
Speaker A
جسم کو گولی کی طرح لگتا ہے ابراہ کی فوج کو ایسا لگا جیسے آسمان پہ شولے برس گئی گھوڑے، ہاتھی، کالے، ہمچی سپاہی اپنی جان بچا کر بھاگنے لگے ابراہ غصے سے چیخا آگے برہو فوجی چلائے پیچھے ہتھو
13:17
Speaker A
دن بڑھتا گیا وہ سب ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مارے گئے مکہ والے خوشی سے چنلائے اور پھر خدا نے آسمان میں بجلی گھوم ابرہا کی ساری طاقت مٹی میں مل گئی اللہ نے ان سب کو کھائے ہوئے
13:48
Speaker A
بھوسے کی طرح کر دیا اس واقعے کے پچاس دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی محمد نبی الامی ایک حدیث میں آتا ہے کہ مکہ والے اس واقعے سے اتنے زیادہ متاثر ہوئے کہ اگلے دس سال تک انہوں نے صرف ایک اللہ کی عبادت کی اپنے کسی بدھ
14:14
Speaker A
کو نہیں پوجا اللہم صلی علیہ وآلہم تو یہ تھی سورہ فیل کی بیک گراؤنڈ سٹوڑی ابو حدی ہمیں وہ سورہ تو سناو جو نبی پر نازل ہوئی ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم الم تر کیف فعل ربک بی اصحاب
14:35
Speaker A
الفیل الم یجعل قیدہم فی تظلیل و ارسل علیہم طیرہ ابابیل ترمیہم بی حجارت محبیل چلیے اب اس صورت کو سمجھتے ہیں سنیمیٹک انداز سے آسان طریقے سے تو پہلی آیت ہے یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا لیکن
15:19
Speaker A
اب آپ ذرا سراسا اس کی گہرائی میں اتریں گے نا تو آپ کو پتا چلے گا کہ جو علم طرح کا لفظ ہے یہ قرآن میں کئی جگہ آیا ہے اب علم طرح ہوتا کیا ہے؟ علم طرح اصل میں ایک سوال ہے جیسے
15:30
Speaker A
کیا تم نے نہیں دیکھا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے اندر پہلے سے جواب موجود ہے جیسے اکثر ہم میں سے کئی لوگ اپنے ماباب سے بتتمیزی کر دیتے ہیں تو ہم لوگ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے کیا کیا ہے میرے لئے؟
15:44
Speaker A
تو اس کے جواب میں ہمارے ماباب ہم سے کیا کہتے ہیں؟ ہم نے تمہارے لئے کچھ کیا ہی کہاں ہے؟ تم ایسے ہی اتنے بڑے ہو گئے؟ تو یہاں پر پہلے سے ب اس کو اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مثال کے
15:57
Speaker A
طور پر آپ کے گھر میں سب لوگوں کے لئے ایک ایک آئیس کریم آئی گی اب آپ نے اپنی آئیس کریم کھا لی اب آئیس کریم کھانے کے تھوڑی دیر بعد آپ کہتے ہیں امی کیا مجھے ایک آئیس کریم آر مل سکتی ہے
16:09
Speaker A
تب آپ کی امی کیا کہیں گی کیا تم نے آئیس کریم نہیں کھائی تو یہاں پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ قریش کو محسوس کرا رہے ہیں یاد کرا رہے ہیں کہ کیا تم نے نہیں دیکھا تمہارے پروردگار نے ان ہاتھی وال
16:24
Speaker A
کیسے ہینڈل کیا؟ کیسے سمحالا؟ اب چھوٹی سی بات اور دیکھیں یہاں پہ جو رب گوکا کا لفظ آیا ہے اس کا مطلب ہے رب اب اللہ تو بانا و تعالیٰ چاہتے تو کہتے فعال رزاق فعال جببار کچھ بھی کہہ سکتے تھے لیکن اللہ نے صرف رب کا ہی
16:43
Speaker A
استعمال کیا کیونکہ رب کون ہوتا ہے؟ رب کا مطلب ہوتا ہے وہ جو خیال رکھے وہ جو پالے وہ جو کھانا دے وہ جب آپ سوتے ہیں تو وہ یہ بات میک شور کرے کہ آپ کی سانس چلتی رہے اب جب وہ خیال
16:56
Speaker A
لگنے والا ہے اتنا کچھ کر رہا ہے تو وہ مالک ہو گیا تو اگر وہ مالک ہے تو ہم کیا ہیں ہم اس کے غلام ہیں اس کے نوکر ہیں تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس آیت میں کہہ رہے ہیں کیا تم نے اس
17:06
Speaker A
بات کو نوٹس نہیں کیا کہ تمہارے مالک نے کس طرح سے ان ہاتھی والوں کو ہینڈل کیا کیا کمال کا منظر ہے بھائی مکتوب ہاتھی والوں کو پرندوں نے برباد کر دیا ارے سبور یہ ہمارے رب کی شان ہے لیکن اب سوال کی
17:22
Speaker A
کھڑا ہوتا ہے کہ یہ بات کہیں کس سے جا رہی ہے بھئی؟ کس نے نہیں دیکھا؟ تو دیکھئے اس میں اسکولرز کی دو رائے ہیں کچھ اسکولرز یہ کہتے ہیں کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہی جا رہی ہے
17:33
Speaker A
لیکن بہت سارے اسکولرز اور اس طرف میرا بھی بہت زیادہ جھکاؤ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ بات قریش سے کہی جا رہی ہے کیونکہ کیا تم نے نہیں دیکھا؟ یعنی دیکھنے کی بات ہو رہی ہے تو یہ وہ قریش تھے جو
17:48
Speaker A
بچے تھے بڑے ہو گئے جوان تھے تو بوڑے ہو گئے کیونکہ ابھی چالیس پہتالیس سال پہلے کی تو بات ہے جب وہ ہاتھی والے آئے تھے اور یہ سب پہاڑوں پر بھاگ گئے تھے تو اللہ سبحانہ وتعالی ان سے کہہ رہے ہیں کیا
18:00
Speaker A
تمہیں احساس نہیں ہے haven't you seen this don't you know this ان کو remind کر آرہے ہیں انہیں یاد کر آرہے ہیں اور اختلاف ہونے میں کوئی بڑھائی نہیں ہے آپ کوئی بھی بات مان سکتے ہیں مدہ سمجھنے کا ہے سمجھنے میں آنی
18:12
Speaker A
چاہیے بات ٹھیک اگلی آیت آیت نمبر دو کیا ہے آیت؟ علم یجعل قیدہم فی تظلیل کیا اس نے یعنی اللہ نے ان کی خوفیہ چال کو ناکام نہیں کر دیا؟ اب یجعل یعنی اس نے کر دیا کس نے کر دیا؟ اللہ نے کر
18:27
Speaker A
دیا کیا کر دیا؟ چال کو ناکام کر دیا کیسی چال؟ خوفیہ چال لیکن اب یہاں ایک بڑے مدیہ کا سوال ہے ارے بھائی ان کا کیسا خوفیہ پلان؟ وہ تو ساٹھ ہزار لوگوں کو دھون گڑا کے بجاتے ہوئے آتیوں کے ساتھ چلا آ
18:41
Speaker A
رہا ہے اس میں خوفیہ والی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی دلوں کا حال جانتے ہیں اور آپ نے ویڈیو دیکھ لی ہے اس لئے آپ کو پتا چل گیا ہے ورنہ اس نے کیا سوچا
18:56
Speaker A
اس نے سوچا کہ میں اپنے کلی سے اپنے گرجہ گھر کا نام لے کر اس کعبہ کو برباد کروں گا اور اندر ہی اندر اس کی کیا پلاننگ تھی کہ میں یمن کو اپنا بزنس سینٹر بناوں مرکز بناوں اور اس کے لئے کعبہ
19:11
Speaker A
کو توڑ دوں ابزار کعبہ کو مٹانا ہوگا جب تک وہ کعبہ رہے گا ہمارا قلیسہ کبھی مشہور نہیں ہوگا لیکن ایک وجہ چاہیے دھلم کے نام پہ لوگوں کو بیغو بنانا آسان ہوتا ہے جنرلی صدیوں سے چلا آ رہا ہے تو اس
19:26
Speaker A
نے بھی یہی راستہ اپنایا یہ خفیہ چال تھی اس کی تو علم یجل قیدہوں فی تزلیل یعنی کہ گمراہ کر دیا برباد کر دیا ختم کر دیا اب آتے ہیں تیسری آیت کی طرف وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ تَعِرًا عَبَابِيلٌ اور اس نے ان
19:47
Speaker A
پر پرندوں کے ہر طرف سے جھن کے جھن بھیج دیئے۔ یہاں جو تیرن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یہ اصل میں ایک چڑیا کو کہتے ہیں، ایک خاص طرح کی چڑیا۔ لیکن یہ جو ابابیل کا لفظ ہے، یہ بڑا مزید کا لفظ
19:59
Speaker A
ہے۔ اب کیونکہ ہم زمانے سے اپنے اببہ سے، اپنے نانا سے، اپنے دادا سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ خاص چڑیا ابابیل تھی، اس کا نام ابابیل تھا۔ لیکن اصل میں ابابیل کا مطلب ہوتا ہے جھنڈ کے جھنڈ، ایک بڑا ج
20:13
Speaker A
اب اس پہ ہو سکتا ہے کہ بھئی کومنٹ سیکشن میں فوزداری کی نوبت آ جائے کہ بھئی آپ نے ایسے کیسے کہہ دیا تو اس ویڈیو کو دیکھئے ابابیل اگرچہ ہمارے ہاں ایک خاص پرندے کو بھی ابابیل کہہ دیتے ہیں لیکن حقیقت میں
20:26
Speaker A
ابابیل عربی زبان میں کسی پرندے کا نام نہیں ہے بلکہ جھنڈ کے جھنڈ تو یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ابابیل چڑیا کا نام نہیں ہے ابابیل اصل میں جھنڈ کو کہتے ہیں وہ جھنڈ انسانوں کا ہو سکتا ہے جانوروں کا ہو
20:40
Speaker A
س ایسا جھنب جو ہر طرف سے ان پر آ رہا تھا۔ پر کیونکہ ہم لوگوں کی اکثر یادت ہوتی ہے کہ جو کہہ دیا وہ مان لیا۔ اببہ نے کہا ہے تو صحیح ہوگا، امی بتا رہی ہے تو ٹھیکی ہوگا کیونکہ ان کو
20:51
Speaker A
ان کی نانی امی نے بتایا تھا۔ تو پڑھنے میں ذرا محنت لگتی ہے۔ لیکن خیر کبھی بھی کوئی بات کوئی انسان سمجھائے تو اسے ویریفائی ضرور کیجئے تاکہ ہمیں کوئی بے وقوف نہ بنا سکے۔ بیٹا تمہارے پاس تو انٹرنیٹ ہے۔ ویریفائ
21:08
Speaker A
تو تیسری آیت میں کیا بات ہو رہی ہے؟ اللہ نے ان پر جھن کے جھن بھیج دیئے چڑیوں کے۔ اگلی آیت آیت نمبر چار ترمیہم بیہجارت من سجیل وہ پرندے جو ان پر چھوٹے چھوٹے کنکر والے پتھر مارتے تھے۔
21:23
Speaker A
تو یہاں پر جو ترمی کا لفظ ہے اس کا مطلب ہوتا ہے پھیکنا مارنا برسانا اور بیہجارت اس کا مطلب ہوتا ہے پتھر اب دیکھئے اگر سے بھیتنی بات کہی جاتی نا ترمیہم بیہجارت وہ چڑییں جو ان پر پتھر تب بھی بات
21:39
Speaker A
مکمل ہو جاتی پوری ہو جاتی لیکن یہاں قرآن کے اندر اتنی گہرائی ہے نا یہاں پر سجیل کا عرض استعمال کیا گیا ہے من سجیل سجیل والے پتھر مار رہے تھے اب سجیل کیا ہوتا ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کبھی کبھی بہت
21:55
Speaker A
ہلکی بھلکی بارش ہوتی ہے تو مٹی میں چھوٹے چھوٹے ڈیلے بن جاتے ہیں چھوٹے کنکر بن جاتے ہیں ایسے کنکر جو ہاتھ میں لوگ تو ٹوٹ جائیں ایک چھوٹا بچہ بھی انہیں مسل دیتا ہے بڑے اب دیکھئے سجیل کی کوئی حیثیت نہیں ہے
22:08
Speaker A
لیکن اللہ سبحانہ وتعالی یہاں پر یہ بات ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی طاقت کے آگے بڑی سے بڑی طاقت کی کوئی حیثیت نہیں کوئی اوقات نہیں کیونکہ اگر صرف یہ بات کہی جاتی کہ تربیہ بہجارت نہیں پتھر مارے گئے
22:25
Speaker A
تو ہو سکتا ہے لوگ یہ سوچتے کہ ارے بھائی کوئی بھاری پتھر مارا ہوگا اتنی اچائی سے گرے گا تو سر پھٹ جائے گا انسان کا لیکن یہاں سجیل کا لفظ استعمال کرنے تھی بات اقدم کلیر ہو گئی کہ بہت چھوٹے بھر بھر
22:36
Speaker A
پتھر تھے جن کی کوئی حیثت نہیں تھی پر کیونکہ ان پتھروں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے موجزہ تھا تو اس لئے اللہ کے حکم سے وہ سب کی سفوز برباد ہو گئی کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گئی جو ہم اگلی آیت میں
22:48
Speaker A
جانیں گے اگلی آیت کیا ہے فَجَأَلَهُمْ كَأَسْفِمْ مَأْكُول اور ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا پچھلی آیتوں کا کہ پتھر مارے تو وہ کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ہو گئے یا بھوسے کی طرح ہو گئے یہاں پر جو اسفن کا لفظ ہے اس کا
23:08
Speaker A
مطلب ہوتا ہے سوکہ بھوسہ یا سوکھے پتے اور جو معقول کا لفظ ہے یعنی کھایا ہوا چبایا ہوا اب یہاں ایک بڑی دبردہ سوچنے کی بات ہے کہ اللہ نے یہی کیوں کہا کہ کھائے ہوئے بھوسے جیسا کر دیا اللہ یہ بھی کہہ
23:21
Speaker A
سکتے تھے کہ برباد کر دیا قتل کر دیا تباہ کر دیا نست و نابوت کر دیا یہی کیوں کہا کہ بھ تو دیکھئے جو میری بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ کسان بڑی محنت کرتا ہے اس کے بعد اس کی
23:36
Speaker A
فصل اکتی ہے وہ فصل کاٹتا ہے فصل کاٹنے کے بعد اس پر سے بھوسا نکلتا ہے اس بھوسے کا استعمال جانوروں کو کھلانے کے لیے کیا جاتا ہے پھر جانور اس بھوسے کو کھاتا ہے دن بھر جگالی کرتا رہتا ہے اور جب اس
23:49
Speaker A
کا دل بھر جاتا ہے تو وہ کبھی کبھی اس جگالی کی ہوئے بھوسے کو تھوک دیتا ہے اب یہ تھوک اگر آپ دیکھیں گے جانور کی سلائیوہ میں لپٹا ہوا چپ چپ جس کی شکل بھی محسوس نہیں ہو رہی پتہ نہیں چل رہی
24:02
Speaker A
کس چیز کا بھوساتا کیا نہیں تھا کسی کام کی چیز نہیں ہے وہ جو جانور نے کھا کے تھوک دیا ہے ان لوگوں کی فوج کو اس حال پہ پہنچا دیا کہ ان کی اصلی شکل معلوم نہیں ہو رہی تھی ان کی طرف
24:14
Speaker A
دیکھنے کا دل نہیں کر رہا تھا ان کے جسم سلسل کے گل گل کے گر رہے تھے تو اسی لیے اللہ نے یہ لفظ استعمال کیا فجالہم کا اسفم معقول کھائے ہوئے پھوسے جیسا کر دیا دیکھ رہے ہو ان کے جسموں کا حال
24:28
Speaker A
مجھے ڈر ہے یہ وبا کہیں ہمیں نہ لگ جائے اب جلدی سے فٹا فٹ ان پانچو آیتوں کو دوبارہ سے سمجھ لیتے ہیں ایک ریویزن کر لیتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ
24:42
Speaker A
کیا کیسے انہیں ڈیل کیا کیا اس نے ان کے اس خوفیہ پلان کو برباد نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھن کے جھن بیجے جو ہر سن سے آ رہے تھے اور وہ پرندے ان کے اوپر مارتے تھے وہ کنکڑیاں جن
24:55
Speaker A
کی کوئی حیثیت نہیں تھی فجاء لہم کا اسفم مکول اور ان بھربوری کنکریوں نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی معنید کر دیا کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا تو یہ تھی سورہ فیل کے انڈرسٹینڈنگ اگر آپ خود جا کر ڈیپ میں
25:11
Speaker A
پڑھیں گے تو پھر آپ کو الگ الگ عالموں کی الگ الگ سکولرز کی الگ الگ انڈرسٹینڈنگ ملے گی اب اگلی بار جب آپ اس سورت کو نماز میں ریسائٹ کریں تو محسوس کریے گا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کتنے طاقتور ہیں کتنے بڑے ہیں
25:23
Speaker A
کتنے طاقت والے ہیں کہ انہوں نے ات اس کے علاوہ بہت سارے سکولرز یہ بھی کہتے ہیں سورت کے بارے میں کہ سورے اصل میں ایک ارحاس ہے اب ارحاس کیا ہوتا ہے؟ ارحاس یعنی ایسے موجزے ایسے مریکلز جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے پہلے ہوئے
25:45
Speaker A
محمدین نبی الامی اور اس کے علاوہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ چلیے جی یہ ارحاس ہے چلیے جی یہ تو چودہ سال پرانی سورت ہے ہاتھی والے بھی مر گئے قریش کو بھی میسیج دی دیا ہمارے کس کام کی ہے ہم نے اس سے کیا
26:04
Speaker A
سیکھنا ہے یا خالی بس پڑھنا ہی پڑھنا ہے تو دیکھئے آج کے وقت میں اس کا جو ریلیونس ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی انسان کو دو طرح کی نعمتوں سے نماز دائے ایک نعمت ہوتی ہے instant یعنی کہ فوری طور
26:16
Speaker A
پر نعمت مل جانا اور ایک ہوتی ہے sustained یعنی کہ ایک long term میں اثر کرنے والی نعمت لمبے عرصے تک قائم رہنے والی جیسے مثال کے طور یا پھر آپ کی زندگی میں ایک بڑا حادثہ ہو گیا کسی نے آپ کا
26:34
Speaker A
دل توڑ دیا بزنس میں دھوکہ دے دیا آپ بہت بیمار ہو گئے آپ کو لگا کہ اب شاید زندگی دوبارہ ڈھرے پہ آنے ہی پائے گی شاید اب کی دل اس طرح سے دھڑک نہیں پائے گا شاید اب اس کی یاد مجھے جینے
26:46
Speaker A
نہیں دے گی لیکن دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے وقت گزرتا رہا اور آپ نے دیکھا کہ ارے اچھا ہوا وہ ہوا اگر وہ نہ ہوتا تو یہ نہ ہوتا یعنی کہ ایک ل کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے آپ کے اس راستے کو
27:01
Speaker A
کارف کر دیا تھوڑی تکلیف تو ہوئی تھوڑی پریشانی تو ہوئی لیکن لانگ ٹم میں آج آپ ماشاءاللہ بہت خوش ہیں اس سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں جیسے ہم کئی بار اپنوں کو کھو دونے کے بعد اللہ کے بہت قریب ہو جاتے ہیں
27:15
Speaker A
جیسے بہت زیادہ بیمار ہو جانے کے بعد ہمیں حساس ہو جاتا ہے کہ ساری کی ساری طاقت اس رب کے ہاتھ میں ہے میں کتنی بھی پلاننگ کر لوں کچھ بھی کر لوں کسی بھی دن ڈور کھیجی جا جیسے
27:29
Speaker A
انسٹنٹ نعمت انسٹنٹ نعمت کیا ہوتی ہے فوری طور پر نعمت کیا ہوتی ہے یا اللہ مجھے پاس کرا دیجئے یا اللہ بس کسی طریقے سے یہ پروموشن مجھے مل جائے یا پھر کوئی بہت بڑا حادثہ ہونے سے بج گیا اللہ نے بس خیر
27:42
Speaker A
کر دی یا پھر بس یار کسی طرح رشتے کے لئے پھپو مان جائے اور بس آپ نے سوچا اور فٹا فٹا فور نعمت آپ کی تیار ہو گئے آپ کو اللہ سبحانہ وتعالی نے اس نعمت سے نواز دیا تو اسی طرح سے سور
27:51
Speaker A
فیل ایک فوری طور پر ملنے والی نعمت ہے جو ہمیں توقل سکھاتی ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب انسان اپنے اللہ پر پورا توقل کرتا ہے ساری کوشش کرنے کے بعد سارا معاملہ اللہ کے حوالے کر دیتا ہے
28:06
Speaker A
جیسے عبد المطلب نے کیا بلکل اسی طرح سے ہمیں اپنے اللہ پر یقین کرنا سیکھنا چاہیے اپنی ساری کوششوں کے بعد سارا کا سارا معاملہ اللہ سبانہ وتعالی کے حوالے کر دینا چاہیے اب اگر وہ فوری نعمت ہوگی تو مل جائے گی فوراں
28:22
Speaker A
کے فور نہیں ہوگی تو ایک لانگ ٹم میں وہ ایک نعمت ہے جب آپ کچھ سال گزر جائیں گے تب آپ کو محسوس ہوگا کہ اچھا ہوا جو ہوا وہ نہ ہوتا تو یہ نہ ہوتا تو اگر آپ نے سور قریش والی ویڈیو
28:34
Speaker A
نہیں دیکھی تو وہ ضرور دیکھ لیجئے تاکہ اس پورے معاملے کو سمجھ سکیں سور فیل ایک انسٹنٹ نعمت ہے سور قریش ایک لانگ ٹم سسٹینڈ نعمت ہے اس کے علاوہ یہ صورت ہمیں اور کیا سکھاتی ہے جب بہت سارے پرندیک ساتھ آگئے تو
28:48
Speaker A
پھر انہوں نے ہاتھیوں کی پوری کی پوری فوج کو برباد کر دیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اگر کن بھی کہہ دیتے تب بھی وہ پوری کی پوری فوج برباد ہو جاتی۔ لیکن کیونکہ ہر صورت کے اندر ہر آیت کے اندر ایک میثید چھپا ہوا
29:02
Speaker A
ہے تو یہ ہمیں یونٹی سکھاتی ہے کہ جب کمزور لوگ ایک دوسری کے ساتھ آ کر کھڑے ہو جائیں تو بڑے سے بڑے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جا سکتی ہے اس ظلم کو ہرایا جا سکتا ہے۔ جیسے سر سید احمد خان
29:14
Speaker A
نے کیا وہ کھڑے ہوئ اور علیگر مسلم یونیورسٹی بنائی جیسے نیلسن منڈیلا نے کیا جیسے مہاتمہ گاندھی نے کیا بلکل اسی طرح ہم سب کو ابابیل بننے کی ضرورت ہے تاکہ ہم جھن کا جھن بن سکیں لیکن افسوس کی
29:31
Speaker A
بات یہ ہے ہم میرے سے اوپر کبھی سوچیں نہیں پاتے اسی وجہ سے آج ہماری میڈیا میں کوئی پہچان نہیں ہے ہمارے اپنے چینلز نہیں ہیں ہمارے اپنے پاڈکاسٹ نہیں ہیں میں ایک کوشش کر رہا ہوں اس طرح کی سنیماتک ویڈیوز بنانے کی
29:44
Speaker A
جس سے وہ جو یوتھ ہیں وہ جو لوگ ہیں وہ جو بچے ہیں جنہیں ڈراما فلمیں بڑی پسند ہیں ان کو قرآن کی طرف لائے جا سکے انہیں یہ محسوس کرایا جا سکے کہ کتاب بڑے مزے کی کتاب ہے اس میں کوئی خوف
29:59
Speaker A
نہیں کوئی ڈر نہیں اسے پڑھ کے دیکھو تمہاری کہانی پار لگ جائے گی تو اگر آپ ہماری سوٹ سے ریلیٹ کرتے ہیں تو آپ اس کیو آر کوٹ کو سکین کر کے آپ ہماری یوٹیوب کومیونٹی کو جوائن کر سکتے ہیں جس میں ہم
30:11
Speaker A
اے آئی کے بارے میں ہیں سیرت النبی کے بارے میں اس طرح کی ویڈیوز ہم کیسے بناتے ہیں وہ ساری انسائٹ آپ کے ساتھ شیئر کریں گے اس طرح کی ویڈیوز کو بنانے میں اچھی کاسی رقم اور ٹیم لگتی ہے آپ کے سپورٹ
30:22
Speaker A
سے ہم اور بڑی ٹیم بنا سکتے ہیں اور بہتر اور بڑیا اور جلدی ویڈیوز کو پروڈیوز کر سکتے ہیں ابھی اس سفر میں میں اکیلہ ہوں انشاءاللہ آپ لوگوں کے ساتھ سے اور لوگوں کو جوڑ لیں گے تو آئیے اب ابیل بنتے ہیں
30:34
Speaker A
ا ایک امپیکٹ کریٹ کریں تضاکم اللہ خیر السلام علیکم
Topics:سورہ فیلابراہہ کا حملہکعبہ کی حفاظتنبی محمد کی ولادتقرآن کی تفسیراسلامی تاریخاللہ کا معجزہمکہ کی تجارتعبد المطلبہاتھی والے سال

Frequently Asked Questions

سورہ فیل کب نازل ہوئی تھی؟

سورہ فیل ہاتھی والے سال نازل ہوئی تھی، جو نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے چند دن پہلے کا واقعہ ہے۔

ابراہہ نے مکہ پر کیوں حملہ کیا؟

ابراہہ نے یمن میں ایک شاندار کلیسہ بنایا تھا اور چاہتا تھا کہ لوگ مکہ کی بجائے اس کلیسہ کی زیارت کریں، اس لیے اس نے کعبہ کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔

اللہ نے ابراہہ کی فوج کو کیسے شکست دی؟

اللہ نے آسمان سے پرندوں کے جھنڈ بھیجے جنہوں نے پتھر برسائے جس سے ابراہہ کی فوج برباد ہو گئی اور کعبہ محفوظ رہا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →