عمران خان کی تاریخی تقریر، سوابی جلسے میں نوجوانوں کو اسلام آباد مارچ کی دعوت اور امپورٹڈ حکومت کی مخالفت۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے نوجوانوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔
- امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
- پاکستانی قوم کو اپنی خودمختاری اور عزت کے لیے لڑنا ہوگا۔
- ڈرون حملوں اور غیر ملکی مداخلتوں کی مذمت کی گئی۔
- عوامی انتخابات کے ذریعے قیادت کا انتخاب ہونا چاہیے۔
What the video covers
- عمران خان نے سوابی جلسے میں نوجوانوں کو اسلام آباد مارچ کے لیے تیار ہونے کی اپیل کی۔
- انہوں نے پاکستان کی قربانیوں اور غلامی کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔
- امریکی سازش کے تحت مسلط کی گئی امپورٹڈ حکومت کی سخت مخالفت کی۔
- ڈرون حملوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا۔
- زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں کو امریکی غلامی کا نمائندہ قرار دیا۔
- پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے نوجوانوں کو متحد ہونے کی دعوت دی۔
- الیکشن کرانے اور عوام کو قیادت منتخب کرنے کا مطالبہ کیا۔
- اپنے اور قوم کے حق میں کھڑے ہونے پر نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا۔
- پاکستان کی خودمختاری اور عزت کی بحالی پر زور دیا۔
- محمود خان کی نائٹ کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے روشنی لگانے کی خوشخبری سنائی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین
Speaker A
اچھا سوابی پہلے مجھے ہاتھ کھڑا کر کے اپ نے بتانا ہے کدھر تک میری اواز جا رہی ہے
Speaker A
کدھر تک اواز جا رہی ہے
Speaker A
پیچھے اواز جا رہی ہے پیچھے
Speaker A
سوابی اسلام اباد کے اپ قریب ہو
Speaker A
اور میں نے جب اپ کو کال دینی ہے
Speaker A
جب میں اپ کو کال دوں گا میں اپنے سوابی کے باشعور اور دلیر نوجوانوں کو میں سب کو اسلام اباد میں ملنا چاہتا ہوں
Speaker A
تیار ہو
Speaker A
ہاتھ کھڑے کر کے مجھے بتاؤ
Speaker A
کہ اس ملک کی
Speaker A
حقیقی ازادی کے لیے
Speaker A
اپ اسلام اباد ائیں گے ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ
Speaker A
اور جو بھی نہیں ا سکتا اسلام اباد
Speaker A
وہ سوابی میں نکلے گا
Speaker A
اور بتائے گا
Speaker A
کہ غلامی نامنظور
Speaker A
امپورٹڈ حکومت نامنظور
Speaker A
سوابی کے نوجوانوں
Speaker A
میں صرف اپ کو
Speaker A
اپنے ماں باپ کے دور کا بتانا چاہتا ہوں
Speaker A
میں ازاد پاکستان میں پیدا ہوا تھا
Speaker A
میرے ماں باپ
Speaker A
غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے
Speaker A
اور جب ہندوستان کی ہم غلامی کر رہے تھے
Speaker A
تو دو دفعہ جب برطانیہ نے دو جنگوں کے اندر شرکت کی
Speaker A
پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم
Speaker A
تو سوابی کے نوجوانوں یہ یاد رکھو
Speaker A
لاکھوں لوگوں نے یہاں سے لڑے اور انگریز کے لیے قربانیاں دیں
Speaker A
لاکھوں لوگ
Speaker A
ہندوستان سے جا کے انگریز کی جنگوں میں لڑے
Speaker A
لیکن کبھی ان کو کسی نے نہیں پوچھا
Speaker A
نہ کبھی ان کا شکریہ ادا کیا گیا
Speaker A
اربوں روپیہ جو یہاں سے اکٹھا کر کے
Speaker A
انگریزوں کی جنگ میں لگا
Speaker A
کسی نے نہیں پرواہ کی
Speaker A
کسی نے شکریہ ادا نہیں کیا
Speaker A
کیونکہ ہندوستان غلام تھا
Speaker A
غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی
Speaker A
اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے
Speaker A
کہ جب امریکہ کی جنگ ہوئی نو گیارہ کے بعد
Speaker A
اور پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شرکت کی
Speaker A
تو سب کو اپ کو پتہ ہے کتنے پختونخواہ سے لوگوں نے قربانیاں دیں
Speaker A
امریکوں کی جنگ میں
Speaker A
اسی ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں
Speaker A
اور یہاں قبائلی علاقے کے لوگ
Speaker A
جو سارے پختونخواہ کے ساتھ اب پختونخواہ کا حصہ بن چکے ہیں
Speaker A
قبائلی علاقے کے لوگوں نے سب سے زیادہ قربانی دی
Speaker A
پینتیس لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی
Speaker A
لیکن
Speaker A
کیا کسی نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا
Speaker A
کیا
Speaker A
امریکہ نے کہا کہ شکریہ پاکستان اپ نے اسی ہزار اپنے لوگ قربان کر دیے
Speaker A
ہماری فوج
Speaker A
تین گنا زیادہ ہماری فوجیوں نے قربانی دی بنسبت جو امریکن افغانستان میں جن کی جانیں گئیں
Speaker A
کسی نے شکریہ ادا نہیں کیا
Speaker A
بلکہ کئی
Speaker A
وہاں سے اوازیں اٹھیں
Speaker A
امریکہ سے کہ پاکستان کی وجہ سے وہ جنگ نہیں جیت سکے افغانستان میں
Speaker A
تو پاکستانیوں
Speaker A
میرے غیور باشعور سوابی کے نوجوانوں
Speaker A
میرے پاکستانیوں
Speaker A
یہ یاد رکھ لو
Speaker A
کہ غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی
Speaker A
اس لیے
Speaker A
اس لیے یہ جو امپورٹڈ حکومت
Speaker A
امریکی سازش کے تحت باہر کی سازش
Speaker A
اور اندر کی سازش نے مل کے
Speaker A
جو یہ حکومت ہمارے پہ ملوث کی ہے
Speaker A
میری قوم اب تیار ہو جاؤ
Speaker A
ہم نے کسی صورت
Speaker A
امریکنوں کے غلاموں کو چوروں اور ڈاکوؤں کو ہم نے کسی صورت تسلیم نہیں کرنا
Speaker A
اس لیے اپ سب نے
Speaker A
سوابی پاس ہے اسلام اباد سے
Speaker A
اپ سب نے انا ہے
Speaker A
اور میرے ساتھ شرکت کرنی ہے
Speaker A
اور ہم نے اس امپورٹڈ حکومت کو پیغام دینا ہے
Speaker A
اور جنہوں نے مسلط کیا ہے یہ حکومت
Speaker A
کہ یہ ایک ازاد قوم ہے
Speaker A
ہم وہ لوگ ہیں
Speaker A
ہم وہ لوگ ہیں جو کہ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر
Speaker A
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم ان کی امت ہیں
Speaker A
اور
Speaker A
سوابی
Speaker A
جب پاکستان بن رہا تھا
Speaker A
پاکستان کا نعرہ کیا تھا
Speaker A
نعرہ یہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا
Speaker A
سوابی
Speaker A
یہ
Speaker A
دونوں
Speaker A
زرداری اور شریف دس سال جب انہوں نے حکومت کی دو ہزار اٹھ اور اٹھارہ کے درمیان
Speaker A
اور ٹھیک کہہ رہے ہو
Speaker A
شکریہ یاد کرانے کا ڈیزل ان کے ساتھ فٹ ہوا ہوا تھا
Speaker A
ان تھری سٹوچز نے
Speaker A
دس سال جب حکومت کی مل کے
Speaker A
تو نوجوانوں
Speaker A
چار سو ڈرون اٹیک ہوئے پاکستان کے اوپر
Speaker A
چار سو
Speaker A
اور قبائلی علاقے میں
Speaker A
اپ جانتے ہیں
Speaker A
کہ ڈرون اٹیک کیا ہوتا ہے
Speaker A
اپ کو پتہ ہے کیا ہوتا ہے
Speaker A
چار ہزار میل دور بیٹھ کے ایک کمرے کے اندر
Speaker A
کمپیوٹر گیم کھیلی جاتی ہے بٹن دبا کے
Speaker A
چار ہزار امریکہ میل چار ہزار میل دور امریکہ میں
Speaker A
ایک ادمی بیٹھا ہوتا ہے
Speaker A
سامنے کمپیوٹر سکرین ہوتی ہے اس کے
Speaker A
یہاں سے اس کو پیغام جاتا ہے کہ جی
Speaker A
اس ایریا میں دہشتگرد ہیں
Speaker A
چار ہزار میل دور بیٹھ کے وہ بٹن دباتا ہے بم گرتا ہے
Speaker A
نیچے کون مرتا ہے
Speaker A
کبھی کسی کو پتہ نہیں چلا
Speaker A
لیکن
Speaker A
لیکن سنیں ذرا میری بات
Speaker A
وہاں عورتیں بچے مرے
Speaker A
بزرگ مرے
Speaker A
ایک جگہ انہوں نے ڈرون اٹیک کیا باجوڑ میں
Speaker A
چونسٹھ بچے مدرسے میں مر گئے
Speaker A
چونسٹھ بچے
Speaker A
ایک جگہ وزیرستان میں
Speaker A
ڈرون اٹیک ہوتا ہے
Speaker A
سات لوگ مر جاتے ہیں
Speaker A
جو زخمی ہوتے ہیں ان کی چیخوں کی اوازیں
Speaker A
لوگ اتے ہیں ان کو بچانے کے لیے
Speaker A
دوسرا ڈرون اٹیک ہوتا ہے سات اور لوگ مر جاتے ہیں
Speaker A
صبح تک
Speaker A
صبح تک لوگ کرتے ہیں جاتے ہوئے قریب
Speaker A
جو زخمی ہیں ان کی اوازیں ا رہی ہوتی ہیں
Speaker A
صبح کو لوگ بچانے جاتے ہیں
Speaker A
پھر ڈرون اٹیک ہوتا ہے سات اور مر جاتے ہیں
Speaker A
اکیس لوگ مرتے ہیں
Speaker A
شادیوں پہ ڈرون اٹیک
Speaker A
جنازوں پہ ڈرون اٹیک
Speaker A
اور اپ جانتے ہیں
Speaker A
کہ ایک دفعہ نہ زرداری کے منہ سے ایک اواز نکلی
Speaker A
اور یہ گیدڑ نواز شریف کے منہ سے ایک دفعہ امریکنوں کو اس نے کہا
Speaker A
ان میں اتنی جرات نہیں تھی
Speaker A
کہ امریکنوں کو کہتے کہ یہ سارے انسانی حقوق کے خلاف ہے
Speaker A
دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کہ اپ فیصلہ کریں مجرم کون ہے
Speaker A
اور اپ ہی اس کو قتل کر دیں
Speaker A
جج جوری ایگزیکیوٹر
Speaker A
دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا
Speaker A
لیکن اس ملک پہ جن کے لیے ہم جنگ لڑ رہے تھے چار سو ڈرون اٹیک ہوئے
Speaker A
ایک دفعہ ان دونوں نے جرات نہیں کی
Speaker A
امریکہ کو کہنے کے لیے کہ کیا اپ اپنے ملک میں دہشتگرد کے اوپر ڈرون اٹیک کریں گے
Speaker A
تو اگر اپنے ملک میں اپ ہمیں کہتے ہیں کہ عدالت میں جا کے ثابت کرو وہ دہشتگرد ہے
Speaker A
تو ہمارے ملک میں اپ نے کیسے
Speaker A
کیسے اپ نے چار سو ڈرون اٹیک کیے
Speaker A
بے قصور لوگوں کو مارا
Speaker A
عورتیں بچوں کو مارا
Speaker A
اور یہ دو جن کو پھر سے ان دو خاندانوں کو پھر سے جو مسلط کیا ہے
Speaker A
اسی لیے کیا ہے
Speaker A
کہ یہ ان کے غلام ہیں
Speaker A
ان میں جرات نہیں ہے
Speaker A
یہ پیسے کے اوپر پیسے کی پوجا کرنے والے ہیں
Speaker A
یہ پیسے کے بت کی پوجا کرنے والے ہیں
Speaker A
ان کے پیسے پڑے ہیں باہر
Speaker A
ان کے لندن میں امریکہ میں پیسے پڑے ہوئے ہیں
Speaker A
یہ کبھی اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے ان کے فائدے کے لیے
Speaker A
یہ کبھی اپنی زبان ان کے اپنے
Speaker A
اپنے اقاؤں کے سامنے زبان نہیں کھولیں گے
Speaker A
اس لیے ان کو لے کے ائے ہیں
Speaker A
اس لیے ان کو پاکستان پر مسلط کیا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ عمران خان
Speaker A
نہ ان کو بیس دے گا نہ یہاں سے ان کی کسی جنگ میں شرکت کرے گا
Speaker A
نہ
Speaker A
وہ اپنے ملک کے مفادات کو ان کے لیے قربان کرے گا
Speaker A
اپنے لوگوں کے فیصلے کرے گا
Speaker A
کیونکہ عمران خان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے
Speaker A
اس لیے نوجوانوں یہ سازش کی گئی
Speaker A
اور اس لیے
Speaker A
اپ نے اسلام اباد پہنچنا ہے
Speaker A
نہ اپ نے گرمی دیکھنی ہے نہ اپ نے دیکھنا ہے کہ جناب
Speaker A
بارش نہیں ہوئی کوئی فکر نہ کریں
Speaker A
ہم
Speaker A
ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈر
Speaker A
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں
Speaker A
ہمیں کوئی خوف نہیں ہے
Speaker A
اللہ قران میں کہتا ہے جو لوگ ایمان لے ائیں
Speaker A
اللہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے
Speaker A
ہمارے میں کوئی خوف نہیں ہے
Speaker A
اور ہم انشاءاللہ ان چوروں کو ان غلاموں کو
Speaker A
ان کو انشاءاللہ کبھی تسلیم بھی نہیں کریں گے
Speaker A
ہم صرف ایک چیز چاہتے ہیں
Speaker A
الیکشن کرواؤ
Speaker A
الیکشن کرواؤ
Speaker A
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ فیصلہ کریں کہ اس ملک کی قیادت کون کرے گا
Speaker A
ہم کوئی امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے
Speaker A
تو اخر میں میرے سوابی کے
Speaker A
باشعور اور دلیر نوجوانوں
Speaker A
میں پھر سے اپ کے جنون اور اپ کے شعور کا
Speaker A
اپ کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں
Speaker A
اپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
Speaker A
میں یہاں اپنی ٹیم
Speaker A
اصف اپ کو اور شرام ترکئی اور اپ اور اپ کی فیملی اور میرے باقی سارے
Speaker A
پرانے پرانے جب میں شروع میں سوابی اتا تھا تو چھوٹے چھوٹے بچے تھے اج سفید بال ہو گئے ان کے
Speaker A
میں اپ سب کو
Speaker A
اج خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اپ نے میرے ساتھ اتنی اونچ نیچ میں
Speaker A
اتنا میرے ساتھ وقت گزارا
Speaker A
اپ برے وقت پہ بھی میرے ساتھ کھڑے ہوئے
Speaker A
اور اخر میں میں محمود خان
Speaker A
اپ نے اس نے جو اپ کے لیے اج فیصلہ کیا ہے
Speaker A
کہ یہاں نائٹ کرکٹ کے لیے روشنی لگے گی اسٹیڈیم میں اس کی بھی مبارک دیتا ہوں اپ کو
Speaker A
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
Topics:عمران خانسوابی جلسہاسلام آباد مارچامپورٹڈ حکومتپاکستان کی آزادیڈرون حملےنوجوانوں کی تحریکپاکستانی سیاستمحمود خاننائٹ کرکٹ اسٹیڈیم











