PM Imran Khan Speech at PTI Jalsa in Ghotki 30th March … — Transcript

وزیراعظم عمران خان کا خطاب، کرپشن، سندھ کی ترقی، مہاتیر محمد کی مثال اور پاکستان کی معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو۔

Key Takeaways

  • کرپشن قوموں کو غریب اور مقروض بناتی ہے۔
  • سندھ کے وسائل کے باوجود غربت کی بڑی وجہ کرپشن ہے۔
  • پاکستان کی معیشت تاریخی قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے متاثر ہے۔
  • جمہوریت کے تحفظ کے لیے شفاف انتخابات اور احتساب ضروری ہے۔
  • عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہو کر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔

Summary

  • وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کی مثال دی کہ کس طرح کرپشن قوم کو غریب اور مقروض بناتی ہے۔
  • پاکستان کی تاریخی قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے معاشی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی۔
  • سندھ کی وسائل کی بھرپور موجودگی کے باوجود غربت کی وجہ کرپشن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بتائی گئی۔
  • گوٹکی میں گیس رائلٹی کی تقسیم اور اس کے حق میں فنڈز کی فراہمی پر سوالات اٹھائے گئے۔
  • کرپشن کی وجہ سے عوام کے پیسے کی چوری اور منی لانڈرنگ کا ذکر کیا گیا۔
  • جمہوریت کے خطرے میں ہونے کے دعوے اور کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب پر زور دیا گیا۔
  • ٹرین مارچ اور دھرنے کے حوالے سے سیاسی صورتحال اور عمران خان کی دعوت کا ذکر کیا گیا۔
  • پاکستان کے ترقیاتی ماڈل اور ایشیا میں پاکستان کی پوزیشن پر روشنی ڈالی گئی۔
  • ملائشیا اور افریقی ممالک کی مثالوں کے ذریعے کرپشن کے اثرات کو واضح کیا گیا۔
  • عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہونے اور ملک کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
میرے ساتھ دعوت دی میں اپ سب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں
00:05
Speaker A
اور میں مجھے افسوس ہے کہ اج ہمارے علی اپ کے بھائی علی محمد گوہر مہر یہاں نہیں ہیں
00:14
Speaker A
تو میں ہم چاہتے ہیں ان کا ایک اپریشن ہے انشاءاللہ وہ بھی وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی یہاں ہوں
00:22
Speaker A
تو وہ ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ جلدی صحت مند ہوں
00:26
Speaker A
میں اپنے جی ڈی اے کے ممبرز تحریک انصاف کے ایم کیو ایم کے پارلیمنٹیرینز
00:40
Speaker A
میرے سارے گیسٹ جو اوپر بیٹھے ہوئے ہیں معزز ہمارے انریبل پولیٹیشنز میں سب کو اج یہ پیغام دینے کے لیے ایا ہوں
00:52
Speaker A
ایا تو ان کی دعوت پہ ہوں لیکن میرا ایک پیغام ہے
00:57
Speaker A
ابھی مہاتر محمد ائے میری دعوت پہ پاکستان
01:01
Speaker A
مہاتر محمد جو اپ میں سے نہیں جانتے
01:07
Speaker A
وہ مسلمان دنیا میں وہ ایک سٹیٹس مین تھے
01:15
Speaker A
جنہیں اپنی قوم کو اٹھا کے اپنے غریبوں کو ملائشیا کے غریبوں کو اٹھا کے اوپر لے گئے
01:24
Speaker A
جب وہ ائے تھے تو ملائشیا کا جو اوسط امدنی یعنی جس کو پر کیپیٹا کہتے ہیں
01:33
Speaker A
ملائشیا کی پر کیپیٹا ڈیڑھ ہزار یا ہزار ڈالر تھی
01:40
Speaker A
اور وہ جب گئے تو وہ نو ہزار ڈالر پہ پر کیپیٹا لے گئے
01:46
Speaker A
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خوشحال کر کے چلے گئے
01:51
Speaker A
ملائشیا کو تبدیل کر گئے
01:54
Speaker A
ملائشیا ایک مثال بن گیا مسلمان دنیا میں کہ ایک جمہوریت کے اندر ایک لیڈر نے اپنی قوم کو خوشحال کر دیا
02:06
Speaker A
ادارے مضبوط کر دیے
02:10
Speaker A
تو جب جب وہ گئے
02:18
Speaker A
تو وہ جب 17 سال انہوں نے حکومت کی الیکٹڈ لیڈر تھے جب وہ گئے
02:27
Speaker A
تو ان کے ملک میں کرپٹ لیڈرشپ ائی اور ان کا جو ایک خوشحال ملک تھا وہ مقروض ہونا شروع ہو گیا
02:36
Speaker A
اور پھر عوام عوام نے کہا کہ مہاتر محمد جو 93 سال کے تھے
02:46
Speaker A
93 سال کے ریٹائرمنٹ سے واپس ائے پھر عوام نے ان کو وزیراعظم بنایا
02:54
Speaker A
انہوں نے کہا کہ اپ ہمارے ملک کو ٹھیک کریں
03:00
Speaker A
کیونکہ کرپٹ کرپٹ حکومت نے ملک کو مقروض کر دیا
03:07
Speaker A
تو میں یہ کہنے کا مطلب یہ ہے
03:12
Speaker A
کہ یہ یاد رکھیں
03:17
Speaker A
قومیں غریب نہیں ہوتیں کرپشن قوم کو غریب کر دیتی ہے
03:24
Speaker A
اور مقروض کر دیتی ہے
03:29
Speaker A
پاکستان ایک جب میں لوگوں کو بار بار یہ یاد کراتا ہوں کہ جب میں بڑا ہو رہا تھا
03:37
Speaker A
تو پاکستان سارے ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا
03:44
Speaker A
ہماری مثال دی جاتی تھی
03:48
Speaker A
کہ یہ پاکستان کا ڈویلپمنٹ ماڈل دیکھو یہ ملک کیسے اوپر جا رہا ہے
03:55
Speaker A
اور جو اج دنیا میں یہ ایشیا میں جو چند دو تین ترقی یافتہ ملکوں میں سے ساؤتھ کوریا
04:05
Speaker A
ساؤتھ کوریا پاکستان ا کے تو انہوں نے ہمارا ماڈل لیا تھا ڈویلپمنٹ کا
04:12
Speaker A
تو وہ پاکستان کا مقام تھا
04:16
Speaker A
تو اگر اج پاکستان تاریخی قرضوں میں پڑا ہوا ہے
04:22
Speaker A
اج تاریخی قرضہ چڑھا ہوا ہے پاکستان پہ
04:25
Speaker A
بچے بچے پہ قرضہ چڑھا ہوا ہے
04:29
Speaker A
اور اگر ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پہ
04:38
Speaker A
ہمیں ہر روز ہر روز صرف جو قرضوں پہ سود دینا پڑتا ہے
04:45
Speaker A
وہ چھ ارب روپیہ ہے
04:50
Speaker A
جو ماضی میں اور خاص طور پہ پچھلے 10 سال میں جس طرح کے بے دردی سے اس ملک کو مقروض کیا گیا
05:00
Speaker A
اس کی وجہ سے اج ہمارا جو ٹوٹل ٹیکس میں پیسہ اکٹھا ہوتا ہے
05:08
Speaker A
وہ ہے ساڑھے چار ہزار ارب روپیہ
05:15
Speaker A
اس میں سے دو ہزار ارب روپیہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں جاتا ہے
05:23
Speaker A
تو اس لیے
05:27
Speaker A
میں نے اپ کو مہاتر محمد کی مثال دی
05:32
Speaker A
کہ کس طرح ملائشیا جب اوپر چلا گیا تھا
05:39
Speaker A
کرپٹ حکومتوں نے اس کو مقروض کر دیا
05:44
Speaker A
اج قرضوں میں ہے
05:46
Speaker A
اج ملائشیا کے اوپر بھی قرضے چڑھے ہوئے ہیں
05:51
Speaker A
تو اب میں سندھ پہ اتا ہوں
05:55
Speaker A
سندھ پاکستان کا سب سے خوشحال صوبہ ہونا چاہیے
06:01
Speaker A
کراچی فائنینشل کیپیٹل سندھ میں ہے
06:06
Speaker A
کراچی پاکستان کا فائنینشل کیپیٹل ہے
06:11
Speaker A
وہ سندھ میں ہے
06:15
Speaker A
سب سے زیادہ گیس نکلتی ہے سندھ کے اندر
06:22
Speaker A
یہاں زرخیز زمین ہے
06:27
Speaker A
یہاں چاول یہاں کپاس یہاں گنے مرچیں
06:34
Speaker A
یہ سب کچھ سندھ میں ہے
06:38
Speaker A
زمینوں کو نکالتی ہے
06:41
Speaker A
تو کیا وجہ ہے کہ اندرون سندھ میں سارے پاکستان سے سب سے زیادہ غربت ہے
06:48
Speaker A
وجہ ایک ہے
06:50
Speaker A
کرپشن
06:52
Speaker Audience
زندہ باد
06:55
Speaker A
کرپشن ایک وہ ملک جس میں سب سے زیادہ وسائل بھی ہو کرپشن اس ملک کو مقروض کر دیتی ہے
07:04
Speaker A
غربت پھیلا دیتی ہے
07:06
Speaker A
میں اپ کو ایک افریقہ کے ایک ملک کی مثال دیتا ہوں
07:11
Speaker A
ایک نہیں دو لے لیں نائجیریا
07:15
Speaker A
وہاں بے پناہ تیل تیل نکلتا ہے
07:19
Speaker A
اور کانگو ایک ملک ہے جو کہ معدنیات ہر قسم کی معدنیات وہاں ہیں ہیرے وہاں ہیں
07:28
Speaker A
بڑے بڑے ہیروں کی کانیں ہیں وہاں
07:32
Speaker A
کانگو غریب ترین ملک ہے 70 فیصد کانگو کی ابادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے
07:40
Speaker A
کیونکہ کانگو میں کرپٹ لیڈرشپ نے سارے وسائل کے اوپر قبضہ کر لیا
07:47
Speaker A
تو یہ ہے پاکستان کی کہانی اور اپ کی سندھ کی کہانی
07:51
Speaker A
10 سالوں میں
07:55
Speaker A
علی گوہر صاحب اپ نے بتایا کہ گیس رائلٹیز کا
08:01
Speaker A
گوٹکی میں جو تقریبا 70 فیصد سندھ کی جو
08:08
Speaker A
سندھ کی 70 فیصد گیس یہاں گوٹکی سے نکلتی ہے
08:12
Speaker A
اس ڈسٹرکٹ سے
08:15
Speaker A
تقریبا 250 کنویں ہیں
08:19
Speaker A
250 گیس کے کنویں ہیں یہاں
08:24
Speaker A
یہاں گوٹکی میں صرف پھر لیں اور اپ دیکھیں کہ وہ ڈسٹرکٹ جو سب سے اگے ہونی چاہیے تھی
08:34
Speaker A
یہاں یونیورسٹیز ہونی چاہیے تھیں بہترین سکول ہونے چاہیے تھے
08:42
Speaker A
انڈسٹریل زونز گیس کے اوپر ہونی چاہیے تھیں وہ سب سے پیچھے رہ گئی
08:48
Speaker A
اور 10 سالوں میں میں نے فائنینس منسٹری سے پتہ چلوایا
08:55
Speaker A
کہ پچھلے 10 سالوں میں سندھ میں صرف جو گیس کی رائلٹی ائی ہے
09:03
Speaker A
وہ ہے 234 ارب روپیہ
09:08
Speaker A
234 ارب روپیہ گیس کی رائلٹی ائی ہے سندھ کے اندر پچھلے 10 سالوں میں
09:17
Speaker A
کیونکہ این ایف سی اوارڈ میں سب کچھ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے
09:22
Speaker A
سینٹر کے پاس فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تو
09:26
Speaker A
فیڈرل گورنمنٹ تو ویسے ہی بینکرپٹ ہے
09:30
Speaker A
یہ بھی میں اپ سب کو بتا دوں کیونکہ
09:35
Speaker A
علی گوہر صاحب اپ نے ہمارے سے پوچھا کہ سینٹر سے ہیلپ چاہیے سندھ کو
09:41
Speaker A
اور خاص طور پہ گوٹکی کو
09:44
Speaker A
میں ذرا اپ سب کو بتا دوں کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینٹر کے حالات کیا ہیں
09:50
Speaker A
جو ٹیکس سے پیسہ اکٹھا ہوتا ہے میں نے جس طرح اپ کو بتایا ساڑھے چار ہزار ارب ہے
09:57
Speaker A
اس کے اوپر ایک اور ایک ہزار ارب اور ا جاتا ہے تو ساڑھے پانچ ساڑھے پانچ ہزار ارب ٹوٹل پیسہ ہے سینٹر کے پاس
10:04
Speaker A
فیڈرل گورنمنٹ کے پاس
10:07
Speaker A
اس میں سے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے تقریبا دو ہزار ارب نکل جاتا ہے
10:16
Speaker A
باقی رہ گیا ایک ہزار ارب
10:19
Speaker A
صرف ڈیفنس کے لیے ہمیں 1700 ارب روپیہ دینا پڑتا ہے
10:25
Speaker A
تو پہلے ہی سینٹر 700 ارب روپے کا خسارے میں چلا جاتا ہے
10:30
Speaker A
اس لیے
10:33
Speaker A
اصل میں جو اپ کی ڈویلپمنٹ کے لیے پیسہ انا چاہیے تھا وہ اپ کے صوبے کے پاس انا چاہیے تھا
10:40
Speaker A
کہ ان کو تو فنڈز دے دیے سینٹر نے
10:44
Speaker A
اب جو اپ سے سب کو سوال پوچھنا چاہیے
10:50
Speaker A
کہ اگر گیس کی رائلٹی میں 234 ارب روپیہ 10 سالوں میں سندھ کو ملا ہے
10:59
Speaker A
تو گوٹکی کو اس میں سے کتنا شیئر ملا ہے جو 70 فیصد گیس پروڈیوس کرتی ہے
11:04
Speaker A
اور یہ میں اب یہ ہے کرپشن
11:07
Speaker A
کرپشن کرتی کیا ہے
11:10
Speaker A
کرپشن تھوڑے سے لوگوں کے اوپر وہ سارا پیسہ وسائل کے اوپر قبضہ کر لیتے ہیں
11:17
Speaker A
باقی عوام نیچے چلی جاتی ہے
11:20
Speaker A
غربت پہ چلی جاتی ہے
11:22
Speaker A
جو پیسہ عوام کے سکولوں پہ ہسپتالوں پہ یونیورسٹیز پہ خرچ ہونا ہوتا ہے
11:30
Speaker A
وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے
11:35
Speaker A
وہ فیک بینک اکاؤنٹس میں جاتا ہے جدھر سے منی لانڈرنگ ہو کے ملک سے باہر پیسہ چلا جاتا ہے
11:43
Speaker A
جدھر ایک سندھی پولیٹیکل پولیٹیشن خاتون جس کے ڈرائیور کے پاس پانچ دبئی میں گھر ملتے ہیں
11:52
Speaker A
بے نامی
11:55
Speaker A
جب جب کرپشن جب کرپشن پھیلتی ہے ایک معاشرے میں
12:02
Speaker A
تو عوام کا پیسہ چوری ہوتا ہے اور وہ جاتا ہے تھوڑے سے لوگوں کی جیبوں میں
12:08
Speaker A
اور اس لیے
12:12
Speaker A
یہ جو اج سارا ڈرامہ ہو رہا ہے کہ جی جمہوریت خطرے میں ہے
12:20
Speaker A
جب یہ بڑے بڑے
12:24
Speaker A
اس ملک کے وہ پولیٹیکل لیڈرز جو اقتدار میں رہے ہیں
12:32
Speaker A
10 سالوں میں جو ملک کا 10 سال پہلے 2008 میں
12:41
Speaker A
سارے پاکستان کا 60 سال کا قرضہ چھ ہزار ارب تھا
12:48
Speaker A
10 سالوں میں چھ ہزار سے 30 ہزار ارب پہ پاکستان کا اج قرضہ پہنچا ہے
12:56
Speaker A
یہ کدھر گیا پیسہ
12:59
Speaker A
یہ جو قوم کو مقروض کیا کدھر گیا پیسہ
13:02
Speaker A
تو وہ لوگوں کا جب اب احتساب ہو رہا ہے
13:06
Speaker A
جمہوریت خطرے میں ا گئی
13:10
Speaker A
کہ جناب یہ تو الیکٹڈ لوگ ہیں
13:14
Speaker A
ان کا کیسے احتساب ہو گیا
13:17
Speaker A
طاقتور کا پاکستان میں تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں
13:21
Speaker A
تو جب ان کے اوپر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے تو ان کی
13:27
Speaker A
چوری خطرے میں نہیں ائی جمہوریت خطرے میں ا گئی
13:32
Speaker Audience
زندہ باد
13:35
Speaker A
ٹرین مارچ شروع ہو گئی
13:38
Speaker A
چوری بچانے کے لیے
13:42
Speaker A
اور جب اپ بجائے قوم کے لیے ٹرین مارچ کرنے کے بجائے اپ اپنے اربوں روپے کے بینک اکاؤنٹس بچانے کے لیے ٹرین مارچ کرتے ہیں
13:50
Speaker A
تو پھر اپ کو دو دو ہزار روپیہ دے کے لوگوں کو بلانا پڑتا ہے ریلوے اسٹیشن پہ
13:57
Speaker Audience
زندہ باد
13:59
Speaker A
اور پھر ان سے بھی کرپشن کر دیتے ہیں
14:03
Speaker A
دو ہزار کی بجائے 200 روپیہ دے دیتے ہیں ان کو
14:06
Speaker A
وہ بھی بیچارے اج برے حال میں
14:10
Speaker A
میں نے غریب لوگوں کو دیکھ رہا تھا
14:12
Speaker A
وہ بیچارے تو ان سے بھی دھوکہ ہو گیا
14:17
Speaker A
میں اج
14:21
Speaker A
پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں
14:25
Speaker A
یہ جو پہلے کہتے تھے وہ شریف برادران کہتے تھے زرداری کرپٹ ہے
14:32
Speaker A
زرداری اور اس کے بیٹے وہ کہتے تھے وہ کرپٹ ہے
14:37
Speaker A
اج وہ دونوں جمہوریت بچانے کے لیے اکٹھے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں
14:43
Speaker A
میں اج اپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ اپ جو مرضی کرنا چاہتے ہیں کریں
14:48
Speaker A
اکٹھے ہو جو مرضی کرنا چاہتے ہیں
14:52
Speaker A
ہم نے اپ کو نہیں چھوڑنا
14:54
Speaker Audience
زندہ باد
14:59
Speaker A
اس کے علاوہ اپ نے ٹرین مارچ کرنی ہے
15:03
Speaker A
میں تو بار بار دعوت دے بیٹھا ہوں کنٹینر ہمارا تیار ہے ڈی چوک کے لیے
15:08
Speaker A
ادھر ا جائیں دھرنا بھی دے دیں بے شک
15:10
Speaker Audience
زندہ باد
15:13
Speaker A
ہم اپ کو ہم اپ کو
15:18
Speaker A
ہم اپ کو کھانا پینا بھی بھجوا دیں گے کنٹینر میں لیکن ادھر اؤ
15:23
Speaker A
اسٹیبلشمنٹ چیک کرتے ہیں
15:26
Speaker A
ہم ساڑھے چار مہینے ساڑھے چار مہینے ہم نے دھرنا دیا تھا
15:31
Speaker A
اپنی چوری کے لیے نہیں دیا تھا
15:35
Speaker A
ملک کی جمہوریت کے لیے صاف اور شفاف الیکشنز کے لیے دیا تھا
15:40
Speaker Audience
زندہ باد
15:43
Speaker A
میں
15:48
Speaker A
میں اج اپنے سندھ کے لوگوں کو
15:52
Speaker A
کیونکہ میں یہاں بہت پہلے اتا تھا
15:56
Speaker A
شروع میں پولیٹکس میں انے سے پہلے تو شکار پہ اتا تھا
16:01
Speaker A
پولیٹکس میں ا کے شکار بھی ختم ہو گیا
16:05
Speaker A
کیونکہ شکار شکار تبدیل ہو گیا
16:08
Speaker Audience
زندہ باد
16:12
Speaker A
اب اب
16:15
Speaker A
اب میں جب اتا رہا ہوں پولیٹکس میں
16:20
Speaker A
تو میں پھر سے کہتا ہوں
16:23
Speaker A
سب سے
16:25
Speaker Audience
زندہ باد
16:27
Speaker A
سب سے
Topics:عمران خانکرپشنسندھپاکستانمہاتیر محمدمعاشی صورتحالجمہوریتگوٹکیگیس رائلٹیاحتساب

Frequently Asked Questions

عمران خان نے کرپشن کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ کرپشن قوموں کو غریب اور مقروض بنا دیتی ہے، اور پاکستان کی معاشی مشکلات کی بڑی وجہ کرپشن ہے۔

سندھ کی غربت کی کیا وجہ بیان کی گئی؟

سندھ کے وسائل کے باوجود غربت کی وجہ کرپشن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بتائی گئی ہے، جس کی وجہ سے عوام تک فنڈز نہیں پہنچتے۔

عمران خان نے مہاتیر محمد کی مثال کیوں دی؟

انہوں نے مہاتیر محمد کی مثال دی کہ کس طرح ایک ایماندار اور محنتی لیڈر نے ملائشیا کو خوشحال بنایا جبکہ کرپٹ حکومتوں نے ملک کو مقروض کر دیا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →