Chairman PTI Imran Khan adresses Jhelum Jalsa (complete… — Transcript

عمران خان نے جیلھم جلسے میں ٹیم ورک، انصاف، معاشی انصاف اور میرٹ کی اہمیت پر زور دیا۔ ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوں کو متحد ہونے کی تلقین کی۔

Key Takeaways

  • کامیابی کے لیے ٹیم ورک اور ملک کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔
  • انصاف اور میرٹ کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
  • معاشی انصاف سے غریب طبقے کو اوپر اٹھانا ملک کی ترقی کی کنجی ہے۔
  • تعلیم اور ٹیلنٹ کی پرورش کے لیے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔
  • ملک کی صفائی اور ماحولیات کا خیال رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

Summary

  • عمران خان نے ٹیم ورک کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ کامیاب ٹیم وہی ہوتی ہے جو اپنے ملک اور ٹیم کے لیے کھیلتی ہے۔
  • انہوں نے پاکستان میں صفائی اور ماحولیات کی صورتحال پر بات کی اور ملک کی صفائی کی ضرورت پر زور دیا۔
  • انصاف کو ملک کی ترقی کی بنیاد قرار دیا، خاص طور پر کمزور طبقے کے لیے عدالتی انصاف کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
  • معاشی انصاف کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غریب طبقہ ترقی کرے اور امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہو۔
  • ٹیکس نظام کی خامیوں اور مہنگائی کی وجوہات پر بات کی، اور کہا کہ امیر طبقے سے ٹیکس لینا چاہیے۔
  • میرٹ کی اہمیت بیان کی، خاص طور پر کھیل اور تعلیم میں میرٹ کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
  • آسٹریلیا کی کامیابی کی مثال دی کہ وہاں میرٹ کی بنیاد پر ٹیلنٹ کو اوپر لایا جاتا ہے۔
  • پاکستان میں اولمپکس میں میڈلز نہ ملنے کی وجہ میرٹ نہ ہونا اور نظام کی خرابی کو قرار دیا۔
  • تعلیم کے نظام پر بات کی اور جرمنی، جاپان جیسے ممالک میں مفت اور معیاری تعلیم کی مثال دی۔
  • نوجوانوں کو ملک کی ترقی کے لیے متحد ہونے اور ملک کی خدمت کرنے کی تلقین کی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
فنکشن کی مبارک دیتا ہوں۔
00:08
Speaker A
اور فواد چوہدری
00:12
Speaker A
میں اج اپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
00:17
Speaker A
اس لیے کہ اپ ایک ٹیم پلیئر ہیں۔
00:30
Speaker A
اپ کے لیے نوجوانوں خاص طور پہ اپ کے لیے ایک چیز اپنے ذہنوں میں ڈال لیں۔
00:37
Speaker A
ٹیم وہ جیتی ہے اب یہ وہ ادمی اپ کے سامنے بات کر رہا ہے۔
00:44
Speaker A
21 سال جس نے کھیلوں کی گراؤنڈوں پہ گزارے تو میں اس نتیجے پہ پہنچا
00:54
Speaker A
کہ ٹیم وہ جیتی ہے جس ٹیم کے کھلاڑی اپنے لیے نہیں ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں۔
01:04
Speaker A
70 کی دہائی میں پاکستان کے پاس بہترین کھلاڑی تھے۔
01:12
Speaker A
لیکن ہم جیتے کچھ نہیں تھے 90 کی دہائی میں پاکستان کی شاید پاکستان کی تاریخ کی بہترین ٹیم تھی۔
01:28
Speaker A
لیکن ہم نے وہ نہیں کیا جو ہمیں کرنا چاہیے تھا۔
01:34
Speaker A
لیکن 80 کی دہائی میں ہماری اتنی اچھی ٹیم نہیں تھی۔
01:43
Speaker A
لیکن سارے کھلاڑی کیونکہ ٹیم کے لیے کھیلتے تھے۔
01:51
Speaker A
اس ٹیم نے وہ کام کیا جو کسی ٹیم نے پہلے نہیں کیا اس ٹیم نے بڑے کپ جیتے باہر جیتی اور ورلڈ کپ بھی جیتا۔
02:03
Speaker A
اب ہم نے تحریک انصاف کی ایک ایسی ٹیم بنانی ہے اور میں وہ ٹیم بنا رہا ہوں
02:14
Speaker A
کہ میرے جتنے بھی ٹاپ کے کھلاڑی ہوں گے وہ اپنی ذات کے لیے نہیں کھیلیں گے اپنے ملک کے لیے اور اپنی ٹیم کے لیے کھیلیں گے۔
02:27
Speaker A
جب جب ایک منٹ جب ہمارے اندر یہ جذبہ کسی بھی ٹیم میں
02:37
Speaker A
میں کسی بھی ٹیم کی بات کر رہا ہوں۔
02:42
Speaker A
میں کسی تنظیم کی بات کر رہا ہوں میں کسی ادارے کی بات کر رہا ہوں میں کسی قوم کی بات کر رہا ہوں۔
02:55
Speaker A
جب ایک قوم کے اندر لوگ اپنی قوم کے لیے کھیلنا شروع کرتے ہیں وہ قوم جیت جاتی ہے۔
03:05
Speaker A
جس قوم میں
03:11
Speaker A
جس قوم میں لوگ اپنے اپنے لیے کرتے ہیں۔
03:17
Speaker A
یعنی سب سے ایک ہی چیز لے لیں۔
03:21
Speaker A
گندگی
03:23
Speaker A
ہم اپنا گھر صاف کر کے گند باہر پھینک دیتے ہیں۔
03:29
Speaker A
ہم اپنی گند دریا جہلم میں پھینک دیتے ہیں۔
03:37
Speaker A
ہمیں یہ نہیں پتا کہ وہ جب ہم دریا جہلم کو گندا کرتے ہیں تو سارا نیچے گندگی چلی جاتی ہے۔
03:47
Speaker A
کئی لوگ پانی پیتے ہیں دریا کا۔
03:52
Speaker A
ہم یہ فکر نہیں کرتے کیونکہ ہم اگر ٹھیک ہے تو ہمیں لوگوں کی فکر نہیں ہے۔
04:00
Speaker A
کبھی قوم ایسے ترقی نہیں کرتی۔
04:03
Speaker A
سوئٹزرلینڈ میں
04:06
Speaker A
سوئٹزرلینڈ کے اندر یورپ میں کبھی لوگ اپنا گند اٹھا کے باہر نہیں پھینکتے۔
04:16
Speaker A
فکر کرتے ہیں اپنے ملک کی۔
04:18
Speaker A
اور انشاءاللہ پاکستانیوں میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں ایک دن ہمارا ملک وہ ہوگا۔
04:26
Speaker A
ہم بھی فکر کریں گے اپنے ملک کی۔
04:30
Speaker A
ہم بھی ملک کی صفائی کریں گے۔
04:34
Speaker A
انشاءاللہ
04:37
Speaker A
انشاءاللہ
04:39
Speaker A
اب میں بات وہ اج کرنی ہے یہ جو ہمارا نیا وزیراعظم بنا ہے۔
04:47
Speaker A
اس کے اوپر میں نے بات کرنی ہے۔
04:50
Speaker A
لیکن اس بات سے پہلے کیونکہ یہاں اس علاقے میں میں پہلی دفعہ ایا ہوں۔
04:58
Speaker A
اور یہاں بہت نوجوان ہیں۔
05:01
Speaker A
اور مستقبل نوجوانوں کا ہے اس لیے نوجوانوں میں اپ کو صرف ایک چیز بتانا چاہتا ہوں۔
05:10
Speaker A
ساری دنیا پھرا لو کوئی بھی دنیا کا ملک ہے ہی نہیں جو میں نے کیا۔
05:18
Speaker A
برطانیہ میں کرکٹ کھیلتا تھا۔
05:23
Speaker A
18 سال 18 گرمیاں پڑھائی بھی بند کی۔
05:26
Speaker A
میں اج اپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ملک کی کامیابی کا راز کیا ہے۔
05:36
Speaker A
کیا وجہ ہے کہ ایک ملک اوپر چلا جاتا ہے اور دوسرا ملک کا دیوالیہ نکل جاتا ہے غریبوں کے سمندر میں تھوڑے سے امیر لوگ رہ جاتے ہیں۔
05:46
Speaker A
وہ مقروض ہو جاتا ہے ملک۔
05:50
Speaker A
اور کہاں کہ ایک چھوٹا سا ملک سنگاپور کی طرح ہمارے سامنے دیکھتے دیکھتے دبئی کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔
06:02
Speaker A
تو میں اج اپ کو اس کا راز بنانا چاہتا ہوں جو کہ ہے منشور تحریک انصاف کا۔
06:13
Speaker A
پہلی چیز
06:17
Speaker A
جب تک عدالتوں میں انصاف نہ ملے کوئی ملک ترقی نہیں کرتا۔
06:24
Speaker A
کیونکہ انصاف کمزور کو چاہیے ہوتا ہے۔
06:29
Speaker A
طاقتور طاقتور کے اوپر جب کوئی عدالت فیصلہ کرتی ہے تو وہ کہتا ہے مجھے کیوں نکالا۔
06:40
Speaker A
کمزور
06:43
Speaker A
اور اپ یہاں سارے دیہات میں
06:47
Speaker A
ایک منٹ ایک منٹ ابھی نہیں۔
06:49
Speaker A
ابھی
06:50
Speaker A
پنجاب کے دیہات کے اندر
06:58
Speaker A
میرا بھی جدھر سے میں الیکشن پہلی دفعہ جیتا بھی ہوں وہ پاس ہی ہے یہاں سے۔
07:07
Speaker A
ہمارے دیہات میں سب سے بڑا ظلم کیا ہے کہ ایک عام ادمی کے اوپر تھانے کچہری اور پٹواری کا ظلم ہوتا ہے۔
07:16
Speaker A
سارا وقت جب میں وہاں میاں والی کا ایم این اے بنا تو میں جب حلقے میں پھرتا تھا
07:24
Speaker A
تو درخواستوں پہ درخواستوں پہ درخواستیں کہ جی وہ تھانے میں غلط ایف ائی ار کٹ گئی وہ بڑے والے نے جھوٹا کیس کروا دیا۔
07:37
Speaker A
سارا وقت عام ادمی کے لیے زندگی عذاب بنی ہوئی ہے۔
07:44
Speaker A
کمزور کو انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔
07:49
Speaker A
طاقتور ہمیشہ انصاف سے اوپر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
07:57
Speaker A
اس لیے سب سے پہلے اگر ایک معاشرے میں اگے بڑھنا ہے تو ادھر عدالتیں انصاف دیں۔
08:06
Speaker A
حضرت علی رضی اللہ تعالی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل جائے گا لیکن ظلم اور ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔
08:18
Speaker A
دوسرا
08:20
Speaker A
معاشی انصاف۔
08:22
Speaker A
معاشی انصاف کا مطلب
08:26
Speaker A
کہ جب ایک معاشرے میں خوشحالی ائے تو وہ شریفوں اور زرداریوں کی خوشحالی نہ ہو۔
08:37
Speaker A
وہ نیچے چھوٹا کسان مزدور محنت کش
08:43
Speaker A
وہ سڑکوں کے اوپر گرمی کے اندر سڑکیں کھود رہے ہوتے ہیں۔
08:50
Speaker A
ایک غریب بھڑانا
08:52
Speaker A
جب ایک ملک میں خوشحالی ائے سارا معاشرہ اوپر جائے گا۔
08:59
Speaker A
جب ایک معاشرے میں امیر اور غریب میں فرق بڑھ جاتا ہے وہ معاشرہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
09:08
Speaker A
جب چائنا کی طرح اپنے ملک میں 50 کروڑ لوگوں کو انہوں نے 30 سال پچھلے 30 سال میں غربت سے نکالا۔
09:16
Speaker A
چائنا کہاں کا کہاں پہنچ گیا۔
09:20
Speaker A
دنیا کی سب سے بڑی پاور بننے جا رہا ہے۔
09:26
Speaker A
کیونکہ انہوں نے غریبوں کو اٹھایا۔
09:30
Speaker A
امیر غریب میں فرق کم کیا۔
09:34
Speaker A
تو دوسرا ہے معاشی انصاف۔
09:37
Speaker A
ایک معاشرہ ترقی تب کرتا ہے جب اپنے کمزور طبقے کو اٹھاتا ہے۔
09:45
Speaker A
اپنے چھوٹے کسانوں کو اٹھاتا ہے۔
09:49
Speaker A
جو بیچارہ محنت کش ہے اس کو اتنی تنخواہ دیتا ہے کہ وہ بچوں کا پیٹ پال سکے بچوں کو کپڑے دے سکے اپنے گھر میں علاج کروا سکے۔
10:00
Speaker A
ایک مزدور کی اتنی تنخواہ ہو۔
10:04
Speaker A
ایک چھوٹے کسان کی تنخواہ ہو۔
10:07
Speaker A
جب وہ جب ایک کمزور طبقہ معاشرے میں اوپر اٹھتا ہے سارا معاشرہ اوپر ا جاتا ہے۔
10:16
Speaker A
جب ایک چھوٹا سا امیر طبقہ جب وہ امیر ہوتا ہے تو وہ باہر میئر میں فلیٹ لے لیتا ہے بڑے بڑے باہر محلات خرید لیتا ہے۔
10:28
Speaker A
دبئی میں بڑے بڑے بڑے بڑے ٹاور بنا دیتا ہے۔
10:35
Speaker A
وہ امیر پیسہ باہر لے جاتا ہے۔
10:40
Speaker A
عوام کو فائدہ نہیں ہوتا اس کا۔
10:43
Speaker A
چھوٹا کسان کے پاس جب پیسہ اتا ہے وہ مجھ سے باہر پیسہ نہیں بھیجتا۔
10:50
Speaker A
وہ ملک میں خرچ کرتا ہے۔
10:52
Speaker A
جب وہ پیسہ ملک میں خرچ کرتا ہے تو لوگوں کی نوکریاں ہوتی ہیں۔
10:59
Speaker A
سرمایہ کاری ہوتی ہے اس ملک میں۔
11:01
Speaker A
چائنا میں جب غریب اوپر اٹھا تو چائنا کے اندر ساری دنیا گئی سرمایہ کاری کرنے کے لیے۔
11:10
Speaker A
نوکریاں بڑھیں۔
11:12
Speaker A
بے روزگاری کم ہوئی۔
11:14
Speaker A
لوگوں کی جیب میں پیسہ ایا۔
11:16
Speaker A
ملک اٹھ کے کہاں سے کہاں چلا گیا۔
11:20
Speaker A
ہمارا سب سے بڑا دوسرا مسئلہ
11:26
Speaker A
کہ ہمارے ملک کے اندر امیر ایک چھوٹا سا امیر طبقہ امیر ہوتا جا رہا ہے
11:36
Speaker A
اور عوام غریب ہوتی جا رہی ہے۔
11:40
Speaker A
ٹیکس لگتے ہیں۔
11:43
Speaker A
سارے عوام کے اوپر۔
11:45
Speaker A
حکومت کو پیسہ چاہیے چلانے کے لیے۔
11:50
Speaker A
وہ بجائے پیسے والے لوگوں سے پیسہ اکٹھا کرے وہ سارا پیسہ عوام سے اکٹھا کرتا ہے مہنگائی کر کے۔
12:01
Speaker A
اب تقریبا میں نے اج پڑھا تھا۔
12:04
Speaker A
کہ بجلی پھر مہنگی کر دی ہے۔
12:08
Speaker A
پاکستان میں بجلی اور گیس سارے برصغیر میں سب سے مہنگی ہے۔
12:16
Speaker A
کیوں مہنگی ہے؟
12:19
Speaker A
کیونکہ اپ کے اوپر ٹیکس لگا رہے ہیں۔
12:23
Speaker A
پیسہ ہے نہیں حکومت کے پاس پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتے ہیں یہ بڑے بڑے
12:30
Speaker A
اور عوام کے اوپر
12:33
Speaker A
اور قرضے چڑھا دیتے ہیں۔
12:35
Speaker A
کیونکہ ملک میں جب چوری ہوتا ہے پیسہ تو ملک کے پاس پیسہ نہیں ہے۔
12:41
Speaker A
اس کے لیے قرضے لیتے ہیں۔
12:43
Speaker A
قرضوں کی قسطیں واپس کرنے میں
12:49
Speaker A
قرضوں کی قسطیں واپس کرنے میں وہ اپ پہ ٹیکس لگاتے ہیں۔
12:55
Speaker A
تو یہ دوسرا کہ حکومت غربت کم کرنے کے لیے سارا پروگرام کرے ساری پالیسیز بنائے۔
13:05
Speaker A
بجائے امیر کو امیر کرے اور غریب کو غریب کرے غریب کو غربت سے اٹھائے وہ ملک خود اٹھ جائے گا۔
13:12
Speaker A
تیسری چیز
13:16
Speaker A
یہ بھی انصاف کی بات ہے۔
13:20
Speaker A
پہلی عدالتی انصاف معاشی انصاف
13:23
Speaker A
جو تیسری چیز ہے وہ ہے میرٹ۔
13:28
Speaker A
میرٹ کا مطلب کیا ہے؟
13:32
Speaker A
میں اپ نوجوانوں اپ کو سمجھاؤں میرٹ کیا ہوتی ہے۔
13:37
Speaker A
اپ یہ دیکھیں کہ ایک کرکٹ ٹیم میں کرکٹ کی مثال دیتا ہوں اپ کو ایک ملک اپنا بہترین میرٹ پہ کرکٹ ٹیم سلیکٹ کرتی ہے۔
13:47
Speaker A
اور دوسرے ملک کے اندر میرٹ ہے ہی نہیں سفارشی ہے وہ دوسرا ملک کبھی جیت نہیں سکے گا اس ملک سے جو اپنے ملک کا بہترین ٹیلنٹ اوپر لے اتا ہے۔
13:59
Speaker A
اب اسٹریلیا کی میں مثال دیتا ہوں۔
14:02
Speaker A
میں اسٹریلیا میں کرکٹ کھیلا ہوں۔
14:05
Speaker A
اسٹریلیا کی ابادی پختونخواہ سے کم ہے یا پختونخواہ جتنی ہے۔
14:13
Speaker A
سوچیں کہ دنیا کی کرکٹ کی تاریخ میں اسٹریلیا کی ٹیم دنیا کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے۔
14:25
Speaker A
کیوں؟
14:27
Speaker A
کیونکہ اسٹریلیا میں ایک بہترین میرٹ کا سسٹم ہے اگر کوئی بچے میں ٹیلنٹ ہے۔
14:35
Speaker A
ان کا نظام ایسا ہے کہ وہ ٹیلنٹ کو اوپر لے ائے گا۔
14:41
Speaker A
صرف سوا دو کروڑ کی ابادی صرف دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیم ہی نہیں اولمپکس میں جا کے گولڈ میڈل لیتے ہیں سلور میڈل لیتے ہیں۔
14:51
Speaker A
پاکستان کی 20 کروڑ ابادی ہے۔
14:55
Speaker A
20 کروڑ
15:00
Speaker A
ہم اولمپکس میں میڈل تو دور کی بات ہے ہمارا ایک کھلاڑی کوالیفائی نہیں کیا اولمپکس میں۔
15:10
Speaker A
میڈل تو دور کی بات ہے ایک کھلاڑی ساری اولمپکس کے اندر گیا نہیں۔
15:17
Speaker A
کیا وجہ ہے؟
15:19
Speaker A
کیا ٹیلنٹ نہیں ہے یہاں؟
15:22
Speaker A
یہ ملک کرکٹ کا چیمپئن رہ چکا ہے۔
15:26
Speaker A
ہاکی کا چیمپئن رہ چکا ہے۔
15:28
Speaker A
دو ہمارے کھلاڑی 10 10 سال تک سکواش چیمپئن رہ چکے ہیں دنیا کے۔
15:36
Speaker A
تو کیا وجہ ہے کہ ایک بھی پاکستان میں کھلاڑی نہیں ہے اولمپکس کے لیے کیونکہ میرٹ نہیں ہے۔
15:46
Speaker A
سسٹم ہی اوپر نہیں لے کے اتا اس ملک کے ٹیلنٹ کو۔
15:51
Speaker A
ہمارا نظام ہی دو نمبر ہے۔
15:56
Speaker A
پڑھائی لے لیں۔
15:59
Speaker A
جرمنی اور جاپان کا میں اپ کو جرمنی جاپان اور فرانس کا میں پڑھائی کا نظام بتاتا ہوں۔
16:09
Speaker A
جرمنی اور جاپان میں سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم ملتی ہے۔
16:16
Speaker A
سب سے بہترین تعلیم سرکاری سکولوں میں ملتی ہے۔
16:21
Speaker A
سب سے زیادہ تنخواہیں سرکاری سکولوں کے ٹیچروں کو ملتی ہیں۔
16:27
Speaker A
اور سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم ملتی ہے۔
16:30
Speaker A
جو امتحان پاس کرتا ہے سرکاری سکولوں میں۔
16:34
Speaker A
چاہے وہ شہزادہ ہے چاہے وہ شہزادے کا نوکر ہے دونوں کے بیٹے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں۔
16:41
Speaker A
جو بھی امتحان پاس کر جائے۔
16:43
Speaker A
اس کا مطلب کہ بہترین ملکوں کا ٹیلنٹ اوپر ا جاتا ہے۔
16:48
Speaker A
ہر سال جو بھی ذہین بچے ہیں وہ اوپر ا جاتے ہیں۔
16:52
Speaker A
ہمارا سسٹم
16:55
Speaker A
پہلے تو ڈھائی کروڑ بچہ سکولوں میں ہی نہیں ہے۔
17:01
Speaker A
ڈھائی کروڑ پاکستان کا بچہ سکولوں میں نہیں ہے۔
17:06
Speaker A
تو ان کو ہمیں کیسے پتا چلے گا وہ کتنے ذہین ہیں۔
17:11
Speaker A
پھر
17:14
Speaker A
سوا تین کروڑ بچے
17:18
Speaker A
سوا تین کروڑ بچے سرکاری سکولوں میں ہیں۔
17:23
Speaker A
ہم نے جب پختونخواہ میں حکومت سنبھالی ادھے سرکاری سکولوں میں ٹیچر ہی نہیں تھے۔
17:29
Speaker A
تو سرکاری سکولوں میں کیا پڑھائی ملنی ہے۔
17:33
Speaker A
اس کے بعد 22 لاکھ بچے دینی مدرسوں میں۔
17:38
Speaker A
کئی دینی مدرسوں میں اچھی پڑھائی ہے۔
17:41
Speaker A
اور کئیوں میں سوائے دین کے نہ ان کو سائنس پڑھائی جاتی ہے نہ اور سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں۔
17:49
Speaker A
وہ معاشرہ اوپر ہی نہیں ا سکتے۔
17:53
Speaker A
نہ اردو میڈیم کے مقابلہ کر سکتے ہیں انگلش میڈیم کا۔
17:59
Speaker A
نہ دینی مدرسے میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔
18:02
Speaker A
اچھی اچھی نوکری
18:06
Speaker A
اچھی اچھی نوکریاں انگلش میڈیم کو۔
18:10
Speaker A
اور انگلش میڈیم میں کتنے بچے ہیں؟
18:13
Speaker A
اٹھ لاکھ۔
18:16
Speaker A
سوچیں۔
18:19
Speaker A
کہ ساڑھے کوئی اپ یہ سمجھیں کہ وہ چار کروڑ اگر بچہ ہے پاکستان میں تو صرف اٹھ لاکھ بچہ انگریزی سکولوں میں ہے۔
18:30
Speaker A
اس میں سے بھی جو بہترین انگلش میڈیم سکول ہیں ان میں سے 50 60 ہزار بچہ ہے۔
18:34
Speaker B
تحریک انصاف کی چیئرمین عمران خان جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں جہلم میں عمران خان صاحب کا یہ جلسہ ہے۔
Topics:عمران خانتحریک انصافجیلھم جلسہٹیم ورکانصافمعاشی انصافمیرٹتعلیمپاکستان کی ترقینوجوانوں کی ترقی

Frequently Asked Questions

عمران خان نے جیلھم جلسے میں کس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا؟

عمران خان نے جیلھم جلسے میں ٹیم ورک، انصاف، معاشی انصاف اور میرٹ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوں کو متحد ہونا ہوگا۔

عمران خان کے مطابق پاکستان میں معاشی انصاف کیوں ضروری ہے؟

عمران خان کے مطابق معاشی انصاف اس لیے ضروری ہے تاکہ غریب طبقہ ترقی کرے، امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہو اور ملک کی معیشت مضبوط ہو۔

عمران خان نے پاکستان کی تعلیم کے نظام کے حوالے سے کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میرٹ کا نظام خراب ہے اور جرمنی، جاپان جیسے ممالک میں مفت اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے جس سے ٹیلنٹ کو اوپر لایا جاتا ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →