Chairman PTI Imran Khan’s Important Address to Nation |… — Transcript

عمران خان نے قوم کو انصاف، آزادی اور سیاسی ظلم کے خلاف اپنی تحریک کی اہمیت بتائی۔

Key Takeaways

  • تحریک انصاف کی سیاست مشن پر مبنی ہے، طاقت کی سیاست نہیں۔
  • انصاف اور آزادی تحریک کی بنیاد ہیں۔
  • پاکستان میں کمزور طبقے کو انصاف نہیں مل رہا اور ظلم بڑھ رہا ہے۔
  • حکومتی ادارے سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
  • عمران خان پر سیاسی مقدمات اور ظلم ہو رہا ہے مگر وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Summary

  • عمران خان نے شاہ محمود قریشی سے متعلق مائنس ون پروپوزل کی تردید کی۔
  • انہوں نے دو طرح کی سیاست کی وضاحت کی: طاقت کی سیاست اور مشن کی سیاست۔
  • انصاف اور آزادی کو تحریک انصاف کی بنیاد قرار دیا اور مدینہ کی ریاست سے متاثر ہونے کا ذکر کیا۔
  • پاکستان میں کمزور طبقے کو انصاف نہ ملنے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی بات کی۔
  • انہوں نے کہا کہ طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر ہے اور عدلیہ پر تنقید کی۔
  • تحریک انصاف کے کارکنوں اور ان کے خاندانوں پر ظلم و بربریت کی مثالیں دیں۔
  • انہوں نے کہا کہ ان پر بے بنیاد مقدمات بنائے گئے ہیں اور نیب کے سوالات کا سامنا کیا ہے۔
  • عمران خان نے اپنی تحریک کو 27 سالہ جدوجہد قرار دیا جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔
  • انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر حقیقی آزادی ممکن نہیں۔
  • قوم کو خبردار کیا کہ اگر آج ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں تو کل سب کے حقوق خطرے میں ہوں گے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین میرے پاکستانیوں
00:06
Speaker A
آج کل ایک پوری میڈیا کے اندر چلا ہوا ہے کہ جی شاہ محمود قریشی مجھے ملنے آئے اور وہ کوئی پروپوزل لے کے ائے ہیں مائنس ون کی کہ عمران خان علیحدہ ہو جائے تھوڑی دیر کے لیے اور اور پارٹی اگے بڑھ جائے
00:27
Speaker A
تو میں اپ سب کے لیے پہلے تو شاہ محمود کوئی اس طرح کی پروپوزل نہیں لے کے ائے
00:38
Speaker A
اور بات چیت ہوئی کہ ان کا جیل میں ٹائم گزرا کس سے ملے ہمارے کئی لوگ تھے جو ان سے ملنے ائے تو وہ سب کی بات چیت ہوئی اور پھر اگے ہم نے کرنا کیا ہے
00:49
Speaker A
لیکن میں اپ سب کو ذرا سمجھانا چاہتا ہوں کہ دو طرح کی پولیٹکس ہے
01:00
Speaker A
یہ اپ نے بڑا ضروری سمجھنا ہے کیونکہ ایک پولیٹکس میں یہ مائنس ون چلتا ہے وہ کون سی پولیٹکس ہے اس کو پاور پولیٹکس کہتے ہیں
01:46
Speaker A
وہ پولیٹکس ہوتی ہے اقتدار کی پولیٹکس وہ پولیٹکس ہے کہ اگر عمران خان پرائم منسٹر بننا چاہے اچھا جی اب یہ اسٹیبلشمنٹ میرے سے ناراض ہے چلو میں تھوڑا پیچھے ہو جاتا ہوں پارٹی کو اگے کر دیتا ہوں کوئی ڈیل کر لیتا ہوں کوئی سمجھوتہ کر لیتا ہوں اور اس کے بعد پھر اگے جا کے دیکھیں گے کہ ابھی کسی اور کے حوالے کر دوں تو وہ اس کے بعد پھر میری باری ا جائے گی
02:10
Speaker A
اس کو پاور پولیٹکس کہتے ہیں دوسری پولیٹکس ہے جو میں پولیٹکس کر رہا ہوں 27 سال سے
02:18
Speaker A
وہ پولیٹکس ہے جو قائد اعظم کی پولیٹکس تھی وہ پولیٹکس وہ ہے جو کہ ایک مشن کی پولیٹکس ہے کوئی وہ ذات کی پولیٹکس نہیں ہے وہ پولیٹکس وہ ہے جو ہم سارے مسلمان انسپائر ہوتے ہیں ہماری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے بھی ایک مدینہ کی ریاست سنبھالی تھی انہوں نے بھی مشکل وقت گزارا تھا اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب لے کے ائے تھے
03:27
Speaker A
اور ہم تو کبھی ان کے اپنا سوچ ہی نہیں سکتے کہ ان کے جوتوں کی مٹی کے قریب بھی ہوں لیکن قران میں ہمیں حکم ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو ان کی سنت سے سیکھو وہ پولیٹکس بڑے مقصد کی ہے وہ اپنی ذات سے ہٹ کے ہے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سارا عرب ان کے نیچے ا گیا تھا تو انہوں نے اپنا رہن سہن نہیں بدلا وہ جدھر تھے ادھر ہی رہے مقصد بڑا تھا تو ہم تو ان سے انسپائر ہوئے ہوئے ہیں میں تو نہ پولیٹکس میں اتا ہی نہ کبھی تو میں نے جو انصاف کی تحریک شروع کی تھی یہ مدینہ اور کہا تھا کہ اسلامی فلاحی ریاست ہمارا مقصد ہے
04:05
Speaker A
ہم مدینہ کی ریاست سے انسپائر ہوئے ہوئے تھے ہم ان کی سنت سے انسپائر ہوئے تھے کہ جو وہ انقلاب لے کے ائے تھے اور وہ جو جو انصاف ہے یہ بار بار پلیز میری بات سن لیں انصاف سارے اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں انصاف کی بات کرنے ائے تھے
05:02
Speaker A
انصاف کیوں اتنی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ انسانوں کو انصاف ازاد کرتا ہے فرعون کیوں قران میں برا سمجھا جاتا ہے انسانوں کو غلام بنایا تھا اس نے ظلم کر کے کیوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کا انقلاب لے کے ائے اور چھوٹے سے انسانوں کو بڑے انسان بنا دیا کیونکہ انصاف سے ازاد کر دیا لا الہ الا اللہ نے لوگوں کو ازاد کر دیا
05:45
Speaker A
تو جو میری تحریک تھی انصاف کی وہ اصل میں ازادی کی تحریک تھی کیونکہ انصاف ائے گا تو لوگ ازاد ہوں گے اور جو میرا سارا تجربہ تھا دنیا کا جو مغرب کو میں نے دیکھا تو وہاں کیوں لوگ جاتے ہیں نوکریوں کے لیے کیوں وہاں خوشحالی ہے کیونکہ لوگ ازاد ہیں لوگ ازاد کیوں ہیں کیونکہ وہاں انصاف ہے رول اف لا ہے حقوق کی ان کا انصاف کا نظام میرے حقوق کی حفاظت کرتا ہے وہاں یہ حرکتیں نہیں ہو سکتی جو پاکستان میں ہوتی رہی ہیں
06:48
Speaker A
اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ میرے اپنے لوگوں کو اب میں اپنی ٹیم کو بتاتا ہوں کہ اب اپ کو پتہ چلا جو ہمارے پر جب ظلم ہوا کہ کیسے پاکستان کا کمزور طبقہ مزدور ہاری کسان جو کمزور طبقہ ہے غریب وہ چھابڑی والا چھوٹے دکاندار
07:42
Speaker A
چھوٹے صنعت کار یہ ہر وقت ان کو اس کا ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ طاقتور کے سامنے اتے ہیں ان کے پاس کوئی ان کی حفاظت کرنے کے لیے نہیں ان کے تحفظ کرنے کے لیے نہیں ان کے فنڈامینٹل رائٹس کو کوئی کسی قسم کا تحفظ نہیں اور اس لیے تھانہ کچہری پٹواری کی پولیٹکس ہے کیونکہ جو ان کا رائٹ ہے تھانہ کچہری پٹواری وہی ان ادھر ان ان کو ادھر ظلم ہوتا ہے ان کے اوپر ان کی زمینوں پہ قبضہ ہوتا ہے قبضہ گروپ ہیں یہاں کیونکہ انصاف نہیں ہے تو یہ میری ساری موومنٹ شروع ہوئی تھی تب 27 سال پہلے
08:30
Speaker A
یہ میری موومنٹ تب تک رہے گی جب تک میں زندہ ہوں جب تک ہم اس ملک میں حقیقی ازادی انصاف لے کے حقیقی ازادی نہیں لے کے اتے
08:44
Speaker A
اب یہ جب مجھے یہ کہتے ہیں یہ چیزیں کہ جی وہ مائنس ون مائنس ون کیسے ہوگا جو ادمی ایک تحریک پہ 27 سال سے لگا ہوا ہے ایک ملک کے اندر ایک جدوجہد کر رہا ہے تو وہ کیا وہ ڈیلز کرے گا
09:22
Speaker A
کیا اس اس کے کوئی اس کو کیا چیز اس کو خریدے گی بتائیں میرے ضمیر کی کیا قیمت ہے کیا پرائم منسٹر شپ قیمت ہے کہ اگر اپ یہ یہ کر دیں تو اپ کو پرائم منسٹر میں تو پرائم منسٹر بن چکا ہوں اور میں نے جب پرائم منسٹر بنا میں نے ایک بات کہی کہ اگر پھر وہ مجھے 2018 کا موقع ملتا میں کبھی میں سیدھی الیکشنز پھر سے کرواتا کیونکہ جو میں انصاف لانا چاہتا ہوں اور طاقتور کو قانون کے نیچے لانا چاہتا ہوں وہ ائی تب سکتا ہے جب اپ کے پاس طاقت ہو تو جب ایک کمزور ایک کولیشن گورنمنٹ وہ کیسے اس پہ کیسے طاقت ہوگی کہ اس ملک میں انصاف قائم کرے
10:15
Speaker A
تو میں نے اس لیے بار بار میں نے کہا ہے میرے سے جب لوگوں نے پوچھا کہ اپ نے کیا غلطی کی میں نے کہا میں نے غلطی یہ کی کہ مجھے شروع میں الیکشن کروا دینے چاہیے تھے اور کمزور گورنمنٹ سے میں وہ اصلاحات جو لانا چاہتا تھا وہ نہیں لا سکتا تھا تو اب میں اپ کو بتاؤں کہ جس طرح کی حرکتیں ہو رہی ہیں میرے لوگوں کے اوپر میں اس لیے یہ اپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ازاد معاشروں کے اندر یہ نہیں ہو سکتا
10:57
Speaker A
یہ صرف غلاموں کو ہوتا ہے یہ صرف فرعون ایسی حرکتیں کرتا تھا لوگوں کے اوپر دہشت پھیلانے کے لیے جو اج ہمارے پہ ہو رہا ہے اور میں سارے پاکستانیوں کو کہنا چاہتا ہوں جو اس وقت یہ پی ڈی ایم والے بھی بیٹھے ہوئے ہیں یہ جو اپ تماشا دیکھ رہے ہیں یہ یاد رکھیں کہ یہ
11:46
Speaker A
اج ہمارے پہ ظلم ہو رہا ہے یہ ظلم اپ کے اوپر بھی ہوگا جب ایک ملک کے سارے انصاف کے اداروں کو جب ان کو استعمال کیا جاتا ہے حکومتی اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے ایک پارٹی کو ختم کرنے کے لیے اور ان کے لوگوں کے اوپر دہشت پھیلانے کے لیے تو یہ سسٹم پر جاتا نہیں ہے یہ کوئی بھی سنبھال کے یہ سسٹم سب اس میں اگر اج ہمارے حقوق نہیں اگر ہمارے فنڈامینٹل رائٹس نہیں ہیں تو یہ اپ کل اپ کے بھی نہیں ہوں گے
12:39
Speaker A
فنڈامینٹل رائٹس تو ایک قوم کی حفاظت ہوتے ہیں نا ان کو ہیومن رائٹس کہتے ہیں یہ ہیومن رائٹس سارے ملک کے ہوتے ہیں یہ نہیں ہوتا کہ ایک طبقے کے اپ ہیومن رائٹس لے لیں اور وہ طبقہ کیا ہے ملک کی سب سے بڑی جماعت جس کا سب سے بڑا ووٹ بینک ہے اگر اپ اس کے ہیومن رائٹس اج وائلیٹ کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہیومن رائٹس نہیں ہے کیونکہ ہیومن رائٹس کو تو ایک ایک ملک کی عدلیہ اس کی حفاظت کرتی ہے تو ہماری عدلیہ کے تو کوئی سنتا ہی نہیں ہے اب ہماری عدلیہ میں تو سپریم کورٹ کہتا ہے الیکشنز ہوں گے 14 مئی کو ائین کے مطابق گورنمنٹ پروائی نہیں کرتی تو گورنمنٹ اگے کیوں الیکشن یعنی یہ تو اس کا مطلب کہ اس وقت طاقت کی حکمرانی ا گئی کیونکہ جب اپ ائین سے باہر نکل گئے تو قانون سے باہر نکل گئے اس کے بعد تو جو طاقتور چاہے وہ کرے گا تو یہ سارے ملک کو افیکٹ کرے گا یہ تباہی سارے ملک پہ ا رہی ہے
13:49
Speaker A
تو ہمارے لوگوں کو جو مجھے صرف افسوس یہ ہے کہ کوئی فرق نہیں کی کیا جا رہا جو تحریک انصاف کا ہے اور جو وہ کھڑا ہو کے کہنے کے لیے تیار نہیں ہے لیڈرشپ میں سے کہ میں پارٹی چھوڑ اؤں اس کے اوپر ہر قسم کا ظلم ہو رہا ہے ان کی بزنسز بند کر رہے ہیں ان کے فیملیز تک پہنچ گئے ہیں ان کے بچوں تک پہنچ گئے ہیں ہر قسم کی بلیک میل رات کو گھس جاتے ہیں گھروں میں گھر تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں لوٹ لیتے ہیں گھر گھروں کو ڈاکہ مارا جاتا ہے جو ملتا ہے اس کو پکڑ کے لے جاتے ہیں اگر وہ سارے تو چھپے ہوئے ہیں ان کے رشتہ داروں کو پکڑ کے لے جاتے ہیں یہ تو بدترین دنیا کی ڈکٹیٹر شپس میں یعنی وہ نظام جن کی دنیا مثال دیتی ہے ہٹلر کا جرمنی سٹالن کا رشیا سوویت یونین یہ ان ان خوفناک ظلم کے نظاموں میں اس طرح کی چیزیں ہوتی تھیں جو اج ہمارے اوپر ہو رہی ہیں
15:27
Speaker A
میرے پاس عالیہ حمزہ کی بیٹیاں ائیں میں نے کل ان کو ملا تین بیٹیوں کو ایک مہینے سے اس کو بند کیا ہوا ہے عالیہ حمزہ کو کیا اس کا قصور ہے اس کا والد وہ میرے پاس ائے انہوں نے بتایا کیسے گھر میں گھس کے انہوں نے ساری چیزیں توڑ دیں ان کی ٹی وی توڑ دیے ایک ادمی دو ادمی انہوں نے لاٹھیاں پکڑی ہوئی تھیں جو چیز ائی توڑ توڑ کے چلے گئے جو چیز دو تین اچھی چیزیں پسند ائی اٹھا کے لے گئے تو یہ کون سے ملک میں ہوتا ہے یہ غلام ملکوں میں لوگوں کو غلام بنانے کے لیے یہ ہو رہا ہے یہ ازاد قوموں میں نہیں ہوتا
16:42
Speaker A
اور یہ جس طرف ہم اب جا رہے ہیں یہ جو ظلم کر رہے ہیں صرف اور صرف خوف پھیلا کے سمجھ رہے ہیں کہ یہ پارٹی ٹوٹ جائے گی اور کئی لوگ چلے بھی گئے ہیں لیکن کیا میں اب میں اب میرے سے پوچھیں کہ کیا مجھے اس سے کوئی فرق پڑ رہا ہے ڈیڑھ سو سے اوپر کیسز کر دیے ہیں قتل کا کیس اخری کر دیا ہے میرے اوپر
17:32
Speaker A
مجھے 19 19 بیلیں لیے میں نے ایک دن میں یہ دنیا کا ریکارڈ ہے اس کے بعد چار گھنٹے نیب میں بیٹھا ہوں چار گھنٹے نیب نے میرے سے وہ جو سوال پوچھے میں چیلنج کرتا ہوں کہ کسی عدالت کے اندر کبھی بھی یہ کیس کی کوئی اہمیت ہو جائے کوئی کیس ہی نہیں ہے کیبنٹ کا فیصلہ ہے ساری کیبنٹ نے فیصلہ کیا اب یہ دکھانا تھا کہ مجھے اس سے کوئی ذاتی فائدہ ہوا ہے کیا القادر جو پہلا بن چکی تھی شروع ہو گئی تھی یونیورسٹی کیا وہ ایک ٹرسٹ ہے وہاں غریب بچوں کو
18:40
Speaker A
غریب گھرانوں کے بچوں کو مفت تعلیم مل رہی ہے سیرت نبی پہ اور یہ جو ٹیکنالوجی کے اوپر وہ ٹرسٹ ہے جس طرح شوکت خانم ہے مجھے اس سے کیا فائدہ ہے ایک روپیہ نہیں دکھا سکتے مجھے کیا فائدہ ہو نہ ہی کسی ٹرسٹ سے کسی کو فائدہ نہیں ہو سکتا ٹرسٹ ڈیڈ میں لکھا ہوا ہے تو وہ کیسز بھی ہیں قتل کا کیس بھی ہے ہر روز کوئی نئے کیس ا جاتا ہے عدالتوں کے میں چکر مار رہا ہوں لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں ہر عدالت میں جاتا ہوں ہر کیس میں جاتا ہوں یہ بتانے کے لیے کہ میں قانون سے اوپر نہیں ہوں جبکہ میرے اوپر یہ یہ جان کے کیا جا رہا ہے یہ مجھے خوف دلانے کے لیے کیا جا رہا ہے میں یہ اج کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اس سے یہ یہ سارے کیسز کریں اور اس کیسز میں کیونکہ کسی عدالت میں کوئی سزا نہیں ہو سکتی ملٹری کورٹس سیٹ اپ کیے ہیں اپروور ڈھونڈے جا رہے ہیں جو کہے کہ جی عمران خان نے ہمیں کہا تھا کہ وہ کور کمانڈر کا گھر جلاؤ یہ کہیں گے ان میں سے کوئی اپروور ا جائے گا مجھے ملٹری کورٹ میں لے جائیں گے سزا ہو جائے گی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا جو ادمی ایک مشن جو 22 سال سٹرگل کر کے جو اس اگر 22 جس کے پاس سب کچھ تھا کوئی ضرورت نہیں تھی 22 سال سٹرگل کرنے کی اگر وہ اج 27 سال کے بعد اگر کسی کا خیال ہے کہ میں جیل سے ڈر جاؤں گا یا جو بھی ہے یہ جو ڈھائی قاتلانہ دو قاتلانہ ہم دو میرے اوپر حملے ہو چکے ہیں قتل کرنے کے لیے ایک مجھے وقت پہ پتہ چل گیا تو میں نے ٹی وی پہ بتا دیا کہ کیا کرنے جا رہے تھے تو اس سے کیا فرق پڑے گا جو جو قاتلانہ حملے سے نہیں ڈرتا تو وہ کس سے اور ڈرے گا
20:47
Speaker A
لیکن اس سے بھی زیادہ گھٹیا پن میری بہنوں تک پہنچ گئے ہیں میری بیوی کے اوپر کیس ٹرسٹ ہی ہو کے اس کا وارنٹ کا ایک ٹرسٹ ہی ٹرسٹ ہی کو ایک پیسہ نہیں مل سکتا کیونکہ وہ سیرت نبی میں بہت ان کی سٹڈی ہے وہ انٹرسٹڈ تھیں القادر یونیورسٹی وہ ٹرسٹ ہی ہے اس کے اوپر وارنٹ نکال دیا میری بہنوں کے اوپر میں صرف یہ بتا رہا ہوں کہ کس لیول پہ پہنچ گئے ہیں ایک بہن اس کی زمین اس کی لائی اس کے اوپر اینٹی کرپشن پہنچ گئی ہے
22:21
Speaker A
میں نے اپنی بہنوں کو ویسے کہا میں نے کہا دیکھو ملک سے باہر چلے جاؤ وہ تینوں گھڑیاں نہیں ہم فیس کریں گے ہم نہیں جاتے مجھے کئی دفعہ جی عمران خان اپ ملک سے باہر میں کیوں ملک سے باہر جاؤں گا یعنی میں نے اگر کوئی کرپشن کی ہوتی تو میں بھی شاید جس طرح یہ بھاگ جاتے ہیں جب ان کے اوپر اقتدار سے نکلتے ہیں سب باہر بھاگ جاتے ہیں کیونکہ ان کے کیسز ہوتے ہیں باہر بھاگتے ہیں کیسز رک جاتے ہیں
23:26
Speaker A
میں سارے کیسز فیس کروں گا کیونکہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا مجھے پتہ ہے اللہ الحق ہے یہ خود ہی جب یہ جو جو کوئٹہ کا مرڈر کیس کیا یہ خود ہی ذلیل ہو رہے ہیں اس میں سب کو پتہ ہے کوئٹہ کے اندر سب کو پتہ ہے کہ ان کی دشمنی تھی
24:10
Speaker A
میں پھر اگے اپ کو کہوں اب اگے کیا راستہ ہے ملک کا راستہ اگے کیا ہے میں جو یہ ان سے بات کرتا ہوں کہ میرے سے بات چیت کرو کوئی بات چیت نہیں کرتا میں اپنی اسٹیبلشمنٹ ارمی چیف سے اس سے کہتا ہوں کہ بات چیت کرو وہ کوئی بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے میں اپنی ذات کے لیے اپ سے بات نہیں کرنا چاہتا مجھے اپ کچھ نہیں دے سکتے قوم میرے ساتھ کھڑی ہے کیا کوئی دے سکتا ہے میں کوئی چور دروازے سے تو انا نہیں چاہتا اگر قوم مجھے ووٹ دے گی میں تیار ہوں لیکن اگر ہم ووٹ نہیں دے رہی تو نہیں اللہ نے تو سب کچھ میں وہ اللہ نے کا شکر ادا کرتا ہوں ہر وقت جو اس نے مجھے دیا ہے
25:02
Speaker A
لیکن میں بات کرنا چاہتا ہوں کہ ملک تباہی کی طرف جا رہے ہیں یہ جو بجٹ ایا ہے اس بجٹ کے اندر ذرا اپ کو سمجھ ا جانا چاہیے کہ ہم ہم اب کدھر ایک ایک دلدل کے اندر دھنستے جا رہے ہیں اپ یہ سوچیں کہ فیڈرل گورنمنٹ جو سارا جب وہ پیسے دے دے گی صوبوں کو جو پانچ ہزار ارب روپیہ صوبوں کو جب جائے گا تو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس جو پیسہ بچے گا
25:56
Speaker A
اس سے زیادہ جو ہمارا سود دینا ہے ہم نے قرضوں کے اوپر سود دینا ہے وہ سود اس سے زیادہ ہے سات ہزار 300 ارب روپے کا سود دینا ہے مشکل سے فیڈرل گورنمنٹ کے پاس بچ جائے گا سات ہزار ارب سے بھی کم تو سارا پھر ملک قرضوں پہ چلے گا ہم نے ساڑھے تین سال میں 18 ہزار ارب 18 ہزار 400 ارب قرضہ لیا تھا 18 ہزار 400 ارب قرضہ ساڑھے تین سالوں میں انہوں نے تقریبا 15 ہزار ارب قرضہ ایک سال میں لے لیا ہے تو یہ قرضے چڑھائے جا رہے ہیں انڈسٹری بند ہو رہی ہے گروتھ ریٹ جو تھی جس سے دولت میں اضافہ ہوتا ہے وہ چھ اعشاریہ ایک فیصد سال پہلے تھی اج وہ پہنچ گئی ہے صفر اعشاریہ تین پہ تو جو دولت ہے اس کے اندر تو کمی ہو رہی ہے قرضے بڑھتے جا رہے ہیں ڈالر کدھر سے ائیں گے انہوں نے 25 30 ارب ڈالر ایک سال کے اندر دینے ہیں وہ کدھر سے ائیں گے
27:17
Speaker A
تو میں اج اس لیے یہ سوال پوچھ رہا ہوں کہ کوئی تو روڈ میپ ہوگا نا ابھی تو روڈ میپ یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان اور عمران خان کو ختم کرو اور اگر پی ٹی ائی عمران خان سے اس کو ختم کرو تو ابھی تو یہ ون ون پوائنٹ ایجنڈا ساری ایجنسیز سب کچھ سارے ملک کے ادارے وہ اسی پہ لگے ہوئے ہیں کام کرنے لیکن میں سوال کچھ اور پوچھ رہا ہوں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کریں ہم کھڑے ہیں اس میں سے ایک اپ یہ کرم کر رہے ہیں کہ میرے جو نظریاتی لوگ ہیں وہ نظر انے شروع ہو گئے ہیں کہ وہ نظریاتی لوگ کون ہیں اور وہ نظر انا شروع ہو گیا کہ جو ہمارے ساتھ اور مقصد کے لیے ائے تھے نظریے کے لیے نہیں ائے تھے تو ایک تو اپ فائدہ کر رہے ہیں کیونکہ صرف نظریاتی پارٹی اب پاکستان کو اس دلدل سے نکال سکتی ہے لیکن نکالے گی کیسے میری اخر میں بات سن لیں ایک ہی طرح ہم نکلیں گے
28:49
Speaker A
ہمیں کوئی اب باہر سے پیسے دینے کے لیے تیار نہیں ہے ہمارے جو دوست ملک ہیں وہ بھی پیسے دینے کے لیے نہیں تیار میرے لیے جو سب سے زیادہ شرمندگی ہوتی تھی کہ جب میں اپنے دوست ملکوں سے پیسے مانگنے گیا ملک کے لیے کیونکہ دیوالیہ نکلا ہوا تھا ہمارا تو اس وقت ملک ہمارا پاس تو سب سے بڑا بیرونی خسارہ چھوڑ کے گئے تھے یہ نون لیگ والے یہ اسحاق ڈار تو ان سے پیسہ مانگنا سب سے شرمندگی تھی اب کیسے نکلیں میں اپ کو بتاتا ہوں کیسے نکلیں
30:02
Speaker A
اس میں ایک سورس ہے اوورسیز پاکستانی یہ یاد رکھ لیں بیرون ملک پاکستانی اپ کو نکالیں گے ادھر سے اور بیرون ملک پاکستانی کیسے نکالیں گے میں نے پھر سے اپ کو کہتا ہوں کہ 16 ہزار پاکستانی امریکن ڈاکٹرز ان کی نیٹ ورتھ 200 ارب ڈالر ہے ہم ائی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کی پیچھے ان کے منتیں کر رہے ہیں کہ کسی طرح ہم دے دیں ہمیں 200 ارب ڈالر ان کی ہے یہ صرف 16 ہزار ہے ایک کروڑ باہر پاکستانی بیٹھا ہوا ہے اگر ہم کسی طرح ان کی انویسٹمنٹ لے ائیں وہ یا سرمایہ کاری شروع کر دیں بجائے دبئی میں کرنے میں اور دنیا میں اور ملکوں میں کر رہے ہیں اگر وہ سرمایہ کاری شروع کر دیں اپ یقین کریں یہ ملک اتنی تیزی سے اٹھ سکتا ہے کیونکہ ڈالر اندر انا شروع ہوں گے نوکریاں ملیں اور وہ انا شروع ہو گیا تھا ہمارے اخری دنوں میں پیسہ اوورسیز روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کیا تھا اوورسیز پاکستانی ڈیڑھ سال کے اندر ساڑھے پانچ ہزار ڈالر پہنچ گیا تھا اوورسیز پاکستانیوں نے انویسٹمنٹ پلانز بنا لیے تھے ہماری یہ جو راوی پروجیکٹ اور یہ جو بنڈل ائیلینڈ کا پروجیکٹ تھا وہاں باہر کی کمپنیز بڑی بڑی کمپنیز ا رہی تھیں ڈالر انویسٹ کرنے کے لیے جب انہوں نے این او سی واپس لے لیا سندھ گورنمنٹ میں
32:30
Speaker A
دیکھیں بچانا اس ملک کو اوورسیز پاکستانی جب چائنہ نے اور ہندوستان نے اپنی اکانومی کھولی تو اوورسیز چائنیز اور اوورسیز ہندوستانیوں نے پہلے انویسٹ کیا تھا ہمارا بھی وہ انویسٹ کریں گے لیکن اس کے لیے جب تک انصاف کا نظام ہم ٹھیک نہیں کریں گے قانون کی بالادستی رول اف لا جب تک ہم یہ نہیں قائم کریں گے ان کا پیسہ نہیں انے لگا تو چیلنج اب کیا ہے رول اف لا ہم نے ختم کر کے رکھ دیا ہے پہلے 140 ملکوں میں سے پاکستان 129 تھا رول اف لا میں اب جو یہ انہوں نے کریک ڈاؤن کیا اب تو یہ بالکل ہی نیچے گر گیا ہے اب تو وہ بنانا ریپبلک بن گیا ہے تو جب رول اف لا ہی نہیں ہے انویسٹمنٹ کیسے ائے گی انویسٹمنٹ نہیں ائیں گی دولت میں اضافہ کیسے ہوگا یہاں تو اس وقت پاکستانی پیسہ باہر بھیج رہے ہیں پاکستانی ڈالر لے کے بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ کسی کو اعتماد ہی نہیں ہے تو جب تک ہم اس ملک کا نظام ٹھیک نہیں کرتے جو میں 27 سال پہلے انصاف کی تحریک لے کے نکلا تھا رول اف لا کی تحریک وہ جب تک اب ہم قائم نہیں کریں گے پاکستان کے نظام کو ٹھیک نہیں کریں گے گورننس سسٹم تب ٹھیک ہوگا ادارے مضبوط ہوں گے اور جب لوگوں کو اعتماد ہو جائے گا کہ ہمارے اب جب میں اپنی سرمایہ کاری کروں تو یہاں کا جو قانون ہے جو ان کی لاء انفورسمنٹ ہے جو ان کی عدلیہ ہے وہ میری سرمایہ کاری کی حفاظت کرے گی میرے سے فراڈ نہیں ہونے دے گی یہ جب تک اعتماد نہیں ہوتا پیسہ نہیں انے لگا اور اس کے لیے اس کے لیے جب تک کہ حکومت نہیں اتی جو پبلک مینڈیٹ سے ائے جس کو پبلک سپورٹ کرے جس کو بڑا ووٹ ملے اور پبلک کی سپورٹ سے ائے صرف وہی وہی بڑے بڑے فیصلے کر سکتی ہے نہیں تو ان کو تو اپ نے دیکھ ہی لیا ہے کیا کیا انہوں نے سوائے مہنگائی کر کے تاریخی مہنگائی 38 فیصد پہ انہوں نے کیا کیا ہے انڈسٹری بند ہو گئی ہے بے روزگاری بڑھ گئی ہے گروتھ ریٹ انہوں نے اور کیا کرنا ہے تو یہ جو ابھی تک تو گیم پلان میں یہی کھچڑی پکنے لگی ہے نا اگے نئی ا گئی ہے نئی جماعت ایک کریٹ کر دی ہے ہم نے بھی اپنے بڑے بڑے اچھے اچھے 27 سال پرانے ہم نے لوگ وہاں بھی بھیج دیے ہیں ان کے پاس اور ضرورت ہے تو حکم کریں ہم اور بھی بھیج دیتے ہیں لیکن اس سے ملک ٹھیک نہیں ہونے لگا ملک ٹھیک تب ہوگا جب ایک پبلک مینڈیٹ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بعد ایک مضبوط گورنمنٹ ائے گی اور میں اپنی اسٹیبلشمنٹ کو اج پھر سے کہتا ہوں نظر ثانی کریں ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے اور جب یہ تباہی جس طرف جا رہا ہے اور ائی ایم ایف کی اگلی کنڈیشنز ائیں گی جس طرح انہوں نے مصر اور سری لنکا میں انہوں نے کنڈیشن لگائی وہ کیا ہے کہ فوج کا بجٹ کم کرو دونوں جگہ انہوں نے کہا ہے تو یہ تو ہم ادھر جا رہے ہیں کہ ہم اپنی سیکیورٹی اینڈ میں کمپرومائز کریں گے اور ایک دفعہ سیکیورٹی کمپرومائز ہوگی اس ملک کی تو ہمارے جو دشمن بیٹھے ہیں وہ ملک توڑنے کے لیے تیار ہیں تو میں اس لیے اپ کو کہہ رہا ہوں کہ مجھے کوئی کوئی ریلیف نہیں چاہیے مجھے کوئی اپ کی مدد نہیں چاہیے میں کوئی کسی مجھے یہ سمجھے کہ یہ جو سارا کچھ ہو رہا ہے انتقامی کاروائی مجھے چھوڑیں میری بہنیں باہر جانے کے لیے نہیں تیار وہ تو عورتوں کے اوپر تو کبھی اس ملک میں ایسے نہیں ہوا لیکن ملک نیچے جا رہا ہے اور اس لیے وقت کم ہے جس طرح جس طرح دن بڑھتے جا رہے ہیں ہم اور اپنے ملک کو تباہی کی طرف لے کے جا رہے ہیں صرف قانون ختم ہو چکا ہے کسی کو اس وقت پھر سے میں کہتا ہوں جب عدلیہ اپنے فیصلے نہیں کروا سکتی جب ائین کی کوئی پرواہ نہیں کر رہا جب پولیس کھلے عام گھروں میں گھس کے لوگوں کے گھر لوٹ رہی ہے اور اور اٹھا کے لے کے لوگوں کو جا رہی ہے کلیکٹو پنشمنٹ دے رہی ہے تو اس ملک میں تو اب باہر کے لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے بتائیں نا بیرون ملک پاکستانی جو اپ کا بڑا اثاثہ ہے وہ کیا سوچ رہا ہوگا وہ کوئی وہ سوچے گا کہ پاکستان میں پیسہ لگانا ہے تو اگر انہوں نے نہیں لگانا تو اور تو اس وقت کوئی ہے نہیں جب تک ہم ملک کی ایکسپورٹس نہیں بڑھاتے وہ تو ٹائم لگے گا کہ ہم اپنی ڈالر انکم بڑھائیں تو اس وقت تو صرف ایک ہی انٹرم میں تو صرف اوورسیز پاکستانی مدد کر سکتے ہیں شکریہ پاکستان زندہ باد
Topics:عمران خانتحریک انصافانصافآزادیپاکستانسیاسی ظلمنیبمدینہ کی ریاستشاہ محمود قریشیپاور پولیٹکس

Frequently Asked Questions

عمران خان نے مائنس ون پروپوزل کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے واضح کیا کہ شاہ محمود قریشی نے ان کے پاس کوئی مائنس ون پروپوزل نہیں لایا اور ایسی بات چیت نہیں ہوئی۔

عمران خان کی سیاست کی بنیاد کیا ہے؟

عمران خان کی سیاست مشن کی سیاست ہے جو انصاف، آزادی اور مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر مبنی ہے، نہ کہ طاقت کی سیاست۔

عمران خان نے پاکستان میں انصاف کے حوالے سے کیا مسائل بیان کیے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کمزور طبقے کو انصاف نہیں ملتا، طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر ہے، اور حکومتی ادارے سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →