Imran Khan PTI Addresses The Jalsa At Lahore (3 Sep 2016) — Transcript

عمران خان کی لاہور ریلی میں نواز شریف کی کرپشن اور ملک کے اداروں کی تباہی پر شدید تنقید۔

Key Takeaways

  • ملک کی تباہی کی اصل وجہ کرپٹ حکمران اور کمزور ادارے ہیں۔
  • نواز شریف کو پاناما کیس میں جواب دینا چاہیے اور کرپشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
  • مضبوط اور غیر جانبدار ادارے ملک کی ترقی کی کنجی ہیں۔
  • عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔
  • عدلیہ اور دیگر ادارے انصاف فراہم کرنے کے پابند ہیں اور انہیں اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔

Summary

  • عمران خان نے لاہور کی تاریخی ریلی میں نواز شریف کی کرپشن اور پیسہ بیرون ملک منتقل کرنے پر شدید تنقید کی۔
  • انہوں نے کہا کہ ملک تباہ ہوتا ہے جب وزیراعظم اور وزراء چوری کرتے ہیں، نہ کہ چھوٹے چوروں کی وجہ سے۔
  • نواز شریف کو پانچ ماہ سے پاناما کیس میں جواب دینے کا مطالبہ کیا گیا لیکن وہ ٹال مٹول کر رہے ہیں۔
  • عمران خان نے کہا کہ کرپٹ لیڈر ملک کے اداروں کو بھی کرپٹ کر دیتا ہے، جس سے ملک کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
  • انہوں نے مغربی ممالک کی ترقی کی وجہ مضبوط اور غیر جانبدار ادارے قرار دیے۔
  • نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر کی اخلاقیات معاشرے کی ترقی کا ضامن ہوتی ہیں۔
  • نواز شریف پر الزام لگایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اور سیاستدانوں کی خرید و فروخت کی۔
  • عمران خان نے عدلیہ، نیب، ایف بی آر اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف کریں اور کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی کریں۔
  • انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کا حمایتی بن چکا ہے اور شفاف انتخابات کے لیے ذمہ داری نبھانی چاہیے۔
  • ریلی کا مقصد ملک کے مستقبل کے لیے کرپشن کے خلاف جدوجہد کو مضبوط کرنا اور عوام کو متحد کرنا ہے۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:01
Speaker A
میں سب کو انشاءاللہ اس تاریخی ریلی پہ سب کو خوش امدید کہتا ہوں۔
00:10
Speaker A
اپنے ہمارے کارکن شاہدرہ کے شہری قاف لیگ کے جو ہمارے ساتھ ائے ہیں اور عوامی لیگ کے بیٹھ کے
00:25
Speaker A
اور پیپلز پارٹی کے بھی مجھے نظر آ رہے ہیں میں آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
00:32
Speaker A
اب یہ کیوں ہم ریلی کر رہے ہیں؟
00:40
Speaker A
میں سارے پاکستان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ ریلی کیوں پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے ضروری ہے۔
00:52
Speaker A
یہ کیوں ضروری ہے؟
00:56
Speaker A
سب سے پہلے یہ یاد رکھنا میرے پاکستانیوں کہ ایک ہوتا ہے ملک میں چھوٹا چور۔
01:07
Speaker A
چھوٹے چوروں کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتے۔
01:13
Speaker A
لوگوں کو مشکل پہنچتی ہے۔
01:16
Speaker A
لیکن ملک تباہ نہیں ہوتا۔
01:19
Speaker A
ملک تباہ ہوتا ہے جب ملک کا وزیراعظم اور اس کے وزیر جب وہ چوری کرتے ہیں ملک تباہ ہو جاتا ہے۔
01:28
Speaker A
تیسری دنیا۔
01:32
Speaker A
تیسری دنیا تیسری دنیا اس لیے نہیں کہ ان کے پاس مسائل نہیں ہیں۔
01:38
Speaker A
تیسری دنیا تیسری دنیا بنتی اس لیے ہے کہ ان کے ملک میں حکمران ڈاکا مارنا شروع کر دیتے ہیں۔
01:44
Speaker A
ملک کو لوٹتے ہیں۔
01:46
Speaker A
اور لوٹ کے پیسہ باہر لے جاتے ہیں۔
01:50
Speaker A
یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں آج۔
01:55
Speaker A
یہ آپ کسی بھی غریب ترین ملک میں چلے جائیں۔
02:02
Speaker A
وسائل کے باوجود وہ صرف غریب اس لیے ہیں کہ وہاں بھی نواز شریف بیٹھے ہوئے ہیں۔
02:09
Speaker A
جو ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتے ہیں۔
02:14
Speaker A
ہم نے پانچ مہینے نواز شریف کو دیے کہ پارلیمنٹ کے سامنے ہمیں صفائی پیش کر دو۔
02:25
Speaker A
کہ یہ آپ کے بچوں کی اربوں روپے کی جائیداد پیناما کی کمپنیز کے پیچھے جو چھپی ہوئی تھی جو باہر انکشاف ہو گیا۔
02:34
Speaker A
ہم پانچ مہینے سے نواز شریف آپ سے جواب مانگ رہے ہیں۔
02:41
Speaker A
کہ آپ کا پیسہ کدھر سے آیا؟
02:45
Speaker A
ادھر سے پاکستان سے پیسہ باہر کیسے گیا؟
02:50
Speaker A
ہمیں ثبوت بتائیں کہ یہ جو آپ نے پراپرٹیز خریدی۔
02:58
Speaker A
ان کی جو خریدنے کے کاغذات ہوتے ہیں وہ ہمیں دکھائیں۔
03:04
Speaker A
اور یہ پاکستانی میری بات سنو یہ ہر جمہوریت میں ایک پرائم منسٹر جواب دہ ہوتا ہے۔
03:12
Speaker A
یہاں پانچ مہینے سے بجائے جواب دینے کے۔
03:19
Speaker A
ہمیں نواز شریف کہہ رہا ہے کہ میں اپنے قانون کے تحت اپنا احتساب کروں گا۔
03:26
Speaker A
جس میں ہزاروں لوگ شامل ہو جائیں گے جو 200 سال تک مکمل نہیں ہو گا۔
03:33
Speaker A
یعنی کہ ایک پرائم منسٹر احتساب سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔
03:42
Speaker A
سارے ملک کا مستقبل تباہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
03:48
Speaker A
آج آپ میرے ساتھ مل کے یہ جو لاہور میں آپ ریلی لے کے جائیں گے۔
03:55
Speaker A
اور مجھے اپنے لاہوریوں پہ پورا یقین ہے کہ وہ بھرپور تعداد میں آج آپ کا استقبال کریں گے۔
04:05
Speaker A
ہم اس لیے جائیں گے کہ نواز شریف اگر آپ کا خیال ہے۔
04:13
Speaker A
کہ ہم چپ کر کے آرام سے بیٹھے رہیں گے اور آپ ٹائم لیتے جائیں گے۔
04:20
Speaker A
اور آخر میں قوم بھول جائے گی۔
04:24
Speaker A
جس طرح آپ کا سیالکوٹ کا رنگ باز خواجہ آصف کہتا ہے۔
04:32
Speaker A
کہ میاں صاحب فکر نہ کریں۔
04:35
Speaker A
لوگ بھول جائیں گے اس کو بھی۔
04:38
Speaker A
او خواجہ آصف نہ لوگ بھولیں گے نہ عمران خان بھولے گا نہ تمہیں بھولنے دیں گے۔
04:48
Speaker A
یہ اب اب اور نوجوانوں غور سے بات سنو۔
04:53
Speaker A
اللہ نے مجھے موقع دیا ساری دنیا کو دیکھنے کا ان کے نظام دیکھنے کا۔
04:59
Speaker A
فرق کیا ہے دنیا میں جو آگے نکل گئی ہے اور ہمارے میں۔
05:04
Speaker A
دنیا میں یہ نظام ہے کہ اگر عام آدمی کی جو جو ایک معاشرہ اخلاقیات کی سٹینڈرڈ عام آدمی کے لیے رکھتا ہے۔
05:17
Speaker A
وہ کم ہوتی ہے۔
05:20
Speaker A
جو ملک کے لیڈر ہوتے ہیں ان کا مورالٹی اخلاقیات کا بار اونچا ہوتا ہے۔
05:26
Speaker A
کیونکہ لیڈر اپنی مثال سے لیڈ کرتا ہے۔
05:31
Speaker A
دنیا کی تاریخ کا سب سے عظیم لیڈر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال سے ایک معاشرے کی اخلاقیات اوپر اٹھا دی۔
05:40
Speaker A
قوم کو عظیم بنا دیا۔
05:44
Speaker A
دنیا کے لیڈر بنا دیا۔
05:50
Speaker A
سچ اور حق پہ انہوں نے اپنی قوم کو چلا کے ایک دنیا میں مثال قائم کر دی۔
05:59
Speaker A
کہ ایسا وقت تھا کہ دنیا کے ادیب بھی وہ دیکھو۔
06:05
Speaker A
مسلمان آ رہا ہے ایک سچا انسان آ رہا ہے۔
06:09
Speaker A
یہ تھا وجہ کہ ہم دنیا کے لیڈر بنے۔
06:15
Speaker A
آج ہماری بدقسمتی کہ نواز شریف جیسا لیڈر۔
06:24
Speaker A
جو اس عظیم ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔
06:32
Speaker A
جو عظیم لوگوں کی قوم ہے۔
06:35
Speaker A
دلیر قوم ہے۔
06:40
Speaker A
کھلے دل کی قوم ہے۔
06:43
Speaker A
سب سے زیادہ خیرات دینے والی قوم ہے۔
06:48
Speaker A
اس قوم کا لیڈر پہلے تو ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر لے کے جاتا ہے اور بچوں کے نام کر دیتا ہے۔
06:56
Speaker A
پھر ہمیں جواب نہیں دیتا۔
06:59
Speaker A
اور بجائے جواب دینے کے کہتا ہے باقی ملک بھی سارا چور ہے۔
07:07
Speaker A
عمران خان بھی چور ہے جہانگیر ترین بھی چور ہے شاہ محمود بھی چور ہے یعنی سارے چور ہیں۔
07:12
Speaker A
اپنی چوری بچانے کے لیے۔
07:15
Speaker A
یہ جو آج ریلی جا رہی ہے یہ سارے پاکستان کو بتائے گی۔
07:22
Speaker A
اور لاہور کے لوگوں کو ساتھ ملائے گی۔
07:27
Speaker A
اور پیغام یہ دے گی کہ جب ایک لیڈر کرپٹ ہوتا ہے۔
07:34
Speaker A
وہ ملک کے اداروں کو کرپٹ کر دیتا ہے۔
07:39
Speaker A
جب ملک کے ادارے کرپٹ ہوتے ہیں ملک تباہ ہو جاتا ہے۔
07:44
Speaker A
چوری ملک کو تباہ نہیں کرتی۔
07:48
Speaker A
ادارے جب تباہ ہوتے ہیں تب ملک تباہ ہوتا ہے۔
07:53
Speaker A
مغرب ہمارے سے آگے اس لیے ہے۔
07:58
Speaker A
یورپین ممالک ہمارے سے آگے اس لیے ہیں۔
08:02
Speaker A
اس لیے نہیں کہ وسائل زیادہ ہیں۔
08:05
Speaker A
اس لیے کہ ان کے ادارے مضبوط ہیں۔
08:09
Speaker A
ان کے ادارے کسی کو بخشتے نہیں۔
08:13
Speaker A
ان کی عدلیہ طاقتور اور کمزور میں امتیاز نہیں کرتی۔
08:19
Speaker A
ان کی نیب یہ نہیں دیکھتی کہ پرائم منسٹر ہے یا ایک عام غریب شہری ریڑھے والا ہے۔
08:27
Speaker A
یا رکشے والا ہے۔
08:29
Speaker A
وہ فرق نہیں کرتے۔
08:33
Speaker A
اس لیے اس لیے وہ ملک کامیاب ہے۔
08:37
Speaker A
ہمارا مسئلہ کیا ہے؟
08:41
Speaker A
اور پھر سے میں دنیا کے عظیم لیڈر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث۔
08:50
Speaker A
ان کو ایک دفعہ سفارش آئی کہ جی قریش کی یہ لڑکی ہے اس نے چوری کی ہے۔
08:57
Speaker A
اس کو سزا مل گئی ہے۔
08:59
Speaker A
اس کو معاف کر دیں۔
09:01
Speaker A
یہ قریش کی لڑکی ہے۔
09:04
Speaker A
تو نبی نے تب فرمایا کہ تمہارے سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں۔
09:12
Speaker A
جدھر ایک قانون بیچارے کمزور ریڑھی والے اور ٹیکسی والے اور عام شہری کے لیے تھا۔
09:21
Speaker A
اور دوسرے طاقتور لوگوں کے لیے معاشرے میں تھا۔
09:26
Speaker A
یہ وجہ ہے ہماری تباہی کی۔
09:29
Speaker A
یہ وجہ ہے۔
09:32
Speaker A
کہ یہ ہمارا پرائم منسٹر اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھتا ہے۔
09:39
Speaker A
چوری کرتا ہے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرتا ہے۔
09:44
Speaker A
جھوٹ بولتا ہے کہ اسمبلی میں۔
09:49
Speaker A
اور سمجھتا ہے کہ یہ سب کو خرید لے گا۔
09:53
Speaker A
میڈیا کو میڈیا ہاؤسز کو پہ پیسہ چلاتا ہے۔
09:58
Speaker A
یہ اس نے واحد پرائم منسٹر ہے جس کے دور میں سپریم کورٹ کے اوپر حملہ کیا گیا۔
10:08
Speaker A
یہ وہ پرائم منسٹر ہے جس نے سیاستدانوں کی خرید و فروخت شروع کی۔
10:17
Speaker A
چھانگا مانگا کی سیاست کی۔
10:21
Speaker A
یہ وہ۔
10:24
Speaker A
یہ وہ پرائم منسٹر ہے اس نے پہلے دور میں آرمی چیف آرمی چیف کو مری بلا کے اس کو بی ایم ڈبلیو کی چابی پکڑا دی۔
10:33
Speaker A
اس کو بھی خریدنے کے لیے۔
10:37
Speaker A
یہ پہلا پرائم منسٹر ہے جس نے رشوت دے کے لوگوں کو خریدا اس لیے خریدا۔
10:47
Speaker A
کہ جب لوگ اس کے نیچے کرپٹ ہوں گے یہ کھل کے کرپشن کرے گا۔
10:52
Speaker A
اس کو کوئی روکے گا نہیں۔
10:55
Speaker A
اداروں کو تباہ کرنے والا نواز شریف ہے سب سے زیادہ اداروں کو تباہ نواز شریف نے کیا۔
11:02
Speaker A
اس لیے آپ کے مستقبل کی جنگ ہے۔
11:08
Speaker A
آپ نے اگر ایک عظیم قوم کا حصہ بننا ہے تو جدوجہد کرنی پڑے گی۔
11:15
Speaker A
یہ جو کرپٹ مافیا نواز شریف کا اوپر بیٹھا ہے اس کا ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔
11:22
Speaker A
ادارے مضبوط کرنے پڑیں گے۔
11:24
Speaker A
آج ہم صرف نواز شریف پہ پریشر نہیں ڈال رہے۔
11:31
Speaker A
ہم پاکستان کے اداروں پہ پریشر ڈال رہے ہیں۔
11:36
Speaker A
ہم پاکستان کی عدلیہ کو کہتے ہیں۔
11:43
Speaker A
کہ بڑے معتبر ہیں ہم آپ ہمارے ججز ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔
11:50
Speaker A
لیکن ہم آپ سے امید لگاتے ہیں۔
11:54
Speaker A
کہ آپ ہمیں انصاف دیں۔
11:58
Speaker A
کیونکہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
12:02
Speaker A
آپ تو اللہ کو اللہ نے تو آپ سے زیادہ جواب مانگنا ہے کیونکہ آپ جج ہیں۔
12:09
Speaker A
ہم آپ سے انصاف کی امید لگتے ہیں کیونکہ جو نواز شریف کے پیناما پیپرز کا انکشاف ہوا۔
12:17
Speaker A
اس میں کوئی شک تو رہ ہی نہیں گیا۔
12:22
Speaker A
اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ اس نے کرپشن کی ہے منی لانڈرنگ کی ہے۔
12:29
Speaker A
اس لیے ہم سپریم کورٹ کے پاس بھی جائیں گے۔
12:36
Speaker A
ہم نیب اور نیب کے چیئرمین کان کھول کے سن لو۔
12:44
Speaker A
تم نے اس دنیا سے جا کے اللہ کو جواب دینا ہے نواز شریف کو جواب نہیں دینا۔
12:54
Speaker A
اور ایف بی آر کے چیئرمین تم بھی سن لو۔
13:01
Speaker A
میں جانتا ہوں کہ ہر مہینے کتنے کروڑ روپے تم دبئی بھیجتے ہو۔
13:08
Speaker A
مجھے پتہ ہے۔
13:11
Speaker A
اور اسی لیے ہی تم نے ابھی تک کسی بھی ایک شخص جس کا پیناما میں نام آیا اس کے خلاف کوئی پروسیڈنگ نہیں کی۔
13:21
Speaker A
میں ایف بی آر چیئرمین آپ سے پوچھتا ہوں۔
13:27
Speaker A
کہ کیا آپ کا اس دنیا میں آنا کھا پی کے بچے پیدا کر کے چلے جانا۔
13:34
Speaker A
وہ تو جانور بھی کرتے ہیں۔
13:40
Speaker A
آپ کو اللہ کو جواب دینا ہے۔
13:46
Speaker A
ایف بی آر کے چیئرمین اگر تمہارے میں غیرت ہے تو سب کو نوٹسز بھیجو۔
13:53
Speaker A
جن کا پیناما پیپرز میں نام آیا۔
13:59
Speaker A
سب کو نوٹسز بھیجو۔
14:01
Speaker A
سارا ٹیکس بیچارے عام عوام پہ مہنگائی کر کے غریب غریب ہو رہا ہے چھوٹا سا طبقہ امیر ہو رہا ہے کیونکہ تمہارے میں جرات نہیں ہے۔
14:11
Speaker A
کہ نواز شریف کے خاندان کو ٹیک ایک ایک نوٹس بھیجو۔
14:18
Speaker A
کہ کدھر سے پیسہ آیا تھا جو آپ کی اربوں روپے کی بچوں کی کمپنیز ہیں۔
14:25
Speaker A
اور اس کے بعد۔
14:29
Speaker A
اور اس کے بعد۔
14:32
Speaker A
میں الیکشن کمیشن آپ سے مخاطب ہوں۔
14:38
Speaker A
اب تک تو آپ بجائے الیکشن کمیشن آف پاکستان ہونے کے آپ ہیں الیکشن کمیشن آف پی ایم ایل این نون لیگ کی۔
14:50
Speaker A
نون لیگ کے سارے لوگ جا کے کمپیننگ کرتے ہیں آپ کو فرق نہیں پڑتا۔
14:55
Speaker A
جب عمران خان جانے لگتا ہے تو کہتے ہیں جی اجازت نہیں ہے۔
15:02
Speaker A
آپ آپ نے جو علیم خان کے کیس سے کیا۔
15:09
Speaker A
ہم بھولیں گے نہیں۔
15:12
Speaker A
آپ نے پہلے 60 دن میں آپ نے کیس کا فیصلہ کرنا تھا۔
15:18
Speaker A
آپ نے پہلے تاریخیں دینی شروع کر دیں۔
15:22
Speaker A
جب 60 دن گزر گئے کہتے ہیں جی اب تو 60 دن گزر گئے ہم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔
15:29
Speaker A
جناب الیکشن کمیشن کے ممبرز۔
15:36
Speaker A
آپ کے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
15:42
Speaker A
جمہوریت کی بنیاد صاف اور شفاف الیکشن پہ ہوتی ہے۔
15:48
Speaker A
کون سا الیکشن ہوتا ہے پاکستان میں جو متنازعہ نہیں ہوتا۔
15:55
Speaker A
ہر الیکشن کے اندر جو ہارتا ہے وہ کہتا ہے دھاندلی ہوئی۔
16:01
Speaker A
اور نون لیگ جب جیتی ہے مخالف کہتا ہے دھاندلی ہوئی۔
16:07
Speaker A
میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں۔
16:13
Speaker A
کہ آپ کتنی دیر تک نیو نون لیگ کی بی ٹیم بنے رہیں گے۔
16:24
Speaker A
ہم ہمارا ہم اور آپ ہم سارے پاکستانی قوم۔
16:30
Speaker A
انتظار کر رہی ہے جو آپ کے پاس پٹیشنز آ رہی ہیں۔
16:34
Speaker A
یہ پریشر نہیں ڈال رہے۔
16:37
Speaker A
یہ ہم اداروں پہ پریشر نہیں ڈال رہے۔
16:41
Speaker A
ہم اداروں کو کہہ رہے ہیں کہ وہ کریں۔
16:47
Speaker A
جس کی اس غریب ملک کا ٹیکس کا پیسہ جو آپ لیتے ہیں۔
16:54
Speaker A
آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ پوری کریں۔
16:58
Speaker A
آپ فرق نہ کریں کہ یہ نواز شریف ہے یا کوئی اور طاقتور ہے۔
17:03
Speaker A
قوم انصاف چاہتی ہے۔
17:06
Speaker A
اور میں ایف آئی اے آپ سے بھی پوچھتا ہوں۔
17:12
Speaker A
کہ ایک نیوز آئٹم آئی ایک ایگزیکٹ ایک ٹی وی چینل آ رہی تھی۔
17:20
Speaker A
میڈیا ہاؤس آ رہا تھا ایک اخبار میں نیوز آئٹم نیویارک ٹائمز میں آتی ہے۔
17:27
Speaker A
آپ اس چینل کو بند کر دیتے ہیں۔
17:31
Speaker A
یہاں تو ایف آئی آر کٹ گئی پیناما پیپرز کے اوپر نواز شریف کے خاندان پہ۔
17:38
Speaker A
کیا ہوا ایف آئی اے کو؟
17:40
Speaker A
کیوں نہیں آگے بڑھ رہے۔
17:45
Speaker A
میں۔
17:48
Speaker A
میں۔
17:50
Speaker A
میں نواز شریف۔
17:53
Speaker A
میں آخر میں آ چکا ہوں کہ ہمیں ابھی بڑا لمبا سفر طے کرنا ہے چیئرنگ کراس تک۔
18:01
Speaker A
اور انشاءاللہ آپ سے بات چیت بھی رہے گی۔
18:05
Speaker A
لیکن میں آج ساری پاکستانی قوم کو کہتا ہوں۔
18:11
Speaker A
کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے پاکستان میں۔
18:15
Speaker A
اگر آپ کے سامنے اب دو راستے ہیں پاکستانیوں دو راستے۔
18:22
Speaker A
ایک راستہ یہ ہے کہ ہم چپ کر کے اسی طرح چلنے دیں۔
18:29
Speaker A
سٹیٹس کو کے لوگ یہی کہہ رہے ہیں۔
18:33
Speaker A
میں دیکھ رہا ہوں کہ میڈیا میں کون سے لوگ کدھر کھڑے ہیں۔
18:38
Speaker A
کئی کہہ رہے ہیں کہ جی دیکھیں عمران خان انتشار پھیلاتا ہے۔
18:43
Speaker A
بھول جاتے ہیں کہ پرائم منسٹر کے اوپر چوری پکڑی گئی ہے۔
18:48
Speaker A
تو وہ کہتے ہیں کہ ایسے ہی چلنے دو۔
18:53
Speaker A
اگر اگر سن لیں اگر ایسے ہی چلتے گئے۔
18:58
Speaker A
میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
19:04
Speaker A
کیونکہ نواز شریف نے اس نے اگلے الیکشن میں ابھی سے پلان کیا ہوا ہے ایک ایک ارب دینا ہے اس نے اپنے ایم ایل ایز کو۔
19:12
Speaker A
الیکشن خریدے گا۔
19:15
Speaker A
کیونکہ اگر یہ الیکشن 2018 کا نہیں جیتا یہ جیل میں جائے گا۔
19:24
Speaker A
اس لیے اس نے پورا زور لگانا ہے الیکشن خریدنے کے لیے اداروں کو مزید اور خریدے گا۔
19:33
Speaker A
الیکشن کمیشن پہ پیسہ چلائے گا۔
19:37
Speaker A
نادرا پہ پیسہ چلائے گا۔
19:41
Speaker A
تاکہ نادرا کے ذریعے گیم کھیل سکے۔
19:45
Speaker A
یہ پولیس جو پنجاب کی پولیس ہے۔
19:50
Speaker A
اس کو یہ استعمال کرے گا مخالفین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوائے گا۔
19:58
Speaker A
کن کن ہمارے کتنے لوگ ہیں پنجاب میں جن کے اوپر جھوٹی ایف آئی آرز ہیں۔
20:04
Speaker A
ہم سارے یہاں شاہ محمود میں جہانگیر۔
20:09
Speaker A
جتنے بھی چوہدری صاحب ہم سب پہ ایف آئی آرز کٹی ہوئی ہیں۔
20:15
Speaker A
پولیس کو۔
20:18
Speaker A
پولیس کو استعمال کرے گا جس طرح حمزہ عباسی نے پولیس حمزہ حمزہ شریف نے۔
20:27
Speaker A
حمزہ شریف نے جس طرح پولیس کو پرانے شہر میں استعمال کیا۔
20:35
Speaker A
ان کے ایک قاتل نے دو بھائیوں کو پچھلے سال مارا جو تحریک انصاف کے کیمپ میں بیٹھے تھے۔
20:42
Speaker A
چھ لوگوں کو گولیاں لگی۔
20:46
Speaker A
ایک مدعی صاحب۔
20:50
Speaker A
ایک بڑا دلیر نوجوان۔
20:54
Speaker A
مرزا تنویر۔
20:57
Speaker A
مرزا تنویر مدعی تھا وہ عدالت پہ چلا گیا۔
21:02
Speaker A
اس کو دھمکیاں دینی شروع کی۔
21:06
Speaker A
پہلے ٹیررزم کا کیس تھا اس قاتل کے خلاف حمزہ شریف نے ٹیررزم کا کیس مسترد کروایا۔
21:15
Speaker A
پھر اس کو دھمکیاں دلوائیں۔
21:20
Speaker A
مرزا تنویر کو دھمکیاں دلوائیں کہ کیس واپس کر لو۔
21:26
Speaker A
پھر حمزہ شریف نے اس کو ماڈل ٹاؤن بلایا۔
21:33
Speaker A
مرزا تنویر ایک دلیر آدمی تھا کہتا ہے میں نہیں جاتا مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
21:40
Speaker A
اور اس کے بعد اس کو گولی مروا دی۔
21:43
Speaker A
چار چھوٹے بچے ہیں اس کے۔
21:49
Speaker A
چار چار چھوٹے بچے اس کے اور اس کی بیوہ جو مجھے ملی۔
21:57
Speaker A
اس نے مجھے ساری کہانی سنائی۔
22:01
Speaker A
تو یہ ہے آپ کے شریف خاندان جو پولیس کو استعمال کرتے ہیں لوگوں کو میں دہشت پھیلانے کے لیے۔
22:10
Speaker A
پولیس کو یہ استعمال کرے گا۔
22:14
Speaker A
سارے اداروں کو استعمال کرے گا الیکشن جیتنے کا۔
22:19
Speaker A
کوئی اگر یہ نواز شریف بچتا ہے یہاں سے پاکستان کا مستقبل نہیں ہے۔
22:25
Speaker A
دوسرا راستہ ساری قوم نکلے۔
22:30
Speaker A
نواز شریف سے ڈیمانڈ کریں کہ ہمیں جواب دو۔
22:34
Speaker A
جو جواب نہیں دے سکتا۔
22:37
Speaker A
اداروں کے اوپر پریشر ڈالیں کہ اپنا کام کرو۔
22:42
Speaker A
نہیں تو ہم سڑکوں پہ رہیں گے جب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔
22:47
Speaker A
ہاتھ کھڑے کر کے بتاؤ تیار ہو۔
Topics:عمران خاننواز شریفکرپشنپاناما کیسلاہور ریلیپاکستانی سیاستاداروں کی تباہینیبعدلیہالیکشن کمیشن

Frequently Asked Questions

عمران خان نے لاہور ریلی میں کس مسئلے پر بات کی؟

عمران خان نے لاہور ریلی میں نواز شریف کی کرپشن، پاناما کیس، اور ملک کے اداروں کی تباہی پر بات کی اور عوام کو کرپشن کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی۔

نواز شریف کے خلاف عمران خان کیا مطالبات کر رہے ہیں؟

عمران خان مطالبہ کر رہے ہیں کہ نواز شریف پاناما کیس میں جواب دیں، کرپشن کے خلاف کارروائی ہو، اور ان کے بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

عمران خان کے مطابق ملک کی ترقی کے لیے کیا ضروری ہے؟

عمران خان کے مطابق ملک کی ترقی کے لیے مضبوط، غیر جانبدار ادارے اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →