عمران خان کا جلسے میں خطاب، کرپشن کے خلاف 22 سالہ جدوجہد اور پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورتحال پر روشنی۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- کرپشن پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
- معاشی بحران کی بنیادی وجہ بڑھتا ہوا قرضہ اور بدعنوانی ہے۔
- قومی ترقی کے لیے کرپٹ حکمرانوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
- مضبوط ادارے اور شفاف گورننس ہی خوشحالی کا ذریعہ ہیں۔
- 22 سال کی جدوجہد کے بعد بھی کرپشن کے خلاف لڑائی جاری ہے۔
What the video covers
- عمران خان نے اپنے کارکنوں کی حمایت کا شکریہ ادا کیا جو 22 سال سے ان کے ساتھ ہیں۔
- انہوں نے کرپشن کو قوم کا کینسر قرار دیا جو پاکستان کو تباہ کر رہا ہے۔
- پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورتحال پر بات کی، جس میں قرضوں کا بڑھنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
- 10 سال پہلے پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب تھا جو اب 27 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
- کرپشن کی وجہ سے ملک کی ترقی رک گئی ہے اور قوم کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے۔
- نائیجیریا اور سویٹزرلینڈ کی مثالیں دے کر کرپشن اور گورننس کے اثرات بیان کیے۔
- انہوں نے نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں نکالنے کی بات کی اور منی لانڈرنگ کا ذکر کیا۔
- ملک کی ترقی کے لیے کرپٹ حکمرانوں کو شکست دینا ضروری ہے۔
- عمران خان نے قوم کو جگانے اور کرپشن کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔
- انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارے اور اچھا گورننس ہی خوشحالی کی ضمانت ہیں۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
میں آج ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ اگر کارکن میرے اگر کارکن میرے ساتھ نہ ہوتے تو آج میں آپ کے سامنے یہاں کھڑا نہ ہوتا۔
Speaker A
تو میں ان ساروں کو جو اچھے برے وقت میں میرے ساتھ رہے آج میں ان سب کو یاد کرتا ہوں۔
Speaker A
کہ 22 سال سے ہم کوشش کر رہے ہیں، 22 سال سے 22 سال سے میں اپنی قوم کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ جو کرپشن کی کینسر ہماری جڑوں کو کھا رہی ہے۔
Speaker A
دیمک کی طرح قوم کو کھوکھلا کر رہی ہے، میں 22 سال سے لگا رہا لوگوں کو بتانے کے لیے کہ جب تک یہ کرپٹ حکمرانوں کو ہم شکست نہیں دیں گے ہمارے بچوں کا ہمارے آنے والی نسلوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
Speaker A
اور آج آج جو میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں آج اگر آپ دیکھیں تو پاکستان کو یہ کرپٹ لوگوں نے یہ کرپٹ حکمرانوں نے ادھر پہنچا دیا ہے جو کوئی بھی جو بھی آج معیشت کا ایکسپرٹ ہے، اکانومی کا ایکسپرٹ ہے۔
Speaker A
سب کو پتہ ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں کبھی ہماری قوم اتنی مقروض نہیں ہوئی، ہماری قوم کے اتنے برے حالات نہیں ہوئے جتنے آج ہیں۔
Speaker A
ہمارا قرضہ یہ میں ہر روز جلسوں میں بتاؤں گا اپنے لوگوں کو کہ 10 سال پہلے پاکستان کا 60 سال میں جو 60 سالوں میں پاکستان کا قرضہ تھا وہ تھا 6 ہزار ارب۔
Speaker A
6 ہزار ارب۔
Speaker A
اور آج 10 سالوں کے بعد پاکستان کے بننے کے 70 سال بعد پچھلے 10 سالوں میں 6 ہزار ارب سے پاکستان کا قرضہ کتنا پہنچا ہے؟
Speaker A
نوجوانوں۔
Speaker A
یہ جو میں آپ کو بتاؤں گا جس کو نہیں پتہ یہ اپنے موبائل فون میں ڈال لو۔
Speaker A
کیونکہ یہ اگر ہم نے اب اپنے آپ کو بدلا نہ ان حکمرانوں سے ان چوروں سے ان ڈاکوؤں سے ہم نے اپنے ملک کو آزاد نہ کیا آگے تباہی ہے۔
Speaker A
6 ہزار ارب روپیہ قرضہ تھا پاکستان کا 40 60 سال کی تاریخ میں جس میں بڑے بڑے پروجیکٹس بنے۔
Speaker A
ڈیم منگلا، تربیلا ڈیم، وارسک ڈیم کتنی ڈیمز، سڑکیں، موٹروے اس سب کے بننے کے بعد صرف 6 ہزار ارب قرضہ تھا۔
Speaker A
2008 میں۔
Speaker A
آج آج ہمارے اوپر جو ٹوٹل قرضہ ہے وہ ہے 27 ہزار ارب روپیہ۔
Speaker A
6 ہزار سے 27 ہزار ارب روپیہ۔
Speaker A
اور آج لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ کرپشن کیا کرتی ہے ایک ملک سے۔
Speaker A
کیسے ملک کو تباہ کرتی ہے کرپشن۔
Speaker A
ایک ملک خوشحال اس لیے نہیں ہوتا کہ وہاں تیل کی نہریں بہہ رہی ہیں۔
Speaker A
نائیجیریا ایک افریقہ میں ملک ہے جدھر بہت تیل ہے۔
Speaker A
لیکن غریب ترین ملک ہے کیونکہ کرپشن ہے۔
Speaker A
سویٹزرلینڈ ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں، پہاڑی علاقے ہیں۔
Speaker A
دنیا کا امیر ترین ملک ہے کیونکہ وہاں سب سے کم کرپشن ہے۔
Speaker A
مضبوط ادارے ہیں۔
Speaker A
جس کو کہتے ہیں گورننس، یعنی جب آپ کے ادارے اچھے ہوتے ہیں آپ کا گورننس سسٹم ٹھیک ہوتا ہے۔
Speaker A
وہاں سرمایہ کاری ہوتی ہے، وہاں خوشحالی ہوتی ہے۔
Speaker A
تو جو پاکستان کا آج مسئلہ سب سے بڑا وہ ہے کرپشن۔
Speaker A
اور اللہ الحق ہے 22 سال کی جدوجہد میں سب سے پہلے تو سب سے پہلے تو نواز شریف کو کیوں نکالا کیا گیا؟
Speaker A
دو سال ہم دو سال ہم کیس لڑے۔
Speaker A
عدالت میں پہلے اسمبلی میں، عدالت میں، سڑکوں پہ آخر میں عدالت کا فیصلہ آتا ہے۔
Speaker A
کہ اس نے 300 ارب روپیہ اس قوم کا باہر لے کے گیا ہے۔
Speaker A
دیکھیں منی۔
Speaker A
اس کو اوپر کرو۔
Speaker A
300 ارب روپے کا مطلب 30 ہزار کروڑ روپیہ۔
Speaker A
آپ کا پیسہ۔
Speaker A
اس قوم کا پیسہ۔
Speaker A
اس نے پہلے چوری کیا 30 سالوں میں۔
Speaker A
اور پھر چوری کر کے باہر لے کے گیا جس کو کہتے ہیں منی لانڈرنگ۔
Speaker A
منی لانڈرنگ کا مطلب کہ پہلا پیسہ چوری ہو اور پھر ملک سے باہر جائے۔
Topics:عمران خانکرپشنپاکستان معیشتقرضہنواز شریفمنی لانڈرنگجلسہNeo Newsگورننسپاکستان سیاست











