وزیراعظم عمران خان کا خطاب، کرپشن، سندھ کی ترقی، مہاتیر محمد کی مثال اور پاکستان کی معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو۔
Key Takeaways
- کرپشن قوموں کو غریب اور مقروض بناتی ہے۔
- سندھ کے وسائل کے باوجود غربت کی بڑی وجہ کرپشن ہے۔
- پاکستان کی معیشت تاریخی قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے متاثر ہے۔
- جمہوریت کے تحفظ کے لیے شفاف انتخابات اور احتساب ضروری ہے۔
- عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہو کر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔
What the video covers
- وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کی مثال دی کہ کس طرح کرپشن قوم کو غریب اور مقروض بناتی ہے۔
- پاکستان کی تاریخی قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے معاشی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی۔
- سندھ کی وسائل کی بھرپور موجودگی کے باوجود غربت کی وجہ کرپشن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بتائی گئی۔
- گوٹکی میں گیس رائلٹی کی تقسیم اور اس کے حق میں فنڈز کی فراہمی پر سوالات اٹھائے گئے۔
- کرپشن کی وجہ سے عوام کے پیسے کی چوری اور منی لانڈرنگ کا ذکر کیا گیا۔
- جمہوریت کے خطرے میں ہونے کے دعوے اور کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب پر زور دیا گیا۔
- ٹرین مارچ اور دھرنے کے حوالے سے سیاسی صورتحال اور عمران خان کی دعوت کا ذکر کیا گیا۔
- پاکستان کے ترقیاتی ماڈل اور ایشیا میں پاکستان کی پوزیشن پر روشنی ڈالی گئی۔
- ملائشیا اور افریقی ممالک کی مثالوں کے ذریعے کرپشن کے اثرات کو واضح کیا گیا۔
- عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہونے اور ملک کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
میرے ساتھ دعوت دی میں اپ سب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں
Speaker A
اور میں مجھے افسوس ہے کہ اج ہمارے علی اپ کے بھائی علی محمد گوہر مہر یہاں نہیں ہیں
Speaker A
تو میں ہم چاہتے ہیں ان کا ایک اپریشن ہے انشاءاللہ وہ بھی وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی یہاں ہوں
Speaker A
تو وہ ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ جلدی صحت مند ہوں
Speaker A
میں اپنے جی ڈی اے کے ممبرز تحریک انصاف کے ایم کیو ایم کے پارلیمنٹیرینز
Speaker A
میرے سارے گیسٹ جو اوپر بیٹھے ہوئے ہیں معزز ہمارے انریبل پولیٹیشنز میں سب کو اج یہ پیغام دینے کے لیے ایا ہوں
Speaker A
ایا تو ان کی دعوت پہ ہوں لیکن میرا ایک پیغام ہے
Speaker A
ابھی مہاتر محمد ائے میری دعوت پہ پاکستان
Speaker A
مہاتر محمد جو اپ میں سے نہیں جانتے
Speaker A
وہ مسلمان دنیا میں وہ ایک سٹیٹس مین تھے
Speaker A
جنہیں اپنی قوم کو اٹھا کے اپنے غریبوں کو ملائشیا کے غریبوں کو اٹھا کے اوپر لے گئے
Speaker A
جب وہ ائے تھے تو ملائشیا کا جو اوسط امدنی یعنی جس کو پر کیپیٹا کہتے ہیں
Speaker A
ملائشیا کی پر کیپیٹا ڈیڑھ ہزار یا ہزار ڈالر تھی
Speaker A
اور وہ جب گئے تو وہ نو ہزار ڈالر پہ پر کیپیٹا لے گئے
Speaker A
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خوشحال کر کے چلے گئے
Speaker A
ملائشیا کو تبدیل کر گئے
Speaker A
ملائشیا ایک مثال بن گیا مسلمان دنیا میں کہ ایک جمہوریت کے اندر ایک لیڈر نے اپنی قوم کو خوشحال کر دیا
Speaker A
ادارے مضبوط کر دیے
Speaker A
تو جب جب وہ گئے
Speaker A
تو وہ جب 17 سال انہوں نے حکومت کی الیکٹڈ لیڈر تھے جب وہ گئے
Speaker A
تو ان کے ملک میں کرپٹ لیڈرشپ ائی اور ان کا جو ایک خوشحال ملک تھا وہ مقروض ہونا شروع ہو گیا
Speaker A
اور پھر عوام عوام نے کہا کہ مہاتر محمد جو 93 سال کے تھے
Speaker A
93 سال کے ریٹائرمنٹ سے واپس ائے پھر عوام نے ان کو وزیراعظم بنایا
Speaker A
انہوں نے کہا کہ اپ ہمارے ملک کو ٹھیک کریں
Speaker A
کیونکہ کرپٹ کرپٹ حکومت نے ملک کو مقروض کر دیا
Speaker A
تو میں یہ کہنے کا مطلب یہ ہے
Speaker A
کہ یہ یاد رکھیں
Speaker A
قومیں غریب نہیں ہوتیں کرپشن قوم کو غریب کر دیتی ہے
Speaker A
اور مقروض کر دیتی ہے
Speaker A
پاکستان ایک جب میں لوگوں کو بار بار یہ یاد کراتا ہوں کہ جب میں بڑا ہو رہا تھا
Speaker A
تو پاکستان سارے ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا
Speaker A
ہماری مثال دی جاتی تھی
Speaker A
کہ یہ پاکستان کا ڈویلپمنٹ ماڈل دیکھو یہ ملک کیسے اوپر جا رہا ہے
Speaker A
اور جو اج دنیا میں یہ ایشیا میں جو چند دو تین ترقی یافتہ ملکوں میں سے ساؤتھ کوریا
Speaker A
ساؤتھ کوریا پاکستان ا کے تو انہوں نے ہمارا ماڈل لیا تھا ڈویلپمنٹ کا
Speaker A
تو وہ پاکستان کا مقام تھا
Speaker A
تو اگر اج پاکستان تاریخی قرضوں میں پڑا ہوا ہے
Speaker A
اج تاریخی قرضہ چڑھا ہوا ہے پاکستان پہ
Speaker A
بچے بچے پہ قرضہ چڑھا ہوا ہے
Speaker A
اور اگر ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پہ
Speaker A
ہمیں ہر روز ہر روز صرف جو قرضوں پہ سود دینا پڑتا ہے
Speaker A
وہ چھ ارب روپیہ ہے
Speaker A
جو ماضی میں اور خاص طور پہ پچھلے 10 سال میں جس طرح کے بے دردی سے اس ملک کو مقروض کیا گیا
Speaker A
اس کی وجہ سے اج ہمارا جو ٹوٹل ٹیکس میں پیسہ اکٹھا ہوتا ہے
Speaker A
وہ ہے ساڑھے چار ہزار ارب روپیہ
Speaker A
اس میں سے دو ہزار ارب روپیہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں جاتا ہے
Speaker A
تو اس لیے
Speaker A
میں نے اپ کو مہاتر محمد کی مثال دی
Speaker A
کہ کس طرح ملائشیا جب اوپر چلا گیا تھا
Speaker A
کرپٹ حکومتوں نے اس کو مقروض کر دیا
Speaker A
اج قرضوں میں ہے
Speaker A
اج ملائشیا کے اوپر بھی قرضے چڑھے ہوئے ہیں
Speaker A
تو اب میں سندھ پہ اتا ہوں
Speaker A
سندھ پاکستان کا سب سے خوشحال صوبہ ہونا چاہیے
Speaker A
کراچی فائنینشل کیپیٹل سندھ میں ہے
Speaker A
کراچی پاکستان کا فائنینشل کیپیٹل ہے
Speaker A
وہ سندھ میں ہے
Speaker A
سب سے زیادہ گیس نکلتی ہے سندھ کے اندر
Speaker A
یہاں زرخیز زمین ہے
Speaker A
یہاں چاول یہاں کپاس یہاں گنے مرچیں
Speaker A
یہ سب کچھ سندھ میں ہے
Speaker A
زمینوں کو نکالتی ہے
Speaker A
تو کیا وجہ ہے کہ اندرون سندھ میں سارے پاکستان سے سب سے زیادہ غربت ہے
Speaker A
وجہ ایک ہے
Speaker A
کرپشن
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
کرپشن ایک وہ ملک جس میں سب سے زیادہ وسائل بھی ہو کرپشن اس ملک کو مقروض کر دیتی ہے
Speaker A
غربت پھیلا دیتی ہے
Speaker A
میں اپ کو ایک افریقہ کے ایک ملک کی مثال دیتا ہوں
Speaker A
ایک نہیں دو لے لیں نائجیریا
Speaker A
وہاں بے پناہ تیل تیل نکلتا ہے
Speaker A
اور کانگو ایک ملک ہے جو کہ معدنیات ہر قسم کی معدنیات وہاں ہیں ہیرے وہاں ہیں
Speaker A
بڑے بڑے ہیروں کی کانیں ہیں وہاں
Speaker A
کانگو غریب ترین ملک ہے 70 فیصد کانگو کی ابادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے
Speaker A
کیونکہ کانگو میں کرپٹ لیڈرشپ نے سارے وسائل کے اوپر قبضہ کر لیا
Speaker A
تو یہ ہے پاکستان کی کہانی اور اپ کی سندھ کی کہانی
Speaker A
10 سالوں میں
Speaker A
علی گوہر صاحب اپ نے بتایا کہ گیس رائلٹیز کا
Speaker A
گوٹکی میں جو تقریبا 70 فیصد سندھ کی جو
Speaker A
سندھ کی 70 فیصد گیس یہاں گوٹکی سے نکلتی ہے
Speaker A
اس ڈسٹرکٹ سے
Speaker A
تقریبا 250 کنویں ہیں
Speaker A
250 گیس کے کنویں ہیں یہاں
Speaker A
یہاں گوٹکی میں صرف پھر لیں اور اپ دیکھیں کہ وہ ڈسٹرکٹ جو سب سے اگے ہونی چاہیے تھی
Speaker A
یہاں یونیورسٹیز ہونی چاہیے تھیں بہترین سکول ہونے چاہیے تھے
Speaker A
انڈسٹریل زونز گیس کے اوپر ہونی چاہیے تھیں وہ سب سے پیچھے رہ گئی
Speaker A
اور 10 سالوں میں میں نے فائنینس منسٹری سے پتہ چلوایا
Speaker A
کہ پچھلے 10 سالوں میں سندھ میں صرف جو گیس کی رائلٹی ائی ہے
Speaker A
وہ ہے 234 ارب روپیہ
Speaker A
234 ارب روپیہ گیس کی رائلٹی ائی ہے سندھ کے اندر پچھلے 10 سالوں میں
Speaker A
کیونکہ این ایف سی اوارڈ میں سب کچھ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے
Speaker A
سینٹر کے پاس فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تو
Speaker A
فیڈرل گورنمنٹ تو ویسے ہی بینکرپٹ ہے
Speaker A
یہ بھی میں اپ سب کو بتا دوں کیونکہ
Speaker A
علی گوہر صاحب اپ نے ہمارے سے پوچھا کہ سینٹر سے ہیلپ چاہیے سندھ کو
Speaker A
اور خاص طور پہ گوٹکی کو
Speaker A
میں ذرا اپ سب کو بتا دوں کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینٹر کے حالات کیا ہیں
Speaker A
جو ٹیکس سے پیسہ اکٹھا ہوتا ہے میں نے جس طرح اپ کو بتایا ساڑھے چار ہزار ارب ہے
Speaker A
اس کے اوپر ایک اور ایک ہزار ارب اور ا جاتا ہے تو ساڑھے پانچ ساڑھے پانچ ہزار ارب ٹوٹل پیسہ ہے سینٹر کے پاس
Speaker A
فیڈرل گورنمنٹ کے پاس
Speaker A
اس میں سے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے تقریبا دو ہزار ارب نکل جاتا ہے
Speaker A
باقی رہ گیا ایک ہزار ارب
Speaker A
صرف ڈیفنس کے لیے ہمیں 1700 ارب روپیہ دینا پڑتا ہے
Speaker A
تو پہلے ہی سینٹر 700 ارب روپے کا خسارے میں چلا جاتا ہے
Speaker A
اس لیے
Speaker A
اصل میں جو اپ کی ڈویلپمنٹ کے لیے پیسہ انا چاہیے تھا وہ اپ کے صوبے کے پاس انا چاہیے تھا
Speaker A
کہ ان کو تو فنڈز دے دیے سینٹر نے
Speaker A
اب جو اپ سے سب کو سوال پوچھنا چاہیے
Speaker A
کہ اگر گیس کی رائلٹی میں 234 ارب روپیہ 10 سالوں میں سندھ کو ملا ہے
Speaker A
تو گوٹکی کو اس میں سے کتنا شیئر ملا ہے جو 70 فیصد گیس پروڈیوس کرتی ہے
Speaker A
اور یہ میں اب یہ ہے کرپشن
Speaker A
کرپشن کرتی کیا ہے
Speaker A
کرپشن تھوڑے سے لوگوں کے اوپر وہ سارا پیسہ وسائل کے اوپر قبضہ کر لیتے ہیں
Speaker A
باقی عوام نیچے چلی جاتی ہے
Speaker A
غربت پہ چلی جاتی ہے
Speaker A
جو پیسہ عوام کے سکولوں پہ ہسپتالوں پہ یونیورسٹیز پہ خرچ ہونا ہوتا ہے
Speaker A
وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے
Speaker A
وہ فیک بینک اکاؤنٹس میں جاتا ہے جدھر سے منی لانڈرنگ ہو کے ملک سے باہر پیسہ چلا جاتا ہے
Speaker A
جدھر ایک سندھی پولیٹیکل پولیٹیشن خاتون جس کے ڈرائیور کے پاس پانچ دبئی میں گھر ملتے ہیں
Speaker A
بے نامی
Speaker A
جب جب کرپشن جب کرپشن پھیلتی ہے ایک معاشرے میں
Speaker A
تو عوام کا پیسہ چوری ہوتا ہے اور وہ جاتا ہے تھوڑے سے لوگوں کی جیبوں میں
Speaker A
اور اس لیے
Speaker A
یہ جو اج سارا ڈرامہ ہو رہا ہے کہ جی جمہوریت خطرے میں ہے
Speaker A
جب یہ بڑے بڑے
Speaker A
اس ملک کے وہ پولیٹیکل لیڈرز جو اقتدار میں رہے ہیں
Speaker A
10 سالوں میں جو ملک کا 10 سال پہلے 2008 میں
Speaker A
سارے پاکستان کا 60 سال کا قرضہ چھ ہزار ارب تھا
Speaker A
10 سالوں میں چھ ہزار سے 30 ہزار ارب پہ پاکستان کا اج قرضہ پہنچا ہے
Speaker A
یہ کدھر گیا پیسہ
Speaker A
یہ جو قوم کو مقروض کیا کدھر گیا پیسہ
Speaker A
تو وہ لوگوں کا جب اب احتساب ہو رہا ہے
Speaker A
جمہوریت خطرے میں ا گئی
Speaker A
کہ جناب یہ تو الیکٹڈ لوگ ہیں
Speaker A
ان کا کیسے احتساب ہو گیا
Speaker A
طاقتور کا پاکستان میں تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں
Speaker A
تو جب ان کے اوپر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے تو ان کی
Speaker A
چوری خطرے میں نہیں ائی جمہوریت خطرے میں ا گئی
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
ٹرین مارچ شروع ہو گئی
Speaker A
چوری بچانے کے لیے
Speaker A
اور جب اپ بجائے قوم کے لیے ٹرین مارچ کرنے کے بجائے اپ اپنے اربوں روپے کے بینک اکاؤنٹس بچانے کے لیے ٹرین مارچ کرتے ہیں
Speaker A
تو پھر اپ کو دو دو ہزار روپیہ دے کے لوگوں کو بلانا پڑتا ہے ریلوے اسٹیشن پہ
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
اور پھر ان سے بھی کرپشن کر دیتے ہیں
Speaker A
دو ہزار کی بجائے 200 روپیہ دے دیتے ہیں ان کو
Speaker A
وہ بھی بیچارے اج برے حال میں
Speaker A
میں نے غریب لوگوں کو دیکھ رہا تھا
Speaker A
وہ بیچارے تو ان سے بھی دھوکہ ہو گیا
Speaker A
میں اج
Speaker A
پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں
Speaker A
یہ جو پہلے کہتے تھے وہ شریف برادران کہتے تھے زرداری کرپٹ ہے
Speaker A
زرداری اور اس کے بیٹے وہ کہتے تھے وہ کرپٹ ہے
Speaker A
اج وہ دونوں جمہوریت بچانے کے لیے اکٹھے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں
Speaker A
میں اج اپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ اپ جو مرضی کرنا چاہتے ہیں کریں
Speaker A
اکٹھے ہو جو مرضی کرنا چاہتے ہیں
Speaker A
ہم نے اپ کو نہیں چھوڑنا
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
اس کے علاوہ اپ نے ٹرین مارچ کرنی ہے
Speaker A
میں تو بار بار دعوت دے بیٹھا ہوں کنٹینر ہمارا تیار ہے ڈی چوک کے لیے
Speaker A
ادھر ا جائیں دھرنا بھی دے دیں بے شک
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
ہم اپ کو ہم اپ کو
Speaker A
ہم اپ کو کھانا پینا بھی بھجوا دیں گے کنٹینر میں لیکن ادھر اؤ
Speaker A
اسٹیبلشمنٹ چیک کرتے ہیں
Speaker A
ہم ساڑھے چار مہینے ساڑھے چار مہینے ہم نے دھرنا دیا تھا
Speaker A
اپنی چوری کے لیے نہیں دیا تھا
Speaker A
ملک کی جمہوریت کے لیے صاف اور شفاف الیکشنز کے لیے دیا تھا
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
میں
Speaker A
میں اج اپنے سندھ کے لوگوں کو
Speaker A
کیونکہ میں یہاں بہت پہلے اتا تھا
Speaker A
شروع میں پولیٹکس میں انے سے پہلے تو شکار پہ اتا تھا
Speaker A
پولیٹکس میں ا کے شکار بھی ختم ہو گیا
Speaker A
کیونکہ شکار شکار تبدیل ہو گیا
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
اب اب
Speaker A
اب میں جب اتا رہا ہوں پولیٹکس میں
Speaker A
تو میں پھر سے کہتا ہوں
Speaker A
سب سے
Speaker Audience
زندہ باد
Speaker A
سب سے
Topics:عمران خانکرپشنسندھپاکستانمہاتیر محمدمعاشی صورتحالجمہوریتگوٹکیگیس رائلٹیاحتساب











