Imran Khan Addresses to The National Assembly Of Pakist… — Transcript

عمران خان نے قومی اسمبلی میں پاناما لیکس اور شوکت خانم ہسپتال کے حوالے سے حکومت پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔

Key Takeaways

  • پاناما لیکس نے وزیراعظم کے خاندان پر شفافیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔
  • شوکت خانم ہسپتال پر لگائے گئے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
  • پاکستان میں کرپشن اور ٹیکس کلیکشن میں کمی ملک کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
  • عمران خان نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ملک کے مفاد میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
  • ملک کو کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اور شفافیت کی ضرورت ہے۔

Summary

  • عمران خان نے پاناما لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کی کمپنیوں کے نام آنے پر سوالات اٹھائے۔
  • انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور ہسپتال کی خدمات کو سراہا۔
  • عمران خان نے حکومت پر عوامی پیسے کے غلط استعمال اور کرپشن کا الزام لگایا۔
  • انہوں نے اپوزیشن کو ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
  • عمران خان نے وزیراعظم سے اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔
  • انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی قرضوں اور کم ٹیکس کلیکشن کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
  • عمران خان نے ملک میں کرپشن روکنے کے لیے ہائی لیول کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔
  • انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ لمحہ ایک ڈیفائننگ مومنٹ ہو سکتا ہے اگر کرپشن کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔
  • عمران خان نے حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور عوام کے ٹیکس کا صحیح استعمال یقینی بنانے کا کہا۔
  • انہوں نے سیاسی جماعتوں کو ملک کے مفاد میں کام کرنے اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنے کی اپیل کی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
کام ہے کہ اس کا جواب دے یا وہ کاؤنٹر الزام لگا دے۔
00:05
Speaker A
اس پہ شوکت خانم کدھر سے آ گیا؟ جدھر شوکت خانم کا تو نام آیا نہیں تھا وہاں پیناما پیپرز میں تو اس کا نام نہیں آیا۔
00:12
Speaker A
ایک وزیر کہہ رہا ہے کہ بنی گالہ کی پراپرٹی اور وہ بھی اس کے اوپر بھی کوئی شک وہ بھی نہیں آیا۔
00:18
Speaker A
انٹرنیشنل پہ جو نام آیا ہے وہ پرائم منسٹر کے بچوں کی کمپنیز کا نام آیا ہے۔
00:25
Speaker A
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اگر اپوزیشن ہیں تو کیا اگر پبلک منی
00:31
Speaker A
یاد رکھیں کہ جب پرائم منسٹر ہوتا ہے ملک کا وہ ایک ملک میں لیڈرشپ دیتا ہے، لیڈ بائے ایگزامپل کرتا ہے۔
00:40
Speaker A
تو ہمارا اگر اپوزیشن یہ پوچھ بھی نہ سکے اگر پوچھے تو آگے سے کاؤنٹر الزام لگا دیں اور وہ بھی کس چیز پہ؟
00:50
Speaker A
وہ پہ جس پہ الزام لگائیں یہ کینسر ہاسپٹل پہ۔ میں وزیر صاحب آپ سے یہ پوچھتا ہوں آج اس فورم پہ کھڑا ہو کے۔
01:00
Speaker A
کہ اگر تو ایک پبلک منی سے بنا ہوا ہاسپٹل کسی قسم کی بھی کوئی غلط کام کرتا ہے تو ذمہ داری تو آپ کی ہے پکڑنا،
01:10
Speaker A
میری ذمہ داری تو نہیں ہے۔ گورنمنٹ کا کام ہے کہ چوروں کو پکڑنا، میرا تو کام نہیں ہے۔
01:18
Speaker A
اور کیا یہ آپ کو خیال تب آیا جب کہ پرائم منسٹر کی یہ انکشافات ہو گئے اس کے بچوں کے تب آپ کو یاد آیا؟
01:30
Speaker A
اگر آپ نے یہ پہلے تھا آپ کو یہ پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ پبلک ایک پبلک پیسے سے بنا ہوا ہاسپٹل کا انڈومنٹ فنڈ اگر غلط انویسٹمنٹ کر گیا ہے تو آپ کو تو روکنا چاہیے تھا۔
01:46
Speaker A
میں انشاءاللہ اگر ہماری گورنمنٹ آئے گی میں تو چھوڑوں گا نہیں، میں تو پکڑ لوں گا آپ کو سب کو، میں تو نہیں چھوڑوں گا۔ تو آپ اگر اپوزیشن کیا؟
01:57
Speaker B
نو کراس ٹاک، نو کراس ٹاک۔ آئی ہیو ٹولڈ یو ونس ڈونٹ ڈو اٹ اگین۔
02:03
Speaker A
دیکھیں جی میں سپیکر صاحب آج اپنی ساری ممبرز سے بات کرنا چاہتا ہوں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔
02:10
Speaker A
میں یہاں اپوزیشن بیٹھا ہوا تھا کسی وزیر نے جو زبان میرے اوپر استعمال کی میں چپ کر کے سنتا رہا میری ساری پارٹی چپ کر کے سنتی رہی ہم آرام سے بیٹھے کیونکہ جمہوریت کے اندر
02:21
Speaker A
حوصلہ چاہیے، برداشت چاہیے، آپ کو حوصلہ چاہیے، دلیری چاہیے۔
02:29
Speaker A
جمہوریت کے اندر یہ نہیں ہوتا کہ ایک آ کے آپ اپنی بات کرتے اور اگلے بیٹھ کے پرائم منسٹر بیٹھا سن رہا ہے اس طرح کی زبان غیر پارلیمانی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
02:39
Speaker B
یہ تقریر نہ کریں۔ آئی ہیو ٹولڈ یو ونس پلیز ڈونٹ ریپیٹ۔
02:45
Speaker B
پارلیمنٹ میں ایسی زبان استعمال نہیں ہوتی اس لیے تو پارلیمنٹ غیر پارلیمانی کہتے ہیں۔
02:50
Speaker A
آپ اس طرح کی زبان استعمال کریں اور پرائم منسٹر بڑی خوشی سے معصوم سا چہرہ بنا کے ہنس رہا ہو اور حوصلہ دیکھ رہا ہو کہ جی آدمی ایک پارلیمانی لیڈر کو ذلیل کر رہا ہے۔
03:00
Speaker A
اور آپ اجازت دے دیں اور پھر جب وہ بولنے لگے تو یہاں شور مچا دیں، حوصلہ رکھو، دلیر ہو، دل گردہ رکھو، سنو میری بات۔
03:10
Speaker A
اب سنیں سپیکر صاحب میں جو اب کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دیکھیں
03:17
Speaker A
مجھے آج ایک میں ایک اور سوال کا جواب پوچھتا ہوں ایک کینسر ہاسپٹل پاکستان میں یہ واحد کینسر ہاسپٹل ہے جدھر اس ملک کا غریب آدمی جا کے علاج کروا سکتا ہے۔
03:36
Speaker A
یہ دنیا کا واحد کینسر ہاسپٹل ہے جدھر 70 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، ساڑھے 300 کروڑ روپیہ خرچ کر دیا غریب مریضوں پہ۔
03:46
Speaker A
ساڑھے 300 کروڑ روپیہ۔
03:48
Speaker A
میں اگر ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ جو صرف اس لیے انہوں نے کیا کہ میں نے جب سے ہم نے اپنا ایز ان اپوزیشن یہ ہمارا فرض اور حق ہے کہ ہم اٹھائیں چیزیں
04:00
Speaker A
کیونکہ ایک انٹرنیشنل
04:04
Speaker A
ساری دنیا میں ہلبلی مچی ہوئی ہے مجھے بتائیں کہ آئس لینڈ کے پرائم منسٹر کو جب اس نے ریزائن کیا اس نے کہا کہ اپوزیشن اگر نہیں بھی کیا تو
04:15
Speaker B
میں نے آپ کو منع کیا ہے آئی ول ٹیک سٹرکٹ ایکشن مت کریں یہ
04:21
Speaker B
جب ایک پارلیمانی لیڈر بول رہا ہے یہ نارم سیکھیں عزت کرنا سیکھیں مت کریں یہ پلیز۔
04:28
Speaker A
اور پرائم منسٹر جب بھی آئس لینڈ کا جو وہ جس کی اپنی پارٹی کہہ رہی ہے ریزائن کرو کیا اس نے کہا ہے کہ اپوزیشن آپ نے بھی آف شور کمپنیز ہیں۔
04:38
Speaker A
دیکھیں جب آپ پرائم منسٹر بنتے ہیں یا ملک کی ذمہ داری جب آپ عوام کے عوام کے ٹیکس کے ذمہ دار ہوتے ہیں آپ ایمانداری سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور عوام پہ خرچ کرتے ہیں تو آپ کی ذمہ داری آ جاتی ہے۔
04:55
Speaker A
کیونکہ جو شاہ صاحب نے بات بالکل ٹھیک کی گورنمنٹ کا جو پرائم منسٹر ہے اس کے پاس سب سے بڑی قوت اس کی مورل اتھارٹی ہوتی ہے۔
05:05
Speaker A
اور اس لیے مورل اتھارٹی کی وجہ سے
05:09
Speaker A
الزام لگایا گیا کہ جناب انڈومنٹ فنڈ کا پیسہ انویسٹ ہوا ہے یہ انہوں نے کہا اوورسیز
05:15
Speaker A
اگر تو آپ بلیک میل کرنے کے لیے نہیں استعمال کر رہے تھے اس چیز کو اور اگر واقعی آپ کو کنسرن تھا ایک ٹیلی فون کرتے شوکت خانم کو آپ کو پتہ چلنا تھا کہ 29 جون کو شوکت خانم 2015 میں وہ 3 ملین ڈالر واپس آ چکا تھا۔
05:29
Speaker A
وہ ڈوبا نہیں تھا اور آپ یہ جو جب آپ شک و شبہات ایک ہاسپٹل کے اوپر کرتے ہیں میرا کوئسچن یہ ہے کہ اگر وہ بند ہو جاتا ہے۔
05:39
Speaker A
سپوزنگ وہ ہاسپٹل بند ہو جاتا ہے۔
05:45
Speaker A
کیا گورنمنٹ نے یا کوئی ہاسپٹل میں جا کے غریب آدمی کینسر کا علاج کرائے؟
05:55
Speaker A
یعنی کتنی غیر ذمہ دار چیز ہے کہ آپ ایک ہاسپٹل کو نہیں چھوڑ رہے جس کا وہ پیسہ بھی ڈوبا نہیں جس کے اوپر سارا شور مچایا ہے۔
06:05
Speaker A
انڈومنٹ فنڈ جو ہوتا ہے یہ نہ آپ کسی
06:12
Speaker A
کے فنڈز آتے ہیں 40 فیصد۔
06:15
Speaker A
میں اگر ان سے ریکویسٹ کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ ہے اپنے لیڈر کی جو اتنے بڑے اس کے اوپر الزامات لگے ہیں چار لگے ہیں اس کے اوپر۔
06:26
Speaker A
یہ جو یہ جو ان کے اوپر آف شور کمپنیز کے ہیں چار ایلیگیشنز ہیں میجر ایلیگیشنز ٹیکس ایویژن، منی لانڈرنگ، ہائیڈنگ ایسٹس، الیکشن کمیشن کو غلط بیانی کرنا یہ میجر افنسز ہیں۔
06:40
Speaker A
ان کو جواب دینا پڑتا ہے اس کا، پڑنا ہے اور پڑے گا۔
06:48
Speaker A
تو مجھے یہ بتائیں کہ شوکت خانم کس چیز کا جواب دے؟
06:55
Speaker A
انہوں نے تو سارا ڈکلیئر کیا ہوا ہے اس میں تو کچھ کے اوپر ہے کچھ چھپا کے انہوں نے نہیں ڈالا۔
07:05
Speaker A
عمران خان نے تو کوئی میں تو انویسٹمنٹ ایکسپرٹ نہیں ہوں باقی کمیٹی بیٹھ کے انویسٹ کرتی ہے پیسے
07:10
Speaker A
کہہ رہے ہیں جی ڈوب گیا 3 ملین ڈالر کیا اس کا کام نہیں تھا کہ ٹیلی فون کر کے شوکت خانم کو پوچھتے کہ پیسہ واپس آیا یا نہیں؟
07:18
Speaker A
کیا یہ یہ ہے پاکستان کی پولیٹکس کہ آپ اپنی کرسی بچانے کے لیے پیسہ بچانے کے لیے آپ ایک خیراتی ادارے کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟
07:29
Speaker A
آپ نے ہاسپٹلز کا حال دیکھیں یہاں گورنمنٹ ہاسپٹلز کا حال دیکھیں۔
07:37
Speaker A
آپ ایک ہاسپٹل کو ختم کر رہے ہیں ایک وہ جدھر
07:46
Speaker A
علاج باہر کینسر کا ہزار روپے کا ہوتا ہے 100 گنا زیادہ ہوتا ہے تو پیسے والے لوگوں کو بھی ضرورت ہے اس ہاسپٹل کی
07:57
Speaker A
میں خود دو دفعہ اس ہاسپٹل میں گیا
08:00
Speaker A
تو اس لیے میں آپ کو ریکویسٹ کرتا ہوں کہ دیکھیں ملک کا سوچیں اپنی پولیٹکس کا نہ سوچیں اور آپ کو آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
08:10
Speaker A
میں آپ سے ابھی بات کرتا ہوں آپ کی ذمہ داری ہے۔
08:14
Speaker A
آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ کو پوچھنا چاہیے کہ پرائم منسٹر صاحب آپ ہمارے پارٹی کے ہیڈ ہیں آپ ڈکلیئر کریں اپنے ایسٹس۔
08:24
Speaker A
آپ کو بجائے ان کو پروٹیکٹ کرنے کے آپ کو کہیں آپ نے اگر چوری نہیں کی آپ نے کچھ نہیں کیا اپنے ایسٹس ڈکلیئر کر دیں۔
08:30
Speaker A
مارگریٹ تھیچر کو کسی اپوزیشن نے نہیں نکالا تھا مارگریٹ تھیچر کو پارٹی نے نکالا تھا۔
08:38
Speaker A
ٹونی بلیئر کو اپوزیشن نے نہیں جانے دیا تھا ٹونی بلیئر کو لیبر پارٹی نے کہا تھا کہ اب آپ جائیں۔
08:46
Speaker A
آپ کا کام ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی کوئی رونگ ڈوئنگ نہیں ہے آپ کہیں جناب آپ اپنے آپ کو پیش کریں آپ اس کو کلیئر کریں۔
08:56
Speaker A
آپ کا کیا کام ہے کہ شوکت ایک ہاسپٹل کو اٹیک کر رہے ہیں صرف اس لیے کہ میں چپ ہو جاؤں۔
09:05
Speaker A
مجھے بلیک میل کر رہے ہیں کہ میں چپ ہو جاؤں میں نواز شریف کی بات نہ کروں۔
09:10
Speaker A
سپیکر صاحب میں اپنے سارے ممبرز سے آج یہ کہنا چاہتا ہوں دیکھیں
09:17
Speaker A
یہ جو چیز یہ جو چیزیں سامنے آئی ہیں یہ پاکستان کا ڈیفائننگ مومنٹ بن سکتا ہے۔
09:24
Speaker A
اگر آج ہم اس کا فائدہ اٹھا لیں یہ پاکستان کا ڈیفائننگ مومنٹ کس طرح بن سکتا ہے؟
09:32
Speaker A
پاکستان کے دو آج پاکستان اگر اس سٹیج پہ ہے کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے اپنے ملک کو چلانے کے لیے۔
09:41
Speaker A
آج اگر ہم اس سٹیج پہ ہیں تو اس کی دو وجہ ہیں۔ ایک ہے ٹیکس ایویژن
09:50
Speaker A
جو شوکت ترین جب فائنانس منسٹر تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ 700 ارب روپے کی صرف
10:00
Speaker A
سی بی آر کے اندر کرپشن ہے۔ یعنی جو ٹیکس کلیکشنز میں 700 ارب کی ہے۔
10:10
Speaker A
نیب کا بھی ریسنٹ سٹیٹمنٹ ائی ہے اس سے پہلے فسیل بخاری نے دی ابھی نیب کی سٹیٹمنٹ ائی ہے
10:15
Speaker A
کہ دن کی کرپشن پاکستان کی 12 ارب روپیہ ہے۔
10:22
Speaker A
تقریبا 3.6 ٹریلین روپیز سالانہ۔
10:25
Speaker A
میری یہ ریکویسٹ ہے کہ اگر ہم آج جو بھی کرائسس آیا ہے اس سے ہم اگر اپنے سسٹمز ٹھیک کر لیں تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان
10:35
Speaker A
یہ جو جس جس طرح تباہی کی طرف جا رہا ہے ہم بچ جائیں۔
10:42
Speaker A
آپ یہ دیکھیں کہ پاکستان کا جو ٹوٹل قرضہ تھا 2005 میں 5 ٹریلین روپیہ تھا۔
10:49
Speaker A
5 ہزار ارب روپیہ۔
10:51
Speaker A
آج پاکستان کا قرضہ ہے 2100 ارب روپیہ۔
10:56
Speaker A
21 ٹریلین روپیز۔
10:58
Speaker A
پچھلے تین سال کے اندر پاکستان میں 5 ٹریلین روپیز کا قرضہ چڑھا ہے۔
11:06
Speaker A
قرضہ کس لیے چڑھا ہے کہ ہم اپنے ٹیکسز اکٹھے نہیں کر سکتے۔
11:12
Speaker A
پاکستان کی لوئیسٹ ٹیکس جی ڈی پی ریشو ہے دنیا میں۔
11:16
Speaker A
ہم کرپشن نہیں روک سکتے جو جو
11:19
Speaker A
25 اپریل کو ایک اتنی ہائی پاورڈ کمیٹی جس میں ایف بی آر ہے، ججز ہیں، لائرز ہیں اس نے 25 اپریل تک رپورٹ مانگی ہے۔
11:29
Speaker A
اگر ہم سچ اس میں سے نکالنا چاہتے ہیں اور اس سے پھر ایک ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ قومیں آگے تب جاتی ہیں اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔
11:40
Speaker A
اگر ہم یہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اس طرح کی ایک ہائی لیول کمیٹی بنانی پڑے گی۔
11:46
Speaker A
میں آپ کو یہ آج کہہ دوں کہ جی یہ سارے پاکستان کے اندر ایک بہت بڑا ایک غصہ ہے۔
11:52
Speaker A
یہ نہ سمجھیں کہ لوگ یہ بھول جائیں گے اب کیونکہ جو لوگوں کو شک تھا وہ چیزیں سامنے آ گئی ہیں۔
11:59
Speaker A
وہ کیوں ضروری ہے کیونکہ اگر پرائم منسٹر کے پاس مورل اتھارٹی نہیں ہوگی
12:04
Speaker A
اگر ان کے پاس مورل اتھارٹی نہیں ہوگی تو مجھے یہ بتائیں کہ وہ کیسے وہ کیسے پروٹیکٹ کر سکتے ہیں جو پاکستانیوں کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے۔
12:13
Speaker A
یہی اسحاق ڈار صاحب نے کہا تھا کہ 200 ارب ڈالر پاکستانیوں کا سوئس بینک میں پچھلے تین سال میں ساڑھے سات ارب ڈالر پاکستانیوں نے پراپرٹی خریدی ہے دبئی میں۔
12:23
Speaker A
اب مجھے یہ بتائیں کہ اگر ان کے اوپر آ گیا ہے کہ ان کے بھی آف شور اکاؤنٹس ہیں یہ ان کے
12:30
Speaker A
ایسٹس اور ایف بی آر کو الیکشن کمیشن کو غلط بیانی کرنا یہ جو چاروں الزامات ہیں جب تک ان کی آپ یہ جواب نہیں دیں گے یہ ایشو جانے نہیں لگا۔
12:41
Speaker A
اور یہ نہ ہی ہم نے ایشو جانے دینا ہے کیونکہ ہماری ایز ان اپوزیشن ہمیں الیکٹڈ لوگ ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستانی قوم کو ریپریزنٹ کریں
12:50
Speaker A
کیونکہ پاکستانی قوم جواب مانگ رہی ہے۔
12:53
Speaker A
میں میں آج پھر کہنے لگا ہوں کہ اگر یہ کمیشن ایک ایمپاورڈ کمیشن نہ بنائی گئی ہمارے پاس سڑکوں پہ آنے کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔
13:02
Speaker A
یہ نہ آپ کہنا کہ جی جمہوریت کے خلاف ہے۔ جمہوریت کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ فوری طور کے اوپر اس کے اوپر ایک ایسی انویسٹیگیشن کریں
13:12
Speaker A
وہ ایسی ہو جو ساری اپوزیشن اور گورنمنٹ مانے۔
13:18
Speaker A
یہ نہ ہو کہ ون سائیڈڈ ہو دونوں مانے اگر یہ آپ کر جاتے ہیں ہم انتظار کریں گے اگر آپ یہ نہیں کرتے تو اس کے بعد
Topics:عمران خانپاناما لیکسشوکت خانم ہسپتالکرپشنپاکستانی سیاستقومی اسمبلیٹیکس ایویژنحکومتاپوزیشنقرضہ

Frequently Asked Questions

عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا؟

عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ہسپتال نے غریب مریضوں کا مفت علاج کیا ہے، اس پر سیاسی حملے غیر ذمہ دارانہ ہیں۔

پاناما لیکس معاملے میں عمران خان نے کیا سوالات اٹھائے؟

عمران خان نے وزیراعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیوں کے نام آنے پر شفافیت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزیراعظم کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے چاہئیں۔

عمران خان نے پاکستان کی موجودہ مالی صورتحال پر کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا قرضہ بڑھ رہا ہے اور ٹیکس کلیکشن کم ہے، جس کی وجہ سے ملک مالی بحران کا شکار ہے اور کرپشن روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →