PM Imran Khan Speech on the Anti-corruption Day! | 9th … — Transcript

وزیراعظم عمران خان کا اینٹی کرپشن ڈے پر خطاب، کرپشن کے نقصانات اور اس کے خلاف اقدامات پر زور۔

Key Takeaways

  • کرپشن ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔
  • عوام کو کرپشن کے نقصانات سے آگاہی بڑھانی ہوگی تاکہ وہ کرپٹ افراد کو قبول نہ کریں۔
  • کرپشن کی روک تھام سے معیشت مضبوط ہوگی، روپے کی قدر بڑھے گی اور مہنگائی کم ہوگی۔
  • نوجوانوں اور عوام کی شرکت سے ہی کرپشن کے خلاف کامیاب مہم چلائی جا سکتی ہے۔
  • اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Summary

  • وزیراعظم عمران خان نے اینٹی کرپشن ڈے پر خطاب میں کرپشن کے خلاف حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔
  • انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں ریکور کی گئی زمین اور نقد رقم عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہوگی۔
  • عوام میں کرپشن کے اثرات اور اس کے نقصان کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
  • چین کے صدر شی جن پنگ کی کرپشن کے خلاف سخت کارروائیوں کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
  • عالمی سطح پر کرپشن کے خلاف عوامی احتجاجات اور سوشل میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
  • کرپشن کی وجہ سے ملک کی معیشت، روپے کی قدر، مہنگائی اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات بیان کیے گئے۔
  • اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے امکانات اور کرپشن کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
  • غیر ضروری منصوبوں کی تنقید کی گئی جو صرف کک بیکس کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
  • نوجوانوں کو کرپشن کے خلاف مہم میں حصہ لینے اور موبائل ایپ کے ذریعے شکایات درج کروانے کی ترغیب دی گئی۔
  • حکومت کی زمینوں کی واپسی اور ان کا عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے کا ذکر کیا گیا۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker 1
وزیراعظم عمران خان اسلام اباد میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
00:03
Speaker 1
کیونکہ یہ ایک بہت بڑا قدم ایک ماڈرن سوسائٹی پاکستان کو بنانے میں ہے۔
00:15
Speaker 1
جو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ابھی تک جس طرح کی کارکردگی دکھائی جو پیسے ریکور کیے۔
00:24
Speaker 1
جو کہ پچھلے 10 سال میں کتنا پیسے ریکور ہوئے اور جتنے ابھی یہ ایک بہت امپریسو پرفارمنس ہے۔
00:36
Speaker 1
اور مجھے چیف منسٹر صاحب اپ سے میں ریکویسٹ کروں گا کہ اس کو اپ پبلسائز کیا کریں۔
00:43
Speaker 1
لوگوں کو پتہ تو چلے کہ کرپشن سے اینٹی کرپشن ڈرائیو سے عوام کا کیا فائدہ ہو رہا ہے۔
00:50
Speaker 1
اپ نے 100 پتہ نہیں 30 ارب کی زمین ریکور کی عوام کی زمین اور اپ نے جو پانچ ارب روپیہ کیش ریکور کیا۔
00:59
Speaker 1
یہ اخر میں عوام پہ خرچ ہوگا۔
01:02
Speaker 1
تو لیکن مشکل ہمیں پاکستان میں اب تک کیا ائی ہے۔
01:08
Speaker 1
کہ لوگوں کو عوام کو سمجھ ہی نہیں ہے کہ کرپشن کا اور ان کی زندگی کا کیا تعلق ہے۔
01:16
Speaker 1
یہ لوگ کنیکٹ نہیں کر سکے ہیں۔
01:20
Speaker 1
وہ سمجھتے ہیں جی کرپشن ہوئی گورنمنٹ کا پیسہ ہے وہ چلا گیا۔
01:26
Speaker 1
ہمارا کیا فرق پڑتا ہے اور کئی کرپٹ لوگوں کو وہ میں دیکھتا تھا پھول اس کے اوپر پھینک دیتے ہیں۔
01:32
Speaker 1
کرپٹ لوگوں کے اوپر وہ زندہ باد بھی کہہ دیتے ہیں۔
01:35
Speaker 1
یہ ایسے ہے کہ اپ کا گھر کوئی لوٹ لے اور اپ اس کے اوپر پھول پھینکنا شروع کر دیں۔
01:41
Speaker 1
یعنی لوگوں کو یہ سمجھ نہیں اتی کہ جب ایک ملک کا پیسہ چوری ہوتا ہے تو وہ اصل میں ساری قوم کو اس کا نقصان ہوتا ہے۔
01:51
Speaker 1
اور یہ جو ریلیشن ہے یہ تب ہوگا جب اپ اپنی پرفارمنس باقاعدہ لوگوں کو میں اپ کو سجیسٹ کرتا ہوں یہ جب اپ نے جو ایپ بنا لیا ہے۔
02:01
Speaker 1
اپ اس کی جو جو بھی ہر مہینے اپ کی پرفارمنس ہو ایک پورا پبلسائز کریں۔
02:07
Speaker 1
بلکہ اشتہار دیں۔
02:10
Speaker 1
اور بتائیں لوگوں کو کہ عوام کا کتنا فائدہ ہوا۔
02:14
Speaker 1
دیکھیں اج دنیا کو ذرا دیکھ لیں۔
02:19
Speaker 1
جو سب سے دنیا میں تیز اکانومی اج اگے بڑھ رہی ہے چائنہ کی
02:27
Speaker 1
ان کا جو پریزیڈنٹ شی جن پنگ
02:34
Speaker 1
جو سب سے پاپولر پریزیڈنٹ سمجھے جاتے ہیں۔
02:40
Speaker 1
ان کی پاپولرٹی کا سب سے بڑا راز کیا ہے؟
02:45
Speaker 1
کہ انہوں نے پچھلے پانچ چھ سالوں میں 400 سے زیادہ منسٹر لیول کے لوگوں کو کرپشن میں جیل میں ڈالا ہے۔
02:55
Speaker 1
یعنی سب سے بڑی اکاؤنٹیبلٹی کی اینٹی کرپشن کی احتساب کی ڈرائیو کی ہے انہوں نے۔
03:03
Speaker 1
جس کی وجہ سے چائنہ میں وہ سب سے پاپولر ہے۔
03:08
Speaker 1
کیونکہ چائنہ کے لوگوں کو سمجھ انی شروع ہو گئی کہ اگر منسٹرز اور پرائم منسٹر یا اوپر والے جو جب پیسے کھاتے ہیں۔
03:15
Speaker 1
تو وہ قوم غریب ہو جاتی ہے۔
03:19
Speaker 1
اس لیے لوگ اس کو اج پریزیڈنٹ شی جن پنگ کو
03:25
Speaker 1
بڑا ایک سٹیٹس مین سمجھتے ہیں اور ان کی پاپولرٹی ہے۔
03:32
Speaker 1
اج اپ بیروت میں دیکھیں۔
03:37
Speaker 1
عوام سڑکوں پہ ہے۔
03:40
Speaker 1
کیوں ہیں سڑکوں پہ کرپشن کے خلاف۔
03:44
Speaker 1
حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف۔
03:46
Speaker 1
چلی میں لوگ نکلے ہوئے ہیں۔
03:50
Speaker 1
کرپشن کے خلاف۔
03:54
Speaker 1
بیروت میں لوگ عراق میں لوگ کرپشن کے خلاف نکلے ہوئے ہیں سڑکوں پہ۔
03:59
Speaker 1
عوام نکلی ہوئی ہے۔
04:01
Speaker 1
کیونکہ اب یہ نیا زمانہ ہے یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
04:07
Speaker 1
موبائل فون کا زمانہ ہے۔
04:10
Speaker 1
لوگوں کو اب پتہ چل جاتا ہے جب کرپشن ہوتی ہے۔
04:14
Speaker 1
پہلے چھپ جاتی تھی۔
04:17
Speaker 1
اب چھپتی نہیں ہے۔
04:19
Speaker 1
اور عوام کو اہستہ اہستہ دنیا میں احساس ہو گیا کہ اگر کرپشن ہوگی تو ہمارا ملک اگے نہیں ترقی کر سکتا۔
04:27
Speaker 1
اپ دنیا میں اٹھا کے دیکھ لیں۔
04:32
Speaker 1
جو کرپٹ قومیں ہیں وہ سب سے غریب ہیں۔
04:36
Speaker 1
جدھر کرپشن نہیں ہے اور جو جن کو کلین گورنمنٹس کہتے ہیں وہ سب سے امیر ہیں۔
04:43
Speaker 1
وسائل کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس سے۔
04:47
Speaker 1
جو غریب ترین قومیں ہیں ان میں سب سے زیادہ وسائل ہیں۔
04:55
Speaker 1
کانگو جو ہے جو جو کانگو کے اندر کون سا وہاں
05:01
Speaker 1
ہیرے جوہرات منرلز جو کہ نہیں ہیں کانگو میں۔
05:06
Speaker 1
غریب ترین ملک ہے۔
05:08
Speaker 1
نائیجیریا تیل پہ بیٹھا ہوا ہے۔
05:12
Speaker 1
غربت ہمارے سے بھی زیادہ ہے۔
05:16
Speaker 1
اور اپ سویٹزرلینڈ کو دیکھ لیں وسائل ہے ہی نہیں۔
05:21
Speaker 1
اور امیر ترین دنیا کا ملک ہے۔
05:24
Speaker 1
تو اپ ساری دنیا میں اگر اپ نے دیکھنا ہے خوشحالی جس جس قوم میں
05:32
Speaker 1
کرپشن نہیں ہے کلین گورنمنٹ ہے وہ اوپر ہے۔
05:37
Speaker 1
جو وسائل کے باوجود جس قوم میں کرپشن ہے وہ نیچے ہے۔
05:42
Speaker 1
اس لیے ہمیشہ ایک ایک ایڈوانسڈ ملک ایک ماڈرن سوسائٹی
05:51
Speaker 1
ایک خوشحال سوسائٹی سب سے زیادہ ایمفسز وہ کرپشن پہ دیتی ہے۔
05:58
Speaker 1
امریکہ کے اندر 30 30 سال کے بعد وہ کرپٹ لوگوں کو پکڑ لیتے ہیں۔
06:04
Speaker 1
ان کی سینگ ہے کہ یو کین رن بٹ یو کانٹ ہائیڈ۔
06:08
Speaker 1
کرپشن کو چھوڑتے نہیں ہیں۔
06:10
Speaker 1
کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اگر کرپشن ایک معاشرے میں عام ہو جائے تو معاشرے میں کیا ہوتا ہے؟
06:18
Speaker 1
جب کرپشن ایک معاشرے میں بڑھ جاتی ہے ایک سطح سے زیادہ تو سب سے پہلے کیا ہوتا ہے؟
06:25
Speaker 1
جو پیسہ عوام پہ خرچ ہونا ہوتا ہے وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔
06:32
Speaker 1
جو لوگوں کی تعلیم پہ صحت پہ پانی پہ صاف پینے کا پانی جو جو عوام کی ضروریات ہوتی ہیں۔
06:40
Speaker 1
ادھر سے پیسہ نکل کے لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔
06:46
Speaker 1
پھر جو کرپٹ لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ پیسہ حکومت میں ا کے پیسہ بناتے ہیں۔
06:53
Speaker 1
کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ پیسہ بینک میں رکھیں گے تو سب کو پتہ چل جائے گا۔
07:01
Speaker 1
وہ پیسہ جو یہ اج کل اپ دیکھ رہے ہیں یہ ٹی ٹی وغیرہ جو ہوتا ہے وہ پیسہ ملک سے باہر بھجوا دیتے ہیں۔
07:11
Speaker 1
اس لیے باہر بھجواتے ہیں کہ اگر ملک میں رہ جائے تو وہ نظر ا جائے گا۔
07:16
Speaker 1
اس لیے وہ پیسہ باہر بھجوا دیتے ہیں۔
07:19
Speaker 1
تو دگنا نقصان کرتے ہیں۔
07:22
Speaker 1
جب وہ ملک سے پیسہ باہر بھجواتے ہیں تو ان کو ڈالرز لینے پڑتے ہیں۔
07:30
Speaker 1
تو جب ڈالر لیتے ہیں جب اپ اور منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔
07:35
Speaker 1
تو اس سے روپے کے اوپر پریشر پڑتا ہے۔
07:39
Speaker 1
جب روپیہ گرتا ہے قوم کی دولت بھی کم ہو جاتی ہے۔
07:45
Speaker 1
اور جو بھی اپ چیزیں امپورٹ کرتی ہیں وہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔
07:50
Speaker 1
اور قوم میں مہنگائی ا جاتی ہے۔
07:54
Speaker 1
جب روپیہ ڈی ویلیو ڈی ویلیو کرتا ہے۔
07:58
Speaker 1
اب اگر تیل اپ نے امپورٹ کرنا ہے بجلی مہنگی ٹریول مہنگی سب کچھ۔
08:04
Speaker 1
اب گھی باہر سے یا تیل یعنی ایڈیبل ائلز ہم باہر سے امپورٹ کرتے ہیں۔
08:10
Speaker 1
وہ مہنگے عوام کا عوام کے لیے۔
08:14
Speaker 1
تو ہر چیز جو امپورٹ کرتے ہیں مہنگی ہو جاتی ہے۔
08:19
Speaker 1
تو منی لانڈرنگ جو یہ کرتے ہیں اس سے دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے۔
08:25
Speaker 1
تیسرا۔
08:28
Speaker 1
کرپٹ معاشروں کے اندر انویسٹمنٹ نہیں اتی۔
08:33
Speaker 1
اس وقت سب سے بڑا پاکستان کا اثاثہ ہے اوورسیز پاکستانی۔
08:39
Speaker 1
اپ اگر او اگر ہم اپنا نظام ٹھیک کر لیں جو کہ یہ بڑا اچھا قدم ہے اس طرف۔
08:48
Speaker 1
اگر ہم کرپشن کے اوپر قابو پا جائیں۔
08:53
Speaker 1
تو جتنا پیسہ ہمارے اوورسیز پاکستانیز کے اوپر کے پاس ہے اس وقت۔
09:01
Speaker 1
اگر وہ پاکستان میں انویسٹ کرنا شروع کر دیں جس طرح اوورسیز چائنیز نے پہلے چائنہ میں انویسٹ کیا تھا۔
09:07
Speaker 1
جس طرح اوورسیز انڈینز نے پہلے ہندوستان میں انویسٹ کیا تھا پھر ان کی اکانومی اڑی تھی۔
09:12
Speaker 1
جب جب انویسٹمنٹ ان کے اپنے لوگوں کی ائی تھی۔
09:17
Speaker 1
ہمارا اتنا بڑا اثاثہ باہر بیٹھا ہے اور کیونکہ میرا ان کے ساتھ زیادہ تعلق ہے۔
09:23
Speaker 1
جب ہم ان سے پوچھتے ہیں وہ سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ جی ہم پاکستان میں انویسٹ نہیں کرتے۔
09:28
Speaker 1
کرپشن بڑی ہے رشوت مانگتے ہیں لوگ۔
09:31
Speaker 1
اس لیے یہ جو کرپشن ہے یہ تیسری چیز انویسٹمنٹ نہیں اتی اس ملک کے اندر۔
09:39
Speaker 1
اور پھر۔
09:41
Speaker 1
پروجیکٹس ایسے بن جاتے ہیں۔
09:45
Speaker 1
وہ پروجیکٹس جس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ملک میں۔
09:51
Speaker 1
پروجیکٹ بن جاتے ہیں صرف کک بیکس کے لیے۔
09:54
Speaker 1
پیسے بنانے کے لیے۔
09:57
Speaker 1
اب یہ ملتان میٹرو ہے۔
10:00
Speaker 1
وہ ملتان کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں میٹرو نہیں چاہیے۔
10:05
Speaker 1
نہیں جی وہ تو مان یا نہ مان میں تیرا مہمان زبردستی ان کو میٹرو پکڑا دی۔
10:11
Speaker 1
وہ خالی چل رہی ہے اور۔
10:14
Speaker 1
اربوں روپے کا نقصان کر رہی ہے۔
10:17
Speaker 1
یہ پروجیکٹس اس لیے نہیں بنائے جاتے کہ عوام کو ضرورت ہے۔
10:22
Speaker 1
اس لیے بنائے جاتے ہیں کک بیکس کے لیے۔
10:26
Speaker 1
تو یہ یاد رکھ لیں کہ کرپشن ہماری عوام جب تک یہ نہیں سمجھے گی کہ جو کرپٹ ادمی ہے۔
10:32
Speaker 1
وہ عوام کا دشمن ہے۔
10:36
Speaker 1
کہتے ہیں جی عجیب عجیب چیزیں ہم سنتے ہیں۔
10:40
Speaker 1
اگر جی کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔
10:45
Speaker 1
اس طرح کی کوئی صرف بے وقوف لوگ ایسے بات کر سکتے ہیں جن کو سمجھ نہیں ہے جنہوں نے دنیا نہیں دیکھی۔
10:52
Speaker 1
جن کو یہ نہیں پتہ کہ دنیا اگے کیوں نکل گئی ہے ہمارے سے کیوں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔
10:58
Speaker 1
ہم پیچھے رہے ہیں یہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو پیسہ ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم پہ خرچ کرنا تھا۔
11:06
Speaker 1
ہائر ایجوکیشن ہائر ایجوکیشن پہ ریسرچ پہ خرچ کرنا تھا۔
11:12
Speaker 1
وہ اج بڑے بڑے محلات لوگوں کے باہر کے ملکوں کے اندر ا گئے ہیں۔
11:17
Speaker 1
باہر باہر بڑے بڑے اکاؤنٹس ہیں ان کے۔
11:21
Speaker 1
اس لیے۔
11:24
Speaker 1
یہ ہماری قوم کی سروائیول کے لیے۔
11:31
Speaker 1
اور ہماری قوم کو ایک عظیم قوم بننے کے لیے۔
11:36
Speaker 1
یہ جو ہمارا کرپشن کے خلاف یہ جو جہاد ہے۔
11:43
Speaker 1
اس میں ساری قوم کو شرکت کرنی پڑے گی۔
11:47
Speaker 1
اور یہ جو موبائل ایپ کے اوپر انہوں نے بڑا زبردست میں دات دیتا ہوں پنجاب گورنمنٹ کی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا۔
11:55
Speaker 1
کہ انہوں نے یہ بنائی اس کا مطلب ہر کوئی بھی شرکت کر سکتا ہے۔
12:02
Speaker 1
ہر کوئی اس اینٹی کرپشن مہم کے اندر اب صرف اپنے ایپ پہ
12:08
Speaker 1
اپنے موبائل فون کے اوپر ان کو میسج دیں۔
12:10
Speaker 1
تو سب شرکت کر سکتے ہیں۔
12:13
Speaker 1
اور جب یہ معاشرے کے اندر ہمارے خاص طور پہ نوجوانوں کے اندر یہ سمجھ ا گئی۔
12:20
Speaker 1
کہ ہم اپنی مستقبل کو بچا رہے ہیں یہ کرپٹ لوگوں کو ایکسپوز کرنے کے لیے۔
12:27
Speaker 1
نیا پاکستان تو بن ہی رہا ہے لیکن نیا پاکستان ڈیفینیٹلی بن جائے گا جب جب نوجوان خود شرکت کریں گے۔
12:33
Speaker 1
خود کرپٹ لوگوں کے پیچھے جائیں گے۔
12:37
Speaker 1
تو میں چیف منسٹر صاحب اپ کو اپ کے ڈی جی اینٹی کرپشن کو اپ کی
12:45
Speaker 1
سارے جو اپ کی ٹیم ہے پنجاب میں جو کرپشن کے خلاف اور جتنی زمینیں جنہوں نے ریٹریو کی ہیں۔
12:53
Speaker 1
میں پھر سے اپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
12:57
Speaker 1
لوگوں کو اب تک یہی نہیں پتہ تھا کہ جب حکومت کی زمینوں کے اوپر قبضے ہو جاتے ہیں۔
13:05
Speaker 1
اربوں اربوں روپے کی زمینیں ہیں کھربوں روپے کی زمینیں ہیں جن کے اوپر لوگ قبضہ کر کے بیٹھ گئے ہیں۔
13:11
Speaker 1
لوگ حکومت کو کی زمین یا پیسے کو اپنا نہیں سمجھتے۔
13:16
Speaker 1
اگر وہ اپنا سمجھے تو وہ بھی دات دیں ان کو کہ 130 ارب روپے کی زمین انہوں نے ریٹریو کر لی ہے۔
13:22
Speaker 1
اب یہ عوام کے لیے انشاءاللہ استعمال ہوگی۔
13:26
Speaker 1
یہ زمین کو جو ہم نے غریب لوگوں کے لیے ہاؤسنگ ہے اس کے لیے ہم استعمال کر سکتے ہیں۔
13:35
Speaker 1
کہ یہ زمین رکھ کے اور اس کے اوپر سستے گھر بنے تاکہ عام لوگوں کے پاس جن کے پاس
13:41
Speaker 1
گھر بنانے کے لیے پیسے نہیں ہیں وہ اس میں اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔
13:47
Speaker 1
بہت بہت شکریہ۔
13:51
Speaker 2
وزیراعظم عمران خان اینٹی کرپشن ڈے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
Topics:عمران خاناینٹی کرپشنکرپشن کے خلاف مہمپاکستانمعیشتاوورسیز پاکستانیحکومتکرپشن کا نقصانپنجاب اینٹی کرپشننوجوانوں کی شرکت

Frequently Asked Questions

وزیراعظم عمران خان نے اینٹی کرپشن ڈے پر کیا اہم باتیں کیں؟

وزیراعظم نے کرپشن کے نقصانات، حکومت کی کارکردگی، عوامی شعور کی ضرورت اور نوجوانوں کی شرکت پر زور دیا۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف اقدامات کی اہمیت اور اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے مواقع بھی بیان کیے۔

کرپشن کے خلاف عوامی شعور بڑھانے کے لیے کیا تجاویز دی گئیں؟

عوام کو کرپشن کے نقصانات سے آگاہ کرنے، اینٹی کرپشن مہم کی کارکردگی کو پبلش کرنے، اور موبائل ایپ کے ذریعے شکایات درج کروانے کی ترغیب دی گئی تاکہ سب لوگ اس مہم میں حصہ لے سکیں۔

کرپشن ملک کی معیشت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

کرپشن کی وجہ سے عوامی وسائل چوری ہوتے ہیں، روپے کی قدر کم ہوتی ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، اور سرمایہ کاری رک جاتی ہے، جس سے ملک کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →