Imran Khan Big Statement | PMLN Govt Corruption Exposed… — Transcript

عمران خان نے پاکستان کی معیشت، کرپشن اور رول آف لاء کی اہمیت پر زور دیا، اور مضبوط حکومت کی ضرورت پر بات کی۔

Key Takeaways

  • پاکستان میں مضبوط اور اکثریتی حکومت کی ضرورت ہے تاکہ رول آف لاء کو نافذ کیا جا سکے۔
  • رول آف لاء کی عدم موجودگی ملک کی معیشت اور گورننس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
  • مختلف مافیاز ملک میں کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ممکن ہے مگر اندرونی مزاحمت ایک بڑا چیلنج ہے۔
  • ڈیجیٹلائزیشن اور زمین کے ریکارڈ کی درستگی کرپشن کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Summary

  • عمران خان نے پاکستان میں فری اور فیئر الیکشنز کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک کی بحالی ممکن ہو سکے۔
  • انہوں نے کہا کہ کمزور حکومتوں اور رول آف لاء کی غیر موجودگی کی وجہ سے معیشت کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
  • پریزیڈینشل سسٹم میں استحکام ہوتا ہے، جبکہ پارلیمنٹری سسٹم میں کولیشن حکومتوں کے باعث چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔
  • عمران خان نے کہا کہ اگر دوبارہ موقع ملے تو وہ حکومت نہ لیتے بلکہ الیکشن کروا دیتے۔
  • رول آف لاء کی عدم موجودگی کی وجہ سے مافیاز ملک میں ہر جگہ موجود ہیں، جیسے شوگر، سیمنٹ، ریل اسٹیٹ مافیا۔
  • انہوں نے ایف بی آر میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی کوششوں اور اندرونی مزاحمت کا ذکر کیا۔
  • نادرہ کے ڈیٹا بیس سے ٹیکس دہندگان کی شناخت کر کے ٹیکس بیس بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
  • زمین کی غیر قانونی فروخت اور قبضہ کے واقعات کی تفصیل دی گئی، جس میں پولیس اور دیگر اداروں کی ملی بھگت شامل ہے۔
  • ڈیجیٹلائزیشن اور کیڈیسٹرل میپنگ کے ذریعے زمین کے قبضے کا پتہ چلا، خاص طور پر اسلام آباد میں۔
  • مضبوط حکومت اور رول آف لاء کے قیام سے ٹیکس کلیکشن میں بہتری اور کرپشن میں کمی ممکن ہے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
نمبر ون فری اینڈ فیئر الیکشنز
00:05
Speaker A
اور یہ جتنی جلدی ہو سکے یہ ہماری ریوائیول کی بگننگ وہ ہوگی یعنی ہم پھر سے شروع کریں گے اپنے ملک کو اٹھانے کے لیے وہ ہوگا ہی تب جب کہ ایک گورنمنٹ ائے اور اور گورنمنٹ ائے اچھی اکثریت سے۔
00:19
Speaker A
میں مجھے اگر کسی نے پوچھا کہ جی اپ اپ اگر پھر سے اپ کو موقع ملتا 2018 میں تو اپ کیا کریں گے؟
00:30
Speaker A
تو ود ہائینڈ سائیٹ میں کبھی گورنمنٹ نہ لیتا۔
00:34
Speaker A
کیونکہ ایک طرف اکنامک چیلنجز بڑے تھے۔ دوسری طرف پاکستان کے اندر رول اف لاء نہیں ہے۔ تو کمزور گورنمنٹ کے کے ساتھ تو یہ اپ کر ہی نہیں سکتے رول اف لاء ہی نہیں اسٹیبلش کر سکتے۔
00:47
Speaker A
اپ یہ جو اکنامک چیلنجز فائٹ کر ہی نہیں سکتے جب تک اپ کی سٹیبل گورنمنٹ نہ ہو۔
00:53
Speaker A
پریزیڈینشل سسٹم بالکل مختلف ہے۔ اس میں سٹیبلٹی ہے لیکن پارلیمنٹری سسٹم جس کے اندر کولیشن گورنمنٹ ود تھن مائنورٹی میجورٹی اس کے لیے تو بہت ہی مشکل ہے کہ بڑے چیلنجز کو کوپ کرنے کے لیے۔
01:47
Speaker A
تو میں اگر پھر سے ہوتا میں پھر الیکشن کروا دیتا۔ میں کبھی گورنمنٹ نہ لیتا۔
01:52
Speaker A
تو میں اب سمجھتا ہوں کہ ایک گورنمنٹ ائے ود کلیئر میجورٹی اور وہ پھر سب سے پہلے رول اف لاء امپلیمنٹ کرے۔
02:03
Speaker A
میں اکانومی کی اب بات کر رہا ہوں اکانومی جو ہے جو پاکستان کی اکانومی کے مسائل ہیں وہ وہ سارا وہ ریلیٹڈ ہے رول اف لاء سے۔ جب تک رول اف لاء نہیں ہوتا اپ کی گورننس ٹھیک نہیں ہو سکتی۔
02:17
Speaker A
یہ جو مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں پاکستان میں ہر جگہ مجھے جو سب سے بڑا پرابلم کیا ہے مافیاز ہیں۔
02:24
Speaker A
میں ایف بی ار کے اندر شروع میں ہم ٹیکنالوجی لانا چاہتے تھے۔ ہم کوشش کرتے رہے کہ وہ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ہم اپنی ٹیکس کلیکشن بڑھائیں۔
03:20
Speaker A
اپ یقین کریں کہ ایک سال تک ہر وقت وہ سیبوٹائز ہو جاتا تھا اندر سے۔ اندر لوگ بیٹھے ہوئے تھے جو جو نہیں لانا چاہتے تھے کیونکہ پریزنٹ سسٹم سے اتنا زیادہ اس میں پلفریج ہے وہ ٹیکنالوجی نہیں انے دیتے تھے۔
03:32
Speaker A
جب اینڈ میں مجھے افسوس یہ ہے کہ جب ہم فائنلی ہم نے یہ بریک ڈاؤن کر کے اور ہم پہنچ گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پہ یہ جو سیلز ٹیکس کی ایویژن ہے وہ بلینز اور بلینز میں ہے وہ ہم نے جب ٹیکنالوجی وہ لے ائے اور دوسرا پھر ہم نے یہ ڈیٹا بیس نادرہ کے ڈیٹا بیس سے ٹیلی کر کے شوکت ترین نے پتہ نہیں مینشن کیا یا نہیں ہم نے ائیڈینٹیفائی کیے ٹیکس پیئرز جو کہ اچھے لائف سٹائل ان کا تھا لیکن زیرو ٹیکس دیتے تھے وہ ہم نے بیس بڑھانے کے لیے ادھر ہم پہنچے تو انفورچونیٹلی تب ہماری گورنمنٹ گرا دی گئی۔
04:07
Speaker A
تو نمبر ون چیز ہے کہ پاکستان میں ایک طاقتور گورنمنٹ رول اف لاء اسٹیبلش کرے۔ یہ جو مافیاز ہیں ہر جگہ شوگر مافیا ہے یہ سیمنٹ ہے سب سے بڑا مافیا ریل اسٹیٹ مافیا ہے۔ اپ سوچ نہیں سکتے کہ ان کی اب اس وقت پاور کیا ہے۔
05:05
Speaker A
اور اب میں اپ کو مثال دیتا ہوں کہ ابھی جو ریسنٹلی ہوا ہے۔ ہم نے ایک ایل ڈی اے والے ائے میرے پاس انہوں نے اس کے اس کے ڈی جی نے مجھے بتایا کہ 200 ارب روپے کی زمین بیچ دی گئی ہے۔ یا وہ دریا کے اندر تھی ریور بیڈ میں تھی یا وہ ایریگیشن کی اور یا فارسٹ کی زمین۔ اور وہ بیچ کے پلاٹس بیچ کے پیسہ بھی باہر چلا گیا۔
05:37
Speaker A
تو میں نے ان سے پوچھا تم نے کیوں نہیں ایکشن کیوں نہیں لیا؟ انہوں نے کہا ملٹیپل ایف ائی ار کاٹی۔ پولیس کو پیسہ کھلایا ہوا تھا پولیس نہیں وہ اس کو اپروچ کرتی تھی۔ انہوں نے جب لوگ اپنے بھیجے انہوں نے باقاعدہ مارا ان کے لوگوں کو۔ اور الٹی ان کے اوپر ایف ائی ار کاٹ دی۔
06:42
Speaker A
انہوں نے جو بھی ڈیپارٹمنٹس جاتی تھی نیچے سے پیسے اتنا پیسہ ہے اس میں کہ یہ ہر جب میں نے سی ڈی اے بڑی مشکلوں سے ہم نے کیڈیسٹرل میپنگ کروائی وہ بھی دیر لگی ڈیلے کرتے رہے۔ تو جب ہم نے وہ میپنگ کروائی یعنی ڈیجیٹلائزیشن کی ہم نے لینڈ ریکارڈز کی تو صرف اسلام اباد میں 1200 ارب روپے کی زمین کے اوپر قبضہ ہوا ہوا ہے گورنمنٹ کی زمین کے اوپر۔ اور یہ سارے پاکستان میں ایسے ہی ہے۔ سو یہ جب تک ایک ایک سٹیٹ کے پاس پاور ہو ٹو امپلیمنٹ کہ سٹیٹ کی ریٹ ہو اور وہ ہوگی ایک طاقتور گورنمنٹ سے تو میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس سے ہم ٹیکس کلیکشن اپنی بڑی انہانس کر سکتے ہیں۔
Topics:عمران خانپاکستان کی معیشتکرپشنرول آف لاءپریزیڈینشل سسٹمپارلیمنٹری سسٹمٹیکس کلیکشنمافیاڈیجیٹلائزیشنزمین کا قبضہ

Frequently Asked Questions

عمران خان کے مطابق پاکستان میں معیشت کے مسائل کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

عمران خان کے مطابق پاکستان میں معیشت کے مسائل کی بنیادی وجہ رول آف لاء کی عدم موجودگی اور کمزور حکومتیں ہیں جو کرپشن اور مافیاز کو کنٹرول نہیں کر سکتیں۔

عمران خان نے ایف بی آر میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ ایف بی آر میں ٹیکنالوجی لانے کی کوشش کی گئی تاکہ ٹیکس کلیکشن بڑھائی جا سکے، مگر اندر سے مزاحمت کی گئی جس کی وجہ سے یہ عمل متاثر ہوا۔

زمین کے قبضے اور غیر قانونی فروخت کے حوالے سے عمران خان نے کیا انکشاف کیا؟

عمران خان نے بتایا کہ ملک بھر میں گورنمنٹ کی زمین پر قبضہ اور غیر قانونی فروخت ہو رہی ہے، جس میں پولیس اور دیگر ادارے ملوث ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے مضبوط حکومت کی ضرورت ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →