ایران اور اسرائیل کی پیچیدہ تاریخ، دوستی سے دشمنی تک کا سفر اور خطے پر اس کے اثرات۔
Key Takeaways
- ایران اور اسرائیل کے تعلقات مفادات کی بنیاد پر بدلتے رہے، دوستی اور دشمنی دونوں دیکھی گئی۔
- علاقائی اور عالمی سیاست میں مفادات ہمیشہ نظریات سے اوپر رہے۔
- 1979 کا انقلاب تعلقات میں بنیادی تبدیلی کا باعث بنا۔
- دونوں ممالک نے خطے میں اپنی بقا کے لیے خفیہ اور کھلے اقدامات کیے۔
- ایران-عراق جنگ میں اسرائیل کا کردار مفادات کی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔
Summary
- ایران اور اسرائیل کبھی خفیہ دوست تھے، جہاں ایران کا تیل اسرائیل کے ہتھیاروں کو طاقت دیتا تھا۔
- دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیز موساد اور سواک نے مل کر کام کیا اور ایک دوسرے کی حفاظت کی۔
- اسرائیل نے ایران میں میزائل فیکٹری بنائی اور ایران نے اسرائیل کو تیل فراہم کیا۔
- 1979 کے ایرانی انقلاب نے دونوں ممالک کے تعلقات کو دشمنی میں بدل دیا۔
- خمینی نے اسرائیل کو 'چھوٹا شیطان' قرار دیا اور فلسطینی تنظیم کو ایران میں سفارت خانہ دیا۔
- ایران-عراق جنگ میں اسرائیل نے ایران کو ہتھیار فراہم کر کے مفادات کی سیاست دکھائی۔
- دونوں ممالک کے تعلقات خطے کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے گہرے طور پر جڑے ہیں۔
- 1950 کی دہائی میں عرب نیشنلزم اور جمال عبدالناصر کے اثرات نے ایران-اسرائیل تعلقات پر اثر ڈالا۔
- اسرائیل کی 'دی پیریفری ڈاکٹرائن' کے تحت ایران، ترکی اور ایتھوپیا سے دوستی کی کوشش کی گئی۔
- پروجیکٹ فلاور کے تحت ایران اور اسرائیل نے بیلسٹک میزائل اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی پر کام کیا۔











