Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s Speech at Natio… — Transcript

عمران خان کا قومی اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ پر خطاب، پاکستان کے نظریے، اخلاقیات اور قوم کی مضبوطی پر زور۔

Key Takeaways

  • پاکستان کا قیام ایک عظیم اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے ہوا تھا۔
  • قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اخلاقیات اور کردار کی مضبوطی ضروری ہے۔
  • موجودہ سیاسی اور معاشی مسائل کی جڑ اخلاقی بحران ہے۔
  • قیادت کو اپنے نظریے کی طرف واپس آ کر قوم کو متحد کرنا ہوگا۔
  • سینیٹ انتخابات میں بدعنوانی نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

Summary

  • عمران خان نے اتحادیوں اور پارلیمنٹیرینز کا شکریہ ادا کیا اور مشکل وقت میں ٹیم کی مضبوطی پر زور دیا۔
  • انہوں نے پاکستان کے قیام کے اصل مقصد اور نظریے کو یاد دلایا، جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔
  • علامہ اقبال کے خواب اور پاکستان کی اسلامی ریاست کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی۔
  • مسلمانوں کی اخلاقیات، عدل و انصاف اور کردار کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
  • پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی مسائل کی جڑ اخلاقی بحران کو قرار دیا گیا۔
  • سینیٹ انتخابات میں بدعنوانی اور خرید و فروخت کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔
  • اسلام کی اصل تعلیمات اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
  • مسلمانوں کی تاریخ میں اخلاقی اور سماجی نظام کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔
  • قوم کو اپنے نظریے کی طرف واپس آنے اور عظیم خواب کو یاد رکھنے کی تلقین کی۔
  • معاشی مسائل کی جڑ اخلاقی زوال کو قرار دیتے ہوئے قیادت کی ایمانداری کی ضرورت پر زور دیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین میں سب سے پہلے اپنی الائیڈ پارٹیز اپنے اتحادیوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ابھی بھی اور ہر مشکل وقت میں جس طرح اپ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اپ کا بہت بہت شکریہ
00:23
Speaker A
میں اپنے پارلیمنٹیرینز اپنی ٹیم کا میں اپ کا شکریہ ادا اس طرح کرتا ہوں کہ میں نے جو اپ کی کل شام کو جو اپ کے حالات دیکھے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ اپ سب کو بڑے دل سے تکلیف تھی کہ جو ہمارا وہ سینٹ کا یہ ادھر حفیظ شیخ کے الیکشن میں جب ہارے ہیں تو میں جو اپ سب کو دیکھا تو مجھے بڑا اچھا لگا
01:00
Speaker A
مجھے ایک ٹیم اپ پہ نظر ائی اور انشاءاللہ انشاءاللہ یہ ہماری ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی کیونکہ دیکھیں اللہ کہتا ہے کہ میں تمہارے ایمان کو بار بار ازماؤں گا اللہ قران شریف میں ہمیں کہتا ہے وہ کیوں کہتا ہے وہ اپ کے ایمان کو ازماتا ہے مضبوط کرنے کے لیے
01:53
Speaker A
جب اپ ایک مشکل وقت سے نکلتے ہیں اپ اور مضبوط ہو جاتے ہیں اللہ نے ایک انسان کو ایک ایسا چیز ایک ایک ایک کنڈیشن لگا دی ہے کہ اگر اپ نے بڑا انسان بننا ہے تو مشکل وقت کا سامنا کرو
02:40
Speaker A
ریزسٹنس کے ساتھ جاؤ جسم ہمارا یہ ہے جسم کو ہم بھاری ویٹ اٹھاتے ہیں جسم تکڑا ہو جاتا ہے ذہن کو جتنا ہم ازمائیں گے اور ازمائشوں میں ڈالیں گے سب سے بڑا جو پاور ہاؤس ہے وہ ہمارا ذہن ہے وہ اور تکڑا ہو جاتا ہے انسان تکڑا ہو جاتا ہے پارٹی بھی تب تکڑی ہوتی ہے جب وہ مشکل وقت سے نکلتی ہے اپ اپ نے کسی کو تباہ کرنا ہے تو اس کو ارام کی زندگی دے دو وہ تباہ ہو جاتا ہے ڈیکے کر جاتا ہے انسان
03:50
Speaker A
تو میں اپنی پارٹی کو اج خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اپ اس مشکل وقت سے نکلے بڑے مجھے انڈیویجول ایم این ایز کا پتہ ہے کہ انہوں نے کتنی کوشش کی یہاں پہنچنے کے لیے اج اس ووٹ کے لیے تو میں اور مجھے کئیوں کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی تو میں اپ سب کا اج شکریہ ادا کرتا ہوں اج میں اپنی اپنی پارلیمنٹری پارٹی کے ساتھ بھی اور جو میری عوام اج یہ دیکھ رہی ہے
05:09
Speaker A
میں اس کے سامنے جو بات رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دیکھیں ہمیں کبھی ہمیں یہ کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ پاکستان کیوں بنا تھا وہ ایک انگریزی کا ایک فریز ہے کہ نیشنز وداؤٹ ویژن ڈائی قوم کا ہے جب اپنا مقصد اپنے نظریے سے پیچھے ہٹتی ہے وہ مر جاتی ہے قوم قوم میں کسی مقصد کے لیے بنتی ہے ہم اپنے وہ جب تک وہ پتہ نہیں ہمیں ہم ہم اپنے بچوں کو نہیں بتائیں گے خود ہم جو اج لیڈرشپ ہے
06:39
Speaker A
میرا غلطی سے ہاتھ ادھر چلا گیا ادھر تو ادھر کی لیڈرشپ میں کہہ رہا ہوں جو ہماری لیڈرشپ ہے اس کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ بہت بڑا عظیم خواب تھا پاکستان کا علامہ اقبال نے علامہ اقبال کو نہیں پتہ تھا کہ اگر پاکستان بنے گا تو اج جس طرح ہمارے 20 کروڑ مسلمان ہندوستان میں رہ جائیں گے تو وہ تو سارے پاکستان میں نہیں ا سکتے تھے تو علامہ اقبال کا کیا وجہ تھی پاکستان بنا خواب دیکھنے کی
07:49
Speaker A
ان کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ایک دنیا کو مثال دینی تھی کہ اصل میں ایک ماڈل بنانا تھا کہ اصل میں ایک اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے اور وہ بیس کس کے اوپر کر رہے تھے پاکستان کی اسلامی فلاحی ریاست جو ہماری ابجیکٹو ریزولوشن میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی ریاست جو ان کی سنت تھی جو دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی جس میں بہت بڑے بڑے ماڈرن جو اج ہم اج کے پرنسپلز وہ پرنسپلز طے کیے گئے تھے
09:09
Speaker A
وہ ریاست بنی تھی اور وہ ریاست ایک ماڈل ایسا تھا کہ اس کے بعد ایک جن کو کوئی جانتا ہی نہیں تھا ایک قوم ایک عرب قبیلوں میں تقسیم ہوئی ہوئی قوم جس کی حیثیت ہی کوئی نہیں تھی اس ان ان اصولوں کے اوپر چلتے ہوئے یہ دنیا کی تاریخ کا معجزہ ہے جو ہوا اس کے بعد یہ میں ہم نے میں نے شفقت محمود کو کہا بھی ہے کہ ہمارے بچوں کو ہر سکول چاہے وہ انگلش میڈیم چاہے اردو میڈیم چاہے دین مدرسے سب کو اٹھ سات اٹھ اور نو کلاسز میں باقاعدہ سبجیکٹ پڑھائیں
10:29
Speaker A
تاکہ ان کو پتہ چلے کہ اس ملک کا مقصد کیا تھا بڑے لوگ جو پاکستان نہیں چاہتے تھے وہ کیا کہتے تھے وہ کہتے تھے کہ پاکستان تو بن گیا تو اپ نے تباہ جو مسلمان ہندوستان میں رہ گئے ان کو اپ نے سیکنڈ کلاس سٹیزن بنا کے چھوڑ دیا ہے اج بیچارے مسلمانوں سے کیا ہو رہا ہے وہاں تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر سارے اگر پاکستان نہ بنتا تو مسلمانوں کی زیادہ طاقت ہونی تھی ایک ہندوستان میں اس طرح مسلمانوں کا برا حال نہیں ہونا تھا جو اج ہے یہ ایک ارگیومنٹ دی جاتی ہے
11:49
Speaker A
اور اگر ہم پاکستان کو جس مقصد کے لیے بنا تھا اگر ہم ادھر نہیں لے کے جائیں گے تو وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ تو نہیں تھا کہ وہاں ٹاٹا برلا تھے جو اربوں پتی اور یہاں یہ شریف اور زرداری اربوں پتی بن جائیں اس لیے تو نہیں پاکستان بنا تھا یہ ایک بڑی ہمیں اپنے ہمیں ہمیں ری الائن کرنا چاہیے اپنے نظریے کی طرف ہمیں اپنا رخ چینج کرنا چاہیے واپس کہ یہ بڑا عظیم خواب تھا پاکستان کا
13:09
Speaker A
اور وہ وہ جو تاریخ تھی وہ جو اصول انہوں نے سیٹ اپ کیے جو جس جن لوگوں کی حیثیت ہی نہیں تھی یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ اس کے بعد انہوں نے دیکھتے دیکھتے 15 20 30 سالوں کے اندر دنیا کی امامت کی صرف امامت ہی نہیں کی وہ تو منگولیوں نے بھی دنیا بڑی جلدی سے فتح کر لی تھی چنگیز خان نے بھی بڑی جلدی اس کی فوجوں نے فتح کر لی تھی 100 سال کے بعد وہ ختم ہو گئے تھے مسلم انہوں نے ایک دنیا کی عظیم سولائزیشن جو ادھر ٹاپ سائنٹسٹ تھے
14:29
Speaker A
سارے دنیا کے ٹاپ سائنسدان ایک عظیم کلچر اور سب سے بڑی بات جو میرا اج میں یہ کہنا چاہتا ہوں انہوں نے اخلاقیات ایک اخلاقی ایک مورل سٹینڈرڈ سیٹ کی دنیا میں جب مسلمان گئے انڈونیشیا اور ملیشیا وہاں تو کوئی مسلمان کی فوج نہیں گئی وہاں تو کوئی تلواروں سے نہیں فتح کیا مسلمان تاجروں کا وہاں کردار دیکھ کے لوگ لوگ حیران ہو گئے کہ یہ کون لوگ ائے ہیں جو بالکل ان کی مورلٹی ایسی نہ وہ نہ وہ کوئی دغا بازی کرتے تھے نہ وہ کوئی دھوکہ دیتے تھے اپنی زبان پہ کھڑے ہو جاتے تھے لوگ ان سے امپریس ہو کے کہ یہ کون سی قوم ہے
15:49
Speaker A
دیکھیں اسلام ایک ہم غلط فہمی میں ہیں یہ سمجھتا ہے کہ جی تلوار سے اسلام پھیلا تھا اسلام پھیلا تھا کہ وہ ایک انسان کے کریکٹر کو ریفارم کرنے ایا تھا ہم جب اللہ سے مانگتے ہیں ہم نماز میں ایک ہی چیز مانگتے ہیں کہ اللہ ان کے راستے پہ لگا جن کو تو نے نعمتیں بخشیں ان کے نہیں جو غلط راستہ تباہی کے راستے پہ چلے گئے ہیں صرف نماز میں ہم یہ چیز مانگتے ہیں ہر روز ہم پڑھ کے یہ مانگتے ہیں یہ دو راستے ہیں
17:09
Speaker A
ایک ہے تباہی کا راستہ ایک ہے عظمت کا راستہ نعمتیں کس کو بخشیں اللہ کے پیغمبروں کو اور جو دنیا کا سب سے عظیم انسان جو دنیا کا سب سے عظیم لیڈر جس کو اللہ نے سب سے زیادہ نعمتیں بخشیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ کبھی اس طرح کا انسان ایا ہے نہ کبھی ا سکتا ہے تو ہمیں راستہ بتایا کہ ایک ان کا راستہ ہے اور ایک دوسرا راستہ ہے تباہی کا راستہ ہے اور وہ جو جو ان کے راستے پہ چلتا گیا وہ ایک عظیم انسان بنتا گیا
18:29
Speaker A
ایک کتاب ہے میں اپنے لوگوں کو ریکمنڈ بھی کرتا ہوں کہ دی عرب کانکویسٹ وہ پڑھنے والی کتاب ہے اس میں بتاتے ہیں کہ جب مسلمان ایک دم دیکھتے دیکھتے دنیا میں پھیل گئے تو کوئی ایک ادمی نہیں تھا ایک تو بڑے عظیم سپہ سالار تھا خالد بن ولید لیکن وہ جو بھی بنتا تھا وہ جنرل عظیم بن جاتا تھا وہ اس کتاب کے اندر لکھی انگریز نے ہے وہ کہتا ہے اس کی کوئی ایکسپلینیشن نہیں ہے کہ یہ کیسے ساری دنیا پہ چھا گئے نہ ان کے پاس کوئی لیٹسٹ ویپنز تھے ایک طرف رومنز تھے دوسری طرف پرشینز تھے وہ تو سپر پاورز تھے
19:49
Speaker A
ہتھیار تو ان کے پاس تھے نہ ان کے پاس ہتھیار نمبرز میں بھی وہ زیادہ تھے ان کی فوجیں بھی زیادہ تھیں لیکن وہ ساری دنیا پہ پھیل گئے اور ایک ایسا سولائزیشن بنا کہ زیادہ تر تو مسلمان نہیں تھے وہ بھی ان کو مانتے تھے کیونکہ ان کی اخلاقیات ان کا عدل اور انصاف کا نظام ان کا کریکٹر اس کی وجہ سے لوگ ائے ہیں یہاں جو ہندوستان میں اسلام پھیلا ہے یہ ہمارے جو بڑے بڑے بزرگ تھے داتا صاحب
21:09
Speaker A
بلے شاہ نظام الدین اولیاء اور بابا فرید یہ لوگ تھے ان کو لوگ دیکھ کے ان کے کردار سے ان کی ان کی ان کے انٹلیکٹ انسانیت سے لوگ ہوئے ہیں تو ہم اج میں جو یہ سینٹ الیکشن ہوا ہے میں اپنی قوم کو یہاں یعنی مجھے مجھے شرمندگی ہوتی ہے سپیکر صاحب کہ ہم وہ کدھر وہ خواب اور کدھر بکرا منڈی بنی ہوئی ہے ایک لوگوں کو خریدنے کے لیے
22:29
Speaker A
اور سب کے سامنے یعنی ہمیں ایک مہینے سے پتہ تھا کہ کیا کیا جا رہا ہے اس سینٹ الیکشن میں اور مجھے حیرت ہوئی کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ جی یہ تو پتہ نہیں کوئی ہم ازاد انسٹیٹیوشن ہیں یا میں ان کی کوئی ازادی کے اوپر لے رہا تھا یا جی بڑا زبردست الیکشن اچھا کہتے ہیں جی بڑا اچھا الیکشن کروایا ہے یہ مجھے اور اس سے اس سے تو مجھے اور صدمہ ہوا ہے کہ اگر یہ الیکشن اچھا اپ نے کروایا ہے تو پتہ نہیں پتہ نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے
23:49
Speaker A
سپیکر سپیکر صاحب یہ دیکھیں ہم مجھے یہ افسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز سمجھتے نہیں ہیں ہم کہتے ہیں نا جی ہمارے معاشی حالات بہت برے ہیں دیکھیں جی ہماری ڈیفیسٹ یہ ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ یہ جو بھی ہم کہتے ہیں قرضے چڑھے ہوئے ہیں یہ جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں یہ ایک بیماری کے سمٹمز ہیں بیماری کچھ اور ہے اخلاقی طور پہ ہماری قوم کو تباہ کیا ہے پھر معاشی تباہی اتی ہے
25:09
Speaker A
اج مجھے ایک ملک کا بتا دیں جس کی اخلاقیات اوپر ہو جن کے مورل سٹینڈرڈز اوپر ہوں اور وہ غریب ہو ایک ملک مجھے بتا دیں اور کوئی ملک مجھے بتا دیں جتنا مرضی پیسہ ہو وسائل ہوں سب کچھ ہو لیکن وہاں کی بھی جو لیڈرشپ کرپٹ ہو وہ مجھے بتا دیں کہ اس میں خوشحالی ہو دیکھیں یہ ساتھ ساتھ جاتا ہے اس وقت کیا کوئی کیا ہوا تھا مدینہ کی ریاست میں کیا انہیں کوئی سونا تیل مل گیا تھا کیا ہوا تھا کوئی ان کے پاس کوئی پیسے ا گئے تھے
26:29
Speaker A
کیسے وہ اوپر اٹھ گئے تھے کوئی انہوں نے قرضے لیے تھے کس طرح اٹھے تھے اوپر دنیا کے عظیم لیڈر نے ان کی اخلاقیات اٹھا دی تھی صادق اور امین ایک قوم انہوں نے ہمیں بتایا ہمیں قران میں اللہ حکم کرتا ہے کہ ان کی سنت پہ چلو اللہ جب ہمیں کہتا ہے ان کی سنت پہ چلو کیا کیا ہم اللہ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ہماری بہتری کے لیے کہتا ہے قران شریف میں سب کچھ ہماری بہتری کے لیے اللہ نے یہ تمہارے لیے بک اف گائیڈنس ہے ہمیشہ کے لیے
27:49
Speaker A
اور یہ ہماری بہتری کے لیے ہے تو وہ جب ہمیں کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پہ چلو وہ ہماری بہتری کے لیے کہتا ہے اور میں جس نے اس عمر میں ساری دنیا دیکھ لی ہے سپیکر صاحب میں اپ کو بتاؤں مجھے تکلیف ہوتی ہے دیکھ کے جب میں یہ مغربی ملکوں میں جاتا ہوں سکینڈینیویا میں سویٹزرلینڈ میں اپ وہاں کے اخلاقی سٹینڈرڈز دیکھیں ان کی مورل سٹینڈنگز دیکھیں
29:09
Speaker A
شرم ائے گی اپ کو کہ جو ہمارے ملک میں ہو رہا ہے اور یہ جو سینٹ کا الیکشن ہوا ہے اپ کو افسوس ہوگا کہ ہم وہ کس کی امت ہیں ہم کس کی امت ہیں کس کے نام پہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس پہ یہ ہمارا ملک بنا تھا اور اج حال دیکھیں ایک ایک کرپٹ ادمی دنیا میں ثابت کیا ہوا کرپٹ ادمی اصف زرداری دنیا میں اس کے اوپر لکھا ہوا ہے کہ مسٹر 10 پرسنٹ مضمون لکھے ہوئے ہیں فلمیں بنی ہوئی ہیں اس کے اوپر
30:29
Speaker A
اور اس ملک میں لوگ کہیں جی ایک زرداری سب پہ بھاری کیا کہ وہ رشوت دیتا تھا اس لیے سب پہ بھاری ہو گیا کیا یہ ہمارا ملک ہے دوسری طرف دیکھیں دوسری طرف یہاں بیٹھے ہوئے ہمارا لیڈر نواز شریف وہ نواز شریف ایک ڈاکو ملک کو 30 سال سے لوٹ کے ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے جھوٹ بول کے باہر بھاگا ہوا ہے سارے ملک کے سامنے ہمیں کیبنٹ میں ہم نے چھ گھنٹے میں بتایا جی اس کو یہ بھی بیماری ہے اس کو یہ بھی بیماری ہے اس کو یہ بھی بیماری ہے
31:49
Speaker A
وہ شاید وہ جہاز پہ بھی نہ چڑھ سکے وہ شاید مر جائے گا شیرین شیرین کے انسو ا گئے کیبنٹ میں اور شیرین کے انسو انے اسان کام نہیں ہے سپیکر صاحب تو ہم نے اس کو وہاں جیسے ہی وہ جہاز پہ چڑھا جیسے ہی وہاں گیا وہ ایک دم ہی تبدیل اور اج وہاں جا کے تقریریں کر رہا ہے وہاں بیٹھ کے سکیمیں کر رہا ہے وہاں بیٹھ کے پلاننگ کر رہا ہے کہ جی اسے اس طرح پیسہ دو ادھر ادھر پیسہ کھلاؤ ساری ان کی ایک کوشش ہے جب سے ہم ڈھائی سال سے حکومت ائی ہے
33:09
Speaker A
یہ سارے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہو کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو کرسی کا اتنا شوق ہے کہ اس کے اوپر اتنا پریشر ڈالو کہ یہ جی ہمیں جس طرح جنرل مشرف نے این ار او دیا تھا یہ بھی دے دے گا جنرل مشرف فوج اس کے نیچے عدلیہ اس کے کنٹرول میں ساری میں کیونکہ میں ادھر میںبر پارلیمنٹ تھا تب اپوزیشن نہ ہونے کے برابر
34:29
Speaker A
جو اپوزیشن کے اندر جو مین ادمی تھا فضل الرحمن وہ اس کے ساتھ ملا ہوا تھا وہ دو نمبر ہمیشہ سے تھا رائٹ اور وہ وہ ادمی جس کے پیچھے امریکہ ان کی جنگ لڑ رہا تھا سب کچھ وہ ان کے پریشر میں ا کے ان دونوں کو این ار او دیا اور اتنا بڑا اس ملک کے اوپر اس نے جرم کیا ہے ان دونوں نے ا کے این ار او لے کے دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹا اس کے بعد دونوں نے اس ملک کے اوپر چار گنا زیادہ قرضہ چڑھایا سپیکر صاحب
35:49
Speaker A
چھ ہزار ارب سے ہمارا قرضہ جو ٹوٹل لائبلٹیز 30 ہزار ارب پہ پہنچا دی اج ہمارے اوپر کیا مسئلہ ہے ہمیں یہ قرضوں کی قسطیں دیتے ہوئے بیچارے لوگوں کے اوپر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے یہ جو مہنگائی ہے اس کے بعد میں بھی بعد میں بات کرتا ہوں لیکن پہلے یہ بات کمپلیٹ کر لوں کہ دیکھیں سپیکر صاحب میں یہ ڈھائی سال سے تماشے دیکھ رہا ہوں یہاں پہلے دن پرائم منسٹر بن کے تقریر پرائم منسٹر تقریر کرنے جا رہا ہے
37:09
Speaker A
کھڑے ہو کے تقریر نہیں کرنے دی کیوں تقریر نہیں کرنے دی کیونکہ ان کو پہلے دن سے ڈر تھا کہ پہلے دن سے ان کو ڈر تھا کہ یہ ہمارے ہمارے جو کرپشن کے کیسز یہ معاف نہیں کرے گا کرپشن کے کیسز کرپشن کے کیسز ہم نے نہیں بنائے تھے سپیکر صاحب یہ سارے ان کے دور کے کیسز بنے ہوئے ہیں ان کے اوپر اپس میں تو ان کا مک مکا تھا اپنا نیب کا چیئرمین اپس میں مل کے کیسز ان کے بند کر رہا ہے
38:29
Speaker A
عدلیہ اس وقت کی اس وقت کی عدلیہ وہ ان کے ہاتھ میں تھی ان کو تو مسئلہ ہی کوئی نہیں تھا وہاں 60 ملین ڈالر اصف زرداری کا سویٹزرلینڈ میں پڑا ہوا ہے وہ جج کہہ رہا ہے کہ واپس لے کے اؤ وہ یوسف رضا گیلانی جو یہاں سے سینٹر بنا ہے وہ پاکستان کا 60 ملین ڈالر پڑا ہوا ہے سویٹزرلینڈ میں وہ جج کہہ رہا ہے کہ واپس لے کے اؤ وہ کہتا ہے نہیں جی میں نہیں خط لکھتا بھئی اپ کے باپ کا پیسہ تھا پاکستانی قوم کا پیسہ تھا
39:49
Speaker A
اس کے اوپر اس کے اوپر وہ ڈس کوالیفائی ہو جاتا ہے وہ ایسے پھر رہا ہے جس طرح نیلسن منڈیلا کہیں ڈس کوالیفائی ہو گیا ہے سپیکر صاحب میں یہ چیزیں اپ کو اس لیے بتا رہا ہوں میں تو ان کو 30 سال سے جانتا ہوں دیکھیں جب تک ہم اس ملک میں اپنی اخلاقیات ٹھیک نہیں کریں گے مورل سٹینڈرڈز ٹھیک نہیں کریں گے جب اس طرح کے الیکشن ہوں گے کہ کھل کے پیسہ چل رہا ہے اور ہم کہیں گے نہیں جی وہ پٹواری کیوں پیسے لیتا ہے تو وہ تھانے دار کیوں پیسے لیتا ہے
41:09
Speaker A
وہ سرکاری نوکر وہ تو بیچارہ جو نچلا طبقہ ہے وہ تو واقعی جس طرح شیخ رشید نے کہا ہے مہنگائی جو بڑھی ہے بیچارے لوگوں کی تنخواہ میں گزارا نہیں ہو رہا ان کو ہم کہہ رہے ہیں کہ اپ بالکل ایماندار بنیں اور یہ جن کا اتنا ان کے پاس پیسہ ہے سپیکر صاحب میں اپ کو یقین سے کہتا ہوں ان کو خود نہیں پتہ کہ ان کا کتنا پیسہ باہر پڑا ہے اتنا 30 سال سے چوری کر رہے ہیں یہ پیسہ
42:29
Speaker A
اور 30 سال سے پیسہ چوری کر کے اب ان کی کوشش یہ ہے کہ عمران خان کے اوپر پریشر ڈالو سارے چور مل کے کہ جی کبھی ہم گورنمنٹ گرا دیں گے کبھی ہم وہ نکلاتے ہیں وہ اپ سوچیں فیٹف کے اوپر اب فیٹف ہماری وجہ سے تو نہیں فیٹف پہ ہم گرے لسٹ میں ائے یہ تو نون لیگ کے دور میں گرے لسٹ میں ائے ہیں اب اگر فیٹف کی بلیک لسٹ میں پاکستان جاتا ہے تو یہاں سب کو پتہ ہے کہ سینکشنز لگ جائیں گی تو اگے مشکل سے ہم نے اکانومی کو سٹیبلائز کیا مشکل سے
43:49
Speaker A
اگر بلیک لسٹ میں جاتا ہے تو اکانومی سیدھی نیچے اج جو لوگوں کو مشکل پڑی ہوئی ہے اور مشکل پڑی ہوئی ہے ہمارے لوگوں کو مہنگائی کی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا روپیہ جو تھا تقریبا 107 روپے کا اج 160 روپے کا تو جب روپیہ گرتا ہے تو ساری چیزیں باہر سے مہنگی ہو جاتی ہیں پٹرول ڈیزل بجلی اب بجلی کیوں ادھی بجلی ان سے باقی ڈالر کانٹریکٹس کے اوپر بجلی بجلی کے کانٹریکٹ سائن کیے ہوئے ہیں سب کچھ
45:09
Speaker A
باہر سے دالیں مہنگی جو چیز باہر سے امپورٹ کرتے ہیں گھی مہنگا ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں تو یہ سوچ لیں کہ اگر ہمارے اوپر سینکشنز لگ جائیں اگر ہمارے اوپر فیٹف کی سینکشنز لگ جاتی ہیں تو یہ تو اپ کو سوچ اپ تو سوچ ہی نہیں سکتے کہ یہ ملک میں کیا حال ہونا تھا تو ہم اپنے ملک کے لیے فیٹف کی ریکوائرمنٹ پہ لیجسلیشن کروا رہے ہیں
46:29
Speaker A
اور انہوں نے جناب اتنا بڑا وہ وہ لے لا دیا جی اتنا بڑا جی یہ 34 شکیں چینج کر دیں نیب میں اب نیب کا فیٹف سے کیا تعلق ہے انہوں نے سمجھا کیا عمران خان قابو ا گیا ہے اب تو یہ ڈر کے فیٹف کی بلیک لسٹ سے اب تو جناب ہمیں یہ 34 شکیں سائن کر کے تو نیب کو ختم کر دے گا مطلب یہ کہ صرف ان کی چوری کے کیسز ختم ہو جائیں بس ون پوائنٹ ایجنڈا ہے ان کا
47:49
Speaker A
اور میں نے اپ کو پہلے دن یہاں سے کہا تھا پہلے دن یہاں کھڑے ہو کے میں نے کہا تھا کہ ان کا صرف ون پوائنٹ ایجنڈا میں ان کو جانتا ہوں میں ان کو جانتا ہوں جب یہ سارے اپوزیشن میں میرے ساتھ تھے ان کا صرف ایک خوف ہے کہ یہ یہ این ار او نہیں دے گا لہذا اس کو اتنا بلیک میل کرو اور اب فیٹف کے اوپر تو یہ پھنس گیا ہے تو اب اسے اس سے لے لو اسے کنسیشنز لے لو تاکہ نیب ختم ہو جائے
49:09
Speaker A
اپ سوچیں کیا ان کو ملک کا فکر ہے کیا ان کو نہیں پتہ تھا کہ کیا ہونا ہے اگر فیٹف کی بلیک لسٹ میں چلے جاتے ہیں اس کے بعد انہوں نے جلسے کرنے کی کوشش کی بڑا جی پبلک نکالیں گے ہم مینار پاکستان کے اندر جلسہ مینار پاکستان کا یہ جانتے نہیں دیکھیں ان کے بھی ا گئے ہیں دو ایک شہزادہ ایک شہزادی جنہوں نے زندگی میں کبھی کام کیا ہی نہیں ہے نہ ان کو پتہ ہے کہ سٹرگل ہوتی کیا ہے
50:29
Speaker A
جناب مینار پاکستان خود ہی اخباروں کے اندر اپنے اپ کو پیسے خرچ کر کے اخباروں میں ذرا نمایاں کر کے جناب انہوں نے مینار پاکستان میں جلسہ کر لیا اب میں تو جانتا ہوں مینار پاکستان اور میں تو اپنے لاہور کو بھی جانتا ہوں میں تو اپنے لاہور شہر کو بھی جانتا ہوں وہ لاہور شہر ملک کا کوئی پیسہ چوری کیا ہو اس کے خلاف تو نکلے گا
51:49
Speaker A
لیکن بڑے بڑے ڈاکو اگر وہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنی چوری بچانے کے لیے لاہور شہر کو نکالیں گے تو وہی ہوا جو ان کے ساتھ مینار پاکستان میں ہوا اب اب ا کے جو اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بڑا اچھا اپ کو ایکسپلین کیا انہوں نے بتایا کہ کہ یہ کیوں ضروری تھا اوپن بیلٹ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی تو ریکوائرمنٹ ہے کہ اونسٹ ہو فری اور فیئر الیکشن ہو
53:09
Speaker A
تو انہوں نے خود انہوں نے 2008 میں چارٹر اف ڈیموکریسی میں کہا ہوا ہے کہ جی اوپن بیلٹ ہونی چاہیے دونوں پارٹیز نے اور اس کے بعد ایک دم وہاں سے سب ادھر سے بھاگ کے اور کہتے ہیں نہیں جی خفیہ بیلٹ ہونی چاہیے میں نے تب کہہ دیا کہ خفیہ بیلٹ کا ایک مقصد تھا سارے مل کے کوشش کریں گے کہ حفیظ شیخ کو ہرائیں اور وہ جو ادمی جیتا ہے
54:29
Speaker A
پاکستان کا کرپٹ ترین ادمی میں ایک چیز اپ کو اج کہتا ہوں یوسف رضا کے اپ صرف ایسٹس دیکھ لیں پرائم منسٹر بننے سے پہلے تھے اور اس کے بعد کیا ایسٹس ہیں بس ایک چیز دیکھ لیں کوئی اپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اپ کو پتہ چلے گا انہوں نے اس نے کیا کیا اپنے زمانے میں تو اس کو لا کے یہاں بٹھا کے تو جناب انہوں نے سارا پیسہ لگا کے اور ہمیں سب پتہ تھا کیا ہو رہا ہے
55:49
Speaker A
اور اس کو جا کے جناب انہوں نے ہروا دیا حفیظ شیخ کو اب کیا پیغام گیا سارے ملک میں اس کا میں نے کیوں یہ اج ووٹ اف کانفیڈنس لیا ہے اس کا کیا پیغام گیا دنیا میں سارے لوگوں کے سامنے اوپن ہارس ٹریڈنگ لوگوں کو راتوں کو کال کر رہے ہیں یہاں میرے میں تو خاص دات دینا چاہتا ہوں میرے ممبرز بیٹھے ہیں خواتین بیٹھی ہیں جن کو کالیں گئی ہیں رات کہ جی دو کروڑ سے ریٹ شروع ہوگا ہم اپ کو اگے پیسے دیں گے
57:09
Speaker A
ان کو سروں کو پیسے افر کر رہے ہیں اور پھر اگر میں صرف الیکشن کمیشن کیونکہ بڑے ناراض ہو گئے تھے کہ میں نے کہا وہ الیکشن کے اوپر میرے کمنٹس تھے میں ان کو یہ کہہ دوں کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے الیکٹورل ریفارمز کا ہم اب ٹیکنالوجی کے اوپر وہ جو ای وی ایم مشینز ہیں الیکٹرانک مشینز لے کے ائیں گے
58:29
Speaker A
دو دو چیزیں کر رہے ہیں ایک اوورسیز پاکستانیز کے لیے اب پورے لگے ہوئے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیز بھی ووٹ ڈال سکیں اور دوسری چیز الیکٹ الیکٹرانک مشینز لے کے ا رہے ہیں اور کیونکہ یہ الیکٹرانک مشینز کے بغیر ہمیں الیکشنز نہیں کرنے چاہیے نہیں تو جو ہارتا ہے وہ کہتا ہے جی دھاندلی ہو گئی ہم نے اس طرح کا سسٹم لے کے ا رہے ہیں کہ امریکہ کے اندر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے
59:49
Speaker A
سارے انہوں نے جب الیکشن کھولا تو ایک بھی وہ نہیں ثابت کر سکے دھاندلی ہوئی کیونکہ الیکٹرانک مشینز تھیں ان کے پاس وہ سسٹم تھا انشاءاللہ وہ سسٹم لے کے ا رہے ہیں تاکہ ہمیشہ کے لیے اگے سے یہ چیز ختم ہو جائے کہ جو ہارا تھا وہ ہار مانے گا جو جیتے گا وہ جیت جس طرح کے انشاءاللہ یہ انشاءاللہ ہماری حکومت کرے گی جس طرح کے ایز کیپٹن پاکستان دنیا کی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ نیوٹرل امپائرز میں لے کے ایا تھا بہت بہت شکریہ
Topics:عمران خانقومی اسمبلیاعتماد کا ووٹپاکستاناسلامی ریاستاخلاقیاتسینیٹ انتخاباتمسلم لیگقوم کا نظریہمعاشی بحران

Frequently Asked Questions

عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کس بات پر زور دیا؟

عمران خان نے پاکستان کے قیام کے اصل نظریے، اسلامی فلاحی ریاست، اخلاقیات کی اہمیت اور قوم کی مضبوطی پر زور دیا۔

عمران خان کے مطابق پاکستان کے موجودہ مسائل کی جڑ کیا ہے؟

عمران خان کے مطابق پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی مسائل کی جڑ اخلاقی بحران اور قیادت کی کرپشن ہے۔

عمران خان نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے کیا کہا؟

انہوں نے سینیٹ انتخابات میں بدعنوانی اور خرید و فروخت کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →