عمران خان دادو میں جذباتی خطاب میں کرپشن، سیاسی حالات اور سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہیں۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- پاکستان میں کرپشن نے عوام کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
- سندھ میں اصف زرداری کی سیاسی حکمرانی اور کرپشن پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
- نواز شریف کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور ان کی کرپشن بے نقاب ہو چکی ہے۔
- منی لانڈرنگ اور بیرون ملک اثاثے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔
- عمران خان سندھ میں عوامی حمایت حاصل کرنے اور کرپٹ عناصر کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔
What the video covers
- عمران خان دادو میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔
- انہوں نے اصف زرداری اور نواز شریف کی سیاسی اور کرپشن کی تاریخ پر تنقید کی۔
- عمران خان نے کرپشن کی وجہ سے پاکستان اور سندھ کی تباہ حالی بیان کی۔
- انہوں نے بتایا کہ کرپشن نے عوام کو مہنگائی، غربت اور انصاف سے محروم کیا ہے۔
- عمران خان نے اصف زرداری کے خلاف سندھ میں سیاسی مہم چلانے کا اعلان کیا۔
- انہوں نے نواز شریف کے خلاف قانونی کارروائیوں اور جے آئی ٹی کے حوالے سے بات کی۔
- منی لانڈرنگ اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات بیان کی گئیں۔
- عمران خان نے سندھ کے کسانوں، پولیس اور عوام کی مشکلات پر روشنی ڈالی۔
- انہوں نے ملک میں قرضوں کے بڑھنے اور قوم کی آزادی کے خطرات پر زور دیا۔
- خطاب میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی کرپشن اور اخلاقی زوال کو نمایاں کیا گیا۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
دادو میں پاکستان تحریک انصاف جلسہ کر رہی ہے اور اس وقت عمران خان اس جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔
Speaker B
لیاقت جتوئی صاحب
Speaker B
اج میں اپ کو تحریک انصاف میں خوش امدید کہتا ہوں
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
وقت یہ ثابت کرے گا کہ جو اج اپ نے فیصلہ کیا وہ سندھ کے لیے بھی اور انشاءاللہ پاکستان کے لیے بھی درست تھا۔
Speaker B
دادو کے باشعور پاکستانیوں
Speaker B
کل اصف زرداری نے ایک میرے متعلق ایک بات کہی اس نے کہا کہ عمران خان سیاسی نہ سوچ رکھتا ہے اور نہ اس کو سیاسی سمجھ ہے۔
Speaker B
اصف زرداری اگر اپ کو سیاسی سمجھ ہے تو اپ نے تو وہ اپ نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو کوئی ملٹری ڈکٹیٹر نہیں کر سکا۔
Speaker B
اپ نے پاکستان کی سب سے بڑی جماعت جو نیچے تک تھی جو چاروں صوبوں میں تھی اپ نے اس کو بڑی کامیابی سے چھوٹی سی جماعت بنا دیا۔
Speaker B
اصف زرداری یہ اسان کام نہیں تھا یہ بڑا مشکل کام تھا۔
Speaker B
ایک اتنی بڑی جماعت کو ایک چھوٹی سی جماعت بنانا
Speaker B
جو کوئی ڈکٹیٹر نہیں بنا سکا اور جو ایک بڑے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے بڑی محنت سے بنائی تھی۔
Speaker B
اپ نے جس شاندار طریقے سے اس جماعت کو تباہ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی زرداری
Speaker B
اور جہاں تک اپ نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی سمجھ نہیں
Speaker B
میں یہ اللہ سے ہاتھ اٹھا کے دعا کرتا ہوں کہ اللہ
Speaker B
کبھی مجھے زرداری کی طرح سیاسی سمجھ نہ دیں۔
Speaker B
بڑے عقلمند ہیں یہ
Speaker B
جو جو بڑا
Speaker B
اب میں یہ بڑا لفظ چن رہا ہوں
Speaker B
کہ جو بڑا لومڑی کی طرح
Speaker B
سیانا سیاستدان تھا
Speaker B
اس کا نام تھا نواز شریف
Speaker B
کیوں
Speaker B
کیوں
Speaker B
کیونکہ کوئی نواز شریف کو کرپٹ نہیں مانتا تھا۔
Speaker B
معصوم سی شکل بنا لیتا تھا۔
Speaker B
مظلوم ہر وقت بن جاتا تھا۔
Speaker B
بچاری عورتیں کہتی تھیں دیکھو بچارہ کتنا شریف ادمی ہے۔
Speaker B
اور زرداری
Speaker B
وہ جو دیکھتے تھے زرداری کی طرف وہ کہتے تھے یہ ڈاکو ہے۔
Speaker B
اور میں ایک زرداری کو یہ ضرور کہوں گا۔
Speaker B
اس نے کبھی اپنا ڈاکو پن چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
Speaker B
زرداری میں یہ تمہیں دوں گا۔
Speaker B
منافق نہیں ہو تم
Speaker B
کبھی
Speaker B
کبھی زرداری نے یہ نہیں کہا
Speaker B
کہ میں پیٹ پھاڑ کے باہر سے پیسہ پاکستان میں لے کے اؤں گا۔
Speaker B
کبھی نہیں کہا
Speaker B
کبھی زرداری کو میں کریڈٹ دوں گا۔
Speaker B
اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میری تو کوئی باہر جائیداد نہیں ہے۔
Speaker B
اس نے کبھی یہ بھی نہیں کہا کہ میں بڑا شریف ادمی ہوں۔
Speaker B
یہ کبھی نہیں کہا
Speaker B
نواز شریف
Speaker B
بچارہ
Speaker B
نواز شریف کی بدقسمت
Speaker B
اس کی بدقسمتی کہ پنامہ کے انکشاف ہو گئے۔
Speaker B
ایک سال پہلے
Speaker B
اور پنامہ کے انکشاف کیا ہوئے
Speaker B
کہ جو ہم سب کو بڑی دیر سے پتہ تھا۔
Speaker B
کہ پنامہ میں انکشاف میں یہ پتہ چلا
Speaker B
کہ جو اربوں روپے کے لندن کے مہنگے ترین علاقے میں میفر کے فلیٹ تھے۔
Speaker B
وہ نواز شریف کے نکلے۔
Speaker B
اس کے خاندان کے نکلے۔
Speaker B
اب یہ پھنس گیا۔
Speaker B
بنتا تو شریف تھا۔
Speaker B
اب تک تو معصوم اور مظلوم بنا ہوا تھا
Speaker B
کہ دیکھیں یہ
Speaker B
وہ بڑی بچاری خواتین بھی کہتی تھیں دیکھو یہ عمران کتنا برا ہے۔
Speaker B
دیکھیں سارا وقت نواز شریف کو کہتا ہے یہ کرپٹ ہے۔
Speaker B
میں تو نواز شریف کو 30 سالوں سے جانتا ہوں۔
Speaker B
مجھے تو 30 سالوں سے پتہ ہے کہ کیسے اس نے پیسہ بنایا ہے۔
Speaker B
میں نے
Speaker B
18 سال پہلے ان لندن کے فلیٹ کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔
Speaker B
کہ یہ پاکستان کی قوم کا پیسہ چوری کر کے خریدے گئے ہیں۔
Speaker B
لیکن
Speaker B
وہ اتنا مظلوم بن جاتا تھا اور وہ واقعی
Speaker B
اصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے زیادہ شاطر سیاستدان تھا۔
Speaker B
وہ لوگ مانتے ہی نہیں تھے۔
Speaker B
تو جب پنامہ میں یہ نام اگئے دنیا کے اندر
Speaker B
نواز شریف کی شکل ائی
Speaker B
چھ اور سات دنیا کے سربراہوں کے ساتھ
Speaker B
جن کے پکڑے گئے پنامہ کے اندر جائیدادیں بینک اکاؤنٹس
Speaker B
تو تب سے یہ ایک سال سے یہ جدوجہد شروع ہوئی۔
Speaker B
ہم نے پوری کوشش کی۔
Speaker B
کہ اسمبلی کے اندر یہ ہمیں جواب دے۔
Speaker B
اب جواب کیسے دیں
Speaker B
اگر جواب دیتا تھا تو پکڑا جاتا تھا۔
Speaker B
پہلے ہمیں ٹی او ار ٹی او ار کی لال بتی کے پیچھے لگا دیا۔
Speaker B
اس کے بعد
Speaker B
اس کے بعد جب ہم نے ہمیں پتہ چلا
Speaker B
کہ یہ تو کبھی جواب دے گا ہی نہیں
Speaker B
اور یہ ہمیں لٹکایا ہوا ہے اس نے
Speaker B
اور پھر
Speaker B
اس کا وزیر خواجہ اصف اسمبلی میں ہمیں کہتا ہے
Speaker B
کہ میاں صاحب فکر نہ کرو لوگ بھول جائیں گے
Speaker B
ہمیں یہ کہتا ہے
Speaker B
ایک طرف ہمیں لٹکایا ہوا ہے کہ ہم ٹی او ار کی بات کر رہے ہیں۔
Speaker B
اور اوپر سے اسمبلی میں کہتا ہے
Speaker B
اور یہ پاکستانیوں یہ سنو
Speaker B
یہ شرم کی انتہا
Speaker B
ایک ایک ایسی ایسی سیاسی کلاس جس کا ساری ان کی اخلاقیات ختم ہو چکی ہیں بے حس ہو چکے ہیں۔
Speaker B
ایک نیشنل اسمبلی کا نمائندہ
Speaker B
جو پبلک ریپریزنٹیو یعنی عوام کی ووٹ سے جو ایا ہو۔
Speaker B
وہ اسمبلی میں بیٹھ کے کہتا ہے
Speaker B
کہ جو نواز شریف منی لانڈرنگ کر کے اپ کا پیسہ باہر گیا ہے۔
Speaker B
اپ فکر نہ کریں۔
Speaker B
لوگ بھول جائیں گے۔
Speaker B
خواجہ اصف اس غریب قوم کا پیسہ
Speaker B
جب چوری ہو کے اور منی لانڈرنگ کر کے باہر جاتا ہے۔
Speaker B
تو یہ قوم ڈالروں کی کمی ہو جاتی ہے اس قوم میں۔
Speaker B
جب ڈالروں کی کمی ہوتی ہے تو پاکستانی سنو
Speaker B
ہمیں ائی ایم ایف سے قرضے لینے پڑتے ہیں۔
Speaker B
اور جو قوم قرضے لیتی ہے اور جو اب قرضوں میں ڈوب رہی ہے۔
Speaker B
دو کام ہوتے ہیں اس قوم میں ایک تو اپنی ازادی کھو بیٹھتی ہے۔
Speaker B
غلام بن جاتی ہے۔
Speaker B
اور دوسرا یہ جو قرضوں کی قسطیں ہیں یہ کون ادا کرتا ہے۔
Speaker B
بتائیں کون ادا کرتا ہے۔
Speaker B
اپ ادا کرتے ہیں۔
Speaker B
کیسے ادا کرتے ہیں ہر چیز پہ ٹیکس دیتے ہیں اپ۔
Speaker B
مہنگائی کے ذریعے اپ ادا کرتے ہیں۔
Speaker B
غریب غریب ہو جاتا ہے۔
Speaker B
یہ ڈاکو امیر ہو جاتے ہیں قوم غریب ہو جاتی ہے۔
Speaker B
کرپشن کیا ہے۔
Speaker B
سنیں۔
Speaker B
کرپشن کیا ہوتی ہے۔
Speaker B
میرے پاکستانیوں اور سندھ کے لوگوں
Speaker B
اپ اور غور سے سنو اپ کو تو کرپشن نے تباہ کر دیا۔
Speaker B
میں تو ابھی اپ کی سڑکیں اب سے نہیں
Speaker B
20 سال سے اپ کی سڑکیں دیکھ رہا ہوں اپ کے سکول دیکھ رہا ہوں اپ کے ہسپتال دیکھ رہا ہوں۔
Speaker B
پینے کا پانی نہیں ہے اپ کے پاس۔
Speaker B
اپ سمجھیں کہ کرپشن ہوتی کیا ہے۔
Speaker B
کرپشن
Speaker B
ایک ایسے ہوتا ہے۔
Speaker B
سنیں سنیں سنیں سنیں۔
Speaker B
جس طرح اپ کا گھر ہے۔
Speaker B
اپ کے گھر میں جب چوری ہوتی ہے
Speaker B
تو کیا ہوتا ہے۔
Speaker B
جب پیسے کی کمی ہوتی ہے تو نہ ماں باپ اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔
Speaker B
نہ اگر کوئی بیمار ہو اس کا علاج کروا سکتا ہے کیونکہ پیسے نہیں ہیں۔
Speaker B
نہ
Speaker B
اگر ان سے کوئی ناانصافی ہو انصاف
Speaker B
نہ وہ پیسہ ہوتا ہے انصاف لینے کے لیے وکیل کرنے کے لیے۔
Speaker B
سارا گھر غریب ہو جاتا ہے۔
Speaker B
یہ ہے پاکستان کا حال۔
Speaker B
قرضے پہ قرضے لیے جا رہے ہیں۔
Speaker B
پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ اج لیا گیا ہے۔
Speaker B
ہر
Speaker B
ایک روپیہ جو اکٹھا ہوتا ہے اس ملک کی امدنی
Speaker B
70 پیسے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے جاتے ہیں۔
Speaker B
اپ کا پیسہ
Speaker B
کیوں
Speaker B
کیونکہ کرپشن کی وجہ سے اس گھر کو لوٹا جا رہا ہے۔
Speaker B
اپ کو لوٹا جا رہا ہے۔
Speaker B
سندھ کے لوگوں اپ کو لوٹا جا رہا ہے۔
Speaker B
پاکستان کے لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔
Speaker B
پوچھیں۔
Speaker B
سب سے پہلے
Speaker B
پوچھیں کہ یہ اصف زرداری کے پاس کدھر سے پیسہ ایا۔
Speaker B
ساری اس نے یہاں لوگوں کو ڈرا کے دھمکا کے غنڈوں کے ذریعے
Speaker B
لوگوں کو قتل کروا کے اس نے شوگر ملیں لی ہوئی ہیں۔
Speaker B
سندھ میں
Speaker B
گنے والا بچارہ چھوٹا کسان اس کو قیمت نہیں ملتی۔
Speaker B
اس نے یہاں پولیس کو تباہ کیا ہوا ہے پولیس کو استعمال کرتا ہے لوگوں پہ ظلم کرنے کے لیے۔
Speaker B
لوگوں کو ڈرانے کے لیے۔
Speaker B
اور خود بیٹھتا ہے دبئی میں بلاول ہاؤس سے ایئرپورٹ۔
Speaker B
ایئرپورٹ میں جیٹ سے دبئی دبئی سے لندن لندن سے نیویارک۔
Speaker B
ہر جگہ اس کے محل ہیں ہر جگہ اس کے گھر ہیں۔
Speaker B
اور کہتا ہے اس کو اپ کی تکلیف ہے۔
Speaker B
کیا یہ سندھی
Speaker B
کہ میں سندھی ہوں۔
Speaker B
کہ میں اس کو کیا اپ کی تکلیف ہے۔
Speaker B
میں اج سندھ ایا ہوں۔
Speaker B
مجھے میں نے پہلے انا تھا۔
Speaker B
مجھے موقع نہیں ملا۔
Speaker B
کیونکہ پہلے میں دھاندلی کے پیچھے پڑا رہا۔
Speaker B
2013 کے الیکشن میں نواز شریف نے پنجاب میں دھاندلی کی۔
Speaker B
وہاں اس نے اپنے امپائر کھڑے کیے۔
Speaker B
اور اصف زرداری نے سندھ میں اپنے امپائر کھڑے کیے۔
Speaker B
ادھر اس نے دھاندلی کی ادھر اس نے کی۔
Speaker B
اور مجھے ایک میرا سارا سال لگا دھاندلی کے پیچھے
Speaker B
پھر میں
Speaker B
جب سے پنامہ کا ایا تو مجھے
Speaker B
لوگوں کو نواز شریف کی اصل شکل دکھانی تھی۔
Speaker B
اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جو فیصلہ ایا ہے۔
Speaker B
لوگوں کو اس کی اصل شکل نظر اگئی ہے۔
Speaker B
سنو
Speaker B
اصف زرداری
Speaker B
میں واپس اتا ہوں اصف زرداری پہ۔
Speaker B
اصف زرداری
Speaker B
یہ سن لو اپ۔
Speaker B
اج سے نواز شریف کے خلاف تو میری جنگ چل رہی ہے۔
Speaker B
وہ تو اب پھنس گیا ہے جے ائی ٹی کے اندر۔
Speaker B
اب اصف زرداری میں اپ کے پیچھے ا رہا ہوں۔
Speaker B
میں سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
سندھ کے ہر علاقے میں جاؤں گا۔
Speaker B
یہ جو ان کا مک مکا ہے ادھر تم ادھر ہم۔
Speaker B
باریاں لے رہے ہیں۔
Speaker B
پاکستان کی بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔
Speaker B
دونوں کے پیسے باہر پڑے ہیں۔
Speaker B
دونوں منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔
Speaker B
پاکستانیوں سنو۔
Speaker B
منی لانڈرنگ کا مطلب
Speaker B
کہ پہلا پیسہ چوری کرو پھر پیسہ ملک سے باہر لے کے جاؤ۔
Speaker B
ڈالروں میں تبدیل کر کے باہر لے کے جاؤ۔
Speaker B
دو نقصان پہنچاتے ہیں چوری اور پھر جب پیسہ باہر لے کے جاتے ہیں۔
Speaker B
چھپانے کے لیے دوسرا نقصان پہنچاتے ہیں۔
Speaker B
سوٹ کیسوں میں پیسہ دبئی جاتا تھا۔
Speaker B
ایان علی پکڑی گئی۔
Speaker B
پانچ لاکھ ڈالر لے کے جا رہی تھی۔
Speaker B
شرجیل میمن پکڑا گیا۔
Speaker B
اور ڈاکٹر عاصم ڈاکٹر عاصم کا
Speaker B
سنیں سنیں سنیں ڈاکٹر عاصم کے اوپر
Speaker B
460 ارب روپے کی چوری تھی۔
Speaker B
460 ارب روپیہ
Speaker B
سارا ڈویلپمنٹ بجٹ پختونخواہ کا 113 ارب ہے۔
Speaker B
سندھ کا
Speaker B
سندھ کا سندھ کے ڈویلپمنٹ بجٹ سے دگنا
Speaker B
ایک ادمی کے اوپر کرپشن کا کیس تھا۔
Speaker B
کیسے بچا وہ
Speaker B
ایک بچارہ غریب ادمی گھر میں بھوک بچے بیمار
Speaker B
مجبوری میں چوری کرتا ہے۔
Speaker B
چھ مہینے جیل میں اگر جانا ہو وہ چھ سال جیل میں رہتا ہے۔
Speaker B
اور یہ
Speaker B
بڑے بڑے ڈاکو ملے ہوئے ہیں اپس میں۔
Speaker B
ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر
Speaker B
ان کو بجائے وہ پولیس ان کو پکڑے
Speaker B
ان کی اگے پیچھے 20 20 گاڑیاں ان کو بچانے کے لیے پھر رہی ہوتی ہیں۔
Speaker B
یہ میرے سندھ کے لوگوں یہ سن لو۔
Speaker B
یہ اللہ کا
Speaker B
یہ اللہ کے نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم
Speaker B
اللہ کے حبیب واحد انسان جس کو اللہ قران میں کہتے ہیں میرا حبیب ہے۔
Speaker B
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں
Speaker B
کہ بڑی قومیں تمہارے سے پہلے تباہ ہوئیں۔
Speaker B
جدھر ایک قانون کمزور کے لیے اور دوسرا طاقتور کے لیے۔
Speaker B
یہ سن لو۔
Speaker B
سن لو پاکستانیوں۔
Speaker B
یہ جو اگے انے والے دن ہیں یہ فیصلہ کریں گے۔
Speaker B
کہ کیا پاکستان اپنی تباہی کی طرف جائے گا۔
Speaker B
یا یہ وہ پاکستان بنے گا
Speaker B
جو ایک عظیم خواب کا نام تھا۔
Speaker B
علامہ اقبال کا پاکستان۔
Speaker B
اور جس کا پہلا لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح۔
Speaker B
جب وہ تقریر کرتے تھے انگریزی میں بولتے تھے۔
Speaker B
لوگوں کو انگریزی کی سمجھ بھی نہیں اتی تھی لیکن ایک ایک ادمی کہتا تھا۔
Speaker B
جو بھی کہہ رہا ہے سچ بول رہا ہے۔
Speaker B
اور
Speaker B
اور اب سنو اور اب مجھے مجھے حیرت ہوئی۔
Speaker B
پاکستانیوں حیرت ہوئی کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا۔
Speaker B
دو ججز جو مستقبل کے چیف جسٹس بننے جا رہے ہیں۔
Speaker B
دو ججز نے کیا کہا کہ نواز شریف جھوٹا بھی ہے اور کرپٹ بھی ہے۔
Speaker B
اور اور باقی تین ججز نے کیا کہا۔
Speaker B
انہوں نے کہا کہ جو بھی اس نے ہمیں طوطا مینا کی کہانی سنائی تھی۔
Speaker B
کہ پیسہ کیسے لندن کے فلیٹ لینے کے لیے گیا وہ جو قطری ا گیا تھا۔
Speaker B
سارے کے سارے ججز نے کہا وہ جھوٹ ہے۔
Speaker B
اور اپ جانتے ہیں کہ نون لیگ کے لوگ کیا کر رہے تھے مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
سچ اور حق کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں یہ کرپٹ ٹولے کو شکست دینے کے لیے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو شروع ہو گا اس کے بعد میں اگے اناؤنس کروں گا۔
Speaker B
ہمیں ہر پاکستان کے علاقے میں جائیں گے۔
Speaker B
سندھ میں اؤں گا۔
Speaker B
کراچی جاؤں گا۔
Speaker B
30 تاریخ کو
Speaker B
سندھ کے
Speaker B
ا کے باقی علاقوں میں جاؤں گا کوئٹہ جاؤں گا۔
Speaker B
میں سارے پاکستانیوں کو اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
کہ ایک مجرم ملک کا پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔
Speaker B
نہیں بن سکتا۔
Speaker B
لٹ کے تو
Speaker B
مجھے یہ پتہ ہے۔
Speaker B
دادو کے لوگوں اپ باشعور ہو سنیں
Speaker B
ساری تحریک یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔
Speaker B
اب مجھے یہ بتائیں کہ کوئی اپ کو کہے کہ تم چور بھی ہو اور جھوٹے بھی ہو۔
Speaker B
تو مٹھائیاں بانٹو گے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے کہ وہ نواز شریف جیت گیا ہے۔
Speaker B
یہ مٹھائیاں اس لیے نہیں بانٹ رہے تھے جو مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
Speaker B
ان کو بجائے شرم انے کی بجائے اپنا سر نیچے کرتے شرم سے۔
Speaker B
وہ وہ لوگ تھے جو نواز شریف کے ساتھ مل کے پیسہ بنا رہے ہیں۔
Speaker B
وہ بھی پیسہ بنا رہے تھے اور ان کو یہ ہوا کہ شکر ہے ڈس کوالیفائی نہیں ہوا۔
Speaker B
یہ یاد رکھیں میرے سندھ کے لوگوں۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہے اگے یہ ایک کرپٹ ٹولے کے ایک کرپٹ ٹولہ ایک طرف۔
Speaker B
اور پاکستان کی مظلوم قوم دوسری طرف۔
Speaker B
یہ جو جنگ ہونے والی ہے اس کی اپ تیاری کریں۔
Speaker B
میرا
Speaker B
شروع تو میں نے یہاں ایک منٹ ایک منٹ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ۔
Speaker B
ابھی
Speaker B
شروع تو میں نے اج دادو سے کر دی ہے۔
Speaker B
انشاءاللہ
Speaker B
جمعے کو اسلام اباد میں میں انسانوں کا سمندر اکٹھا کروں گا۔
Speaker B
اور میں
Speaker B
اور میں پاکستانیوں میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔
Speaker B
میں جمعے کو اپ سب کو دعوت دے رہا ہوں۔
Speaker B
کہ اپ جو ہم اسلام اباد میں نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔
Speaker B
اپ سب میرے لیے نہ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Speaker B
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے ملک کو بچانے کے لیے۔
Speaker B
اپ ائیں۔
Topics:عمران خانپاکستان تحریک انصافدادو جلسہکرپشننیبنواز شریفاصف زرداریسندھ کی سیاستمنی لانڈرنگپاکستان کی معیشت











