Roundup | Chairman Imran Khan’s address to the nation |… — Transcript

عمران خان نے قومی وقار، سازشوں اور سیاسی حالات پر قوم سے خطاب کیا، سائفر اور عدم اعتماد کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔

Key Takeaways

  • سائفر کی حقیقت کو جاننے کے لیے مکمل انکوائری ضروری ہے۔
  • سیاسی سازشوں نے پاکستان کی معیشت اور استحکام کو نقصان پہنچایا۔
  • عمران خان نے ملک کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے روس کا دورہ کیا۔
  • ملکی طاقت کا مرکز جنرل باجوہ تھے جنہوں نے حکومت کے خلاف سازش کی۔
  • قوم کو اپنے حقوق اور وقار کے لیے متحد رہنا ہوگا۔

Summary

  • عمران خان نے اعظم خان کی ایمانداری پر اعتماد کا اظہار کیا اور سائفر میں موجود الزامات کو مسترد کیا۔
  • سائفر میں عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے اور روس جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ عمران خان نے کہا کہ یہ فیصلہ مشترکہ تھا۔
  • عمران خان نے جنرل باجوہ کو ملک کی واحد طاقت قرار دیا اور عدم اعتماد کی سازش میں ان کا کردار بتایا۔
  • انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت بہتر ہو رہی تھی لیکن سیاسی سازشوں کی وجہ سے حکومت گرا دی گئی۔
  • امریکی سفارت خانے اور دیگر سیاسی شخصیات کی سازشوں کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔
  • روس کے دورے کی اہمیت اور اس کے پس منظر میں سستی گندم اور تیل کی فراہمی پر بات کی۔
  • نیشنل سیکیورٹی کونسل میں سائفر کی انکوائری کی کوششوں کا ذکر کیا اور جنرل باجوہ کی مذمت کی۔
  • عمران خان نے اپنے خلاف لگائے گئے مقدمات اور جیل میں قید کے دوران پیش آنے والے حالات بیان کیے۔
  • انہوں نے پرامن مظاہروں پر تشدد اور سیاسی ظلم کے واقعات کی تفصیل دی۔
  • عمران خان نے قوم سے اپیل کی کہ وہ انصاف اور قومی وقار کے لیے متحد رہیں۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
جس اعظم خان کو میں جانتا ہوں وہ ایماندار ادمی ہے۔ قابل ادمی ہے اور جس طرح کی باتیں میں نے پڑھی ہیں سائفر میں وہ کہہ نہیں سکتا۔
00:07
Speaker A
جب تک میں اعظم خان کے منہ سے نہیں سنوں گا میں مانوں گا نہیں۔ کیونکہ اس میں یہ کئی باتیں حقیقت کے ساتھ نہیں ہیں۔ یا تو زبردستی سے اسے کروایا گیا ہے۔
00:15
Speaker A
سائفر میں دو مین چیزیں ہیں باقی تو اور بھی چھوٹی موٹی چیزیں ہیں۔
00:20
Speaker A
سب سے بڑی چیز لکھی ہوتی ہے کہ جی عمران خان کو اپ نے عدم اعتماد کی ووٹ میں پاکستان کے پرائم منسٹر شپ سے ہٹانا ہے۔
00:30
Speaker A
اور ایک اور چیز لکھی ہوتی ہے کہ عمران خان نے اکیلا فیصلہ کیا کہ روس جانے کا۔ اپ کو پتہ ہے روس اور تب تک جنگ شروع ہو چکی تھی روس کی یوکرین میں تو عمران نے اکیلے نے فیصلہ کیا۔
00:41
Speaker A
جبکہ اسد مجید ہمارے ایمبیسڈر کہہ رہے ہیں کہ نہیں عمران خان نے اکیلا فیصلہ نہیں کیا یہ سب سٹیک ہولڈرز نے مل کے فیصلہ کیا تھا۔
00:49
Speaker A
اسد مجید سلام کرتا ہوں میں اپنے ایمبیسڈر کو وہ کہتا ہے اس کے بعد جو مجھے میسج کہ ان کے خلاف اپ کو پروٹیسٹ کرنا چاہیے ڈیمارچ کرنا چاہیے کہ اس سے بڑی غلط زبان استعمال کی ہے۔ غیرت مند ڈپلومیٹ ہمارا لیکن وہ غیرت یہاں نہیں جاگتی جب وہ یہاں پہنچتا ہے۔
01:47
Speaker A
جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ کہہ رہا ہے ایک ایمبیسڈر کو کہ اپنے پرائم منسٹر کو اپ نے ہٹانا ہے تو پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ میرے لیے تو نہیں ہے۔ ایمبیسڈر تو مجھے جواب دے ہیں۔ تو مجھے کون ہٹا سکتا ہے؟ پاکستان میں مجھے کون ہٹا سکتا تھا؟ ایک ہی ادمی جنرل باجوہ۔
02:05
Speaker A
سائفر تو جنرل باجوہ کے لیے ہے اس نے بھیجا ہے۔
02:08
Speaker A
مجھے خبریں اتی رہتی تھیں کہ جناب فیصلہ ہو گیا اپ کی گورنمنٹ ہٹانے کو۔ مجھے رپورٹ ا رہی رہتی تھی ائی بی والے مجھے ا کے بتاتے تھے کہ جی دیکھیں شہباز شریف کی خفیہ میٹنگز ہو رہی ہیں۔ بیچ میں ان کے لوگ پڑے ہوئے ہیں۔ جنرل باجوہ کی کوئی فادر ان لا ان کے گھر میٹنگز ہو رہی ہیں یہ ساری مجھے خبریں ا رہی تھیں۔ لندن کسی کو بھجوایا جا رہا ہے۔
02:27
Speaker A
تو میں مانتا نہیں تھا میں جنرل باجوہ کو جب ملتا تھا وہ کہتے تھے ہو ہی نہیں سکتا ہم تو کنٹینیوٹی چاہتے ہیں۔
02:32
Speaker A
کون پرائم منسٹر کو ہٹا سکتا ہے سوائے ایک ادمی کے جس کے پاس پاور ہے پاکستان میں پاور ادھر ہی ہے۔ سپر سپر کنگ ہے سب پوچھنے والا کوئی نہیں ہے لیکن پاور ہی پاور ہے۔
03:23
Speaker A
اس کے بعد اگلے دن عدم اعتماد اسمبلی میں ٹیبل ہو جاتی ہے اور ایک دم ہمارے لوگ ہلنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ہمارے اتحادی وہ بھی ایک دم ہمارے سے خوش نہیں ہوتے۔
03:34
Speaker A
لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ ٹائم کون سا تھا؟ یہ وہ ٹائم تھا جب پاکستان کی اکانومی 17 سال میں سب سے بہتر امپروو کر رہی تھی۔
03:44
Speaker A
مجھے پاکستانی ہوتے ہوئے میں اپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں مجھے شرم ائی کہ اس کی جرات کیسے ہوئی کسی چھوٹے ایک افیشل کی کہ جو ہمیں اتنی بڑی دھمکی دے دے اور ایمبیسڈر کے ذریعے میسج بھجوائے کہ پرائم منسٹر کو ہٹا دو۔
03:58
Speaker A
لیکن اس کی غلطی نہیں تھی۔ شرم یہاں نہیں ا رہی تھی۔ جن لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ قوم کی حفاظت کرنا جس ادمی کی کہ قومی وقار کو بچانا قومی غیرت وہ ساتھ ملا ہوا تھا۔ یعنی یہ سارا پلان ادھر سے شروع ہوا تھا۔
04:12
Speaker A
میرے اوپر غداری کا ایک پرچہ کر دیا ہے کہ جنرل فیصل نصیر کو میں نے ڈرٹی ہیری کیوں کہا سائیکوپیتھ کیوں کہا میرے اوپر غداری کا پرچہ لا جاتا ہے۔ میں پھر سے کہتا ہوں کہ اگر ہم نے یہ کرنا ہے اپنے ملک کے ساتھ کہ کسی ادارے کو اگر میں کسی جج کی بات کروں گا تو میں ساری جوڈیشری کے خلاف ہو گیا۔ اس کا مطلب کیا میں پولیس کے خلاف کروں گا تو ساری پولیس کو میں نے برا بھلا کہہ دیا۔ یہ تو ہم اپنے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔
05:16
Speaker A
یہ پلیز میری قوم پلیز اپ یہ سمجھ جائیں ایک بات اگر معاشرے سے اپ تنقید ختم کرتے ہیں اپ معاشرے کی قبر کھود دیتے ہیں۔
05:24
Speaker A
چیف جسٹس صاحب کو میں نے وہ سائفر بھیجا کہ جی اس کے اوپر انکوائری کروائیں۔
05:30
Speaker A
نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سامنے رکھا۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سامنے 30 مارچ کو میں نے رکھا کہ جی یہ ہیں سارے ارمی چیفس بیٹھے ہوئے تھے سروس چیفس بیٹھے ہوئے تھے۔ سب کے سامنے رکھا کہ یہ اس نے لکھا ہے اور اپ کا ایمبیسڈر کہہ رہا ہے کہ اس ان کو پروٹیسٹ کرو کہ یہ کسی کی جرات نہیں ہونی چاہیے اس طرح کا کسی بھی ایک ایک ملک کو ازاد ملک کو اس طرح کا اس کا اس طرح کا زبان استعمال کرنی۔
05:53
Speaker A
انہوں نے کہا جی ہاں مداخلت تو ہوئی ہے تنقید کی امریکہ کو پروٹیسٹ بھی کیا نیشنل سیکیورٹی کونسل نے 30 مارچ کو۔
06:41
Speaker A
میں حیران ہو گیا کہ صرف صرف جی ہم ڈیمارچ کرتے ہیں اپ انکوائری کرنی چاہیے تھی پوچھنا چاہیے تھا لکھنا چاہیے تھا کہ اس نے کیوں یہ کہا اور انکوائری جب ہونی تھی تو ایک ادمی نے سامنے ا جانا تھا جنرل باجوہ نے۔
06:54
Speaker A
مسلسل یہ جناب ان کی میٹنگز ہوتی تھیں۔ ان کی وہ چارج ڈی افئیر سے ملتے تھے۔ کیا ائی ایس ائی کو نہیں پتہ تھا کہ پچھلے تین مہینے کے اندر ہمارے پارلیمنٹیرینز ہمارے پی ٹی ائی کے بیک بینچرز اور یہ اپوزیشن لیڈر سے بار بار امریکن ایمبیسیز میں جا رہے تھے۔
07:09
Speaker A
ارشد شریف نے پورا پروگرام کیا بتایا کہ کون کون سے دن کون کون سے لوگ گئے۔ راجہ ریاض کا بتایا گیا کیا راجہ ریاض وہاں فارن پالیسی ڈسکس کرنے گیا تھا جو سب سے پہلے بھاگے وہ امریکن ایمبیسی جا رہے تھے کیا ان کو نہیں پتہ تھا اس کے حصہ تھے سازش ہو رہی تھی کسی طرح عمران خان کو راستے سے ہٹایا جائے۔
07:28
Speaker A
امریکہ کی ایک بات سمجھ جائیں۔ امریکہ جو ہے وہ اپنے مفاد کے لیے فیصلے کرتا ہے۔ وہ دوستیاں نہیں نبھاتا۔
07:38
Speaker A
امریکہ اپنے انٹرسٹ کو پروٹیکٹ کرتا ہے۔ ہمارا کام ہے ہم اپنے انٹرسٹ پروٹیکٹ کریں۔ سائفر میں کیا لکھا ہے کہ عمران خان خود روس گیا ہے۔
08:24
Speaker A
میں عمران خان نے خود روس کیوں جانا تھا؟ فارن افس نے مجھے کہا بیٹھ کے مشاورت ہوئی۔ ہم نے سارے پاکستان کے ایکس فارن سیکرٹریز کو بلایا۔ سب نے کہا کہ اپ کا رشیا جانا بہت ضروری ہے ہمیں اپنے تعلقات ٹھیک کرنے چاہیے۔
08:41
Speaker A
پھر ہمیں دو 20 لاکھ ٹن گندم چاہیے تھی ان سے۔ وہ ہم بات کرنا چاہتے تھے کنسیشن میں سے۔ اس کے بعد جب ٹینشن ہوئی یوکرین سے تو تیل کی قیمتیں اسمانوں پہ چلی گئیں۔ کموڈٹی سپر سائیکل ا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپ وہاں جا کے ان سے نیگوشیٹ کریں سستا تیل۔
08:58
Speaker A
تو سارا سٹیک ہولڈرز کے ساتھ جتنے بھی تھے انہوں نے پورا پلان کیا ہم ٹرپ پہ جانے لگے شام کو ٹینشن بڑھ گئی روس کی اور یوکرین کی۔ میں نے جانے سے پہلے جنرل باجوہ سے پوچھا کہ کیا مجھے جانا چاہیے یا نہیں؟ انہوں نے کہا ہم سب بیٹھے ہوئے ہیں ہمارے خیال میں اپ کو جانا چاہیے۔ تو سب سے پوچھ کے میں روس گیا میں اپنی ذات کے لیے تو نہیں گیا۔ تو واپس ایا تو جناب جنرل باجوہ نے اس کے دو دن بعد کہ جی مذمت کرو کہ یہ جو روس چلا گیا وہاں۔
10:05
Speaker A
فارن افس بھی بیٹھا ہمارے مین لیڈرز بیٹھے ہیں ہم نے کہا کہ ہندوستان تو مذمت نہیں کر رہا وہ تو ان کا سٹریٹیجک الائے ہے وہ تو نہیں کر رہا ہم کیوں کریں اور ہم ان سے ڈیل کر کے ا گئے تھے سستا تیل پہ اور سستی گندم پہ۔
10:18
Speaker A
اس کے بعد جا کے ایک نیشنل سیکیورٹی کا سیمینار ہو رہا ہے جنرل باجوہ وہاں بیٹھ کے کہتا ہے جی عمران خان ہم روس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کی پالیسی کے خلاف جا کے سٹیٹمنٹ دے دیتا ہے۔ اس کے بعد حسین حقانی کی ٹویٹ اتی ہے۔ وہ کہتا ہے جنرل باجوہ پرو امریکہ ہے اور عمران خان اینٹی امریکہ ہے۔
10:39
Speaker A
بعد میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے 30 ہزار ڈالر دے کے حسین حقانی کو جنرل باجوہ نے ہائر کیا ہوا تھا ہماری گورنمنٹ کے دوران وہ بعد میں جب ان کا فیرا ان کا ایک ادارہ ہوتا ہے جو اپ کو رجسٹر کرنا پڑتا ہے لابیز کو اس میں پتہ چلتا ہے بعد میں ہمیں تو میرا اپنا ہی ارمی چیف میرے خلاف لابی کر رہا تھا ان کو بتا رہا تھا میں کتنا برا ہوں۔ کوئی فکر نہیں ہے ملک کدھر جا رہا ہے کوئی اس وقت فکر نہیں کہ ملک کے سارے ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔ سارا صرف ایک ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ عمران خان کو کس طرح ڈس کوالیفائی کرنا ہے اور اسے جیل میں ڈالنا ہے۔ یہ ایجنڈا ہے۔
11:52
Speaker A
اس کے اندر یہ سائفر بھی ا گیا ہے۔ یہ نہیں ان کو پتہ کہ سائفر میں ان کی تباہی ہے کیونکہ یہ سب ملوث تھے اس میں یہ شہباز شریف بھی تھا زرداری بھی تھا ساروں کو پتہ تھا سائفر کا سارے میٹنگز کر رہے تھے امریکنوں کے ساتھ۔
12:06
Speaker A
انکوائری سب سے بڑی یہ ہونی چاہیے اس سائفر کے اوپر جو ایف ائی اے نہیں کر سکتی۔ اگر صحیح انکوائری کروانی ہے تاکہ ہم اگے یہ غلطیاں نہ کریں تو انکوائری یہ ہونی چاہیے کہ یہ سازش میں کون کون شریک تھا کہ گورنمنٹ گرا کے ایک ملک کی اکانومی تباہ کیا اج پاکستان کو گھٹنوں پہ رکھ دیا۔
12:24
Speaker A
اج اگر ہم ان کی مدد نہ کرتے اور ائی ایم ایف سے نہ کہتے کہ اپ کی سٹینڈ بائے ایگریمنٹ کے ہم ساتھ ہیں تو پاکستان ڈیفالٹ کر گیا تھا۔ ڈیفالٹ کرنے کا مطلب کہ اج لوگوں کا معاشی قتل ہو جانا تھا جو ہو چکا ہے۔ اس سے دگنی مہنگائی ہو جانی تھی۔ بے روزگاری یعنی سارا جو ہماری باہر سے فائنسنگ ختم ہو جانی تھی۔ جو اگے اج ہی برے حالات ہیں اس سے دگنے ہو جانے تھے۔
13:26
Speaker A
ساری دنیا میں خبر دیکھا کہ مجھے ایک مجرم کی طرح پکڑ کے لے کے جا رہے ہیں تو میرے اوپر 30 کیس ہو جاتے ہیں جب میں چار دن بند ہوتا ہوں اندر جب جیل کے اندر تو 30 کیس میرے اوپر ہو جاتا ہے کہ جی میری وجہ سے وہ جو رد عمل ایا ہے۔
13:40
Speaker A
اور رد عمل نہیں انا تھا کہ جب اپ ناانصافی کرتے ہیں۔ جو سپریم کورٹ کہتا ہے ناانصافی ہے۔ وہ جو بیچارے نکلتے ہیں پرامن مظاہرے کرنے کے لیے جو 27 سال سے ہم نے کیے ہیں۔ ان کے اوپر گولیاں چلاتے ہیں۔ 25 لوگ ہیں جن کو انہوں نے شہید کیا ہے۔ 16 کے پاس ہمارے پاس ڈیٹس ہیں نو غائب ہیں ابھی۔ تین لوگوں کی ٹانگیں کٹتی ہیں۔ ایک ادمی پیرالائزڈ ہے اس وقت ان کی کمر پہ گولی لگتی ہے۔ اور یہ کیا کرتے ہیں اوپر سے انہی کے اوپر ہی کیس بنا دیتے ہیں۔
14:10
Speaker A
ساری دنیا کے اندر اب جب ایک کوئی پولیس کی گولی لگی تھی نا ایک فرانس کے اندر چار دن سارے فرانس میں اگ لگی 100 بلڈنگز اور گاڑیاں جلا دی لوگوں نے۔ کوئی پوچھ نہیں رہا کہ پاکستانی نہیں تھے اور 100 لوگوں کو گولیاں اور لگتے۔ اور جن کو ایک کو جس کو گولی لگتی ہے ٹانگ کٹ جاتی ہے اس کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیتے ہیں۔
15:09
Speaker A
حکومتیں چلتی ہیں اخلاقی قوت پہ ڈنڈے مار کے جانور چلتے ہیں۔ ڈنڈے مار کے نہیں چلوا سکتے اپ لوگوں کو۔ لوگوں کو اگر لوگوں کو اگر اپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ظلم کی وجہ سے یہ چوروں کو تسلیم کر لے گی قوم جو 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں جن کے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں جن کی سارا یہ جیسے ہی انہوں نے اقتدار سے لے کر پھر باہر بھاگ جانا ہے۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اس خوف کی وجہ سے ان کو تسلیم کر جائیں گے۔ میں صرف مجھے ترس ا رہا ہے ان لوگوں کے اوپر جن کی یہ سوچ ہے۔
Topics:عمران خانسائفرعدم اعتمادپاکستان کی معیشتروس کا دورہجنرل باجوہسیاسی سازشنیشنل سیکیورٹی کونسلامریکی سفارت خانہپر امن مظاہرے

Frequently Asked Questions

سائفر میں کیا الزامات عائد کیے گئے تھے؟

سائفر میں الزام تھا کہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا ہے اور انہوں نے اکیلے روس جانے کا فیصلہ کیا، جو عمران خان نے مسترد کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ مشترکہ تھا۔

عمران خان نے روس کا دورہ کیوں کیا؟

روس کا دورہ پاکستان کے مفادات کے لیے کیا گیا تاکہ گندم اور سستا تیل حاصل کیا جا سکے، اور یہ فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔

عمران خان نے اپنے خلاف مقدمات اور جیل کے حالات کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ ان پر 30 سے زائد مقدمات بنائے گئے اور جیل میں قید کے دوران انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے حامیوں پر بھی تشدد ہوا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →