Video: PM Imran Khan addresses ceremony — Transcript

وزیراعظم عمران خان نے انسداد بدعنوانی ایپ کی لانچنگ پر خوشی کا اظہار کیا اور کرپشن کے خلاف عوامی شعور بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

Key Takeaways

  • انسداد بدعنوانی ایپ عوامی شمولیت اور کرپشن کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔
  • کرپشن ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کا خاتمہ ضروری ہے۔
  • عوام کو کرپشن کے اثرات اور نقصان سے آگاہ کرنا بہت اہم ہے۔
  • نوجوانوں کی شرکت سے ہی نیا پاکستان اور ایک صاف ستھرا معاشرہ ممکن ہے۔
  • سرمایہ کاری اور معیشت کی بہتری کے لیے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

Summary

  • وزیراعظم عمران خان نے انسداد بدعنوانی ایپ لانچ کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ترقی کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
  • انہوں نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی کارکردگی کو سراہا، خاص طور پر زمین اور نقد ریکوری پر زور دیا۔
  • عوام کو کرپشن اور ان کی روزمرہ زندگی کے تعلق کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
  • چین کے صدر شی جن پنگ کی کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کی مثال دی گئی۔
  • کرپشن کے باعث ملک میں مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
  • پاکستان میں اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری نہ کرنے کی بڑی وجہ کرپشن اور رشوت ستانی کو قرار دیا گیا۔
  • غیر ضروری منصوبے کرپشن کی وجہ سے بنائے جاتے ہیں جو عوام کی ضرورت نہیں ہوتے، جیسے ملتان میٹرو کا ذکر۔
  • کرپشن کے خلاف نوجوانوں کی شرکت کو نیا پاکستان بنانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
  • حکومت کی زمینوں پر قبضے ختم کر کے عوام کے لیے سستے گھر بنانے کے منصوبے کی بات کی گئی۔
  • وزیراعظم نے پنجاب حکومت اور اینٹی کرپشن ٹیم کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
ایپ لانچ کر کے بڑی خوشی ہوئی
00:08
Speaker A
کیونکہ یہ ایک بہت بڑا قدم ایک ماڈرن سوسائٹی پاکستان کو بنانے میں ہے
00:20
Speaker A
جو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ابھی تک جس طرح کی کارکردگی دکھائی جو پیسے ریکور کیے یہ ایک بہت امپریسو پرفارمنس ہے
00:42
Speaker A
اور مجھے چیف منسٹر صاحب آپ سے میں ریکویسٹ کروں گا کہ اس کو آپ پبلسائز کیا کریں
00:50
Speaker A
لوگوں کو پتہ تو چلے کہ کرپشن سے اینٹی کرپشن ڈرائیو سے عوام کا کیا فائدہ ہو رہا ہے آپ نے ایک سو پتہ نہیں 30 ارب کی زمین ریکور کی
01:04
Speaker A
عوام کی زمین اور آپ نے جو پانچ ارب روپیہ کیش ریکور کیا
01:10
Speaker A
یہ آخر میں عوام پہ خرچ ہوگا
01:15
Speaker A
تو لیکن مشکل ہمیں پاکستان میں اب تک کیا ائی ہے
01:22
Speaker A
کہ لوگوں کو عوام کو سمجھ ہی نہیں ہے کہ کرپشن کا اور ان کی زندگی کا کیا تعلق ہے
01:30
Speaker A
یہ لوگ کنیکٹ نہیں کر سکے وہ سمجھتے تھے جی کرپشن ہوئی گورنمنٹ کا پیسہ ہے وہ چلا گیا
01:40
Speaker A
ہمارا کیا فرق پڑتا ہے اور کئی کرپٹ لوگوں کو وہ میں دیکھتا تھا پھول اس کے اوپر پھینک دیتے ہیں کرپٹ لوگوں کے اوپر
01:45
Speaker A
وہ زندہ باد بھی کہہ دیتے ہیں
01:47
Speaker A
یہ ایسے ہے کہ آپ کا گھر کوئی لوٹ لے اور آپ اس کے اوپر پھول پھینکنا شروع کر دیں
01:50
Speaker A
یعنی لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب ایک ملک کا پیسہ چوری ہوتا ہے تو وہ اصل میں ساری قوم کو اس کا نقصان ہوتا ہے
02:00
Speaker A
اور یہ جو ریلیشن ہے یہ تب ہوگا جب آپ اپنی پرفارمنس باقاعدہ لوگوں کو میں آپ کو سجیسٹ کرتا ہوں یہ جب آپ نے جو اب ایپ بنا لیا ہے
02:09
Speaker A
آپ اس کی جو جو بھی ہر مہینے آپ کی پرفارمنس ہو ایک پورا پبلسائز کریں
02:14
Speaker A
بلکہ اشتہار دیں
02:16
Speaker A
اور بتائیں لوگوں کو کہ عوام کا کتنا فائدہ ہوا
02:19
Speaker A
دیکھیں آج دنیا کو ذرا دیکھ لیں
02:22
Speaker A
جو سب سے دنیا میں تیز اکانومی آج آگے بڑھ رہی ہے چائنا کی
02:35
Speaker A
ان کا جو پریزیڈنٹ شی جن پنگ
02:42
Speaker A
جو سب سے پاپولر پریزیڈنٹ سمجھے جاتے ہیں
02:46
Speaker A
ان کی پاپولیرٹی کا سب سے بڑا راز کیا ہے کہ انہوں نے پچھلے پانچ چھ سالوں میں چار سو سے زیادہ
02:55
Speaker A
منسٹر لیول کے لوگوں کو کرپشن میں جیل میں ڈالا ہے
03:02
Speaker A
یعنی سب سے بڑی اکاؤنٹیبلٹی کی اینٹی کرپشن کی احتساب کی ڈرائیو کی ہے انہوں نے
03:10
Speaker A
جس کی وجہ سے چائنا میں وہ سب سے پاپولر ہیں
03:13
Speaker A
کیونکہ چائنا کے لوگوں کو سمجھ آنی شروع ہو گئی کہ اگر منسٹرز اور پرائم منسٹر یا اوپر والے جو جب پیسے کھاتے ہیں
03:20
Speaker A
تو وہ قوم غریب ہو جاتی ہے
03:23
Speaker A
اس لیے لوگ اس کو آج پریزیڈنٹ شی جن پنگ کو بڑا ایک سٹیٹس مین سمجھتے ہیں
03:28
Speaker A
اور ان کی پاپولیرٹی ہے
03:31
Speaker A
آج آپ بیروت میں دیکھیں
03:34
Speaker A
عوام سڑکوں پہ ہے کیوں ہے سڑکوں پہ کرپشن کے خلاف
03:38
Speaker A
حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف
03:40
Speaker A
چلی میں لوگ نکلے ہوئے ہیں
03:43
Speaker A
کرپشن کے خلاف
03:46
Speaker A
بیروت میں لوگ عراق میں لوگ کرپشن کے خلاف نکلے ہوئے ہیں سڑکوں پہ
03:50
Speaker A
عوام نکلی ہوئی ہے
03:52
Speaker A
کیونکہ اب یہ نیا زمانہ ہے یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے موبائل فون کا زمانہ ہے
04:00
Speaker A
لوگوں کو اب پتہ چل جاتا ہے جب کرپشن ہوتی ہے پہلے چھپ جاتی تھی
04:05
Speaker A
اب چھپتی نہیں ہے
04:07
Speaker A
اور عوام کو آہستہ آہستہ دنیا میں احساس ہو گیا کہ اگر کرپشن ہوگی تو ہمارا ملک آگے نہیں ترقی کر سکتا
04:16
Speaker A
آپ دنیا میں اٹھا کے دیکھ لیں
04:21
Speaker A
جو کرپٹ قومیں ہیں وہ سب سے غریب ہیں
04:25
Speaker A
جدھر کرپشن نہیں ہے اور جو جن کو کلین گورنمنٹس کہتے ہیں وہ سب سے امیر ہیں
04:30
Speaker A
وسائل کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس سے
04:33
Speaker A
جو غریب ترین قومیں ہیں ان میں سب سے زیادہ وسائل ہیں کانگو جو ہے جو جو کانگو کے اندر
04:40
Speaker A
کون سا وہاں ہیرے جوہرات منرلز جو کہ نہیں ہے کانگو میں
04:45
Speaker A
غریب ترین ملک ہے
04:46
Speaker A
نائیجیریا تیل پہ بیٹھا ہوا ہے
04:49
Speaker A
غربت ہمارے سے بھی زیادہ ہے
04:52
Speaker A
اور آپ سوئٹزرلینڈ کو دیکھ لیں وسائل ہے ہی نہیں
04:56
Speaker A
اور امیر ترین دنیا کا ملک ہے
05:00
Speaker A
تو آپ ساری دنیا میں اگر آپ نے دیکھنا ہے خوشحالی جس جس قوم میں کرپشن نہیں ہے کلین گورنمنٹ ہے وہ اوپر ہے
05:08
Speaker A
جو وسائل کے باوجود جس قوم میں کرپشن ہے وہ نیچے ہے
05:14
Speaker A
اس لیے ہمیشہ ایک ایک ایڈوانس ملک ایک ماڈرن سوسائٹی ایک خوشحال سوسائٹی
05:21
Speaker A
سب سے زیادہ ایمفیسز وہ کرپشن پہ دیتی ہے
05:25
Speaker A
امریکہ کے اندر 30 30 سال کے بعد وہ کرپٹ لوگوں کو پکڑ لیتے ہیں
05:31
Speaker A
ان کی سینگ ہے کہ یو کین رن بٹ یو کانٹ ہائیڈ
05:35
Speaker A
کرپشن کو چھوڑتے نہیں ہیں
05:37
Speaker A
کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اگر کرپشن ایک معاشرے میں عام ہو جائے تو معاشرے میں کیا ہوتا ہے
05:44
Speaker A
جب کرپشن ایک معاشرے میں بڑھ جاتی ہے ایک سطح سے زیادہ تو سب سے پہلے کیا ہوتا ہے
05:51
Speaker A
جو پیسہ عوام پہ خرچ ہونا ہوتا ہے وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے
05:56
Speaker A
جو لوگوں کی تعلیم پہ صحت پہ پانی پہ صاف پینے کا پانی جو جو عوام کی ضروریات ہوتی ہیں
06:03
Speaker A
ادھر سے پیسہ نکل کے لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے
06:07
Speaker A
پھر
06:09
Speaker A
جو کرپٹ لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ پیسہ حکومت میں آ کے پیسہ بناتے ہیں
06:16
Speaker A
کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ پیسہ بینک میں رکھیں گے تو سب کو پتہ چل جائے گا
06:23
Speaker A
وہ پیسہ جو یہ آج کل آپ دیکھ رہے ہیں یہ ٹی ٹی وغیرہ جو ہوتا ہے وہ پیسہ ملک سے باہر بھجوا دیتے ہیں
06:30
Speaker A
اس لیے باہر بھجواتے ہیں کہ اگر ملک میں رہ جائے تو وہ نظر آ جائے گا اس لیے وہ پیسہ باہر بھجوا دیتے ہیں
06:36
Speaker A
تو دگنا نقصان کرتے ہیں
06:38
Speaker A
جب وہ ملک سے پیسہ باہر بھجواتے ہیں تو ان کو ڈالرز لینے پڑتے ہیں
06:46
Speaker A
تو جب ڈالر لیتے ہیں جب آپ اور منی لانڈرنگ کرتے ہیں
06:51
Speaker A
تو اس سے روپے کے اوپر پریشر پڑتا ہے
06:55
Speaker A
جب روپیہ گرتا ہے قوم کی دولت بھی کم ہو جاتی ہے
07:00
Speaker A
اور جو بھی آپ چیزیں امپورٹ کرتی ہیں وہ مہنگی ہو جاتی ہیں اور قوم میں مہنگائی آ جاتی ہے
07:08
Speaker A
جب روپیہ ڈی ویلیو ڈی ویلیو کرتا ہے اب اگر تیل آپ نے امپورٹ کرنا ہے
07:14
Speaker A
بجلی مہنگی ٹریول مہنگی سب کچھ
07:18
Speaker A
اب گھی باہر سے یا تیل یعنی ایڈیبل آئلز ہم باہر سے امپورٹ کرتے ہیں وہ مہنگے
07:24
Speaker A
عوام کا عوام کے لیے
07:26
Speaker A
تو ہر چیز جو امپورٹ کرتے ہیں مہنگی ہو جاتی ہے
07:31
Speaker A
تو منی لانڈرنگ جو یہ کرتے ہیں اس سے دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے
07:37
Speaker A
تیسرا
07:39
Speaker A
کرپٹ معاشروں کے اندر انویسٹمنٹ نہیں آتی
07:43
Speaker A
اس وقت سب سے بڑا پاکستان کا اثاثہ ہے اوورسیز پاکستانی
07:47
Speaker A
آپ اگر او اگر ہم اپنا نظام ٹھیک کر لیں جو کہ یہ بڑا اچھا قدم ہے اس طرف
07:56
Speaker A
اگر ہم کرپشن کے اوپر قابو پا جائیں
08:01
Speaker A
تو جتنا پیسہ ہمارے اوورسیز پاکستانیز کے اوپر کے پاس ہے اس وقت اگر وہ پاکستان میں انویسٹ کرنا شروع کر دیں
08:10
Speaker A
جس طرح اوورسیز چائنیز نے پہلے چائنا میں انویسٹ کیا تھا جس طرح اوورسیز انڈینز نے پہلے ہندوستان میں انویسٹ کیا تھا
08:16
Speaker A
پھر ان کی اکانومی اٹھی تھی جب جب انویسٹمنٹ ان کے اپنے لوگوں کی آئی تھی
08:20
Speaker A
ہمارا اتنا بڑا اثاثہ باہر بیٹھا ہے
08:25
Speaker A
اور کیونکہ میرا ان کے ساتھ زیادہ تعلق ہے جب ہم ان سے پوچھتے ہیں
08:30
Speaker A
وہ سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ جی ہم پاکستان میں انویسٹ نہیں کرتے کرپشن بڑی ہے رشوت مانگتے ہیں لوگ
08:35
Speaker A
اس لیے یہ جو کرپشن ہے یہ تیسری چیز انویسٹمنٹ نہیں آتی اس ملک کے اندر
08:41
Speaker A
اور پھر پروجیکٹس ایسے بن جاتے ہیں
08:44
Speaker A
وہ پروجیکٹس جس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ملک میں
08:49
Speaker A
پروجیکٹ بن جاتے ہیں صرف کک بیکس کے لیے
08:52
Speaker A
پیسے بنانے کے لیے
08:54
Speaker A
اب یہ ملتان میٹرو ہے
08:56
Speaker A
وہ ملتان کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں میٹرو نہیں چاہیے
09:01
Speaker A
نہیں جی وہ تو مان یا نہ مان میں تیرا مہمان زبردستی ان کو میٹرو پکڑا دی
09:06
Speaker A
وہ خالی چل رہی ہے
09:08
Speaker A
اربوں روپے کا نقصان کر رہی ہے
09:11
Speaker A
یہ پروجیکٹس اس لیے نہیں بنائے جاتے کہ عوام کو ضرورت ہے
09:16
Speaker A
اس لیے بنائے جاتے ہیں کک بیکس کے لیے
09:19
Speaker A
تو یہ یاد رکھ لیں کہ کرپشن ہماری عوام جب تک یہ نہیں سمجھے گی کہ جو کرپٹ آدمی ہے وہ
09:27
Speaker A
عوام کا دشمن ہے
09:30
Speaker A
کہتے جی عجیب عجیب چیزیں ہم سنتے ہیں
09:34
Speaker A
اگر جی کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے
09:37
Speaker A
اس طرح کی کوئی صرف بے وقوف لوگ ایسے بات کر سکتے ہیں
09:43
Speaker A
جن کو سمجھ نہیں ہے جنہوں نے دنیا نہیں دیکھی
09:46
Speaker A
جن کو یہ نہیں پتہ کہ دنیا آگے کیوں نکل گئی ہے ہمارے سے
09:51
Speaker A
کیوں ہم پیچھے رہ گئے ہیں
09:53
Speaker A
ہم پیچھے رہے ہیں یہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو پیسہ ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم پہ خرچ کرنا تھا
10:00
Speaker A
ہائر ایجوکیشن ہائر ایجوکیشن پہ ریسرچ پہ خرچ کرنا تھا وہ آج بڑے بڑے محلات لوگوں کے باہر کے ملکوں کے اندر
10:06
Speaker A
باہر باہر بڑے بڑے اکاؤنٹس ہیں ان کے
10:08
Speaker A
اس لیے یہ ہماری قوم کی سروائیول کے لیے اور ہماری قوم کو ایک عظیم قوم بننے کے لیے
10:16
Speaker A
یہ جو ہمارا کرپشن کے خلاف یہ جو جہاد ہے
10:21
Speaker A
اس میں ساری قوم کو شرکت کرنی پڑے گی
10:25
Speaker A
اور یہ جو موبائل ایپ کے اوپر انہوں نے بڑا زبردست میں دات دیتا ہوں پنجاب گورنمنٹ کی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا
10:33
Speaker A
کہ انہوں نے یہ بنائی اس کا مطلب ہر کوئی بھی شرکت کر سکتا ہے
10:37
Speaker A
ہر کوئی اس اینٹی کرپشن مہم کے اندر اب صرف اپنے ایپ پہ
10:43
Speaker A
اپنے موبائل فون کے اوپر ان کو میسج دیں
10:45
Speaker A
تو سب شرکت کر سکتے ہیں
10:48
Speaker A
اور جب یہ معاشرے کے اندر ہمارے خاص طور پہ نوجوانوں کے اندر یہ سمجھ آ گئی
10:55
Speaker A
کہ ہم اپنی مستقبل کو بچا رہے ہیں یہ کرپٹ لوگوں کو ایکسپوز کرنے کے لیے
11:02
Speaker A
نیا پاکستان تو بن ہی رہا ہے لیکن نیا پاکستان ڈیفینیٹلی بن جائے گا
11:06
Speaker A
جب جب نوجوان خود شرکت کریں گے خود کرپٹ لوگوں کے پیچھے جائیں گے
11:11
Speaker A
تو میں چیف منسٹر صاحب آپ کو
11:13
Speaker A
آپ کے ڈی جی اینٹی کرپشن کو آپ کی سارے جو آپ کی ٹیم ہے پنجاب میں جو کرپشن کے خلاف اور جتنی زمینیں جنہوں نے ریٹریو کی ہیں
11:23
Speaker A
میں پھر سے آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
11:26
Speaker A
لوگوں کو اب تک یہ نہیں پتہ تھا کہ جب حکومت کی زمینوں کے اوپر قبضے ہو جاتے ہیں
11:34
Speaker A
اربوں اربوں روپے کی زمینیں ہیں کھربوں روپے کی زمینیں ہیں جن کے اوپر لوگ قبضہ کر کے بیٹھ گئے ہیں
11:38
Speaker A
لوگ حکومت کو کی زمین یا پیسے کو اپنا نہیں سمجھتے
11:43
Speaker A
اگر وہ اپنا سمجھے تو وہ بھی دات دیں ان کو کہ 130 ارب روپے کی زمین انہوں نے ریٹریو کر لی ہے
11:48
Speaker A
اب یہ عوام کے لیے انشاءاللہ استعمال ہوگی
11:51
Speaker A
یہ زمین کو جو ہم نے غریب لوگوں کے لیے ہاؤسنگ ہے اس کے لیے ہم استعمال کر سکتے ہیں
11:57
Speaker A
کہ یہ زمین رکھ کے اور اس کے اوپر سستے گھر بنے تاکہ عام لوگوں کے پاس جن کے پاس
12:03
Speaker A
گھر بنانے کے لیے پیسے نہیں ہیں وہ اس میں اس میں شرکت کر سکتے ہیں
12:08
Speaker A
بہت بہت شکریہ
12:18
Speaker B
وزیراعظم عمران خان گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ انسداد بدعنوانی سے متعلق ایپ لانچ کر کے خوشی ہوئی
12:27
Speaker B
جڑیوں سے فی الوقت اتنا ہی مزید اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے ہماری ویب سائٹ arynews.tv دیکھتے رہیے ARY News
Topics:عمران خانانسداد بدعنوانیکرپشنپاکستاناینٹی کرپشن ایپپنجاب حکومتمعاشی ترقیاوورسیز پاکستانیسرمایہ کارینوجوانوں کی شرکت

Frequently Asked Questions

انسداد بدعنوانی ایپ کا مقصد کیا ہے؟

انسداد بدعنوانی ایپ کا مقصد عوام کو کرپشن کے خلاف شامل کرنا اور کرپشن کی روک تھام میں شفافیت اور عوامی شرکت کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف کیا اقدامات کی سفارش کی؟

وزیراعظم نے کرپشن کے خلاف عوامی شعور بڑھانے، کارکردگی کو پبلسائز کرنے، اور نوجوانوں کی شرکت کو ضروری قرار دیا ہے تاکہ نیا پاکستان بنایا جا سکے۔

کرپشن پاکستان کی معیشت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

کرپشن کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہوتی ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور عوامی وسائل عوام تک نہیں پہنچ پاتے جس سے ملک کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →