عمران خان چوری اور کرپشن کے فرق اور ملک میں کرپشن کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- چوری اور کرپشن میں بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔
- کرپشن ملک کی معیشت اور ترقی کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
- اداروں کی کمزوری کرپشن کو بڑھاوا دیتی ہے۔
- طاقتور کرپٹ افراد کو انصاف سے بچانے کے لیے نظام کو تباہ کیا جاتا ہے۔
- میرٹ کی بجائے سفارش اور مفادات کی بنیاد پر تقرریاں ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
What the video covers
- چوری گھر یا فرد کی ہوتی ہے جبکہ کرپشن قوم کے پیسے کی چوری ہے جو ملک کو تباہ کرتی ہے۔
- کرپشن سے ملک کا قرضہ چار گنا بڑھا اور عوام کا پیسہ قرضوں کی قسطوں میں چلا جاتا ہے۔
- کرپشن روکنے والے ادارے تباہ کیے گئے ہیں اور طاقتور کرپٹ افراد کو انصاف نہیں ملتا۔
- نیب اور ایف آئی اے جیسے اداروں کو کمزور کر کے کرپشن بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
- کرپشن کرنے والے اپنے مفادات کے لیے اداروں کے سربراہان کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔
- ملک میں میرٹ کی بجائے سفارش اور چوری بچانے والے افراد کو اہم عہدے دیے جاتے ہیں۔
- کرپشن کیسز میں گواہان اور انویسٹیگیٹرز کی اچانک موتیں مشکوک ہیں۔
- عمران خان نے اپنی حکومت میں کسی کو رشتہ دار یا دوست کے طور پر عہدہ نہیں دیا۔
- کرپشن ملک کو تباہ کرتی ہے اور قوم کو اپنے حقوق کے لیے بیدار ہونا ہوگا۔
- اداروں کی مضبوطی کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker Imran Khan
چوری اور کرپشن میں فرق
Speaker Imran Khan
ساری قوم کو کہتا ہوں کہ اس کے اندر فرق کرنا سیکھو
Speaker Imran Khan
چوری انسانوں کی ہوتی ہے ہمارے گھروں میں چور آتا ہے چوری کر جاتا ہے
Speaker Imran Khan
ڈاکو آتا ہے گھر میں ڈاکہ مار جاتا ہے
Speaker Imran Khan
نقصان اس گھر کو ہوتا ہے
Speaker Imran Khan
لیکن کرپشن قوم کا پیسہ چوری ہوتا ہے
Speaker Imran Khan
وہ پیسہ جس سے سکول، ہسپتال، کالج، یونیورسٹی بنتی سڑکیں بنی ہوتی
Speaker Imran Khan
جس سے جس پیسے کو ہم استعمال کریں مہنگائی کم کرنے کے لیے وہ پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے جاتے ہیں
Speaker Imran Khan
کرپشن ملکوں کو تباہ کر دیتی ہے
Speaker Imran Khan
میں 26 سال سے کرپشن کے خلاف جہاد کر رہا ہوں
Speaker Imran Khan
یہ دو خاندان جو 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں
Speaker Imran Khan
باریاں لے رہے ہیں
Speaker Imran Khan
چوری کرتے ہیں
Speaker Imran Khan
پکڑنے لگتے ہیں ملک سے باہر بھاگ جاتے ہیں
Speaker Imran Khan
باہر بیٹھ کے ڈیل کرتے ہیں
Speaker Imran Khan
این آر او لیتے ہیں
Speaker Imran Khan
مشرف سے این آر او لیا
Speaker Imran Khan
اس نے کرپشن کیس معاف کیے واپس آ گئے
Speaker Imran Khan
پھر ملک لوٹا
Speaker Imran Khan
10 سال انہوں نے 2008 اور 18 کے بیچ میں
Speaker Imran Khan
پھر لوٹا ملک
Speaker Imran Khan
چار گنا پاکستان کا قرضہ بڑھا
Speaker Imran Khan
6 ہزار ارب ڈالر سے
Speaker Imran Khan
6 ہزار ارب روپے سے پاکستان کا قرضہ گیا 30 ہزار ارب روپے
Speaker Imran Khan
چار گنا قرضہ بڑھا
Speaker Imran Khan
اور قرضوں کی قسطیں یہ قوم اپنے خون سے ادا کرتی ہے
Speaker Imran Khan
آپ کا پیسہ جو ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے
Speaker Imran Khan
جب ہم میری حکومت آئی 2018 میں تو جتنا بھی ہم نے پیسہ اکٹھا کیا
Speaker Imran Khan
آدھا پیسہ ان کے لیے ہوئے قرضوں کی قسطوں پہ چلا گیا
Speaker Imran Khan
جو پیسہ آپ پہ خرچ ہونا تھا
Speaker Imran Khan
اس لیے کرپشن ملک کو تباہ کرتی ہے
Speaker Imran Khan
صرف یہ پیسہ نہیں چوری کرتے
Speaker Imran Khan
یہ ملک میں پیسہ چوری کرنے کے لیے وہ ادارے تباہ کرتے ہیں
Speaker Imran Khan
جو چوری روک سکتے ہیں
Speaker Imran Khan
اب انہوں نے نیب کا ادارہ تباہ کر دیا
Speaker Imran Khan
نیب کے اوپر اپنا آدمی بٹھا دیا
Speaker Imran Khan
نیب کے قانون چینج کر دیے
Speaker Imran Khan
اب طاقتور ڈاکو کو پاکستان کا انصاف کا نظام نہیں پکڑ سکتا
Speaker Imran Khan
آپ اگر بڑے ڈاکو ہیں پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر بھیج دو
Speaker Imran Khan
تو پاکستان کا انصاف کا نظام آپ کو اب نہیں پکڑ سکتا
Speaker Imran Khan
صرف چھوٹے چوروں کو پکڑتا ہے
Speaker Imran Khan
سائیکل، بھینس چور، گاڑی چور صرف یہ پکڑے جاتے ہیں
Speaker Imran Khan
بڑے ڈاکوؤں کو جو اس ملک سے پیسہ باہر بھیج دیتے ہیں
Speaker Imran Khan
ان کو نہیں پکڑ سکتے
Speaker Imran Khan
اور تو چوروں نے پہلے تو خود پیسہ چوری کیا
Speaker Imran Khan
پھر اپنی چوری بچانے کے لیے اداروں کو تباہ کیا
Speaker Imran Khan
ایف آئی اے، نیب ماضی میں انہوں نے عدالتوں کو تباہ کیا
Speaker Imran Khan
سپریم کورٹ کے اوپر حملہ کیا
Speaker Imran Khan
ایک ایماندار چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ڈنڈوں سے اٹیک کر کے بھگایا
Speaker Imran Khan
ججز کو خریدا
Speaker Imran Khan
ان کے پاس ایسے جج تھے ٹیلی فون کر کے فیصلے لیتے تھے
Speaker Imran Khan
تو ملک کے اداروں کو جب انصاف کے اداروں کو جب تباہ کرتے ہیں
Speaker Imran Khan
تو صرف یہ نہیں چوری کرتے اور ان کی چوری نہیں بچتی
Speaker Imran Khan
باقی بھی جو بڑے بڑے ڈاکو ہیں سب بچ جاتے ہیں
Speaker Imran Khan
یہ اپنی چوری بچانے کے لیے نظام کو تباہ کرتے ہیں تاکہ باقی بھی سارے چوری کر سکیں
Speaker Imran Khan
اور اس طرح قومیں تباہ ہوتی ہیں
Speaker Imran Khan
میرٹ پہ سلیکشنز نہیں ہوتی
Speaker Imran Khan
یہ سلیکشنز پاکستان میں میرٹ پہ نہیں کرتے
Speaker Imran Khan
یہ سلیکشن وہ کرتے ہیں یا ان کی چوری کرنے میں مدد کریں یا چوری بچانے میں مدد کریں
Speaker Imran Khan
آئی جی اپنا رکھتے ہیں
Speaker Imran Khan
اس لیے نہیں کہ آئی جی ایک اہلیت رکھتا ہے
Speaker Imran Khan
ایماندار آدمی ہے اس لیے آئی جی نہیں رکھتے
Speaker Imran Khan
آئی جی وہ رکھتے ہیں جو ان کی نوکری کرتا ہے
Speaker Imran Khan
اسلام آباد میں انہوں نے جو آئی جی رکھا ہے اس کو کرپشن میں سزا ہونے والی تھی
Speaker Imran Khan
لاہور سیف سٹی میں کرپشن میں سزا ہونی تھی
Speaker Imran Khan
اس کو انہوں نے اسلام آباد کا آئی جی اس لیے بنایا کہ اس کے ذریعے ہمارے اوپر جھوٹے کیسز اور تشدد کرے گا
Speaker Imran Khan
یہ نیب کا ہیڈ اس لیے نہیں بناتے کہ وہ اس ملک میں چوری روکے گا
Speaker Imran Khan
وہ ان کے کرپشن کے کیس ختم کروائے گا اس لیے رکھتے ہیں
Speaker Imran Khan
ایف آئی اے کا ہیڈ اس لیے نہیں رکھتے کہ وہ ملک میں چوری روکے گا
Speaker Imran Khan
ایف آئی اے کا ہیڈ اس لیے انہوں نے اس لیے رکھا ہوا ہے کہ سب سے پہلے شہباز شریف کے جو اربوں روپے 16 ارب کے ایف آئی اے کے کیس تھے
Speaker Imran Khan
جو نوکروں کے نام پہ انہوں نے 16 ارب روپیہ لیا تھا
Speaker Imran Khan
جس میں چار ان کے گواہ چار جو فیکٹری میں کرنے والے گواہ تھے جنہوں نے پیسہ لیا وہ مر چکے ہیں
Speaker Imran Khan
جب سے یہ ائے ہیں وہ مر گئے ہیں
Speaker Imran Khan
سب ہارٹ اٹیک سے مر گئے ہیں
Speaker Imran Khan
کبھی پتہ چلواؤ کہ کیا ہوا کہ ساروں کو ہی ہارٹ اٹیک ہو گیا
Speaker Imran Khan
مقصود چپڑاسی کو بھی ہارٹ اٹیک ہوا
Speaker Imran Khan
اور پھر وہ جو ڈاکٹر رضوان تھا ایف آئی اے کا انویسٹیگیٹر
Speaker Imran Khan
جو ان کے کیس انویسٹیگیٹ کر رہا تھا اس کو بھی ہارٹ اٹیک ہو گیا
Speaker Imran Khan
وہ بھی گیا
Speaker Imran Khan
تو ساری اربوں روپے کی چوری شہباز شریف اور اس کے بیٹوں کی سب کے اوپر پانی پھر گیا
Speaker Imran Khan
اب یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی اس ملک کے اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے
Speaker Imran Khan
یہ وہ لوگ ہیں جو صرف اداروں کے ہیڈ ایسے لوگ لگائیں گے
Speaker Imran Khan
جو ان کی مدد کر سکیں
Speaker Imran Khan
نہ یہ کبھی جج صحیح لگائیں گے نہ یہ کبھی صحیح آئی جی لگائیں گے نہ ایف آئی اے کا ہیڈ نہ نیب نہ آرمی چیف
Speaker Imran Khan
یہ ہر وہ آدمی کو لگائیں گے جو ان کی مدد کرے گا
Speaker Imran Khan
میں میری ساڑھے تین سال حکومت تھی
Speaker Imran Khan
ساڑھے تین سال میں نے حکومت کی
Speaker Imran Khan
ایک آدمی بتائیں جس کو میں نے اپنا رشتہ دار یا دوست یا سفارشی لگایا ہو
Speaker Imran Khan
ایک آدمی میں چیلنج کرتا ہوں
Topics:عمران خانکرپشنچوریپاکستاننیبایف آئی اےادارےانصافقرضہمیرٹ











