Chairman PTI Imran Khan’s important Address to the Punj… — Transcript

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا پنجاب پارلیمانی پارٹی سے اہم خطاب، قوم اور پارٹی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو۔

Key Takeaways

  • پاکستان کی عوام ہی سیاسی ریڈ لائن کا فیصلہ کرتی ہے، نہ کہ کوئی فرد یا گروپ۔
  • پی ٹی آئی کو عوامی حمایت حاصل ہے اور پارٹی انتخابات میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے۔
  • ماضی کی حکومتوں کی کرپشن اور نااہلی نے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
  • عمران خان نے پارٹی ممبرز کو سیاسی دباؤ اور رشوت کی پیشکشوں کے باوجود ثابت قدم رہنے کی ہدایت دی۔
  • خوددار خارجہ پالیسی اور ملکی مفادات کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

Summary

  • عمران خان نے پارٹی ممبرز کی مشکلات اور دباؤ کو سراہا جو انہیں سیاسی دباؤ اور رشوت کی پیشکشوں کا سامنا تھا۔
  • انہوں نے پاکستان کی عوام کو ریڈ لائن کا واحد وارث قرار دیا اور سیاسی مخالفین کی دھمکیوں کو مسترد کیا۔
  • پی ٹی آئی کی مقبولیت اور عوامی حمایت کی تاریخ میں مثال دی، خاص طور پر جلسوں اور بائی الیکشنز میں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔
  • ماضی کی حکومتوں کی کرپشن اور معیشت کی خراب صورتحال پر تنقید کی، خاص طور پر دو خاندانوں کی نااہلی کو اجاگر کیا۔
  • عمران خان نے موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کی تیاری اور اگلے انتخابات کی اہمیت پر زور دیا۔
  • انہوں نے ملک کی معیشت کی حالت اور آئی ٹی سیکٹر کی ترقی میں پاکستان کی پسماندگی کو بیان کیا۔
  • امریکہ کے ساتھ تعلقات اور خوددار خارجہ پالیسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
  • کرونا وبا کے باوجود حکومت کی معاشی کارکردگی کو مثبت قرار دیا۔
  • مخالفین کی سازشوں اور عوامی ردعمل کے حوالے سے تفصیلی بات کی۔
  • پارٹی کے ارکان کو متحد رہنے اور ملکی مفادات کے لیے کام کرنے کی تلقین کی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:04
Speaker A
ایاک نعبد وایاک نستعین
00:08
Speaker A
میں سب سے پہلے تو آج بڑے فخر سے مجھے بڑا فخر ہے آج اپنے سارے ایم پیز کے اوپر میری ٹیم کے اوپر مجھے بڑا آج آپ کے اوپر فخر ہے
00:26
Speaker A
کہ جس تعداد میں آپ آئے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ایک تو موسم تھا نا دھند ہے آنا جانا مشکل ہے ایک تو یہ مشکل تھی آپ سب کے لیے
00:38
Speaker A
لیکن جو دوسری مشکل تھی وہ مجھے کیونکہ میری ملاقاتیں ہوتی رہیں آپ سے چھوٹے چھوٹے گروپس کے ساتھ میں ملتا رہا تو مجھے احساس ہوا کہ کس طرح کے پریشرز آپ کے اوپر تھے
00:57
Speaker A
اور میں اس لیے بھی آج آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ چن چن کے لوگوں کے اوپر آپ میں سے ممبرز آف پارلیمنٹ کے اوپر پریشر ڈالا گیا
01:53
Speaker A
میں مظفر گڑھ کے اپنے ٹائیگرز کو کل ملا تھا تو وہ مجھے بتا رہے تھے کہ ان کے اوپر کس طرح کا ان کو آفر کیا گیا مجھے سوا ارب روپیہ پانچ لوگوں کو خریدنے کے لیے ان کے ضمیر خریدنے کے لیے آفر کیا گیا
02:14
Speaker A
اور چن چن کے لوگوں کو میں اپنے گجرات سے ایک ایم پی اے سے ملا تو اس نے بھی وہی بات کی جو زیادہ تر ہمارے ممبرز آف پارلیمنٹ کو بھی بتایا گیا
02:40
Speaker A
اور ہمارے الائی کو اور میں آج یہاں خاص طور پہ چوہدری پرویز الائی اور قاف لیگ کو بھی آج دات دیتا ہوں آج خراج تحسین آپ کو بھی پیش کرتا ہوں
03:26
Speaker A
کیونکہ الائیز کو بھی پورا دھمکیاں دی گئیں ہمارے لوگوں کو پہلے تو خیر آفر کیا گیا کہ دیکھیں نون لیگ میں چلے جائیں اور پھر دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر آپ نہیں جائیں گے تو یہ ہو جائے گا ہم فلانا کر دیں گے پیسے علیحدہ دھمکیاں علیحدہ
03:47
Speaker A
اور ایک چیز جو سب کو کہی گئی میں آج آپ بھی ہیں اور یہ میری قوم کے قوم بھی سن رہی ہے یہ ایک چیز کہی گئی کہ دیکھیں پی ٹی آئی کی کوئی فیوچر نہیں ہے عمران خان کی کوئی فیوچر نہیں ہے
04:13
Speaker A
عمران خان پہ ہم نے ریڈ لائن لگا دی ہے
04:30
Speaker A
لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ جی ہم نے تو اس کو اس کو تو مائنس کر دیا اس کی تو فیوچر ہی نہیں ہے
05:01
Speaker A
دیکھیں آپ سب کے لیے بھی اور میں اپنی قوم جو دیکھ رہی ہے میں سب کے لیے آج ایک پیغام دینا چاہتا ہوں سوائے اللہ کے اور اس کے بعد یہ جو قوم کے وارث ہیں اللہ کے بعد وہ پاکستان کی عوام ہے کسی کے اوپر صرف ریڈ لائن پاکستان کی عوام ڈال سکتی ہے اور کوئی نہیں ڈال سکتا
05:30
Speaker A
اور جو بھی یہ سمجھتا ہے جس میں بھی یہ تکبر ہے یہ جو راونت ہے یہ تکبر کہ جی میں ہم نے ریڈ لائن ڈال دی نہ ان کے اندر عقل ہے
05:57
Speaker A
صرف بے وقوف انسان ایسی بات کر سکتے ہیں نہ ان کو سیاست کی سمجھ ہے نہ انہوں نے تاریخ پڑھی ہوئی ہے نہ انہوں نے اس ملک کی تاریخ پڑھی ہوئی ہے جس نے بھی کوئی تھوڑی سی بہت تھوڑا پڑھا لکھا آدمی جس نے تاریخ پڑھی ہو وہ کتنی کبھی بھی اتنی احمقانہ بات نہیں کر سکتا ہمیشہ ایک ملک کے اندر عوام فیصلہ کرتی ہے کس کے اوپر ریڈ لائن ڈالی جاتی ہے اور نہیں ڈالی جاتی
07:03
Speaker A
آپ ماشاءاللہ اور میں اللہ کا ہاتھ اٹھا اٹھا کے شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے آج آپ کی جماعت اس کو آج وہ مقام دیا ہے
07:36
Speaker A
ستر سال میری عمر ہے میں آپ کو پورے یقین اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی جماعت کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو ماشاءاللہ اللہ نے آپ کی جماعت کو دی ہے اور اب اگر کسی کو شک تھا تو اٹھا کے دیکھ لیں پہلے تو پینسٹھ جلسے کیے ذرا پینسٹھ جلسوں کی ذرا ویڈیوز لوگوں کو دکھا دیں آج کل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے گرمی کی انتہا کے اندر جس طرح پاکستان کی پبلک نکلی پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسے پبلک نہیں نکلی کسی بھی جماعت کے لیے
08:44
Speaker A
پبلک نے بار بار بتایا وہ کدھر کھڑی ہے وہ آپ کے ساتھ کھڑی ہے جب ہماری حکومت ایک سازش کے تحت گرائی گئی نو اپریل کو جب ہم میں اپنی ڈائری لے کے گھر پہنچا تو جو بھی یہ ریڈ لائن ڈرا کرنے والے سمجھ رہے ہیں کہ ریڈ لائن ڈرا کی سب کو سب کو شوق ملا
09:26
Speaker A
کہ جب دس اپریل کو پاکستان کی پبلک سڑکوں کے اوپر آ گئی اس ملک کی تاریخ میں کبھی بھی پاکستان کی پبلک ایک ایک حکومت جس کو ہٹایا گیا ہو آج تک پاکستان کی پبلک نے مٹھائیاں تو بانٹی ہیں کبھی اس کے اس حکومت کے لیے لاکھوں لوگ نہیں نکلے
10:24
Speaker A
اور اس کے بعد الیکشنز ہوئے سولہ جولائی کو الیکشنز ہوئے ایک عجیب سچویشن تھا کہ حمزہ کو یہاں بٹھا دیا گیا ساری اس کے ساتھ پولیس انتظامیہ اسٹیبلشمنٹ مدد کر رہی ہے اس کی
10:55
Speaker A
ہر چیز الیکشن کمیشن پوری مدد کر رہی ہے یہ بھی پنجاب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سویپ کی تحریک انصاف نے بائی الیکشن سویپ کی اور وہ کیوں کیے کیونکہ پاکستانی قوم نکل آئی کبھی اس طرح قوم نہیں نکلی نہ کسی نے برادری دیکھی نہ کسی نے رشتہ داریاں دیکھیں
11:48
Speaker A
لوگ نظریے کے لیے نکلے اور آپ سب جانتے ہیں کیونکہ آپ سب نے شرکت کی آپ نے سب اس بائی الیکشنز میں شرکت کی اور آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح پبلک نکلی
12:14
Speaker A
اور پبلک نے واضح بتا دیا کہ ہم کدھر کھڑے ہیں پھر سولہ اکتوبر کو الیکشن ہوا سولہ اکتوبر کو چن کے الیکشن کمیشن اور نواز شریف نے چن کے وہ حلقے ان حلقوں کے اندر بائی الیکشن کروائی جو ہمارے سب سے کمزور تھے جن میں پی ڈی ایم کی ان ساری جماعتوں کی دگنی ووٹس تھیں ہماری دو ہزار اٹھارہ الیکشن میں چن کے انہوں نے الیکشن کروائے اور وہ آپ سب نے دیکھا کہ آٹھ میں سے سات الیکشن ہم جیتے اور پبلک نے ووٹ ڈالی
13:28
Speaker A
پبلک نے ووٹ ڈالی یہ جانتے ہوئے کہ میں نے الیکشن میں ہم نے اسمبلیوں میں نہیں بیٹھنا تھا یہ کبھی آپ نے سنا ہے پاکستان میں کبھی ایسے پاکستان میں ہوا کہ پبلک اس چیز کو جانتے ہوئے کہ یہ جو ایم این اے کو ہم ووٹ ڈال رہے ہیں یہ ہمارے کام نہیں کروا سکے گا ہماری گلی سڑکیں ہمارے جو کام ہیں وہ نہیں کروا سکے گا یہ اسمبلی میں بھی نہیں جائے گا آٹھ میں سے سات الیکشن جیتے
14:07
Speaker A
پبلک واضح بتاتی جا رہی تھی کہ وہ کدھر کھڑی ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہنا پڑتا ہے کہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم ڈنڈے کے زور سے پبلک کو ہم ڈنڈے کے زور سے پبلک کو پبلک اوپینین کو موڑیں گے اب یہ بھی کون سے جینئس یہ سوچ رہا تھا کیسا ذہن یہ چیزیں سوچ رہا تھا
15:34
Speaker A
کون سا یعنی میں کئی دفعہ حیران ہوتا ہوں کہ یہ کون فیصلے ایسے کرتا ہے کہ جب پتہ ہے کہ پبلک کدھر کھڑی ہے اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ جانوروں کی طرح بھیڑ بکریوں کی طرح ڈنڈے کے زور سے ہمیں لگائیں گے اس لائن پہ کہ جی چوروں کو ہم کسی طرح مان لیں ساری کوشش ہو رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان قوم ان چوروں کو جنہوں نے تیس سال سے اس ملک کو لوٹا ہے جن کے دوران ہندوستان بھی ہمارے سے آگے نکل گیا بنگلہ دیش بھی آگے نکل گیا جس کے دوران پاکستان دنیا میں پیچھے رہ گیا ہر چیز میں ہم پیچھے رہ گئے
16:39
Speaker A
آئی ٹی ایک چیز لے رہا ہوں ٹیکنالوجی کی فیوچر ہے ہندوستان نے دو ہزار سن دو ہزار میں ایک ارب ڈالر ان کی آئی ٹی ایکسپورٹ تھی آج ان کی ایک سو چالیس ارب ڈالر آئی ٹی ایکسپورٹ ہے
17:02
Speaker A
یہاں کسی نے توجہ ہی نہیں دی کوئی لانگ ٹرم پلاننگ ہی نہیں کی کیونکہ یہ جو دو خاندان آئے تھے ان کو صرف ایک کام آتا تھا پیسہ چوری کرنا اور اس کے بعد این آر او لینا اور یہی انہوں نے کیا آتے ساتھ ہی نہ ان کا کوئی گیم پلان تھا ان کو جب ہمارے اوپر مسلط کیا گیا
17:35
Speaker A
نہ انہوں نے سوچا کہ انہوں نے آگے کیسے معیشت کو ٹھیک کرنا ہے کوئی روڈ میپ دینا ہے اکانومی کا نہ ان کی پاس اور کوئی سوچ تھی انہوں نے صرف ایک ہی کام کیا این آر او لیا اور این آتے ساتھ ہی تیاری کر کے انہوں نے اپنے کرپشن کے کیسز ختم کیے گیارہ سو میں اب آپ سب کو کیونکہ آپ میرے ایم پیز ہیں اور آپ نے آپ نے ابھی تیاری کرنی ہے اگلی کیمپین کے لیے ہماری کیونکہ یہ الیکشن کا سال ہے
18:40
Speaker A
اور انشاءاللہ ہم نے الیکشن فوری طور پہ کروانا ہے آپ سب کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ گیارہ سو ارب روپے کے انہوں نے اپنے کرپشن کے کیس معاف کروائے ہیں اکانومی ڈوبنا شروع ہو گئی نظر آ رہا تھا کہ ان کو کوئی سمجھ ہی نہیں ہے اکانومی کی اور ان کو یہ بھی کیونکہ ماضی میں جب بھی یہ اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے یہی کیا ہے
19:55
Speaker A
ننانوے میں جب ان کی حکومت گئی اکانومی بینکرپٹ کوئی ایکسپورٹس نہیں بڑھائی گئیں ایکسپورٹس بڑھائیں گے تو دولت میں اضافہ ہو گا قوم کی پھر سے جب یہ دو ہزار اٹھارہ میں گئے پھر ملک بینکرپٹ پانچ سال میں ایکسپورٹس نہیں بڑھی اور جب جو بھی یہ سوچ رہا تھا کہ ان کو لے کے آئے گا اور ہمیں پتہ ہے کون کس کے خیال میں تھا کہ شہباز شریف بہت بڑا جینئس ہے
20:29
Speaker A
کیسے وہ سمجھ گیا کہ جو ماضی میں انہوں نے آج تک ملک کو بینکرپٹ کر کے چھوڑ کے گئے ہیں اپنی دولت بڑھ گئی قوم بینکرپٹ ہو گئی وہ اب ٹھیک کریں گے تو ملک کے یہ جو حالات آج نظر آ رہے ہیں معیشت کے یہ ہونا ہی تھا اور ہمارے اوپر کہہ رہے ہیں کہ جی یہ دیکھیں یہ پچھلی حکومت نے کیا ہے ہماری حکومتیں بینکرپٹ اکانومی سنبھال کے ایک بینکرپٹ اکانومی
21:40
Speaker A
اور پھر سے میں ضرور کہوں گا آپ سب کو ایم پیز کو کہ آپ اکنامک سروے میں ضرور فگرز پڑھیں کہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کسی کی وہ اکانومی کی پرفارمنس تھی جو ہمارے آخری دو سال تھی کرونا کے باوجود پہلا سال بینکرپسی اس سے نکالا کرونا سے ملک کو نکالا اور آخری دو سال صرف مارشل لاز کے اندر اس طرح کی پرفارمنس تھی اور وہ بھی
22:32
Speaker A
کیونکہ ہم امریکیوں کے ساتھ تھے سیٹو سینٹو میں ایوب خان کے دور میں ضیاء الحق کے افغان جہاد میں ساتھ تھے جنرل مشرف کے وار آن ٹیرر میں ان کے ساتھ تھے تو ڈالرز آ رہے تھے ہماری باری کوئی ہم کسی ایک آزاد فارن پالیسی لے کے آ رہے تھے جس کا بھی ایک کئیوں کو یہ نہیں پسند یا غلام ذہنیت کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کو یہ نہیں پسند آیا کیونکہ ان کو تو غلامی کرنی ہے وہ تو سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم کسی سپر پاور کے جوتے نہ پالش کریں تو پاکستان سروائیو نہیں کرے گا ان کو تو خودداری کا پتہ ہی نہیں ہے
23:42
Speaker A
تو خوددار فارن پالیسی کے باوجود ہمارے آخری دو سال میں ریکارڈ گروتھ تھی سارے اکنامک انڈیکیٹرز چاہے ایکسپورٹس ہوں چاہے ٹیکس کلیکشن ہو چاہے ریمیٹنسز ہوں چاہے ہماری ایگریکلچر گروتھ ریٹ ہو زراعت کی اندر سب پوزیٹو جا رہا تھا جب سے یہ آئے ہیں آج یہ حال ہے کہ ہندوستان کے آج ٹی وی دیکھ لیں نریندر مودی کی ایک چھوٹا سا کلپ چل رہا ہے کہ وہ بتا رہا ہے کہ پاکستان کیسے بھکاریوں کی طرح دنیا میں پھر رہا ہے یہ جو ابھی جنیوا گئے تھے
25:02
Speaker A
اور میں جنیوا کا بھی ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنا بڑا ڈیلیگیشن لے جانا جنیوا میں جب بھیک مانگنے جا رہے ہیں سب سے مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہر رہا ہے اتنا بڑا ڈیلیگیشن زیادہ تر لوگ زوم کے اوپر بات کر رہے ہیں آج کل کون سی ایسی چیز تھی جو زوم پہ نہیں ہو سکتی تھی میں نے زوم کے اوپر یونائیٹڈ نیشنز کو بھی ایڈریس کیا ہوا ہے میں نے زوم کے اوپر ساری میٹنگز کی ہوئی ہیں کوئی ضرورت نہیں ہے آج کل کے زمانے میں اتنا بڑا ڈیلیگیشن بھیک مانگنے کے لیے وہاں جانے
25:55
Speaker A
اور اس سے کیا ملا وہ بھی خیر اگلی بات ہے لیکن پوائنٹ میں ایک کہہ رہا ہوں معیشت ہم وہ چھوڑ کے گئے تھے جس سے ہم آگے ہماری کوشش تھی جو میکسیمم ڈالر آئے ہیں پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے زیادہ ڈالرز نہیں آئے باہر سے اور ہماری کوشش یہ تھی کہ اس کو بڑھاتے جانا تھا ہم نے
26:43
Speaker A
اور انہوں نے جو آپ کے سامنے اب صرف ان کے پاس ایک ایک پالیسی رہ گئی ہے اکنامک پالیسی کیا ہے کہ بھیک مانگیں تھوڑا سا پیسہ آئے گا کینسر کا علاج ڈسپرن سے ہو گا تھوڑی دیر اور چلے جائیں گے عوام مہنگائی میں پس گئی ہے فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے
27:12
Speaker A
اور اب یہ ہے کہ یا تو آئی ایم ایف کی کنڈیشنز ماننی پڑیں گی اس کا مطلب مہنگائی اگر آئی ایم ایف کی کنڈیشنز نہیں مانیں گے تو اور زیادہ مہنگائی ادھر آ کے آج پاکستان کو انہوں نے کھڑا کر دیا ہے
27:26
Speaker A
اور میں خاص طور پہ اب پاکستان کے آخر میں یہ آپ سب کے لیے کیونکہ جو یہ ہو رہا ہے ہمارے ملک کے ساتھ میں اپنے انصاف کے ادارے میں خاص طور پہ ان سے آج اپیل کرتا ہوں کہ دیکھیں آرٹیکل فورٹین جو ہے کانسٹیٹیوشن کا وہ ڈیگنٹی آف مین انسان کا وقار عزت نفس کی حفاظت کرتا ہے جو ہمارا آرٹیکل چودہ ہے آئین کا وہ ہماری حفاظت کرتا ہے
28:20
Speaker A
اب میں اپنے انصاف کے نظام سے پوچھنا چاہتا ہوں ہم کوئی چاہتے نہیں ہیں کہ کسی قسم کی ایسی تنقید ہو کہ ہماری عدلیہ ناراض ہو کیونکہ ہم چاہتے ہیں ایک مضبوط عدلیہ ہو لیکن میں آج یہ ضرور آپ سب کے سامنے کیونکہ آپ لیجسلیٹرز ہیں آپ قانون سازی کرتے ہیں آپ نے بھی اسمبلی میں جب بھی موقع ملے یہ ضرور بات اٹھائیں
29:05
Speaker A
کہ کیا ہمارے کوئی فنڈامینٹل رائٹس ہیں یا نہیں کیا آئین جو ہمیں رائٹ ٹو ڈیگنٹی دیتا ہے یہ جو ہمارے لوگوں سے ہوا ہے پچیس میں آپ آپ سب آپ کو پتہ ہے پچیس میں کو آپ سے کیا ہوا ہے آپ سارے پارلیمنٹیرینز تھے آپ کے گھروں کے اندر جس طرح پولیس گھسی ہے صبح کے تین بجے آج تک سنا ہے کوئی پولیس صبح کے تین بجے لوگوں کے گھروں میں دیوار چھلانگ مار کے اندر آتی ہے یہاں راشدہ بیگم بیٹھی ہوئی ہیں
30:22
Speaker A
ان کی عمر دیکھیں ان کو اٹھا کے پولیس تھانے گھسیٹ کے لے کے گئے کون سا جرم کر رہی تھیں وہ
30:34
Speaker A
ہم کون سا ہماری پارٹی کے لوگ کیا جرم کر رہے تھے جو لوگوں کے اوپر تشدد کیا گیا اٹھا کے لے کے گئے تھانوں میں لے کے گئے دو دن پہلے پچیس میں سے کہ صرف اس لیے کہ ہم ہمارا جو آئینی حق ہے کہ ہم ایک پرامن احتجاج نہ کریں اور کیوں نہیں مجھے افسوس یہ ہے کہ کیوں ہمارے فنڈامینٹل رائٹس کی حفاظت نہیں کی گئی ہم کس کی طرف دیکھیں ہم اپنی عدلیہ کی طرف ہی دیکھیں گے نا کہ جو لوگوں سے ظلم ہوا اس دن جو وہ ایک دو لڑکے شہید ہوئے اس دن کیا کیا جرم تھا ہمارا آج تک چھبیس سال کی پولیٹکس میں کب ہم نے انتشار پھیلایا ہے
32:21
Speaker A
میں جب چھبیس میں کو میں نے جب وہ کال آف کیا مجھے پتہ تھا انتشار ہونا ہے پھر ہم جب ہمارے لاکھوں لوگ جب پنڈی تھے چھبیس نومبر کو ہم اسلام آباد آرام سے ہم سارے اسلام آباد کوئی کوئی پولیس روک نہیں سکتی تھی اتنی بڑی تعداد میں لوگ تھے انتشار روکنے کے لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنا آئینی حق استعمال کریں گے اور ہم اپنی اسمبلیز ڈیزالو کر کے الیکشنز کروائیں گے الیکشنز ایک جمہوری عمل ہے اور اس سے ہمیں روکا گیا ہر قسم کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ کسی طرح ہم الیکشن نہ کروا لیں اپنی جو دو اسمبلی ہیں پختونخواہ اور پنجاب میں کیوں ڈر رہے ہیں
33:24
Speaker A
میں یہ اب سوال پوچھتا ہوں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم جمہوری ہیں یہ کیوں ڈرتے ہیں الیکشن سے وہ اس لیے ڈرتے ہیں کہ یہ پبلک سے ڈرتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ جب بھی یہ پبلک کے اندر جائیں گے انہوں نے ہار جانا ہے اسلام آباد کا الیکشن دو دن پہلے انہوں نے ہر حربہ استعمال کیا کہ اسلام آباد کا الیکشن نہ ہو
33:53
Speaker A
کیوں ڈرے ہوئے تھے اسلام آباد کے الیکشن سے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ انہوں نے ہار جانا ہے ان کا کون ہے اسپیشلسٹ جو پنجاب میں پہلے بھی آیا تھا سندھ ہاؤس میں جو منڈی لگی ہوئی تھی جدھر وہ پیسے چلا رہا تھا آصف زرداری
34:17
Speaker A
آصف زرداری پبلک میں نکل نہیں سکتا اس کے اپنے پیپلز پارٹی کے لوگ اس کی تصویر نہیں لگاتے کیونکہ ان کو ووٹ نہیں ملے گی اور اس کا کام کیا ہے چوری اور حرام کے پیسے سے وہ لوگوں کے ضمیر خریدتا ہے اور میں اس لیے اپنی ساری آج ایم پیز کو پھر دات دینا چاہتا ہوں کہ وہ چکر مارنے آیا تھا یہاں پھر کہ جناب وہ کسی طرح پھر خرید و فروخت کرے گا اور مجھے بڑا فخر ہے مجھے اپنے ممبرز پنجاب کے پنجاب کے پارلیمنٹیرینز پہ بہت فخر ہے کہ جس طرح آصف زرداری آیا اور فیل ہوا
35:22
Speaker A
جس طرح آپ نے اس کو مسترد کیا کہ آپ کی آپ کے جو ہمارے لوگوں نے نکلنا تھا ویسے یہ ایک تو مجھے اس کا شکر شکر شکریہ ادا کرنا چاہیے آصف زرداری کا کہ اس نے ہماری پارٹی کا صفایا تو کر دیا نا جو گندے انڈے تھے جنہوں نے بکنا تھا شکر ہے ان کو فارغ کیا تو اب ہماری پارٹی ماشاءاللہ آج وہ پارٹی بن گئی ہے
35:59
Speaker A
جو مجھے تو آپ کے اوپر سب کے اوپر بڑا فخر ہے میں صرف یہ جو اپنے انصاف کے اداروں سے میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں کون ہمارے رائٹس کو پروٹیکٹ کرے گا اگر آپ نہیں کریں گے شہباز گل سے کیا ہوا ابھی تک شہباز گل پوری طرح ریکور نہیں کیا جس جو اس کے اوپر تشدد کیا گیا
37:20
Speaker A
ابھی تک اثرات ہیں اس کے آج بھی وہ ہاسپٹل میں پڑا ہوا ہے اعظم سواتی سے جو ہوا
37:37
Speaker A
میں سب سے پہلے تو اعظم سواتی آپ کو سلام کرتا ہوں اپنی قوم کی طرف سے اس عمر میں جو اس سے کیا گیا اس کی ڈیگنٹی میں پھر سے کہتا ہوں آئین آئین کی جو شک چودہ ہے رائٹ ٹو ڈیگنٹی اس سے جو کیا گیا
38:21
Speaker A
میرے خیال میں گوانٹانامو کے اندر بھی جو جنگی قیدی تھے جو امریکہ نے رکھے ہوئے تھے ان سے بھی یہ نہ ہو آپ کو پتہ ہے کہ امریکہ اپنے ملک میں اس طرح کی چیز نہیں کر سکتا تھا اس لیے انہوں نے گوانٹانامو میں وہ جو وہ جو انہوں نے جیل بنائے تاکہ وہاں تشدد کر سکے وہ بھی اس سے زیادہ تشدد ہمارے لوگوں پہ پاکستان میں ہوا ہے
38:44
Speaker A
وہاں بھی اس طرح کا تشدد نہیں ہوا اعظم سواتی کے جمیل فاروقی ارشد شریف ارشد شریف سے سوچیں کیا ہوا ہے پتہ ہے کہ کون سی ایجنسیز نے اس کو دھمکیاں دی جس کی وجہ سے ملک چھوڑ کے گیا اور ابھی تک کسی کو اعتماد نہیں ہے پاکستان میں کہ انصاف ملے گا
39:18
Speaker A
یہ جو فران جس کے اوپر مونس الائی نے ٹویٹ کیا ان کا قریبی ایک قریبی دوست کو پریشرائز کرنے کے لیے قاف لیگ کو جو فران سے کیا گیا تین دن اس کو اٹھا لیا تین دن اس کو اٹھایا زخمی حالت میں وہ عدالت پہ گیا اور عدالت میں وہ بول ہی کچھ نہیں سکا
40:12
Speaker A
وہ اتنا خوفزدہ تھا کہ اس کو ڈر تھا کہ اس کو تحفظ نہیں دیں گی عدالتیں کیونکہ جن لوگوں نے اس کے اوپر تشدد کیا وہ زیادہ طاقتور ہے اس خوف سے اس خوف سے وہ بولا ہی کچھ نہیں عدالت میں جا کے
40:48
Speaker A
کس کا دیکھیں میں اب یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان بنانا ریپبلک بن چکا ہے کیا اس ملک میں حقوق ہیں فنڈامینٹل رائٹس ہیں یا نہیں ہیں اگر وہ ایک جو تین دن اسے تشدد کیا اور جو مجھے چوہدری پرویز الائی نے بتایا ہے کہ اس سے ہوا کیا ہے کس طرح کا تشدد اس پہ کیا گیا
41:42
Speaker A
اگر آپ اس آپ سب کو میں بتا دوں تو آپ کو خوف آئے گا کہ یہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے اور پھر چلیں چھوڑیں میں عمران خان ہوں ملک کا ایکس پرائم منسٹر ہوں ملک کا ایکس پرائم منسٹر وہ پہلے بتاتا ہے
42:35
Speaker A
میں چھبیس ستمبر اور سات اکتوبر کو میں بڑے جلسوں میں ایک جلسہ تھا رحیم یار خان یہاں بیٹھے ہوئے ہوں گے رحیم یار خان کے ایم پیز ان کو یاد ہو گا میں نے وہاں کہا اور پھر میاں والی میں میں نے سات اکتوبر کو جلسہ کیا دونوں جگہ میں نے بتایا کہ میرے اوپر پورا پلان بن رہا ہے قتل کرنے کا کیسے دینی انتہا پسند کے نام پہ واردات ہو گی پلان کدھر بنا کس نے وہ ویڈیو ٹیپ بنائی وہ کون کس ایجنسی میں بنی وہ پھر کیسے چلی آگے پھر کیسے پورا پلان کیا گیا میں نے جلسوں میں یہ بتایا کہ یہ پلان بن رہا ہے مجھے قتل کرنے کا
44:00
Speaker A
اور اسی سکرپٹ کے مطابق سب کچھ ہوا وزیر آباد میں اب تماشا یہ ذرا دیکھیں پہلے تو میں جو میرا حق ہے میرا رائٹ ہے کہ میں اپنی ایف آئی آر کٹوا سکوں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ جس کے اوپر واردات ہوتی ہے اس کا رائٹ ہوتا ہے وہ لکھے ہاں تفتیش ہو ثابت ہو جائے کہ جناب وہ انہوں نے نہیں کیا یا کیا ہے
45:02
Speaker A
لیکن میرا رائٹ ہے میرا حق ہے ہر پاکستانی شہری کا حق ہے کہ وہ فرسٹ انفارمیشن اپنی رپورٹ لکھوائے مجھے تو سارا پتہ تھا کہ کس طرح پلان بنا ہے میں تو جانتا تھا وہ تین لوگ کون تھے مجھے تو پوری رپورٹ آ رہی تھی کہ انہوں نے کرنا ہے یہ سوچیں یہ میں آپ کو پھر بتاؤں کہ یہ میں اس کو کیونکہ میں لوگوں کو غلط فہمی نہ ہو کہ میں اس کو پولیٹکس سمجھتا ہوں
45:52
Speaker A
میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں یہ میری حقیقی آزادی کی جہاد ہے ملک کے لیے یہ پولیٹکس نہیں میں کر رہا میں اپنے پارلیمنٹیرینز میں آپ سب کو پلیز ایک بات بتانا چاہتا ہوں اللہ مجھے سب کچھ بہت پہلے دے بیٹھا تھا کوئی آدمی جس کو پتہ ہو مجھے پتہ تھا کہ واردات ہونی ہے مجھے پتہ تھا کہ یہ مارچ کے اوپر انہوں نے مجھے میرے اوپر واردات کرنی ہے
47:10
Speaker A
اور مجھے اتنا بھی یاد ہے کہ جب گوجرانوالہ میں ہم تھے تو ایک پولیس کا پورا پورا میرے ارد گرد ایک سرکل تھا جب وزیر آباد تھے تو میں ارد گرد دیکھا مجھے تو وہاں کوئی میں حیران تھا کہ پولیس نہیں ارد گرد تھی تو مجھے پتہ تھا کہ یہ سارا ہو رہا ہے میں جب گھر سے نکلتا تھا تو مجھے یہ علم تھا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ آج میرے اوپر واردات ہو اور مجھے بھی پتہ تھا میری بیوی کو بھی پتہ تھا لیکن میں اس لیے کر رہا تھا اس لیے میں نکلا ہوا تھا اس کے لیے اور انشاءاللہ یہ جب میری ٹانگ اور ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ تین مہینے لگتے ہیں ہیل ہونے میں تو دو تین ہفتے رہ گئے ہیں
48:51
Speaker A
جیسے ہی میری ٹانگ ٹھیک ہو گی میں پھر سڑکوں پہ ہوں گا میں پھر پبلک کے اندر ہوں گا کیونکہ میں پھر سے آپ کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستانیوں اور میرے پارلیمنٹیرینز یاد رکھو یہ کہ دیکھیں اللہ قربانی کے بغیر آزادی نہیں دیتا ہم جب تک کہ قوم یہ قربانی کا مادہ نہیں پیدا کرے گی ہم آزاد نہیں ہوں گے یہ جس طرح کے چور ہمارے اوپر مسلط ہوئے ہوئے ہیں جس طرح کے یہ جرائم پیشہ لوگ یہ بدمعاش جس طرح یہ رانا ثناء اللہ ہے جس قوم کے اوپر بھی اس طرح کے لوگ مسلط ہو جائیں وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے
50:16
Speaker A
اللہ نے اس لیے ہمارے اوپر فرض کیا ہوا ہے ہمارے اوپر جہاد فرض ہے اور جہاد ہے کیا ناانصافی اور ظلم کے سامنے کھڑے ہو ہمیں اللہ حکم دیتا ہے کہ جب آپ ظلم اور ناانصافی دیکھتے ہیں اس کے سامنے کھڑے ہو مقابلہ کرو سر نہ جھکاؤ اس کے سامنے
50:48
Speaker A
ظلم کے بت خوف کے بت کی پوجا نہ کرو یہ اللہ کا حکم ہے تو یہ جو اوپر ہمارے چور اور ہر قسم کا مجرم جرائم پیشہ لوگوں کو ہمارے اوپر جو مسلط کیا ہے یہ ہم سب کا حق ہے فرض ہے ہم انتظام میں کھڑے ہوں نہیں تو آگے تباہی ہے دو راستے ہیں ہم اپنے آپ کو اللہ اس لیے ہمیں کہتا ہے کہ ان کے سامنے کھڑے ہو تاکہ ہم آزاد ہو جائیں اور آزاد قوموں کا ہی پرواز اوپر ہوتی ہے
52:12
Speaker A
لیکن اگر ہم اس ظلم یہ جو انہوں نے ڈرایا دھمکایا یہ آپ دہشت پیدا کی ہے نا فران سے جو کیا ہے جو اعظم سواتی سے کیا شہباز گل سے کیا جو جو صحافیوں سے کیا یہ کیا کر رہے تھے دہشت پھیلا کے ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح ڈرا دھمکا رہے تھے کہ ہم قبول کر لیں ان چوروں کو جس وقت ہم نے ان چوروں کو قبول کیا آپ یہ سمجھ لیں کہ ہم نے اپنے ملک کا ڈیتھ وارنٹ سائن کر لیا کوئی مستقبل نہیں ہے آج جو پاکستان کے معاشی حالات ہیں آج سمجھ جائیں کہ پاکستان کے لوگ امید چھوڑ بیٹھے ہیں پاکستان سے اب امید صرف آپ سے رکھی ہوئی ہے لوگوں نے کہ وہ دو لوگ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا تحریک انصاف کھڑی ہو جائے گی کیا ان چوروں کا مقابلہ کرے گی یا یہ بھی بیٹھ جائے گی گھٹنے ٹیک لے گی یہ لوگ بس صرف یہ دیکھ رہے ہیں امید آپ پہ ہے
53:42
Speaker A
ساڑھے سات لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کے چلے گئے ہیں پچھلے چند مہینوں میں اور وہ پاکستانی ملک چھوڑ کے گئے ہیں میرے ایم پیز سن لو وہ پاکستانی ملک چھوڑ کے گئے ہیں جو پروفیشنلز ہیں برین ڈرین ہو رہی ہے جن کے اوپر ہم نے پیسے خرچ کیے ہوئے ہیں جن کی معاشرے میں ضرورت ہے جن لوگوں کی وہ ملک چھوڑ کے چلے گئے ہیں کیونکہ لوگوں کی امید چلی گئی ہے
54:16
Speaker A
ان ان کی شکلیں دیکھیں ان کی ذرا کرتوتیں دیکھیں ان کا ریکارڈ دیکھیں تو کس کو امید رہے گی پاکستان پہ اس لیے ہم سب نے کھڑے ہونا ہے اس لیے آپ سب نے جہاد سمجھ کے اس کو پولیٹکس نہ سمجھیں پلیز میں آپ کا خیال ہے کہ کیا مجھے کوئی پولیٹکس میں دے سکتا ہے کہ میں اپنی جان کو رسک کروں
55:00
Speaker A
کوئی اپنی جان کی بازی لگاتا ہے کہ کسی پولیٹکس یا وزارتوں کے لیے یا وزارت عظمی کے لیے کتنے ہیں میں اس ملک کی آزادی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں اور میں چاہتا ہوں آپ بھی اس کو ایسے دیکھیں یہ جو آپ کو ڈرائیں گے دھمکائیں گے پیسے دیں گے یہ آپ کا امتحان ہے
55:50
Speaker A
اور میں جس طرح ابھی تک آپ کھڑے رہے ہیں مجھے یہ امید ہے کہ انشاءاللہ آنے والے یہ جو اب آنے والے ایک دو دن ہیں جنوں میں انشاءاللہ ہم فیصلہ ہو گا اس میں آپ سب کامیاب ہوں گے اور ہم سب کامیاب ہوں گے ہم سب انشاءاللہ اس کا مقابلہ کریں گے میں صرف بلال وڑائچ کو جو انڈیپینڈنٹ ایم پی ہے جنہوں نے ہمیں جوائن کیا ہے میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں پارٹی کے اندر
56:56
Speaker A
اور مجھے پتہ ہے ہمارے تھوڑے سے لوگ ابھی پہنچ رہے ہیں تو میں سب کی میں جس طرح کرکٹ کا سکور دیکھ رہا ہوں اسی طرح میں آپ کے بھی پورا سکور فالو کر رہا ہوں کہ ابھی تک نمبر کدھر تک پہنچا ہے اور مجھے نظر آ رہا ہے کہ انشاءاللہ وہ جو ہمارا وکٹری ٹارگٹ ہے وہ زیادہ دور نہیں ہے
57:36
Speaker A
تو میں آخر میں میں آپ کو آج اپنے پارلیمنٹیرینز کو اور میں اپنی قوم کو میں آپ سب کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کیونکہ ابھی تک میں باہر نہیں نکل سکتا مجھے یعنی عوام میں نہیں نکل سکتا اس لیے کہ میری جو ٹانگ ہے ابھی تک تین مہینے لگتی ہے اس کو ٹھیک ہونے میں تو تھوڑا سا بھی وقت ہے اس کو اور میں یقین رکھیں کہ جس وقت میں نکلوں گا یہ جو کہہ رہا ہے نا ریڈ لائن ڈرا کی ہوئی ہے یہ میں آپ کو ریڈ لائن مٹا کے دکھاؤں گا کوئی ریڈ لائن نہیں ڈرا کر سکتا کسی کے اوپر پھر سے نہ اس کو تاریخ کی سمجھ ہے نہ اس کو جو یہ ریڈ لائن ڈرا کر رہا ہے نا نہ اس کو تاریخ کی سمجھ ہے نہ سیاست کی سمجھ ہے اور نہ ہی اس کو سمجھ ہے پاکستانی قوم کے مزاج کی یہ جو قوم فیصلہ جب کر لیتی ہے آپ جتنی مرضی انجینئرنگ کر لیں نتیجہ وہی ہونا ہے جو ابھی یہ پچھلی الیکشنز میں بائی الیکشنز میں ہوا ہے اور انشاءاللہ انشاءاللہ ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اسمبلیز اپنی دو اسمبلیز قربان کر رہے ہیں دو اسمبلیز قربان کر کے ڈیزالو کر کے اور ہماری اس کے بعد کوشش ہے کہ پاکستان میں کم از کم ہمارے دو صوبوں میں الیکشن ہو اور میں انشاءاللہ میں کیمپین کروں گا ان دو اپنے دو صوبوں کے اندر اور جو میں اپنی قوم کا مزاج جانتا ہوں انشاءاللہ ایک بھاری اکثریت سے ہم ہمیں ہماری قوم پھر سے اقتدار میں لے کے آئے گی اور وہ اقتدار ہو گا اصل جب ہم بڑے بڑے فیصلے کر سکیں گے پوری طاقت سے بہت بہت شکریہ آپ سب کا اور میں فالو کر رہا ہوں کہ جو ہمارے ابھی لوگ نہیں آ رہے میں ان سب کو فالو کر رہا ہوں اور انشاءاللہ ہماری اب یہ جو ووٹ آنے والی ہے اس میں انشاءاللہ ہم کامیاب ہوں گے بہت بہت شکریہ پاکستان زندہ باد
Topics:عمران خانپی ٹی آئیپنجاب پارلیمانی پارٹیپاکستان کی معیشتسیاسی دباؤکرپشنریڈ لائنانتخابات 2024خارجہ پالیسیعوامی حمایت

Frequently Asked Questions

عمران خان نے اپنے خطاب میں پارٹی ممبرز کو کیا پیغام دیا؟

عمران خان نے پارٹی ممبرز کو سیاسی دباؤ اور رشوت کی پیشکشوں کے باوجود ثابت قدم رہنے اور متحد ہو کر ملکی مفادات کے لیے کام کرنے کی ہدایت دی۔

عمران خان کے مطابق پاکستان کی عوام کا سیاسی کردار کیا ہے؟

عمران خان کے مطابق پاکستان کی عوام ہی سیاسی ریڈ لائن کا واحد وارث ہے اور وہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس پر ریڈ لائن لگانی ہے۔

عمران خان نے ماضی کی حکومتوں کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے ماضی کی حکومتوں کی کرپشن، معیشت کی خراب صورتحال، اور ملک کی ترقی میں ناکامیوں پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →