عمران خان نے سیالکوٹ جلسے میں کرپشن، بدانتظامی اور ملک کی تباہی کے راستے پر روشنی ڈالی اور عدل و انصاف کی اہمیت پر زور دیا۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- کرپشن ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
- اداروں کی مضبوطی اور عدل و انصاف سے ہی خوشحالی ممکن ہے۔
- ماضی کی مثالوں سے سیکھ کر پاکستان کو ترقی کے راستے پر لانا ہوگا۔
- بیرونی قرضے اور دباؤ ملک کی آزادی اور معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
- سیاسی قیادت کو خود احتسابی اور شفافیت اپنانا ہوگی۔
What the video covers
- عمران خان نے سیالکوٹ جلسے میں عوام کا شاندار استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
- انہوں نے ملک کی موجودہ کرپشن اور بدانتظامی کی شدید مذمت کی۔
- پاکستان اور سنگاپور کی معاشی ترقی کا موازنہ کیا اور سنگاپور کی کامیابی میں عدل و انصاف کو کلیدی قرار دیا۔
- کرپشن کے خاتمے اور اداروں کی مضبوطی کو خوشحالی کی بنیاد بتایا۔
- انہوں نے نواز شریف کے کرپشن کے حوالے سے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
- پاکستان کی معیشت کی تباہی اور قرضوں کے بوجھ پر روشنی ڈالی۔
- ایران سے گیس نہ لینے کی وجہ بیرونی دباؤ کو قرار دیا۔
- عدل و انصاف کے نظام کو مدینہ کی ریاست کی مثال سے سمجھایا۔
- دو راستوں کی تمثیل دی: تباہی کا راستہ اور خوشحالی کا راستہ۔
- پختونخوا کی حکومت کی مثال دے کر اداروں کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کی اہمیت بتائی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
تحریک انصاف کا جلسہ جاری ہے اور عمران خان خطاب کر رہے ہیں۔
Speaker B
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد و ایاک نستعین ماشاءاللہ
Speaker B
سیالکوٹ کے شہریوں میں اس شاندار استقبال کا آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
Speaker B
دعائیں ہیں آپ کے لیے، زندہ لوگ ہیں آپ۔
Speaker B
سیاسی شعور رکھنے والے لوگ ہیں، میں نے سارے راستے میں
Speaker B
دکانوں میں دیکھا، ساری جگہ لوگ دکانوں سے باہر کھڑے تھے۔
Speaker B
میں نے بزرگوں کو دیکھا۔
Speaker B
میں نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو دیکھا۔
Speaker B
اور مجھے خوشی یہ ہے کہ آج ہر طبقے کے لوگ یہاں ہیں۔
Speaker B
یہاں ہماری خواتین ہیں جن کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
Speaker B
رکشہ والے، ٹیکسی والے
Speaker B
یہاں مسیحی برادری ہے ان کو میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
Speaker B
اور میں آج میں چاہتا ہوں کہ آرام سے اور تحمل سے
Speaker B
آج میری آپ بات سنیں تاکہ میں آپ کو بتاؤں
Speaker B
کہ ایک طرف ہمیں ایک سنہری دور نظر آ رہا ہے۔
Speaker B
اور دوسری طرف ہمارا تباہی کا راستہ ہے۔
Speaker B
اس کو انگریزی میں کہتے ہیں کراس روڈز۔
Speaker B
جب ایک معاشرہ ایک اس موڑ پہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ وہ سیدھا نہیں جا سکتا۔
Speaker B
یا وہ ایک راستہ لیتا ہے اور یا وہ دوسرا راستہ لیتا ہے۔
Speaker B
میں میں آرام سے چاہتا ہوں کہ آپ سب سنیں۔
Speaker B
مسلمان جب نماز پڑھتا ہے
Speaker B
تو اللہ سے صرف ایک چیز نماز میں مانگتا ہے کہ اللہ
Speaker B
مجھے ان کے راستے پہ لگا جن کو تو نے نعمتیں بخشیں۔
Speaker B
جن کو انعام دیے۔
Speaker B
اللہ ان کے راستے نہیں جو اپنی تباہی کے راستے پہ نکل گئے۔
Speaker B
تو سیالکوٹ کے لوگو
Speaker B
ایک طرف ہے وہ راستہ جن کو اللہ نے اپنے انعام بخشے۔
Speaker B
وہ کون لوگ ہیں؟
Speaker B
وہ اللہ کے نبی، ولی اللہ، شہید۔
Speaker B
وہ لوگ جن کو اللہ نے پسند کیا۔
Speaker B
اور دوسری طرف گمراہ لوگ۔
Speaker B
تو ایک قوم بھی ایک قوم بھی ہر وقت
Speaker B
یہ دو راستوں کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
Speaker B
ایک طرف ہے عدل اور انصاف کا راستہ۔
Speaker B
وہ راستہ جس میں اللہ خوشحالی دیتا ہے۔
Speaker B
جس میں عزت دیتا ہے اللہ اس راستے پہ۔
Speaker B
اور دوسرے راستے پہ ذلت، غربت، انتشار، جرم، دہشت گردی، تباہی۔
Speaker B
تو میں آج آپ کو ایک پہلے ویڈیو دکھاتا ہوں اس کے بعد میں آپ کو بتاتا ہوں۔
Speaker B
کہ ہم کدھر کھڑے ہیں اور ہم نے جانا کدھر ہے۔
Speaker B
یہ ذرا ویڈیو دیکھیں یہ کل نواز شریف نے ایک سٹیٹمنٹ دی ہے ذرا میں
Speaker B
یہ سن لیں اور پھر میں آپ کو آگے مزید بات کرتا ہوں۔
Speaker A
وزیراعظم نے کہا کہ اتنے گھپلے اور کرپشن کے سکینڈل ہیں
Speaker A
کہ اگر تحقیقات کی جائے تو سارا وقت اسی میں چلا جائے گا۔
Speaker A
اتنا کچھ پروو ہونے والا ہے، اتنے گھپلے ہیں
Speaker A
اتنے یہاں کرپشن کے سکینڈلز ہیں
Speaker A
کہ جتنا کہا جائے اتنا کم ہے۔
Speaker B
سنا؟
Speaker B
ذرا غور سے سنیں پھر۔
Speaker B
انہوں نے کہا کہ اتنے کرپشن کے سکینڈل ہیں۔
Speaker B
کہ اگر آدمی ان کے اوپر اگر کرپشن کے اوپر توجہ دے تو اور کوئی کام نہیں کر سکتا۔
Speaker B
میں پاکستانیوں میں جب بڑا ہو رہا تھا
Speaker B
پاکستان سب سے تیزی سے اس خطے میں ترقی کر رہا تھا۔
Speaker B
ہم سب سے تیزی سے آگے جا رہے تھے۔
Speaker B
پاکستان کا جو سالانہ آمدنی تھی
Speaker B
وہ سنگاپور کے برابر تھی۔
Speaker B
نوجوانوں یہ سنو آپ۔
Speaker B
پاکستان کی جو اوسط آمدنی تھی
Speaker B
وہ تقریبا 400، 500 ڈالر تھی۔
Speaker B
سنگاپور کے برابر۔
Speaker B
وہ سنگاپور آج
Speaker B
کدھر کھڑا ہے اور پاکستان کدھر کھڑا ہے۔
Speaker B
50 سال کے بعد
Speaker B
پاکستان کی اوسط آمدنی
Speaker B
ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار ڈالر ہے۔
Speaker B
جانتے ہیں سنگاپور کی اوسط آمدنی کیا ہے؟
Speaker B
50 ہزار ارب، 50 ہزار ڈالر۔
Speaker B
اوسط آمدنی ہر یعنی ہر سنگاپور
Speaker B
کا شہری اس کی آمدنی 50 ہزار ڈالر ہے۔
Speaker B
پاکستان کی ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار ڈالر ہے۔
Speaker B
کیا ہوا؟
Speaker B
سنگاپور کو ایک لیڈر ملا۔
Speaker B
اس نے سنگاپور میں عدل اور انصاف
Speaker B
قانون ٹھیک کیا۔
Speaker B
ادارے مضبوط کیے۔
Speaker B
اور یہ جو ابھی میاں نواز شریف کہہ رہے تھے۔
Speaker B
کہ یہاں کرپشن اتنی ہے ہم کیا کریں؟
Speaker B
اگر ہم کرپشن کے اوپر ہاتھ ڈالتے ہیں تو ڈویلپمنٹ نہیں ہو سکتی۔
Speaker B
سنگاپور میں اس نے کرپشن پہ ہاتھ ڈالا۔
Speaker B
ادارے مضبوط کیے۔
Speaker B
اور وہ ڈویلپمنٹ ہوئی جو میں آج آپ کو بتا رہا ہوں
Speaker B
کہ وہاں اوسط آمدنی 50 ہزار ارب روپیہ ڈالر ہے۔
Speaker B
تو کیا ہوا؟
Speaker B
ادھر تو انہوں نے جب کرپشن پہ ہاتھ ڈالا تو وہ تو ڈویلپمنٹ ہوئی۔
Speaker B
وہ تو ملک آگے نکل گیا۔
Speaker B
آج پاکستان کی ایکسپورٹ
Speaker B
20 ارب ڈالر ہے۔
Speaker B
جانتے ہیں سنگاپور کی ایکسپورٹ کیا ہے؟
Speaker B
سنگاپور کی آبادی 40، 50 لاکھ ہے۔
Speaker B
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہے۔
Speaker B
سنگاپور کی ایکسپورٹس
Speaker B
پاکستان کی ایکسپورٹ ہے 20 ارب ڈالر۔
Speaker B
سنگاپور کی ایکسپورٹ جانتے ہیں کیا ہے؟
Speaker B
520 ارب ڈالر۔
Speaker B
میں یہ آپ کو بتا رہا ہوں کہ جو ملک اپنی کرپشن کو
Speaker B
کرپشن کو ختم کرتے ہیں انصاف کا نظام لے کے آتے ہیں۔
Speaker B
ادارے مضبوط کرتے ہیں۔
Speaker B
وہ خوشحال ہوتے ہیں۔
Speaker B
ادھر خوشحالی آتی ہے۔
Speaker B
ادھر ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔
Speaker B
یہ جو نواز شریف ابھی کہہ رہے تھے۔
Speaker B
کہ کرپشن ہم کرپشن کو پکڑیں یا ڈویلپمنٹ کریں۔
Speaker B
جب آپ کرپشن کو نہیں پکڑتے میاں صاحب تو ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔
Speaker B
وہ صرف آپ کے آپ کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں ہوتی ہے۔
Speaker B
آپ کے میفیئر فلیٹس بنتے ہیں۔
Speaker B
آپ کی ذاتی فیکٹریاں بنتی ہیں۔
Speaker B
قوم غریب ہو جاتی ہے۔
Speaker B
چھوٹا سا طبقہ امیر ہو جاتا ہے۔
Speaker B
ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
Speaker B
تو یہ یہ ملک بنا تھا۔
Speaker B
کبھی میں اس چیز کو بھولنا۔
Speaker B
یہ ملک بنا تھا کہ ہم نے ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانی تھی۔
Speaker B
تو جو اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی تھی۔
Speaker B
ادھر سب سے بڑی چیز کیا تھی؟
Speaker B
عدل اور انصاف۔
Speaker B
کیا تھا ان کے پاس؟
Speaker B
مجھے بتائیں عربوں کے پاس کیا تھا؟
Speaker B
ابھی تو 13 صدیوں کے بعد
Speaker B
تیل ملا تھا۔
Speaker B
وہ تو ریگستان تھا۔
Speaker B
تو کیا چیز تھی وہاں کون سی ٹیکنالوجی آئی؟
Speaker B
کدھر سے انویسٹمنٹ آئی؟
Speaker B
کیا ہوا کہ وہ دنیا کی عظیم ترین سپر پاور بن گئے۔
Speaker B
700 سال تک دنیا کی پاور بنے رہے۔
Speaker B
کیا تھا؟
Speaker B
عدل اور انصاف۔
Speaker B
ادارے مضبوط کیے۔
Speaker B
ان کا جو لیڈر تھے صادق اور امین تھے سچے اور ایماندار۔
Speaker B
اور انہوں نے جب ادارے مضبوط کیے تو مسلمانوں کے انصاف کا نظام ایسا تھا۔
Speaker B
کہ جو دوسری قومیں تھیں
Speaker B
وہ مسلمانوں جب ان کو جب رومن رومن ایمپائر گر رہا تھا یا پرشین ایمپائر گر رہا تھا دوسری قومیں دعوت دیتی تھیں ان کو۔
Speaker B
کیونکہ مسلمانوں کا انصاف کا نظام اچھا تھا۔
Speaker B
تو یہ ہے وہ پاکستان۔
Speaker B
جو ہم نے اس ریاست کے کی شکل میں بنانا تھا۔
Speaker B
جدھر ہم نے ایک ایسا نظام لے کے آنا تھا۔
Speaker B
جدھر ایسا عدل اور انصاف کا نظام تھا۔
Speaker B
کہ یہاں خوشحالی آنی تھی۔
Speaker B
یہاں جس طرح مدینہ کی ریاست میں ایک وقت آیا
Speaker B
کہ زکوۃ لینے کے لیے لوگ نہیں ملتے تھے۔
Speaker B
تو سیالکوٹ کے لوگو
Speaker B
یہ ہے ہمارا راستہ۔
Speaker B
دو راستے ہیں۔
Speaker B
تباہی کا راستہ ہے۔
Speaker B
اسی راستے پہ چلتے رہے۔
Speaker B
ایک چھوٹا سا ٹولہ آئے حکومت کرے
Speaker B
پیسے بنائے پیسہ ملک سے باہر بھیجے۔
Speaker B
منی لانڈرنگ کرے۔
Speaker B
اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے۔
Speaker B
اور قوم غریب ہوتی جائے۔
Speaker B
نہ قوم کو تعلیم دے۔
Speaker B
نہ اپنے کسانوں کا دھیان رکھے۔
Speaker B
نہ لوگوں کے لیے ہسپتال بنائے۔
Speaker B
نہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا بندوبست کرے۔
Speaker B
قوم غریب ہوتی جائے۔
Speaker B
مقروض ہوتی جائے۔
Speaker B
پیسے چوری کر کے جب باہر جائیں گے تو ملک کو قرضے لیے۔
Speaker B
آئی ایم ایف سے قرضے لو۔
Speaker B
قرضے واپس کرنے کے لیے لوگوں پہ ٹیکس لگاؤ۔
Speaker B
ٹیکس لگاؤ گے قیمتیں بڑھیں گی۔
Speaker B
غریب اور مزید غریب ہو گا۔
Speaker B
غربت بڑھے گی۔
Speaker B
یہ ہے ہماری تباہی کا راستہ۔
Speaker B
جب ہم ٹیکس جب ہم قرضے جن ملکوں سے لیں گے۔
Speaker B
ہم اپنی آزادی کھو بیٹھیں گے۔
Speaker B
ہمیں پوچھیں
Speaker B
کہ یہاں اتنی مہنگی بجلی ہے۔
Speaker B
ایران ساتھ والا ملک تھا۔
Speaker B
گیس دینے کے لیے تیار تھا۔
Speaker B
کیوں نہیں ہم نے ایران سے گیس لی؟
Speaker B
کیونکہ جن لوگوں سے ہم قرضے لے رہے تھے
Speaker B
وہ ہمیں اجازت نہیں دیتے تھے کہ ہم ایران سے گیس پائپ
Speaker B
پائپ لائن لگا کے تو گیس لیں۔
Speaker B
تو جن لوگوں سے ہم قرضے لے رہے تھے
Speaker B
وہ ہمیں حکم کرتے تھے وہ حکم جو ان کی فارن پالیسی کے ساتھ تھے۔
Speaker B
جو ہماری عوام کے خلاف تھے۔
Speaker B
جو ہماری عوام کو غربت میں ڈال رہے تھے۔
Speaker B
قرضے لیتے ہیں کوئی
Speaker B
غلامی کرتی ہے قوم۔
Speaker B
قرضوں کی قیمت دیتی ہے قوم۔
Speaker B
کیسے قیمت دے دیتی ہے قرضوں کی؟
Speaker B
آئی ایم ایف نے ابھی اسحاق ڈار کو دبئی میں کہا
Speaker B
کہ 40 ارب روپے کے مزید اور ٹیکس لگاؤ پاکستانیوں پہ۔
Speaker B
تو جب 40 ارب روپے کے ٹیکس اور مزید اور لگیں گے۔
Speaker B
یاد رکھیں ساری چیزیں مہنگی ہوں گی۔
Speaker B
آپ کی بجلی مہنگی ہو گی۔
Speaker B
آپ کی گیس مہنگی ہو گی۔
Speaker B
پٹرول، ڈیزل مہنگا ہو گا۔
Speaker B
اور اس لیے اس لیے میرے پاکستانیوں
Speaker B
آج ہم بڑے اہم موڑ پہ کھڑے ہیں۔
Speaker B
ہم نے اب فیصلہ کرنا ہے۔
Speaker B
ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ایسے ہی چلتے رہنا ہے۔
Speaker B
قرضے لیتے رہنے ہیں۔
Speaker B
مقروض ہوتا جانا ہے۔
Speaker B
غربت بڑھتی جائے گی۔
Speaker B
یا جو میں آج آپ کو بتانے آیا ہوں۔
Speaker B
کہ انشاءاللہ ایک ہمارے پاس دوسرا راستہ ہے۔
Speaker B
دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے ادارے مضبوط کریں۔
Speaker B
نواز شریف جب کہتا ہے کہ ہم کیا کریں؟
Speaker B
کرپشن اتنی زیادہ ہے۔
Speaker B
نواز شریف آپ کچھ نہیں کر سکتے۔
Speaker B
کیونکہ اگر اگر آپ کرپشن ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائیں گے
Speaker B
آپ خود پکڑے جائیں گے۔
Speaker B
اگر آپ نیب کو ٹھیک کریں گے
Speaker B
تو نیب تو سب سے پہلے آپ کو پکڑے گی کیونکہ
Speaker B
آپ کے 13 کیسز ہیں نیب میں۔
Speaker B
اگر آپ نیب کو ٹھیک کریں گے
Speaker B
تو نیب تو آپ کے ساتھ بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وزیر بیٹھے ہوئے ہیں۔
Speaker B
آپ کے پاس ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں
Speaker B
جو پکڑے جائیں گے۔
Speaker B
تو جو قومیں ترقی کرتی ہیں
Speaker B
وہ ادارے مضبوط کرتی ہیں۔
Speaker B
اور ادارے مضبوط وہ کر سکتا ہے جس کو خود فکر نہ ہو۔
Speaker B
اس کو خود فکر نہ ہو کہ اگر انصاف کا نظام ٹھیک ہو گا تو وہ خود پکڑا جائے گا۔
Speaker B
انشاءاللہ یہ جو دوسرا راستہ ہے۔
Speaker B
یہ ہے پاکستان کے مستقبل کا راستہ خوشحالی کا راستہ۔
Speaker B
میں آپ کو
Speaker B
اب میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔
Speaker B
جب آپ اپنے ادارے مضبوط کرتے ہیں۔
Speaker B
ملک میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
Speaker B
سرمایہ کاری ہوتی ہے نوجوانوں نوکریاں ملتی ہیں۔
Speaker B
لیکن سرمایہ کاری تب ہوتی ہے جب آپ کا گورننس سسٹم ٹھیک ہوتا ہے۔
Speaker B
وہ تب ٹھیک ہوتا ہے جب آپ کے ادارے کام کرتے ہیں۔
Speaker B
جب آپ کی گورنمنٹ میں کرپشن جاتی ہے لوگ آپ کے ملک میں پیسہ لے کے آتے ہیں۔
Speaker B
فیکٹریاں لگاتے ہیں۔
Speaker B
جب سرمایہ کاری ہوتی ہے خوشحالی آتی ہے۔
Speaker B
تو پختونخوا کی میں آج آپ کو مثال دینے لگا ہوں۔
Speaker B
کہ ہماری تقریبا چار سال حکومت ہوئی۔
Speaker B
میں آج آپ کو پختونخوا کی مثال دیتا ہوں
Speaker B
کہ پہلی دفعہ پاکستان میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔
Speaker B
کہ پرائیویٹ سکولوں سے بچے گورنمنٹ سکولوں میں آئیں۔
Speaker B
یہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔
Speaker B
34 ہزار بچے گورنمنٹ سکولوں سے پرائیویٹ سکولوں سے گورنمنٹ سکول میں گئے ہیں۔
Speaker B
اور اس سے بھی بڑی بات
Speaker B
کہ ایک ہمارا ایم پی اے ضیاء اللہ بنگش اس نے ایم پی اے نے اپنی بیٹی
Speaker B
پرائیویٹ سکولوں سے نکال کے گورنمنٹ سکول میں ڈالی۔
Speaker B
فیصل کلپ ہے تو دکھائیں۔
Speaker A
پی ٹی آئی کے نعرے کے عین مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا
Speaker A
پرائیویٹ سکول سے ہٹا کر سرکاری سکول میں داخل کروا دیا۔
Speaker A
ایم پی اے کی بیٹی اب باقی تعلیم سرکاری سکول سے ہی حاصل کرے گی۔
Speaker A
اس سے یہ بات واضح ہو گئی۔
Speaker A
کہ سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
Speaker A
آپ کو میں نے میو ہسپتال کی ایک او پی ڈی دکھائی تھی۔
Speaker A
میں نے آپ کو سروسز ہسپتال کی ایک او پی ڈی دکھائی تھی۔
Speaker A
جناب خیبر پختونخوا کی او پی ڈی ہے۔
Speaker A
ذرا غور سے دیکھیں کہ جب کوئی یہاں آئے گا اور چیک اپ کروانے کے لیے
Speaker A
گورنمنٹ ہسپتال میں آئے گا۔
Speaker A
تو کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ ہسپتال کی او پی ڈی ہے۔
Speaker A
یہ پنجاب گورنمنٹ جو بڑے
Speaker A
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا خطاب جاری ہے۔
Speaker A
اس سے متعلق آپ کو مزید بھی اپڈیٹ
Topics:عمران خانسیالکوٹ جلسہکرپشنبدانتظامیپاکستان کی معیشتعدل و انصافنواز شریفقرضےمدینہ کی ریاستپختونخوا حکومت











