عمران خان کا یوم دفاع پر خطاب، 1965 کی جنگ کی یادیں، فوج کی قربانیوں کی تعریف اور پاکستان کی ترقی کے لیے میرٹ اور انصاف کی ضرورت۔
Key Takeaways
- پاکستان کی ترقی کے لیے میرٹ اور پروفیشنلزم لازمی ہیں۔
- فوج اور ادارے ملک کی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
- تعلیم اور انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے تاکہ قوم متحد ہو۔
- قدرتی وسائل ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
- قوم سازی کے لیے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے سبق لینا ضروری ہے۔
What the video covers
- عمران خان نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران اپنے بچپن کی یادیں بیان کیں۔
- انہوں نے پاکستان کی فوج کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف ان کی کارکردگی کو سراہا۔
- فوج میں میرٹ اور پروفیشنلزم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
- ملک کی ترقی کے لیے مضبوط ادارے اور میرٹ پر مبنی نظام کی ضرورت پر بات کی گئی۔
- اسلام کے نام پر بنے پاکستان کی تاریخ اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو قوم سازی کے لیے مثال بنایا گیا۔
- تعلیم، انصاف اور فلاحی ریاست کے اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
- معاشرتی مساوات، تعلیم اور صحت کی سہولیات سب کے لیے فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
- ملک کے قدرتی وسائل اور ان کی اہمیت کا ذکر کیا گیا۔
- پاکستان کے بڑے مسائل جیسے قرضے، پانی اور بجلی کے مسائل کو تسلیم کیا گیا۔
- قوم کو متحد ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی تلقین کی گئی۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
یوم دفاع عظیم قربانیوں کی لازوال داستان
Speaker A
دشمنو! سن لو۔۔۔ ہمیں پیار ہے پاکستان سے
Speaker A
ناقابل تسخیر ہیں ہم۔۔۔ قائد کے خواب کی تعبیر ہیں ہم!
Speaker A
یہ غازی۔۔۔ یہ تیرے پراسرار بندے!
Speaker A
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
Speaker A
دشمنو! سن لو۔۔۔ ہمیں پیار ہے پاکستان سے
Speaker A
اٹینڈنٹ!
Speaker A
سلام!
Speaker A
سلام!
Speaker A
فوج!
Speaker A
یہ غازی۔۔۔ یہ تیرے پراسرار بندے!
Speaker A
دشمنو! سن لو۔۔۔ ہمیں پیار ہے پاکستان سے
Speaker A
ناقابل تسخیر ہیں ہم۔۔۔ قائد کے خواب کی تعبیر ہیں ہم!
Speaker A
اٹینڈنٹ!
Speaker A
نیچے!
Speaker A
فوج!
Speaker A
اٹینڈنٹ!
Speaker A
فوج!
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Speaker A
ایاک نعبد و ایاک نستعین
Speaker A
آرمی چیف جنرل باجوہ، سروس چیفس، میرے پارلیمانی کولیگز، خواتین و حضرات
Speaker A
اور جن کے لیے آج فنکشن ہے، پاکستان کے شہداء کے لواحقین
Speaker A
میں آج آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں
Speaker A
اور میں نے ابھی جو فلم دیکھی
Speaker A
1965 کے اوپر تو میں صرف اپنی بات شروع کرتا ہوں
Speaker A
کہ 6 ستمبر 1965، 12 سال کا تھا میں
Speaker A
تو مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر زمان پارک سے جب شیلنگ کی رات کو
Speaker A
شیلنگ کی آوازیں آنی شروع ہوئیں اور پھر چھت پہ چڑھ کے بم بلاسٹ کی ہمیں
Speaker A
ہمیں نظر آتی تھی اپنی چھت سے
Speaker A
تو مجھے وہ کبھی نہیں بھولتا
Speaker A
کیونکہ میں اپنے ماں باپ کی شکلوں پہ خوف دیکھا اس رات
Speaker A
ڈر تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوگا
Speaker A
7 ستمبر کو زمان پارک میں ہمارے جتنے بھی بڑے تھے
Speaker A
ایک کونسل آف وار ہوئی
Speaker A
سب جمع ہوئے
Speaker A
ایک رومر تھی کہ رات کو ہندوستان کے پیرا ٹروپرز نے لاہور میں ڈراپ ہونا ہے
Speaker A
تو ہماری پھر ایک ایک سول فورس بنی
Speaker A
سب جتنے بھی میرے بڑے کزنز تھے انہوں نے زمان پارک میں مورچہ بنایا
Speaker A
انڈین پیرا ٹروپرز کی انتظار میں
Speaker A
میں 12 سال کا تھا میں اپنے والد کی بندوق پکڑی
Speaker A
اور میں بھی پہنچ گیا ان کے ساتھ گارڈ ڈیوٹی دینے کے لیے
Speaker A
جیسے ہی میں وہاں پہنچا
Speaker A
میرے کزنز نے مجھے واپس بھیج دیا کہ نہیں تم بہت چھوٹے ہو تم نہیں کر سکتے یہ
Speaker A
بڑی مجھے تکلیف ہوئی کہ یہ کیا کیا میں کوسا اپنے آپ کو میں صرف 12 سال کا ہوں
Speaker A
بہرحال میں گھر چلا گیا
Speaker A
اگلے دن پتہ چلا
Speaker A
کہ انڈین پیرا ٹروپرز تو نہیں آئے
Speaker A
لیکن میرے کزنز نے رات کو ایک ہمارے رشتہ دار کے اوپر گولیاں چلا دیں
Speaker A
خوش قسمتی سے ان کے نشانے برے تھے اس لیے وہ بچ گئے
Speaker A
تو مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ جس طرح کی ایک
Speaker A
پاکستان میں وہ جو ایک لہر تھی
Speaker A
ساری قوم فوج کے ساتھ کھڑی تھی
Speaker A
یعنی جو میں نے وہ جذبہ دیکھا تھا
Speaker A
میں نے وہ کبھی ویسا جذبہ آج تک نہیں دیکھا
Speaker A
ہم سب فوجی بننا چاہتے تھے
Speaker A
اگر میں کرکٹ کی طرف نہ لگ جاتا تو ہو سکتا میں بھی آج ریٹائرڈ فوجی ہوتا
Speaker A
میں آج اپنی فوج کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں
Speaker A
مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے وہ 1965
Speaker A
جس طرح ہماری فوج نے لاہور کو ڈیفینڈ کیا اور مجھے یاد ہے کہ ہمیں کتنا فخر تھا
Speaker A
اور یہ جو ابھی وار آن ٹیرر جس کی آپ نے ابھی
Speaker A
ویڈیو تصویریں بھی دیکھیں اور جنرل باجوہ آپ نے بات بھی کی
Speaker A
میں اس کے خلاف تھا
Speaker A
میں نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ میں پڑے
Speaker A
لیکن جب اور انشاءاللہ یہ میرا آج سب سے وعدہ ہے
Speaker A
کبھی کبھی پاکستان کسی اور کی جنگ میں کبھی شرکت نہیں کرے گا
Speaker A
ہمارا کام ہے ہم اپنے لوگوں کے لیے کھڑے ہوں
Speaker A
اور ہماری فارن پالیسی بھی انشاءاللہ وہ ہوگی
Speaker A
جو ہمارے پاکستانیوں کی بہتری میں ہوگی
Speaker A
تو جب یہ ہوگی جنگ
Speaker A
اس کے بعد جو ہمارا ملک جس امتحان سے گزرا
Speaker A
جس طرح کی دہشت گردی ہوئی
Speaker A
ہماری فوج اور ہماری خاص طور پہ انٹیلی جنس ایجنسیز
Speaker A
جو ان کی پرفارمنس تھی
Speaker A
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اور کتنی اور فوجیں اس طرح کی جو جس طرح کی دہشت گردی
Speaker A
پاکستان میں ہوئی ہے کتنی فوجیں اس کا مقابلہ کر سکتی تھی
Speaker A
میں جب سے مجھے یہ ذمہ داری ملی ہے
Speaker A
تو میں نے ایک جی ایچ کیو کے اندر 6 گھنٹے کی بریفنگ لی
Speaker A
پھر میں نے نیول اور ایئر فورس چیف سے بھی بریفنگ لی
Speaker A
تو میں اس نتیجے پہ آیا ہوں
Speaker A
کہ اس وقت اگر ایک ادارہ جو انٹیکٹ ہے
Speaker A
جو کہ فنکشن کر رہا ہے
Speaker A
وہ آج ہماری فوج ہے
Speaker A
اور وہ اسی فنکشن کر رہا ہے
Speaker A
کہ کسی قسم کی پولیٹیکل انٹرفیرنس نہیں ہے
Speaker A
پروفیشنلزم ہے
Speaker A
میرٹ کا سسٹم ہے
Speaker A
جب تک جب تک ایک ادارے میں میرٹ ہوتی ہے
Speaker A
پروفیشنلزم ہوتی ہے
Speaker A
وہ ادارہ چلتا ہے
Speaker A
ایک وقت پہ ہماری بیوروکریسی ہماری سول سروس 1960 میں
Speaker A
سارے ایشیا میں بہترین سول سروس مانی جاتی تھی
Speaker A
کیونکہ وہ بھی پروفیشنل تھی تب میرٹ تھی
Speaker A
سب سے مشکل امتحان تھا سول سروس کا امتحان
Speaker A
اور جب بھی جب بھی
Speaker A
ایک میرٹ کا سسٹم ختم ہوتا ہے پولیٹیکل انٹرفیرنس ہوتی ہے
Speaker A
اور ہماری طرح کے پولیٹیشنز کرتے ہیں
Speaker A
تو جب ایک ملک کے ادارے تباہ ہوتے ہیں تب ملک تباہ ہوتا ہے
Speaker A
ملک کی یاد رکھیں کوئی بھی جنگ بمباری ملک کو تباہ نہیں کرتی
Speaker A
جرمنی اور جاپان سیکنڈ ورلڈ وار میں تباہ ہو چکے تھے
Speaker A
لیکن 10 10 سال میں پھر کھڑے ہو گئے
Speaker A
کیونکہ ان کے ادارے انٹیکٹ تھے
Speaker A
تو ہم نے جو جو پاکستانیوں کے لیے سبق ہے وہ یہ
Speaker A
کہ اس ملک کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے
Speaker A
کسی چیز کی کمی نہیں ہے
Speaker A
آپ نے کوئی ویژولز دیکھے کہ ہمارے ملک کی ڈائیورسٹی کتنی ہے
Speaker A
کیا کیا اللہ نے دیا ہے اس ملک میں
Speaker A
آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ کتنا اور اللہ نے دیا ہے
Speaker A
ہمیں یہی نہیں پتہ کہ ہمارے ملک میں گیس کتنی ہے
Speaker A
ہمیں پتہ ہے کوئلے کے اربوں اربوں ٹنز کے ریزرو ہیں
Speaker A
تانبہ ہے سونا ہے زرخیز زمین ہے
Speaker A
12 موسم ہیں
Speaker A
سب سے اونچی سے سمندر سب سے سٹیپ گریڈینٹ ہے
Speaker A
مطلب کہ سب کچھ اگ سکتا ہے یہاں
Speaker A
لیکن ہم نے اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں
Speaker A
میرٹوکریسی لے کے آنی ہے
Speaker A
اور سب سے امپورٹنٹ چیز میں یہ
Speaker A
آپ کے سامنے ایک کیونکہ ہمارا واحد ملک ہے اسلام کے نام پہ بنا تھا
Speaker A
تو میں آپ کے سامنے یہ تاریخ
Speaker A
تاریخ رکھنا چاہتا ہوں
Speaker A
610 میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی
Speaker A
620 میں صرف 40 لوگ مسلمان ہوئے تھے
Speaker A
623 میں ہجرت کی مدینہ
Speaker A
625 میں جنگ بدر ہوئی
Speaker A
جدھر صرف 313 لڑنے والے تھے
Speaker A
625
Speaker A
636 میں یرموک میں 80 ہزار سے ایک لاکھ
Speaker A
رومن ایمپائر کی فوج جنگ یرموک میں شکست کھاتی ہے مسلمانوں سے
Speaker A
اور پھر 638 میں جو دوسری سپر پاور تھی
Speaker A
پرشین ایمپائر وہ شکست کھاتی ہے
Speaker A
کچھیا میں
Speaker A
تو یہ سب غور کریں کہ یہ کیا ہوا
Speaker A
وہ دنیا کے عظیم لیڈر انہوں نے کیا کیا ان لوگوں میں
Speaker A
جو کہ کہاں قبیلوں میں بٹے ہوئے جن کی اہمیت ہی کوئی نہیں تھی
Speaker A
ریگستان میں رہتے تھے
Speaker A
انہوں نے کیا کیا کہ وہ دنیا کی سب سے عظیم
Speaker A
سیولائزیشن بن گئے قوم بن گئے
Speaker A
کئی صدیوں تک دنیا کی امامت کی
Speaker A
ہمیں قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو
Speaker A
ہمیں حکم ہے اللہ کا
Speaker A
ہمیں اللہ حکم دیتا ہے
Speaker A
کہ ان کی زندگی سے سیکھو
Speaker A
تو ان کی زندگی سے ہم نے کیا سیکھا
Speaker A
یہ واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پہ بنا تھا
Speaker A
ان کی زندگی سے ہم نے یہ سیکھا
Speaker A
کہ ایک ایک لوگ ایسے اٹھتے ہیں جب وہ قوم بن جاتے ہیں
Speaker A
بٹے ہوئے قبیلوں کو انہوں نے اکٹھا کر کے قوم بنا دیا
Speaker A
اور انہوں نے کیسے قوم بنایا
Speaker A
ہر انسان کا سٹیک ہو گیا اس قوم کا حصہ بننے میں
Speaker A
جب ایک انسان کو انصاف ملتا ہے
Speaker A
مطلب یہ کہ طاقتور کمزور پہ ظلم نہیں کر سکتا
Speaker A
جب ایک کمزور یہ سمجھتا ہے کہ ریاست میری حفاظت کرے گی اگر میرا طاقتور سے مقابلہ ہو گیا
Speaker A
تو وہ پھر اس ریاست سے جڑ جاتا ہے
Speaker A
وہ قوم کا حصہ بن جاتا ہے
Speaker A
جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ ریاست میں اگر کمزور ہوں میری مدد کرے گی
Speaker A
جو پہلی دنیا کی تاریخ کی فلاحی ریاست بنائی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
Speaker A
میرٹ کا نظام لے آئے
Speaker A
جو اچھا کرتا تھا اوپر آ سکتا تھا
Speaker A
یہ نہیں کہ صرف ایک ایلیٹ کے لیے ایک ملک بنا ہوا تھا
Speaker A
اور انہوں نے تعلیم کے اوپر زور دیا
Speaker A
کوئی قوم تعلیم کے بغیر نہیں اٹھتی
Speaker A
وہ پرنسپلز انہوں نے سیٹ کیے تھے
Speaker A
وہی پرنسپلز آج جو ہمارے مسئلے ہیں پاکستان کے انہی پرنسپلز پہ یہ ملک اٹھے گا
Speaker A
ہمارے بڑے مسئلے ہیں آج
Speaker A
قرضوں میں ملک ڈوبا ہوا ہے
Speaker A
پانی کا مسئلہ ہے
Speaker A
بجلی کا مسئلہ ہے
Speaker A
یہ میں دو تین ہفتے صرف پریزنٹیشنز لیتا رہا ہوں ڈیفرنٹ ڈیپارٹمنٹس سے کہ کتنے مسئلے ہیں پاکستان کے
Speaker A
لیکن میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں
Speaker A
یہ ملک اٹھے گا ایک عظیم قوم بنے گی
Speaker A
لیکن کب بنے گی جب ایک چھابڑی والا
Speaker A
ایک مزدور سڑکوں پہ کام کرنے والا
Speaker A
پولیس والے ہمارے فوجی
Speaker A
جو جو سپاہی جو محنت کرتے ہیں
Speaker A
جو لڑتے ہیں ہمارے لیے
Speaker A
جو ایک کسان سارا دن کام کرتا ہے
Speaker A
جب یہ سب یہ سمجھیں گے
Speaker A
کہ چلیں میں تو محنت کر رہا ہوں لیکن میرا بچہ سرکاری سکول میں جائے گا
Speaker A
اور اس سرکاری سکول میں سے جب وہ نکلے گا تو وہ انجینئر بھی بن سکتا ہے
Speaker A
ڈاکٹر بھی بن سکتا ہے جنرل بھی بن سکتا ہے
Speaker A
جب وہ مزدور یہ سمجھے گا
Speaker A
کہ اگر میرا بیوی بچے بیمار ہوتے ہیں تو وہ وہ ہسپتال میں جائیں گے
Speaker A
ان کا علاج ہوگا مفت
Speaker A
ان کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے
Speaker A
وہ یہ سمجھے گا کہ میرا بیٹا اگر محنت کرے گا تو وہ بڑے سے بڑے عہدے پہ پہنچ سکتا ہے
Speaker A
تب وہ ایک قوم کا حصہ بننا چاہتے ہیں
Speaker A
وہ تب اس قوم کے لیے لڑنا چاہتے ہیں
Speaker A
وہ اس قوم کے لیے مرنا چاہتے ہیں
Speaker A
وہ اس قوم کو بچانا چاہیں گے
Speaker A
ہماری انشاءاللہ یہ قوم تب بنے گی
Speaker A
جو جب ہم سب میں یہ احساس ہو جائے گا کہ ہماری ذمہ داری ہے
Speaker A
یہ جو 43 فیصد بچے جن کی سٹنٹڈ گروتھ ہے
Speaker A
کیونکہ ہم ان کو خوراک پوری نہیں ملتی
Speaker A
جب ہم ان کو اپنے بچے سمجھیں گے
Speaker A
جب ہم یہ سمجھیں گے کہ جو مدرسوں میں 24 لاکھ بچے پڑھ رہے ہیں
Speaker A
ان کا بھی حق ہے اس ملک میں اوپر آنے کا
Speaker A
جج بننے کا جنرل بننے کا یہ بھی اوپر آ سکتے ہیں
Speaker A
یہ قوم تب بنے گی
Speaker A
قوم ایسے نہیں بنتی
Speaker A
کہ تھوڑے سے لوگ امیر ہو جائیں پریولیجز ان کی انگلش میڈیم سکول ان کا
Speaker A
باہر علاج ان کا
Speaker A
اچھی اچھی نوکریاں ان کی
Speaker A
اور نیچے لوگ بیچارے محنت کر رہے ہیں روزگار کے لیے باہر جانا پڑتا ہے
Speaker A
8 ہزار پاکستانی باہر جیلوں میں پڑا ہوا ہے
Speaker A
کیونکہ وہ بیچارے روزگار کے لیے ویزا بھی لیتے ہیں پھر یعنی اللیگل بارڈر بھی کراس کرتے ہیں
Speaker A
ہر صرف روزگار کے لیے کیونکہ ہم اپنے ملک میں
Speaker A
روزگار ان کو نہیں دے سکتے
Speaker A
تو یہ آج میں آپ سب کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں
Speaker A
ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پرنسپلز دے دیے تھے
Speaker A
جس سے وہ بٹے ہوئے عرب ریگستان میں رہنے والے غریب ترین لوگ
Speaker A
ان کو اٹھا کے انہوں نے دنیا کی امامت کروائی یہ تاریخ کا حصہ ہے
Speaker A
یہ کوئی گریک میتھالوجی نہیں ہے
Speaker A
یہ ہیومن ہسٹری کا حصہ ہے
Speaker A
فال آف دا رومن ایمپائر کے اندر پورا چیپٹر ہے کہ کیسے سرکار مدینہ نے اٹھا کے
Speaker A
اور دونوں سپر پاورز کو گرا دیا
Speaker A
یہ تاریخ کا حصہ ہے
Speaker A
اور ہمیں اللہ نے کہا ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو
Speaker A
اور ہم نے ان سے سیکھنا ہے
Speaker A
یہ قوم نے اگر اوپر جانا ہے تو ہم نے سیکھنا ہے ان سے
Speaker A
میں جنرل باجوہ آپ کا آج شکر گزار ہوں
Speaker A
پہلی دفعہ میں ایسی فنکشن پہ آیا ہوں
Speaker A
میں یہ آپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو ایک متھ بنائی ہوئی ہے
Speaker A
سول ملٹری ریلیشن یہ کوئی جی آپس میں کوئی بڑی کشمکش چل رہی ہے
Speaker A
کوئی ایسا ایشو نہیں ہے
Speaker A
ہم سب کا ایک ہی کامن گول ہے
Speaker A
ہم نے اس ملک کو اٹھانا ہے
Speaker A
ہمارا جینا مرنا پاکستان ہے
Speaker A
میرا یہاں رہنا مرنا جینا باہر میں نے کمائی کی لیکن سارا کچھ آج میرا پاکستان میں ہے
Speaker A
میں اس ملک کے ساتھ ہی اوپر جاؤں گا اسی کے ساتھ ہی نیچے جاؤں گا
Speaker A
اور مجھے پتہ ہے آپ
Speaker A
آپ بھی اسی طرح سوچتے ہیں
Speaker A
اور پاکستان فوج ایک ادارہ ہے
Speaker A
اور انشاءاللہ باقی سارے ملک کے اندر اداروں کو بھی جو ادارے کمزور ہوئے ہیں ان کو بھی ہم اٹھائیں گے
Speaker A
یہ مثال ہے ہمارے سامنے
Speaker A
کہ ایک ادارہ اگر انٹیکٹ ہوتا ہے
Speaker A
تو یہ جو یہ جنگ لڑے ہیں پچھلے 15 سال
Speaker A
جس میں سارے ہمارے دشمن کود پڑے تھے
Speaker A
پوری انہوں نے کوشش کی پاکستان میں تقسیم کرنے کی لڑائی کرنے کی دہشت گردی کرنے کی
Speaker A
پورا فائدہ اٹھایا جب ہم کسی اور کی جنگ میں گئے
Speaker A
یہ یہ ایک آج
Speaker A
پاکستان قوم کی طرف سے آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں
Speaker A
کہ جس طرح آپ نے اور انٹیلی جنس ایجنسیز نے مل کے ہمیں جنگ سے نکالا ہے
Speaker A
میں شہداء کا جو ان کے لواحقین ہیں میں ان کو ایک صرف آخر میں بات کہنا چاہتا ہوں
Speaker A
کہ دیکھیں ہم جب نماز پڑھتے ہیں
Speaker A
تو ہم اللہ سے کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہی چیز مانگتے ہیں اللہ سے
Speaker A
کہ اللہ ان کے راستے پہ لگا جن کو تو نے نعمتیں بخشی ہیں
Speaker A
تو نعمتیں تو اللہ نے سب سے پہلے پیغمبروں کو بخشی ہیں
Speaker A
اور پیغمبروں کے بعد جو سب سے بڑا درجہ ہے وہ شہیدوں کا ہے
Speaker A
تو آپ سب کو
Speaker A
جنہوں نے اس دور پہ اپنے قریبیوں کو شہید ہوتے دیکھا ہے
Speaker A
تو آپ کو یہ اس چیز کی پورا مطمئن ہونا چاہیے
Speaker A
کہ ہم تو آخرت میں ماننے والے ہیں مسلمان تو ہے ہی وہ جو آخرت میں مانتا ہے
Speaker A
تو آپ سب کو اس چیز پہ
Speaker A
مطمئن ہونا چاہیے کہ اللہ ان لوگوں سے جنہوں نے ہمیں بچانے کے لیے اپنی جان کی قربانیاں دیں
Speaker A
اللہ کے لیے پیغمبروں کے بعد سب سے بڑا درجہ ان شہیدوں کا ہے بہت شکریہ
Topics:عمران خانیوم دفاع1965 کی جنگپاکستانی فوجمیرٹتعلیمقوم سازیاسلامقدرتی وسائلفلاحی ریاست











