Imran Khan Historic Speech at Swabi Jalsa | 16th May 20… — Transcript

عمران خان کی تاریخی تقریر، سوابی جلسے میں نوجوانوں کو اسلام آباد مارچ کی دعوت اور امپورٹڈ حکومت کی مخالفت۔

Key Takeaways

  • پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے نوجوانوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔
  • امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
  • پاکستانی قوم کو اپنی خودمختاری اور عزت کے لیے لڑنا ہوگا۔
  • ڈرون حملوں اور غیر ملکی مداخلتوں کی مذمت کی گئی۔
  • عوامی انتخابات کے ذریعے قیادت کا انتخاب ہونا چاہیے۔

Summary

  • عمران خان نے سوابی جلسے میں نوجوانوں کو اسلام آباد مارچ کے لیے تیار ہونے کی اپیل کی۔
  • انہوں نے پاکستان کی قربانیوں اور غلامی کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔
  • امریکی سازش کے تحت مسلط کی گئی امپورٹڈ حکومت کی سخت مخالفت کی۔
  • ڈرون حملوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا۔
  • زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں کو امریکی غلامی کا نمائندہ قرار دیا۔
  • پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے نوجوانوں کو متحد ہونے کی دعوت دی۔
  • الیکشن کرانے اور عوام کو قیادت منتخب کرنے کا مطالبہ کیا۔
  • اپنے اور قوم کے حق میں کھڑے ہونے پر نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا۔
  • پاکستان کی خودمختاری اور عزت کی بحالی پر زور دیا۔
  • محمود خان کی نائٹ کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے روشنی لگانے کی خوشخبری سنائی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین
00:08
Speaker A
اچھا سوابی پہلے مجھے ہاتھ کھڑا کر کے اپ نے بتانا ہے کدھر تک میری اواز جا رہی ہے
00:16
Speaker A
کدھر تک اواز جا رہی ہے
00:20
Speaker A
پیچھے اواز جا رہی ہے پیچھے
00:27
Speaker A
سوابی اسلام اباد کے اپ قریب ہو
00:33
Speaker A
اور میں نے جب اپ کو کال دینی ہے
00:40
Speaker A
جب میں اپ کو کال دوں گا میں اپنے سوابی کے باشعور اور دلیر نوجوانوں کو میں سب کو اسلام اباد میں ملنا چاہتا ہوں
00:57
Speaker A
تیار ہو
01:00
Speaker A
ہاتھ کھڑے کر کے مجھے بتاؤ
01:05
Speaker A
کہ اس ملک کی
01:10
Speaker A
حقیقی ازادی کے لیے
01:16
Speaker A
اپ اسلام اباد ائیں گے ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ
01:20
Speaker A
اور جو بھی نہیں ا سکتا اسلام اباد
01:25
Speaker A
وہ سوابی میں نکلے گا
01:30
Speaker A
اور بتائے گا
01:35
Speaker A
کہ غلامی نامنظور
01:39
Speaker A
امپورٹڈ حکومت نامنظور
01:45
Speaker A
سوابی کے نوجوانوں
01:48
Speaker A
میں صرف اپ کو
01:53
Speaker A
اپنے ماں باپ کے دور کا بتانا چاہتا ہوں
01:58
Speaker A
میں ازاد پاکستان میں پیدا ہوا تھا
02:02
Speaker A
میرے ماں باپ
02:07
Speaker A
غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے
02:11
Speaker A
اور جب ہندوستان کی ہم غلامی کر رہے تھے
02:18
Speaker A
تو دو دفعہ جب برطانیہ نے دو جنگوں کے اندر شرکت کی
02:25
Speaker A
پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم
02:30
Speaker A
تو سوابی کے نوجوانوں یہ یاد رکھو
02:36
Speaker A
لاکھوں لوگوں نے یہاں سے لڑے اور انگریز کے لیے قربانیاں دیں
02:43
Speaker A
لاکھوں لوگ
02:47
Speaker A
ہندوستان سے جا کے انگریز کی جنگوں میں لڑے
02:54
Speaker A
لیکن کبھی ان کو کسی نے نہیں پوچھا
03:00
Speaker A
نہ کبھی ان کا شکریہ ادا کیا گیا
03:04
Speaker A
اربوں روپیہ جو یہاں سے اکٹھا کر کے
03:10
Speaker A
انگریزوں کی جنگ میں لگا
03:15
Speaker A
کسی نے نہیں پرواہ کی
03:19
Speaker A
کسی نے شکریہ ادا نہیں کیا
03:22
Speaker A
کیونکہ ہندوستان غلام تھا
03:27
Speaker A
غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی
03:31
Speaker A
اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے
03:37
Speaker A
کہ جب امریکہ کی جنگ ہوئی نو گیارہ کے بعد
03:44
Speaker A
اور پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شرکت کی
03:52
Speaker A
تو سب کو اپ کو پتہ ہے کتنے پختونخواہ سے لوگوں نے قربانیاں دیں
03:59
Speaker A
امریکوں کی جنگ میں
04:03
Speaker A
اسی ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں
04:09
Speaker A
اور یہاں قبائلی علاقے کے لوگ
04:15
Speaker A
جو سارے پختونخواہ کے ساتھ اب پختونخواہ کا حصہ بن چکے ہیں
04:21
Speaker A
قبائلی علاقے کے لوگوں نے سب سے زیادہ قربانی دی
04:27
Speaker A
پینتیس لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی
04:31
Speaker A
لیکن
04:34
Speaker A
کیا کسی نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا
04:40
Speaker A
کیا
04:42
Speaker A
امریکہ نے کہا کہ شکریہ پاکستان اپ نے اسی ہزار اپنے لوگ قربان کر دیے
04:49
Speaker A
ہماری فوج
04:53
Speaker A
تین گنا زیادہ ہماری فوجیوں نے قربانی دی بنسبت جو امریکن افغانستان میں جن کی جانیں گئیں
05:02
Speaker A
کسی نے شکریہ ادا نہیں کیا
05:06
Speaker A
بلکہ کئی
05:10
Speaker A
وہاں سے اوازیں اٹھیں
05:16
Speaker A
امریکہ سے کہ پاکستان کی وجہ سے وہ جنگ نہیں جیت سکے افغانستان میں
05:23
Speaker A
تو پاکستانیوں
05:27
Speaker A
میرے غیور باشعور سوابی کے نوجوانوں
05:33
Speaker A
میرے پاکستانیوں
05:36
Speaker A
یہ یاد رکھ لو
05:40
Speaker A
کہ غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی
05:47
Speaker A
اس لیے
05:50
Speaker A
اس لیے یہ جو امپورٹڈ حکومت
05:57
Speaker A
امریکی سازش کے تحت باہر کی سازش
06:03
Speaker A
اور اندر کی سازش نے مل کے
06:08
Speaker A
جو یہ حکومت ہمارے پہ ملوث کی ہے
06:13
Speaker A
میری قوم اب تیار ہو جاؤ
06:17
Speaker A
ہم نے کسی صورت
06:22
Speaker A
امریکنوں کے غلاموں کو چوروں اور ڈاکوؤں کو ہم نے کسی صورت تسلیم نہیں کرنا
06:31
Speaker A
اس لیے اپ سب نے
06:35
Speaker A
سوابی پاس ہے اسلام اباد سے
06:40
Speaker A
اپ سب نے انا ہے
06:45
Speaker A
اور میرے ساتھ شرکت کرنی ہے
06:50
Speaker A
اور ہم نے اس امپورٹڈ حکومت کو پیغام دینا ہے
06:55
Speaker A
اور جنہوں نے مسلط کیا ہے یہ حکومت
07:00
Speaker A
کہ یہ ایک ازاد قوم ہے
07:04
Speaker A
ہم وہ لوگ ہیں
07:09
Speaker A
ہم وہ لوگ ہیں جو کہ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر
07:16
Speaker A
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم ان کی امت ہیں
07:23
Speaker A
اور
07:25
Speaker A
سوابی
07:28
Speaker A
جب پاکستان بن رہا تھا
07:32
Speaker A
پاکستان کا نعرہ کیا تھا
07:38
Speaker A
نعرہ یہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا
07:45
Speaker A
سوابی
07:48
Speaker A
یہ
07:51
Speaker A
دونوں
07:54
Speaker A
زرداری اور شریف دس سال جب انہوں نے حکومت کی دو ہزار اٹھ اور اٹھارہ کے درمیان
08:04
Speaker A
اور ٹھیک کہہ رہے ہو
08:07
Speaker A
شکریہ یاد کرانے کا ڈیزل ان کے ساتھ فٹ ہوا ہوا تھا
08:14
Speaker A
ان تھری سٹوچز نے
08:18
Speaker A
دس سال جب حکومت کی مل کے
08:24
Speaker A
تو نوجوانوں
08:27
Speaker A
چار سو ڈرون اٹیک ہوئے پاکستان کے اوپر
08:32
Speaker A
چار سو
08:35
Speaker A
اور قبائلی علاقے میں
08:39
Speaker A
اپ جانتے ہیں
08:43
Speaker A
کہ ڈرون اٹیک کیا ہوتا ہے
08:46
Speaker A
اپ کو پتہ ہے کیا ہوتا ہے
08:49
Speaker A
چار ہزار میل دور بیٹھ کے ایک کمرے کے اندر
08:57
Speaker A
کمپیوٹر گیم کھیلی جاتی ہے بٹن دبا کے
09:04
Speaker A
چار ہزار امریکہ میل چار ہزار میل دور امریکہ میں
09:10
Speaker A
ایک ادمی بیٹھا ہوتا ہے
09:15
Speaker A
سامنے کمپیوٹر سکرین ہوتی ہے اس کے
09:19
Speaker A
یہاں سے اس کو پیغام جاتا ہے کہ جی
09:24
Speaker A
اس ایریا میں دہشتگرد ہیں
09:28
Speaker A
چار ہزار میل دور بیٹھ کے وہ بٹن دباتا ہے بم گرتا ہے
09:35
Speaker A
نیچے کون مرتا ہے
09:39
Speaker A
کبھی کسی کو پتہ نہیں چلا
09:42
Speaker A
لیکن
09:45
Speaker A
لیکن سنیں ذرا میری بات
09:49
Speaker A
وہاں عورتیں بچے مرے
09:52
Speaker A
بزرگ مرے
09:55
Speaker A
ایک جگہ انہوں نے ڈرون اٹیک کیا باجوڑ میں
10:01
Speaker A
چونسٹھ بچے مدرسے میں مر گئے
10:05
Speaker A
چونسٹھ بچے
10:08
Speaker A
ایک جگہ وزیرستان میں
10:13
Speaker A
ڈرون اٹیک ہوتا ہے
10:16
Speaker A
سات لوگ مر جاتے ہیں
10:19
Speaker A
جو زخمی ہوتے ہیں ان کی چیخوں کی اوازیں
10:24
Speaker A
لوگ اتے ہیں ان کو بچانے کے لیے
10:28
Speaker A
دوسرا ڈرون اٹیک ہوتا ہے سات اور لوگ مر جاتے ہیں
10:33
Speaker A
صبح تک
10:36
Speaker A
صبح تک لوگ کرتے ہیں جاتے ہوئے قریب
10:41
Speaker A
جو زخمی ہیں ان کی اوازیں ا رہی ہوتی ہیں
10:45
Speaker A
صبح کو لوگ بچانے جاتے ہیں
10:48
Speaker A
پھر ڈرون اٹیک ہوتا ہے سات اور مر جاتے ہیں
10:53
Speaker A
اکیس لوگ مرتے ہیں
10:56
Speaker A
شادیوں پہ ڈرون اٹیک
11:00
Speaker A
جنازوں پہ ڈرون اٹیک
11:03
Speaker A
اور اپ جانتے ہیں
11:07
Speaker A
کہ ایک دفعہ نہ زرداری کے منہ سے ایک اواز نکلی
11:14
Speaker A
اور یہ گیدڑ نواز شریف کے منہ سے ایک دفعہ امریکنوں کو اس نے کہا
11:23
Speaker A
ان میں اتنی جرات نہیں تھی
11:27
Speaker A
کہ امریکنوں کو کہتے کہ یہ سارے انسانی حقوق کے خلاف ہے
11:35
Speaker A
دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا کہ اپ فیصلہ کریں مجرم کون ہے
11:41
Speaker A
اور اپ ہی اس کو قتل کر دیں
11:44
Speaker A
جج جوری ایگزیکیوٹر
11:48
Speaker A
دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا
11:53
Speaker A
لیکن اس ملک پہ جن کے لیے ہم جنگ لڑ رہے تھے چار سو ڈرون اٹیک ہوئے
12:00
Speaker A
ایک دفعہ ان دونوں نے جرات نہیں کی
12:06
Speaker A
امریکہ کو کہنے کے لیے کہ کیا اپ اپنے ملک میں دہشتگرد کے اوپر ڈرون اٹیک کریں گے
12:13
Speaker A
تو اگر اپنے ملک میں اپ ہمیں کہتے ہیں کہ عدالت میں جا کے ثابت کرو وہ دہشتگرد ہے
12:20
Speaker A
تو ہمارے ملک میں اپ نے کیسے
12:26
Speaker A
کیسے اپ نے چار سو ڈرون اٹیک کیے
12:30
Speaker A
بے قصور لوگوں کو مارا
12:34
Speaker A
عورتیں بچوں کو مارا
12:37
Speaker A
اور یہ دو جن کو پھر سے ان دو خاندانوں کو پھر سے جو مسلط کیا ہے
12:42
Speaker A
اسی لیے کیا ہے
12:46
Speaker A
کہ یہ ان کے غلام ہیں
12:49
Speaker A
ان میں جرات نہیں ہے
12:52
Speaker A
یہ پیسے کے اوپر پیسے کی پوجا کرنے والے ہیں
12:57
Speaker A
یہ پیسے کے بت کی پوجا کرنے والے ہیں
13:01
Speaker A
ان کے پیسے پڑے ہیں باہر
13:04
Speaker A
ان کے لندن میں امریکہ میں پیسے پڑے ہوئے ہیں
13:10
Speaker A
یہ کبھی اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے ان کے فائدے کے لیے
13:16
Speaker A
یہ کبھی اپنی زبان ان کے اپنے
13:21
Speaker A
اپنے اقاؤں کے سامنے زبان نہیں کھولیں گے
13:26
Speaker A
اس لیے ان کو لے کے ائے ہیں
13:29
Speaker A
اس لیے ان کو پاکستان پر مسلط کیا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ عمران خان
13:37
Speaker A
نہ ان کو بیس دے گا نہ یہاں سے ان کی کسی جنگ میں شرکت کرے گا
13:44
Speaker A
نہ
13:48
Speaker A
وہ اپنے ملک کے مفادات کو ان کے لیے قربان کرے گا
13:55
Speaker A
اپنے لوگوں کے فیصلے کرے گا
13:58
Speaker A
کیونکہ عمران خان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے
14:03
Speaker A
اس لیے نوجوانوں یہ سازش کی گئی
14:09
Speaker A
اور اس لیے
14:12
Speaker A
اپ نے اسلام اباد پہنچنا ہے
14:16
Speaker A
نہ اپ نے گرمی دیکھنی ہے نہ اپ نے دیکھنا ہے کہ جناب
14:22
Speaker A
بارش نہیں ہوئی کوئی فکر نہ کریں
14:26
Speaker A
ہم
14:29
Speaker A
ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈر
14:35
Speaker A
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں
14:42
Speaker A
ہمیں کوئی خوف نہیں ہے
14:46
Speaker A
اللہ قران میں کہتا ہے جو لوگ ایمان لے ائیں
14:50
Speaker A
اللہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے
14:52
Speaker A
ہمارے میں کوئی خوف نہیں ہے
14:55
Speaker A
اور ہم انشاءاللہ ان چوروں کو ان غلاموں کو
15:00
Speaker A
ان کو انشاءاللہ کبھی تسلیم بھی نہیں کریں گے
15:04
Speaker A
ہم صرف ایک چیز چاہتے ہیں
15:06
Speaker A
الیکشن کرواؤ
15:09
Speaker A
الیکشن کرواؤ
15:12
Speaker A
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ فیصلہ کریں کہ اس ملک کی قیادت کون کرے گا
15:18
Speaker A
ہم کوئی امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے
15:24
Speaker A
تو اخر میں میرے سوابی کے
15:29
Speaker A
باشعور اور دلیر نوجوانوں
15:34
Speaker A
میں پھر سے اپ کے جنون اور اپ کے شعور کا
15:40
Speaker A
اپ کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں
15:44
Speaker A
اپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
15:48
Speaker A
میں یہاں اپنی ٹیم
15:51
Speaker A
اصف اپ کو اور شرام ترکئی اور اپ اور اپ کی فیملی اور میرے باقی سارے
16:00
Speaker A
پرانے پرانے جب میں شروع میں سوابی اتا تھا تو چھوٹے چھوٹے بچے تھے اج سفید بال ہو گئے ان کے
16:09
Speaker A
میں اپ سب کو
16:13
Speaker A
اج خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اپ نے میرے ساتھ اتنی اونچ نیچ میں
16:20
Speaker A
اتنا میرے ساتھ وقت گزارا
16:24
Speaker A
اپ برے وقت پہ بھی میرے ساتھ کھڑے ہوئے
16:27
Speaker A
اور اخر میں میں محمود خان
16:31
Speaker A
اپ نے اس نے جو اپ کے لیے اج فیصلہ کیا ہے
16:36
Speaker A
کہ یہاں نائٹ کرکٹ کے لیے روشنی لگے گی اسٹیڈیم میں اس کی بھی مبارک دیتا ہوں اپ کو
16:44
Speaker A
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
Topics:عمران خانسوابی جلسہاسلام آباد مارچامپورٹڈ حکومتپاکستان کی آزادیڈرون حملےنوجوانوں کی تحریکپاکستانی سیاستمحمود خاننائٹ کرکٹ اسٹیڈیم

Frequently Asked Questions

عمران خان نے سوابی جلسے میں کیا پیغام دیا؟

عمران خان نے نوجوانوں کو اسلام آباد مارچ کے لیے تیار ہونے کی دعوت دی اور امپورٹڈ حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے متحد ہونے کا پیغام دیا۔

عمران خان نے امپورٹڈ حکومت کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت امریکی سازش کے تحت مسلط کی گئی ہے اور اسے کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے۔

عمران خان نے ڈرون حملوں کے بارے میں کیا بیان دیا؟

انہوں نے بتایا کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ عورتیں، بچے اور بزرگ مارے گئے اور اس پر نہ تو حکومت نے کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی امریکیوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →