🔴LIVE | Chairman PTI Imran Khan’s Important Address to … — Transcript

عمران خان نے پاکستان میں سیاسی ظلم و جبر، عدلیہ کی قربانیوں اور جمہوریت کی اہمیت پر اہم خطاب کیا۔

Key Takeaways

  • پاکستان میں سیاسی ظلم و جبر بڑھ رہا ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔
  • عدلیہ کے بہادر ججز انصاف کے لیے کھڑے ہیں باوجود دھمکیوں کے۔
  • خواتین اور گھروں کی بے حرمتی ایک سنگین مسئلہ ہے جو معاشرتی اثرات رکھتا ہے۔
  • نو مئی کے واقعے سے پہلے سے سیاسی منصوبہ بندی اور ظلم جاری تھا۔
  • صاف شفاف انتخابات اور انصاف کے بغیر ملک میں جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی۔

Summary

  • عمران خان نے پاکستان میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور ان کے رشتہ داروں پر ظلم و تشدد کی مذمت کی۔
  • انہوں نے رات کے چھاپوں، غائب کرنے اور کاروبار بند کرنے جیسے حالات کو نازی جرمنی سے تشبیہ دی۔
  • عمران خان نے ججز کی قربانیوں اور ان کی بہادری کو سراہا جو دھمکیوں کے باوجود انصاف فراہم کر رہے ہیں۔
  • انہوں نے چادر و چار دیواری کی بے حرمتی اور خواتین کے خلاف ظلم پر گہرا افسوس ظاہر کیا۔
  • عمران خان نے نو مئی کے واقعے سے پہلے سے سیاسی منصوبہ بندی اور ظلم کے ثبوت دیے۔
  • انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے انڈیپنڈنٹ انویسٹی گیشن کا مطالبہ کیا۔
  • انہوں نے ملک میں جمہوریت، انصاف اور شفاف انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔
  • عمران خان نے ملک میں پروفیشنلز کی ہجرت اور معیشت کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
  • انہوں نے مذاکرات کی کوششوں کا ذکر کیا اور سیاسی بحران کے حل کے لیے بات چیت کی دعوت دی۔
  • عمران خان نے موجودہ انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا اور جمہوریت کی بحالی پر زور دیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین
00:07
Speaker A
میرے پاکستانیوں آج کل ایک انگریزی میں رین آف ٹیرر کہتے ہیں، خوف پھیلایا جا رہا ہے۔
00:18
Speaker A
ایک خوف کی فضا بنائی گئی ہے کہ جو بھی کوئی تحریک انصاف سے کچھ بھی اس کا کنکشن ہو، رشتہ دار ہو، پولیٹکس سے کوئی کنکشن نہ ہو، رشتہ دار بھی کسی تحریک انصاف والے کا ہو، کوئی بزنس پارٹنر ہو، یعنی کوئی بھی کسی کی کنکشن تحریک انصاف کے ساتھ ہو اس کے اوپر تشدد، ان کے اوپر ظلم، ان کی بزنسز بند، ان کے گھروں کے اوپر چھاپہ۔
00:46
Speaker A
یعنی ایسی میں نے تو اپنی زندگی میں اس طرح کے کبھی حالات نہیں دیکھے۔
01:02
Speaker A
ہم صرف پڑھتے ہوتے تھے، فلموں میں دیکھتے تھے کہ جو ہٹلر کا جرمنی تھا جس کو نازی جرمنی کہتے ہیں، ادھر ہم اس طرح کی چیزیں سنتے تھے کہ رات کے چھاپے پڑ رہے ہیں، رات کو گھس گئے ہیں، ہتھیار پکڑے ہوئے لوگ نہتے شہریوں کے پاس اور ان کا گھر توڑ دیا، ان کو پکڑ کے لے گئے، جس کو پکڑنے آئے اگر وہ نہیں ہے تو جس جو مرضی ملا اس کو پکڑ کے لے گئے، یہ ہم تب سنتے تھے۔
01:57
Speaker A
کہ ایک دم غائب ہو جاتے تھے لوگ، پتہ ہی نہیں چلتا تھا کدھر گئے ہیں، جس طرح اب اعظم خان کا پتہ چلا اس کی فیملی کا کہ اعظم خان جو میرے پرنسپل سیکرٹری تھے، وہ رات صفت غائب ہوئے ہوئے ہیں پتہ ہی نہیں کدھر گئے ہیں، تو ان کو اٹھا کے لے گئے ہیں۔
02:27
Speaker A
اس جس طرح عمران ریاض سے ہوا ہے۔
02:36
Speaker A
اس کی گھر والے بیٹھے ہیں، اس کی بیوی ہے، اس کے بچے ہیں، پتہ ہی نہیں عدالت کہہ رہا ہے پروڈیوس کرو پتہ ہی نہیں کدھر لے گئے ہیں جی ہمیں پتہ ہی نہیں کدھر چلا گیا۔
02:52
Speaker A
اور یہ کتنی اور کہانیاں ہیں، گھروں میں آتے ہیں، کہیں سے اٹھا لیتے ہیں، لے جاتے ہیں، غائب کر دیتے ہیں، اور ہماری عدالتیں اور میں آج سلام کرتا ہوں ان ججز کو۔
03:20
Speaker A
جو اس ساری مشکلات اور دھمکیوں کے باوجود، ججز کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، ان کو بھی بتایا جاتا ہے کہ آپ کی ٹیپیں ہیں، آپ کا یہ ہے، آپ کے ہمارے پاس فائلیں بنی ہوئی ہیں، ان کو بھی بلیک میل کیا جاتا ہے، تو اس کے باوجود کئی ایسے ججز کھڑے ہیں کہ اس کے باوجود وہ وہ پورا انصاف دینے کی اور اپنے شہریوں کو پروٹیکشن دینے کی ان کی ان کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
03:57
Speaker A
اور میں نے تو خود دیکھا ہے ججز کو کہ کئی ججز کس طرح کھڑے ہوئے ہیں ان مشکل بربریت کے دور کے اندر بھی وہ کھڑے ہوئے ہیں۔
04:10
Speaker A
لیکن جو مجھے افسوس ہے وہ یہ کہ کبھی بھی ہمارے ملک میں چادر اور چار دیواری کی اس طرح بے حرمتی نہیں ہوئی جو آج ہو رہی ہے۔
04:50
Speaker A
اور مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ پلان کیا ہوا ہے کہ آدمی سوچتا ہے کہ ٹھیک ہے جو مرضی کرنا ہے کریں مجھے کریں لیکن جب گھر کی عورتوں پہ پہنچتے ہیں تو یہ بڑا مشکل ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں کہ کوئی بھی آدمی پھر اس سے متاثر نہ ہو۔
05:09
Speaker A
اور میں آج ان کی بات نہیں کروں گا جو چلے گئے ہیں، میں ان کی بات کروں گا جو اس مشکل بربریت کے دور میں اور اس ظلم کے دور میں آج بھی کھڑے ہوئے ہیں۔
05:45
Speaker A
میں ان کو خاص طور پہ آج سلام کرنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے خبریں آتی ہیں کہ لوگ اس سے لوگ کس کس مشکل سے گزر رہے ہیں۔
06:02
Speaker A
گھروں سے باہر رہ رہے ہیں، ان کی بزنسز بند کر دی ہیں، ان کے کاروباروں کے اوپر انہوں نے بند ہی نہیں کیا ان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے کاروبار کاروبار کو۔
06:22
Speaker A
ان کے جو جو ان کا روزی کمانے کے طریقے ہیں ان کے اوپر اٹیک کیا انہوں نے، ان کو پوری کوشش کی ہے انہوں نے کہ کسی طرح اس وہ بس وہ جادو کے لفظ کہہ دے کہ میں تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں۔
06:43
Speaker A
تو ہر قسم کا پریشر ڈالا ہوا ہے، تو میں ان کو آج سلام کرنا چاہتا ہوں جن کو جن کے گھر توڑے ہیں انہوں نے اور اس کے باوجود وہ بھی آج کھڑے ہیں۔
07:11
Speaker A
اور جن کے جنہوں نے اپنے بیوی بچے چھپا دیے ہیں کہیں کیونکہ یہ عورتوں پہ پہنچ جاتے ہیں اور میں یہ جب مجھے یعنی میں کبھی نہیں سوچتا تھا کہ میرے ملک میں یہ وہ دور آئے گا۔
07:36
Speaker A
کہ عورتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے صرف ایک چیز کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کا ساتھ چھوڑو، یعنی ایسی کبھی میں نے نہیں سوچا تھا کہ کسی ملک میں بھی ایسے ہو گا۔
08:11
Speaker A
کہ صرف اس کو ایک آدمی کو شکست دینے کے لیے یا ایک آدمی کو۔
08:20
Speaker A
بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، عامر مغل ہمارے اسلام آباد کے وہ ایک کارکن تھے۔
08:35
Speaker A
اب میں یہ آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ یہ کہا ہے نا کہ جی نو مئی کو جو ہوا تو اس کی وجہ سے سزا مل رہی ہے۔
08:50
Speaker A
نہیں یہ نو مئی سے پہلے سزا مل رہی تھی۔
09:00
Speaker A
نو مئی کو تو ایک بہانہ مارا گیا اور میں پھر سے آج کہتا ہوں کہ جس وقت انڈیپنڈنٹ انویسٹیگیشن ہوئی اور اس کے اوپر انڈیپنڈنٹ انویسٹیگیشن ہونی چاہیے۔
09:30
Speaker A
کیونکہ کسی کو حق نہیں پہنچتا جج، جوری اور ایگزیکیوشن بننے کا، آپ کا ایک موقف ہے ہمارا ایک موقف ہے۔
10:00
Speaker A
ہمارا موقف ہے کہ یہ پورا سیٹ اپ تھا، یہ پوری تیاری تھی پہلے سے، سب کچھ پری پلان ہوا ہوا تھا، جان کے مجھے اس طرح پکڑا گیا کہ ایک ری ایکشن آئے، اس ری ایکشن کے اوپر پہلے سے پلان بنا ہوا تھا۔
10:29
Speaker A
اگر پلان نہ بنا ہوتا تو ایک دم دس ہزار لوگوں کو کون پکڑ سکتا ہے دو دنوں کے اندر، جبکہ پہلے سے لسٹیں نہیں بنی ہوئی تھیں، پہلے سے تیاری نہیں تھی، پہلے سے پولیس کو حکم نہیں دیا ہوا تھا کہ تم نے ادھر ادھر جانا ہے۔
10:57
Speaker A
یہ تو پہلے پلان ہوا ہوا تھا سب کچھ اور ہم کہہ کہہ کے تھک گئے ہیں۔
11:10
Speaker A
کہ کیوں نہیں اس کے اوپر انویسٹیگیشن ہوتی، سب سے پہلے تو پولیس چیف کو پکڑیں۔
11:30
Speaker A
کیا تھا یا آئی جی جو پنجاب تھا یہ دندناتا پھر رہا ہے، اس کو کیوں نہیں پوچھتے کہ کیا ہوا تھا، جب اتنی دیر دو گھنٹوں کے اندر ایک قافلہ آ رہا تھا وہاں سے لبرٹی چوک سے، اس کو بھی نہیں پوچھا۔
12:00
Speaker A
اور وہ جو سی سی ٹی وی کیمرہ جو ہنڈرڈ پرسنٹ لگے ہوئے ہوں گے وہاں کور کمانڈر کے گھر میں وہ کدھر گئے ہیں، ان کے اوپر کیوں نہیں کوئی ایویڈنس آئی، کیوں نہیں وہ جو عسکری بلڈنگ جلائی گئی ہے وہاں آئی وٹنس ہے، اس نے کہا جو لوگ تھے وہ تحریک انصاف کے تھے ہی نہیں جو جلا رہے تھے۔
12:30
Speaker A
اس کے اوپر کیوں نہیں کوئی انکوائری ہوئی، ہمارے اپنے لوگ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایسے لوگ ہم نے دیکھے جو ہم پوچھتے تھے کہ کس پارٹی میں ہماری پارٹی کے نہیں تھے، وہ لگے ہوئے تھے آگے لوگ لوگوں کو کرنے کے لیے جہاز چوک میاں والی کے اندر وہ کوئی ماچس سے تو نہیں جل سکتا تھا وہ جو سیبر وہاں لگا ہوا تھا۔
13:00
Speaker A
میاں والی کے لوگوں کو تو بڑا فخر تھا، کون وہ ہمارے آئی وٹنسز ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ یہ تین چار وہاں لوگ آئے تھے اور وہ بھڑکا رہے تھے اور وہ انہوں نے انہوں نے لیڈ کر رہے تھے لوگوں کو اور وہ پوچھ رہے تھے تم کون ہو۔
13:20
Speaker A
تو بہرحال ایک تو انویسٹیگیشن انڈیپنڈنٹ ہونی چاہیے لیکن میں عامر مغل کی بات کر رہا ہوں۔
13:30
Speaker A
یہ تو ہوا ہے نو مئی کو۔
13:40
Speaker A
آٹھ مارچ کو اس کے گھر جاتے ہیں عامر مغل گھر نہیں ہوتا، اس کے پانچ بچے ہوتے ہیں، ایک بڑا ہوتا ہے باقی سارے سولہ سال سے چھوٹے دس سال تک پانچوں کو اٹھا کے لے جاتے ہیں۔
14:10
Speaker A
پانچ بچوں کو اٹھا کے لے جاتے ہیں اس کی بیوی سے بدتمیزی کرتے ہیں اور پھر عدالت میں وہ جاتا ہے اور عدالت میں وہ بچے پر چھڑواتا ہے دو دن کے بعد۔
14:30
Speaker A
تو یہ تو ابھی نو مئی نہیں ہوا تھا۔
14:40
Speaker A
تو یہ کیوں ان کو اٹھا لیا اور جو ایف آئی میرے پر ایک سو چالیس ایف آئی آر کٹ چکی تھی نو مئی سے پہلے۔
15:00
Speaker A
تو وہ کس وجہ سے کٹی تھی، تو یہ جو بنایا جا رہا ہے نا کہ جی نو مئی کے بعد ہی ہوا ہے یہ نو مئی سے پہلے سے پلان تھا۔
15:10
Speaker A
یہ پلان بہت پہلے کا بن چکا تھا کہ عمران خان کے اوپر کاٹا ڈالنا ہے تحریک انصاف نے اب واپس نہیں آنا اگر واپس آئے گی تو مائنس عمران خان آئے گی۔
15:30
Speaker A
یہ پلان پہلے کا بنا ہوا تھا، مذاکرات میں نے شروع سے ہی کہا تھا ہم تیار بیٹھے ہیں، جنرل باجوہ سے میں نے دو دفعہ مذاکرات کیے، ٹیم بنائی ہوئی تھی جو ان سے مذاکرات کرتی تھی۔
15:50
Speaker A
صرف یہ کہنے کے لیے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اب ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اگر آپ اس کو اس کے اوپر کاٹا ڈالتے ہیں تو پھر جمہوریت پہ کاٹا ڈال دیتے ہیں۔
16:20
Speaker A
یہ تو کہیں ہوتا ہی نہیں ہے تو اس لیے مذاکرات کرتے تھے کہ ہمیں بتائیں کہ آپ کا کیا روڈ میپ ہے، جب یہ جنرل باجوہ گیا اس کے بعد پھر مذاکرات کی پوری کوشش کی، ہمیشہ پیغام پہنچائے۔
16:50
Speaker A
کوئی جواب نہیں آیا کیونکہ وہاں وہی پالیسی چل رہی تھی، وہی کاٹا ڈالا ہوا تھا، جب کاٹا ڈالا ہوا ہے تو بات کیوں کریں گے کوئی۔
17:10
Speaker A
بات میں آج بھی کرنے کے لیے تیار ہوں اور اس لیے کہ یہ عمران خان کی اب بات نہیں ہے، یہ پاکستان کی بات ہے۔
17:30
Speaker A
ہمارا ملک جس طرف جا رہا ہے اس ملک میں کوئی امید نہیں رہ جائے گی لوگوں کی، دس لاکھ پاکستانی پروفیشنلز ملک چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔
18:00
Speaker A
پاکستان کے ڈالرز ملک سے باہر انویسٹ ہو رہے ہیں، لوگوں نے لوگوں کو پاکستان کے اوپر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے، امید جا رہی ہے۔
18:20
Speaker A
اور اگر اسی طرح چلتا رہے تو آگے کوئی بھی ہوپ نہیں ہے، تو کوئی تو پلان ہو گا نا چلیں مان لیں عمران خان نہیں ہے۔
18:40
Speaker A
پی ٹی آئی ختم کر دی، جس طرح ابھی یہ کراچی کے اندر لوکل گورنمنٹ کا الیکشن کروایا ہے، اب اگر اس کو الیکشن کہتے ہیں تو اس طرح تو وہ اس طرح تو سارے ڈکٹیٹر شپس کے اندر ایسے الیکشنز ہوتے رہے ہیں جن کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کوئی مانتا ہی نہیں ہے ان کو۔
19:10
Speaker A
یہ الیکشن کہ تحریک انصاف اور اور جماعت اسلامی کے ووٹ دیکھیں کتنے آٹھ سے نو لاکھ پیپلس پارٹی کے تین لاکھ ووٹ، اتنا بڑا فرق اور وہ جیت جاتی ہے پیپلس پارٹی۔
19:40
Speaker A
اور جس طرح وہ جیتی ہے پولیس کا استعمال کر کے تو یہ تو کوئی الیکشن نہیں ہے اور اس سے تو کوئی ملک کا فیوچر نہیں ہے کیونکہ الیکشنز الیکشنز تب الیکشنز مانے جاتے ہیں جب جس ملک میں رول آف لا ہوتا ہے۔
20:10
Speaker A
جس ملک میں انصاف ہوتا ہے تاکہ جب انصاف ہوتا ہے وہ پھر صاف اور شفاف الیکشن کرواتا ہے، اس ملک میں عدلیہ ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔
20:40
Speaker A
وہ پھر ملک آزاد ہو جاتا ہے، جمہوریت کا صرف مقصد ہی ایک ہوتا ہے آزادی دینا، جمہوریت کے اندر اگر لوگ آزاد نہیں ہیں وہ جمہوریت نہیں ہے۔
21:10
Speaker A
اور جمہوریت ہی جمہوریت کے اندر آزاد ادارے ہوتے ہیں، آزاد الیکشن کمیشن ہوتی ہے، آزاد عدلیہ ہوتی ہے، وہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔
21:40
Speaker A
جب لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے فنڈامنٹل رائٹس کو پروٹیکٹ کرتے ہیں قوم آزاد ہو جاتی ہے اور آزاد قوم وہی اسی کی پرواز اوپر جاتی ہے۔
22:10
Speaker A
میں آپ کو مثال دیتا ہوں، ایسٹ جرمنی ویسٹ جرمنی، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسٹ جرمنی کے اندر ڈکٹیٹر شپ آ گئی، ویسٹ جرمنی میں جمہوریت آ گئی۔
22:40
Speaker A
جب پچاس سال کے بعد ایسٹ جرمنی آزاد ہوتا ہے اور اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسٹ جرمنی پیچھے رہ جاتا ہے، ویسٹ جرمنی اوپر چلا جاتا ہے ایسٹ جرمنی نیچے آ جاتا ہے۔
23:10
Speaker A
اسپین کی میں مثال دیتا ہوں، وہاں ڈکٹیٹر شپ آ گئی سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد، فرانکو آ گیا، تیس سال ڈکٹیٹر شپ رہی، وہ پیچھے چلا گیا اسپین سارے سارا ویسٹرن یورپ جو ڈیموکریسی تھی آگے چلا گیا۔
23:40
Speaker A
سوویت یونین، سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد دو بڑی طاقتیں تھیں امریکہ اور سوویت یونین، اصل میں سوویت یونین نے نازی جرمنی کو شکست دی تھی، ان کے پاس طاقت تھی۔
24:10
Speaker A
اور وہی سوویت یونین کے اندر وہ ہوا جو آج پاکستان میں ہو رہا ہے اور ادھر سے وہاں وہ آزاد ہو گئے وہ آزاد تھے مغربی سوسائٹیز ویسٹرن یورپ امریکہ وہ آگے نکل گئے ایسٹ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔
24:40
Speaker A
کبھی بھی کبھی کوئی معاشرے میں جدھر آپ آزادی اس کی ختم کر دیتے ہیں اس کی آپ پرواز ختم کر دیتے ہیں، نارتھ کوریا ساؤتھ کوریا ایک ہی لوگ ہیں۔
25:10
Speaker A
ساؤتھ کوریا دیکھیں کدھر پہنچ گئی ہے کیونکہ آزاد ہے جمہوریت ہے، نارتھ کوریا کو دیکھ لیں ڈکٹیٹر شپ میں کیا حالات ہیں اس کے، ابھی بی بی سی پہ فلم آئی ہے وہاں لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور وہی لوگ ہیں۔
25:40
Speaker A
تو ہم ایک طے کر کے سفر یہاں تک پہنچے تھے، ہمارا آہستہ آہستہ ڈکٹیٹر شپ آتی تھی پھر جمہوریت آتی تھی پھر ڈکٹیٹر شپ آتی تھی۔
26:10
Speaker A
لیکن ایک ہمارے ذہن ایوولو ہوتا گیا، ہم ایک آگے بڑھتے گئے، ہمیں ہم آخر میں اس چیز پہ پہنچے کہ بری بھی جمہوریت ایک ملٹری ڈکٹیٹر شپ سے بہتر ہے۔
26:40
Speaker A
ہم اس قوم اس نتیجے پہ پہنچ گئے، جنرل مشرف کا جو مارشل لا تھا وہ لبرل تھا، اس کے اندر میڈیا کو آزاد کیا گیا، الیکٹرانک میڈیا مشرف کے دور میں آزاد ہوا۔
27:10
Speaker A
میں اپوزیشن میں تھا، میں مجھے میری آزادی رائے تھی میں بول سکتا تھا، ہم پارلیمنٹ میں بولتے تھے، میں ٹی وی پہ چینلز پہ جا کے بولتا تھا۔
27:40
Speaker A
کیونکہ وہاں میڈیا نے اور میڈیا کے لوگوں نے پچھلے تیس سال میں بڑی جدوجہد کی اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے، آج وہ سارا زیرو پہنچ گیا ہے۔
28:10
Speaker A
آج اچھے اچھے صحافی باہر بھاگ گئے ہیں، ارشد شریف کو شہید کیا صرف اس کی آواز اس کی باتیں نہیں پسند آ رہی تھیں، عمران ریاض ابھی تک غائب ہے پتہ ہی نہیں کدھر ہے۔
28:40
Speaker A
جس کی سب سے زیادہ یوٹیوب پہ ویوور شپ تھی، باقی اس ملک چھوڑ کے چلے گئے ہیں، معید پیرزادہ ملک چھوڑ گیا ہے وہ ہمارے اوریا مقبول جان سنا ہے وہ ملک چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔
29:10
Speaker A
شاہین صبائی وہ پہلے باہر بیٹھے ہوئے ہیں صابر شاکر وہ ملک چھوڑ کے چلا گیا ان کے اوپر اور باہر کیسز کرنے شروع کر دیے ہیں، یعنی یہاں تو میڈیا کنٹرول کر لیا ہے باہر بھی اب میڈیا کی آواز نہیں دیکھنا چاہتے۔
29:40
Speaker A
یوٹیوب کے اوپر اب ہر قسم کا کریک ڈاؤن ہے، سوشل میڈیا کے لوگوں کے اوپر کریک ڈاؤن ہے، جو کوئی ٹویٹ کرتا ہے اس کے پیچھے وہ وہ وہ ویگو ڈالا رات کو پہنچ جاتا ہے گھروں میں۔
30:10
Speaker A
تو میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ اس سے ملک کو کیا فائدہ ہو رہا ہے، ہاں آپ نے عمران خان کو تو باہر رکھ دیا ہے۔
30:30
Speaker A
مجھے یہ بتائیں ملک کو کیا فائدہ ہو رہا ہے، کیا اس میں کوئی ملک کا مستقبل ہے کہ ہم سارا ریورس گیئر لگا کے وہاں پہنچ گئے ہیں۔
31:00
Speaker A
جدھر ہم نے سب کچھ بند کر دیا ہے اور ہم نے خوف کے ذریعے ڈنڈے کے ذریعے ملک کو اب کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس طرح ہم بھیڑ بکریاں ہیں۔
31:30
Speaker A
کیا اس سے لوگ کنٹرول ہو جائیں گے، کیا ہمارا یہ خیال ہے کہ یہ جو ہم اب جس طرف لے کے جا رہے ہیں کہ پاکستان کے بڑے بڑے نامور ڈاکو اوپر ملک کے بیٹھ گئے ہیں۔
32:00
Speaker A
اور قوم کو کہیں کہ جناب یہ ہم نے فیصلہ کیا ہے یہ بیٹھے ہوئے ہیں اور اب آپ نے ان کی ان کی جس طرح بھی یہ الیکشن جیتیں بس آپ نے ان کو قبول کرنا ہے۔
32:30
Speaker A
یہ یاد رکھیں کہ یہی لوگ تھے یہی لوگ تھے جن کو جنرل مشرف نے جب اپنا مارشل لا لگایا نائنٹی نائن میں تو ساری قوم کو بتایا کہ ان دونوں پارٹیز نے کتنی کرپشن کی ہے۔
33:00
Speaker A
مجھے جنرل امجد نے جو پہلے نیب کے ہیڈ تھے ہمیں باقاعدہ بتایا گیا اس نے ڈیٹیلز دیں کہ ان دو پارٹیز نے کتنی کرپشن کی ان کے پیسے کتنے باہر پڑے ہیں اور ان دونوں پارٹیز نے بتایا دنیا کو کہ یہ کتنی کرپٹ ہیں۔
33:30
Speaker A
سرے محل کا نواز شریف نے بتایا کہ وہ سرے محل میں یہاں سے پیسہ چوری کر کے گیا، حدید پیپر مل کا رحمان ملک پیپلس پارٹی والوں نے ایکسپوز کیا۔
34:00
Speaker A
یعنی ان کو اپنی کرپشن بتائی پبلک کو، پھر جنرل مشرف ان کو این آر او دے دیتے ہیں یہ واپس آتے ہیں دس سال پھر بیٹھتے ہیں، ان کے اوپر ہی دور میں کرپشن کیس بنتے ہیں۔
34:30
Speaker A
ہمیں بتایا جاتا ہے، ہمیں تباہی سے بتاتی ہے کہ ان کی کرپشن کتنی ہے، میں جیتا ہوں ان کے خلاف اور ایک آدمی گھوڑا سوار فیصلہ کرتا ہے۔
35:00
Speaker A
کہ جناب یہ کیا یہ ان کی میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جناب عمران خان ملک کے لیے برا ہے ان کو پھر اوپر لے آتا ہے اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ جی یہ سوشل میڈیا کیوں ہمارے اگینسٹ ہو گیا۔
35:30
Speaker A
بھئی یہ انسان ہیں، آپ نے خود ہی پہلے لوگوں کو تیار کیا ہے کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں، یہ جو تیس سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔
36:00
Speaker A
آپ نے ہمیں بتایا کہ ان کی کتنی پراپرٹیز باہر پڑی ہیں، یہ جو ہیں یہ تو تھوڑی سی ہیں، باقی جو اور ہمیں پراپرٹیز بتائی گئی ہیں انہوں نے کہ اور ان کے کتنے کتنے انہوں نے بے نامی پراپرٹیز لی ہوئی ہیں۔
36:30
Speaker A
ملک سے باہر کہ چوری کر کے ملک سے باہر پیسہ لے کے گئے ہیں، آج یہ محب وطن بن گئے ہیں اور عمران خان غدار بن گیا ہے جس نے اپنی ساری باہر کی کمائی۔
37:00
Speaker A
پیسہ کما کے سب کچھ بیچ کے آج پاکستان میں ہے اپنے نام پہ ہے، وہ غدار ہے اور جنہوں نے چوری کر کے پیسہ ملک سے باہر تیس سال سے بھجوا رہے ہیں۔
37:30
Speaker A
حدید پیپر مل سے شروع کریں ان کے اوپر ڈاکومنٹریز بنی ہوئی ہیں، بی بی سی نے بتایا ہے انہوں نے کتنا پیسہ چوری کیا یعنی ان کی ان کی چوری کے اوپر باہر کے اوپر مضمون لکھے ہوئے ہیں۔
38:00
Speaker A
کتابوں کے اندر ان کی چوری کا مینشن ہے، وہ ٹھیک ہیں اور ہم آج غدار بن گئے ہیں۔
38:30
Speaker A
تو کیا قوم یہ مانے گی یہ چیزیں، کیا قوم سمجھ جائے گی کہ آپ جب فیصلہ کریں گے کون غدار ہے تو قوم بھی ان کو غدار اگر وہ نہیں مانے گی تو قوم کو ڈنڈے سے آپ سیدھا کریں گے۔
39:00
Speaker A
دیکھیں میں آخر میں میں اپنی قوم سے اب مخاطب ہوں دیکھیں جس طرف ہم نکل رہے ہیں۔
39:30
Speaker A
مجھے اپنی قوم کے اوپر مجھے یہ خوف ہوا ہوا ہے کہ ہم ہم اگر قوم بحیثیت قوم کھڑے نہ ہوئے۔
40:00
Speaker A
ظالم حکمران کے خلاف کلمہ حق پڑھنا یہ اللہ کو وہ چیز پسند ہے جو سب سے بڑی کوالٹی کیوں پسند ہے اللہ کو۔
40:30
Speaker A
کیونکہ جب آپ ظلم کے سامنے سر جھکاتے ہیں آپ غلام بن جاتے ہیں، جب آپ ظالم کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
41:00
Speaker A
ظلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتے ہیں اس کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد کیوں اللہ نے جہاد کو اتنا بڑا رتبہ دیا ہے اسلام میں۔
41:30
Speaker A
کیونکہ آزادی کے لیے آپ کرتے ہیں، کیونکہ اللہ کو پتہ ہے کہ آزاد انسان ہی کا پرواز اوپر ہے۔
42:00
Speaker A
میں نے آپ کو مثال دے دی کہ وہی لوگ ایسٹ جرمنی ویسٹ جرمنی آزاد لوگ اوپر چلے گئے دوسرے نیچے چلے گئے۔
42:30
Speaker A
وہی کوریا کے اندر نارتھ کوریا ساؤتھ کوریا نارتھ کوریا ڈکٹیٹر شپ وہ نیچے چلے گئے وہ وہ خوشحال ہو گئے۔
43:00
Speaker A
تو ہمیں تو پتہ ہے دنیا میں کیوں لوگ جمہوریت کی اتنی بات کرتے ہیں کیونکہ وہ آزاد کرتی ہے لوگوں کو۔
43:30
Speaker A
تو یہ جمہوریت نہیں ہے جو کراچی کا الیکشن ہوا ہے لوکل گورنمنٹ کا، یہ جمہوریت نہیں ہے یہ ہر ڈکٹیٹر ایسے الیکشن کرواتا ہے۔
44:00
Speaker A
ہمیں ملک کے لیے سب کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا ہم نے یہ ظلم کا نظام قبول کر کے اور اس سے ڈر کے۔
44:30
Speaker A
ہم نے گھروں میں بیٹھ جانا ہے اور یہ ظلم ہونے دینا ہے تو یہ سمجھ جائیں کہ اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
45:00
Speaker A
یا ہم نے پرامن اور میں آج ستائیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ شہری ہمیشہ پرامن احتجاج کرتے ہیں۔
45:30
Speaker A
شہری ہمیشہ حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، زندہ قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں۔
46:00
Speaker A
زندہ قومیں انصاف کے لیے کھڑی ہوتی ہیں کیونکہ انصاف کے ساتھ ہی آزادی آتی ہے۔
46:30
Speaker A
میں اس اس لوگوں کے اندر تھا جب برطانیہ کے اندر بیس لاکھ لوگوں نے سڑکوں کے اوپر پرامن احتجاج کیا۔
47:00
Speaker A
میں اس احتجاج میں شامل تھا دو ہزار تین میں جب انہوں نے کہا کہ عراق کی جو جنگ ہے جو برطانیہ شرکت کر رہا ہے یہ ناانصافی ہے عراق کے لوگوں سے۔
47:30
Speaker A
برطانیہ کو فائدہ ہو رہا تھا، تیل کے لیے جنگ تھی لیکن لوگوں نے زندہ قوم نے کہا کہ یہ ناانصافی ہے عراق کے لوگوں سے۔
48:00
Speaker A
اور وہ بیس لاکھ لوگ سڑکوں پہ نکلے یہ زندہ قوم ہوتی ہے، یہ جو کرنے جا رہے ہیں یہ جو سروں کو خوف پھیلا رہے ہیں گھر توڑ رہے ہیں۔
48:30
Speaker A
یہ گاڑیاں اٹھا لی جا کے گاڑیاں چوری کر لیں، شاہ فرمان کے اور بھائیوں کی تین گاڑیاں چوری کر لیں۔
49:00
Speaker A
دو گاڑیاں چوری کر لیں اسد قیصر اور اس کے گھر کے لوگوں کی، شاہرام ترقی ان کے گھر میں جا کے دو گاڑیاں جا کے اٹھا کے لے گئے۔
49:30
Speaker A
پولیس پولیس چوری کر رہی ہے، جن کے گھروں میں جاتے ہیں وہاں چوری کر لیں لوٹ لیتے ہیں، میرے گھر میں جب یہاں آئے تھے تو جو چیز ملی چوری کر کے لے گئے۔
50:00
Speaker A
تو کیا ہم اس کو قبول کریں گے اور خوف کے سامنے جھک جائیں گے یا ہم ایک زندہ قوم کی طرح کھڑے ہوں گے۔
50:30
Speaker A
یہ جو اس وقت خوف پھیلایا جا رہا ہے میں آپ کا مقصد اس کا بتا دوں، اس کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے پلان کیا ہوا ہے یا ملٹری کورٹ کے ذریعے۔
51:00
Speaker A
یا یہ کوئی قتل کے کیس اور ڈال رہے ہیں یہ ابھی میرے پاس کوئٹہ کا کوئٹہ کا قتل کا کیس جا رہا ہے، ان کی کوشش یہ ہے کہ مجھے پھر اب انہوں نے پکڑنا ہے۔
51:30
Speaker A
اس کے لیے گراؤنڈ تیار کر رہے ہیں کہ خوف اتنا پھیل جائے کہ جب آپ بھی عمران خان کو پکڑیں تو قوم چپ کر کے بیٹھ جائے۔
52:00
Speaker A
یہ سارا پلان ہے، میں صرف آپ کو کہہ رہا ہوں کہ میں تو تیار ہوں، میں تو تیار ہوں جیل کے لیے۔
52:30
Speaker A
میں تو ہر چیز کے لیے تیار ہوں، اللہ کے اوپر پورا اعتماد ہے میں نے تو یہ اپنی ذات کے لیے کر نہیں رہا یہ تو میرے اپنے ملک کے لیے میں جب۔
53:00
Speaker A
نکلا تھا آج سے ستائیس سال پہلے تو میں تو جہاد سمجھ کے نکلا تھا کیونکہ اللہ تو مجھے سب کچھ دے بیٹھا تھا۔
53:30
Speaker A
تو یہ تو اب آپ کے اوپر چیلنج ہے، کیا آپ نے چپ کر کے ظلم ہونے دینا ہے اپنے اوپر اور اپنا مستقبل ختم کرنا ہے۔
54:00
Speaker A
یا آپ نے پرامن احتجاج کرنا ہے اور سب نے مل کے کرنا ہے کہ یہ ظلم ہمیں قبول نہیں ہم آزادی چاہتے ہیں۔
54:30
Speaker A
ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں، حقیقی جمہوریت کا مطلب حقیقی آزادی چاہتے ہیں، ہم کسی صورت کسی ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاتے ہیں۔
55:00
Speaker A
اور جب یہ قوم نے فیصلہ کر لیا کوئی ظالم نہیں آپ کے سامنے کھڑا ہو سکتا، وہ صرف تب تک کھڑا ہوتا ہے جب وہ سمجھتا ہے۔
55:30
Speaker A
کہ آپ خوف کے بت کی پوجا کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے جھکے رہیں گے وہ آپ کے اوپر حاوی رہے گا، جب قوم یہ بت توڑ دے گی قوم آزاد ہو جائے گی۔
56:00
Speaker A
اور آزاد قوم ہی خوشحال ہوتی ہے۔
56:10
Speaker A
پاکستان زندہ باد۔
Topics:عمران خانتحریک انصافسیاسی ظلمپاکستانجمہوریتعدلیہنو مئیانتخاباتانصافتشدد

Frequently Asked Questions

عمران خان نے اپنے خطاب میں کس قسم کے ظلم کی نشاندہی کی؟

عمران خان نے سیاسی کارکنوں اور ان کے رشتہ داروں پر ظلم، رات کے چھاپے، غائب کرنے، کاروبار بند کرنے اور گھروں پر حملوں کی نشاندہی کی۔

عمران خان نے عدلیہ کے بارے میں کیا کہا؟

انہوں نے ججز کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا جو دھمکیوں کے باوجود انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نو مئی کے واقعے کے حوالے سے عمران خان کا موقف کیا ہے؟

عمران خان کا کہنا ہے کہ نو مئی کا واقعہ ایک بہانہ تھا اور اس سے پہلے ہی سیاسی منصوبہ بندی اور ظلم جاری تھا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →