Umar Bin Khattab | 2nd Khalifa of Islam | Umar Series 1

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
صرف دو سال حکومت کرنے کے بعد پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ
00:05
Speaker A
اس دنیا سے چلے گئے لیکن
00:08
Speaker A
وفات سے پہلے ہی انہوں نے سب کو کلیئرلی بتا دیا تھا کہ ان کے بعد مسلمانوں کا دوسرا خلیفہ
00:14
Speaker A
کون ہوگا عمر بن خطاب
00:17
Speaker A
اسلام اج دنیا کا فاسٹسٹ گروئنگ ریلیجن ہے جسے الموسٹ 200 کروڑ ٹو بلین لوگ فالو کرتے ہیں
00:23
Speaker A
اور دنیا میں ایسا کوئی سیکنڈ نہیں گزرتا جس میں دنیا کی کسی کونے میں اذان نہ دی جا رہی ہو
00:29
Speaker A
اس سب میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بہت بڑا رول پلے کیا ہے
00:33
Speaker A
جنہوں نے صرف کچھ ہی سالوں میں مسلمانوں کی اتنی بڑی ایمپائر بنائی جو ان سے پہلے دنیا میں کسی کے پاس بھی نہیں تھی
00:40
Speaker A
الگزینڈر دی گریٹ اور ایون مصر کے فرعون کے پاس بھی نہیں
00:44
Speaker A
لیکن یہ سب اخر انہوں نے کیا کیسے
00:47
Speaker A
حضرت عمر کی پرسنلٹی کو سمجھنے کے لیے اس زمانے کے مکہ شہر کو سمجھنا لازمی ہے
00:52
Speaker A
کیونکہ مکہ میں پچھلے کئی صدیوں سے ایک ہی قبیلے قریش کا کنٹرول تھا
00:58
Speaker A
اور اہستہ اہستہ قریش کا یہ قبیلہ اتنا بڑھ چکا تھا کہ قریش خود بھی بہت سارے قبیلوں میں ڈیوائیڈ ہو چکا تھا
01:05
Speaker A
اور ان قبیلوں کے درمیان اب مکہ میں پیس برقرار رکھنے کے لیے
01:10
Speaker A
ہر قبیلے کو الگ الگ ذمہ داریاں دی گئی تھیں
01:13
Speaker A
قریش کے تین سب سے طاقتور قبیلے تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے بنو ہاشم کے پاس
01:20
Speaker A
قریش کی ریلیجس پاور تھی
01:23
Speaker A
کیونکہ مکہ کعبہ کی وجہ سے عرب کے ریلیجن کا سینٹر تھا
01:28
Speaker A
اور بنو ہاشم کے لیڈرز تھے عبدالمطلب
01:32
Speaker A
اور ان کے بعد ابو طالب
01:34
Speaker A
قریش کا دوسرا طاقتور قبیلہ تھا بنو امیہ
01:37
Speaker A
یہ قبیلہ قریش میں صرف اور صرف ایک چیز کی وجہ سے مشہور تھا
01:41
Speaker A
پیسہ
01:42
Speaker A
اسی لیے مکہ کی ساری اکانومی یہی فیملی بنو امیہ کنٹرول کرتی تھی
01:46
Speaker A
اور اس قبیلے کا لیڈر تھا ابو سفیان
01:49
Speaker A
اینڈ لاسٹلی قریش کا تیسرا پاورفل قبیلہ بنو مخزوم تھا جو مکہ میں واریئرز کی فیملی تھی
01:55
Speaker A
اسی لیے مکہ میں ہر وار جنگ کی پلاننگ یہی فیملی کیا کرتی تھی
02:00
Speaker A
اور سب سے زیادہ ہتھیار بھی اسی فیملی کے پاس ہوتے تھے
02:03
Speaker A
اور بنو مخزوم کا لیڈر سب سے پاورفل لیڈرز میں سے ہوتا تھا جن میں سے ایک کو ابو جہل کے نام سے جانا جاتا ہے
02:08
Speaker A
لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق ان تینوں قبیلوں میں سے ایک کے ساتھ بھی نہیں تھا
02:12
Speaker A
ان کا تعلق قریش کے ایک دوسرے قبیلے بنو عدی سے تھا
02:16
Speaker A
جو قریش کے ایمبیسیڈرز کا قبیلہ تھا مطلب قریش کا ترجمان سپوکس پرسن
02:21
Speaker A
زیادہ تر اسی قبیلے سے ہوتا تھا
02:24
Speaker A
اور جب بھی قریش کے اپس میں کبھی لڑائیاں ہوتی تھیں
02:28
Speaker A
ان لڑائیوں کو بھی یہی قبیلہ حل کیا کرتا تھا
02:31
Speaker A
اور ان کا لیڈر تھا خطاب
02:34
Speaker A
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد
02:36
Speaker A
اسی لیے حضرت عمر کی پرسنلٹی کی یہ سائیڈ کہ وہ کسی بھی بڑے مسئلے کو بہت ہی اسانی سے بات چیت اور ڈیبیٹ کے ساتھ حل کر لیا کرتے تھے
02:43
Speaker A
انہیں اپنے والد کے قبیلے بنو عدی سے ملی تھی
02:47
Speaker A
لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی پرسنلٹی کا ایک دوسرا اینگل بھی تھا جو ہم سب بار بار سنتے رہتے ہیں
02:54
Speaker A
کہ وہ بہت ہی غصے والے انسان تھے اور بات بات پر دوسرے کا سر کاٹنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے
02:59
Speaker A
حضرت عمر کی پرسنلٹی کا یہ ٹریٹ انہیں اپنی والدہ حنتمہ بنت ہشام سے ملا تھا
03:06
Speaker A
جن کا تعلق بنو عدی سے نہیں بلکہ بنو مخزوم سے تھا جو قریش کے وار اور جنگ کو سنبھالتے تھے
03:12
Speaker A
اس بنو مخزوم کے قبیلے کے مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے
03:18
Speaker A
کہ اس قبیلے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے کزن کا نام خالد بن ولید تھا
03:23
Speaker A
مطلب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو بات چیت سے اچھی طرح سمجھانا اپنے والد سے سیکھا اور جو لوگ باتوں سے نہ سمجھے انہیں ڈنڈے اور تلوار سے سمجھانا
03:33
Speaker A
انہوں نے اپنی والدہ کے خاندان سے سیکھا
03:36
Speaker A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں بہت سارے بکس اور بہت سارے لیکچرز ہیں
03:43
Speaker A
لیکن انہیں سننے اور پڑھنے میں ہمیشہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ اخر ان سارے واقعات میں
03:49
Speaker A
کون سا واقعہ کب پیش ایا تھا
03:51
Speaker A
اسی لیے زیادہ تر لوگ کنفیوژن میں پڑتے ہیں
03:54
Speaker A
اسپیشلی بچے
03:55
Speaker A
اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہاؤس اف بکس ہیز لانچڈ پرافٹ محمد سیریز
04:02
Speaker A
جس میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں اوتھینٹک سورسز کے ساتھ سارے واقعات لکھے ہیں
04:08
Speaker A
اینڈ واٹ ائی لائک دا موسٹ اباؤٹ دس
04:11
Speaker A
کہ اس سیریز میں سارے واقعات کو چھوٹے چھوٹے بکس میں ڈیوائیڈ کیا گیا ہے اور ہر بک کے اوپر اس کا اپنا نمبر ہے
04:20
Speaker A
تاکہ کوئی بھی اسپیشلی بچے اگر اسے پڑھیں تو ایک سیکونس کے ساتھ
04:26
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو پراپرلی سمجھ سکیں
04:30
Speaker A
ہاؤس اف بکس پرافٹ سیریز
04:33
Speaker A
لنک ان دا ڈسکرپشن
04:34
Speaker A
دنیا کے سب سے بڑے بادشاہ خلیفہ بننے کے بعد
04:40
Speaker A
ایک دن حضرت عمر مکہ کے اس علاقے سے گزرے جہاں وہ بچپن میں اونٹ چرایا کرتے تھے
04:46
Speaker A
اور فرمایا کہ اللہ کی کیا شان ہے کہ میری زندگی میں ایک وقت ایسا تھا کہ میں یہاں اونٹ چرایا کرتا تھا
04:54
Speaker A
اور صرف تھوڑی سی غلطی پر بھی میرا باپ مجھے بہت مارا کرتا تھا
04:58
Speaker A
اور اج ایسا دن ہے کہ میرے اور اللہ کے درمیان دنیا میں کوئی بھی نہیں
05:04
Speaker A
مطلب اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ دنیا کی سب سے بڑی ایمپائر کے لیڈر
05:10
Speaker A
اور دنیا کے سب سے طاقتور انسان بن چکے تھے
05:13
Speaker A
ان سے پاورفل کوئی بھی نہیں تھا
05:15
Speaker A
سوائے اللہ کے
05:16
Speaker A
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے 12 سال بعد پیدا ہوئے
05:22
Speaker A
اور جوانی میں بہت ٹال اور مسکولر ہونے کی وجہ سے بہت جلد ہی مکہ کے سب سے طاقتور ریسلر بن گئے تھے
05:30
Speaker A
مطلب کہا جاتا ہے کہ جب وہ کسی گروپ میں چل رہے ہوتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ باقی سارے زمین پر چل رہے ہیں
05:37
Speaker A
اور وہ اونٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں
05:38
Speaker A
مطلب اج کے زمانے میں اگر دیکھا جائے تو الموسٹ چھ فٹ چھ انچ یا چھ فٹ سات انچ کی ہائٹ
05:45
Speaker A
فار ایگزیمپل یہ ہے نریندر مودی
05:48
Speaker A
ایوریج ہائٹ
05:50
Speaker A
اور ان کے پاس کھڑے یہ ہیں قطر کے امیر تمیم بن حماد
05:55
Speaker A
حضرت عمر اور باقی ایوریج لوگوں میں بھی اتنا ہی ہائٹ ڈفرنس ہوتا ہوگا
06:00
Speaker A
یا پھر اس سے بھی زیادہ
06:02
Speaker A
اس سب کے بعد اہستہ اہستہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے بنو عدی کی لیڈرشپ سنبھالنے لگے
06:09
Speaker A
اور مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کے ساتھ میٹنگز میں بیٹھنے لگے
06:14
Speaker A
اور کچھ ہی عرصے میں قریش کے سب سے ٹیلنٹڈ ایمبیسیڈر بن گئے
06:18
Speaker A
اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس بھی سٹارٹ کیا
06:25
Speaker A
جس میں وہ مکہ یمن سیریا کے بیچ ہر وقت ٹریول کرتے رہتے تھے
06:31
Speaker A
اور جب فائنلی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایج 27 ہوئی
06:36
Speaker A
تو مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کر دیا
06:40
Speaker A
اور اسلام کی دعوت دینا شروع کر دی
06:42
Speaker A
لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ قریش کا ایمبیسیڈر اور سپوکس پرسن ہونے کی وجہ سے
06:49
Speaker A
اسلام کی پہلے سخت مخالفت اور مسلمانوں کے خلاف اپنے مامو ابو جہل کے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے
06:55
Speaker A
اسلام سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ریپوٹیشن کوئی اتنی اچھی نہیں تھی کیونکہ وہ بہت سارے
07:02
Speaker A
اینٹی اسلامک ایکٹیویٹیز میں انوالو رہتے تھے
07:06
Speaker A
مطلب شراب اور جوا وغیرہ
07:08
Speaker A
اور اسلام سے اتنی نفرت کرتے تھے کہ اپنے ایک غلام کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک دن انہوں نے اتنا مارا کہ خود اسے مار مار کر تھک گئے
07:17
Speaker A
لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اہستہ اہستہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی پوزیشن
07:22
Speaker A
مسلمانوں کے بارے میں تھوڑی بدلنے لگی
07:25
Speaker A
اسی لیے ایک دن جب وہ مکہ میں ایک غلام کے پاس سے گزرے جسے اس کے مالک ابو جہل نے مسلمان ہونے کی وجہ سے مار مار کر الموسٹ بے ہوش کر دیا تھا
07:36
Speaker A
جب حضرت عمر نے دیکھا کہ کسی اور نے اس کی مدد نہیں کی تو خود جا کر اسے ہاتھ دیا اور اسے اٹھایا
07:44
Speaker A
جس پر اس غلام نے حضرت عمر سے کہا کہ واللہ اپ ان دونوں میں سے بہتر ہیں
07:50
Speaker A
جس کی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو سمجھ نہیں ائی
07:53
Speaker A
اس غلام نے اس دعا کی طرف اشارہ کیا تھا جو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے کی تھی کہ یا اللہ مکہ کے ان دو عمرین میں سے
08:02
Speaker A
ایک کو اسلام کی طرف لا ایک عمر بن خطاب اور دوسرا عامر بن ہشام
08:07
Speaker A
ابو جہل
08:08
Speaker A
مکہ کے قریش کو مسلمانوں سے دور کرنے کے لیے ابو جہل اور ابو سفیان بار بار مکہ کے بڑوں کی میٹنگز بلا کر
08:15
Speaker A
انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ محمد کی وجہ سے ہمارا ریلیجن تو خراب ہو ہی چکا ہے
08:23
Speaker A
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری اکانومی اور عزت بھی
08:27
Speaker A
بہت خراب ہو چکی ہے
08:29
Speaker A
ان سارے میٹنگز میں بار بار بیٹھ کر ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اخر بہت تنگ ا گئے
08:35
Speaker A
تو انہوں نے اخر ایک ایسا فیصلہ کیا جو اس سے پہلے کرنے کی کسی میں بھی ہمت نہیں تھی
08:41
Speaker A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا فیصلہ
08:45
Speaker A
اور اپنی تلوار لے کر سیدھا دار ارقم کی طرف روانہ ہوئے جو مکہ میں مسلمانوں کا ہیڈ کوارٹر تھا
08:52
Speaker A
لیکن اللہ نے حضرت عمر کو اس سب سے بڑے گناہ کے دوران ہی پلٹ دیا
08:59
Speaker A
ہوا ایسے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ دار ارقم کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں انہیں اپنا بیسٹ فرینڈ ملا
09:08
Speaker A
جو اس سے کچھ عرصے پہلے سیکریٹلی مسلمان ہو چکا تھا
09:13
Speaker A
لیکن اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں بتایا تھا
09:15
Speaker A
اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو روکا اور کہا
09:18
Speaker A
عمر کہاں جا رہے ہو
09:20
Speaker A
جب حضرت عمر نے اسے بتایا تو وہ ادمی بالکل ڈر گیا اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے پہلے
09:29
Speaker A
اپنے گھر کی تو خبر لو
09:31
Speaker A
جس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سمجھ گئے اور سیدھا اپنی بہن کے گھر کی طرف روانہ ہوئے
09:36
Speaker A
عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن پہلے ہی اپنے ہسبینڈ سعید بن زید کی وجہ سے
09:42
Speaker A
مسلمان ہو چکی تھی
09:44
Speaker A
سعید بن زید حضرت عمر کے بہنوئی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے چچا کے بیٹے بھی تھے اور ان کے چچا زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے ہی
09:53
Speaker A
مکہ کے ریلیجن کو چھوڑ چکے تھے اور ہمیشہ مکہ کے ریلیجن کے خلاف بولتے رہتے تھے
09:58
Speaker A
وہ کہتے تھے کہ جب ہم سب کو پتہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ایک خدا کی عبادت کرتے تھے
10:06
Speaker A
اور ان کے دوسرے بیٹے اسحاق کی اولاد بنی اسرائیل بھی ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں
10:13
Speaker A
تو پھر ہم نے اسماعیل کی اولاد نے اتنے سارے خدا کہاں سے لائے ہیں
10:18
Speaker A
اسی لیے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا کی فیملی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام کا پتہ چلا
10:25
Speaker A
تو انہوں نے بہت تیزی سے اسلام قبول کر لیا
10:28
Speaker A
حضرت عمر سیدھا اندر گئے اور جا کر سعید بن زید کو مارنے لگے
10:32
Speaker A
ان کی بہن فاطمہ نے انہیں بچانے کی کوشش بھی کی لیکن حضرت عمر نے غصے میں انہیں بھی مار دیا
10:39
Speaker A
جس سے ان کا خون بہنے لگا تو حضرت عمر نے جب اپنی بہن کا خون دیکھا
10:45
Speaker A
تو ان کو اخر ترس ایا اور کہا مجھے قران دکھاؤ کہ اخر اس میں لکھا کیا ہے
10:50
Speaker A
اور پھر قران پڑھنے کے بعد فائنلی وہ مسلمان ہو گئے
10:54
Speaker A
یہ ساری سٹوریز ہاؤس اف بکس کی پرافٹ محمد سیریز میں ڈیٹیل سے مینشن ہے
10:59
Speaker A
اسلام قبول کرنے کے بعد وہ دوبارہ دار ارقم کی طرف روانہ ہوئے
11:05
Speaker A
لیکن وہاں اب تک کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ حضرت عمر اسلام قبول کر چکے ہیں
11:10
Speaker A
تو جب انہوں نے حضرت عمر کو باہر تلوار لے کر کھڑا ہوا دیکھا تو کچھ مسلمان تو بالکل ڈر گئے
11:17
Speaker A
لیکن حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا جو اس سے کچھ ہی عرصے پہلے مسلمان ہوئے تھے
11:24
Speaker A
انہوں نے کہا کہ عمر کو انے دو اگر اس کی نیت صاف ہے تو ٹھیک ہے
11:30
Speaker A
لیکن اگر اس کی نیت صحیح نہیں ہے تو میں اسی کی تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا
11:36
Speaker A
حضرت عمر اندر ائے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ عمر کیا اب بھی وقت نہیں ایا
11:42
Speaker A
کہ تم سچ کو سمجھ سکو
11:44
Speaker A
جس پر حضرت عمر نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی سارے مسلمانوں کے سامنے
11:49
Speaker A
اسلام قبول کر لیا
11:52
Speaker A
جس پر وہاں موجود سارے مسلمان زور زور سے اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگے
11:57
Speaker A
اکارڈنگ ٹو مینی سورسز یہ نبوت کا چھٹا سال تھا
12:02
Speaker A
اور حضرت عمر کی ایج 32 یا 33 سال تھی
12:06
Speaker A
اور اب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ مکہ میں مسلمانوں کی تعداد 50 ہو چکی تھی
12:12
Speaker A
جن میں سے 40 مرد اور صرف 10 عورتیں تھیں
12:15
Speaker A
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کے حالات بالکل بدل گئے
12:20
Speaker A
کیونکہ اس سے پہلے جس نے بھی اسلام قبول کیا تھا وہ زیادہ تر بہت کمزور لوگ تھے
12:27
Speaker A
اسی لیے ہمیشہ چھپ چھپ کر اسلام قبول کرتے تھے
12:30
Speaker A
لیکن حضرت عمر اسلام قبول کرنے کے بعد سیدھا اپنے مامو ابو جہل کے گھر گئے اور انہیں بتایا کہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں
12:39
Speaker A
جس پر ابو جہل نے کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تمہارے جیسا ادمی اسلام قبول کر لے
12:45
Speaker A
کیونکہ حضرت عمر کی پچھلی ساری لائف اسلام کے بہت ہی اپوزٹ تھی
12:50
Speaker A
جس کے بعد حضرت عمر سیدھا جمیل بن مامور کے پاس گئے اور انہیں بھی اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا
12:58
Speaker A
کیونکہ جمیل مکہ کا لاؤڈ سپیکر تھا
13:02
Speaker A
اور یہ ایسا ادمی تھا کہ اس کے پیٹ میں زیادہ دیر تک کوئی بات نہیں رہتی تھی
13:08
Speaker A
تو جب اسے اتنی بڑی نیوز کا پتہ چلا تو وہ سیدھا بھاگا اور مکہ کی گلیوں میں اعلان کرنے لگا کہ عمر نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا ہے
13:16
Speaker A
حضرت عمر سے پہلے مسلمان مکہ میں چھپ چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے
13:23
Speaker A
لیکن حضرت عمر کے بعد اب سارے مسلمان سب کے سامنے کھل کر نماز پڑھنے لگے
13:29
Speaker A
اور ایون کعبہ کے اندر جا کر بھی نماز ادا کرنے لگے
13:32
Speaker A
اس سب کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ساری زندگی اپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے لیے وقف کر دی
13:40
Speaker A
اور کچھ عرصے بعد مسلمانوں کے ساتھ مکہ میں اپنے خاندان اور ساری طاقت چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے
13:48
Speaker A
مدینہ انے کے بعد اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے مہاجرین کو جن کے پاس نہ کوئی گھر نہ کاروبار کچھ بھی نہیں تھا
13:55
Speaker A
ان کو ایک ایک انصار کے گھر میں سیٹل کیا
13:58
Speaker A
حضرت عمر بھی ایک انصاری کے ساتھ سیٹل ہوئے اور ان دونوں نے اپنے ٹائم کو ایسے ڈیوائیڈ کیا
14:04
Speaker A
کہ ایک دن وہ صحابی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضرت عمر ان کا بزنس سنبھالتے
14:12
Speaker A
اور پھر دوسرے دن حضرت عمر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے
14:16
Speaker A
اور وہ صحابی بزنس کو چلاتے
14:18
Speaker A
ہجرت کے صرف دو سال بعد جنگ بدر میں حضرت عمر حضرت حمزہ کی لیڈرشپ میں
14:23
Speaker A
جنگ میں شامل رہے
14:25
Speaker A
جنگ جیتنے کے بعد حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ ہمیں قیدی نہیں رکھنے چاہیے
14:31
Speaker A
لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کی رائے اس کے اپوزٹ تھی
14:36
Speaker A
جس کے بعد قران کی ایک ایت نازل ہوئی جس میں کلیئرلی حضرت عمر کی رائے کو پریفر کیا گیا
14:42
Speaker A
اس ڈسیژن اور باقی کچھ ڈسیژنز کی وجہ سے حضرت عمر کا نام الفاروق رکھا گیا
14:50
Speaker A
وچ مینز حق کو پہچاننے والا
14:53
Speaker A
سچ کا ساتھ دینے والا
14:54
Speaker A
بدر کے ایک سال بعد احد کی جنگ اور اس کے بعد خندق کی جنگ میں بھی حضرت عمر مسلمانوں کی فوج میں رہے
15:01
Speaker A
اور اس کے بعد صلح حدیبیہ کے موقع پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو مکہ والوں سے ڈیل کرنے کو کہا
15:09
Speaker A
لیکن حضرت عمر نے یہ مشورہ دیا کہ اپ میرے بجائے حضرت عثمان کو ڈیل کرنے کے لیے بھیجیں
15:16
Speaker A
کیونکہ اب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے مامو ابو جہل مر چکے تھے
15:22
Speaker A
اور ان کے بعد مکہ کا نیا پاورفل سردار ابو سفیان تھا
15:27
Speaker A
جو حضرت عثمان کے قبیلے والا تھا جسے ہم اس ویڈیو میں پورا ایکسپلین کر چکے ہیں
15:31
Speaker A
جس کے بعد مکہ والوں نے مسلمانوں کے سامنے ایک ایسی ڈیل رکھی جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ مسلمان اسے سائن کر کے بہت بڑی غلطی کریں گے
15:40
Speaker A
لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی رائے کو چھوڑ کر اس ڈیل پر مہر لگا لی جس پر کچھ صحابہ بہت ہی کنفیوز اور ناراض ہوئے
15:49
Speaker A
جن میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے
15:54
Speaker A
وہ سیدھا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا اپ سچے نبی نہیں ہیں
16:00
Speaker A
تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بالکل
16:02
Speaker A
تو حضرت عمر نے کہا کہ کیا ہمارے دشمن کافر نہیں ہیں
16:06
Speaker A
تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بالکل
16:08
Speaker A
جس پر حضرت عمر نے کہا تو پھر کیوں ہم ان کی ہر بات مان رہے ہیں
16:13
Speaker A
کیوں ہم ان کے سامنے کمزور بن رہے ہیں
16:15
Speaker A
جس پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں
16:21
Speaker A
اور میں اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتا
16:25
Speaker A
اس سے حضرت عمر خاموش ہو گئے
16:27
Speaker A
جس کے بعد ائندہ انے والے کچھ سالوں میں جب انہوں نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ صلح حدیبیہ کی وجہ سے اسلام کی طرف انے لگے
16:36
Speaker A
تو انہیں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی سمجھ ائی
16:40
Speaker A
اور پھر ہمیشہ اپنے ان باتوں کی وجہ سے اللہ سے معافی مانگتے رہے
16:44
Speaker A
صلح حدیبیہ کے بعد اسلام اتنے تیزی سے پھیلنے لگا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے کزن خالد بن ولید نے بھی اسلام قبول کر لیا
16:54
Speaker A
اس کے بعد ہمیشہ حضرت عمر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر ڈسیژن اور ہر جنگ میں ساتھ ہی رہے
17:02
Speaker A
اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ سے شادی بھی کی
17:08
Speaker A
پھر اخر مکہ فتح ہونے کے بعد جنگ تبوک میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے
17:15
Speaker A
مسلمانوں کی فوج کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنی ساری ویلتھ کا ادھا حصہ ڈونیٹ کیا
17:21
Speaker A
غزوہ تبوک کے کچھ ہی عرصے بعد اپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گئے
17:27
Speaker A
لیکن جب یہ خبر حضرت عمر تک پہنچی تو وہ اتنا شوق ہوئے کہ انہیں اس پر یقین ہی نہیں ا رہا تھا
17:34
Speaker A
تو وہ مسجد نبوی میں کھڑے ہوئے اور اپنی تلوار نکال کر کہا کہ جو بھی یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں
17:42
Speaker A
میں اس کی گردن اڑا دوں گا
17:44
Speaker A
کیونکہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کہتے تھے کہ ایک دن مسلمان رومن اور پرشین ایمپائر دونوں کو فتح کریں گے
17:52
Speaker A
تو اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب ہوئے بغیر دنیا سے چلے جائیں
18:00
Speaker A
لیکن حضرت عمر کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ اللہ ایک دن انہی کے ہاتھوں یہ دونوں ایمپائر فتح کرے گا
18:07
Speaker A
جب مسجد نبوی کے اندر سارے غم اور کنفیوژن میں تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ممبر پر چڑھے
18:15
Speaker A
اور سمجھایا کہ ہمارا مشن اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ختم نہیں ہوا
18:22
Speaker A
بلکہ اب اصلی مشن شروع ہوا ہے
18:25
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت مدینہ کے کچھ لوگ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنا نیا بادشاہ چوز کرنے لگے
18:32
Speaker A
تو اچانک حضرت عمر اور ابوبکر وہاں پہنچے اس کے بعد جو ہوا ہم اس ویڈیو میں پورا ایکسپلین کر چکے ہیں
18:38
Speaker A
ان شارٹ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ وہاں حالات اہستہ اہستہ بگڑ رہے ہیں تو انہوں نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے
18:48
Speaker A
سب سے پہلے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی
18:53
Speaker A
جس کے بعد اہستہ اہستہ باقی ساروں نے بھی ا کر حضرت عمر کے ہاتھ پر بیعت کر لی
19:00
Speaker A
اور اس طرح حضرت ابوبکر عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وجہ سے مسلمانوں کے پہلے خلیفہ بنے
19:05
Speaker A
ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ
19:12
Speaker A
مسلمانوں کی اس ایمپائر کے سیکنڈ ان کمانڈ تھے
19:17
Speaker A
مطلب اگر حضرت ابوبکر بادشاہ تھے تو حضرت عمر ان کے وزیراعظم تھے
19:23
Speaker A
اور ان دونوں نے باقی صحابہ کے ساتھ مل کر پورے عرب کو دوبارہ یونائٹ کرنے کی کوشش کی
19:29
Speaker A
اخر جنگ یمامہ کے بعد عرب تو دوبارہ یونائٹ ہو گئے
19:35
Speaker A
لیکن اس جنگ میں بہت سارے حافظ قران شہید ہونے کی وجہ سے یہ خطرہ تھا کہ کئی قران کے بارے میں
19:44
Speaker A
مسلمان اپس میں اختلاف میں نہ پڑ جائیں
19:47
Speaker A
اسی لیے سب سے پہلے حضرت عمر کے ذہن میں یہ ائیڈیا ایا کہ ہمیں فورا
19:53
Speaker A
قران کو ایک بک کی شکل میں کمپائل کر لینا چاہیے
19:57
Speaker A
مطلب اج دنیا کے سارے قران جو بکس کی طرح لکھے گئے ہیں ان سب کا تھوڑا سا کریڈٹ
20:04
Speaker A
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو جاتا ہے
20:07
Speaker A
عرب یونائٹ کرنے کے بعد خلیفہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم پر
20:12
Speaker A
مسلمانوں نے سیدھا پرشین ایمپائر پر حملہ کر دیا
20:18
Speaker A
اور ان سے کچھ ہی مہینوں میں یہ سارا علاقہ فتح کر لیا
20:24
Speaker A
اور پرشین ایمپائر پر حملے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے ایک ہی ٹائم پر
20:30
Speaker A
رومن ایمپائر پر بھی حملہ کر دیا
20:34
Speaker A
لیکن پرشین ایمپائر کی طرح مسلمانوں کو رومن ایمپائر میں اتنی کامیابی نہیں مل رہی تھی
20:40
Speaker A
خالد بن ولید
20:42
Speaker A
رومن ایمپائر میں نہیں بلکہ پرشین ایمپائر میں تھے
20:46
Speaker A
اسی لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے خالد بن ولید کی طرف ایک لیٹر بھیجا کہ وہ سیدھا اپنی ادھی فوج لے کر
20:54
Speaker A
رومن ایمپائر کی طرف جائیں
20:56
Speaker A
جیسے ہی خالد بن ولید وہاں پہنچے وہ بہت تیزی سے رومن ایمپائر کے سارے علاقے کو فتح کرنے لگے
21:02
Speaker A
اور اخر رومن ایمپائر کی مین سٹی دمشق
21:07
Speaker A
ڈیمسکس کو ہر طرف سے گھیر لیا
21:11
Speaker A
ناؤ مسلمانوں کی اس ایمپائر کو چلانے میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی رائے
21:19
Speaker A
زیادہ تر ہمیشہ سیم ہی ہوتی تھی
21:22
Speaker A
سوائے ایک مسئلے کے
21:24
Speaker A
اور یہ مسئلہ اگے جا کر بہت ہی کنٹروورشل مسئلہ بنا
21:30
Speaker A
اور وہ مسئلہ یہ تھا کہ خالد بن ولید کو کیسے ہینڈل کیا جائے
21:35
Speaker A
کیونکہ خالد بن ولید اب تک سارے فیصلے خود ہی کیا کرتے تھے
21:41
Speaker A
اور سب کچھ کرنے کے بعد ہی مدینہ کی طرف لیٹر بھیجتے تھے
21:44
Speaker A
لیکن حضرت عمر کو اپنے کزن خالد بن ولید کی یہ عادت بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی
21:50
Speaker A
اسی لیے جب حضرت عمر خلیفہ بنے انہوں نے کچھ ہی عرصے بعد مسلمانوں کے سب سے بڑے جنرل کو
21:57
Speaker A
اپنے عہدے سے ہٹا دیا
22:00
Speaker A
جس پر خالد بن ولید ان سے بہت ناراض ہوئے تھے
22:03
Speaker A
اس کنٹروورشل مسئلے کو پھر ہم نیکسٹ ویڈیو میں ایکسپلین کریں گے تو سبسکرائب
22:06
Speaker A
جیسے ہی مسلمانوں کی فوج یہاں تک پہنچی تو مدینہ میں مسلمانوں کے خلیفہ
22:12
Speaker A
ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی طبیعت بالکل خراب ہو گئی جسے دیکھ کر انہیں پتہ چل گیا
22:19
Speaker A
کہ یہ اب ان کے دنیا میں اخری دن ہیں
22:22
Speaker A
اسی لیے انہوں نے سارے بڑے صحابہ کو بلایا اور انہیں کہا کہ اب میں اور تمہارا خلیفہ نہیں رہا
22:27
Speaker A
تم اپس میں مشورہ کر کے جسے بھی چاہو اپنا نیا خلیفہ سلیکٹ کر دو
22:32
Speaker A
جس پر صحابہ نے تھوڑا سوچا اور واپس حضرت ابوبکر سے کہا کہ یہ کام ہم اپ کے حوالے کرتے ہیں
22:38
Speaker A
کہ اپ جس کو بھی صحیح سمجھیں اپنے بعد اسی کو مسلمانوں کا خلیفہ بنا دیں
22:42
Speaker A
تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے بڑے بڑے صحابہ میں سے ایک ایک کو بلایا
22:49
Speaker A
اور ان سے پوچھا کہ عمر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے
22:52
Speaker A
جس پر ایک صحابی نے کہا کہ یس حضرت عمر بہت اچھے ہیں
22:56
Speaker A
لیکن ان کی پرسنلٹی بہت ہی سخت ہے
22:59
Speaker A
تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے کہا کہ عمر صرف اس لیے سخت بنتا ہے کیونکہ وہ مجھے ہمیشہ سوفٹ دیکھتا ہے
23:07
Speaker A
لیکن جب وہ خود خلیفہ بنے گا تو اس کی پرسنلٹی بالکل بدل جائے گی
23:12
Speaker A
ان سارے صحابہ سے پوچھنے کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے سخت بیماری میں
23:19
Speaker A
حضرت عثمان کو اپنے پاس بلایا اور انہیں کہا کہ لکھو
23:23
Speaker A
کہ میں خلیفہ ابوبکر اپنے بعد مسلمانوں کا نیا خلیفہ
23:29
Speaker A
یہ کہتے ہی اچانک ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے
23:34
Speaker A
تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے اگے خود ہی لکھا کہ اپنے بعد نیا خلیفہ عمر کو نامزد کرتا ہوں
23:42
Speaker A
تھوڑی دیر بعد جب انہیں ہوش ایا تو انہوں نے کہا کہ بالکل ٹھیک کیا ہے
23:47
Speaker A
اور سارے بڑے صحابہ کو بلا کر کہا کہ کیا تم سب کو وہ قبول ہوگا جسے میں خلیفہ بناؤں گا
23:55
Speaker A
تو وہاں سب نے کہا کہ یس
23:57
Speaker A
جس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ میں نہ اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ بنا کر جا رہا ہوں اور نہ اپنے خاندان میں سے کسی فرد کو
24:06
Speaker A
بلکہ میں اسے خلیفہ بنا رہا ہوں جسے میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں
24:11
Speaker A
اور وہ ہے عمر بن خطاب
24:13
Speaker A
ماڈرن ڈیموکریسیز کے علاوہ اگر دنیا کی ساری ہسٹری دیکھی جائے تو ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کسی بادشاہ کے مرنے کے بعد
24:22
Speaker A
اس کا بیٹا یا اس کے خاندان میں سے کوئی بادشاہ نہ بنا ہو
24:28
Speaker A
ناؤ جس طرح حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کے حالات مکہ میں بالکل بدل گئے تھے
24:36
Speaker A
اسی طرح اب ان کے خلیفہ بننے کے بعد پوری دنیا کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی
24:42
Speaker A
کیونکہ اگلے صرف چند سالوں میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اتنی بڑی ایمپائر بنائی
24:49
Speaker A
جو اس سے پہلے دنیا میں کسی کے پاس بھی نہیں تھی
24:52
Speaker A
اور اس ایمپائر کو فتح کرنے کے بعد وہاں پر ایک ایسا سسٹم بنایا
24:58
Speaker A
کہ اج تک 1400 سال بعد بھی ان سارے علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت ہے
25:05
Speaker A
سوائے ایک چھوٹے سے علاقے
25:09
Speaker A
ہاؤس اف بکس
25:11
Speaker A
لنک ان دا ڈسکرپشن
25:12
Speaker A
سبسکرائب

Transcribe Another YouTube Video

Paste any YouTube link and get the full transcript with timestamps for free.

Transcribe a YouTube Video