عمران خان نے مردان میں بلدیاتی نظام کی اہمیت اور نوجوانوں کو خودمختاری دینے پر زور دیا۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- بلدیاتی نظام سے مقامی خودمختاری اور ترقی ممکن ہوگی۔
- نوجوانوں کو سیاسی عمل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
- تحریک انصاف پرانے سیاسی حریفوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
- مقامی فیصلے گاؤں اور مردان میں ہونے چاہئیں، نہ کہ بڑے شہروں میں۔
- نیا پاکستان پختونخواہ سے شروع ہوگا۔
What the video covers
- عمران خان نے مردان میں نوجوانوں کا شاندار استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
- انہوں نے بلدیاتی انتخابات نہ کروانے کی وجہ پیسوں کے مرکزیت کو قرار دیا۔
- نیا بلدیاتی نظام گاؤں کی سطح پر اختیارات دے گا اور ترقیاتی فنڈز مقامی نمائندوں کو ملیں گے۔
- عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کے بلدیاتی نظام کی مثال دی جہاں ہر گاؤں خود مختار ہے۔
- انہوں نے کہا کہ اس نظام سے لوگ وزیروں اور ایم این اے کے محتاج نہیں رہیں گے۔
- بلدیاتی انتخابات کے ذریعے 45 ہزار نمائندے منتخب ہوں گے جو پختونخواہ میں انقلاب لائیں گے۔
- انہوں نے پرانے سیاسی دشمنوں کے اتحاد کا ذکر کیا جو تحریک انصاف کی سونامی کی وجہ سے ہوا۔
- عمران خان نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کو شکست دیں گے۔
- انہوں نے بلدیاتی نظام کو نیا پاکستان بنانے کا آغاز قرار دیا۔
- عمران خان نے نوجوانوں کو 30 مئی کو ووٹ ڈالنے کی تاکید کی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
ایاک نعبد و ایاک نستعین
Speaker A
اللہ تیری عبادت کرتے ہیں اللہ تیرے سے مدد مانگتے ہیں
Speaker A
میرے مردانو مردان کے نوجوانوں
Speaker A
اس شاندار استقبال کا آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں بہت بہت شکریہ آپ کا
Speaker A
میں جب آ رہا تھا تو مجھے ایک اے این پی کے کارکن نے کہا کہ عمران خان مردان میں سونامی ختم ہو گئی ہے
Speaker A
میرے دوست اسفندیار اسفندیار سونامی ختم نہیں ہوئی سونامی تو شروع ہوئی ہے
Speaker A
ابھی ابھی تو ہم نے وہ کرنا ہے
Speaker A
وہ چیزیں کرنی ہیں
Speaker A
جو کبھی پاکستان میں نہیں ہوئی
Speaker A
سب سے پہلے
Speaker A
میں اپنے اے این پی کے دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ پانچ سال آپ نے حکومت کی
Speaker A
بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کروائے
Speaker A
کیوں نہیں کروائے
Speaker A
کیوں نہیں کروائے
Speaker A
ایزی لوڈ کے لیے نہیں کروائے
Speaker A
کیونکہ جب جب بلدیاتی نظام نہیں ہوتا
Speaker A
تو سارا پیسہ چیف منسٹر کے پاس
Speaker A
اور ایم این اے اور ایم پی اور وزیروں کے پاس ہوتا ہے
Speaker A
لیکن جب بلدیاتی نظام آ جاتا ہے
Speaker A
اور وہ بلدیاتی نظام جو آنے والا ہے
Speaker A
یہ یاد رکھو مردان کے نوجوانوں
Speaker A
ایسا بلدیاتی نظام کبھی پہلے پاکستان میں نہیں آیا جو آنے والا ہے
Speaker A
گاؤں کی سطح کے اوپر لوگوں کو اختیارات دیے گئے
Speaker A
گاؤں میں بیٹھے بیٹھے لوگ اپنی زندگی کا پہلی دفعہ فیصلہ کریں گے
Speaker A
گاؤں کے لوگوں کے پاس ترقیاتی فنڈ آئیں گے
Speaker A
ایم این اے ایم پی اے کے پاس نہیں آئیں گے
Speaker A
آپ کے بلدیاتی نمائندوں کے پاس
Speaker A
ولیج گاؤں کی کونسل
Speaker A
ان کے پاس فنڈ جائیں گے اور لوگ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں گے
Speaker A
عرضیاں درخواستیں پکڑ کے آپ وزیروں اور ایم این اے ایم پی او کے پیچھے نہیں بھاگیں گے
Speaker A
ایم این اے اور ایم پی
Speaker A
آپ کے پیچھے آئیں گے
Speaker A
یہ انقلاب ہے
Speaker A
یہ ہے آزادی
Speaker A
آزادی کا مطلب کہ قوم خود اپنے فیصلے کرتی
Speaker A
جب گاؤں آزاد ہوتا ہے تو گاؤں کے فیصلے گاؤں میں ہوتے ہیں
Speaker A
جب مردان آزاد ہوگا تو مردان کے فیصلے مردان میں ہوں گے پشاور میں نہیں ہوں گے
Speaker A
مردان کے نمائندے جو آپ منتخب کریں گے
Speaker A
وہ فیصلہ کریں گے
Speaker A
سکول کدھر بننا ہے
Speaker A
کرکٹ کھیلنا کی گراؤنڈ کدھر بننی ہے
Speaker A
ہسپتال کدھر بننا ہے
Speaker A
اور جو ہم نظام لے کے آ رہے ہیں
Speaker A
یہ ذرا سنیں
Speaker A
اور نوجوانوں یہ خاص طور پہ آپ کے لیے ہے کیونکہ مستقبل آپ کا ہے
Speaker A
مستقبل آپ کا ہے
Speaker A
میں نے یہ بلدیاتی نظام خود بنایا ہے
Speaker A
میں نے کدھر سے دیکھا یہ
Speaker A
میں نے مغرب میں سوئٹزرلینڈ میں یورپ میں بلدیاتی نظام دیکھ کے میں نے فیصلہ کیا
Speaker A
کہ جب تک ہم پاکستان میں وہ بلدیاتی نظام نہیں لے کے آئیں گے ہمارے لوگ غلامی کریں گے
Speaker A
ایم پی اے کی اور وزیروں کی غلامی کریں گے
Speaker A
سوئٹزرلینڈ
Speaker A
سوئٹزرلینڈ ایک ایسا ملک ہے جدھر سوائے پہاڑوں کے اور گایوں کے اور کچھ نہیں ہوتا
Speaker A
لیکن سب سے یورپ میں سب سے خوشحال ملک ہے سوئٹزرلینڈ
Speaker A
کیوں
Speaker A
کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے اندر ہر گاؤں اپنے فیصلے کرتا ہے ہر شہر اپنے فیصلے کرتا ہے
Speaker A
لوگ آزاد ہیں
Speaker A
لوگ اپنے سکول چلاتے ہیں
Speaker A
لوگ اپنی ڈسپنسری چلاتے ہیں
Speaker A
اپنے ہسپتال چلاتے ہیں
Speaker A
اپنی گراؤنڈیں نوجوان نوجوان اپنی گراؤنڈیں بناتے ہیں اور چلاتے ہیں
Speaker A
اس لیے آپ کو کسی کے پیچھے جانا نہیں پڑتا محتاج نہیں ہونا پڑتا
Speaker A
عرضیاں اور درخواستیں لے کے نہیں جانا پڑتا
Speaker A
تو میں آج آپ کو مبارک دینے آیا ہوں کہ چند دنوں کے بعد جب بلدیاتی الیکشن ہوگا
Speaker A
اور میں شکر کرتا ہوں الیکشن کمیشن کا کہ آپ نے مجھے اجازت دی اپنے لوگوں کے پاس جانے کی
Speaker A
پہلے مجھے روک دیا تھا
Speaker A
پہلے مجھے کیوں روک دیا تھا
Speaker A
میں نے سوچا کہ جمہوریت کیسی ہے کہ پارٹی کا چیئرمین
Speaker A
اپنی عوام کے پاس نہیں جا سکتا منشور بتانے کے لیے
Speaker A
تو میں آج آیا ہوں اور شکر ہے مجھے موقع مل گیا آپ سے بات کرنے کا
Speaker A
کہ پہلے تو پختونخواہ کے لوگوں یہ ایک چیز دیکھنا
Speaker A
کہ جو بلدیاتی نظام آئے گا یہاں 45 ہزار الیکٹڈ نمائندے ہوں گے
Speaker A
45 ہزار پختونخواہ میں
Speaker A
یہ ہے انقلاب
Speaker A
اور پختونخواہ کی پاکستان میں صرف 13 فیصد آبادی ہے
Speaker A
پنجاب کی 60 فیصد آبادی ہے
Speaker A
تو پختونخواہ کے تو 45 ہزار لوگ الیکٹ ہو کے آئیں گے
Speaker A
60 فیصد پنجاب کے
Speaker A
35 ہزار سے بھی کم لوگ الیکٹ ہوں گے
Speaker A
وہاں آزادی نہیں آئے گی
Speaker A
ادھر آزاد پھر بھی نہیں ہوں گے
Speaker A
اب دو تین چیزیں اور
Speaker A
میں نے سنا ہے کہ پرانے دشمن
Speaker A
ایک طرف سیکولر اے این پی
Speaker A
اور دوسری طرف دینی
Speaker A
مولانا صاحب
Speaker A
اب تک اب تک دونوں ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے تھے
Speaker A
لیکن تحریک انصاف کے نوجوانوں آپ کو مبارک ہو آپ نے ان دونوں کو اکٹھا کر دیا ہے
Speaker A
آپ کے خوف سے
Speaker A
ادھر یہ دو اکٹھے ہو گئے ہیں اور ادھر دو بھائی اور اکٹھے ہو گئے ہیں تحریک انصاف کی سونامی کی وجہ سے
Speaker A
نواز شریف اور آصف زرداری
Speaker A
آپ فکر نہ کریں
Speaker A
آپ فکر نہ کرو نوجوانوں
Speaker A
آپ کا کپتان ان سب کو آپ کے ساتھ مل کے شکست دے گا
Speaker A
انشاءاللہ
Speaker A
سچ اور حق کا نظام لے کے آئیں گے
Speaker A
یاد رکھیں
Speaker A
پاکستانیوں یاد رکھو
Speaker A
کوشش انسان کرتا ہے
Speaker A
نیت انصاف کی ہے عزت اور کامیابی اللہ دیتا ہے
Speaker A
انشاءاللہ
Speaker A
آپ دیکھیں گے
Speaker A
دیر لگی ہے دو سال لگے ہیں سمجھنے میں
Speaker A
لیکن انشاءاللہ آپ دیکھیں گے
Speaker A
کہ جب یہ بلدیاتی نظام شروع ہوگا
Speaker A
انشاءاللہ جو نیا پاکستان کی میں خواب دیکھتا ہوں وہ پختونخواہ سے شروع ہوگی
Speaker A
تیسری کو آپ نے کس کے اوپر مہر لگانی ہے
Speaker A
کدھر بلا
Speaker A
یہ والا
Speaker A
یہ والے بلے کے اوپر آپ نے 30 کو ووٹ لگانی ہے
Speaker A
آپ دیکھیں گے
Speaker A
دیر لگی ہے دو سال لگے ہیں سمجھنے میں
Speaker A
لیکن انشاءاللہ آپ دیکھیں گے
Speaker A
کہ جب یہ بلدیاتی نظام شروع ہوگا
Speaker A
انشاءاللہ جو نیا پاکستان کی میں خواب دیکھتا ہوں وہ پختونخواہ سے شروع ہوگی
Topics:عمران خانمردانبلدیاتی نظامتحریک انصافنوجوانپاکستانسیاسی تبدیلیپختونخواہالیکشنخودمختاری











