Imran Khan roaring in Sialkot Jalsa and Blasts mismanag… — Transcript

عمران خان نے سیالکوٹ جلسے میں کرپشن، بدانتظامی اور ملک کی تباہی کے راستے پر روشنی ڈالی اور عدل و انصاف کی اہمیت پر زور دیا۔

Key Takeaways

  • کرپشن ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
  • اداروں کی مضبوطی اور عدل و انصاف سے ہی خوشحالی ممکن ہے۔
  • ماضی کی مثالوں سے سیکھ کر پاکستان کو ترقی کے راستے پر لانا ہوگا۔
  • بیرونی قرضے اور دباؤ ملک کی آزادی اور معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • سیاسی قیادت کو خود احتسابی اور شفافیت اپنانا ہوگی۔

Summary

  • عمران خان نے سیالکوٹ جلسے میں عوام کا شاندار استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
  • انہوں نے ملک کی موجودہ کرپشن اور بدانتظامی کی شدید مذمت کی۔
  • پاکستان اور سنگاپور کی معاشی ترقی کا موازنہ کیا اور سنگاپور کی کامیابی میں عدل و انصاف کو کلیدی قرار دیا۔
  • کرپشن کے خاتمے اور اداروں کی مضبوطی کو خوشحالی کی بنیاد بتایا۔
  • انہوں نے نواز شریف کے کرپشن کے حوالے سے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
  • پاکستان کی معیشت کی تباہی اور قرضوں کے بوجھ پر روشنی ڈالی۔
  • ایران سے گیس نہ لینے کی وجہ بیرونی دباؤ کو قرار دیا۔
  • عدل و انصاف کے نظام کو مدینہ کی ریاست کی مثال سے سمجھایا۔
  • دو راستوں کی تمثیل دی: تباہی کا راستہ اور خوشحالی کا راستہ۔
  • پختونخوا کی حکومت کی مثال دے کر اداروں کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کی اہمیت بتائی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
تحریک انصاف کا جلسہ جاری ہے اور عمران خان خطاب کر رہے ہیں۔
00:35
Speaker B
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین ماشاءاللہ
00:56
Speaker B
سیالکوٹ کے شہریوں میں اس شاندار استقبال کا آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
01:48
Speaker B
دعائیں ہیں آپ کے لیے، زندہ لوگ ہیں آپ۔
01:54
Speaker B
سیاسی شعور رکھنے والے لوگ ہیں، میں نے سارے راستے میں
02:02
Speaker B
دکانوں میں دیکھا، ساری جگہ لوگ دکانوں سے باہر کھڑے تھے۔
02:10
Speaker B
میں نے بزرگوں کو دیکھا۔
02:16
Speaker B
میں نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو دیکھا۔
02:24
Speaker B
اور مجھے خوشی یہ ہے کہ آج ہر طبقے کے لوگ یہاں ہیں۔
02:32
Speaker B
یہاں ہماری خواتین ہیں جن کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
02:40
Speaker B
رکشہ والے، ٹیکسی والے
02:46
Speaker B
یہاں مسیحی برادری ہے ان کو میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
02:51
Speaker B
اور میں آج میں چاہتا ہوں کہ آرام سے اور تحمل سے
02:58
Speaker B
آج میری آپ بات سنیں تاکہ میں آپ کو بتاؤں
03:05
Speaker B
کہ ایک طرف ہمیں ایک سنہری دور نظر آ رہا ہے۔
03:11
Speaker B
اور دوسری طرف ہمارا تباہی کا راستہ ہے۔
03:16
Speaker B
اس کو انگریزی میں کہتے ہیں کراس روڈز۔
03:21
Speaker B
جب ایک معاشرہ ایک اس موڑ پہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ وہ سیدھا نہیں جا سکتا۔
03:28
Speaker B
یا وہ ایک راستہ لیتا ہے اور یا وہ دوسرا راستہ لیتا ہے۔
03:34
Speaker B
میں میں آرام سے چاہتا ہوں کہ آپ سب سنیں۔
03:40
Speaker B
مسلمان جب نماز پڑھتا ہے
03:45
Speaker B
تو اللہ سے صرف ایک چیز نماز میں مانگتا ہے کہ اللہ
03:53
Speaker B
مجھے ان کے راستے پہ لگا جن کو تو نے نعمتیں بخشیں۔
03:59
Speaker B
جن کو انعام دیے۔
04:04
Speaker B
اللہ ان کے راستے نہیں جو اپنی تباہی کے راستے پہ نکل گئے۔
04:10
Speaker B
تو سیالکوٹ کے لوگو
04:15
Speaker B
ایک طرف ہے وہ راستہ جن کو اللہ نے اپنے انعام بخشے۔
04:21
Speaker B
وہ کون لوگ ہیں؟
04:25
Speaker B
وہ اللہ کے نبی، ولی اللہ، شہید۔
04:31
Speaker B
وہ لوگ جن کو اللہ نے پسند کیا۔
04:36
Speaker B
اور دوسری طرف گمراہ لوگ۔
04:41
Speaker B
تو ایک قوم بھی ایک قوم بھی ہر وقت
04:47
Speaker B
یہ دو راستوں کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
04:52
Speaker B
ایک طرف ہے عدل اور انصاف کا راستہ۔
04:57
Speaker B
وہ راستہ جس میں اللہ خوشحالی دیتا ہے۔
05:02
Speaker B
جس میں عزت دیتا ہے اللہ اس راستے پہ۔
05:07
Speaker B
اور دوسرے راستے پہ ذلت، غربت، انتشار، جرم، دہشت گردی، تباہی۔
05:13
Speaker B
تو میں آج آپ کو ایک پہلے ویڈیو دکھاتا ہوں اس کے بعد میں آپ کو بتاتا ہوں۔
05:20
Speaker B
کہ ہم کدھر کھڑے ہیں اور ہم نے جانا کدھر ہے۔
05:25
Speaker B
یہ ذرا ویڈیو دیکھیں یہ کل نواز شریف نے ایک سٹیٹمنٹ دی ہے ذرا میں
05:31
Speaker B
یہ سن لیں اور پھر میں آپ کو آگے مزید بات کرتا ہوں۔
05:35
Speaker A
وزیراعظم نے کہا کہ اتنے گھپلے اور کرپشن کے سکینڈل ہیں
05:40
Speaker A
کہ اگر تحقیقات کی جائے تو سارا وقت اسی میں چلا جائے گا۔
05:45
Speaker A
اتنا کچھ پروو ہونے والا ہے، اتنے گھپلے ہیں
05:52
Speaker A
اتنے یہاں کرپشن کے سکینڈلز ہیں
05:59
Speaker A
کہ جتنا کہا جائے اتنا کم ہے۔
06:03
Speaker B
سنا؟
06:06
Speaker B
ذرا غور سے سنیں پھر۔
06:09
Speaker B
انہوں نے کہا کہ اتنے کرپشن کے سکینڈل ہیں۔
06:16
Speaker B
کہ اگر آدمی ان کے اوپر اگر کرپشن کے اوپر توجہ دے تو اور کوئی کام نہیں کر سکتا۔
06:23
Speaker B
میں پاکستانیوں میں جب بڑا ہو رہا تھا
06:28
Speaker B
پاکستان سب سے تیزی سے اس خطے میں ترقی کر رہا تھا۔
06:34
Speaker B
ہم سب سے تیزی سے آگے جا رہے تھے۔
06:38
Speaker B
پاکستان کا جو سالانہ آمدنی تھی
06:44
Speaker B
وہ سنگاپور کے برابر تھی۔
06:48
Speaker B
نوجوانوں یہ سنو آپ۔
06:51
Speaker B
پاکستان کی جو اوسط آمدنی تھی
06:56
Speaker B
وہ تقریبا 400، 500 ڈالر تھی۔
07:01
Speaker B
سنگاپور کے برابر۔
07:04
Speaker B
وہ سنگاپور آج
07:07
Speaker B
کدھر کھڑا ہے اور پاکستان کدھر کھڑا ہے۔
07:11
Speaker B
50 سال کے بعد
07:14
Speaker B
پاکستان کی اوسط آمدنی
07:19
Speaker B
ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار ڈالر ہے۔
07:23
Speaker B
جانتے ہیں سنگاپور کی اوسط آمدنی کیا ہے؟
07:26
Speaker B
50 ہزار ارب، 50 ہزار ڈالر۔
07:31
Speaker B
اوسط آمدنی ہر یعنی ہر سنگاپور
07:35
Speaker B
کا شہری اس کی آمدنی 50 ہزار ڈالر ہے۔
07:39
Speaker B
پاکستان کی ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار ڈالر ہے۔
07:42
Speaker B
کیا ہوا؟
07:45
Speaker B
سنگاپور کو ایک لیڈر ملا۔
07:48
Speaker B
اس نے سنگاپور میں عدل اور انصاف
07:53
Speaker B
قانون ٹھیک کیا۔
07:56
Speaker B
ادارے مضبوط کیے۔
07:59
Speaker B
اور یہ جو ابھی میاں نواز شریف کہہ رہے تھے۔
08:05
Speaker B
کہ یہاں کرپشن اتنی ہے ہم کیا کریں؟
08:09
Speaker B
اگر ہم کرپشن کے اوپر ہاتھ ڈالتے ہیں تو ڈویلپمنٹ نہیں ہو سکتی۔
08:15
Speaker B
سنگاپور میں اس نے کرپشن پہ ہاتھ ڈالا۔
08:20
Speaker B
ادارے مضبوط کیے۔
08:23
Speaker B
اور وہ ڈویلپمنٹ ہوئی جو میں آج آپ کو بتا رہا ہوں
08:30
Speaker B
کہ وہاں اوسط آمدنی 50 ہزار ارب روپیہ ڈالر ہے۔
08:35
Speaker B
تو کیا ہوا؟
08:38
Speaker B
ادھر تو انہوں نے جب کرپشن پہ ہاتھ ڈالا تو وہ تو ڈویلپمنٹ ہوئی۔
08:44
Speaker B
وہ تو ملک آگے نکل گیا۔
08:47
Speaker B
آج پاکستان کی ایکسپورٹ
08:51
Speaker B
20 ارب ڈالر ہے۔
08:54
Speaker B
جانتے ہیں سنگاپور کی ایکسپورٹ کیا ہے؟
08:58
Speaker B
سنگاپور کی آبادی 40، 50 لاکھ ہے۔
09:02
Speaker B
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہے۔
09:05
Speaker B
سنگاپور کی ایکسپورٹس
09:09
Speaker B
پاکستان کی ایکسپورٹ ہے 20 ارب ڈالر۔
09:12
Speaker B
سنگاپور کی ایکسپورٹ جانتے ہیں کیا ہے؟
09:16
Speaker B
520 ارب ڈالر۔
09:20
Speaker B
میں یہ آپ کو بتا رہا ہوں کہ جو ملک اپنی کرپشن کو
09:27
Speaker B
کرپشن کو ختم کرتے ہیں انصاف کا نظام لے کے آتے ہیں۔
09:33
Speaker B
ادارے مضبوط کرتے ہیں۔
09:36
Speaker B
وہ خوشحال ہوتے ہیں۔
09:39
Speaker B
ادھر خوشحالی آتی ہے۔
09:41
Speaker B
ادھر ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔
09:44
Speaker B
یہ جو نواز شریف ابھی کہہ رہے تھے۔
09:49
Speaker B
کہ کرپشن ہم کرپشن کو پکڑیں یا ڈویلپمنٹ کریں۔
09:53
Speaker B
جب آپ کرپشن کو نہیں پکڑتے میاں صاحب تو ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔
10:00
Speaker B
وہ صرف آپ کے آپ کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں ہوتی ہے۔
10:06
Speaker B
آپ کے میفیئر فلیٹس بنتے ہیں۔
10:09
Speaker B
آپ کی ذاتی فیکٹریاں بنتی ہیں۔
10:12
Speaker B
قوم غریب ہو جاتی ہے۔
10:15
Speaker B
چھوٹا سا طبقہ امیر ہو جاتا ہے۔
10:19
Speaker B
ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
10:22
Speaker B
تو یہ یہ ملک بنا تھا۔
10:26
Speaker B
کبھی میں اس چیز کو بھولنا۔
10:30
Speaker B
یہ ملک بنا تھا کہ ہم نے ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانی تھی۔
10:37
Speaker B
تو جو اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی تھی۔
10:43
Speaker B
ادھر سب سے بڑی چیز کیا تھی؟
10:47
Speaker B
عدل اور انصاف۔
10:50
Speaker B
کیا تھا ان کے پاس؟
10:53
Speaker B
مجھے بتائیں عربوں کے پاس کیا تھا؟
10:56
Speaker B
ابھی تو 13 صدیوں کے بعد
11:00
Speaker B
تیل ملا تھا۔
11:02
Speaker B
وہ تو ریگستان تھا۔
11:05
Speaker B
تو کیا چیز تھی وہاں کون سی ٹیکنالوجی آئی؟
11:11
Speaker B
کدھر سے انویسٹمنٹ آئی؟
11:14
Speaker B
کیا ہوا کہ وہ دنیا کی عظیم ترین سپر پاور بن گئے۔
11:21
Speaker B
700 سال تک دنیا کی پاور بنے رہے۔
11:25
Speaker B
کیا تھا؟
11:29
Speaker B
عدل اور انصاف۔
11:31
Speaker B
ادارے مضبوط کیے۔
11:34
Speaker B
ان کا جو لیڈر تھے صادق اور امین تھے سچے اور ایماندار۔
11:41
Speaker B
اور انہوں نے جب ادارے مضبوط کیے تو مسلمانوں کے انصاف کا نظام ایسا تھا۔
11:48
Speaker B
کہ جو دوسری قومیں تھیں
11:53
Speaker B
وہ مسلمانوں جب ان کو جب رومن رومن ایمپائر گر رہا تھا یا پرشین ایمپائر گر رہا تھا دوسری قومیں دعوت دیتی تھیں ان کو۔
12:01
Speaker B
کیونکہ مسلمانوں کا انصاف کا نظام اچھا تھا۔
12:05
Speaker B
تو یہ ہے وہ پاکستان۔
12:09
Speaker B
جو ہم نے اس ریاست کے کی شکل میں بنانا تھا۔
12:16
Speaker B
جدھر ہم نے ایک ایسا نظام لے کے آنا تھا۔
12:22
Speaker B
جدھر ایسا عدل اور انصاف کا نظام تھا۔
12:26
Speaker B
کہ یہاں خوشحالی آنی تھی۔
12:29
Speaker B
یہاں جس طرح مدینہ کی ریاست میں ایک وقت آیا
12:36
Speaker B
کہ زکوۃ لینے کے لیے لوگ نہیں ملتے تھے۔
12:40
Speaker B
تو سیالکوٹ کے لوگو
12:43
Speaker B
یہ ہے ہمارا راستہ۔
12:47
Speaker B
دو راستے ہیں۔
12:50
Speaker B
تباہی کا راستہ ہے۔
12:53
Speaker B
اسی راستے پہ چلتے رہے۔
12:55
Speaker B
ایک چھوٹا سا ٹولہ آئے حکومت کرے
13:00
Speaker B
پیسے بنائے پیسہ ملک سے باہر بھیجے۔
13:04
Speaker B
منی لانڈرنگ کرے۔
13:07
Speaker B
اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے۔
13:11
Speaker B
اور قوم غریب ہوتی جائے۔
13:14
Speaker B
نہ قوم کو تعلیم دے۔
13:17
Speaker B
نہ اپنے کسانوں کا دھیان رکھے۔
13:21
Speaker B
نہ لوگوں کے لیے ہسپتال بنائے۔
13:24
Speaker B
نہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا بندوبست کرے۔
13:29
Speaker B
قوم غریب ہوتی جائے۔
13:32
Speaker B
مقروض ہوتی جائے۔
13:35
Speaker B
پیسے چوری کر کے جب باہر جائیں گے تو ملک کو قرضے لیے۔
13:40
Speaker B
آئی ایم ایف سے قرضے لو۔
13:43
Speaker B
قرضے واپس کرنے کے لیے لوگوں پہ ٹیکس لگاؤ۔
13:48
Speaker B
ٹیکس لگاؤ گے قیمتیں بڑھیں گی۔
13:51
Speaker B
غریب اور مزید غریب ہو گا۔
13:54
Speaker B
غربت بڑھے گی۔
13:56
Speaker B
یہ ہے ہماری تباہی کا راستہ۔
14:01
Speaker B
جب ہم ٹیکس جب ہم قرضے جن ملکوں سے لیں گے۔
14:06
Speaker B
ہم اپنی آزادی کھو بیٹھیں گے۔
14:10
Speaker B
ہمیں پوچھیں
14:13
Speaker B
کہ یہاں اتنی مہنگی بجلی ہے۔
14:16
Speaker B
ایران ساتھ والا ملک تھا۔
14:19
Speaker B
گیس دینے کے لیے تیار تھا۔
14:22
Speaker B
کیوں نہیں ہم نے ایران سے گیس لی؟
14:25
Speaker B
کیونکہ جن لوگوں سے ہم قرضے لے رہے تھے
14:32
Speaker B
وہ ہمیں اجازت نہیں دیتے تھے کہ ہم ایران سے گیس پائپ
14:38
Speaker B
پائپ لائن لگا کے تو گیس لیں۔
14:42
Speaker B
تو جن لوگوں سے ہم قرضے لے رہے تھے
14:49
Speaker B
وہ ہمیں حکم کرتے تھے وہ حکم جو ان کی فارن پالیسی کے ساتھ تھے۔
14:55
Speaker B
جو ہماری عوام کے خلاف تھے۔
14:59
Speaker B
جو ہماری عوام کو غربت میں ڈال رہے تھے۔
15:04
Speaker B
قرضے لیتے ہیں کوئی
15:07
Speaker B
غلامی کرتی ہے قوم۔
15:10
Speaker B
قرضوں کی قیمت دیتی ہے قوم۔
15:13
Speaker B
کیسے قیمت دے دیتی ہے قرضوں کی؟
15:16
Speaker B
آئی ایم ایف نے ابھی اسحاق ڈار کو دبئی میں کہا
15:21
Speaker B
کہ 40 ارب روپے کے مزید اور ٹیکس لگاؤ پاکستانیوں پہ۔
15:27
Speaker B
تو جب 40 ارب روپے کے ٹیکس اور مزید اور لگیں گے۔
15:31
Speaker B
یاد رکھیں ساری چیزیں مہنگی ہوں گی۔
15:34
Speaker B
آپ کی بجلی مہنگی ہو گی۔
15:37
Speaker B
آپ کی گیس مہنگی ہو گی۔
15:40
Speaker B
پٹرول، ڈیزل مہنگا ہو گا۔
15:45
Speaker B
اور اس لیے اس لیے میرے پاکستانیوں
15:49
Speaker B
آج ہم بڑے اہم موڑ پہ کھڑے ہیں۔
15:53
Speaker B
ہم نے اب فیصلہ کرنا ہے۔
15:56
Speaker B
ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ایسے ہی چلتے رہنا ہے۔
16:00
Speaker B
قرضے لیتے رہنے ہیں۔
16:03
Speaker B
مقروض ہوتا جانا ہے۔
16:05
Speaker B
غربت بڑھتی جائے گی۔
16:08
Speaker B
یا جو میں آج آپ کو بتانے آیا ہوں۔
16:12
Speaker B
کہ انشاءاللہ ایک ہمارے پاس دوسرا راستہ ہے۔
16:17
Speaker B
دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے ادارے مضبوط کریں۔
16:22
Speaker B
نواز شریف جب کہتا ہے کہ ہم کیا کریں؟
16:26
Speaker B
کرپشن اتنی زیادہ ہے۔
16:29
Speaker B
نواز شریف آپ کچھ نہیں کر سکتے۔
16:32
Speaker B
کیونکہ اگر اگر آپ کرپشن ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائیں گے
16:39
Speaker B
آپ خود پکڑے جائیں گے۔
16:42
Speaker B
اگر آپ نیب کو ٹھیک کریں گے
16:46
Speaker B
تو نیب تو سب سے پہلے آپ کو پکڑے گی کیونکہ
16:51
Speaker B
آپ کے 13 کیسز ہیں نیب میں۔
16:55
Speaker B
اگر آپ نیب کو ٹھیک کریں گے
16:59
Speaker B
تو نیب تو آپ کے ساتھ بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وزیر بیٹھے ہوئے ہیں۔
17:05
Speaker B
آپ کے پاس ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں
17:09
Speaker B
جو پکڑے جائیں گے۔
17:12
Speaker B
تو جو قومیں ترقی کرتی ہیں
17:16
Speaker B
وہ ادارے مضبوط کرتی ہیں۔
17:19
Speaker B
اور ادارے مضبوط وہ کر سکتا ہے جس کو خود فکر نہ ہو۔
17:24
Speaker B
اس کو خود فکر نہ ہو کہ اگر انصاف کا نظام ٹھیک ہو گا تو وہ خود پکڑا جائے گا۔
17:29
Speaker B
انشاءاللہ یہ جو دوسرا راستہ ہے۔
17:32
Speaker B
یہ ہے پاکستان کے مستقبل کا راستہ خوشحالی کا راستہ۔
17:39
Speaker B
میں آپ کو
17:42
Speaker B
اب میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔
17:45
Speaker B
جب آپ اپنے ادارے مضبوط کرتے ہیں۔
17:49
Speaker B
ملک میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
17:52
Speaker B
سرمایہ کاری ہوتی ہے نوجوانوں نوکریاں ملتی ہیں۔
17:55
Speaker B
لیکن سرمایہ کاری تب ہوتی ہے جب آپ کا گورننس سسٹم ٹھیک ہوتا ہے۔
18:00
Speaker B
وہ تب ٹھیک ہوتا ہے جب آپ کے ادارے کام کرتے ہیں۔
18:03
Speaker B
جب آپ کی گورنمنٹ میں کرپشن جاتی ہے لوگ آپ کے ملک میں پیسہ لے کے آتے ہیں۔
18:08
Speaker B
فیکٹریاں لگاتے ہیں۔
18:11
Speaker B
جب سرمایہ کاری ہوتی ہے خوشحالی آتی ہے۔
18:14
Speaker B
تو پختونخوا کی میں آج آپ کو مثال دینے لگا ہوں۔
18:18
Speaker B
کہ ہماری تقریبا چار سال حکومت ہوئی۔
18:22
Speaker B
میں آج آپ کو پختونخوا کی مثال دیتا ہوں
18:27
Speaker B
کہ پہلی دفعہ پاکستان میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔
18:31
Speaker B
کہ پرائیویٹ سکولوں سے بچے گورنمنٹ سکولوں میں آئیں۔
18:36
Speaker B
یہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔
18:39
Speaker B
34 ہزار بچے گورنمنٹ سکولوں سے پرائیویٹ سکولوں سے گورنمنٹ سکول میں گئے ہیں۔
18:44
Speaker B
اور اس سے بھی بڑی بات
18:47
Speaker B
کہ ایک ہمارا ایم پی اے ضیاء اللہ بنگش اس نے ایم پی اے نے اپنی بیٹی
18:53
Speaker B
پرائیویٹ سکولوں سے نکال کے گورنمنٹ سکول میں ڈالی۔
19:00
Speaker B
فیصل کلپ ہے تو دکھائیں۔
19:03
Speaker A
پی ٹی آئی کے نعرے کے عین مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا
19:08
Speaker A
پرائیویٹ سکول سے ہٹا کر سرکاری سکول میں داخل کروا دیا۔
19:12
Speaker A
ایم پی اے کی بیٹی اب باقی تعلیم سرکاری سکول سے ہی حاصل کرے گی۔
19:17
Speaker A
اس سے یہ بات واضح ہو گئی۔
19:21
Speaker A
کہ سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
19:27
Speaker A
آپ کو میں نے میو ہسپتال کی ایک او پی ڈی دکھائی تھی۔
19:30
Speaker A
میں نے آپ کو سروسز ہسپتال کی ایک او پی ڈی دکھائی تھی۔
19:35
Speaker A
جناب خیبر پختونخوا کی او پی ڈی ہے۔
19:38
Speaker A
ذرا غور سے دیکھیں کہ جب کوئی یہاں آئے گا اور چیک اپ کروانے کے لیے
19:44
Speaker A
گورنمنٹ ہسپتال میں آئے گا۔
19:47
Speaker A
تو کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ ہسپتال کی او پی ڈی ہے۔
19:51
Speaker A
یہ پنجاب گورنمنٹ جو بڑے
19:56
Speaker A
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا خطاب جاری ہے۔
19:59
Speaker A
اس سے متعلق آپ کو مزید بھی اپڈیٹ
Topics:عمران خانسیالکوٹ جلسہکرپشنبدانتظامیپاکستان کی معیشتعدل و انصافنواز شریفقرضےمدینہ کی ریاستپختونخوا حکومت

Frequently Asked Questions

عمران خان نے سیالکوٹ جلسے میں کس موضوع پر بات کی؟

عمران خان نے سیالکوٹ جلسے میں ملک میں کرپشن، بدانتظامی، معیشت کی تباہی اور عدل و انصاف کی اہمیت پر تفصیل سے بات کی۔

عمران خان نے پاکستان اور سنگاپور کی معیشت کا موازنہ کیسے کیا؟

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی اوسط آمدنی سنگاپور کے برابر تھی مگر سنگاپور نے کرپشن ختم کر کے ادارے مضبوط کیے اور ترقی کی جبکہ پاکستان پیچھے رہ گیا۔

عمران خان کے مطابق پاکستان کو ترقی کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

عمران خان کے مطابق پاکستان کو کرپشن ختم کر کے، ادارے مضبوط کر کے اور عدل و انصاف کا نظام قائم کر کے ترقی کے راستے پر چلنا ہوگا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →