YouTube Video — Transcript

کائنات کی پیدائش، بگ بینگ، قدیم تہذیبوں کے نظریات اور سائنس کی دریافتوں پر مبنی ایک سچی کہانی۔

Key Takeaways

  • کائنات کی پیدائش کا سفر سائنس اور قدیم تہذیبوں کے علوم کے امتزاج سے سمجھا جا سکتا ہے۔
  • بگ بینگ تھیوری نے کائنات کی ابتدا کی وضاحت کی مگر کچھ مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔
  • قدیم تہذیبوں کے متون میں کائنات کی تخلیق کے حوالے سے دلچسپ اور متنوع نظریات ملتے ہیں۔
  • سائنس کی موجودہ حدوں کے باوجود کائنات کی مکمل سمجھ کے لیے تاریخی اور فلسفیانہ علوم کی بھی ضرورت ہے۔
  • پانی کو کائنات کی ابتدا میں ایک بنیادی عنصر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

Summary

  • ویڈیو میں کائنات کی پیدائش اور اس کے ماضی، حال اور مستقبل کی کہانی بیان کی گئی ہے۔
  • 14 ارب سال پہلے شروع ہونے والے کائناتی سفر کی وضاحت کی گئی ہے۔
  • ارسا میجر جھرمٹ اور جی این زیڈ 11 کہکشاں کا ذکر کیا گیا ہے جو 14 ارب سال دور ہے۔
  • کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ ریڈی ایشن کی دریافت اور بگ بینگ تھیوری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
  • ہورائزن پرابلم کی وضاحت اور روشنی کی رفتار کے مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔
  • سائنس کی حدود اور اس کے بعد قدیم علوم کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
  • 1849 میں نینوا سے ملنے والی اینوما ایلیش تختیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کائنات کی تخلیق کی کہانی بیان کرتی ہیں۔
  • سمری تہذیب کی 5000 سال پرانی مٹی کی تختیوں میں نمو نامی قوت اور پانی سے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے۔
  • سمری تہذیب کی اہم ایجادات جیسے لکھائی، گھڑی، آبپاشی نظام اور جیومیٹری کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • مصر کی قدیم تہذیب کی تحریروں میں نون نامی طاقت اور طوفانی سمندر سے تخلیق کی بات بھی شامل ہے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:13
Speaker A
السلام علیکم میرا نام فرقان قریشی ہے اور آج سے آپ جو بھی سننے والے ہیں یہ ایک سچی کہانی ہے۔ آپ کی میری اور ہم سب کی زندگی کی کہانی۔ ایک حیرت انگیز ماضی، حال اور ایک حیرت انگیز مستقبل کی کہانی۔ یہ کہانی تب سے شروع ہوتی ہے جب کچھ بھی نہ تھا اور اس کا اختتام وہاں پر ہوگا جب کچھ بھی نہ رہے گا۔ آسمان سے لے کر زمین تک جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے ستارے، سیارے، سورج
01:00
Speaker A
وقت اور وہ تمام تخلیقات جسے ہم اپنی محدود زبان میں کائنات کہتے ہیں۔ آج ہمارا ایک سفر شروع ہونے والا ہے اس کائنات کی کھوج کا سفر۔ اسے کس نے بنایا اس میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے اور ہماری چھوٹی سی زمین جسے ہم دنیا کہتے ہیں اس میں کیا کچھ ہو چکا ہے اور کیا کچھ ہونے والا ہے یہ سب جاننے کا سفر۔ اور ہمارے سفر کا آغاز ہوتا ہے آج سے 14 ارب سال پہلے۔ لیکن 14 ارب سال ہی کیوں؟ کیا کبھی آپ نے رات کے آسمان میں سات تاروں کا یہ جھرمٹ دیکھا ہے؟
02:00
Speaker A
میں چھوٹا سا تھا تو میری امی نے مجھے اس کے متعلق بتایا تھا اسے ارسا میجر کہتے ہیں۔ یا پھر عربی یا اردو میں دب اکبر۔ پاکستان میں یہ جھرمٹ رات کے آسمان میں تقریبا ہر روز نظر آتا ہے اور اگر آپ کی آنکھیں دنیا کی سب سے طاقتور دوربین کی طرح ہوتیں تو آپ کو اس درمیان والے ستارے کے بالکل اوپر ایک چھوٹا سا سرخ دھبہ نظر آتا۔ یہ ہے جی این زیڈ 11 یعنی کہ آج تک کی سب سے دور کی کہکشاں۔ کروڑوں ستارے ایک معمولی سے سرخ دھبے کی شکل میں اور ہم سے اتنا دور
03:00
Speaker A
کہ اس کی روشنی جس سے تیز رفتار اس کائنات کی کوئی اور شے نہیں ہے ہم تک پہنچنے میں 14 ارب سال لے لیتی ہے۔ اس چھوٹے سے بے نام حصے میں دیکھنے سے ہمیں اتنا تو پتہ چل ہی جاتا ہے کہ ہم اپنے سفر میں کم سے کم اتنا دور تو جا ہی سکیں گے۔ لیکن ان 14 ارب سالوں کا 99.9985 فیصد حصہ تو انسان سے پہلے ہی گزر چکا ہے۔ ہم انسان تو بالکل آخری چند سیکنڈز میں آئے ہیں۔
04:00
Speaker A
تو پھر ہم کیسے اس کائنات کی پیدائش کو دیکھ پائیں گے؟ یہ جاننے کے لیے آپ اپنے آپ کو وقت کی قید سے آزاد کر دیں۔ اور چلیں میرے ساتھ ہم ان تمام علوم کو ایکسپلور کریں گے کہ جو آج سے ہمیں اس کائنات کی ایک سچی کہانی سنانے والے ہیں۔ ہمارے ارد گرد ایک علم بہت عام ہے جسے سائنس کہتے ہیں۔ اس سائنس کی ایک برانچ ہے کاسموگنی۔
05:00
Speaker A
یعنی کائنات کی پیدائش کی سٹڈی۔ جس کے ذریعے 1964 میں ایک دریافت ہوئی تھی۔ یہ دریافت اتنی بڑی تھی کہ اسے کرنے والے دونوں سائنسدانوں آرنو پینزیاس اور رابرٹ ولسن ان دونوں کو نوبل پرائز ملا تھا۔ ان دونوں نے خلا میں ایک طرح کا ریڈی ایشن ڈھونڈا تھا دریافت کیا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ریڈی ایشن نہ ہی کسی ستارے سے آ رہا تھا نہ ہی کسی سیارے سے۔
06:00
Speaker A
اور نہ ہی کسی دوسری کہکشاں سے یہ بس خلا میں ہر طرف بکھری ہوئی ایک انرجی کی طرح تھا۔ یہ لوگ کائنات میں جہاں کہیں بھی نظر ڈالتے انہیں یہ انرجی محسوس ہوتی دکھائی دیتی۔ یوں لگتا تھا کہ کسی زمانے میں ایک بہت بڑے دھماکے کی وجہ سے پیدا ہو کر ہر طرف پھیل گئی ہو۔ جیسا کہ کسی عظیم کسی زوردار دھماکے کی ایک گونج ہو جو آج تک سنائی دے رہی ہے۔
07:00
Speaker A
لہذا انہوں نے اسے کاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ کا نام دیا۔ آج دنیا اس دھماکے کو بگ بینگ کے نام سے جانتی ہے کہ آسمان، زمین اور اس کے درمیان موجود سب کچھ پہلے ایک ہی تھا اور پھر پوری قوت سے ہونے والے ایک دھماکے کے بعد علیحدہ ہوا۔ اور اس دھماکے کا نام بگ بینگ تھا۔ لیکن اس دریافت نے ایک بہت بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا اس مسئلے کا نام ہورائزن پرابلم ہے۔
08:00
Speaker A
یعنی کہ آسمان میں ہمیں کسی جگہ یہ انرجی 46 بلین لائٹ ایئرز کے فاصلے پر پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور کسی جگہ صرف تین لاکھ سال کے فاصلے پر۔ اب اس مسئلے کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ کائنات میں روشنی مختلف جگہوں پر مختلف رفتار سے سفر کر رہی ہے جو کہ ناممکن ہے۔ اور ہمارے علم کے مطابق تو یہ قدرت کے قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ روشنی کی تو ایک ہی رفتار ہوتی ہے تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ۔
09:00
Speaker A
لیکن اس کے علاوہ کوئی اور ایکسپلینیشن تھی بھی نہیں اور اگر یہ بات سچ ہے کہ کچھ جگہوں پر روشنی کی رفتار مختلف ہے تو ہمیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا۔ کہ ان جگہوں پر وقت گزرنے کی رفتار بھی باقی جگہوں سے مختلف ہی ہوگی۔ اب اس مقام پر پہنچ کر ہمیں ایک احساس ہونے لگتا ہے کہ شاید سائنس بھی ہمیں صرف ایک حد تک ہی علم دے سکتی ہے۔
10:00
Speaker A
اور اس میں سائنس کا قصور ہے بھی نہیں کیونکہ ہمیں سائنس کی اس شکل سے متعارف ہوئے ہمیں صرف چند سو سال ہی گزرے ہیں۔ لہذا ہمیں ایک اور علم کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔ ان چند سو سالوں سے پہلے کے لوگوں کا علم کہ وہ کیا کچھ جانتے تھے۔ اور ان کا علم جاننے کے لیے ہمیں تاریخ میں جانا پڑے گا ایک بہت بہت پرانی تاریخ۔ آج سے کوئی 173 سال پہلے کی بات ہے 1849 میں عراق کے شہر نینوا میں ایک آرکیالوجسٹ آسٹن ہینری کو
11:00
Speaker A
کھدائی کے دوران مٹی کی چند تختیاں ملی تھیں یعنی کہ مٹی سے بنی وہ ٹیبلٹس جن پر قدیم زمانے میں لکھائی کی جاتی تھی۔ آسٹن ہینری نے اس ان ٹیبلٹس کو اینوما ایلیش کا نام دیا یہ بیسکلی سات تختیوں پر لکھی ایک داستان تھی جس میں آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے کے لوگ اس کائنات کی تخلیق کے حوالے سے آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
12:00
Speaker A
اور وہ کہتے ہیں کہ جب اونچے آسمان کا نام نہ تھا جب نیچے کوئی زمین نہ تھی۔ جب صرف پانی تھا نہ کوئی جھاڑی تھی نہ کوئی جھونپڑی تھی اور نہ ہی کوئی دلدل تھی۔ جب کوئی نفس نہ تھا اور نہ ہی کوئی قسمت لکھی گئی تھی تب اس میں خدا کا حکم آیا۔ رائٹ سمتھنگ ویری انٹرسٹنگ یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔ اور اگر ہم اس پوری عبارت کو پڑھیں تو انہیں ایک ہزار لائنز میں کسی بھی چیز کی تخلیق سے پہلے پانی کے ہونے کا ذکر ملتا ہے کہ بس پانی تھا۔
13:00
Speaker A
اور اس کے علاوہ ایک ہمیشہ رہنے والے باغ کا ذکر اور سب سے آخر میں انسان اور اس کی روح کا ذکر ملتا ہے جو آسمان سے آئی تھی۔ لیکن اس عبارت کی سب سے دلچسپ بات اس کے یونانی ترجمے کا ایک لفظ لوگوس ہے یعنی ایک کہی ہوئی بات۔ آسان الفاظ میں اس جگہ لکھا ہوا ہے کہ جب خدا نے تخلیق کرنی چاہی تو ایک بات کہی۔
14:00
Speaker A
لیکن کیا بات کہی اس معاملے میں یہ تختیاں خاموش ہیں۔ تو چلیں ایک اور قدیم تہذیب کی طرف چلتے ہیں ایک جو ان سے بھی پہلے کے تھے۔ پانچ ہزار سال پرانی تہذیب سمرا کے لوگ۔ سمرا بھی موجودہ عراق ہی کا ایک علاقہ تھا اور انہوں نے بھی اپنی مٹی کی تختیوں میں لکھا ہے کہ نمو نامی ایک قوت تھی جو ہمیشہ سے موجود تھی۔
15:00
Speaker A
نمو نے پانی کے ایک بہت بڑے ذخیرے سے زمین اور آسمان بنائے اور آپ یہ مت سمجھیے گا کہ سمرا یعنی سومیرینز کوئی چھوٹی تہذیب تھی سمرا تاریخ کی سب سے پرانی تہذیب ہے۔ اور آج کی دنیا میں موجود چیزوں میں سے کم سے کم 100 ایجادات سمرا ہی کے لوگوں نے کی تھیں مثلا سب سے پہلی لکھائی رائٹنگ سومیرینز ہی نے کی تھی۔
16:00
Speaker A
سب سے پہلی گھڑی سب سے پہلا آبپاشی کا نظام یہاں تک کہ جیومیٹری کا سب سے پہلا استعمال سمرا ہی میں ہوا تھا۔ اب چلیں مان لیتے ہیں کہ صرف دو ہی تہذیبیں کافی نہیں ہیں اس لیے ہم تھوڑی سی کھوج مزید بھی لگاتے ہیں۔ تین ہزار سال پرانا مصر کہ جو اپنے دور کی ایک سپر پاور تھا۔ وہ لوگ بھی اپنے اہراموں میں لکھی ہوئی عبارات میں بتاتے ہیں کہ نون نامی ایک طاقت نے پانی کے ایک بہت بڑے طوفانی سمندر سے زمین اور آسمان بنائے۔
Topics:کائناتبگ بینگکاسمک مائیکرو ویو بیک گراؤنڈسمری تہذیبنینوا تختیاںکائنات کی تخلیقسائنس اور تاریخہورائزن پرابلمقدیم علومکائناتی سفر

Frequently Asked Questions

یہ کہانی کب سے شروع ہوتی ہے اور کب ختم ہوگی؟

یہ کہانی تب سے شروع ہوتی ہے جب کچھ بھی نہ تھا اور اس کا اختتام وہاں پر ہوگا جب کچھ بھی نہ رہے گا۔ یہ آسمان سے لے کر زمین تک اور ان کے درمیان موجود ہر چیز کی کہانی ہے۔

سب سے دور کی کہکشاں کا نام کیا ہے اور اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں کتنا وقت لیتی ہے؟

سب سے دور کی کہکشاں کا نام جی این زیڈ 11 (GN-z11) ہے۔ اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 14 ارب سال لیتی ہے، جو اس کائنات میں کسی بھی شے کی تیز ترین رفتار ہے۔

کائنات کی پیدائش کی سٹڈی کو کیا کہتے ہیں اور اس میں کون سی اہم دریافت ہوئی تھی؟

کائنات کی پیدائش کی سٹڈی کو کاسموگنی کہتے ہیں۔ 1964 میں آرنو پینزیاس اور رابرٹ ولسن نے خلا میں ایک قسم کی ریڈی ایشن دریافت کی تھی، جس پر انہیں نوبل پرائز ملا تھا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →