عمران خان کی لاہور ریلی میں نواز شریف کی کرپشن اور ملک کے اداروں کی تباہی پر شدید تنقید۔
Ask about this video. Answers come from its transcript only — with the timestamp, so you can check them.
Generated from the transcript and can be wrong — check the timestamp.
Key Takeaways
- ملک کی تباہی کی اصل وجہ کرپٹ حکمران اور کمزور ادارے ہیں۔
- نواز شریف کو پاناما کیس میں جواب دینا چاہیے اور کرپشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
- مضبوط اور غیر جانبدار ادارے ملک کی ترقی کی کنجی ہیں۔
- عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
- عدلیہ اور دیگر ادارے انصاف فراہم کرنے کے پابند ہیں اور انہیں اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔
What the video covers
- عمران خان نے لاہور کی تاریخی ریلی میں نواز شریف کی کرپشن اور پیسہ بیرون ملک منتقل کرنے پر شدید تنقید کی۔
- انہوں نے کہا کہ ملک تباہ ہوتا ہے جب وزیراعظم اور وزراء چوری کرتے ہیں، نہ کہ چھوٹے چوروں کی وجہ سے۔
- نواز شریف کو پانچ ماہ سے پاناما کیس میں جواب دینے کا مطالبہ کیا گیا لیکن وہ ٹال مٹول کر رہے ہیں۔
- عمران خان نے کہا کہ کرپٹ لیڈر ملک کے اداروں کو بھی کرپٹ کر دیتا ہے، جس سے ملک کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
- انہوں نے مغربی ممالک کی ترقی کی وجہ مضبوط اور غیر جانبدار ادارے قرار دیے۔
- نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر کی اخلاقیات معاشرے کی ترقی کا ضامن ہوتی ہیں۔
- نواز شریف پر الزام لگایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اور سیاستدانوں کی خرید و فروخت کی۔
- عمران خان نے عدلیہ، نیب، ایف بی آر اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف کریں اور کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی کریں۔
- انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کا حمایتی بن چکا ہے اور شفاف انتخابات کے لیے ذمہ داری نبھانی چاہیے۔
- ریلی کا مقصد ملک کے مستقبل کے لیے کرپشن کے خلاف جدوجہد کو مضبوط کرنا اور عوام کو متحد کرنا ہے۔
Full Transcript — Download SRT & Markdown
Speaker A
میں سب کو انشاءاللہ اس تاریخی ریلی پہ سب کو خوش امدید کہتا ہوں۔
Speaker A
اپنے ہمارے کارکن شاہدرہ کے شہری قاف لیگ کے جو ہمارے ساتھ ائے ہیں اور عوامی لیگ کے بیٹھ کے
Speaker A
اور پیپلز پارٹی کے بھی مجھے نظر آ رہے ہیں میں آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
Speaker A
اب یہ کیوں ہم ریلی کر رہے ہیں؟
Speaker A
میں سارے پاکستان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ ریلی کیوں پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے ضروری ہے۔
Speaker A
یہ کیوں ضروری ہے؟
Speaker A
سب سے پہلے یہ یاد رکھنا میرے پاکستانیوں کہ ایک ہوتا ہے ملک میں چھوٹا چور۔
Speaker A
چھوٹے چوروں کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتے۔
Speaker A
لوگوں کو مشکل پہنچتی ہے۔
Speaker A
لیکن ملک تباہ نہیں ہوتا۔
Speaker A
ملک تباہ ہوتا ہے جب ملک کا وزیراعظم اور اس کے وزیر جب وہ چوری کرتے ہیں ملک تباہ ہو جاتا ہے۔
Speaker A
تیسری دنیا۔
Speaker A
تیسری دنیا تیسری دنیا اس لیے نہیں کہ ان کے پاس مسائل نہیں ہیں۔
Speaker A
تیسری دنیا تیسری دنیا بنتی اس لیے ہے کہ ان کے ملک میں حکمران ڈاکا مارنا شروع کر دیتے ہیں۔
Speaker A
ملک کو لوٹتے ہیں۔
Speaker A
اور لوٹ کے پیسہ باہر لے جاتے ہیں۔
Speaker A
یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں آج۔
Speaker A
یہ آپ کسی بھی غریب ترین ملک میں چلے جائیں۔
Speaker A
وسائل کے باوجود وہ صرف غریب اس لیے ہیں کہ وہاں بھی نواز شریف بیٹھے ہوئے ہیں۔
Speaker A
جو ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتے ہیں۔
Speaker A
ہم نے پانچ مہینے نواز شریف کو دیے کہ پارلیمنٹ کے سامنے ہمیں صفائی پیش کر دو۔
Speaker A
کہ یہ آپ کے بچوں کی اربوں روپے کی جائیداد پیناما کی کمپنیز کے پیچھے جو چھپی ہوئی تھی جو باہر انکشاف ہو گیا۔
Speaker A
ہم پانچ مہینے سے نواز شریف آپ سے جواب مانگ رہے ہیں۔
Speaker A
کہ آپ کا پیسہ کدھر سے آیا؟
Speaker A
ادھر سے پاکستان سے پیسہ باہر کیسے گیا؟
Speaker A
ہمیں ثبوت بتائیں کہ یہ جو آپ نے پراپرٹیز خریدی۔
Speaker A
ان کی جو خریدنے کے کاغذات ہوتے ہیں وہ ہمیں دکھائیں۔
Speaker A
اور یہ پاکستانی میری بات سنو یہ ہر جمہوریت میں ایک پرائم منسٹر جواب دہ ہوتا ہے۔
Speaker A
یہاں پانچ مہینے سے بجائے جواب دینے کے۔
Speaker A
ہمیں نواز شریف کہہ رہا ہے کہ میں اپنے قانون کے تحت اپنا احتساب کروں گا۔
Speaker A
جس میں ہزاروں لوگ شامل ہو جائیں گے جو 200 سال تک مکمل نہیں ہو گا۔
Speaker A
یعنی کہ ایک پرائم منسٹر احتساب سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔
Speaker A
سارے ملک کا مستقبل تباہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
Speaker A
آج آپ میرے ساتھ مل کے یہ جو لاہور میں آپ ریلی لے کے جائیں گے۔
Speaker A
اور مجھے اپنے لاہوریوں پہ پورا یقین ہے کہ وہ بھرپور تعداد میں آج آپ کا استقبال کریں گے۔
Speaker A
ہم اس لیے جائیں گے کہ نواز شریف اگر آپ کا خیال ہے۔
Speaker A
کہ ہم چپ کر کے آرام سے بیٹھے رہیں گے اور آپ ٹائم لیتے جائیں گے۔
Speaker A
اور آخر میں قوم بھول جائے گی۔
Speaker A
جس طرح آپ کا سیالکوٹ کا رنگ باز خواجہ آصف کہتا ہے۔
Speaker A
کہ میاں صاحب فکر نہ کریں۔
Speaker A
لوگ بھول جائیں گے اس کو بھی۔
Speaker A
او خواجہ آصف نہ لوگ بھولیں گے نہ عمران خان بھولے گا نہ تمہیں بھولنے دیں گے۔
Speaker A
یہ اب اب اور نوجوانوں غور سے بات سنو۔
Speaker A
اللہ نے مجھے موقع دیا ساری دنیا کو دیکھنے کا ان کے نظام دیکھنے کا۔
Speaker A
فرق کیا ہے دنیا میں جو آگے نکل گئی ہے اور ہمارے میں۔
Speaker A
دنیا میں یہ نظام ہے کہ اگر عام آدمی کی جو جو ایک معاشرہ اخلاقیات کی سٹینڈرڈ عام آدمی کے لیے رکھتا ہے۔
Speaker A
وہ کم ہوتی ہے۔
Speaker A
جو ملک کے لیڈر ہوتے ہیں ان کا مورالٹی اخلاقیات کا بار اونچا ہوتا ہے۔
Speaker A
کیونکہ لیڈر اپنی مثال سے لیڈ کرتا ہے۔
Speaker A
دنیا کی تاریخ کا سب سے عظیم لیڈر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال سے ایک معاشرے کی اخلاقیات اوپر اٹھا دی۔
Speaker A
قوم کو عظیم بنا دیا۔
Speaker A
دنیا کے لیڈر بنا دیا۔
Speaker A
سچ اور حق پہ انہوں نے اپنی قوم کو چلا کے ایک دنیا میں مثال قائم کر دی۔
Speaker A
کہ ایسا وقت تھا کہ دنیا کے ادیب بھی وہ دیکھو۔
Speaker A
مسلمان آ رہا ہے ایک سچا انسان آ رہا ہے۔
Speaker A
یہ تھا وجہ کہ ہم دنیا کے لیڈر بنے۔
Speaker A
آج ہماری بدقسمتی کہ نواز شریف جیسا لیڈر۔
Speaker A
جو اس عظیم ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔
Speaker A
جو عظیم لوگوں کی قوم ہے۔
Speaker A
دلیر قوم ہے۔
Speaker A
کھلے دل کی قوم ہے۔
Speaker A
سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم ہے۔
Speaker A
اس قوم کا لیڈر پہلے تو ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر لے کے جاتا ہے اور بچوں کے نام کر دیتا ہے۔
Speaker A
پھر ہمیں جواب نہیں دیتا۔
Speaker A
اور بجائے جواب دینے کے کہتا ہے باقی ملک بھی سارا چور ہے۔
Speaker A
عمران خان بھی چور ہے جہانگیر ترین بھی چور ہے شاہ محمود بھی چور ہے یعنی سارے چور ہیں۔
Speaker A
اپنی چوری بچانے کے لیے۔
Speaker A
یہ جو آج ریلی جا رہی ہے یہ سارے پاکستان کو بتائے گی۔
Speaker A
اور لاہور کے لوگوں کو ساتھ ملائے گی۔
Speaker A
اور پیغام یہ دے گی کہ جب ایک لیڈر کرپٹ ہوتا ہے۔
Speaker A
وہ ملک کے اداروں کو کرپٹ کر دیتا ہے۔
Speaker A
جب ملک کے ادارے کرپٹ ہوتے ہیں ملک تباہ ہو جاتا ہے۔
Speaker A
چوری ملک کو تباہ نہیں کرتی۔
Speaker A
ادارے جب تباہ ہوتے ہیں تب ملک تباہ ہوتا ہے۔
Speaker A
مغرب ہمارے سے آگے اس لیے ہے۔
Speaker A
یورپین ممالک ہمارے سے آگے اس لیے ہیں۔
Speaker A
اس لیے نہیں کہ وسائل زیادہ ہیں۔
Speaker A
اس لیے کہ ان کے ادارے مضبوط ہیں۔
Speaker A
ان کے ادارے کسی کو بخشتے نہیں۔
Speaker A
ان کی عدلیہ طاقتور اور کمزور میں امتیاز نہیں کرتی۔
Speaker A
ان کی نیب یہ نہیں دیکھتی کہ پرائم منسٹر ہے یا ایک عام غریب شہری ریڑھے والا ہے۔
Speaker A
یا رکشے والا ہے۔
Speaker A
وہ فرق نہیں کرتے۔
Speaker A
اس لیے اس لیے وہ ملک کامیاب ہے۔
Speaker A
ہمارا مسئلہ کیا ہے؟
Speaker A
اور پھر سے میں دنیا کے عظیم لیڈر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث۔
Speaker A
ان کو ایک دفعہ سفارش آئی کہ جی قریش کی یہ لڑکی ہے اس نے چوری کی ہے۔
Speaker A
اس کو سزا مل گئی ہے۔
Speaker A
اس کو معاف کر دیں۔
Speaker A
یہ قریش کی لڑکی ہے۔
Speaker A
تو نبی نے تب فرمایا کہ تمہارے سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں۔
Speaker A
جدھر ایک قانون بیچارے کمزور ریڑھی والے اور ٹیکسی والے اور عام شہری کے لیے تھا۔
Speaker A
اور دوسرے طاقتور لوگوں کے لیے معاشرے میں تھا۔
Speaker A
یہ وجہ ہے ہماری تباہی کی۔
Speaker A
یہ وجہ ہے۔
Speaker A
کہ یہ ہمارا پرائم منسٹر اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھتا ہے۔
Speaker A
چوری کرتا ہے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرتا ہے۔
Speaker A
جھوٹ بولتا ہے کہ اسمبلی میں۔
Speaker A
اور سمجھتا ہے کہ یہ سب کو خرید لے گا۔
Speaker A
میڈیا کو میڈیا ہاؤسز کو پہ پیسہ چلاتا ہے۔
Speaker A
یہ اس نے واحد پرائم منسٹر ہے جس کے دور میں سپریم کورٹ کے اوپر حملہ کیا گیا۔
Speaker A
یہ وہ پرائم منسٹر ہے جس نے سیاستدانوں کی خرید و فروخت شروع کی۔
Speaker A
چھانگا مانگا کی سیاست کی۔
Speaker A
یہ وہ۔
Speaker A
یہ وہ پرائم منسٹر ہے اس نے پہلے دور میں آرمی چیف آرمی چیف کو مری بلا کے اس کو بی ایم ڈبلیو کی چابی پکڑا دی۔
Speaker A
اس کو بھی خریدنے کے لیے۔
Speaker A
یہ پہلا پرائم منسٹر ہے جس نے رشوت دے کے لوگوں کو خریدا اس لیے خریدا۔
Speaker A
کہ جب لوگ اس کے نیچے کرپٹ ہوں گے یہ کھل کے کرپشن کرے گا۔
Speaker A
اس کو کوئی روکے گا نہیں۔
Speaker A
اداروں کو تباہ کرنے والا نواز شریف ہے سب سے زیادہ اداروں کو تباہ نواز شریف نے کیا۔
Speaker A
اس لیے آپ کے مستقبل کی جنگ ہے۔
Speaker A
آپ نے اگر ایک عظیم قوم کا حصہ بننا ہے تو جدوجہد کرنی پڑے گی۔
Speaker A
یہ جو کرپٹ مافیا نواز شریف کا اوپر بیٹھا ہے اس کا ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔
Speaker A
ادارے مضبوط کرنے پڑیں گے۔
Speaker A
آج ہم صرف نواز شریف پہ پریشر نہیں ڈال رہے۔
Speaker A
ہم پاکستان کے اداروں پہ پریشر ڈال رہے ہیں۔
Speaker A
ہم پاکستان کی عدلیہ کو کہتے ہیں۔
Speaker A
کہ بڑے معتبر ہیں ہم آپ ہمارے ججز ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔
Speaker A
لیکن ہم آپ سے امید لگاتے ہیں۔
Speaker A
کہ آپ ہمیں انصاف دیں۔
Speaker A
کیونکہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
Speaker A
آپ تو اللہ کو اللہ نے تو آپ سے زیادہ جواب مانگنا ہے کیونکہ آپ جج ہیں۔
Speaker A
ہم آپ سے انصاف کی امید لگتے ہیں کیونکہ جو نواز شریف کے پیناما پیپرز کا انکشاف ہوا۔
Speaker A
اس میں کوئی شک تو رہ ہی نہیں گیا۔
Speaker A
اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ اس نے کرپشن کی ہے منی لانڈرنگ کی ہے۔
Speaker A
اس لیے ہم سپریم کورٹ کے پاس بھی جائیں گے۔
Speaker A
ہم نیب اور نیب کے چیئرمین کان کھول کے سن لو۔
Speaker A
تم نے اس دنیا سے جا کے اللہ کو جواب دینا ہے نواز شریف کو جواب نہیں دینا۔
Speaker A
اور ایف بی آر کے چیئرمین تم بھی سن لو۔
Speaker A
میں جانتا ہوں کہ ہر مہینے کتنے کروڑ روپے تم دبئی بھیجتے ہو۔
Speaker A
مجھے پتہ ہے۔
Speaker A
اور اسی لیے ہی تم نے ابھی تک کسی بھی ایک شخص جس کا پیناما میں نام آیا اس کے خلاف کوئی پروسیڈنگ نہیں کی۔
Speaker A
میں ایف بی آر چیئرمین آپ سے پوچھتا ہوں۔
Speaker A
کہ کیا آپ کا اس دنیا میں آنا کھا پی کے بچے پیدا کر کے چلے جانا۔
Speaker A
وہ تو جانور بھی کرتے ہیں۔
Speaker A
آپ کو اللہ کو جواب دینا ہے۔
Speaker A
ایف بی آر کے چیئرمین اگر تمہارے میں غیرت ہے تو سب کو نوٹسز بھیجو۔
Speaker A
جن کا پیناما پیپرز میں نام آیا۔
Speaker A
سب کو نوٹسز بھیجو۔
Speaker A
سارا ٹیکس بیچارے عام عوام پہ مہنگائی کر کے غریب غریب ہو رہا ہے چھوٹا سا طبقہ امیر ہو رہا ہے کیونکہ تمہارے میں جرات نہیں ہے۔
Speaker A
کہ نواز شریف کے خاندان کو ٹیک ایک ایک نوٹس بھیجو۔
Speaker A
کہ کدھر سے پیسہ آیا تھا جو آپ کی اربوں روپے کی بچوں کی کمپنیز ہیں۔
Speaker A
اور اس کے بعد۔
Speaker A
اور اس کے بعد۔
Speaker A
میں الیکشن کمیشن آپ سے مخاطب ہوں۔
Speaker A
اب تک تو آپ بجائے الیکشن کمیشن آف پاکستان ہونے کے آپ ہیں الیکشن کمیشن آف پی ایم ایل این نون لیگ کی۔
Speaker A
نون لیگ کے سارے لوگ جا کے کمپیننگ کرتے ہیں آپ کو فرق نہیں پڑتا۔
Speaker A
جب عمران خان جانے لگتا ہے تو کہتے ہیں جی اجازت نہیں ہے۔
Speaker A
آپ آپ نے جو علیم خان کے کیس سے کیا۔
Speaker A
ہم بھولیں گے نہیں۔
Speaker A
آپ نے پہلے 60 دن میں آپ نے کیس کا فیصلہ کرنا تھا۔
Speaker A
آپ نے پہلے تاریخیں دینی شروع کر دیں۔
Speaker A
جب 60 دن گزر گئے کہتے ہیں جی اب تو 60 دن گزر گئے ہم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔
Speaker A
جناب الیکشن کمیشن کے ممبرز۔
Speaker A
آپ کے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
Speaker A
جمہوریت کی بنیاد صاف اور شفاف الیکشن پہ ہوتی ہے۔
Speaker A
کون سا الیکشن ہوتا ہے پاکستان میں جو متنازعہ نہیں ہوتا۔
Speaker A
ہر الیکشن کے اندر جو ہارتا ہے وہ کہتا ہے دھاندلی ہوئی۔
Speaker A
اور نون لیگ جب جیتی ہے مخالف کہتا ہے دھاندلی ہوئی۔
Speaker A
میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں۔
Speaker A
کہ آپ کتنی دیر تک نیو نون لیگ کی بی ٹیم بنے رہیں گے۔
Speaker A
ہم ہمارا ہم اور آپ ہم سارے پاکستانی قوم۔
Speaker A
انتظار کر رہی ہے جو آپ کے پاس پٹیشنز آ رہی ہیں۔
Speaker A
یہ پریشر نہیں ڈال رہے۔
Speaker A
یہ ہم اداروں پہ پریشر نہیں ڈال رہے۔
Speaker A
ہم اداروں کو کہہ رہے ہیں کہ وہ کریں۔
Speaker A
جس کی اس غریب ملک کا ٹیکس کا پیسہ جو آپ لیتے ہیں۔
Speaker A
آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ پوری کریں۔
Speaker A
آپ فرق نہ کریں کہ یہ نواز شریف ہے یا کوئی اور طاقتور ہے۔
Speaker A
قوم انصاف چاہتی ہے۔
Speaker A
اور میں ایف آئی اے آپ سے بھی پوچھتا ہوں۔
Speaker A
کہ ایک نیوز آئٹم آئی ایک ایگزیکٹ ایک ٹی وی چینل آ رہی تھی۔
Speaker A
میڈیا ہاؤس آ رہا تھا ایک اخبار میں نیوز آئٹم نیویارک ٹائمز میں آتی ہے۔
Speaker A
آپ اس چینل کو بند کر دیتے ہیں۔
Speaker A
یہاں تو ایف آئی آر کٹ گئی پیناما پیپرز کے اوپر نواز شریف کے خاندان پہ۔
Speaker A
کیا ہوا ایف آئی اے کو؟
Speaker A
کیوں نہیں آگے بڑھ رہے۔
Speaker A
میں۔
Speaker A
میں۔
Speaker A
میں نواز شریف۔
Speaker A
میں آخر میں آ چکا ہوں کہ ہمیں ابھی بڑا لمبا سفر طے کرنا ہے چیئرنگ کراس تک۔
Speaker A
اور انشاءاللہ آپ سے بات چیت بھی رہے گی۔
Speaker A
لیکن میں آج ساری پاکستانی قوم کو کہتا ہوں۔
Speaker A
کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے پاکستان میں۔
Speaker A
اگر آپ کے سامنے اب دو راستے ہیں پاکستانیوں دو راستے۔
Speaker A
ایک راستہ یہ ہے کہ ہم چپ کر کے اسی طرح چلنے دیں۔
Speaker A
سٹیٹس کو کے لوگ یہی کہہ رہے ہیں۔
Speaker A
میں دیکھ رہا ہوں کہ میڈیا میں کون سے لوگ کدھر کھڑے ہیں۔
Speaker A
کئی کہہ رہے ہیں کہ جی دیکھیں عمران خان انتشار پھیلاتا ہے۔
Speaker A
بھول جاتے ہیں کہ پرائم منسٹر کے اوپر چوری پکڑی گئی ہے۔
Speaker A
تو وہ کہتے ہیں کہ ایسے ہی چلنے دو۔
Speaker A
اگر اگر سن لیں اگر ایسے ہی چلتے گئے۔
Speaker A
میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
Speaker A
کیونکہ نواز شریف نے اس نے اگلے الیکشن میں ابھی سے پلان کیا ہوا ہے ایک ایک ارب دینا ہے اس نے اپنے ایم ایل ایز کو۔
Speaker A
الیکشن خریدے گا۔
Speaker A
کیونکہ اگر یہ الیکشن 2018 کا نہیں جیتا یہ جیل میں جائے گا۔
Speaker A
اس لیے اس نے پورا زور لگانا ہے الیکشن خریدنے کے لیے اداروں کو مزید اور خریدے گا۔
Speaker A
الیکشن کمیشن پہ پیسہ چلائے گا۔
Speaker A
نادرا پہ پیسہ چلائے گا۔
Speaker A
تاکہ نادرا کے ذریعے گیم کھیل سکے۔
Speaker A
یہ پولیس جو پنجاب کی پولیس ہے۔
Speaker A
اس کو یہ استعمال کرے گا مخالفین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوائے گا۔
Speaker A
کن کن ہمارے کتنے لوگ ہیں پنجاب میں جن کے اوپر جھوٹی ایف آئی آرز ہیں۔
Speaker A
ہم سارے یہاں شاہ محمود میں جہانگیر۔
Speaker A
جتنے بھی چوہدری صاحب ہم سب پہ ایف آئی آرز کٹی ہوئی ہیں۔
Speaker A
پولیس کو۔
Speaker A
پولیس کو استعمال کرے گا جس طرح حمزہ عباسی نے پولیس حمزہ حمزہ شریف نے۔
Speaker A
حمزہ شریف نے جس طرح پولیس کو پرانے شہر میں استعمال کیا۔
Speaker A
ان کے ایک قاتل نے دو بھائیوں کو پچھلے سال مارا جو تحریک انصاف کے کیمپ میں بیٹھے تھے۔
Speaker A
چھ لوگوں کو گولیاں لگی۔
Speaker A
ایک مدعی صاحب۔
Speaker A
ایک بڑا دلیر نوجوان۔
Speaker A
مرزا تنویر۔
Speaker A
مرزا تنویر مدعی تھا وہ عدالت پہ چلا گیا۔
Speaker A
اس کو دھمکیاں دینی شروع کی۔
Speaker A
پہلے ٹیررزم کا کیس تھا اس قاتل کے خلاف حمزہ شریف نے ٹیررزم کا کیس مسترد کروایا۔
Speaker A
پھر اس کو دھمکیاں دلوائیں۔
Speaker A
مرزا تنویر کو دھمکیاں دلوائیں کہ کیس واپس کر لو۔
Speaker A
پھر حمزہ شریف نے اس کو ماڈل ٹاؤن بلایا۔
Speaker A
مرزا تنویر ایک دلیر آدمی تھا کہتا ہے میں نہیں جاتا مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
Speaker A
اور اس کے بعد اس کو گولی مروا دی۔
Speaker A
چار چھوٹے بچے ہیں اس کے۔
Speaker A
چار چار چھوٹے بچے اس کے اور اس کی بیوہ جو مجھے ملی۔
Speaker A
اس نے مجھے ساری کہانی سنائی۔
Speaker A
تو یہ ہے آپ کے شریف خاندان جو پولیس کو استعمال کرتے ہیں لوگوں کو میں دہشت پھیلانے کے لیے۔
Speaker A
پولیس کو یہ استعمال کرے گا۔
Speaker A
سارے اداروں کو استعمال کرے گا الیکشن جیتنے کا۔
Speaker A
کوئی اگر یہ نواز شریف بچتا ہے یہاں سے پاکستان کا مستقبل نہیں ہے۔
Speaker A
دوسرا راستہ ساری قوم نکلے۔
Speaker A
نواز شریف سے ڈیمانڈ کریں کہ ہمیں جواب دو۔
Speaker A
جو جواب نہیں دے سکتا۔
Speaker A
اداروں کے اوپر پریشر ڈالیں کہ اپنا کام کرو۔
Speaker A
نہیں تو ہم سڑکوں پہ رہیں گے جب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔
Speaker A
ہاتھ کھڑے کر کے بتاؤ تیار ہو۔
Topics:عمران خاننواز شریفکرپشنپاناما کیسلاہور ریلیپاکستانی سیاستاداروں کی تباہینیبعدلیہالیکشن کمیشن











