Imran Khan Speech on Defence Day | 6 Spetember 2018 | A… — Transcript

عمران خان کا یوم دفاع پر خطاب، 1965 کی جنگ کی یادیں، فوج کی قربانیوں کی تعریف اور پاکستان کی ترقی کے لیے میرٹ اور انصاف کی ضرورت۔

Key Takeaways

  • پاکستان کی ترقی کے لیے میرٹ اور پروفیشنلزم لازمی ہیں۔
  • فوج اور ادارے ملک کی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
  • تعلیم اور انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے تاکہ قوم متحد ہو۔
  • قدرتی وسائل ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
  • قوم سازی کے لیے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے سبق لینا ضروری ہے۔

Summary

  • عمران خان نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران اپنے بچپن کی یادیں بیان کیں۔
  • انہوں نے پاکستان کی فوج کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف ان کی کارکردگی کو سراہا۔
  • فوج میں میرٹ اور پروفیشنلزم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
  • ملک کی ترقی کے لیے مضبوط ادارے اور میرٹ پر مبنی نظام کی ضرورت پر بات کی گئی۔
  • اسلام کے نام پر بنے پاکستان کی تاریخ اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو قوم سازی کے لیے مثال بنایا گیا۔
  • تعلیم، انصاف اور فلاحی ریاست کے اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
  • معاشرتی مساوات، تعلیم اور صحت کی سہولیات سب کے لیے فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
  • ملک کے قدرتی وسائل اور ان کی اہمیت کا ذکر کیا گیا۔
  • پاکستان کے بڑے مسائل جیسے قرضے، پانی اور بجلی کے مسائل کو تسلیم کیا گیا۔
  • قوم کو متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی تلقین کی گئی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
یوم دفاع عظیم قربانیوں کی لازوال داستان
00:08
Speaker A
دشمنو! سن لو۔۔۔ ہمیں پیار ہے پاکستان سے
00:16
Speaker A
ناقابل تسخیر ہیں ہم۔۔۔ قائد کے خواب کی تعبیر ہیں ہم!
00:47
Speaker A
یہ غازی۔۔۔ یہ تیرے پراسرار بندے!
00:54
Speaker A
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
01:46
Speaker A
دشمنو! سن لو۔۔۔ ہمیں پیار ہے پاکستان سے
01:57
Speaker A
اٹینڈنٹ!
02:04
Speaker A
سلام!
02:08
Speaker A
سلام!
02:13
Speaker A
فوج!
02:27
Speaker A
یہ غازی۔۔۔ یہ تیرے پراسرار بندے!
03:37
Speaker A
دشمنو! سن لو۔۔۔ ہمیں پیار ہے پاکستان سے
03:46
Speaker A
ناقابل تسخیر ہیں ہم۔۔۔ قائد کے خواب کی تعبیر ہیں ہم!
04:09
Speaker A
اٹینڈنٹ!
04:16
Speaker A
نیچے!
04:18
Speaker A
فوج!
05:18
Speaker A
اٹینڈنٹ!
05:20
Speaker A
فوج!
05:40
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
05:42
Speaker A
ایاک نعبد و ایاک نستعین
05:47
Speaker A
آرمی چیف جنرل باجوہ، سروس چیفس، میرے پارلیمانی کولیگز، خواتین و حضرات
06:00
Speaker A
اور جن کے لیے آج فنکشن ہے، پاکستان کے شہداء کے لواحقین
06:07
Speaker A
میں آج آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں
06:10
Speaker A
اور میں نے ابھی جو فلم دیکھی
06:14
Speaker A
1965 کے اوپر تو میں صرف اپنی بات شروع کرتا ہوں
06:19
Speaker A
کہ 6 ستمبر 1965، 12 سال کا تھا میں
06:26
Speaker A
تو مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر زمان پارک سے جب شیلنگ کی رات کو
06:33
Speaker A
شیلنگ کی آوازیں آنی شروع ہوئیں اور پھر چھت پہ چڑھ کے بم بلاسٹ کی ہمیں
06:40
Speaker A
ہمیں نظر آتی تھی اپنی چھت سے
06:44
Speaker A
تو مجھے وہ کبھی نہیں بھولتا
06:47
Speaker A
کیونکہ میں اپنے ماں باپ کی شکلوں پہ خوف دیکھا اس رات
06:54
Speaker A
ڈر تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوگا
06:57
Speaker A
7 ستمبر کو زمان پارک میں ہمارے جتنے بھی بڑے تھے
07:00
Speaker A
ایک کونسل آف وار ہوئی
07:03
Speaker A
سب جمع ہوئے
07:05
Speaker A
ایک رومر تھی کہ رات کو ہندوستان کے پیرا ٹروپرز نے لاہور میں ڈراپ ہونا ہے
07:13
Speaker A
تو ہماری پھر ایک ایک سول فورس بنی
07:19
Speaker A
سب جتنے بھی میرے بڑے کزنز تھے انہوں نے زمان پارک میں مورچہ بنایا
07:26
Speaker A
انڈین پیرا ٹروپرز کی انتظار میں
07:31
Speaker A
میں 12 سال کا تھا میں اپنے والد کی بندوق پکڑی
07:36
Speaker A
اور میں بھی پہنچ گیا ان کے ساتھ گارڈ ڈیوٹی دینے کے لیے
07:41
Speaker A
جیسے ہی میں وہاں پہنچا
07:47
Speaker A
میرے کزنز نے مجھے واپس بھیج دیا کہ نہیں تم بہت چھوٹے ہو تم نہیں کر سکتے یہ
07:52
Speaker A
بڑی مجھے تکلیف ہوئی کہ یہ کیا کیا میں کوسا اپنے آپ کو میں صرف 12 سال کا ہوں
07:58
Speaker A
بہرحال میں گھر چلا گیا
08:01
Speaker A
اگلے دن پتہ چلا
08:05
Speaker A
کہ انڈین پیرا ٹروپرز تو نہیں آئے
08:10
Speaker A
لیکن میرے کزنز نے رات کو ایک ہمارے رشتہ دار کے اوپر گولیاں چلا دیں
08:18
Speaker A
خوش قسمتی سے ان کے نشانے برے تھے اس لیے وہ بچ گئے
08:23
Speaker A
تو مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ جس طرح کی ایک
08:31
Speaker A
پاکستان میں وہ جو ایک لہر تھی
08:36
Speaker A
ساری قوم فوج کے ساتھ کھڑی تھی
08:40
Speaker A
یعنی جو میں نے وہ جذبہ دیکھا تھا
08:46
Speaker A
میں نے وہ کبھی ویسا جذبہ آج تک نہیں دیکھا
08:50
Speaker A
ہم سب فوجی بننا چاہتے تھے
08:53
Speaker A
اگر میں کرکٹ کی طرف نہ لگ جاتا تو ہو سکتا میں بھی آج ریٹائرڈ فوجی ہوتا
09:01
Speaker A
میں آج اپنی فوج کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں
09:06
Speaker A
مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے وہ 1965
09:10
Speaker A
جس طرح ہماری فوج نے لاہور کو ڈیفینڈ کیا اور مجھے یاد ہے کہ ہمیں کتنا فخر تھا
09:17
Speaker A
اور یہ جو ابھی وار آن ٹیرر جس کی آپ نے ابھی
09:22
Speaker A
ویڈیو تصویریں بھی دیکھیں اور جنرل باجوہ آپ نے بات بھی کی
09:27
Speaker A
میں اس کے خلاف تھا
09:30
Speaker A
میں نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ میں پڑے
09:35
Speaker A
لیکن جب اور انشاءاللہ یہ میرا آج سب سے وعدہ ہے
09:40
Speaker A
کبھی کبھی پاکستان کسی اور کی جنگ میں کبھی شرکت نہیں کرے گا
09:47
Speaker A
ہمارا کام ہے ہم اپنے لوگوں کے لیے کھڑے ہوں
09:50
Speaker A
اور ہماری فارن پالیسی بھی انشاءاللہ وہ ہوگی
09:55
Speaker A
جو ہمارے پاکستانیوں کی بہتری میں ہوگی
10:01
Speaker A
تو جب یہ ہوگی جنگ
10:04
Speaker A
اس کے بعد جو ہمارا ملک جس امتحان سے گزرا
10:11
Speaker A
جس طرح کی دہشت گردی ہوئی
10:16
Speaker A
ہماری فوج اور ہماری خاص طور پہ انٹیلی جنس ایجنسیز
10:23
Speaker A
جو ان کی پرفارمنس تھی
10:27
Speaker A
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اور کتنی اور فوجیں اس طرح کی جو جس طرح کی دہشت گردی
10:32
Speaker A
پاکستان میں ہوئی ہے کتنی فوجیں اس کا مقابلہ کر سکتی تھی
10:36
Speaker A
میں جب سے مجھے یہ ذمہ داری ملی ہے
10:41
Speaker A
تو میں نے ایک جی ایچ کیو کے اندر 6 گھنٹے کی بریفنگ لی
10:46
Speaker A
پھر میں نے نیول اور ایئر فورس چیف سے بھی بریفنگ لی
10:51
Speaker A
تو میں اس نتیجے پہ آیا ہوں
10:55
Speaker A
کہ اس وقت اگر ایک ادارہ جو انٹیکٹ ہے
11:01
Speaker A
جو کہ فنکشن کر رہا ہے
11:05
Speaker A
وہ آج ہماری فوج ہے
11:11
Speaker A
اور وہ اسی فنکشن کر رہا ہے
11:14
Speaker A
کہ کسی قسم کی پولیٹیکل انٹرفیرنس نہیں ہے
11:18
Speaker A
پروفیشنلزم ہے
11:21
Speaker A
میرٹ کا سسٹم ہے
11:23
Speaker A
جب تک جب تک ایک ادارے میں میرٹ ہوتی ہے
11:27
Speaker A
پروفیشنلزم ہوتی ہے
11:30
Speaker A
وہ ادارہ چلتا ہے
11:32
Speaker A
ایک وقت پہ ہماری بیوروکریسی ہماری سول سروس 1960 میں
11:37
Speaker A
سارے ایشیا میں بہترین سول سروس مانی جاتی تھی
11:41
Speaker A
کیونکہ وہ بھی پروفیشنل تھی تب میرٹ تھی
11:45
Speaker A
سب سے مشکل امتحان تھا سول سروس کا امتحان
11:51
Speaker A
اور جب بھی جب بھی
11:55
Speaker A
ایک میرٹ کا سسٹم ختم ہوتا ہے پولیٹیکل انٹرفیرنس ہوتی ہے
12:00
Speaker A
اور ہماری طرح کے پولیٹیشنز کرتے ہیں
12:04
Speaker A
تو جب ایک ملک کے ادارے تباہ ہوتے ہیں تب ملک تباہ ہوتا ہے
12:10
Speaker A
ملک کی یاد رکھیں کوئی بھی جنگ بمباری ملک کو تباہ نہیں کرتی
12:15
Speaker A
جرمنی اور جاپان سیکنڈ ورلڈ وار میں تباہ ہو چکے تھے
12:21
Speaker A
لیکن 10 10 سال میں پھر کھڑے ہو گئے
12:24
Speaker A
کیونکہ ان کے ادارے انٹیکٹ تھے
12:27
Speaker A
تو ہم نے جو جو پاکستانیوں کے لیے سبق ہے وہ یہ
12:31
Speaker A
کہ اس ملک کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے
12:35
Speaker A
کسی چیز کی کمی نہیں ہے
12:38
Speaker A
آپ نے کوئی ویژولز دیکھے کہ ہمارے ملک کی ڈائیورسٹی کتنی ہے
12:42
Speaker A
کیا کیا اللہ نے دیا ہے اس ملک میں
12:45
Speaker A
آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ کتنا اور اللہ نے دیا ہے
12:51
Speaker A
ہمیں یہی نہیں پتہ کہ ہمارے ملک میں گیس کتنی ہے
12:54
Speaker A
ہمیں پتہ ہے کوئلے کے اربوں اربوں ٹنز کے ریزرو ہیں
13:00
Speaker A
تانبہ ہے سونا ہے زرخیز زمین ہے
13:03
Speaker A
12 موسم ہیں
13:06
Speaker A
سب سے اونچی سے سمندر سب سے سٹیپ گریڈینٹ ہے
13:10
Speaker A
مطلب کہ سب کچھ اگ سکتا ہے یہاں
13:14
Speaker A
لیکن ہم نے اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں
13:17
Speaker A
میرٹوکریسی لے کے آنی ہے
13:20
Speaker A
اور سب سے امپورٹنٹ چیز میں یہ
13:25
Speaker A
آپ کے سامنے ایک کیونکہ ہمارا واحد ملک ہے اسلام کے نام پہ بنا تھا
13:30
Speaker A
تو میں آپ کے سامنے یہ تاریخ
13:34
Speaker A
تاریخ رکھنا چاہتا ہوں
13:37
Speaker A
610 میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی
13:41
Speaker A
620 میں صرف 40 لوگ مسلمان ہوئے تھے
13:45
Speaker A
623 میں ہجرت کی مدینہ
13:49
Speaker A
625 میں جنگ بدر ہوئی
13:52
Speaker A
جدھر صرف 313 لڑنے والے تھے
13:57
Speaker A
625
14:00
Speaker A
636 میں یرموک میں 80 ہزار سے ایک لاکھ
14:06
Speaker A
رومن ایمپائر کی فوج جنگ یرموک میں شکست کھاتی ہے مسلمانوں سے
14:11
Speaker A
اور پھر 638 میں جو دوسری سپر پاور تھی
14:16
Speaker A
پرشین ایمپائر وہ شکست کھاتی ہے
14:21
Speaker A
کچھیا میں
14:24
Speaker A
تو یہ سب غور کریں کہ یہ کیا ہوا
14:27
Speaker A
وہ دنیا کے عظیم لیڈر انہوں نے کیا کیا ان لوگوں میں
14:34
Speaker A
جو کہ کہاں قبیلوں میں بٹے ہوئے جن کی اہمیت ہی کوئی نہیں تھی
14:40
Speaker A
ریگستان میں رہتے تھے
14:43
Speaker A
انہوں نے کیا کیا کہ وہ دنیا کی سب سے عظیم
14:50
Speaker A
سیولائزیشن بن گئے قوم بن گئے
14:53
Speaker A
کئی صدیوں تک دنیا کی امامت کی
14:57
Speaker A
ہمیں قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو
15:01
Speaker A
ہمیں حکم ہے اللہ کا
15:03
Speaker A
ہمیں اللہ حکم دیتا ہے
15:08
Speaker A
کہ ان کی زندگی سے سیکھو
15:12
Speaker A
تو ان کی زندگی سے ہم نے کیا سیکھا
15:15
Speaker A
یہ واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پہ بنا تھا
15:20
Speaker A
ان کی زندگی سے ہم نے یہ سیکھا
15:24
Speaker A
کہ ایک ایک لوگ ایسے اٹھتے ہیں جب وہ قوم بن جاتے ہیں
15:30
Speaker A
بٹے ہوئے قبیلوں کو انہوں نے اکٹھا کر کے قوم بنا دیا
15:35
Speaker A
اور انہوں نے کیسے قوم بنایا
15:39
Speaker A
ہر انسان کا سٹیک ہو گیا اس قوم کا حصہ بننے میں
15:46
Speaker A
جب ایک انسان کو انصاف ملتا ہے
15:50
Speaker A
مطلب یہ کہ طاقتور کمزور پہ ظلم نہیں کر سکتا
15:55
Speaker A
جب ایک کمزور یہ سمجھتا ہے کہ ریاست میری حفاظت کرے گی اگر میرا طاقتور سے مقابلہ ہو گیا
16:02
Speaker A
تو وہ پھر اس ریاست سے جڑ جاتا ہے
16:06
Speaker A
وہ قوم کا حصہ بن جاتا ہے
16:08
Speaker A
جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ ریاست میں اگر کمزور ہوں میری مدد کرے گی
16:14
Speaker A
جو پہلی دنیا کی تاریخ کی فلاحی ریاست بنائی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
16:20
Speaker A
میرٹ کا نظام لے آئے
16:22
Speaker A
جو اچھا کرتا تھا اوپر آ سکتا تھا
16:26
Speaker A
یہ نہیں کہ صرف ایک ایلیٹ کے لیے ایک ملک بنا ہوا تھا
16:31
Speaker A
اور انہوں نے تعلیم کے اوپر زور دیا
16:34
Speaker A
کوئی قوم تعلیم کے بغیر نہیں اٹھتی
16:37
Speaker A
وہ پرنسپلز انہوں نے سیٹ کیے تھے
16:40
Speaker A
وہی پرنسپلز آج جو ہمارے مسئلے ہیں پاکستان کے انہی پرنسپلز پہ یہ ملک اٹھے گا
16:48
Speaker A
ہمارے بڑے مسئلے ہیں آج
16:50
Speaker A
قرضوں میں ملک ڈوبا ہوا ہے
16:53
Speaker A
پانی کا مسئلہ ہے
16:55
Speaker A
بجلی کا مسئلہ ہے
16:56
Speaker A
یہ میں دو تین ہفتے صرف پریزنٹیشنز لیتا رہا ہوں ڈیفرنٹ ڈیپارٹمنٹس سے کہ کتنے مسئلے ہیں پاکستان کے
17:02
Speaker A
لیکن میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں
17:05
Speaker A
یہ ملک اٹھے گا ایک عظیم قوم بنے گی
17:12
Speaker A
لیکن کب بنے گی جب ایک چھابڑی والا
17:18
Speaker A
ایک مزدور سڑکوں پہ کام کرنے والا
17:23
Speaker A
پولیس والے ہمارے فوجی
17:27
Speaker A
جو جو سپاہی جو محنت کرتے ہیں
17:31
Speaker A
جو لڑتے ہیں ہمارے لیے
17:35
Speaker A
جو ایک کسان سارا دن کام کرتا ہے
17:40
Speaker A
جب یہ سب یہ سمجھیں گے
17:44
Speaker A
کہ چلیں میں تو محنت کر رہا ہوں لیکن میرا بچہ سرکاری سکول میں جائے گا
17:50
Speaker A
اور اس سرکاری سکول میں سے جب وہ نکلے گا تو وہ انجینئر بھی بن سکتا ہے
17:56
Speaker A
ڈاکٹر بھی بن سکتا ہے جنرل بھی بن سکتا ہے
18:02
Speaker A
جب وہ مزدور یہ سمجھے گا
18:05
Speaker A
کہ اگر میرا بیوی بچے بیمار ہوتے ہیں تو وہ وہ ہسپتال میں جائیں گے
18:11
Speaker A
ان کا علاج ہوگا مفت
18:15
Speaker A
ان کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے
18:18
Speaker A
وہ یہ سمجھے گا کہ میرا بیٹا اگر محنت کرے گا تو وہ بڑے سے بڑے عہدے پہ پہنچ سکتا ہے
18:25
Speaker A
تب وہ ایک قوم کا حصہ بننا چاہتے ہیں
18:29
Speaker A
وہ تب اس قوم کے لیے لڑنا چاہتے ہیں
18:33
Speaker A
وہ اس قوم کے لیے مرنا چاہتے ہیں
18:36
Speaker A
وہ اس قوم کو بچانا چاہیں گے
18:39
Speaker A
ہماری انشاءاللہ یہ قوم تب بنے گی
18:44
Speaker A
جو جب ہم سب میں یہ احساس ہو جائے گا کہ ہماری ذمہ داری ہے
18:50
Speaker A
یہ جو 43 فیصد بچے جن کی سٹنٹڈ گروتھ ہے
18:56
Speaker A
کیونکہ ہم ان کو خوراک پوری نہیں ملتی
18:59
Speaker A
جب ہم ان کو اپنے بچے سمجھیں گے
19:03
Speaker A
جب ہم یہ سمجھیں گے کہ جو مدرسوں میں 24 لاکھ بچے پڑھ رہے ہیں
19:09
Speaker A
ان کا بھی حق ہے اس ملک میں اوپر آنے کا
19:14
Speaker A
جج بننے کا جنرل بننے کا یہ بھی اوپر آ سکتے ہیں
19:18
Speaker A
یہ قوم تب بنے گی
19:23
Speaker A
قوم ایسے نہیں بنتی
19:27
Speaker A
کہ تھوڑے سے لوگ امیر ہو جائیں پریولیجز ان کی انگلش میڈیم سکول ان کا
19:34
Speaker A
باہر علاج ان کا
19:37
Speaker A
اچھی اچھی نوکریاں ان کی
19:40
Speaker A
اور نیچے لوگ بیچارے محنت کر رہے ہیں روزگار کے لیے باہر جانا پڑتا ہے
19:47
Speaker A
8 ہزار پاکستانی باہر جیلوں میں پڑا ہوا ہے
19:51
Speaker A
کیونکہ وہ بیچارے روزگار کے لیے ویزا بھی لیتے ہیں پھر یعنی اللیگل بارڈر بھی کراس کرتے ہیں
19:57
Speaker A
ہر صرف روزگار کے لیے کیونکہ ہم اپنے ملک میں
20:00
Speaker A
روزگار ان کو نہیں دے سکتے
20:04
Speaker A
تو یہ آج میں آپ سب کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں
20:07
Speaker A
ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پرنسپلز دے دیے تھے
20:13
Speaker A
جس سے وہ بٹے ہوئے عرب ریگستان میں رہنے والے غریب ترین لوگ
20:19
Speaker A
ان کو اٹھا کے انہوں نے دنیا کی امامت کروائی یہ تاریخ کا حصہ ہے
20:25
Speaker A
یہ کوئی گریک میتھالوجی نہیں ہے
20:28
Speaker A
یہ ہیومن ہسٹری کا حصہ ہے
20:31
Speaker A
فال آف دا رومن ایمپائر کے اندر پورا چیپٹر ہے کہ کیسے سرکار مدینہ نے اٹھا کے
20:38
Speaker A
اور دونوں سپر پاورز کو گرا دیا
20:42
Speaker A
یہ تاریخ کا حصہ ہے
20:44
Speaker A
اور ہمیں اللہ نے کہا ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو
20:50
Speaker A
اور ہم نے ان سے سیکھنا ہے
20:53
Speaker A
یہ قوم نے اگر اوپر جانا ہے تو ہم نے سیکھنا ہے ان سے
20:59
Speaker A
میں جنرل باجوہ آپ کا آج شکر گزار ہوں
21:02
Speaker A
پہلی دفعہ میں ایسی فنکشن پہ آیا ہوں
21:07
Speaker A
میں یہ آپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو ایک متھ بنائی ہوئی ہے
21:12
Speaker A
سول ملٹری ریلیشن یہ کوئی جی آپس میں کوئی بڑی کشمکش چل رہی ہے
21:18
Speaker A
کوئی ایسا ایشو نہیں ہے
21:21
Speaker A
ہم سب کا ایک ہی کامن گول ہے
21:25
Speaker A
ہم نے اس ملک کو اٹھانا ہے
21:28
Speaker A
ہمارا جینا مرنا پاکستان ہے
21:31
Speaker A
میرا یہاں رہنا مرنا جینا باہر میں نے کمائی کی لیکن سارا کچھ آج میرا پاکستان میں ہے
21:37
Speaker A
میں اس ملک کے ساتھ ہی اوپر جاؤں گا اسی کے ساتھ ہی نیچے جاؤں گا
21:41
Speaker A
اور مجھے پتہ ہے آپ
21:44
Speaker A
آپ بھی اسی طرح سوچتے ہیں
21:47
Speaker A
اور پاکستان فوج ایک ادارہ ہے
21:51
Speaker A
اور انشاءاللہ باقی سارے ملک کے اندر اداروں کو بھی جو ادارے کمزور ہوئے ہیں ان کو بھی ہم اٹھائیں گے
21:59
Speaker A
یہ مثال ہے ہمارے سامنے
22:00
Speaker A
کہ ایک ادارہ اگر انٹیکٹ ہوتا ہے
22:03
Speaker A
تو یہ جو یہ جنگ لڑے ہیں پچھلے 15 سال
22:07
Speaker A
جس میں سارے ہمارے دشمن کود پڑے تھے
22:12
Speaker A
پوری انہوں نے کوشش کی پاکستان میں تقسیم کرنے کی لڑائی کرنے کی دہشت گردی کرنے کی
22:19
Speaker A
پورا فائدہ اٹھایا جب ہم کسی اور کی جنگ میں گئے
22:25
Speaker A
یہ یہ ایک آج
22:28
Speaker A
پاکستان قوم کی طرف سے آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
22:33
Speaker A
کہ جس طرح آپ نے اور انٹیلی جنس ایجنسیز نے مل کے ہمیں جنگ سے نکالا ہے
22:40
Speaker A
میں شہداء کا جو ان کے لواحقین ہیں میں ان کو ایک صرف آخر میں بات کہنا چاہتا ہوں
22:46
Speaker A
کہ دیکھیں ہم جب نماز پڑھتے ہیں
22:49
Speaker A
تو ہم اللہ سے کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہی چیز مانگتے ہیں اللہ سے
22:54
Speaker A
کہ اللہ ان کے راستے پہ لگا جن کو تو نے نعمتیں بخشی ہیں
22:59
Speaker A
تو نعمتیں تو اللہ نے سب سے پہلے پیغمبروں کو بخشی ہیں
23:04
Speaker A
اور پیغمبروں کے بعد جو سب سے بڑا درجہ ہے وہ شہیدوں کا ہے
23:11
Speaker A
تو آپ سب کو
23:15
Speaker A
جنہوں نے اس دور پہ اپنے قریبیوں کو شہید ہوتے دیکھا ہے
23:21
Speaker A
تو آپ کو یہ اس چیز کی پورا مطمئن ہونا چاہیے
23:28
Speaker A
کہ ہم تو آخرت میں ماننے والے ہیں مسلمان تو ہے ہی وہ جو آخرت میں مانتا ہے
23:33
Speaker A
تو آپ سب کو اس چیز پہ
23:38
Speaker A
مطمئن ہونا چاہیے کہ اللہ ان لوگوں سے جنہوں نے ہمیں بچانے کے لیے اپنی جان کی قربانیاں دیں
23:43
Speaker A
اللہ کے لیے پیغمبروں کے بعد سب سے بڑا درجہ ان شہیدوں کا ہے بہت شکریہ
Topics:عمران خانیوم دفاع1965 کی جنگپاکستانی فوجمیرٹتعلیمقوم سازیاسلامقدرتی وسائلفلاحی ریاست

Frequently Asked Questions

عمران خان نے 1965 کی جنگ کے بارے میں کیا کہا؟

عمران خان نے 1965 کی جنگ کے دوران اپنی بچپن کی یادیں بیان کیں، لاہور کی دفاعی کوششوں کو سراہا اور قوم میں فوج کے جذبے کی تعریف کی۔

عمران خان کے خطاب میں پاکستان کی ترقی کے لیے کون سے اہم عوامل بیان کیے گئے؟

انہوں نے میرٹ، پروفیشنلزم، تعلیم، انصاف اور مضبوط اداروں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان ترقی کرے اور قوم متحد ہو۔

عمران خان نے قوم سازی کے حوالے سے کیا پیغام دیا؟

انہوں نے کہا کہ قوم سازی کے لیے سب کو برابر حقوق، تعلیم اور صحت کی سہولیات ملنی چاہئیں اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے سبق لینا چاہیے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →