SURAH YUSUF KI TAFSEER | RAMADAN DAY 9 | MUFTI SALMAN AZHARI

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
الحمدللہ وکفا وسلام علی حبیبہ المصطفی اما بعد بحمدہ تعالی و کرم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اج قران عظیم کے 12 پارے تلاوت مکمل ہو چکے ہیں۔
00:13
Speaker A
اللہ کریم بقیہ سپاروں کی تلاوت ہمیں صحیح تجوید کے ساتھ کرنے اور اپ سب کو خشوع و خضوع کے ساتھ سماعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
00:23
Speaker A
اج ہم نے قران عظیم کے احسن القصص کو تلاوت کیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں فرماتا ہے۔
00:35
Speaker A
نحن نقص عليك احسن القصص اے محبوب ہم اپ کو سب سے بہترین قصہ سنائیں گے۔
00:44
Speaker A
سب سے بہترین قصہ بتائیں گے۔ تو سب سے بہترین قصہ کیا ہے؟ وہ سورہ یوسف ہے۔ سورہ یوسف میں جو سیدنا یوسف علی نبینا علیہ الصلوۃ والتسلیم
00:57
Speaker A
اور اپ کے بھائیوں کا واقعہ اپ کے والد کا اور اور زلیخا کا جو واقعہ پیش ایا ہے۔
01:10
Speaker A
یہ ساری چیزیں تفصیل سے اس میں ذکر ہوئی ہیں۔
01:20
Speaker A
اور قران جس کو احسن القصص کہہ رہا ہو، احسن القصص کا مطلب وہ سب سے بہترین قصہ، تو اس سے بہتر قصہ کیا ہو سکتا ہے؟
01:30
Speaker A
بچوں کو بھی وہی قصے سنائیں جو قران میں ہیں اور حدیث میں ہیں۔
01:40
Speaker A
اور اسی لیے اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے عبرت کے لیے۔
01:45
Speaker A
اس سے بہت ساری چیزیں تمہیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔
01:50
Speaker A
سورہ یوسف کی شروعات ہی رب تبارک و تعالی یوں فرماتا ہے۔
01:59
Speaker A
کہ ہم نے قران پاک کو عربی میں نازل کیا ہے۔
02:06
Speaker A
تاکہ تم سمجھ سکو اور اس کے بعد پھر عربی میں ہی یہ واقعہ بیان کیا۔
02:10
Speaker A
ہوا یہ کہ بنی اسرائیل کہاں سے شروع ہوتے ہیں؟
02:15
Speaker A
حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔
02:20
Speaker A
یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے اور اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔
02:28
Speaker A
تو یعقوب علیہ السلام کا ایک نام اسرائیل بھی ہے۔
02:32
Speaker A
یعقوب علیہ السلام کا ایک نام اسرائیل بھی ہے
02:36
Speaker A
اور عربی میں بنو کہتے ہیں یا بنی بیٹوں کو۔
02:40
Speaker A
تو بنی اسرائیل کا مطلب ہوا اسرائیل کے بیٹے ہیں۔
02:44
Speaker A
یعقوب علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے۔
02:47
Speaker A
اس میں گیارہویں نمبر پر حضرت یوسف علیہ السلام تھے۔
02:51
Speaker A
10 بڑے بیٹے اور اس میں گیارہویں نمبر پر حضرت یوسف علیہ السلام تھے۔
02:54
Speaker A
شروع میں یہ گیارہ ہی تھے۔
02:56
Speaker A
اور سب سے چھوٹے چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام تھے۔
03:02
Speaker A
اور پیدائشی حسن و جمال اللہ تعالی نے کمال کا عطا کیا۔
03:08
Speaker A
کہ اپ کو جو لوگ دیکھتے تھے وہ پلک جھپکنا بھول جائیں۔
03:13
Speaker A
ہر طرح کی خوبصورتی سمیٹ کر جس میں رکھ دی گئی ہو۔
03:19
Speaker A
وہ سیدنا یوسف علیہ السلام کا جمال تھا۔
03:22
Speaker A
اور اپ کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام چونکہ اللہ کے نبی بھی تھے۔
03:30
Speaker A
اور ان کے باپ بھی نبی ان کے دادا بھی نبی۔
03:33
Speaker A
نبیوں کا گھرانہ ہے۔
03:35
Speaker A
تو یوسف علیہ السلام کو وہ اپنے اپنے قریب زیادہ رکھتے تھے۔
03:42
Speaker A
حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ محبت اتنی غالب تھی کہ دوسرے بھائیوں کے دلوں میں حسد پیدا ہو گیا۔
03:50
Speaker A
شیطان نے حسد ڈالا۔
03:52
Speaker A
قران پاک میں اللہ تعالی نے اس کا ذکر یوں فرمایا ہے۔
03:55
Speaker A
تو وہ صرف اور صرف اس بات سے حسد کرتے تھے کہ ہمارے باپ سب سے چھوٹے والے یوسف کو زیادہ چاہتے ہیں
04:03
Speaker A
ہم لوگوں کو اتنا خیال نہیں کرتے۔
04:05
Speaker A
اور یعقوب علیہ السلام اس وقت بنی اسرائیل کے یعنی تمام یہ جو بیٹے ہیں۔
04:12
Speaker A
ان کے باپ بھی اور اس زمانے کے بڑے رسول اور نبی یعقوب علیہ السلام
04:17
Speaker A
اور جتنی قوم تھی اس وقت وہ سب حضرت یعقوب علیہ السلام کی پیروکار تھی
04:22
Speaker A
اپ کا بڑا مقام تھا۔
04:24
Speaker A
تو ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا۔
04:30
Speaker A
خوابوں کی تعبیر کے سلسلے میں بھی میں اپ سے کچھ عرض کروں گا۔
04:34
Speaker A
اور اس خواب کے ذکر سے یہ سورہ شروع ہوتا ہے، شروعات میں ہی اللہ تعالی نے فرمایا۔
04:43
Speaker A
انی رایت احد عشر کوکبا والشمس والقمر رایتهم لی ساجدین۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا
04:53
Speaker A
اذ قال یوسف لابیہ یا ابتی یاد کرو جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ میرے ربا
05:00
Speaker A
میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے
05:04
Speaker A
انی احد عشر کوکبا چاند اور سورج والشمس والقمر مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔
05:10
Speaker A
گیارہ تارے ایک چاند اور ایک سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔
05:16
Speaker A
تو یہ خواب حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا اور اپنے والد سے کہا۔
05:21
Speaker A
تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان سے کہا یا بنی لا تقصص رؤیاک علی اخوتک۔
05:29
Speaker A
اے میرے بیٹے یہ خواب جو ہے نا اپنے بھائیوں کو بتانا مت۔
05:34
Speaker A
وہ کچھ نہ کچھ تیرے ساتھ دشمنی کر جائیں گے کوئی حیلہ کر جائیں گے کچھ نہ کچھ نقصان پہنچائیں گے۔
05:40
Speaker A
اور پھر ان الشیطان للانسان عدو مبین۔
05:46
Speaker A
بے شک انسان یہ بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے
05:51
Speaker A
کچھ نہ کچھ بھائیوں میں وہ کرے گا۔
05:54
Speaker A
تو خواب بتانے سے تو منع کیا بھائیوں کو مت بتانا۔
06:00
Speaker A
حضرت یوسف علیہ السلام نے جو خواب دیکھا اس کی تعبیر حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی کچھ نہیں کہی
06:09
Speaker A
لیکن وہ سمجھ گئے کہ یہ اثار ہیں یوسف کے کمال کے ان کی بلندی کے
06:14
Speaker A
بتاؤ مت اپنے بھائیوں سے۔
06:16
Speaker A
یہ بات چلتی رہی۔
06:18
Speaker A
اس کے بعد بھائیوں نے ایک پلان کر دیا۔
06:24
Speaker A
کہ کہیں نہ کہیں یوسف کو راستے سے ہٹانا ہوگا۔
06:30
Speaker A
جب ابھی جوانی کو پہنچ رہے تھے۔
06:34
Speaker A
حضرت یعقوب علیہ السلام کبھی ان کو اپنے سے جدا نہیں کرتے تھے دور بھیجتے نہیں تھے۔
06:40
Speaker A
بھائیوں نے سوچا کہ کس طرح سے یعقوب سے یوسف کو دور کیا جائے
06:46
Speaker A
ہمارے باپ سے یوسف کو دور کیا جائے۔
06:49
Speaker A
شیطان ان کے بیچ میں ایا اور میٹنگ کیا۔
06:52
Speaker A
شیطان کسی بھی شکل میں ا سکتا ہے۔
06:55
Speaker A
من الجنۃ والناس جنات میں سے بھی ہے انسانوں میں سے بھی ہے
07:00
Speaker A
لوگوں کے تصور میں ایسا بیٹھا ہوگا کہ وہ بڑی سینگ والا ہوگا
07:06
Speaker A
کالے چہرے والا ہوگا ڈراؤنی شکل کا ہوگا۔
07:09
Speaker A
ضروری نہیں بہت خوبصورت بھی ا سکتا ہے۔
07:12
Speaker A
ہاں وہ کسی انسان اور تمہارے دوست کی شکل میں ہوگا۔
07:18
Speaker A
تمہارے بھائیوں کی شکل میں ائے گا ضروری نہیں ہے وہ سینگ والا ہی ائے گا۔
07:23
Speaker A
تو شیطان ان کے بیچ میں ایا اور ا کر کے انہیں مشورہ دیا کہ ایک کام کرو
07:30
Speaker A
یوسف کو اپنے باپ سے لے کر کے کہیں جنگل میں گھومنے کے لیے لے جاؤ اور وہاں ذبح کر کے ختم کر دو۔
07:38
Speaker A
ختم کر دو یوسف جیسے ہی ختم ہو جائیں گے تو تمہارے باپ کے پاس کوئی اور نہیں رہے گا
07:43
Speaker A
وہ تم سے ہی محبت کریں گے۔
07:45
Speaker A
تو بھائیوں نے کہا کہ پھر یہ کون یوسف کو اپنے باپ سے لے جائے گا
07:50
Speaker A
کیسے اجازت لی جائے گی؟
07:52
Speaker A
تو بہرحال سب نے میٹنگ کر کے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس ا کر سب نے کہا
07:59
Speaker A
کہ ابا جان ہم گھومنے کے لیے جا رہے ہیں۔
08:03
Speaker A
سیر کرنے کے لیے جا رہے ہیں شکار کریں گے۔
08:06
Speaker A
تو ہم سب تو جا رہے ہیں ہمیں اپنی اجازت دی یوسف کو بھی ساتھ بھیج دیجیے۔
08:10
Speaker A
انہوں نے کہا نہیں
08:13
Speaker A
انی لیحزننی ان تذہبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب۔ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے
08:21
Speaker A
کہ تم اس کو لے جاؤ گے اور کہیں کوئی بھیڑیا اس کو کھا نہ جائے۔
08:25
Speaker A
میرا عزیز بچہ ہے۔
08:27
Speaker A
اور تم جو ہے غافل ہو جاؤ گے۔
08:30
Speaker A
وانتم عنہ غافلون۔ تم اس سے بے خبر کہیں ہو گئے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے
08:35
Speaker A
تو یوسف کو کوئی حملہ نہ کر دے جنگلی جانور۔
08:38
Speaker A
تو اپ نے منع کیا۔
08:40
Speaker A
تو سب رونے دھونے لگ گئے۔
08:42
Speaker A
قالوا لئن اکلہ الذئب ونحن عصبۃ انا اذا لخاسرون۔ ابا جان ہم تو اس کے سگے بھائی ہیں۔
08:50
Speaker A
اگر ہماری موجودگی میں کوئی بھیڑیا یا کوئی جانور کھا لے جائے تو پھر ہمارا کیا مطلب رہ گیا۔
08:58
Speaker A
ہم تو بڑے گھاٹے والے لوگ ہوں گے۔
09:00
Speaker A
اس طرح کی بڑی بڑی باتیں کی۔
09:02
Speaker A
تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھیج دیا۔
09:05
Speaker A
یوسف علیہ السلام کو ساتھ بھیج دیا۔
09:10
Speaker A
فلما ذہبوا بہ واجمعوا ان یجعلہ فی غیابت الجب۔
09:17
Speaker A
قران میں اللہ فرماتا ہے اب وہ سب لے کر کے حضرت یوسف علیہ السلام کو جنگل میں ائے
09:23
Speaker A
پلان تو پہلے سے تھا ان کا۔
09:25
Speaker A
لیکن ذبح کرنے کی بجائے ان میں سے ان لوگوں نے یہ سوچا کہ ذبح کر دینا کاٹ دینا یہ اچھا کام نہیں ہوگا۔
09:32
Speaker A
ایک کام کرتے ہیں کہ ویران کنواں ہے اس جنگل میں وہاں پر دھکیل دیں گے۔
09:37
Speaker A
یوسف کو اس کنویں میں ڈال دیں گے۔
09:40
Speaker A
ہم خون نہیں کریں گے۔
09:42
Speaker A
اور یوسف علیہ السلام کو وہ لوگ لے کر کے ائے اور ایک ویران کنویں میں انہوں نے دھکیل دیا۔
09:50
Speaker A
اور یوسف علیہ السلام کی جگہ پر ایک بھیڑیا پکڑ لیا اور اس کو ذبح کیا۔
09:56
Speaker A
اس کو ذبح کر کے اس کا خون یوسف علیہ السلام کے جبے کو ان کے کپڑوں کو لگایا اور ان کے کپڑے اتار لیے تھے۔
10:03
Speaker A
اور رکھ کر کے وہ واپس ائے یہی بتانے کے لیے کہ اپ کا اندیشہ سچ ثابت ہو گیا۔
10:09
Speaker A
اپ نے سوچا تھا کہ کوئی بھیڑیا حملہ کر دے گا اور سچ ویسے ہی ہو گیا۔
10:15
Speaker A
وجاؤ اباھم عشاء یبکون۔ رات کو وہ لوگ روتے ہوئے لوٹے۔
10:22
Speaker A
قالوا یا ابانا انا ذہبنا نستبق وترکنا یوسف عند متاعنا۔
10:30
Speaker A
اے ہمارے باپ ہم گئے کھیل رہے تھے سامان کے پاس یوسف کو بٹھائے تھے۔
10:36
Speaker A
فاکلہ الذئب بھیڑیا ایا اور کھا لیا۔
10:38
Speaker A
اور کیا کر سکتے ہیں ہم لوگ
10:41
Speaker A
رونا دھونا سب شروع کیا وہ کپڑا دکھائے دیکھو خون میں لت پت کپڑا ہے۔
10:45
Speaker A
کیا کیا جائے
10:47
Speaker A
حضرت یوسف علیہ السلام کے کنویں میں ویران ڈال کر کے انہوں نے یہ حیلہ کیا اور اپنے باپ کو ا کر بتا دیا۔
10:55
Speaker A
اور وہ اتنا زہریلا کنواں تھا اس میں سانپ اور بچھو موجود تھے۔
11:01
Speaker A
کسی انسان کا اس میں بچ کر کے نکلنا اسان نہیں تھا۔
11:05
Speaker A
انہیں پتہ تھا
11:07
Speaker A
کہ ہم نے کنویں میں ڈالا ہے یعنی تقریبا موت کے منہ میں ڈال دیا۔
11:12
Speaker A
اور یہ واپس ائے
11:15
Speaker A
یعقوب علیہ السلام نے ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے سے دور کر دیا۔
11:20
Speaker A
کہا کہ مجھے اندیشہ اسی بات کا تھا کہ تم کچھ حیلہ کرو گے اور میرے بیٹے کو مجھ سے دور کرو گے۔
11:26
Speaker A
اور تم لوگوں نے وہی کیا تو ناراضگی اتنی
11:30
Speaker A
کہ جس چیز کے لیے انہوں نے حضرت یوسف کو ہٹایا تھا وہ تو ملی نہیں پلس یعقوب علیہ السلام کی ناراضگی اپنے سر پر لے لی۔
11:37
Speaker A
اور ادھر کیا ہوا
11:40
Speaker A
حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں جیسے ہی ڈالا گیا۔
11:45
Speaker A
اللہ تعالی کا حکم ہوا جبرائیل امین کو کہ اے جبرائیل تیزی سے جاؤ دنیا میں
11:52
Speaker A
یوسف کے کنویں میں گرنے سے پہلے ان کو پکڑ لو۔
11:56
Speaker A
حضرت جبرائیل علیہ السلام تین بار دنیا میں بہت تیزی سے تشریف لائے۔
12:02
Speaker A
ایک جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود اگ میں ڈالا تھا تو اپ کو منجنیق سے پھینکا گیا تھا
12:10
Speaker A
اگ میں گرنے سے پہلے جبرائیل امین ائے تھے۔
12:13
Speaker A
وہ کتنا شارٹ ٹائم ہوتا ہے۔
12:15
Speaker A
دوسرا حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری رکھ چکے تھے۔
12:21
Speaker A
تب اللہ تعالی نے حکم دیا کہ فورا جاؤ۔
12:27
Speaker A
ان کی چھری چلنے سے پہلے اسماعیل کو ہٹاؤ اور جنتی دنبے کو سلا دو۔
12:33
Speaker A
دوسری بار اتنی تیزی سے ائے تھے۔
12:36
Speaker A
اور تیسری مرتبہ فرمایا گیا یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ادھر دھکا دیا
12:43
Speaker A
ان کے کنویں میں گرنے سے پہلے جبرائیل امین ا گئے تھے۔
12:47
Speaker A
ان کی تیزی ان کی سرعت
12:50
Speaker A
وہ پتہ نہیں کتنے ہزاروں اور لاکھوں میل کا سفر جو اسمانوں پر ہوں
12:58
Speaker A
وہ سدرہ کے مکین انے واحد میں پہنچ سکتے ہیں تو جس کے در کی وہ خدمت کرتے ہیں اس کی سرعت کیا ہے۔
13:04
Speaker A
ہاں جس کے در کی وہ خدمت پر ہیں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
13:10
Speaker A
بہرحال یوسف علیہ السلام کو کنویں میں انہوں نے اٹھا لیا اور ایک جگہ بٹھا دیا
13:17
Speaker A
اور موذی جانوروں کو حکم ہو گیا کہ یہ اللہ کے نبی ہیں تمہاری غذا نہیں ہے۔
13:24
Speaker A
یوسف علیہ السلام کو کوئی ٹچ بھی نہ کرے یہاں ان کی حفاظت پر لگ جاؤ۔
13:29
Speaker A
جو ایذا دینے والے زہریلے کیڑے مکوڑے یا جانور تھے اندر کنویں میں وہ سب حضرت یوسف علیہ السلام کی حفاظت پہ لگ گئے۔
13:36
Speaker A
اللہ جس کو جہاں چاہے محفوظ رکھے۔
13:39
Speaker A
اور جیسے جس کو چاہے حفاظت پر بھی مامور کرے۔
13:43
Speaker A
وہ سانپوں کو بھی اللہ تعالی حفاظت پہ لگا دیتا ہے اللہ والوں کے لیے۔
13:49
Speaker A
ہاں یہ معاملہ
13:51
Speaker A
یہ دستور ہے رب تبارک و تعالی کا۔
13:54
Speaker A
اسی لیے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے روضہ اقدس کی حفاظت کے لیے جو لوگ کھڑے ہوئے ہیں۔
14:01
Speaker A
کیا وہ لوگ عاشق رسول نہیں ہیں؟
14:05
Speaker A
ضروری نہیں ہے سانپوں سے بھی اللہ نبیوں کی حفاظت کرتا ہے۔
14:09
Speaker A
ضروری نہیں ہے۔
14:11
Speaker A
ہاں اب ہوا یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس کنویں میں رہے
14:17
Speaker A
اور اسی وقت اپ کو تاج نبوت عطا کیا ہے۔
14:21
Speaker A
چھوٹی عمر میں بچپن میں جن نبیوں کو نبوت دی گئی ہے وہ تین نبی ہیں۔
14:28
Speaker A
ایک حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوتے ہی اپ کو نبی بنا دیا گیا۔
14:33
Speaker A
اور ایک حضرت یحیی علیہ السلام ان کو بھی پیدائشی نبی بنایا گیا۔
14:38
Speaker A
اور تیسرے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں بہت چھوٹی عمر میں تھے کنویں میں تھے اس وقت اپ کو نبوت دی گئی۔
14:45
Speaker A
یہ نبوت عطا کرنے کی بات ہے۔
14:48
Speaker A
ویسے دیکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نبوت میرے اقا فرماتے ہیں
14:56
Speaker A
کنت نبیا و ادم بین الماء والطین۔ مجھے تو اس وقت نبی بنایا گیا
15:02
Speaker A
جب ادم کو ابھی مٹی اور پانی سے گوندھا جا رہا تھا۔
15:06
Speaker A
ادم علیہ السلام کو پیدا بھی نہیں کیا گیا تھا اس سے پہلے اللہ تعالی نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نبی بنائے گئے تھے۔
15:11
Speaker A
بہرحال یوسف علیہ السلام وہاں پر تاج نبوت سے سرفراز کیے گئے۔
15:14
Speaker A
اتفاق ایسا ہے کہ وہاں سے ایک قافلہ گزر رہا تھا جو مصر کی طرف جا رہا تھا۔
15:20
Speaker A
اور اس قافلے نے وہاں پڑاؤ کیا کنواں دیکھا پانی ہوگا۔
15:26
Speaker A
تو قافلہ وہاں پر رکا انہوں نے ڈول ڈالا اور جیسے ہی ڈول ڈالا تو یوسف علیہ السلام اس ڈول کو پکڑ کر کے اوپر تشریف لائے۔
15:33
Speaker A
تو انہوں نے دیکھا یا بشرا هذا غلام۔
15:38
Speaker A
یہ کیسا خوبصورت نوجوان ہے۔
15:42
Speaker A
دیکھتے ہی لوگوں کی انکھیں چندھیا جائیں۔
15:46
Speaker A
اور وہ جنہوں نے ڈول ڈالا تھا یوسف علیہ السلام کو لے کر کے وہ امیر قافلہ کے پاس لائے۔
15:54
Speaker A
کہا کہ دیکھو اتنا حسین اور اتنا خوبصورت نوجوان کنویں سے نکل کر کے ایا ہے۔
16:00
Speaker A
اور قافلے والوں نے دیکھا صحیح سلامت اچھے ہیں تو قافلے میں اپنے ساتھ لے لیا۔
16:05
Speaker A
لیکن وہ جس راستے سے گزرتے تھے تو لوگ دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے تھے۔
16:12
Speaker A
اپ کی چمک اتنی تھی اپ کی خوبصورتی ایسی تھی
16:17
Speaker A
کہ رات کی تاریکی میں بھی جائیں تو اجالا نظر ائے۔
16:21
Speaker A
اپ کے چہرے پاک پر
16:24
Speaker A
تو لوگ دیکھنے لگ جاتے تھے۔
16:27
Speaker A
امیر قافلہ نے سوچا کہ فری میں کیوں دکھائیں؟
16:31
Speaker A
مفت میں کیوں دکھائیں؟
16:33
Speaker A
تو بازار مصر پہنچ کر یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے ایک ایک اشرفی قیمت لگائی گئی۔
16:40
Speaker A
ایک ایک سونے کا سکہ دو اور دیکھو۔
16:43
Speaker A
یہ خبر پھیل گئی کہ دنیا کا ایک حسین ترین نوجوان لایا گیا ہے
16:47
Speaker A
جسے دیکھنے کے لیے سب لوگ جمع ہونے لگے۔
16:50
Speaker A
ایک ایک سکہ دیتے اور دیکھتے۔
16:53
Speaker A
شام تک یہ قیمت بڑھ کر کے 10 سکوں پر ا گئی۔
16:57
Speaker A
10 سونے کے سکے دو اور یوسف کو دیکھ کر جاؤ۔
17:00
Speaker A
پھر دوسرے دن 100 سکے دینے پڑے۔
17:03
Speaker A
ان کی تجارت تو چل ہی رہی تھی۔
17:05
Speaker A
دیکھنے والوں کی کمی ہی نہیں تھی۔
17:08
Speaker A
کون لوگ تھے جس طرح جو اس طرح سے خرچ کر کے دیکھتے تھے یہ اللہ کا نظام ہے۔
17:14
Speaker A
رب تبارک و تعالی کا نظام ہے۔
17:17
Speaker A
اسی اثنا میں امیر قافلہ نے یہ سوچا یہ دیکھنے والا سسٹم اب ختم کر کے بیچنے والا شروع کرتے ہیں۔
17:23
Speaker A
بولی لگائیں گے جو چاہے ان کو خرید لو۔
17:26
Speaker A
بہت حسین و جمیل خوبصورت نوجوان ہے۔
17:29
Speaker A
اس وقت جو عزیز مصر کہلاتے ہیں یعنی مصر کا جو بادشاہ ہوگا۔
17:34
Speaker A
اس کو عزیز مصر وہاں پر اس زمانے میں۔
17:38
Speaker A
تو عزیز مصر جو ہے اس کی بیوی تھی زلیخا۔
17:42
Speaker A
زلیخا نے بہت ساری روایات ہیں اس میں۔
17:47
Speaker A
حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کو خواب میں دیکھا تھا۔
17:53
Speaker A
اور وہ حقیقت میں جس وقت دیکھیں وہ دل دے بیٹھیں۔
17:57
Speaker A
اور ان کو یہ تھا کہ زلیخا کو کہ کسی نہ کسی صورت میں یوسف کو خریدا جائے۔
18:02
Speaker A
بڑے بڑے لوگ بولی لگاتے رہے۔
18:06
Speaker A
اور کئی لوگ اپنے سونے کے سکے چاندی کے سکے بھر بھر کر لائے بولی لگتی گئی لگتی گئی
18:14
Speaker A
اب چونکہ عزیز مصر بادشاہ مصر کی بات تھی۔
18:17
Speaker A
تو تقریبا سلطنت کا ایک بڑا حصہ دے کر کے حضرت یوسف علیہ السلام کو خرید لیا گیا۔
18:24
Speaker A
اور زلیخا لے کر کے ائی اپنے محل میں اپنے شوہر سے کہہ کر کے۔
18:28
Speaker A
تو اس کے بعد ہر گھڑی یوسف علیہ السلام کے ارد گرد ان کی خاطر داری کرنا۔
18:35
Speaker A
تو لوگوں میں ایک بات پھیل گئی۔
18:38
Speaker A
کہ زلیخا اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے ایک جوان لڑکے کے پیچھے دیوانی ہو گئی۔
18:44
Speaker A
انا لنراہا فی ضلال مبین۔
18:48
Speaker A
لوگوں نے کہا کہ ہم نے تو دیکھا یہ قد شقفہ حبا۔
18:54
Speaker A
یہ اس کی محبت میں گم ہو چکی ہے۔
18:58
Speaker A
اور عرفہ ہے۔
19:00
Speaker A
اور یہ گمراہی کی طرف تو نہ چلی جائے۔
19:03
Speaker A
تو زلیخا کو جب یہ طعنے سننے کو ملے کہ سب عورتیں کہہ رہی ہیں شہر میں
19:10
Speaker A
میں یوسف کے پیچھے دیوانی ہو گئی ہوں۔
19:13
Speaker A
تو انہوں نے دیکھا تھوڑی نہ تھا یوسف کو۔
19:16
Speaker A
فلما سمعت بمکرہن ارسلت الیہن و اعدت لہن متکا۔
19:23
Speaker A
تو زلیخا نے ایک دعوت کی۔
19:27
Speaker A
اور کہا شہر کی جتنی بڑی امیر خواتین ہیں سب کو دعوت میں بلایا۔
19:33
Speaker A
اور بلا کر ان کو سب کو کھانا کھلانے کے بعد اعزاز کے بعد ہاتھوں میں ایک ایک لیموں اور ایک ایک چاکو دیا
19:42
Speaker A
اور کہا میں جس وقت کہوں اس لیموں کو کاٹ دینا۔
19:45
Speaker A
و اتت کل واحدہ منہن سکینہ۔
19:49
Speaker A
سب کو ایک ایک چاکو دی۔
19:51
Speaker A
وقالت اخرج علیہن۔
19:53
Speaker A
فلما راینہ اکبرنہ و قطعنا ایدیھن و قلنا حاشا للہ ما هذا بشرا۔
20:00
Speaker A
جیسے ہی یوسف علیہ السلام کو زلیخا عورتوں کے اس حال میں لے ائی اور حکم دیا کہ ساری عورتیں اپنے اپنے ہاتھوں میں موجود لیموں کو کاٹ دیں۔
20:08
Speaker A
وہ عورتیں یوسف علیہ السلام کی جھلک کیا دیکھیں دروازے سے داخل ہوتے ہی ان کے ہاتھوں سے لیموں چھوٹ گیا۔
20:15
Speaker A
قران میں ہے کہ انہوں نے انگلیاں پوری کاٹ لیں۔
20:19
Speaker A
تیز چاکو دی گئی تھی۔
20:21
Speaker A
اور یہاں تو قران میں وقطعنا ایدیھن۔
20:26
Speaker A
ہاتھوں کو کاٹ لیا انہوں نے۔
20:28
Speaker A
لیکن اکثر حصہ یہاں پر کٹ گیا عورتوں کا۔
20:32
Speaker A
اور کیا کہا وہ قلنا حاشا للہ ما هذا بشرا ان هذا الا ملک کریم۔
20:38
Speaker A
یہ بھی کہا گیا۔
20:40
Speaker A
کہ یہ تو انسان ہی نہیں ہو سکتا یہ تو کوئی اترا ہوا فرشتہ نظر اتا ہے۔
20:45
Speaker A
یہ کوئی فرشتہ ہے۔
20:48
Speaker A
ہم نے ایسی صورت دنیا میں دیکھی ہی نہیں ہے۔
20:51
Speaker A
پھر اس کے بعد وہ تو معاملہ ہوا۔
20:55
Speaker A
یوسف علیہ السلام کے جانے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ ہم تو لیموں نہیں اپنا ہی کاٹ چکے ہیں۔
21:01
Speaker A
انگلیاں کٹ گئیں۔
21:03
Speaker A
میرے عزیزو یہ عام بات نہیں ہے۔
21:06
Speaker A
سننا اسان لگ رہا ہوگا۔
21:08
Speaker A
عورت ذات انگلی کاٹ لے۔
21:11
Speaker A
ہوگا نہیں کاکروچ سے ڈرنے والی۔
21:14
Speaker A
چھپکلی سے اچھل کود کرنے والی۔
21:17
Speaker A
اور اس کو تھوڑا سا ٹچ کیا ہو جائے وہ کتنے دن ہا ہو کرتی رہے۔
21:23
Speaker A
اور ایسی عورت ذات اگر انگلیاں کاٹ لے یا اس کی کٹ گئی ہوں اس کو درد نہیں ہوگا۔
21:29
Speaker A
انسان کی ایک کیفیت ہوتی ہے۔
21:31
Speaker A
انسان کی ایک کیفیت اس کو کہتے ہیں محویت۔
21:35
Speaker A
غرق ہو جانا۔
21:37
Speaker A
محویت کیا ہے؟
21:39
Speaker A
یہ انسان کے ذہن و دماغ پر کسی ایسی چیز کا غلبہ جس میں وہ ڈوب گیا ہو۔
21:46
Speaker A
تو جب وہ اپنے اپ میں نہیں ہوتا ہے تو اسے کسی درد کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
21:51
Speaker A
کسی درد کا احساس نہیں ہوتا۔
21:53
Speaker A
اور یہ محویت کسی بھی حال میں ا سکتی ہے۔
21:57
Speaker A
اب وہاں پر وہ جمال یوسف کو دیکھ کر کے وہ محو ہو گئی تھی۔
22:03
Speaker A
اسی طرح کی بات حضرت مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کی اپ کی پنڈلی میں ایک تیر چبھ گیا تھا
22:10
Speaker A
اور اس کو نکال نہیں پا رہے تھے۔
22:13
Speaker A
پنڈلی میں گوشت میں پھنسا ہوا۔
22:15
Speaker A
تیر کیسے ہوتے تھے جانتے ہیں؟
22:17
Speaker A
سامنے سے جو نوکیلے ہوتے تھے اور اس کے بعد پھر ان کے پیچھے اس طرح کے دانت لگے ہوتے۔
22:25
Speaker A
اگر گھس گیا تیر واپس کھینچا جائے تو گوشت کے ساتھ باہر ائے گا۔
22:30
Speaker A
تیروں کی شکل اس طرح بنائی جاتی تھی۔
22:32
Speaker A
تو ان کی پنڈلی میں گھسا ہوا ہے۔
22:35
Speaker A
تو وہ اتنی شدت کا درد تھا کہ اس کو کوئی نکال نہیں سک رہا تھا۔
22:41
Speaker A
تو پھر مشورہ یہ ہوا کہ حضرت مولا علی کرم اللہ وجہ الکریم جب نماز میں مصروف ہو جائیں تب نکالا جائے۔
22:46
Speaker A
تو اپ نماز پڑھنے لگے تو اس حالت میں جب وہ قرت میں مصروف ہوتے تھے
22:53
Speaker A
تو لوگوں نے پیچھے سے تیر کھینچ کر نکالا حقیقت میں اس کے ساتھ گوشت لگ کر باہر ایا۔
22:59
Speaker A
نہ اپ کی نماز ٹوٹی نہ قرت کم ہوئی کچھ نہیں۔
23:02
Speaker A
اور سلام پھیرنے کے بعد اپ پاؤں پر ہاتھ رکھ کر پوچھتے ہیں یہ تیر کب نکالا گیا۔
23:07
Speaker A
یہ محویت ہوتی ہے۔
23:10
Speaker A
جب اللہ کی یاد میں محبت میں غرق ہو جائے بندہ۔
23:15
Speaker A
محبت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں یہ کیفیت ا سکتی ہے۔
23:20
Speaker A
تو وہاں جو عورتوں کو یہ کیفیت ائی تھی اور قران میں ہے کہ ان کی انگلیاں جو کٹ گئیں۔
23:26
Speaker A
وہ جان بوجھ کر کے تو نہیں کاٹیں۔
23:29
Speaker A
بلکہ وہ کچھ اور دیکھ رہی تھی اور ہاتھ سے کٹ گئی۔
23:33
Speaker A
ایسا ہو سکتا ہے۔
23:35
Speaker A
اپ کچھ اور دیکھ رہے ہو اور کر کچھ رہے ہو۔
23:38
Speaker A
تو ایسی حالت میں بھی درد کا احساس کم ہوتا ہے۔
23:43
Speaker A
اور یہ محویت اج کے بچوں میں تو گیم میں ہے۔
23:47
Speaker A
ہاں ان کو دو چار پیچھے سے تھپڑ مار کے بھی چلے جاؤ ان کو پتہ بھی نہیں ہوگا کس نے مارا۔
23:53
Speaker A
پتہ بھی نہیں ہوگا۔
23:55
Speaker A
کیونکہ محویت ہے ان کی۔
23:57
Speaker A
وہ غرق ہیں کسی اور چیز میں۔
23:59
Speaker A
اور اس حالت میں وہ جب وہ ڈوبے ہوئے ہوں گیم کھیلنے میں۔
24:06
Speaker A
وہ ان کے سامنے کوئی بھی چیز لے جا کر کے رکھ دو سب کھا لیں گے۔
24:10
Speaker A
وہ کوئی بھی چیز رکھو۔
24:12
Speaker A
وہ تو ایسا نہیں ہے کہ چاکلیٹ یا چپس رکھو۔ وہاں گوبر بھی رکھو تو ہاتھ جائے گا اور کھا لیں گے۔
24:18
Speaker A
محویت ہے۔
24:19
Speaker A
اسے احساس بھی نہیں ہوگا۔
24:21
Speaker A
تو انسان کی ایک کیفیت ایسی اتی ہے جو محو ہو جاتا ہے ادمی۔
24:26
Speaker A
اللہ تعالی ان بری محویت سے ہماری حفاظت فرمائے اور حب مصطفی میں محو عطا فرمائے۔
24:32
Speaker A
اعلی حضرت نے کیا دعا کیا ہے؟
24:35
Speaker A
مدینے جانے کے بعد اعلی حضرت فرماتے ہیں ایسا گماں دے ان کی ولا میں خدا ہمیں
24:43
Speaker A
ایسا گماں دے ان کی ولا میں خدا ہمیں
24:46
Speaker A
ولا کہتے ہیں محبت میں اے اللہ ان کی محبت میں ایسا ہم کو گم کر دے
24:50
Speaker A
ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو۔
24:54
Speaker A
ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو۔
24:58
Speaker A
بہرحال غالب نے جو کہا تھا اعلی حضرت نے اس کے جواب میں کہا ہے۔
25:04
Speaker A
کوئی امید بر نہیں اتی کوئی صورت نظر نہیں اتی
25:09
Speaker A
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو خود ہماری خبر نہیں اتی۔
25:14
Speaker A
لیکن یہ دنیاوی محبت میں غالب نے کہا تھا۔
25:18
Speaker A
اور اعلی حضرت نے کہا ایسا گماں دے ان کی ولا میں خدا ہمیں ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو۔
25:25
Speaker A
بہرحال حب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں اللہ محویت عطا فرمائے یہ یوسف و زلیخا کا واقعہ۔
25:35
Speaker A
ہاں اسی بات میں یہ بھی کہا گیا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منسوب
25:41
Speaker A
کہ اپ سے سوال ہوا تھا کہ ایک بدبخت اور ایک مومن کی روح نکالنے کا انداز الگ الگ ہوتا ہے۔
25:47
Speaker A
تو اپ نے اس سے یہی کہا تھا یہ واقعہ پڑھو سمجھ میں ائے گا۔
25:50
Speaker A
تو اس نے پڑھا اسے سمجھ میں نہیں ایا تو اپ نے پوچھا عورتوں کی انگلیاں کٹ گئی ان کو پتہ چلا۔
25:55
Speaker A
اس شخص نے کہا نہیں
25:57
Speaker A
کہا کیوں؟
25:58
Speaker A
کیونکہ جمال یوسف دیکھ رہی تھی۔
26:01
Speaker A
جمال یوسف دیکھ رہی تھی انگلیاں کٹ گئی ان کو پتہ نہیں چلا۔
26:05
Speaker A
امام اعظم فرماتے ہیں یہی مومن صالح کے ساتھ ہوگا روح نکلنے کے وقت وہ جمال مصطفی دیکھ رہا ہوگا۔
26:13
Speaker A
تو جمال یوسف دیکھتے ہوئے کٹنے والی انگلیوں کا درد نہیں ہوتا تو جمال محمد دیکھنے کے وقت روح نکلنے کا بھی درد نہیں ہوتا۔
26:21
Speaker A
صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
26:23
Speaker A
اللہ تبارک و تعالی ہماری موت کے وقت سرہانے کے وقت وہ جمال جہاں ارا نصیب فرمائے۔
26:31
Speaker A
بس یہی زندگی کا مقصد بھی رکھو میرے عزیزو کہ اخری وقت جب انکھیں بند ہونے کو ائیں
26:38
Speaker A
دنیا بہت دیکھی بس وہ چہرہ جمال جہاں ارا ہمارے سرہانے کے پاس ہو
26:43
Speaker A
تاکہ دنیا سے جانے کا درد ہلکا ہو جائے۔
26:46
Speaker A
تو زلیخا کے ساتھ جو یہ معاملہ ہوا۔
26:52
Speaker A
یہ چیز جب پتہ چلی شہر کی عورتوں کے ساتھ انہوں نے یہ معاملہ کیا۔
26:58
Speaker A
پھر ہوا یہ کہ یوسف علیہ السلام کے ساتھ انہوں نے ایک معاملہ کر دیا۔
27:03
Speaker A
کیا کیا
27:05
Speaker A
وہ کمرے میں بند تھے سارے دروازے زلیخا نے بند کر دیے
27:10
Speaker A
اور یوسف کو اپنی طرف بلایا
27:13
Speaker A
کہ تم ا جاؤ اور ہم تنہا ہیں۔
27:16
Speaker A
قران میں ہے ولقد ہمت بہ وہم بہ لولا ان را برہان ربی۔
27:21
Speaker A
یعنی زلیخا نے ارادہ کیا اور یوسف بھی ارادہ کر لیتے اگر اللہ کی برہان ان کے ساتھ نہ ہوتی۔
27:27
Speaker A
اگر اللہ کی مدد ان کے ساتھ نہ ہوتی اللہ کا فضل نہ ہوتا
27:31
Speaker A
نبی ہیں رب تعالی فرماتا ہے
27:33
Speaker A
لولا ان را برہان ربی۔
27:36
Speaker A
اور اس کے بعد زلیخا نے جو ارادہ کیا اس سے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے دامن کو بچا لیا
27:42
Speaker A
اور کہا نبیوں کے خاندان سے ہیں۔
27:44
Speaker A
باپ نبی دادا نبی پردادا نبی یوسف علیہ السلام کے۔
27:50
Speaker A
اپ کا مزاج یہ بتایا نبیوں کے دامن میں پیوند تو ہو سکتا ہے گناہ کا دھبہ نہیں ہو سکتا۔
27:56
Speaker A
نبی گناہ کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
27:58
Speaker A
یوسف علیہ السلام اپنا دامن بچا کر اس کمرے سے باہر بھاگنے لگے۔
28:03
Speaker A
تو زلیخا نے پیچھے سے دامن پکڑ کر کھینچا۔
28:07
Speaker A
دامن پکڑ کر کھینچا تو دامن ان کا پھٹ بھی گیا۔
28:10
Speaker A
پھر بھی یوسف علیہ السلام کسی نہ کسی طرح دروازے سے نکل کر بھاگے۔
28:15
Speaker A
لیکن الزام پھر یوسف علیہ السلام پر ہی ایا۔
28:19
Speaker A
زلیخا نے الزام لگایا۔
28:21
Speaker A
کہ میں اکیلی تھی تو تنہا پا کر کے یوسف نے میرے ساتھ برائی کا ارادہ کیا۔
28:28
Speaker A
یوسف علیہ السلام اس وقت کیا جواب دیتے؟
28:30
Speaker A
اپ نے اس وقت کہا قال ہی راودتنی عن نفسی وشہد شاہد من اہلہا۔
28:35
Speaker A
اب پھر یہاں سے ایک قانون بتایا گیا۔
28:38
Speaker A
ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت و هو من الکاذبین۔ وان کان قمیصہ قد من دبر فکذبت و هو من الصادقین۔
28:47
Speaker A
دیکھو یوسف کا جبہ سامنے سے اگر پھٹا ہے۔
28:51
Speaker A
تو پھر یہ زلیخا سچ بول رہی ہے یوسف نے کچھ کرنے کی کوشش کی۔
28:56
Speaker A
یوسف غلط ہیں اس میں۔
28:58
Speaker A
اور دیکھو اگر جبہ ان کا پیچھے سے پھٹا ہے تو پھر زلیخا جھوٹ بول رہی ہے اور یوسف سچے ہیں۔
29:04
Speaker A
تو جب ان کا جبہ دیکھا گیا تو پیچھے سے ہی پھٹا ہوا تھا۔
29:08
Speaker A
کیونکہ وہ بھاگتے ہوئے ان کا جبہ پھٹا ہے۔
29:12
Speaker A
یہ نہیں ہے کہ حملہ کرتے ہوئے سامنے سے کپڑا پھٹا ہو۔
29:15
Speaker A
زلیخا نے دفاع میں کپڑا نہیں پھاڑا پکڑنے کے لیے پھاڑا ہے۔
29:20
Speaker A
یہ معاملہ ہوا اس کے باوجود بھی
29:23
Speaker A
عزیز مصر نے یوسف علیہ السلام کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا۔
29:28
Speaker A
یہ بغیر کسی قصور کے بغیر کسی جرم کے حضرت یوسف علیہ السلام جب جیل گئے۔
29:34
Speaker A
میرے عزیزو یہاں پر ایک بہت بڑی سمجھ کی بات ہے۔
29:38
Speaker A
جب کسی کو اس طرح کی کیفیت سے گزارا جاتا ہے نا اس کو برداشت کرنا اسان نہیں ہوتا۔
29:44
Speaker A
کرائم کرنے والے جیل میں اتے ہیں تو کمپرومائز کر کے اتے ہیں پہلے سے۔
29:48
Speaker A
دماغ بنا کے اتے ہیں۔
29:50
Speaker A
لیکن جو کیا ہی نہ ہو اس کا وہاں جینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
29:55
Speaker A
بار بار اس کے دماغ میں کچوکے لگتے رہتے ہیں۔
29:59
Speaker A
میں نے ایسا کیا کیا؟
30:01
Speaker A
بہرحال کتوں کے خلاف تو سوچ اتی ہی رہے۔
30:03
Speaker A
لیکن اللہ رب العزت کے جو حکمت کے فیصلے ہیں اس پر صابر رہنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
30:12
Speaker A
یوسف علیہ السلام جیل ڈالے گئے اور اس زمانے کی جیل اج کی جیل کی طرح نہیں ہے۔
30:19
Speaker A
جیل کے اندر کیا کیا معاملات ہوئے۔
30:21
Speaker A
ایک دن گزرا ہی ہوتے دو دن گزرے ہوتے یوسف علیہ السلام کے مہینے دو مہینے جیل میں کٹے ہوتے تو سمجھ میں اتا۔
30:26
Speaker A
سات سال جیل میں گزر گئے تھے۔
30:29
Speaker A
بغیر کسی قصور کے بغیر کسی جرم کے جوانی میں جس کو جیل ڈالا جائے۔
30:34
Speaker A
اور اس کے بعد ان کو وہاں پر اس انداز سے رکھا گیا کہ جیل کے حالات بڑے سخت تھے۔
30:40
Speaker A
وہاں پر ان کا ایک معجزہ ظاہر ہوا۔
30:43
Speaker A
وہ معجزہ کیا تھا؟
30:45
Speaker A
دو قیدیوں نے بھی خواب دیکھا تھا۔
30:49
Speaker A
اور ان قیدیوں نے اپنے خواب سے پریشانی کا اظہار کیا۔ یوسف علیہ السلام کو جو معجزہ تھا
30:56
Speaker A
ایک معجزہ تھا خوابوں کی صحیح صحیح تعبیر بتاتے تھے۔
31:00
Speaker A
صحیح صحیح تعبیر بتاتے تھے۔
31:03
Speaker A
حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ معجزہ دیا گیا تھا۔
31:08
Speaker A
وہ دونوں قیدیوں نے خواب کیا دیکھا تھا؟ ایک نے دیکھا تھا کہ وہ انگور سے رس نچوڑ رہا ہے۔
31:16
Speaker A
اور ایک نے دیکھا کہ وہ اپنے ٹوکرے پر روٹیاں لے جا رہا ہے اور کوے اس کو کھا رہے ہیں۔
31:23
Speaker A
تاكل الطير منه۔
31:25
Speaker A
اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔
31:27
Speaker A
تو یہ دونوں بھی ڈرے ہوئے تھے۔
31:30
Speaker A
یوسف علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میں تمہارے خوابوں کی صحیح صحیح تعبیر بتا دوں گا۔
31:34
Speaker A
لیکن ایک شرط ہے۔
31:36
Speaker A
سات سال میں تو کیا کیا بدل چکا ہوگا نا۔
31:40
Speaker A
حالات بدل گئے
31:42
Speaker A
عزیز مصر ختم ہو گیا جس نے جیل میں ڈالا تھا۔
31:46
Speaker A
دوسرا بھی ا گیا۔
31:48
Speaker A
زلیخا کا جو شوہر وہ ختم ہو گیا۔
31:50
Speaker A
یوسف علیہ السلام نے کہا تم دونوں کے خوابوں کی میں تعبیر بتاؤں گا۔
31:55
Speaker A
ایک شخص سے کہا تجھ سے میں وعدہ لیتا ہوں۔
32:00
Speaker A
چھوٹ کے جانے کے بعد جو ابھی فی الحال بادشاہ ہے اس کے سامنے میری بات رکھ دینا
32:06
Speaker A
کہ میں بے قصور پچھلے سات سالوں سے اندر رکھا گیا ہوں۔
32:10
Speaker A
اور میری بات پہنچا دینا اور مجھے یہاں سے جانے کی راستے نکل جائیں۔
32:15
Speaker A
اب بہت نقطے کی بات میں کرنے جا رہا ہوں۔
32:18
Speaker A
تو دونوں قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر کیا بتائی ہے یوسف علیہ السلام نے؟
32:24
Speaker A
کہا انگور جو نچوڑ رہا تھا اپنے خواب میں وہ عنقریب اس کو موت کی سزا سنائی جائے گی۔
32:30
Speaker A
وہ کہتا ہے اعصر خمرا۔
32:32
Speaker A
وقال الاخر۔
32:34
Speaker A
اور دوسرے نے کہا انی اری احمل فوق راسی خبزا تاكل الطير من۔ میں اپنے سر پر ٹوکرے پر روٹیاں رکھا تھا اور اس کو پرندے کھا رہے تھے۔ یوسف علیہ السلام نے کہا کہ عنقریب نہیں جس کے پرندے کھا رہے تھے اس کو یوسف علیہ السلام نے کہا موت کی سزا ہوگی۔ اور جو انگور نچوڑ رہا تھا جو اس سے رس نکال رہا تھا اس سے کہا عنقریب تجھے ازادی کا پروانہ ملے گا۔ اور اسی سے کہا تو ازاد ہوگا تو میری بات موجودہ بادشاہ سے کہے گا۔
33:20
Speaker A
ہوا ایسے ہی دن تھوڑے بھی نہیں گزرے تھے
33:23
Speaker A
کہ ایک شخص کو اس میں پھانسی کی سزا ہو گئی اور ایک کو ازادی سنا دی گئی۔
33:28
Speaker A
ازاد ہونے والا جیل سے جب نکلتا ہے نا اس کی کیفیت ہے پیچھے مڑ کے بھی نہیں دیکھتا۔
33:32
Speaker A
ہم نے بھی بہت دیکھے ہیں۔
33:34
Speaker A
سلام کہہ دینا فلاں کو سلام کہہ دینا چٹھیاں بھی لکھ کے بھیجو وہ دروازے کے باہر پھینک کے چلا جاتا ہے۔
33:40
Speaker A
دوبارہ یہ بری کوئی صورت ائے ہی نہ۔
33:43
Speaker A
نہ میں تمہارا سلام پہنچاؤں گا نہ باہر والے کا سلام لاؤں گا۔
33:48
Speaker A
چھوٹ کے جانے والا تو یہ حالت میں جاتا ہے۔
33:50
Speaker A
کوئی دیکھتا بھی نہیں۔
33:52
Speaker A
جس کے چھوٹنے کا پروانہ اتا ہے نا اندر اور کتنے دن تو وہ بیٹھے بیٹھے ہاتھ بھی دبا رہے ہیں پیر بھی دبا رہے ہیں سلام بھی کر رہے ہیں سب کچھ ہے۔
33:59
Speaker A
اور باہر سے بھیڑ ایا اور کہا گیا کہ بھائی تمہاری تو چھٹی ہو گئی۔
34:05
Speaker A
وہ نہ سلام کرتا ہے نہ مصافہ کرتا ہے کچھ بھی نہیں۔
34:09
Speaker A
پیچھے مڑ کے دیکھتا بھی نہیں۔
34:12
Speaker A
حتی کہ اپنے کپڑے وہ الگ الگ ایک متھ چلتے رہتے ہیں جیل کے اندر۔
34:18
Speaker A
جو ہے کوئی بھی چیز اپنی چھوڑنا بھی نہیں چاہتے۔
34:22
Speaker A
کیونکہ قیدیوں نے ڈرا کے رکھا ہے کہ اگر کوئی کپڑے چھوٹے ہیں تو واپس اندر ائے گا۔
34:28
Speaker A
وہ کپڑے تجھے واپس لے ائیں گے۔
34:30
Speaker A
وہ سمیٹ کر لے کے چلے جائیں کسی کو کچھ دینا نہیں۔
34:34
Speaker A
بہرحال یوسف علیہ السلام نے جس قیدی سے کہا
34:37
Speaker A
وہ نکل تو گیا لیکن بھول گیا۔
34:40
Speaker A
بتایا نہیں
34:42
Speaker A
نہ بادشاہ کے پاس نہ کسی کے پاس اس نے کوئی بھی بات رکھی نہیں۔
34:47
Speaker A
اب اس اثنا میں بتایا جاتا ہے اور سات سال گزر گئے۔
34:51
Speaker A
اللہ اکبر
34:53
Speaker A
یوسف علیہ السلام نے کس جرم کی سزا کاٹی؟
34:57
Speaker A
کچھ بھی نہیں تھا
34:59
Speaker A
اور نبی تھے دامن پاک۔
35:02
Speaker A
دامن پاک عام لوگوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔
35:04
Speaker A
یہاں پر ایک بات اتی ہے۔
35:07
Speaker A
یوسف علیہ السلام ایک دن اللہ کریم کی بارگاہ میں رونے لگے گڑگڑانے لگے۔
35:13
Speaker A
کہ اے رب العالمین کیا میرے لیے دروازہ ہے باہر جانے کا؟
35:19
Speaker A
یا زندگی پوری تمام یہیں ہونی ہے۔
35:22
Speaker A
یہ جیل میں میں قیدیوں کو سنایا بھی کرتا تھا اور میں اپنے لیے بھی۔
35:28
Speaker A
یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالی نے کیا فرمایا جانتے ہیں اپ؟
35:32
Speaker A
کہ اے یوسف جیل میں تم اندر گئے اور باہر انا چاہتے تھے۔
35:39
Speaker A
تو بادشاہ سے کیوں کہا ایک بار مجھ سے کہا ہوتا۔
35:43
Speaker A
بادشاہ کے سامنے تم نے اپنی سفارش کیوں بھیجی؟
35:48
Speaker A
اللہ کو یہ بھی گوارا نہیں۔
35:50
Speaker A
اپنے محبوبوں کے متعلق عام لوگ تو کچھ بھی ادھر ادھر سفارش کریں
35:55
Speaker A
ساری چیزیں اپنی جگہ پر اسباب پر چل رہا ہے
35:58
Speaker A
لیکن محبوبوں کی بات الگ ہے۔
36:01
Speaker A
وہ انبیاء ہیں وہ نبی ہیں۔
36:04
Speaker A
رب تبارک و تعالی فرماتا ہے
36:07
Speaker A
پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو احساس ہوا
36:11
Speaker A
اور اس کے بعد کہا اب تو جانا ہی نہیں۔
36:14
Speaker A
اب مجھے باہر نہیں جانا ہے۔
36:16
Speaker A
کیونکہ میں دنیا سے یا بادشاہ سے امید جو لگایا
36:22
Speaker A
اللہ تبارک و تعالی کہیں مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔
36:26
Speaker A
تو اس کے بعد جب اپ کو احساس ہوا تب ہی اپ کے چھوٹنے کا وقت بھی ا گیا۔
36:31
Speaker A
اور جو چھوٹنے کا وقت ایا اس وقت اپ کو ا کر کے سنایا گیا کہ چلو یوسف اب بادشاہ وقت اپ کو بلا رہا ہے۔
36:38
Speaker A
کیونکہ بادشاہ بھی ایک خواب دیکھا تھا اور اس کو بھی تعبیر نہیں معلوم تھی اور یہ چھوٹا ہوا قیدی سات سال کے بعد بادشاہ کو کہتا ہے
36:45
Speaker A
مجھے تو یاد ا رہا ہے کہ جیل میں ایک ادمی ہے جو خوابوں کی سچی تعبیر بتاتا ہے۔
36:49
Speaker A
تو لے اؤ اس کو بادشاہ نے کہا ازاد کرو لے اؤ
36:52
Speaker A
اور اعزاز کے ساتھ لے اؤ۔
36:55
Speaker A
کون ہے یوسف علیہ السلام۔
36:57
Speaker A
اب اعزاز کے ساتھ لے جانا تھا۔
37:00
Speaker A
یہ اللہ کا نظام ہے۔
37:02
Speaker A
یوسف علیہ السلام کے پاس جب لوگ ائے کہ بادشاہ وقت اپ کو اعزاز کے ساتھ بلا رہا ہے۔
37:09
Speaker A
اپ نے کہا اب مجھے نہیں جانا ہے۔
37:11
Speaker A
اب زبردستی باہر بھیجا گیا۔
37:14
Speaker A
یہ بتانے کے لیے کہ توکل یہ ہے اللہ کے چاہے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔
37:20
Speaker A
توکل اور یقین اس کو کہتے ہیں
37:23
Speaker A
اگر رب چاہے تو پوری دنیا مل کر کے اندر نہیں کر سکتی
37:30
Speaker A
اور رب چاہے اور رب نہ چاہے
37:33
Speaker A
تو پوری دنیا مل کر کے اس کو نکال بھی نہیں سکتی۔
37:38
Speaker A
اور اگر اللہ نے روک رکھا ہے تو پھر تم سارے اسباب ٹرائی کر کے دیکھ لو۔
37:43
Speaker A
سارے دروازے کھٹکھٹا کے دیکھ لو۔
37:46
Speaker A
جب تک وہ وقت نہیں ائے گا کبھی وہ دروازہ کھلے گا نہیں۔
37:51
Speaker A
یہی توکل ہے اور یہی ایمان ہے۔
37:54
Speaker A
اللہ تعالی اس پر کہنے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
37:59
Speaker A
جب ریلٹی ہو پریکٹیکلی ہو نا تو ایک بڑا الگ مسئلہ ہوتا ہے
38:05
Speaker A
اپ زندگی میں یہ طے کر کے چلیں کہ اللہ تبارک و تعالی جس وقت چاہے گا
38:10
Speaker A
ہاں اسباب کے ساتھ ہمیں چلنا ضروری ہے۔
38:13
Speaker A
بیمار ہوا تو ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔
38:15
Speaker A
لیکن اگر اللہ نہ چاہے تو
38:18
Speaker A
70 ڈاکٹر مل کر کے بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔
38:22
Speaker A
اور کبھی رب تبارک و تعالی بڑی سی بڑی بیماریوں کو کسی حل کے ذریعے سے بھی اسے شفا دے دیتا ہے۔
38:28
Speaker A
تو امید اور یقین اللہ کی ذات سے لگائے رکھیں۔
38:32
Speaker A
اور اسی کو کہا گیا ہے ایمان ہے اور تقدیر کس کا نام ہے؟
38:36
Speaker A
تقدیر پر ایمان رکھنے والا ہی مومن ہے۔ جو کچھ بھی زندگی میں اچھا یا برا ہوگا وہ اللہ کی مرضی سے ہوگا۔
38:43
Speaker A
رب تبارک و تعالی ہمیں ان واقعات سے اور قران پاک کی ان ایات سے درس لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
38:51
Speaker A
واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →