عمران خان نے اٹک میں پی ٹی آئی جلسے میں آزادی کی جنگ اور ملک کی حقیقی خودمختاری کے لیے نوجوانوں کو متحد ہونے کی دعوت دی۔
Key Takeaways
- پاکستان کو بیرونی اور اندرونی غلامی سے آزاد ہونا ہوگا۔
- حقیقی آزادی کے لیے کرپشن اور ناانصافی کے خلاف متحد ہونا ضروری ہے۔
- خوف کو ختم کرنا اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا آزادی کی کنجی ہے۔
- عوام کی بھرپور شرکت اور قربانیاں آزادی کی جنگ کا حصہ ہیں۔
- یہ تحریک پاکستان کی خودمختاری اور عزت کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔
What the video covers
- عمران خان نے آزادی کی جنگ کو پولیٹکس نہیں بلکہ جہاد قرار دیا۔
- انہوں نے دو قسم کی غلامی کی وضاحت کی: کلونیلزم اور نیو کلونیلزم۔
- انہوں نے امریکی جنگوں میں پاکستانی فوجیوں کی قربانیوں اور ملک کے نقصان پر روشنی ڈالی۔
- عمران خان نے ملک میں بڑے کرپٹ عناصر کے خلاف سخت موقف اپنایا۔
- انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کی تحریک میں بھرپور شرکت کی اہمیت بیان کی۔
- انہوں نے خوف کو ختم کرنے اور حقیقی آزادی کے لیے متحد ہونے کی تلقین کی۔
- انہوں نے مدینہ کے لوگوں کی مثال دیتے ہوئے خوف کی زنجیریں توڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
- انہوں نے عوام کو 20 مئی کے بعد تحریک میں شامل ہونے کی کال دی۔
- عمران خان نے کہا کہ یہ تحریک صرف ان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی آزادی کی جنگ ہے۔
- انہوں نے پولیس، فوج اور سرکاری ملازمین کو بھی تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Speaker A
ایاک نعبد و ایاک نستعین
Speaker A
اللہ تیری عبادت کرتے ہیں
Speaker A
اور اللہ تیرے سے مدد مانگتے ہیں
Speaker A
اور کسی کے کسی انسان یا کسی ملک کے سامنے ہم سجدہ نہیں کرتے
Speaker A
ہم ازاد قوم ہیں
Speaker A
ہمارا کلمہ ہمیں ازادی دیتا ہے لا الہ الا اللہ
Speaker A
میرے اٹک کے نوجوانوں اور بزرگوں اور میں اج خاص طور پہ خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں اپنی بہنوں کو
Speaker A
جو بھرپور طریقے سے انہوں نے شرکت کی
Speaker A
یہ جو میرے پاکستانیوں
Speaker A
یہ جو اب وقت سامنے ا رہا ہے
Speaker A
یہ ہماری حقیقی ازادی کی جنگ ہے
Speaker A
اور اس میں میں سب سے پہلے اپنے
Speaker A
اپنی خواتین کو اپنی بہنوں کو سب کو کہتا ہوں کہ اپ نے شرکت کرنی ہے
Speaker A
جس طرح تحریک پاکستان میں ہماری خواتین نے شانہ بشانہ ہمارے مردوں کے ساتھ اس تحریک میں شرکت کی تھی
Speaker A
میرے پاکستانیوں
Speaker A
یہ ہمارے ملک پہ ایک فیصلہ کن وقت ہے
Speaker A
بہت بڑا فیصلہ ہونے جا رہا ہے
Speaker A
کہ کیا ہم ایک ازاد ملک بن کے رہیں گے
Speaker A
یا یا یہ امریکیوں کے غلاموں کی غلامی کریں گے
Speaker A
یہ فیصلہ کن وقت ہے
Speaker A
میں نے فیصلہ کیا ہے
Speaker A
کہ یہ پولیٹکس نہیں یہ جہاد ہے
Speaker A
میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں کسی صورت
Speaker A
جب تک اللہ نے مجھے زندہ رکھا میں کبھی ان چوروں کو ڈاکوؤں کو غلاموں کو کبھی قبول نہیں کروں گا
Speaker A
میرے پاکستانیوں
Speaker A
میرے اٹک کے غیور شہریوں
Speaker A
اور خاص طور پہ میرے دلیر نوجوانوں
Speaker A
اب سب تیاری کرو
Speaker A
اور میں سب سے پہلے اپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں
Speaker A
کہ کیوں ہم نے اپنی ازادی کی جنگ لڑنی ہے
Speaker A
دیکھیں دو طرح کی غلامی ہوتی ہے
Speaker A
نوجوانوں اب میری غور سے بات سننا ہے اور خاص طور پہ میری بہنوں
Speaker A
کیونکہ اپ نے اپنے بچوں کو اس چیز پر یہ بات بتانی ہے
Speaker A
جس طرح میری والدہ نے مجھے بتایا جب میں چھوٹا تھا
Speaker A
کہ انہوں نے مجھے احساس دلوایا
Speaker A
کہ تمہیں مجھے کہتی تمہیں پتہ نہیں
Speaker A
کہ غلامی کیا ہوتی ہے
Speaker A
تم خوش قسمت ہو
Speaker A
کہ ازاد پاکستان میں پیدا ہوئے
Speaker A
ہم ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے
Speaker A
اور غلامی یہ ہے کہ جو ہندوستان اور پاکستان تھا یہاں کے لوگ اوپر نہیں جا سکتے تھے
Speaker A
کیونکہ اوپر انگریز بیٹھا تھا
Speaker A
ہمیں انگریزوں کی جنگیں لڑنی پڑی
Speaker A
لاکھوں لوگ ہندوستان سے پہلی جنگ عظیم میں قربان ہوئے
Speaker A
انگریزوں کی جنگوں میں اور پھر دوسری جنگ عظیم میں
Speaker A
یہاں سے لاکھوں لوگ جا کے انگریز کی جنگ میں مرے
Speaker A
اور اربوں اربوں ڈالر ہندوستان کے لوگوں کا پیسے سے انگریز نے اپنی جنگوں میں استعمال کیا
Speaker A
یہ ہے جبکہ ایک
Speaker A
قبضہ کر کے اپ کے اوپر لوگ غلام کرتے ہیں
Speaker A
لیکن دوسری غلامی
Speaker A
کہ جب ہمیں حکم ملا
Speaker A
ایک امریکہ سے حکم ایا جنرل مشرف کو کہ تم اگر ہماری جنگ میں شامل نہیں ہو گے
Speaker A
تو ہم تمہیں
Speaker A
بم مار کے تمہارا ملک تباہ کر دیں گے
Speaker A
انگریزی میں اس نے کہا
Speaker A
وی ول بم یو ان ٹو سٹون ایج
Speaker A
تو کیا ہوا
Speaker A
بدقسمتی سے اس وقت جو ہمارے ملک کا سربراہ تھا
Speaker A
اس نے اپنے لوگوں کی دفاع نہیں کی
Speaker A
گھٹنے ٹیک دیے اور ہمیں فتح کیے بغیر
Speaker A
ہمیں امریکہ کی جنگ میں لے گیا
Speaker A
ہمارے 80 ہزار لوگ اس جنگ میں قربان ہوئے
Speaker A
تین گنا ہمارے فوجی امریکہ سے تین گنا زیادہ ہمارے فوجی امریکہ کی جنگ میں قربان ہوئے
Speaker A
100 ارب ڈالر سے زیادہ پاکستان کا پیسہ خرچ ہوا اس جنگ پہ
Speaker A
دو قسم کی غلامی
Speaker A
ایک کو کہتے ہیں کلونیلزم جب اپ کے اوپر فتح کر کے ایک ملک حاوی ہو جاتا ہے
Speaker A
جو انگریز کی غلامی تھی
Speaker A
اور دوسری کو کہتے ہیں پاکستانیوں اور نوجوانوں نیو کلونیلزم
Speaker A
کہ فتح کیے بغیر
Speaker A
اپ کو غلام بنا لیتے ہیں
Speaker A
اور یہ ہماری بدقسمتی کہ ہمارے ملک نے جب سے ہم ازاد ہوئے
Speaker A
اور جب سے ہمارا عظیم لیڈر قائد اعظم
Speaker A
جو ایک غلام ہندوستان میں ایک ازاد انسان تھا
Speaker A
جو میرا لیڈر تھا جو ہمیشہ اس کو لیڈر مانیں گے
Speaker A
ایماندار تھا دلیر تھا
Speaker A
اور ازاد تھا
Speaker A
خوددار تھا
Speaker A
اس کے بعد کبھی اس ملک نے
Speaker A
کبھی بھی ہمارے ملک نے سوائے چھوٹا سا وقت تھا
Speaker A
کہ بھٹو نے کوشش کی ذوالفقار علی بھٹو نے
Speaker A
کہ پاکستان ازاد فارن پالیسی بنے
Speaker A
ہمیشہ ہمیں حکم ملتے تھے
Speaker A
ہم اپنی ازاد فارن پالیسی نہیں بناتے تھے
Speaker A
اور ازاد فارن پالیسی کا مطلب کہ وہ فارن پالیسی جو اپنے لوگوں کی
Speaker A
اپنے لوگوں کے فائدے میں ہوتی ہے
Speaker A
جدھر اپ اپنے اپ کو دوسرے ملک کے لیے قربان نہیں کرتے
Speaker A
اور اسی لیے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا
Speaker A
کہ قوم تب تباہ ہوتی ہے
Speaker A
جب جیلوں میں صرف چھوٹے چور ہوں
Speaker A
صرف بھینس چور اور موٹر سائیکل چور اور چھوٹے چور جب جیلوں میں جاتے ہیں
Speaker A
اور بڑے بڑے ڈاکو کو اپ نہیں پکڑتے
Speaker A
وہ ملک تباہ ہو جاتا ہے
Speaker A
یہ اپ کے سامنے ملک تباہ تباہی کی طرف جا رہا ہے
Speaker A
اس لیے اپ نے نکلنا ہے
Speaker A
کہ جب بڑے بڑے ڈاکو بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھ جائیں
Speaker A
ساروں نے بڑے بڑے عہدے سنبھال کے اپنے کیس ختم کریں
Speaker A
اور وہ افیسر ایف ائی اے کا ڈاکٹر رضوان
Speaker A
میں اج اس کو سلام پیش کرتا ہوں
Speaker A
کہ اس نے جو کیس شہباز شریف کے اوپر بنائے
Speaker A
ہمارے بیچارے گورنمنٹ کے افیسر ڈرتے ہیں
Speaker A
اس مافیا سے ڈرتے ہیں
Speaker A
کتنے لوگ ہیں
Speaker A
جو انہوں نے مروائے ہیں
Speaker A
ایان علی کا جو کسٹم افیسر تھا اس کو مروا دیا
Speaker A
وہ جو شہنشاہ تھا
Speaker A
جس نے بے نظیر کے ساتھ ہوتا تھا جب وہ قتل ہوئی
Speaker A
اس کو مروا دیا
Speaker A
ایک جسٹس سجاد تھا زرداری نے اس کو مروا دیا
Speaker A
جو جو ان کے کیسز کے پیچھے جاتا ہے
Speaker A
ان کو جان کا خطرہ ہوتا ہے
Speaker A
تو اگر میرے پاکستانیوں یہ کامیاب ہو جاتے ہیں
Speaker A
ہمارے ملک تباہی کی طرف جاتا
Speaker A
ہمارے ادارے تباہ
Speaker A
کوئی نہیں کھڑا ہوگا ان کے خلاف
Speaker A
یہ کھل کے چوری کریں گے سب ڈریں گے
Speaker A
ملک کو لوٹیں گے
Speaker A
اور اسی لیے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا
Speaker A
کہ بڑی قومیں تباہ ہوئیں تمہارے سے پہلے
Speaker A
جو صرف چھوٹے چوروں کو جیلوں میں ڈالتی تھیں
Speaker A
اور بڑے بڑے ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتی تھی
Speaker A
یہ ہے ہمارے تباہی کا راستہ
Speaker A
اور اس لیے میرے اٹک کے لوگوں اور میرے پاکستانیوں
Speaker A
اس لیے اپ نے سب نے میرے ساتھ نکلنا ہے
Speaker A
جب میں اپ کو کال دوں گا 20 تاریخ کے بعد
Speaker A
اپ نے سب نے نکلنا ہے
Speaker A
اور اپ نے کسی چیز کا خوف نہیں ہونا چاہیے اپ کو
Speaker A
نوجوانوں
Speaker A
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں کیا کیا تھا
Speaker A
اپ کو میں اخری بات کرنے جا رہا ہوں غور سے سنیں
Speaker A
وہ مدینہ کے لوگ جن کی کوئی حیثیت نہیں تھی
Speaker A
میرے نبی نے کیا کیا تھا کہ وہ دنیا کی امامت کرنے لگ گئے
Speaker A
تھوڑی دیر میں
Speaker A
عظیم لوگ بن گئے
Speaker A
مدینہ کے لوگوں کی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
Speaker A
خوف کی زنجیریں توڑ دیں
Speaker A
ان کے خوف ختم کر دیے
Speaker A
خوف کی زنجیر جو انسان کو اوپر نہیں انے دیتی
Speaker A
اس کی پرواز اوپر نہیں جاتی
Speaker A
ڈرے ہوئے لوگ
Speaker A
کبھی ازاد نہیں ہوتے
Speaker A
جب انہوں نے ان کی خوف کی زنجیریں توڑیں
Speaker A
وہ لوگ عظیم لوگ بن گئے
Speaker A
اپ کے سب کو سمجھنا چاہیے
Speaker A
کہ یہ جو اپ ازادی کی ہماری حقیقی ازادی کی
Speaker A
جو ہماری تحریک ہے اپنے خوف ختم کر دیں
Speaker A
تین ہی خوف ہوتے ہیں انسان کو
Speaker A
موت انسان کو
Speaker A
سب سے بڑا خوف ہوتا ہے
Speaker A
کہ کچھ مجھے مار نہ دیں
Speaker A
اللہ کا حکم ہے کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے
Speaker A
دوسرا خوف
Speaker A
کہ مجھے ذلیل نہ کر دیں
Speaker A
اللہ نے کہا ہے کہ عزت ذلت میرے ہاتھ میں ہے
Speaker A
اور تیسری
Speaker A
رزق میری نوکری نہ چلی جائے
Speaker A
مجھے نوکری سے نہ نکال دیں
Speaker A
اللہ نے کہا ہوا ہے کہ رزق میرے ہاتھ میں ہے
Speaker A
تو ڈر کس چیز کا
Speaker A
کس چیز کا ڈر ہے اپ کو
Speaker A
اس لیے اپ نے سب نے میرے ساتھ نکلنا ہے
Speaker A
اور میں نے انشاءاللہ جب میں اپ کو کال دوں گا
Speaker A
ہم کبھی اسلام اباد میں
Speaker A
جب تک یہ الیکشن نہیں اناؤنس کریں گے
Speaker A
ہم یہ ہماری تحریک جاری رہے گی
Speaker A
کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا
Speaker A
ساروں کو میں اج دعوت دے رہا ہوں
Speaker A
تحریک انصاف کو نہیں دعوت
Speaker A
اپنی قوم کو دعوت دے رہا ہوں پاکستانیوں کو دعوت دے رہا ہوں
Speaker A
سارے ہی اپنے لوگوں کو نوجوانوں کو بچوں کو فیملیز کو
Speaker A
اپنے سرکاری نوکر اگر وہ ڈرتے ہیں نوکریاں چلی نہ جائیں
Speaker A
تو جائیں تو اپنی فیملیز کو بھیجنا
Speaker A
ہمارے پولیس والے ہمارے فوجی اپنی فیملیز بھیجیں
Speaker A
کیونکہ یہ پاکستان کی ازادی کی جنگ ہے
Speaker A
یہ میری جنگ نہیں ہے
Speaker A
یہ ہماری ازادی کی جنگ ہے
Speaker A
دو قسم
Speaker A
نہ ہم کسی دوسرے باہر کے ملک کی غلامی کرنا چاہتے ہیں
Speaker A
اور نہ ہی ہم ان چوروں کی غلامی کرنا چاہتے ہیں
Speaker A
دو قسم کی ہماری جنگ ہوگی
Speaker A
باہر کی
Speaker A
باہر کی جو سازش اس ملک میں اپنے پتلیں رکھنے کے لیے
Speaker A
اس سے ہم نے ازاد ہونا ہے
Speaker A
اور یہ جو چور اور ڈاکو ہمارے اوپر مسلط ہو گئے ان سے ازاد ہونا ہے
Speaker A
اٹک کے لوگوں اپ تیار ہو
Speaker A
ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ
Speaker A
انشاءاللہ
Speaker A
انشاءاللہ
Speaker A
میں اپ سب کو
Speaker A
اپ سب کو میں بلاؤں گا اسلام اباد میں
Speaker A
جو اسلام اباد نہیں ا رہا ہے وہ اٹک میں نکلیں گے
Speaker A
لیکن نکلنا ہر پاکستان کے شہری نے ہے
Topics:عمران خانپی ٹی آئیآزادی کی جنگاٹک جلسہنیو کلونیلزمکرپشنپاکستانی نوجوانخواتین کی شرکتسیاسی تحریکملکی خودمختاری











