عمران خان نے جلسے میں حکومت پر الزامات لگائے، آئی بی کے بجٹ میں اضافے کا دعویٰ کیا اور سندھ میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔
Key Takeaways
- عمران خان حکومت کی جانب سے سیاسی دھرنوں کو ناکام بنانے کے لیے فنڈز میں اضافے کا الزام لگا رہے ہیں۔
- صحافیوں اور میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
- عمران خان نے خود کو سیاسی قربانی اور جیل جانے کے لیے تیار ظاہر کیا ہے۔
- مسلم لیگ نون کے رہنماؤں پر کرپشن اور نااہلی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
- سندھ میں ظلم کے خلاف سیاسی تحریک چلانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
Summary
- عمران خان کی شعلہ بیانی پچھلے جلسوں کے مقابلے میں کم تھی لیکن انہوں نے حکومت پر نئے الزامات لگائے۔
- انہوں نے کہا کہ حکومت نے دھرنے کو ناکام بنانے کے لیے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے فنڈ میں 20 کروڑ سے بڑھا کر 270 کروڑ روپے کر دیا۔
- عمران خان نے الزام لگایا کہ حکومت نے صحافیوں، کالمسٹ اور اینکرز کے ضمیر خریدنے کی کوشش کی۔
- انہوں نے کارکنوں سے پوچھا کہ کیا جھوٹے کیس پر پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کریں گے، اور خود جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔
- عمران خان کو اشتہاری ڈکلیئر کیا جا چکا ہے اور انہوں نے حکومت پر دھاندلی، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کرپشن کے الزامات لگائے۔
- انہوں نے مسلم لیگ نون کے حنیف عباسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو جیل میں جانا چاہیے، وہ 50 ارب روپے کے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔
- عمران خان نے لاڑکانہ کے جلسے کا ذکر کیا اور سندھ کو ظلم کی زنجیروں سے آزاد کرانے کا عزم ظاہر کیا۔
- انہوں نے سندھ میں خوف کی زنجیریں توڑنے کا وعدہ کیا اور گولو بٹ کا تذکرہ کیا، مگر طنزیہ انداز میں۔











