Chairman PTI Imran Khan’s Message On International Anti… — Transcript

عمران خان کا انٹرنیشنل اینٹی کرپشن ڈے پر پیغام، کرپشن کی اقسام اور رول آف لا کی اہمیت پر روشنی۔

Key Takeaways

  • ایلیٹ کی کرپشن ملک کی سب سے بڑی تباہی کا باعث بنتی ہے۔
  • رول آف لا کی کمی کرپشن اور معاشی مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔
  • بڑے پیمانے پر چوری شدہ دولت کی ملک سے باہر منتقلی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
  • نیب قوانین میں ترامیم کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائی کو مشکل بنا رہی ہیں۔
  • قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

Summary

  • کرپشن دنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہے مگر ایلیٹ کی کرپشن ملک کو تباہ کرتی ہے۔
  • رولنگ ایلیٹ، وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی کرپشن ملک کی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
  • غریب ملکوں سے سالانہ 1.7 ٹریلین ڈالرز چوری ہو کر امیر ملکوں یا آف شور اکاؤنٹس میں جاتے ہیں۔
  • رول آف لا کی کمی غریب ملکوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے، جہاں طاقتور قانون سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
  • بڑے پیمانے پر چوری کیے گئے پیسے کی ملک سے باہر منتقلی ملکی کرنسی کو کمزور اور مہنگائی بڑھاتی ہے۔
  • پاکستان میں نیب قوانین میں کی گئی ترامیم وائٹ کالر کرائم کے خلاف کارروائی کو مشکل بناتی ہیں۔
  • طاقتور افراد کو قانون کے نیچے لانا اور کرپشن روکنا ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
  • تحریک انصاف کا قیام قانون کی حکمرانی اور رول آف لا کے قیام کے لیے ہوا تھا۔
  • خوشحال ممالک میں رول آف لا کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان جیسے ممالک میں یہ 20 فیصد سے کم ہے۔
  • بڑی کرپشن روکنے کے لیے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین
00:04
Speaker A
کرپشن دنیا کے ہر معاشرے میں ہے لیکن جو کرپشن ایک معاشرے کو ایک سوسائٹی کو ایک ملک کو تباہ کرتی ہے وہ ایلیٹ کی کرپشن ہے۔
00:15
Speaker A
وہ جس کو کہتے ہیں رولنگ ایلیٹ جب وہ چوری کرنا شروع کرتی ہے جب پرائم منسٹر پیسے چوری کرتا ہے جب اس کے منسٹرز کرتے ہیں جب پریزیڈنٹس کرتے ہیں یا پھر جس کو کرونی کیپیٹلزم کہتے ہیں کہ وہ بڑے بڑے بزنسز ہاؤسز کے ساتھ مل کے جب چوری کرتے ہیں تو اس سے ملک تباہ ہوتا ہے۔
00:37
Speaker A
سیکرٹری جنرل اف دی یونائیٹڈ نیشنز انہوں نے ایک پینل بنائی جس کو کہتے ہیں فیکٹائی پینل اور اس نے یہ گیج کیا کہ غریب اور امیر ملکوں میں کیوں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
00:50
Speaker A
تو وہ ایک وہ بڑے ایسے رزلٹس ائے جو کہ ساری قوم کو سمجھنا چاہیے میرے اپنی قوم کی بات کر رہا ہوں کہ اس کا رزلٹ نمبر ون رزلٹ یہ تھا کہ ہر سال غریب ملکوں سے 1.7 ٹریلین ڈالرز 1700 ارب ڈالر غریب ملکوں سے چوری ہو کے امیر ملکوں میں جاتے ہیں یا اف شور اکاؤنٹس پہ جاتے ہیں۔
01:55
Speaker A
یا لندن جیسے کیپیٹل میں بڑے بڑے محلات خریدنے کے لیے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس والے مہنگے ترین ایریا میں یہ غریب ملکوں کا پیسہ جاتا ہے امیر ملکوں میں اور اف شور اکاؤنٹس میں۔
02:11
Speaker A
اور اصل میں یہ تباہ کرتی ہے ایک ملک کو اور وہ اس لیے ہوتی ہے کہ ان غریب ملکوں میں رول اف لا نہیں ہوتا۔
02:24
Speaker A
غریب اور امیر ملکوں کے اندر فرق ہی یہ ہے کہ امیر ملکوں میں رول اف لا ہے غریب ملکوں میں نہیں ہے۔ رول اف لا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قانون کے نیچے سب ایک برابر۔ تو جو امیر ملک ہیں وہ طاقتور کو قانون کے نیچے لے اتے ہیں۔ جو غریب ملک ہیں وہ طاقتور کو این آر او دے دیتے ہیں۔ طاقتور چور کو این آر او دے دیتے ہیں۔ اور تباہ طاقتور کی چوری کا ہوتا ہے ایک ملک تباہ تب ہوتا ہے۔
03:24
Speaker A
کیونکہ چھوٹا چور کتنا پیسے چوری کر لے گا۔ وہ پیسہ کیا کرے گا چوری کر کے زمین میں اپنے گھر کے نیچے دبا دے گا۔ لیکن جب اربوں روپے کی چوری ہوتی ہے اور وہ طاقتور کرتا ہے یعنی وہ وزیر کرتے ہیں پرائم منسٹرز کرتے ہیں۔
03:44
Speaker A
تو وہ جو چوری ہے وہ پھر ملک سے باہر لے جانی پڑتی ہے۔ تو پہلے چوری کر کے ایک ملک کو نقصان ہوتا ہے اور کرپشن کرپشن وہ ہوتا ہے جو ملک کا پیسہ چوری ہوتا ہے۔
04:06
Speaker A
چوری وہ ہوتی ہے جو کہ ایک میرے یعنی ایک ایک فرد کی چوری ہوئی۔ تو جو طاقتور جب ملک کا پیسہ چوری کرتا ہے اور وہ اربوں میں ہوتا ہے تو اس کو باہر بھیجنا پڑتا ہے۔ تو دوسری طرح نقصان ہوتا ہے ملک کو۔ ایک کہ وہ پیسہ اگر وہ ملک میں رہے تو وہ اسے نوکریاں ہو سکتی ہیں اسے صحت تعلیم پہ پیسہ خرچ ہو سکتا ہے۔
05:00
Speaker A
اور دوسرا کہ جب وہ ملک سے باہر جاتا ہے تو وہ ڈالرز لے کے باہر پیسہ بھیجنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب جو سب سے بڑا مسئلہ غریب ملکوں کا یہ بھی ہے کہ ان کے پاس فارن ایکسچینج ریزروز کم ہیں۔ ان کی کرنسی مضبوط نہیں ہے۔ یہ مزید کرنسی کو کمزور کر دیتا ہے۔ اور جب اپ کی کرنسی ڈی ویلیو ہوتی ہے تو ملک کے اندر انفلیشن اتی ہے۔ اور مہنگائی غربت پیدا کرتی ہے۔
05:46
Speaker A
اور جب ایک کرنسی ڈی ویلیو جن ملکوں میں ہوتی ہے ان ملکوں میں انویسٹمنٹ نہیں اتی۔ کیونکہ لوگ ڈالرز ہی رکھ لیں اگر انہوں نے اگر ایک ملک میں پیسہ لگانا ہے اور اس ملک کی کرنسی کی ویلیو نیچے جا رہی ہے تو وہاں انویسٹمنٹ نہیں اتی۔ تو اسی لیے ملک غریب ہو جاتے ہیں۔ اشرافیہ کی کرپشن کی وجہ سے۔
06:40
Speaker A
اور یہ ہے سمٹمز رول اف لا نہ ہونا۔ غریب ملکوں میں ان کے اندر وہ انفراسٹرکچر لیگل انفراسٹرکچر نہیں ہے وائٹ کالر کرائم پکڑنے کا۔ اور اپ پاکستان میں یہ دیکھ لیں کہ اس ملک کی جو رولنگ ایلیٹ جو 30 سال سے اس ملک کے اوپر حکومت کر رہی تھی ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ انہوں نے اتے ساتھ ہی اسمبلی کے اندر نیب کے قوانین کی امینڈمنٹس کی ہے۔
07:00
Speaker A
اور اس امینڈمنٹ سے پہلے ہی مشکل تھا وائٹ کالر کرائم پکڑنا۔ اب ان جو نئی امینڈمنٹس لے کے ائے ہیں وائٹ کالر کرائم پکڑنا تقریبا ناممکن ہو چکا ہے۔
07:20
Speaker A
انہوں نے ایسی ایسی شکیں ڈال دی ہیں بیچ میں کہ اگر میں یہاں ملک کا پیسہ چوری کر کے باہر بھیجوں تو یہ ناممکن ہے ہمارے لیگل انفراسٹرکچر اکاؤنٹیبلٹی بیورو کا کہ وہ پیسہ واپس لے کے ائیں۔
07:50
Speaker A
پہلے ہی مشکل تھا لیکن اب مزید انہوں نے ایسے قانون بنا دیے ہیں کہ انہوں نے تقریبا ناممکن کر دیا ہے۔ میں اگر پیسے چوری کر کے اپنے خاندان کے نام پہ کر دوں تو وہ بھی اب نہیں پکڑ سکتے۔
08:20
Speaker A
اگر میں پبلک افس ہولڈر ہوں اور میں کرپشن کرتا ہوں تو اس سے پہلے اور زیادہ تر دنیا میں مجھے جواب دینا پڑتا ہے کہ جب میری میری امدنی سے زیادہ میرے اثاثے ہیں۔
08:40
Speaker A
انہوں نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ ان کو ثابت کرنا پڑے گا اب نیب کو۔ تو وہ اگے ہی مشکل تھا جس طرح میں نے کہا وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا تو اب ناممکن کر دیا ہے انہوں نے۔
09:00
Speaker A
کیونکہ وہی لوگ وہی سٹیٹس کو وہی چور وہ خود ا کے بیٹھ کے اپنے اپ کو انہوں نے پورا اب لائسنس دے دیا ہے چوری کرنے کا۔ تو اخر میں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں۔
09:30
Speaker A
کہ میں نے 26 سال پہلے جو پارٹی بنائی تھی تحریک انصاف اس کا بنائی اس لیے تھی کہ جب تک ایک ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی جس کو رول اف لا کہتے ہیں۔
10:00
Speaker A
وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اپ ایشین ٹائیگر نہیں بن سکتے۔ اپ اگر سمجھتے ہیں ہم چائنہ کی طرح ترقی کر سکتے ہیں ہم نہیں کر سکتے۔ یہ سارے ملک تب ترقی کیا تھا انہوں نے جب انصاف رول اف لا لے کے ائے تھے۔
10:20
Speaker A
قانون کی حکمرانی لے کے ائی تھی۔ کیونکہ جب طاقتور کو اپ قانون کے نیچے لے اتے ہیں تو تب یہ جو وائٹ کالر کرائم یا جو پیسہ کرپشن ملک کو تباہ کرتی ہے تب اس کو کنٹرول میں لے کے اتے ہیں۔
10:50
Speaker A
اور یہ سارے جو ملک ہیں خوشحال ملک سوئٹزرلینڈ ویسٹرن یورپ کے ممالک اور امریکہ ان ساروں کے اندر رول اف لا انڈیکس میں یہ 90 پرسنٹ سے اوپر ہے۔
11:20
Speaker A
سوئٹزرلینڈ 99 پرسنٹ ہے۔ اور ہمارے ملک جو غریب ہیں نائجیریا کی مثال اپ کے سامنے ہے جو کہ تیل کے ذخیرے پہ بیٹھا ہوا ہے۔ وہاں صرف رول اف لا سات فیصد ہے۔
11:50
Speaker A
اور ہمارے جتنے بھی پاکستان جیسے ملک ہم سب 15 20 پرسنٹ سے کم ہیں۔ اخر میں میں سم اپ یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک ہم سارے ملک اس چیز کے اوپر زور نہیں لگائے گا قانون کی حکمرانی کرنے کے لیے۔
12:20
Speaker A
رول اف لا اس ملک کے اوپر لاگو کرنے کے لیے ہم کبھی بھی یہ بڑی کرپشن نہیں روک سکتے۔
12:30
Speaker A
اور جب تک بڑی کرپشن نہیں روک سکتے خوشحالی نہیں ا سکتی۔ شکریہ۔
Topics:عمران خانکرپشنرول آف لاپاکستاننیب قوانینبین الاقوامی اینٹی کرپشن ڈےمعاشی ترقیطاقتور افرادوائٹ کالر کرائمتحریک انصاف

Frequently Asked Questions

عمران خان کے مطابق کرپشن کی سب سے بڑی قسم کون سی ہے؟

عمران خان کے مطابق ایلیٹ کی کرپشن، یعنی حکومتی اعلیٰ عہدیداروں اور طاقتور افراد کی کرپشن ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

رول آف لا کی کمی سے ملک کو کیا نقصان ہوتا ہے؟

رول آف لا کی کمی کی وجہ سے طاقتور افراد قانون سے مستثنیٰ ہو جاتے ہیں، جس سے کرپشن بڑھتی ہے، معیشت کمزور ہوتی ہے اور ملک ترقی نہیں کر پاتا۔

پاکستان میں نیب قوانین کی ترامیم کا کرپشن کے خلاف کارروائی پر کیا اثر ہوا ہے؟

نیب قوانین میں کی گئی ترامیم نے وائٹ کالر کرائم کے خلاف کارروائی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے، جس سے کرپشن روکنا مشکل ہو گیا ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →