Imran khan speech in national assembly on 16 may 2016 — Transcript

عمران خان کی قومی اسمبلی میں تقریر، پیناما لیکس، شوکت خانم ہاسپٹل اور حکومت کی ذمہ داریوں پر تبصرہ۔

Key Takeaways

  • پیناما لیکس کے الزامات بین الاقوامی تحقیقات پر مبنی ہیں، نہ کہ سیاسی سازش۔
  • شوکت خانم ہاسپٹل کے فنڈز کی شفافیت اور حفاظت ضروری ہے۔
  • حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوامی پیسے کی حفاظت کرے اور بدعنوانی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
  • جمہوری عمل میں برداشت اور عزت کا مظاہرہ ضروری ہے۔
  • وزیراعظم کو اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا جواب دینا ہوگا۔

Summary

  • عمران خان نے پیناما لیکس کے الزامات کی وضاحت کی اور کہا کہ یہ اپوزیشن کی سازش نہیں بلکہ بین الاقوامی انکشافات ہیں۔
  • انہوں نے شوکت خانم ہاسپٹل پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ہاسپٹل کا فنڈ محفوظ ہے۔
  • عمران خان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی پیسے کی حفاظت کرے اور چوری پکڑے۔
  • انہوں نے پارلیمنٹ میں غیر پارلیمنٹری زبان کے استعمال کی مذمت کی اور جمہوریت میں برداشت کی اہمیت پر زور دیا۔
  • عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی آف شور کمپنیز کے الزامات کا جواب دینا ہوگا۔
  • انہوں نے شوکت خانم کے فنڈز کی شفافیت اور اوورسیز سے فنڈنگ کی وضاحت کی۔
  • عمران خان نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ خیراتی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے نقصان نہ پہنچائے۔
  • انہوں نے کہا کہ اگر ان کی حکومت آئی تو وہ بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
  • عمران خان نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کے وزرائے اعظم نے بھی اس طرح کے الزامات کا سامنا کیا۔
  • انہوں نے عوام اور پارلیمنٹ سے حوصلہ اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:10
Speaker B
جناب اسپیکر
00:13
Speaker A
ابھی میں نے جو تقریر سنی لگا اس طرح کے الزامات عمران خان نے لگائے ہیں یا خورشید شاہ نے لگائے ہیں یا اپوزیشن نے لگائے ہیں۔
00:26
Speaker A
میں یہ ریمائنڈ کروا دوں میرے ممبر
00:35
Speaker A
کہ یہ الزامات ایک لیک پیناما میں فرم کی ہوئی جس لیک کی وجہ سے 100 سے زیادہ انٹرنیشنل جرنلسٹ ان کا کنسورشیم بیٹھا انہوں نے پیپرز دیکھے اور اس کے بعد وہ یہ چیزوں کے انکشافات کیے۔
00:57
Speaker A
یہ کوئی کسی اپوزیشن کی کوئی سازش نہیں ہے کوئی ہم نے کوئی پلان نہیں کیا کوئی ہم نے کسی کو وکٹمائز کرنے کے لیے نہیں کیا۔
01:06
Speaker A
یہ اصل میں چیزیں وہ نکلی ہیں جن کو چھپایا گیا تھا۔
01:13
Speaker A
اب میں سب سے پہلے تو اپنے وزیر صاحب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں۔
01:21
Speaker A
کہ اگر دنیا کی ڈیموکریسی ہوتی ہے اس کے اندر جب ایک گورنمنٹ کے اوپر الزام لگتا ہے
01:33
Speaker A
اور یہ ہم نے نہیں لگایا یہ تو انٹرنیشنل تھا۔
01:40
Speaker A
کیا گورنمنٹ کا کام ہے کہ اس کا جواب دے یا وہ کاؤنٹر الزام لگا دے۔
01:46
Speaker A
اس میں شوکت خانم کدھر سے آ گیا کیونکہ شوکت خانم کا تو نام آیا نہیں تھا وہاں پیناما پیپرز میں تو اس کا نام نہیں آیا۔
01:53
Speaker A
ایک وزیر کہہ رہا ہے کہ بنی گالہ کی پراپرٹی اور وہ بھی اس کے اوپر بھی کوئی شک وہ بھی نہیں آیا۔
02:00
Speaker A
انٹرنیشنلی تو جو نام آیا ہے وہ پرائم منسٹر کے بچوں کی کمپنیز کا نام آیا ہے۔
02:06
Speaker A
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اگر اپوزیشن ہیں تو کیا اگر پبلک منی
02:13
Speaker A
یہ یاد رکھیں کہ جو پرائم منسٹر ہوتا ہے ملک کا وہ ایک ملک میں لیڈرشپ دیتا ہے۔
02:20
Speaker A
لیڈ بائے ایگزامپل کرتا ہے۔
02:22
Speaker A
تو ہمارا اگر اپوزیشن یہ پوچھ بھی نہ سکے اگر پوچھے تو آگے سے کاؤنٹر الزام لگا دے
02:30
Speaker A
اور وہ بھی کس چیز پہ
02:34
Speaker A
وہ بھی کس پہ الزام لگائیں ایک کینسر ہاسپٹل میں۔
02:38
Speaker A
میں وزیر صاحب اپ سے یہ پوچھتا ہوں آج اس فورم پہ کھڑا ہو کے
02:44
Speaker A
کہ اگر تو ایک پبلک منی سے بنا ہوا ہاسپٹل کسی قسم کی بھی کوئی غلط کام کرتا ہے
02:52
Speaker A
تو ذمہ داری تو آپ کی ہے پکڑنا۔
02:55
Speaker A
میری ذمہ داری تو نہیں ہے۔
02:57
Speaker A
گورنمنٹ کا کام ہے کہ چوریوں کو پکڑنا۔
03:00
Speaker A
میرا تو کام نہیں ہے۔
03:03
Speaker A
اور کیا یہ آپ کو خیال تب آیا
03:10
Speaker A
جبکہ پرائم منسٹر کی یہ انکشافات ہو گئے اس کے بچوں کے تب آپ کو یاد آیا۔
03:15
Speaker A
اگر آپ نے یہ پہلے تھا
03:21
Speaker A
آپ کو یہ پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ ایک پبلک
03:28
Speaker A
ایک پبلک پیسے سے بنا ہوا ہاسپٹل کا انڈاؤمنٹ فنڈ اگر غلط انویسٹمنٹ کر گیا ہے
03:35
Speaker A
تو آپ کو پروب کرنی چاہیے تھی۔
03:38
Speaker A
میں انشاءاللہ اگر ہماری گورنمنٹ آئے گی میں تو چھوڑوں گا نہیں۔
03:42
Speaker A
میں تو پکڑ لوں گا آپ کو سب کو۔
03:44
Speaker A
میں تو نہیں چھوڑوں گا۔
03:46
Speaker A
تو آپ اگر
03:48
Speaker B
نو کراس ٹاک۔
03:50
Speaker B
نو کراس ٹاک۔
03:52
Speaker B
آئی ہیو ٹولڈ یو ونس ڈونٹ ڈو اٹ اگین پلیز۔
03:54
Speaker A
دیکھیں جی میں اسپیکر صاحب آج اپنی ساری
04:00
Speaker A
ممبرز سے بات کرنا چاہتا ہوں صرف ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔
04:04
Speaker A
میں یہاں اپوزیشن بیٹھا ہوا تھا اسی وزیر نے جو زبان میرے اوپر استعمال کی
04:10
Speaker A
میں چپ کر کے سنتا رہا میری ساری پارٹی چپ کر کے سنتی رہی۔
04:14
Speaker A
ہم آرام سے بیٹھے کیونکہ جمہوریت کے اندر
04:20
Speaker A
حوصلہ چاہیے برداشت چاہیے ہے۔
04:22
Speaker A
آپ کو حوصلہ چاہیے ہے۔
04:25
Speaker A
دلیری چاہیے ہے۔
04:28
Speaker A
جمہوریت کے اندر یہ نہیں ہوتا کہ ایک آدمی آپ اپنی بات کر دیں
04:35
Speaker A
اور اگلے بیٹھ کو پرائم منسٹر بیٹھا ہے اور سن رہا ہے اور اس طرح کی زبان
04:41
Speaker A
غیر پارلیمنٹری زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
04:44
Speaker A
یہ تقریروں میں نہ کریں۔
04:46
Speaker A
یہ دھرنے پہ کریں۔
04:47
Speaker B
آپ کو میں نے ایک دفعہ کہا ہے کہ پلیز ڈونٹ انٹرفیئر۔
04:50
Speaker A
دیکھیں پارلیمنٹ کے اندر
04:51
Speaker B
پارلیمنٹ کے اندر
04:54
Speaker A
پارلیمنٹ میں ایسی زبان استعمال نہیں ہوتی اس لیے اس کو پارلیمنٹ غیر پارلیمنٹری کہتے ہیں۔
05:00
Speaker A
آپ اس طرح کی زبان استعمال کریں اور پرائم منسٹر بڑی خوشی سے معصوم سا چہرہ بنا کے ہنس رہا ہو۔
05:06
Speaker A
اور تماشا دیکھ رہا ہو کہ ایک آدمی ایک پارلیمنٹری لیڈر کو ذلیل کر رہا ہے اور آپ اجازت دے دیں۔
05:12
Speaker A
اور پھر جب وہ بولنے لگے تو یہاں شور مچا دے حوصلہ رکھو دلیر ہو۔
05:18
Speaker A
دل گردہ رکھو سنو میری بات اب۔
05:23
Speaker A
اب سنیں اسپیکر صاحب میں جو اب کہنا چاہتا ہوں وہ یہ
05:27
Speaker A
کہ دیکھیں مجھے آج ایک میں ایک اور سوال کا جواب پوچھتا ہوں ان سے۔
05:33
Speaker A
ایک کینسر ہاسپٹل پاکستان میں یہ واحد کینسر ہاسپٹل ہے
05:40
Speaker A
جدھر اس ملک کا غریب آدمی جا کے علاج کروا سکتا ہے۔
05:46
Speaker A
یہ دنیا کا واحد کینسر ہاسپٹل ہے جدھر 70 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
05:53
Speaker A
350 کروڑ روپیہ خرچ کرتی ہے غریب مریضوں پہ۔
05:58
Speaker A
میں اگر ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ جو صرف اس لیے انہوں نے کیا کہ میں نے جب سے ہم نے
06:06
Speaker A
اپنا ایز ان اپوزیشن کی ہمارا فرض اور حق ہے کہ ہم اٹھائیں چیزیں۔
06:12
Speaker A
جو کہ ایک انٹرنیشنل ساری دنیا میں ہلبلی مچی ہوئی ہے۔
06:19
Speaker A
مجھے بتائیں کہ آئس لینڈ کے پرائم منسٹر کو جب اس نے ریزائن کیا
06:25
Speaker A
اس نے کہا کہ اپوزیشن
06:27
Speaker A
اگر نہیں بھی کیا تو ان سے
06:29
Speaker B
میں نے آپ کو منع کیا ہے میں سٹرکٹ ایکشن مت کریں یہ۔
06:33
Speaker B
جب ایک کوئی پارلیمنٹری لیڈر بول رہا ہے یہ نارمز سیکھیں عزت کرنا سیکھیں مت کریں یہ پلیز۔
06:40
Speaker A
پرائم منسٹر جب بھی آئس لینڈ کا جو وہ جس کی
06:46
Speaker A
اپنی پارٹی کہہ رہی ہے ریزائن کرو کیا اس نے کہا ہے کہ اپوزیشن آپ نے بھی آف شور کمپنیز ہیں۔
06:53
Speaker A
کیا یہ جو پرائم منسٹر ہندوستان کا ہے اس نے جو ہائی پاور کمیٹی بنائی ہے
07:00
Speaker A
اس نے کیا کہا ہے کہ اچھا جی اپوزیشن یہاں کی کوئی سازش ہوئی ہے اس کے اندر بڑے بڑے نام آئے ہیں۔
07:07
Speaker A
کیا ڈیوڈ کیمرون جو ہے برطانیہ کا پرائم منسٹر اس کے جو والد کا نام آیا ہے
07:14
Speaker A
کیا اس نے کہا ہے کہ میں تو اپوزیشن اپنا بتائے کہ ان کے آف شور اکاؤنٹس کتنے ہیں۔
07:21
Speaker A
دیکھیں جب آپ پرائم منسٹر بنتے ہیں یا ملک کی ذمہ داری جب آپ عوام کے
07:30
Speaker A
عوام کے ٹیکس کے ذمہ دار ہوتے ہیں آپ ایمانداری سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور عوام پہ خرچ کرتے ہیں
07:37
Speaker A
تو آپ پہ ذمہ داری آ جاتی ہے۔
07:40
Speaker A
کیونکہ جو شاہ صاحب نے بات بالکل ٹھیک کی گورنمنٹ کا جو پرائم منسٹر ہے
07:47
Speaker A
اس کے پاس سب سے بڑی قوت اس کی مورل اتھارٹی ہوتی ہے۔
07:52
Speaker A
ایک ڈیموکریسی کے اندر پرائم منسٹر کے پاس فوج نہیں ہوتی۔
07:59
Speaker A
وہ پولیس سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتا۔
08:02
Speaker A
وہ اس کے پاس صرف مورل اتھارٹی ہوتی ہے۔
08:06
Speaker A
اور اس لیے مورل اتھارٹی کی وجہ سے پرائم منسٹر کو ایکسپلین کرنا پڑتا ہے۔
08:13
Speaker A
یہ نہیں کہ جی بڑا میاں صاحب نے بہت بڑا کارنامہ کر دیا کہ انہوں نے جا کے میڈیا کے اوپر آ گئے۔
08:21
Speaker A
یہ انہوں نے کوئی احسان نہیں کیا ان کا
08:26
Speaker A
ان کا فرض بنتا ہے کہ قوم کو بتائیں کہ جو کمپنیز کے نام آئے ہیں
08:32
Speaker A
ان کو ان کا کام تھا بتانا۔
08:34
Speaker A
میں واپس آتا ہوں شوکت خانم پہ صرف میں اس لیے
08:39
Speaker A
الزام لگایا گیا کہ جناب انڈاؤمنٹ فنڈ کا پیسہ انویسٹ ہوا ہے۔
08:45
Speaker A
یہ انہوں نے کہا آف شور کمپنی پہ۔
08:48
Speaker A
سب سے پہلے تو میں کلیئر کر دوں کہ شوکت خانم ایک انسٹیٹیوشن ہے۔
08:55
Speaker A
میں اس کے انڈاؤمنٹ فنڈ پہ نہیں بیٹھتا میں اس کی انویسٹمنٹس نہیں کرتا۔
09:01
Speaker A
لیکن میں نے یہ کہا کہ تین ملین ڈالر کی بات انہوں نے کی کہ وہ ڈوب گیا ہے۔
09:07
Speaker A
میں کل پریس کانفرنس سن رہا تھا۔
09:11
Speaker A
تو وزیر بیٹھے ہوئے ذمہ دار وزیر
09:16
Speaker A
کہہ رہے ہیں جی اس کا پیسہ ڈوب گیا ہے۔
09:19
Speaker A
اگر تو آپ بلیک میل کرنے کے لیے نہیں استعمال کر رہے تھے اس چیز کو اور اگر واقعی آپ کو کنسرن تھا
09:29
Speaker A
ایک ٹیلی فون کرتے شوکت خانم کو آپ کو پتہ چلنا تھا کہ 29 جون کو
09:36
Speaker A
شوکت خانم 2015 میں وہ تین ملین ڈالر واپس آ چکا تھا۔
09:41
Speaker A
وہ ڈوبا نہیں تھا۔
09:43
Speaker A
اور آپ یہ جو جب آپ شک و شبہات ایک ہاسپٹل کے اوپر کرتے ہیں
09:50
Speaker A
میرا کوئسچن یہ ہے
09:51
Speaker A
کہ اگر وہ بند ہو جاتا ہے۔
09:54
Speaker A
سپوزنگ وہ ہاسپٹل بند ہو جاتا ہے۔
09:57
Speaker A
کیا گورنمنٹ نے یہاں کوئی ہاسپٹل کھڑے کیے ہوئے ہیں جدھر جا کے غریب آدمی کینسر کا علاج کرائے۔
10:03
Speaker A
یعنی کتنی غیر ذمہ دار چیز ہے کہ آپ ایک ہاسپٹل کو نہیں چھوڑ رہے
10:11
Speaker A
جس کا وہ پیسہ بھی ڈوبا نہیں جس کے اوپر سارا شور مچایا ہے۔
10:18
Speaker A
انڈاؤمنٹ فنڈ جو ہوتا ہے یہ اب دوسری انہوں نے بات کی کہ جی انڈاؤمنٹ فنڈ آپ نے آف شور انویسٹ کر دیا ہے۔
10:26
Speaker A
میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ شوکت خانم کا 40 فیصد فنڈ آتا ہے اوورسیز سے۔
10:33
Speaker A
یہ سارے انگلینڈ امریکہ سے مڈل ایسٹ سے اس کے فنڈز آتے ہیں 40 فیصد۔
10:40
Speaker A
شوکت خانم کو مشینری ایکوپمنٹ خریدنی پڑتی ہے باہر سے۔
10:46
Speaker A
ساری دوائیاں باہر سے امپورٹ ہوتی ہیں۔
10:50
Speaker A
اس کے لیے پیسہ چاہیے ہوتا ہے اس لیے پیسہ باہر رکھا جاتا ہے۔
10:54
Speaker A
یہاں سے منی لانڈرنگ کر کے پیسہ نہیں گیا اور کوئی چیز چھپائی نہیں گئی۔
11:00
Speaker A
سارے شوکت خانم کے جو ساری فنڈز ہیں سب اوپن ہیں۔
11:06
Speaker A
کوئی دیکھ سکتا ہے۔
11:08
Speaker A
یہ ہم نے کوئی آف شور کمپنی میں چھپایا نہیں کہ ہمیں سارے اوپن فنڈز ہیں۔
11:13
Speaker A
ان کو پتہ کیسے چلا۔
11:15
Speaker A
ان کو پتہ ایسے چلا کیونکہ ہمارے کتاب میں ہے۔
11:19
Speaker A
ہم نے ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔
11:21
Speaker A
ہمیں کوئی چھپانے کی چیز نہیں ہے اس میں۔
11:23
Speaker A
کوئی بھی جا کے چیک کر سکتا ہے۔
11:26
Speaker A
تو میں ان سے ریکویسٹ کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ ہے۔
11:33
Speaker A
اپنے لیڈر کی جو اتنے بڑے اس کے اوپر الزامات لگے ہیں چار لگے ہیں اس کے اوپر۔
11:40
Speaker A
یہ جو یہ جو ان کے اوپر آف شور کمپنیز کے ہیں چار ایلیگیشنز ہیں میجر ایلیگیشنز۔
11:46
Speaker A
ٹیکس ایویژن منی لانڈرنگ ہائیڈنگ ایسٹس الیکشن کمیشن کو غلط بیانی کرنا۔
11:52
Speaker A
یہ میجر آفنسز ہیں۔
11:55
Speaker A
ان کو جواب دینا پڑتا ہے اس کا پڑنا ہے اور پڑے گا۔
11:59
Speaker A
تو مجھے یہ بتائیں کہ شوکت خانم کس چیز کا جواب دے۔
12:02
Speaker A
انہوں نے تو سارا ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔
12:06
Speaker A
ان کے تو بکس کے اوپر ہے۔
12:09
Speaker A
وہ تو کوئی چھپا کے انہوں نے نہیں ڈالا عمران خان نے تو کوئی میں تو انویسٹمنٹ ایکسپرٹ نہیں ہوں۔
12:15
Speaker A
وہاں کی کمیٹی بیٹھی ہے جو انویسٹ کرتی ہے پیسے
12:19
Speaker A
اور جب وہ پیسہ واپس آ گیا ہاسپٹل کو کیا ان کو یہ چاہیے نہیں تھا
12:27
Speaker A
کہ اتنا بڑی غلط بیانی کرتے ٹی وی پہ جا کے گورنمنٹ کے آفسز میں بیٹھ کے
12:34
Speaker A
کہہ رہے ہیں جی ڈوب گیا تین ملین ڈالر کیا ان کا کام نہیں تھا
12:38
Speaker A
کہ ایک ٹیلی فون کر کے شوکت خانم کو پوچھتے کہ پیسہ واپس آیا یا نہیں۔
12:44
Speaker A
کیا یہ یہ ہے پاکستان کی پولیٹکس کہ آپ اپنی کرسی بچانے کے لیے
12:51
Speaker A
پیسہ بچانے کے لیے آپ ایک خیراتی ادارے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
12:58
Speaker A
آپ ایک سب سے بڑا ادارہ
13:01
Speaker A
اور اپنے ہاسپٹلز کا حال دیکھیں یہاں۔
13:04
Speaker A
گورنمنٹ ہاسپٹلز کا حال دیکھیں۔
13:07
Speaker A
آپ ایک اس ہاسپٹل کو ختم کر رہے ہیں ایک وہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کا ہے۔
13:12
Speaker A
آغا خان اور شوکت خانم انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے ہاسپٹل ہیں۔
13:15
Speaker A
جو بھی یہاں یہاں تو پیسے والے لوگ بیٹھے ہیں۔
13:18
Speaker A
آپ جا کے اگر اپنا علاج کروائیں آج باہر کینسر کا شوکت خانم میں جو علاج 100 روپے کا ہوتا ہے
13:25
Speaker A
وہ وہی علاج باہر کینسر کا 1000 روپے کا ہوتا ہے 10 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
13:30
Speaker A
تو پیسے والے لوگوں کو بھی ضرورت ہے اس ہاسپٹل کی۔
13:33
Speaker A
میں خود دو دفعہ اس ہاسپٹل میں گیا۔
13:36
Speaker A
تو اس لیے میں آپ کو ریکویسٹ کرتا ہوں کہ دیکھیں ملک کا سوچیں۔
13:41
Speaker A
اپنی پولیٹکس کا نہ سوچیں
13:45
Speaker A
اور آپ کو آپ کی تو سب کی ذمہ داری ہے۔
13:49
Speaker A
میں آپ سے اگلی بات کرتا ہوں۔
13:50
Speaker A
آپ کی ذمہ داری ہے۔
13:52
Speaker A
آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ کو پوچھنا چاہیے کہ پرائم منسٹر صاحب آپ ہمارے پارٹی کے ہیڈ ہیں۔
13:58
Speaker A
آپ ڈکلیئر کریں اپنے ایسٹس۔
14:01
Speaker A
آپ کو بجائے ان کو پروٹیکٹ کرنے کے آپ کو کہیں آپ نے اگر چوری نہیں کی
14:06
Speaker A
آپ نے کچھ کیا نہیں۔
14:08
Speaker A
اپنے ایسٹس ڈکلیئر کر دیں۔
14:10
Speaker A
مارگریٹ تھیچر کو کسی اپوزیشن نے نہیں نکالا تھا۔
14:16
Speaker A
مارگریٹ تھیچر کو کنزرویٹو پارٹی نے نکالا تھا۔
14:21
Speaker A
ٹونی بلیئر کو اپوزیشن نے نہیں جاری دیا تھا ٹونی بلیئر کو لیبر پارٹی نے کہا تھا کہ اب آپ جائیں۔
14:27
Speaker A
آپ کا کام ہے کہ اگر
14:30
Speaker A
میاں نواز شریف کی کوئی رانگ ڈوئنگ نہیں ہے آپ کہیں ذرا آپ اپنے آپ کو پیش کریں۔
14:36
Speaker A
آپ اس کو کلیئر کریں۔
14:38
Speaker A
آپ کا کیا کام ہے کہ ایک شوکت ایک ہاسپٹل کو اٹیک کر رہے ہیں۔
14:41
Speaker A
صرف اس لیے کہ میں چپ ہو جاؤں مجھے بلیک میل کر رہے ہیں کہ میں چپ ہو جاؤں میں نواز شریف کی بات نہ کروں۔
14:48
Speaker A
اسپیکر صاحب میں اپنے سارے ممبرز سے آج یہ کہنا چاہتا ہوں دیکھیں۔
14:52
Speaker A
یہ جو چیز یہ جو چیزیں سامنے آئی ہیں یہ پاکستان کا ڈیفائننگ مومنٹ بن سکتا ہے۔
14:59
Speaker A
اگر آج ہم اس کا فائدہ اٹھا لیں۔
15:02
Speaker A
یہ پاکستان کا ڈیفائننگ مومنٹ کس طرح بن سکتا ہے۔
15:08
Speaker A
پاکستان کے دو آج پاکستان اگر اس سٹیٹ پہ ہے کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے
15:16
Speaker A
اپنے ملک کو چلانے کے لیے۔
15:20
Speaker A
آج اگر ہم اس سٹیٹ پہ ہیں تو اس کی دو وجہ ہیں۔
15:26
Speaker A
ایک ہے ٹیکس ایویژن۔
15:29
Speaker A
جو شوکت ترین جب فائنانس منسٹر تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ 700 ارب روپے کی صرف
15:36
Speaker A
سی بی آر کے اندر کرپشن ہے۔
15:40
Speaker A
یعنی جو ٹیکس کلیکشن میں 700 ارب کی ہے۔
15:45
Speaker A
تقریباً 3.6 ٹریلین روپیز سالانہ۔
15:50
Speaker A
میری یہ ریکویسٹ ہے کہ اگر ہم آج یہ جو بھی کرائسس آیا ہے
15:57
Speaker A
اس سے ہم اگر اپنے سسٹمز ٹھیک کر لیں تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان یہ جو جس
16:04
Speaker A
جس طرف تباہی کی طرف جا رہا ہے ہم بچ جائیں۔
16:09
Speaker A
آپ یہ دیکھیں کہ
16:13
Speaker A
پاکستان کا جو ٹوٹل قرضہ تھا 2005 میں پانچ ٹریلین روپیہ تھا۔
16:20
Speaker A
5000 ارب روپیہ۔
16:22
Speaker A
آج پاکستان کا قرضہ ہے
16:28
Speaker A
2100 ارب روپیہ۔
16:32
Speaker A
21 ٹریلین روپیز۔
16:34
Speaker A
پچھلے تین سال کے اندر پاکستان میں پانچ ٹریلین روپیز کا قرضہ چڑھا ہے۔
16:40
Speaker A
قرضہ کیوں چڑھ رہا ہے کہ ہم اپنے ٹیکسز اکٹھے نہیں کر سکتے۔
16:43
Speaker A
پاکستان کی لوسٹ ٹیکس جی ڈی پی ریشو ہے دنیا میں۔
16:47
Speaker A
ہم کرپشن نہیں روک سکتے یہ جو ہیمرج ہو رہی ہے اس کی وجہ سے ہم اپنے ایکسپینسز نہیں میٹ کر سکتے۔
16:53
Speaker A
اس کی وجہ سے اسپیکر صاحب پاکستان کے ہم بچوں کو سکولوں میں نہیں پڑھا سکتے۔
16:59
Speaker A
ڈھائی ڈھائی کروڑ پاکستان کا بچہ سکولوں میں نہیں ہے۔
17:05
Speaker A
ڈھائی لاکھ بچہ پاکستان کا مرتا ہے گندے پینے پانی کی بیماریوں سے۔
17:12
Speaker A
پاکستان میں اسپیکر صاحب پرابلم یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے ملک چلانے کو۔
17:18
Speaker A
انفراسٹرکچر بنانے کو۔
17:22
Speaker A
ہم اپنے کسانوں کی مدد نہیں کر سکتے۔
17:26
Speaker A
ان کا برا حال ہے۔
17:28
Speaker A
تو ہم پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتے۔
17:32
Speaker A
اگر اس سے یہ جو ابھی چیزیں سامنے آئی ہیں ہم اگر اپنے دو چیزیں ٹھیک کر لیں
17:39
Speaker A
اپنا ٹیکس کا نظام ٹھیک کر لیں۔
17:43
Speaker A
ٹیکس ایویژن کے اوپر ہم ہم میجرز لیں
17:49
Speaker A
ایسٹس ڈکلیئر کروائیں لوگوں کے۔
17:53
Speaker A
ساروں کو کہیں کہ اپنے ایسٹس ڈکلیئر کریں۔
17:57
Speaker A
جتنے باہر ایسٹس پڑے ہوئے ہیں ڈکلیئر کریں۔
18:01
Speaker A
اس سے ہم فائدہ اٹھاتے ہوئے جو سب سے امپورٹنٹ چیز ہے کہ اپنی نیب کو ٹھیک کر لیں۔
18:06
Speaker A
ایک انڈیپنڈنٹ نیب بنا دیں۔
18:11
Speaker A
جو کہ کوئی امتیاز کسی میں نہ کرے گورنمنٹ ہو یا ہو ان کو پکڑ سکے۔
18:17
Speaker A
تو ہم ایک بائبل ملک بن سکتے ہیں۔
18:21
Speaker A
جس طرح ہم جا رہے ہیں اگر ہم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اگر یہ چیزیں انکشافات ہوئی تھیں
18:28
Speaker A
اس کی ضرورت ایک انڈیپنڈنٹ انکوائری کی بہت ضرورت ہے۔
18:32
Speaker A
ضرورت ہے آج پاکستان کو۔
18:34
Speaker A
ابھی وزیر صاحب نے کہا کہ دیکھیں انڈیپنڈنٹ ایک جج کے نیچے ہو سکتی ہے
18:40
Speaker A
ریٹائرڈ جج کے نیچے بھی لیکن جو مرضی ہو۔
18:42
Speaker A
میں آپ کو یہ سجیسٹ کرتا ہوں کہ کیا کرنا چاہیے۔
18:46
Speaker A
اس سچویشن کے اندر ہمیں ایک چیف جسٹس کے نیچے ایک کمیشن بنانی چاہیے۔
18:52
Speaker A
کیونکہ چیف جسٹس ہی کے پاس ایک کانفیڈنس ہوگا ان کے پاس سٹیچر ہوگا۔
19:01
Speaker A
ان کے نیچے کمیشن بنانی چاہیے جس کے نیچے جو ہیڈ کرے
19:08
Speaker A
وہ ہو فرانزک ایکسپرٹ انویسٹیگیٹنگ وائٹ کالر کرائم۔
19:13
Speaker A
اور ہمیں ایک باہر سے کمپنی میں ریکویسٹ یہ بھی کرتا ہوں کہ ایک کمپنی ہائر کریں۔
19:19
Speaker A
جو آڈٹ کر سکے۔
19:21
Speaker A
اس کے اندر یہ ساری چیزیں انویسٹیگیٹ کریں کیونکہ یہ جانے نہیں لگیں۔
19:26
Speaker A
یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ایک ہفتے کے بعد چلی جائے گی یہ ایک انٹرنیشنل ایشو بن گیا ہے۔
19:31
Speaker A
نیوزی لینڈ میں انکوائری ہے آسٹریلیا میں ہے فرانس میں ہے یوکرین میں ہے رشیا میں شروع ہو گئی ہے انگلینڈ میں بات چیت ہو رہی ہے۔
19:38
Speaker A
یہ جائے گی نہیں۔
19:40
Speaker A
ہندوستان کے پرائم منسٹر نے 25 اپریل کو ایک اتنی ہائی پاور کمیٹی جس میں ایف بی آر ہے
19:47
Speaker A
ججز ہیں لائرز ہیں اس نے 25 اپریل تک رپورٹ مانگی ہے۔
19:52
Speaker A
اگر ہم بھی سچ اس میں سے نکالنا چاہتے ہیں اور اس سے پھر ایک ملک کو آگے لے جانا چاہتے ہیں
19:57
Speaker A
کیونکہ قومیں آگے تب جاتی ہیں اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔
20:00
Speaker A
اگر ہم یہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اس طرح کی ایک ہائی لیول کمیٹی بنانی پڑے گی۔
20:04
Speaker A
میں آپ کو یہ آج کہہ دوں کہ جی یہ سارے پاکستان کے اندر اس وقت
20:10
Speaker A
ایک بہت بڑا ایک غصہ ہے۔
20:14
Speaker A
یہ نہ سمجھے کہ لوگ یہ بھول جائیں گے اب۔
20:17
Speaker A
کیونکہ جو لوگوں کو شک تھا وہ چیزیں سامنے آ گئی ہیں۔
20:21
Speaker A
پرائم منسٹر کا بہت ضروری ہے کہ اپنے آپ کو پیش کریں احتساب کے لیے۔
20:28
Speaker A
وہ کیوں ضروری ہے؟
20:30
Speaker A
کیونکہ اگر پرائم منسٹر کے پاس مورل اتھارٹی نہیں ہوگی اگر ان کے پاس وہ مورل اتھارٹی نہیں ہوگی
20:37
Speaker A
تو مجھے یہ بتائیں کہ وہ کیسے وہ کیسے پروب کر سکتے ہیں جو پاکستانیوں کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے۔
20:42
Speaker A
یہی اسحاق ڈار صاحب نے کہا تھا کہ 200 ارب ڈالر پاکستانیوں کا سوئٹزرلینڈ میں ہے۔
20:47
Speaker A
پچھلے تین سال میں ساڑھے سات ارب ڈالر پاکستانیوں نے پراپرٹی خریدی ہے دبئی میں۔
20:52
Speaker A
اب مجھے یہ بتائیں کہ اگر ان کے اوپر آ گیا ہے کہ ان کے بھی آف شور اکاؤنٹس ہیں
20:59
Speaker A
یہ ان کے پاس کون سی مورل اتھارٹی ہے کہ یہ پیسہ واپس لے کے آئیں گے۔
21:04
Speaker A
الیکشن میں بڑا کہا گیا تھا کہ ہم پیٹ پھاڑ کے پیسہ لے کے آئیں گے اور ہم 60 ملین ڈالرز لے کے آئیں گے۔
21:10
Speaker A
کیوں نہیں لے کے آئے؟
21:12
Speaker A
کیونکہ ان کے پاس مورل اتھارٹی نہیں ہے جب ان کے اپنے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں۔
21:17
Speaker A
اور دوسرا ٹیکس کیسے اکٹھا کریں گے اگر اس کے اندر ٹیکس ایویژن یہ میں نے پھر سے کہا
21:23
Speaker A
ٹیکس ایویژن منی لانڈرنگ نان ڈیکلیریشن آف ایسٹس اور پھر ای سی کو الیکشن کمیشن کو غلط بیانی کرنا۔
21:30
Speaker A
یہ جو چاروں الزام ہیں جب تک ان کی آپ یہ جواب نہیں دیں گے یہ ایشو جانے نہیں لگا۔
21:36
Speaker A
اور یہ نہ ہی ہم نے ایشو جانے دینا ہے کیونکہ ہماری ایز ان اپوزیشن
21:42
Speaker A
ہمیں الیکٹڈ لوگ ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستانی قوم کو ریپریزنٹ کریں۔
21:47
Speaker A
اس وقت پاکستانی قوم جواب مانگ رہی ہے۔
21:50
Speaker A
میں میں آج پھر کہنے لگا ہوں کہ اگر یہ کمیشن ایک ایمپاورڈ کمیشن نہ بنائی گئی
21:57
Speaker A
ہمارے پاس سڑکوں پہ آنے کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔
22:00
Speaker A
پھر یہ نہ آپ کہنا
22:03
Speaker A
کہ جی جمہوریت کے خلاف ہے۔
22:05
Speaker A
جمہوریت کا تقاضا تو یہ ہے
22:09
Speaker A
کہ آپ فوری طور کے اوپر اس کے اوپر ایک ایسی انویسٹیگیشن کریں
22:13
Speaker A
وہ وہ ایسی ہو جو ساری اپوزیشن اور گورنمنٹ مانے۔
22:17
Speaker A
یہ نہ ہو کہ ون سائیڈڈ ہو۔
22:18
Speaker A
دونوں مانیں۔
22:20
Speaker A
اگر یہ آپ کر جاتے ہیں ہم دیکھیں انتظار کریں گے۔
22:23
Speaker A
اگر آپ یہ نہیں کرتے
22:27
Speaker A
تو اس کے بعد
22:30
Speaker A
حوصلہ رکھیں۔
22:31
Speaker A
تھوڑا سا حوصلہ اور۔
22:32
Speaker B
ادھر پلیز ایڈریس دی چیئر۔
22:35
Speaker A
میں کہتا ہوں کہ یہ کمیشن بنائیں۔
22:37
Speaker A
سب سے پہلے عمران خان کی انویسٹیگیشن کریں۔
22:40
Speaker A
میاں صاحب سے بھی پہلے میری انویسٹیگیشن کریں۔
22:43
Speaker A
میرے سارے
22:46
Speaker A
شوکت خانم کی بھی پوری انویسٹیگیشن کریں اس کے انڈاؤمنٹ فنڈ کی بھی پوری انویسٹیگیشن کریں۔
22:51
Speaker A
سارا کچھ کھولیں اس کے پاس آڈٹ رپورٹس ہیں۔
22:54
Speaker A
میرے بنی گالہ کی بھی پوری انویسٹیگیشن کریں کیونکہ انہوں نے مجھے کہا ہے۔
23:00
Speaker A
ایک وزیر کا بیان آیا کہ جی بنی گالہ میں بھی پتہ نہیں کدھر سے پیسہ ہے
23:05
Speaker A
میں بنی گالہ کا آپ کو بتا دوں کہ عمران خان کی ساری جو 18 سال باہر کمائی کی
23:13
Speaker A
باہر سے ایک فلیٹ جو تھا وہ بیچ کے بینک کے ذریعے پیسہ لے کے آ کے یہ بنی گالہ کی پراپرٹی خریدی ہے۔
23:19
Speaker A
کوئی چاہتا ہے میری انویسٹیگیشن کرے۔
23:21
Speaker A
میں ہماری طرح کے لوگوں نے پاکستان کو فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ 19 ارب ڈالر پاکستانیوں کا اوورسیز کا رییمیٹنسز کا آتا ہے پاکستان میں ان پہ پاکستان چل رہا ہے۔
23:29
Speaker A
اور یہاں سے منی لانڈرنگ کر کے جو پیسہ باہر جاتا ہے وہ پاکستان کو تباہ کر رہا ہے۔
23:34
Speaker A
اس کی آپ پوری کریں۔
Topics:عمران خانپیناما لیکسشوکت خانمقومی اسمبلیپاکستان سیاستبدعنوانیجمہوریتآف شور کمپنیزحکومتپارلیمنٹ

Frequently Asked Questions

پیناما لیکس میں عمران خان نے کیا موقف اختیار کیا؟

عمران خان نے کہا کہ پیناما لیکس کے الزامات بین الاقوامی جرنلسٹوں کی تحقیقات پر مبنی ہیں اور یہ کسی سیاسی سازش کا حصہ نہیں ہیں۔

شوکت خانم ہاسپٹل پر لگائے گئے الزامات کا عمران خان کیا جواب ہے؟

عمران خان نے وضاحت کی کہ شوکت خانم کے انڈاؤمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری محفوظ ہے اور تین ملین ڈالر واپس آ چکے ہیں، اس لیے الزامات بے بنیاد ہیں۔

عمران خان نے حکومت سے کیا مطالبہ کیا؟

انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ عوامی پیسے کی حفاظت کرے، بدعنوانی پکڑے اور خیراتی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے نقصان نہ پہنچائے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →