وزیراعظم عمران خان کا پارلیمنٹ میں پہلا خطاب، ملک میں تبدیلی، احتساب اور نوجوانوں کے مستقبل پر زور۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- عمران خان نے ملک میں کرپشن کے خاتمے اور سخت احتساب کا وعدہ کیا۔
- نوجوانوں کے لیے روزگار اور ملک میں بہتر مستقبل کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
- الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا اور شفاف انتخابات کا عزم ظاہر کیا گیا۔
- پارلیمنٹ کو مضبوط کر کے ہر ماہ وزیراعظم کے سوالات کے جوابات دیے جائیں گے۔
- این آر او کسی بھی کرپٹ یا ڈاکو کو نہیں دیا جائے گا۔
What the video covers
- عمران خان نے قوم کا شکریہ ادا کیا اور اللہ کا شکر بجا لایا کہ انہیں ملک میں تبدیلی لانے کا موقع ملا۔
- انہوں نے ملک میں کڑا احتساب کرنے اور کرپٹ عناصر کو سزا دینے کا وعدہ کیا۔
- 22 سال کی جدوجہد کے بعد اقتدار میں آنے کا ذکر اور اپنے سیاسی پس منظر کی وضاحت کی۔
- ملک کے قرضوں اور ان کے ذمہ داروں کے احتساب پر زور دیا۔
- نوجوانوں کے لیے روزگار اور بہتر مستقبل کی فراہمی کا عزم ظاہر کیا۔
- الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کا جواب دیا اور شفاف انتخابات کے لیے عدالتوں میں جانے کا ذکر کیا۔
- الیکٹورل پروسیس کو شفاف بنانے اور نیوٹرل امپائرز کی طرح فیصلے قبول کرنے کا وعدہ کیا۔
- اپوزیشن کو دھرنا دینے کے لیے کنٹینر دینے کی پیشکش کی مگر این آر او نہ دینے کی سختی سے وضاحت کی۔
- ملک میں معاشی انصاف، تعلیم، صحت اور صاف پانی کی فراہمی کو اہم قرار دیا۔
- پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے اور ہر ماہ دو بار وزیراعظم کے سوالات کے جوابات دینے کا عزم ظاہر کیا۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Speaker A
ایاک نعبد و ایاک نستعین
Speaker A
میں آج
Speaker A
اسپیکر صاحب
Speaker A
میں آج اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں
Speaker B
عمران خان کا مائیک کھولیں
Speaker A
عمران صاحب کا پلیز
Speaker A
جناب اسپیکر پھر میں آج اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں
Speaker A
میں اللہ کا سب سے پہلے شکریہ ادا کرتا ہوں
Speaker A
کہ اس نے مجھے موقع دیا
Speaker A
موقع دیا کہ پاکستان میں وہ تبدیلی لانے کا جس تبدیلی کی یہ قوم 70 سال انتظار کر رہی تھی
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
میں یہ اللہ کے سامنے اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں
Speaker A
کہ جو تبدیلی ہم اب لے کے آئیں گے یہ قوم ترس رہی تھی اس تبدیلی کے لیے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اس ملک میں سب سے پہلے
Speaker A
سب سے پہلے
Speaker A
ہم نے کڑا احتساب کرنا ہے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
وہ لوگ جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا اور مقروض کیا
Speaker A
میں یہ آج وعدہ کرتا ہوں اللہ کے سامنے کرتا ہوں کہ ان کو ایک ایک آدمی کو نہیں چھوڑوں گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
کوئی
Speaker A
یہ بھی میرا وعدہ ہے کہ کسی قسم کا این آر او کسی ڈاکو کو نہیں ملے گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
22 سال سٹرگل کر کے میں یہاں پہنچا ہوں
Speaker A
22 سال
Speaker A
مجھے کسی ملٹری ڈکٹیٹر نے پالا نہیں تھا
Speaker A
میں اپنے پیر پہ کھڑا ہو کے آیا ہوں
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور میں ان لوگوں کو
Speaker A
جنہوں نے اقتدار میں آ کے اس ملک میں ہمارے بچوں کا مستقبل لوٹا
Speaker A
جنہوں نے پیسہ چوری کر کے باہر لے کے گئے
Speaker A
میں انشاء اللہ ایک ایک آدمی کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کروں گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور کیونکہ میں ایک جدوجہد کر کے یہاں پہنچا ہوں
Speaker A
چونکہ میں ایک اپنے پیر پہ کھڑا ہو کے پہنچا ہوں یہاں
Speaker A
نہ میرا کوئی باپ پولیٹکس میں تھا
Speaker A
نہ مجھے کسی ملٹری ڈکٹیٹر نے پالا
Speaker A
نہ میرے پاس کوئی پولیٹیکل تجربہ تھا
Speaker A
میں 22 سال کی سٹرگل کی
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور صرف مجھے فخر ہے اس چیز کا
Speaker A
کہ ایک اس ملک کا لیڈر تھا جس نے میرے سے زیادہ سٹرگل کی
Speaker A
اور وہ میرے ہیرو تھے قائد اعظم محمد علی جناح
Speaker A
انہوں نے 40 سال کی سٹرگل کی تھی
Speaker A
میرا وعدہ ہے اپنی قوم سے
Speaker A
کہ جو پیسہ اس ملک کا لوٹ کے یہ باہر لے کے گئے ہیں وہ پیسہ واپس لے کے آؤں گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور اس پارلیمنٹ کو ایمپاور کروں گا
Speaker A
خود ہر مہینے دو دفعہ پرائم منسٹر کوسچن ٹائم میں یہاں کھڑا ہو کے لوگوں کا جواب دوں گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اس ملک میں جو اصل ایشو ہے
Speaker A
جو اس ملک کا اصل ایشو ہے
Speaker A
اس ملک میں جو قرضہ چڑھایا گیا پچھلے 10 سال میں 6 ہزار ارب سے آج 28 ہزار ارب روپے کا جو قرضہ چڑھایا
Speaker A
وہ لوگ جو ذمہ دار تھے ہمارے بچوں کو مقروض کرنے کے لیے
Speaker A
ان کا احتساب کریں گے اس ملک پہ اس ہاؤس میں ڈیبیٹ کریں گے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
کہ یہ کیسے قرضہ چڑھا
Speaker A
کیسے انہوں نے ہمارے بچوں کا مستقبل مقروض کیا
Speaker A
جو پیسہ ہمارے بچوں کی تعلیم پہ جانا تھا ہسپتالوں میں جانا تھا
Speaker A
صاف پینے کے پانی میں جانا تھا
Speaker A
اس ملک میں عدالتی اور معاشی انصاف دینے پہ جا رہا تھا
Speaker A
جو پیسہ اس ملک میں لوگوں کو ہائر ایجوکیشن میں بہتر تعلیم نالج اکانومی بنانے میں جانا تھا
Speaker A
وہ لوگوں کی جیبوں میں گیا ہے
Speaker A
اور انشاء اللہ اس پارلیمنٹ میں ہم ڈیبیٹ کریں گے
Speaker A
کہ ان سے ہم نے کیا کرنا ہے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اس ملک میں ایک ایسا نظام بنائیں گے
Speaker A
کہ ہم اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کریں گے
Speaker A
تاکہ ہمیں کسی کسی باہر کے قوم کے سامنے جھکنا نہ پڑے
Speaker A
بھیک مانگنا نہ پڑے
Speaker A
اس قوم کو انشاء اللہ اپنے پیر پہ کھڑا کریں گے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور میں خاص طور پہ اپنے نوجوانوں کو پیغام دے رہا ہوں
Speaker A
وہ نوجوان جن کی وجہ سے آج میں یہاں کھڑا ہوں
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
نہ اس اس ملک کے نوجوان نکلتے باہر نہ وہ ہماری حمایت کرتے
Speaker A
نہ ہم یہاں کھڑے ہوتے
Speaker A
میں ان کا آج خاص شکر گزار ہوں
Speaker A
میں انشاء اللہ پوری کوشش کروں گا کہ اپنے نوجوانوں کا مستقبل ٹھیک کریں
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
ان کو فخر ہو پاکستانی ہوتے ہوئے باہر نہ جانا پڑے
Speaker A
اس اسی ملک میں نوکریاں ہوں نوجوانوں کے لیے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور میں اب دھاندلی پہ آتا ہوں
Speaker A
میں آج یہ جو میرے پارلیمنٹ میں کولیگز شور مچا رہے ہیں
Speaker A
میں ان سے ایک سوال پوچھتا ہوں
Speaker A
کہ جب 2013 الیکشن کے بعد میں صرف چار حلقے مانگ رہا تھا
Speaker A
کہ چار حلقوں کو کھول دو
Speaker A
تاکہ آپ کو یہ پتہ ہو کہ کیا غلطی ہوئی
Speaker A
اور 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو
Speaker A
اور یہی جو آج شور مچا رہے ہیں انہوں نے چار حلقے نہیں کھولے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
ہمیں عدالتوں میں جانا پڑا
Speaker A
ڈھائی سال ہمیں عدالتوں میں جانا پڑا
Speaker A
وہ چار حلقے کھلوانے میں اور چاروں حلقوں میں بے ضابطگیاں نکلی
Speaker A
چاروں حلقوں کے اندر
Speaker A
غیر قانونی ووٹ ملے
Speaker A
یہ گورنمنٹ میں تھے
Speaker A
کیوں نہیں انہوں نے احتساب کیا
Speaker A
کیوں نہیں انہوں نے انویسٹیگیٹ کی
Speaker A
کیوں نہیں انہوں نے پتہ چلایا کہ وہ جن لوگوں نے بے ضابطگیاں کی تھیں
Speaker A
کیوں نہیں ان کا احتساب کیا
Speaker A
اگر وہ کر لیتے
Speaker A
تو آج ساروں کو الیکٹورل پروسیس پہ اعتماد ہوتا
Speaker A
ہم نے عدالت میں گئے
Speaker A
126 دن کا دھرنا دیا
Speaker A
اس کے بعد جوڈیشل کمیشن بیٹھی
Speaker A
اور جوڈیشل کمیشن میں 40 فائنڈنگز تھیں
Speaker A
جن میں ایک فائنڈنگ یہ تھی کہ ڈھائی کروڑ ڈھائی کروڑ
Speaker A
بیلٹس مسنگ تھیں
Speaker A
35 پرسنٹ اس وقت کی فارم 15 مسنگ تھی
Speaker A
کیوں نہیں گورنمنٹ نے ایکشن لیا
Speaker A
وہ لوگ جو ذمہ دار تھے
Speaker A
کیوں نہیں انہوں نے ایکشن لیا
Speaker A
اگر اسپیکر صاحب تب یہ ایکشن لے لیتے
Speaker A
ہمارا الیکٹورل پروسیس ٹھیک ہو جاتا
Speaker A
تب جب میں یہ ساری چیزیں کہہ رہا تھا
Speaker A
تو یہاں برا بھلا کہا جا رہا تھا کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا
Speaker A
ایک پلانٹ ہوں
Speaker A
کہ میں یہ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے یہ کر رہا ہوں
Speaker A
ہم اپنے ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کے لیے کر رہے تھے
Speaker A
اسپیکر صاحب
Speaker A
میں کرکٹ کی ڈھائی سو سالہ تاریخ کا وہ کپتان ہوں
Speaker A
جس کی وجہ سے کرکٹ کی دنیا میں نیوٹرل امپائر آئے تھے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
جو ملک پہلی دفعہ نیوٹرل امپائر لے کے آیا تھا
Speaker A
وہ 1986 میں پاکستان نیوٹرل امپائر لے کے آیا تھا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
ہم اپنے الیکٹورل پروسیس کو ایسا بنائیں گے
Speaker A
ہماری حکومت انشاء اللہ ایسا بنائے گی کہ جس طرح کرکٹ کی دنیا میں آج جو فیصلہ ہوتا ہے
Speaker A
نیوٹرل امپائرز کے ذریعے جو ہارتا ہے وہ بھی قبول کرتا ہے جو جیتتا ہے وہ بھی قبول کرتا ہے
Speaker A
انشاء اللہ ہم الیکٹورل پروسیس کو ایسا بنائیں گے کہ جو ہارتا ہے جو جیتتا ہے قبول کرے گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
اور کیونکہ ہمیں پتہ ہے
Speaker A
کہ ہم نے دھاندلی نہیں کی
Speaker A
آپ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں
Speaker A
آپ سپریم کورٹ کے پاس جائیں
Speaker A
ہم آپ کو نہیں روکیں گے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
آپ نے
Speaker A
400 پٹیشنز میں سے
Speaker A
چار حلقے ہم نے مانگے تھے
Speaker A
صرف چار
Speaker A
آپ نے ان کا راستہ ڈھائی سال لگے
Speaker A
وہ حلقے کھلوانے میں
Speaker A
اور میں
Speaker A
جب پبلک میں نکلا تھا
Speaker A
تو ایک سال کے بعد
Speaker A
ایک سال کے بعد پہلے ہم سپریم کورٹ گئے
Speaker A
الیکشن کمیشن گئے
Speaker A
پارلیمنٹ میں آئے
Speaker A
یہاں جو شور مچ رہا ہے آپ کو تو یہی نہیں پتہ
Speaker A
کہ کون سے حلقوں میں کیا ہوا ہے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
میں آپ کو
Speaker A
یہ ہماری مدد کی ہے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں الیکشن جیتنے میں ہماری مدد کی گئی ہے
Speaker A
ہم 43 پروونشل اسمبلی پنجاب کے حلقے ہمارے پاس ہیں
Speaker A
جو ہم 3 ہزار سے کم سے ووٹ سے ہارے ہیں
Speaker A
تو کس نے مدد کی ہے کہ 3 ہزار ووٹ نہیں ڈلوا سکے ہمیں
Speaker A
43 حلقوں میں
Speaker A
14 حلقے ہمارے نیشنل اسمبلی کے ہیں جو 4 ہزار اور کم سے ووٹ سے ہارے ہیں
Speaker A
ایک 50 50 ووٹوں سے ایک حلقہ ہارے ہیں
Speaker A
تو کون تھا جو ہماری مدد اگر کرتا تو ہمیں 14 سیٹیں تو مل سکتی تھیں نیشنل اسمبلی کی
Speaker A
اس لیے
Speaker A
آپ جو بھی
Speaker A
جس طرح کی بھی تفتیش کروانا چاہتے ہیں
Speaker A
جو بھی آپ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے
Speaker A
آپ سپریم کورٹ پہ جائیں گے
Speaker A
ہم آپ کے ساتھ کوآپریٹ کریں گے
Speaker A
ہم کوآپریٹ کریں گے
Speaker A
کیونکہ ہمیں پتہ ہے ہم نے دھاندلی نہیں کی
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
لیکن آخر میں میں ایک چیز کہنا چاہتا ہوں
Speaker A
میں پھر سے ریپیٹ کرنا چاہتا ہوں
Speaker A
کسی قسم کی بلیک میل کسی قسم کی بلیک میل میں
Speaker A
نہ آج تک مجھے کوئی کر سکا ہے نہ کرے گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
کوئی
Speaker A
جتنا مرضی آپ شور مچا لیں
Speaker A
جو مرضی کریں
Speaker A
سڑکوں پہ نکلیں
Speaker A
بلکہ اگر دھرنا دینا ہے تو ہم آپ کو کنٹینر دیں گے دھرنا دینے کے لیے
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
شرط یہ ہوگی
Speaker A
کنٹینر ہم دیں گے
Speaker A
ہم نے چار مہینے میں نے گزارے
Speaker A
چار مہینے
Speaker A
آپ میں شہباز شریف کو کہتا ہوں
Speaker A
کہ آپ اور مولانا فضل الرحمان ایک بھی نہ گزار سکے
Speaker A
ہم مان جائیں گے آپ کی بات
Speaker A
ہم آپ کی بات مان جائیں گے
Speaker A
دعوت دیتا ہوں میں
Speaker A
بلکہ ہم آپ کو کھانے بھی پہنچائیں گے
Speaker A
ہم آپ کے لیے لوگ بھی بھیج دیں گے
Speaker A
آپ دھرنا کریں
Speaker A
ہم آپ کی سپورٹ کریں گے پوری
Speaker A
ڈی چوک آپ کے سامنے ہے
Speaker A
کنٹینر ہم دیں گے آپ کو
Speaker A
لیکن
Speaker A
لیکن
Speaker A
جو مرضی کر لیں آپ کو این آر او نہیں ملے گا
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Speaker A
انشاء اللہ
Topics:عمران خانپارلیمنٹ خطابپاکستان تبدیلیاحتسابنوجوانوں کا مستقبلالیکشن دھاندلیشفاف انتخاباتمعاشی انصافکرپشن خاتمہاین آر او نہیں











