Prime Minister of Pakistan Imran Khan Speech at Gilgit-… — Transcript

وزیراعظم عمران خان کا گلگت بلتستان یوم آزادی پر خطاب، صوبہ بنانے، فوج کی اہمیت اور کرپشن کے خلاف عزم پر زور۔

Key Takeaways

  • گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ عوام کی دیرینہ خواہش ہے۔
  • پاکستان کی ترقی کے لیے کمزور اور پسماندہ طبقات کی مدد ضروری ہے۔
  • مضبوط فوج ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے۔
  • کرپشن کے خلاف حکومت کا عزم اور قانون کی بالادستی اولین ترجیح ہے۔
  • دشمن ملک کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، مگر پاکستان مستحکم ہے۔

Summary

  • وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے یوم آزادی پر خطاب کیا اور شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔
  • انہوں نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا جو طویل عرصے سے عوام کی خواہش تھی۔
  • وزیراعظم نے پاکستان کی کمزور اور غریب طبقات کی بہتری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
  • انہوں نے ملک کی ترقی کے لیے قبائلی علاقوں اور دیگر پسماندہ علاقوں کی ترقی پر زور دیا۔
  • فوج کی قربانیوں اور مضبوطی کی اہمیت بیان کی، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں۔
  • ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف قوانین اور کشمیریوں پر ظلم کی مذمت کی۔
  • پاکستان میں کرپشن کے خلاف سخت موقف اپنایا اور قانون کی بالادستی پر زور دیا۔
  • انہوں نے سیاسی مخالفین کی جانب سے فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کی۔
  • کرونا، معیشت اور عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے سے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔
  • اپنے منتخب کردہ فوجی سربراہان کی حمایت کا اظہار کیا اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
یہ دوسری دفعہ میں گلگت بلتستان اس موقع پہ ایا ہوں جو ایک خوشی کا موقع ہے
00:15
Speaker A
کہ جدھر 73 سال پہلے یہاں کے گلگت سکاؤٹس نے اپنی جان کی قربانی دے کے گلگت بلتستان کو ازاد کروایا
00:32
Speaker A
تو مجھے اج بڑی خوشی ہے کہ میں اب دوسری دفعہ پھر دوسرے سال پھر یہاں اپ کے ساتھ خوشی بنایا بنانے ایا ہوں اور انشاءاللہ جب تک میں وزیراعظم رہوں گا میری ہمیشہ کوشش ہوگی کہ یہ جو دن ہے فرسٹ نومبر یہ میں اپ کے ساتھ گزاروں
00:59
Speaker A
میں گلگت 15 سال کی عمر پہ پہلی دفعہ ایا تب یہ کاراکرم ہائی وے بن رہا تھا
01:50
Speaker A
میں اپنے سکول کی ٹریکنگ ٹیم کے ساتھ ایا اور وہ جو 15 سال سے مجھے ٹریکنگ کا شوق ہوا وہ اج تک ہے
02:05
Speaker A
اور وہ اس لیے کہ اس سارے علاقے میں جو ٹریکنگ ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں یہ وہ اللہ نے اس علاقے میں وہ خوبصورتی دی ہے
02:28
Speaker A
اور اس طرح کے جو پہاڑ ہیں اور ان پہاڑوں کے اندر جو علاقے ہیں وہ کہیں دنیا میں نہیں ہیں
02:38
Speaker A
تو میں صرف ایک میرا پرائم منسٹر بننے کا ایک نقصان یہ ہوا کہ میں اب ٹریکنگ نہیں کر سکتا لیکن جب بھی موقع ملا تو انشاءاللہ یہاں پھر سے اؤں گا ٹریکنگ کرنے کے لیے
03:24
Speaker A
خواتین و حضرات اج ایک تو خراج تحسین پیش کرنا تھا گلگت سکاؤٹس کو اور ان شہداء کو جنہوں نے قربانیاں دے کے اس علاقے کو ازاد کروایا
03:44
Speaker A
دوسرا میں اج گلگت بلتستان کے لوگوں کو دوسری بھی مبارک دینی تھی اور وہ یہ کہ جو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو پروونشل سٹیٹس دینا ہے جو ان کی ڈیمانڈ تھی بڑی دیر کی
04:10
Speaker A
اور یہ یو این سیکیورٹی کونسلز کی ریزولوشن کے بیچ میں رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے وہ سیکیورٹی کونسل کی جو ریزولوشنز ہیں اس کے بیچ میں ہم نے فیصلہ کیا ہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کی بہت دیر کی ڈیمانڈ تھی تو میں اج اس کی بھی مبارک دیتا ہوں
05:16
Speaker A
اب جہاں تک پیکج کی بات کی اور ڈویلپمنٹ کی وہ میں اج بات اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ الیکشنز کے دن ہیں
05:27
Speaker A
لیکن میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ کی پالیسی خاص طور پہ ہماری گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہے کہ اپنے کمزور طبقے کو اٹھایا جائے جو ہمارے غریب ہیں جو جو پیچھے رہ گئے ہیں
05:55
Speaker A
جو 25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں سب سے بڑی پرائیورٹی ہے کہ ان کو ہم کیسے اوپر لے کے ائیں اور دوسری جو پاکستان کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں جس طرح گلگت بلتستان پیچھے رہ گیا ہے اور اس کی بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ کٹ اف تھا جب تک کہ کاراکرم ہائی وے نہیں بنا ادھر شاید ہی کوئی اتا تھا اور ڈویلپمنٹ کی چانس نہیں تھی تو اس لیے یہ پیچھے رہ گیا ہے
06:57
Speaker A
لیکن ہمارا قبائلی علاقہ بھی پیچھے رہ گیا ہے بلوچستان بھی پیچھے رہ گیا ہے سارے جو مغربی ڈسٹرکٹس ہیں پنجاب کے اندرون سندھ وہ پیچھے رہ گئے ہیں تو ہماری پوری کوشش ہے کہ سارے علاقے ان کو اٹھایا جائے اور جو پھر سے میں نے کہا جو ہمارا کمزور طبقہ جو غریب لوگ جو اس وقت دو وقت کی روٹی صحیح طرح نہیں کھا سکتے ان کو اوپر اٹھایا جائے تو انشاءاللہ انے والے دنوں میں اپ دیکھتے رہیں گے کہ ہم جس طرف جا رہے ہیں ہماری جو سارا ڈویلپمنٹ کا پروگرام ہے وہ جائے گا ہی اس طرف ان علاقوں میں جو پیچھے رہ گئے ہیں
08:22
Speaker A
میں کیونکہ اج میرے فوجی بھی سامنے کھڑے ہیں جوان سامنے کھڑے ہیں میں ساری اپنی قوم کو اہمیت بتانا چاہتا ہوں کہ کتنا ضروری ہے ایک مضبوط فوج کی ایک مضبوط فوج کا ہونا پاکستان کے لیے یہ میں اپنی ساری قوم کو بھی بتانا چاہتا ہوں
08:48
Speaker A
اج اپ ساری مسلمان دنیا میں دیکھیں شروع کریں لیبیا سے پھر صومالیہ پہ جائیں پھر سیریا جائیں پھر یمن جائیں پھر افغانستان کو دیکھیں پھر عراق کو دیکھیں تباہی مچی ہوئی ہے
10:05
Speaker A
یا جنگیں ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں لیکن عوام مشکل میں ہے مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں لوگ اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ ہمارے ملک کا جو اس وقت ہمسایہ ہے ہندوستان میں اج وہ حکومت ائی ہے جو پچھلے 73 سال میں سب سے زیادہ انتہا پسند
10:51
Speaker A
مسلمانوں سے اور پاکستان سے نفرت کرنے والی جو وہ ہندوستان میں مسلمانوں سے کر رہے ہیں جو دو انہوں نے قانون بنائے سٹیزن سٹیزن شپ لاء اور ایک اور رجسٹریشن سٹیزن رجسٹریشن لاء یہ ہیں ہی مسلمانوں کی طرف کہ ان کو ایک برابر کا شہری ہندوستان میں نہ سمجھا جائے اور جو انہوں نے کشمیر میں کیا پانچ اگست 2019 کو کسی ہندوستان کی حکومت نے وہ نہیں کیا کشمیر کے لوگوں نے لوگوں سے جو اس انتہا پسند ریسسٹ ٹوٹلیٹیرین
12:07
Speaker A
جو ریشل سپیریورٹی میں بلیو کرتی ہے باقی انسانوں کو برابر نہیں سمجھتی ہندوتوا کا جو نعرہ لے کے ائی ہے انہوں نے جو کشمیریوں پہ ظلم کیا کبھی اس طرح کا ظلم پہلے نہیں ہوا
12:38
Speaker A
تو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ کتنی ضرورت ہے اج ہمیں ایک مضبوط پاکستان کی فوج کی اور سیکیورٹی فورسز کی کوئی ہفتہ نہیں گزرتا جب ہمارے سیکیورٹی فورسز اپنی جان کی قربانیاں نہیں دیتے
13:42
Speaker A
پرانے قبائلی علاقہ جو مرج ڈسٹرکٹس ہیں اپ ادھر سے لے کے اب بلوچستان کراچی میں بھی کبھی کبھی ایک پورا پلان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی جا رہی ہے اور کون ان کے سامنے کھڑا ہے ہمارے فوجی
14:17
Speaker A
ہماری سیکیورٹی فورسز جو اپنی جان کی قربانیاں دیتی ہیں اور ہم وہ خوش قسمت ملک ہیں کہ جو پچھلے 15 سال میں جس طرح کی
15:00
Speaker A
جس طرح کی 15 سال میں دہشت گردی پاکستان میں ہوئی اور جو ہمارے دشمنوں نے پورا فائدہ اٹھایا اس سے اور ہمیں ڈیسٹیبلائز کرنے کی کوشش کی ہم اپنی اج سیکیورٹی فورسز کو دات دیتے ہیں کہ ان کی وجہ سے اج پاکستان محفوظ ہے
15:50
Speaker A
اور ان کی وجہ سے ان کی قربانیوں کی وجہ سے اج ہمارا وہ حال نہیں ہے جو کئی اور مسلمان ملکوں کا حال ہے اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ جو نریندر مودی کی حکومت ہے یہ ہر قسم کا
16:30
Speaker A
اندر انتشار صرف دہشت گردی کے ذریعے نہیں جو ان کا کلبوشن یادو نے جو بتایا کہ کیسے بلوچستان میں اور کراچی میں اس کی مشن تھی دہشت گردی کرنے کی یہ اندر اور انتشار پھیلا رہے ہیں شیعہ سنی کی لڑائی پلان کیا ہوا تھا کہ شیعہ اور سنی کے عالموں کو قتل کروائیں تاکہ انتشار پھیلے اور وہ بھی ہم اج دات دیتا ہوں اپنی انٹیلیجنس ایجنسیز کو کہ جنہوں نے بہت ان کے جو ان کے پروگرام تھے انتشار پھیلانے کے وہ پاش پاش کیے
17:07
Speaker A
میں اج جو اخر میں بات کرنا چاہتا ہوں وہ
17:13
Speaker A
ایک پورا ایک اج کل کے دنوں میں ایک پورا پلان بنا ہوا ہے ہمارے وہ لوگ جو کہ اپنے اپ کو ڈیموکریٹس کہتے ہیں سیاستدان کہتے ہیں وہ پوری طرح اج ہماری پاکستانی فوج کے اوپر اور پاکستان کی عدلیہ کے اوپر
17:46
Speaker A
انہوں نے پورا ڈس کریڈٹ کرنے کا ان کو پروگرام بنایا ہوا ہے لیکن یہ کیوں ہے یہ اج سب میں اپنی قوم کو بتانا چاہتا ہوں یہ کیوں ہو رہا ہے میرا جو پہلا جب میں وزیراعظم بنا تو جو میرا پہلا خطاب تھا اگر اپ وہ دیکھیں تو اس میں میں نے دو خاص طور پہ چیزیں کہیں میں نے یہ کہا کہ جن لوگوں نے 30 سال سے اس ملک کو لوٹا ہے
18:32
Speaker A
30 سال سے اس ملک کا پیسہ چوری کر کر کے باہر لے کے گئے ہیں یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے یہ اکٹھے میرے خلاف اس لیے ہوں گے کہ ان کو پتہ ہے کہ میری تو 24 سال کی کیمپین ہی یہ تھی
18:52
Speaker A
کہ اس ملک میں کرپشن کا سامنا کریں جب تک کرپشن ہے ملک اگے نہیں بڑھ سکتا اور میں نے کہا یہ سب اکٹھے ہوں گے اور میں نے دوسری بات کہی کہ جو جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے
19:17
Speaker A
اس چیز میں ان کا نقصان ہے اور جس چیز میں ان کا فائدہ ہے وہ پاکستان کو نقصان ہے یہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ساری کرپشن جو انہوں نے اس ملک کا پیسہ لوٹ کے باہر لے کے گئے ہیں یہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مجھے بلیک میل کریں اور میں ان کو این ار او دے دوں یعنی کہ ان کو معاف کر دوں جو انہوں نے اس ملک کا پیسہ چرایا ہے
19:55
Speaker A
پاکستان کا فائدہ ایک چیز میں ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی قائم ہو طاقتور اور کمزور کے لیے قانون بنے یہ نہیں کہ صرف بیچارے وہ لوگ جو مجبوری میں چوری کرتے ہیں وہ جیلوں میں جائیں اور بڑے بڑے ڈاکو ان کو این ار او مل جائے اور وہ دندراتے پھریں اور وہ بار بار ا کے پھر ملک کو لوٹیں
20:32
Speaker A
قانون کی بالادستی کا مطلب کہ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک قانون اگر طاقتور چوری کرتا ہے تو اسی کو اسی طرح اس کو اس طرح احتساب ہو جو عام ادمی کا ہوتا ہے تو یہ میں نے کہا کہ ان کا جو انٹرسٹ ہے وہ پاکستان کے انٹرسٹ کے خلاف ہے
21:19
Speaker A
اور یہ اج ثابت ہو رہا ہے سب اکٹھے بھی ہو گئے ہیں اور پوری طرح بلیک میل پہلے انہوں نے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی معیشت پہ الیکشن غلط ہو گیا ہم نے کہا کھول دو الیکشن ادھر سے بھی بھاگ گئے معیشت اللہ کا شکر ہے کہ ایک وہ ملک یہ چھوڑ کے گئے تھے جس کا دیوالیہ نکلا ہوا تھا اللہ کا کرم ہے کہ وہ بھی صحیح طرف لگ گیا ہے
22:10
Speaker A
اس کے بعد کرونا کے اوپر انہوں نے کوشش کی اج دنیا ایکنالج کرتی ہے کہ جس طرح پاکستان کرونا سے نکلا ہے شاید ہی کوئی اور ملک نکلا ہو
22:22
Speaker A
پھر فیٹف کے اوپر جو ہندوستان پوری کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان کو فیٹف میں بلیک لسٹ کروائیں اس پہ بلیک میل کرنے کی کوشش کی اس میں بھی میں بلیک میل نہیں ہوا تو اب انہوں نے پاکستانی فوج کی طرف پاکستانی ارمی چیف ائی ایس ایف ائی ایس ائی کے چیف کے اوپر اب انہوں نے بندوقیں تانی ہوئی ہیں
23:02
Speaker A
پہلے تو میں اج اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ اگر یہ ائی ایس ائی کے چیف کو اور ارمی چیف کے خلاف بات کر رہے ہیں اس کا مطلب میں نے بالکل ٹھیک ان کو منتخب کیا یہ میری سلیکشن بالکل ٹھیک تھی کیونکہ اگر یہ ڈاکو ان کے خلاف بول رہے ہیں اس کا مطلب وہ ٹھیک لوگ ہیں
23:25
Speaker A
دوسری میں اپ سب کے لیے اپنی قوم کے لیے ایک چیز کہنا چاہتا ہوں کہ اپ اگر اسلام کی تاریخ پڑھیں برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ پڑھیں تو مسلمان بہت کم جب مقابلہ ہوتا تھا دشمن کا اور مسلمانوں کا ڈٹ کے مقابلہ کرتا تھا مسلمان
24:13
Speaker A
لیکن نقصان مسلمانوں کو تب سب سے زیادہ پہنچایا مسلمانوں کے میر جعفر اور میر صادق نے یہ وہ غدار تھے جو اندر سے سازش کر کے مسلمانوں کو انہوں نے ان قوموں کو غلام بنا دیا صرف ذاتی فائدوں کے لیے قران شریف میں منافق کا درجہ کافر سے نیچے رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ اپ کا بننے کی کوشش کرتا ہے وہ اندر سے جڑیں کاٹ دیتا ہے
25:27
Speaker A
جنگ خندق میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے کفار کا مقابلہ کر رہے تھے تو اتنا ہی بڑا جتنا کفار کی فوج تھی اندر منافقین سے خطرہ تھا اور اس لیے اللہ نے کہا تھا کہ ان کا درجہ کافر سے نیچے ہے یہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اور اج ہم پاکستان کے میر جعفر میر صادق اور میر ایاز صادقوں کو دیکھ رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اج نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں
26:47
Speaker A
دنیا نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے پلوامہ کے بعد اپنے اپ کو کنڈکٹ کیا مجھے سارے دنیا کے ہیڈز اف سٹیٹ کے مبارکی کے میسجز ائے اور یہ اج کہہ رہا ہے کہ جناب پاکستان نے ڈر کے کیا جو کہ نریندر مودی نے ساری الیکشن کیمپین کی تھی اس پہ
27:22
Speaker A
اور سارا مقصد ان کا مقصد ہے کیا سارا مقصد ایک ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان بلیک میل ہو کے ان کی اربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت جو باہر لے کے گئے ہیں وہ کسی طرح اس کے لیے این ار او دے دے معاف کر دے
27:47
Speaker A
میں اج اپنی ساری قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کبھی ان ڈاکوؤں کو معاف نہیں کرے گا بلکہ جس طرح انہوں نے ہماری عدلیہ کو اٹیک کیا عدلیہ کے اندر بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک جج کو اوپر چڑھا دیں جب ان کو معاف کیا گیا حدیبیہ پیپر مل میں سپریم کورٹ نے تو تب عدلیہ ٹھیک تھی لیکن جب ان کے خلاف پانچ ممبر بینک کا بینچ کا فیصلہ اتا ہے جو اج باہر بھاگا ہوا ہے اس کے اوپر منی لانڈرنگ کا فیصلہ اتا ہے تو تب عدلیہ بری ہے
28:49
Speaker A
اسی طرح جو فوج کے اوپر پریشر ڈالا ہوا ہے یہ صرف اور صرف کوشش ہے کہ کسی طرح ہم اتنے پریشر میں ائیں کہ ہم ان کو معاف کر دیں اب تک میرا پورا زور تھا پاکستان کی معیشت ٹھیک کرنے کا کیونکہ ہمارے ملک کی معیشت کا بہت برا حال تھا
29:30
Speaker A
معیشت کے اوپر ابھی بھی میں زور لگاؤں گا یہ میں اپ سب کو کہہ دوں کہ ابھی بھی انشاءاللہ معیشت پہ زور لگا رہے ہیں کیونکہ وہ اللہ کا کرم ہے صحیح طرف نکل گئی ہے لیکن اب میں قانون کی بالادستی کے اوپر اتنا ہی زور لگاؤں گا جو سٹیٹ کے ادارے ہیں ان کو اب میں خود دیکھوں گا کہ اس ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرے اور یہ جو طاقتور اس ملک کے طاقتور مجرم یہ جو اس ملک کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو قانون کے نیچے لے کے ائیں اور انشاءاللہ انے والے دنوں میں اپ دیکھیں گے کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کس کے ماتھے پہ پسینہ اتا ہے یہ ساری قوم دیکھے گی شکریہ
Topics:عمران خانگلگت بلتستانیوم آزادیپاکستانفوجکرپشنصوبہدہشت گردیمعیشتسیکیورٹی

Frequently Asked Questions

وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے کیا اعلان کیا؟

وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا جو اس علاقے کی عوام کی دیرینہ خواہش تھی اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

عمران خان نے پاکستان کی فوج کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے پاکستان کی فوج کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ مضبوط فوج ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر دہشت گردی اور داخلی انتشار کے خلاف۔

عمران خان نے کرپشن کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا؟

عمران خان نے کرپشن کے خلاف سخت موقف اپنایا اور کہا کہ قانون کی بالادستی ضروری ہے تاکہ طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں احتساب ہو، اور کرپٹ عناصر کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →