KHABAR Muhammad Malick Kay Saath || 1st December 2025 -… — Transcript

محمد ملک کے ساتھ خبر میں قومی اسمبلی کی سیاسی صورتحال، گورنر راج اور پی ٹی آئی کی موجودہ سیاست پر تفصیلی گفتگو۔

Key Takeaways

  • ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور گورنر راج کے نفاذ کے امکانات زیر غور ہیں۔
  • پی ٹی آئی کی قیادت پر متعدد کیسز ہیں جو ان کی سیاسی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
  • پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کے درمیان کشمیر کے حوالے سے تعاون کی بات چیت جاری ہے۔
  • سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
  • قومی سلامتی کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی فیصلے اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔

Summary

  • سندھ اور نیشنل اسمبلی میں سیاسی کشیدگی اور تقریریں
  • گورنر راج کے امکانات اور اس کے ممکنہ نتائج پر تبادلہ خیال
  • پی ٹی آئی کی قیادت پر کیسز اور ان کے سیاسی اثرات
  • کپتان عمران خان کی سیاست اور ان کے مستقبل سے متعلق پس پردہ خبریں
  • کشمیر میں پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کے درمیان تعاون کی بات چیت
  • افتاب شیر پاؤ کی گورنر نامزدگی اور اس کے سیاسی اثرات
  • پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبے اور سیکشن 144 کا نفاذ
  • اسلام آباد اور اڈیالہ میں سیکیورٹی خدشات اور انتظامات
  • سیاسی رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں اور مذاکرات
  • موجودہ سیاسی صورتحال میں قومی سلامتی اور قانون و انتظام کی اہمیت

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:11
Speaker A
السلام علیکم اپ دیکھ رہے ہیں خبر میں ہوں محمد ملک سیاسی پارہ ایک بار پھر بڑا گرم ہو گیا ملک کے اندر
00:17
Speaker A
پہلے تو سندھ اسمبلی کا اس کی بھی بات کریں گے لیکن اج نیشنل اسمبلی کے اندر بھی بڑی ٹکا کے تقریریں ہوئیں
00:24
Speaker A
اسد قیصر صاحب نے کہا اشارہ کر کے بیرسٹر عقیل ملک کی طرف انہوں نے کہا وہ شروع میں نام بھی بھول گئے
00:30
Speaker A
انہوں نے کہا انہوں نے جنہوں نے کہا ہے اور پھر انہوں نے کہا کہ یہ اپ اگر یہ کریں گے تو اس کے جو کونسیکونسز ہیں اپ سے سنبھالے نہیں جائیں گے
00:36
Speaker A
اعظم نذیر تارڑ صاحب اٹھے لا منسٹر انہوں نے اگرچہ پھر افر دہرائی کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے بیٹھیں بات کریں
00:44
Speaker A
پہلے تو انہوں نے کافی سنائی پی ٹی ائی کو جس طرح انہوں نے پارلیمنٹ کو جیسے ڈیزالو کیا اسپیکر کی کرسی پہ بیٹھ کے جس طرح کی رولنگز ائیں وہ ساری کر کے پھر چنانچہ کر کے پھر انہوں نے کہا مگر ہم چاہتے ہیں ابھی بھی اس کو ریزالو کیا جائے
00:58
Speaker A
لیکن جب ان سے بات ہوئی اس کی گورنر راج کی بات ہوگی تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم لگا رہے ہیں یا نہیں لگا رہے
01:06
Speaker A
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مارشل لا نہیں ہے یہ ائین کے اندر ہی ایک پروویژن ہے
01:10
Speaker A
اور بات صحیح ہے ہے تو ائین کی پروویژن لیکن ابھی تک جتنے بھی ہم نے گورنر راج دیکھے ہیں ماضی میں
01:14
Speaker A
ان کے کوئی نتائج اچھے نہیں نکلے اور لانگ ٹرم کونسیکونسز ہمیشہ برے ہی نکلے
01:19
Speaker A
لیکن ایک چیز بڑی کلیئر ہے کہ اس سائیڈ پہ کلیئرٹی بڑی ہے
01:22
Speaker A
گورنمنٹ کی ان کے پارٹنرز کی کہ اب پی ٹی ائی کا جو رہا سہ مزامتی جو بھی کیپیٹل ہے
01:30
Speaker A
اس کو ایک باری ذرا کھنگال کے دیکھ تو لیا جائے اگر یہ کرتے ہیں تو ان کی پاور بیس کے پی میں ہے
01:36
Speaker A
اس پوائنٹ پہ بات لے جی لے کے چلے جائیں کہ اگر اس کے بعد دیکھتے ہیں کتنا احتجاج کرتے ہیں کتنا نہیں کرتے
01:41
Speaker A
گورنر رول بڑی انٹرسٹنگ چیز ہے یہ دو دو ماہ کی ٹرانشز میں لگ سکتا ہے
01:45
Speaker A
دو ماہ پھر اگر دونوں ہاؤسز پارلیمنٹ کے اس کو کرے تو دو دو ماہ کر کے لیکن میکسیمم چھ ماہ تک لے جا سکتے ہیں
01:50
Speaker A
پی ٹی ائی کی فکر کیا ہے ان کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ اگر گورنر راج لگے گا تو کیا ہوگا
01:56
Speaker A
کیونکہ ان کو تو ایک سیاسی شہید وہ بن جائیں گے
01:58
Speaker A
لیکن اس کا ایک سیریس پریکٹیکل ایشو یہ ہے پی ٹی ائی کی قیادت کے قریب ہر بندے پر
02:02
Speaker A
15 سے لے کے 50 تک کیسز ہیں اور سارے لوگ ابھی کے پی کے اندر ہی پروٹیکٹڈ ہیں
02:06
Speaker A
اگر گورنر راج لگتا ہے دو ماہ کے لیے چار ماہ کے لیے تو پھر وہی پولیس جو اج پروٹیکٹ کر رہی ہے
02:12
Speaker A
وہی ان کے لیے چھاپے مار رہی ہوگی وہی سب کچھ کر رہی ہوگی تو یہ ایک اس کا وہ پہلو ہے جس پہ کوئی بات نہیں کرتا
02:16
Speaker A
بٹ یہ ہے بڑا سیریس اب دیکھنا یہ ہے کہ ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا
02:18
Speaker A
کل جوائنٹ سیشن ہے پارلیمنٹ کا اس کا ایجنڈا ابھی تک افیشلی ریلیز نہیں ہوا
02:22
Speaker A
لیکن جو میں نے اس کا ایک ڈرافٹ دیکھا ہے اس میں سب کا خطرہ تھا کہ شاید کل ہی تو نہیں کوئی اناؤنس کرنے لگے کہ دونوں جوائنٹ ہاؤسز کے اندر
02:30
Speaker A
اس میں لیکن اس میں دو تین بلز ہیں کچھ پیکا کے لاز ہیں پھر کچھ انسٹیٹیوشنز کے رولز ہیں
02:34
Speaker A
اس قسم کی چیزیں ہیں تو وہ بہرحال گورنر راج سے نہیں ہے
02:36
Speaker A
ہم نے گورنر راج کی سب سے پہلے اپ کو بات بتائی تھی فروری کے اندر اج ہم دسمبر کے اندر چلے گئے ہیں
02:40
Speaker A
ذرا سن لیجیے فروری میں کیا بات ہوئی
02:44
Speaker A
ایسی ڈیولپمنٹس ہیں جو اپ سے میں اج شیئر کروں گا جو بیہائنڈ دا سینز ہو رہی تھیں
02:50
Speaker A
ان وے لیکن ان کا ڈائریکٹ تعلق عمران خان کی سیاست سے اور ان کے اپنے مستقبل سے جڑا ہوا ہے
02:54
Speaker A
کے پی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کے اندر ایک یہ ڈیسیژن بھی ہوا ہوا ہے کہ لارج سکیل
02:59
Speaker A
کائنیٹک اپریشن جو اب ہے سیکیورٹی کا وہ ناگزیر ہو چکا ہوا ہے
03:03
Speaker A
اس سلسلے میں پچھلے کچھ دنوں میں کافی ایکٹیوٹی ہوئی
03:06
Speaker A
یہ بھی مشورہ دیا گیا پریزیڈنٹ زرداری صاحب کو کہ وہاں پہ گورنر راج ان کے گورنر کے تھرو لگایا جائے
03:11
Speaker A
زرداری صاحب کی اطلاع یہ ہے کہ انہوں نے تو رضامندی اس پہ شاید ظاہر کر دی تھی
03:16
Speaker A
اور اگر بلاول بھٹو صاحب نے اس پہ انکار کر دیا
03:19
Speaker A
یہ گورنر کی کیوں بات چیت چل رہی ہے کہ دوسرا گورنر ائے گا
03:22
Speaker A
تو وہ اگے شاید پھر تو کوئی گورنر راج کا پلان بن رہا ہے
03:24
Speaker A
کیا بن رہا ہے
03:25
Speaker A
گورنر کو چینج کر رہے ہیں
03:26
Speaker B
اس بات پہ ضرور غور و فکر ہو رہی ہے کہ افتاب شیر پاؤ صاحب ہمارے اتحادی ہیں
03:30
Speaker B
اور ان کو گورنمنٹ میں کوئی ذمہ داری دے دینی چاہیے
03:33
Speaker A
میری اطلاع تو گورنر کی ہے
03:35
Speaker A
پاتا شیر پاؤ صاحب
03:36
Speaker A
اپ کے نزدیک کسی اہم عہدے پہ ا رہے ہیں فیڈرل گورنمنٹ میں
03:39
Speaker B
اتنی میرے میں نے بھی سنا ہے جتنا اپ کہہ رہے ہیں اس سے زیادہ نہیں
03:42
Speaker A
لیکن میں زیادہ بتا رہا ہوں زیادہ بتا نہیں رہے
03:44
Speaker B
اپ کا کام ہی ہے
03:45
Speaker A
خبر اپ سے میں بڑی انٹرسٹنگ شیئر کرنے لگا ہوں
03:47
Speaker A
یہ اندر کی خبر ہے
03:48
Speaker A
کے پی کے اندر کیا ہو رہا ہے
03:49
Speaker A
ایک ملاقات ہوئی ہے اور یہ میں اپ کو خبر دے رہا ہوں
03:52
Speaker A
ایک بڑی ہی کوائٹ ملاقات ہوئی ہے بڑی امپورٹنٹ
03:55
Speaker A
ہمارے انٹیریئر منسٹر محسن نقوی صاحب کی اور افتاب شیر پاؤ صاحب کی پشاور میں
03:59
Speaker A
اور اب خبر یہ ہے کہ یہ پیپلز پارٹی سے طے ہو گیا ہے کہ اگر ان کو کشمیر میں سپورٹ چاہیے
04:07
Speaker A
تو پھر گورنر کی جو ائندہ نامزدگی ہوگی وہ پی ایم ایل این نومینیٹ کرے گی
04:13
Speaker A
اور اسی سلسلے میں افتاب شیر پاؤ صاحب سے ملاقات کی گئی ہے اور اگر افتاب شیر پاؤ گورنر بنیں گے
04:19
Speaker A
تو وہ صرف گورنر بننے نہیں ائیں گے اس کا ڈائریکٹ اثر ہوگا پی ٹی ائی کی پولیٹکس پہ اور بہت سی دوسری چیزوں پہ
04:24
Speaker A
اگر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ جی سیاست چلے گی یا نیشنل سیکیورٹی چلے گی
04:29
Speaker A
تو کیا اس رخ پہ بات جا سکتی ہے گورنر راج کی طرف
04:32
Speaker B
اگر کوئی ایسی صورت سامنے اتی ہے کہ جہاں پہ نیشنل سیکیورٹی جو ہے وہ ایٹ رسک ہوتی ہے
04:40
Speaker B
تو قومی تحفظ جو ہے وہ تو پھر ہر چیز کے اوپر جو ہے وہ پریفرنس اختیار کرے گا
04:48
Speaker B
تو وہ پولیٹکس ہو یا کوئی اور ایشو ہو
04:54
Speaker A
سو یہ چیزیں اپنی جگہ پہ
04:56
Speaker A
پھر بیرسٹر عقیل نے کھل کے دو ڈفرنٹ پروگرامز میں کہا کہ جی فیصلہ ہو گیا یہ تو لگے گا
05:02
Speaker A
لا منسٹر نے بھی ڈینائی نہیں کیا کل پی ٹی ائی کا پلان ہے منگل کو
05:05
Speaker A
اسلام اباد ہائی کورٹ کے سامنے بھی انہوں نے جلسہ کرنا ہے پھر وہاں سے انہوں نے اڈیالہ جانا ہے
05:10
Speaker A
ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک نوٹیفیکیشن ایا ہے کہ وہاں سیکشن 144 بھی امپوز کر دی گئی ہے
05:15
Speaker A
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے سو اب دیکھتے ہیں کہ وہاں گرفتاریاں ہوں گی کہ کہاں گرفتاریاں ہوں گی
05:19
Speaker A
یہ یہ سب کچھ چل رہا ہے
05:21
Speaker A
بات پہنچ کہاں پہ رہی ہے
05:23
Speaker A
ذرا بات کرتے ہیں بیرسٹر عقیل ملک ہمارے ساتھ ہیں
05:25
Speaker A
شفیع منسٹر اف سٹیٹ فار لا اینڈ جسٹس شفیع جان سپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ایم کے پی کے ان انفارمیشن
05:30
Speaker A
اپ دونوں کا بہت شکریہ
05:32
Speaker C
شکریہ
05:32
Speaker A
پہلے تو یہ بتائیں میری اطلاع ایک اور بھی ہے خبر یہ ہے کہ اپ لوگوں نے
05:35
Speaker A
تھوڑا سا اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے ایک افر دی ہے
05:38
Speaker A
کہ نورین بی بی اور علیمہ بی بی ان کو تو الاؤ نہیں کیا جائے گا
05:44
Speaker A
لیکن میرے مطابق اطلاع کے مطابق کہا کہ جی عظمی چلی جائیں ان کی جو ہمشیرہ ہیں خان صاحب کی
05:50
Speaker A
اور علی ظفر چلے جائیں
05:52
Speaker A
یہ جا کے ملاقات کر لیں خان صاحب سے کل اور اگر اس کے بعد ا کے کوئی سیاسی بیان بازی نہیں ہوتی
05:57
Speaker A
اور تھوڑا سا اور انسٹیٹیوشنز کو ٹارگٹ نہیں کیا جاتا
06:00
Speaker A
تو پھر اگے کے لیے چیزیں ہو سکتی ہیں یہ افر دیا اپ لوگوں نے
06:03
Speaker C
بسم اللہ الرحمن الرحیم ملک صاحب بہت بہت شکریہ
06:05
Speaker C
دیکھیں میں یہ پچھلے ہفتے بات کر چکا ہوں کہ سیکیورٹی سچویشن پرمٹنگ وہاں پہ جا کے باہر لا اینڈ ارڈر کی سچویشن نہ بنائے کوئی ریکس کریٹ نہ کرے
06:16
Speaker C
تو بالکل اس کی پوسیبلٹی ایگزسٹ کرتی ہے کہ وہاں پہ ایک بہن جا کے ملے اور ایک ادھ وکیل ان کے جا کے مل لیں
06:24
Speaker C
جو ملاقات کے تمام تر معاملات ہیں لیکن اس کو اس کسی چیز کے ساتھ نتھی کر دینا
06:30
Speaker C
اور پھر اس کے بعد پھر جا کے جس قسم کی بیان بازی یا جس قسم کی گفتگو کی جاتی ہے
06:35
Speaker C
پھر اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے
06:37
Speaker C
شاید ایک دفعہ مفت مشورہ ہے کر کے دیکھ لیں
06:40
Speaker C
تو شاید مستفید ہو جائیں لیکن اگر سیکیورٹی سچویشن پرمٹ کیا تو
06:44
Speaker C
کیونکہ وہاں پہ خالی صرف ایک لا اینڈ ارڈر کی سچویشن ان کی طرف سے نہیں ہے
06:50
Speaker A
تو اپ کہہ رہے ہیں کہ رگڑا بھی ہم لگائیں گے اور یہ بھی ہم ڈیسائیڈ کریں گے کہ اپ کا احتجاج کا طریقہ کیا ہونا چاہیے
06:55
Speaker C
نہیں میں یہ کہہ رہا ہوں کہ وہاں پہ ایک ریل سیکیورٹی کنسرن ہے اسلام اباد کچہری کے باہر جو ہوا ایف سی کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر جو ہوا
07:05
Speaker C
اس حوالے سے ایک سیکیورٹی کنسرن ہے کیونکہ اپ کو پتہ ہے کہ دہشت گردی کے کیسز میں ایک لہر ائی ہے ان کے واقعات میں
07:12
Speaker A
تو اس لیے تیزی ائی ہے
07:13
Speaker A
اگر یہ دھرنے لگا کے بیٹھے رہیں تو وہاں سیکیورٹی کا خطرہ نہیں ہے
07:19
Speaker A
لیکن اگر یہ اٹھ دس لوگ ائے اور ملاقات کر کے چلے جائیں اس پہ سیکیورٹی تھریٹ ہے مجھے سمجھ نہیں ائی بات اپ کی
07:24
Speaker C
میں اپ کو ایکسپلین کر دیتا ہوں وہاں پہ اپ نے پچھلے ہفتے دیکھا ہوگا کہ اڈیالہ کے باہر جو سیکیورٹی کے اقدامات ہیں انتظامات ہیں
07:30
Speaker C
ان کو مزید میسر کر دیا گیا ہے مزید ان کو فردر اگمنٹ کیا گیا ہے
07:35
Speaker C
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کنسرن ایگزسٹ کرتا ہے
07:39
Speaker C
فار سیفٹی اینڈ سیکیورٹی اف ال دی ان میٹس جو وہاں پہ موجود ہیں
07:45
Speaker A
شفیع اپ بتائیے
07:46
Speaker A
اب یہ جو انہوں نے کنفرم کیا ہماری خبر کہ یہ ہم نے افر دی ہے
07:50
Speaker A
اس میں برائی کیا اپ لوگوں کو تو اپ کہہ رہے تھے نا ہمیں صحت کی فکر ہے دوسری ہے
07:55
Speaker A
اگر وہ ان کی ہمشیرہ چلی جاتی ہیں علی ظفر چلے جاتے ہیں کوئی ماڈریٹ سمجھا جاتا ہے کہ وہ شعلہ بیانی سے پرہیز کرتے ہیں
08:01
Speaker A
تو یہ اپ کا مسئلہ حل ہوتا نہیں ہے
08:03
Speaker C
سب سے پہلے بہت بہت شکریہ ملک صاحب
08:05
Speaker C
بیرسٹر صاحب نے جو بات کی ہے دیکھیں تو ہم تو یہ جب ہمارا لاسٹ ٹائم جب سی ایم صاحب ائے تھے
08:10
Speaker C
اور 18 گھنٹے وہ جو اڈیالہ کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ود النگ ود ایم پی ایز کیبنٹ ممبر پھر اچکزئی صاحب نے جوائن کیا
08:19
Speaker C
علامہ ناصر صاحب ائے تو تب بھی تو ہماری یہی پلی تھی
08:22
Speaker C
کہ جی اپ دو منٹ کے لیے اگر وہ لسٹڈ سات بندے ہیں ان میں سے کسی کو نہیں ملاتے سی ایم صاحب سے تو وہ تو اپ کے اعصاب پہ سوار ہے سہیل افریدی
08:29
Speaker C
اس کو تو اپ نہیں ملوائیں گے
08:30
Speaker C
ان کے علاوہ کوئی ایک بندہ جس کو اپ کہتے ہیں وہ مل لے کیونکہ سیریس کنسرن ان کی صحت کے ہیں
08:36
Speaker C
کل ہم پہلے 11 بجے اڈیالہ ہائی کورٹ جائیں گے اسلام اباد ہائی کورٹ تمام پارلیمنٹیرینز
08:41
Speaker A
تو 144 لگ گئی ہے
08:42
Speaker C
یہ 144 ہمیشہ یہ جب بھی پی ٹی ائی کی کوئی کوئی بھی ایکٹیوٹی ہو تو 144 لگ جاتی ہے
08:49
Speaker C
یا کوئی بھی احتجاج کی کال ہو یہ خود سب کچھ بند کر لیتے ہیں 144 لگا کے
08:53
Speaker C
ریسینٹلی ہمارا سات تاریخ کو کوئٹہ میں جلسہ ہونا تھا پورا کوئٹہ انہوں نے سیل کر دیا تھا
08:57
Speaker C
تحریک انصاف کا عمران خان کا اتنا خوف ہے کہ ایک کال اتی ہے تو سب کچھ بند ہو جاتا ہے
09:02
Speaker C
اور یہ خود بند کر دیتے ہیں ہمیں پورا پاکستان بند کرنے کی اب کوئی ضرورت بھی نہیں ہے
09:05
Speaker C
ہم صرف احتجاج کی کال دیں گے سب کچھ خود بند کر دیں گے
09:08
Speaker C
اب اس کے بعد ہم جائیں گے ان کے بہنوں کے ساتھ اڈیالہ
09:12
Speaker C
ہم یہ چاہتے ہیں کہ کل ان کے فیملی سے ملنے کا دن ہے اور ایک کل بھی میں نے یہ بات کی کہ جب 302 کا جو ملزم ہوتا ہے
09:19
Speaker C
وہ اس کی بھی ملاقات کی اجازت ہوتی ہے فیملی سے
09:22
Speaker C
چار نومبر سے ان کو ملاقات نہیں کرنے دی گئی
09:25
Speaker A
اگر اپ لوگ سارے نہ جائیں
09:27
Speaker A
اگر صرف وہ چلی جائیں عظمی بی بی چلی جائیں اور علی ظفر چلے جائیں تاکہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو اور ملاقات کر کے دیکھ کے ا جائیں
09:35
Speaker C
نہیں اندر تو اندر چلے جائیں ہم باہر بیٹھے رہیں گے
09:37
Speaker C
کہ ہمارے بیٹھنے بھی ان کو اعتراض ہے
09:40
Speaker A
ہے کوئی اعتراض
09:41
Speaker A
تو پھر اپ کا خیال ہے کہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے
09:43
Speaker C
نہیں ہمارے بیٹھنے سے بھی ان کو اعتراض ہے دیکھیں بیٹھنے کے حوالے سے وہاں پہ جب میں نے اپ سے بات کی کہ لا اینڈ ارڈر کی اور سیکیورٹی سچویشن وہاں پہ کیسی ہے
09:52
Speaker C
ایک ریکس کریٹ کر دیا جاتا ہے
09:55
Speaker A
اگر یہ جا کے ارام سے بیٹھے ہوں
09:57
Speaker C
ملک صاحب
09:58
Speaker C
ایک منٹ دے دیں
10:00
Speaker A
ہمشیرہ اور وہ چلے جائیں
10:02
Speaker C
نہیں میں میرا کہنے کا
10:03
Speaker A
کیا ان کی شکلیں پسند نہیں ہیں
10:05
Speaker A
اپ کہتے ہیں نظر ہی نہ ائے
10:06
Speaker C
نہیں یہ یہ تو اپ نے کہہ دیا
10:08
Speaker A
یہ میرا سوال ہے
10:09
Speaker C
یہ دیکھیں میں صرف اتنی بات اس تمام تر معاملے پہ کروں گا کہ شاید یہ جو مفت اور مفید مشورہ میں نے اج دیا ہے
10:15
Speaker C
ایک دفعہ کر کے دیکھ لیں
10:17
Speaker C
ہو سکتا ہے شاید ان کو اس سے استفادہ ہو جائے
10:19
Speaker A
اچھا یہ بتائیں
10:20
Speaker A
گورنر راج اپ نے تو ٹھک کے کہہ دیا ہے اج لا منسٹر نے بھی اس کو ڈینائی نہیں کیا
10:25
Speaker A
پھر تارڑ صاحب کا بھی کہیں بیان چل رہا تھا انفارمیشن منسٹر کا
10:29
Speaker C
میں نے کہا کہ
10:30
Speaker C
یہ لائکلی ہڈ اور ایک ریل پوسیبلٹی ایگزسٹ کرتی ہے
10:36
Speaker A
اس میں اس پہ
10:37
Speaker A
ٹائم لائن کیا سوچی اگر گورنر راج سوچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے نا کہ اپ لوگ کنونسڈ ہیں
10:42
Speaker A
کہ حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ ہر گزرتا دن تباہی ہے ملک کی صوبے کی
10:48
Speaker A
تو پھر تو لگژری ٹائم کی اپ کے پاس بھی نہیں ہے نا
10:51
Speaker A
کہ یا تو اپ پولیٹیکل گیم کر رہے ہیں خالی ان کو ڈرا رہے ہیں
10:55
Speaker A
ورنہ اخر ایک ٹائم لائن تو ہوگی کہ اچھا یار یہ جو حالات ہو گئے ہیں کہ ہم گورنر راج کا سوچ رہے ہیں سیریسلی
11:00
Speaker A
تو پھر ہمارے پاس چار دن ہیں پانچ دن ہیں ایک ہفتہ ہے
11:03
Speaker C
نو بٹ ملک
11:04
Speaker C
یو ٹیل می ود سچویشن واٹ یو سی ان گراؤنڈ وہاں پہ جو انٹرنل ڈسٹربنس ہے
11:10
Speaker C
گورننس کا جو لیول ہے
11:12
Speaker A
میں نہیں لگا رہا
11:13
Speaker A
اپ لگا رہے ہیں
11:14
Speaker A
مجھے چھوڑ دیں
11:15
Speaker A
میرے سے نہ پوچھیں
11:16
Speaker C
میرے خیال سے ایز ایز ایز سم بڈی نو ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
11:20
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی ایک جید صحافی ہیں ماشاءاللہ اپ اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
11:25
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
11:30
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
11:34
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ جو ہے
11:37
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
11:38
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
11:42
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
11:45
Speaker C
نو بٹ
11:46
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
11:47
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
11:53
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
11:55
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
11:57
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
11:58
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
12:00
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
12:01
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
12:06
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
12:08
Speaker C
جی بالکل
12:08
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
12:14
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
12:16
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
12:17
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
12:20
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
12:27
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
12:30
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
12:35
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
12:38
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
12:41
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
12:42
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
12:46
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
12:47
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
12:48
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
12:52
Speaker A
سر یہ بتائیں
12:53
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
12:56
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
12:57
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
13:00
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی
13:02
Speaker C
اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
13:04
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
13:09
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
13:12
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
13:15
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
13:16
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
13:19
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
13:22
Speaker C
نو بٹ
13:23
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
13:24
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
13:30
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
13:32
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
13:34
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
13:35
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
13:37
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
13:38
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
13:43
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
13:45
Speaker C
جی بالکل
13:45
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
13:51
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
13:53
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
13:54
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
13:57
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
14:04
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
14:07
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
14:12
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
14:15
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
14:18
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
14:19
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
14:23
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
14:24
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
14:25
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
14:29
Speaker A
سر یہ بتائیں
14:30
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
14:33
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
14:34
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
14:37
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
14:42
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
14:47
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
14:50
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
14:53
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
14:54
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
14:57
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
15:00
Speaker C
نو بٹ
15:01
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
15:02
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
15:08
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
15:10
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
15:12
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
15:13
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
15:15
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
15:16
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
15:21
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
15:23
Speaker C
جی بالکل
15:23
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
15:29
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
15:31
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
15:32
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
15:35
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
15:42
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
15:45
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
15:50
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
15:53
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
15:56
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
15:57
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
16:01
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
16:02
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
16:03
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
16:07
Speaker A
سر یہ بتائیں
16:08
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
16:11
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
16:12
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
16:15
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
16:20
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
16:25
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
16:28
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
16:31
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
16:32
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
16:35
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
16:38
Speaker C
نو بٹ
16:39
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
16:40
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
16:46
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
16:48
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
16:50
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
16:51
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
16:53
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
16:54
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
16:59
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
17:01
Speaker C
جی بالکل
17:01
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
17:07
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
17:09
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
17:10
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
17:13
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
17:20
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
17:23
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
17:28
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
17:31
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
17:34
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
17:35
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
17:39
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
17:40
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
17:41
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
17:45
Speaker A
سر یہ بتائیں
17:46
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
17:49
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
17:50
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
17:53
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
17:58
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
18:03
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
18:06
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
18:09
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
18:10
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
18:13
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
18:16
Speaker C
نو بٹ
18:17
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
18:18
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
18:24
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
18:26
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
18:28
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
18:29
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
18:31
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
18:32
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
18:37
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
18:39
Speaker C
جی بالکل
18:39
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
18:45
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
18:47
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
18:48
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
18:51
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
18:58
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
19:01
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
19:06
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
19:09
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
19:12
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
19:13
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
19:17
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
19:18
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
19:19
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
19:23
Speaker A
سر یہ بتائیں
19:24
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
19:27
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
19:28
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
19:31
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
19:36
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
19:41
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
19:44
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
19:47
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
19:48
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
19:51
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
19:54
Speaker C
نو بٹ
19:55
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
19:56
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
20:02
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
20:04
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
20:06
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
20:07
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
20:09
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
20:10
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
20:15
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
20:17
Speaker C
جی بالکل
20:17
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
20:23
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
20:25
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
20:26
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
20:29
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
20:36
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
20:39
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
20:44
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
20:47
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
20:50
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
20:51
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
20:55
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
20:56
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
20:57
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
21:01
Speaker A
سر یہ بتائیں
21:02
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
21:05
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
21:06
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
21:09
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
21:14
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
21:19
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
21:22
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
21:25
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
21:26
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
21:29
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
21:32
Speaker C
نو بٹ
21:33
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
21:34
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
21:40
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
21:42
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
21:44
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
21:45
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
21:47
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
21:48
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
21:53
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
21:55
Speaker C
جی بالکل
21:55
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
22:01
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
22:03
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
22:04
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
22:07
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
22:14
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
22:17
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
22:22
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
22:25
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
22:28
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
22:29
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
22:33
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
22:34
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
22:35
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
22:39
Speaker A
سر یہ بتائیں
22:40
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
22:43
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
22:44
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
22:47
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
22:52
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
22:57
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
23:00
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
23:03
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
23:04
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
23:07
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
23:10
Speaker C
نو بٹ
23:11
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
23:12
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
23:18
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
23:20
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
23:22
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
23:23
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
23:25
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
23:26
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
23:31
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
23:33
Speaker C
جی بالکل
23:33
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
23:39
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
23:41
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
23:42
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
23:45
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
23:52
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
23:55
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
24:00
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
24:03
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
24:06
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
24:07
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
24:11
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
24:12
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
24:13
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
24:17
Speaker A
سر یہ بتائیں
24:18
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
24:21
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
24:22
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
24:25
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
24:30
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
24:35
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
24:38
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
24:41
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
24:42
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
24:45
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
24:48
Speaker C
نو بٹ
24:49
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
24:50
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
24:56
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
24:58
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
25:00
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
25:01
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
25:03
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
25:04
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
25:09
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
25:11
Speaker C
جی بالکل
25:11
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
25:17
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
25:19
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
25:20
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
25:23
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
25:30
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
25:33
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
25:38
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
25:41
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
25:44
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
25:45
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
25:49
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
25:50
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
25:51
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
25:55
Speaker A
سر یہ بتائیں
25:56
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
25:59
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
26:00
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
26:03
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
26:08
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
26:13
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
26:16
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
26:19
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
26:20
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
26:23
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
26:26
Speaker C
نو بٹ
26:27
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
26:28
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
26:34
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
26:36
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
26:38
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
26:39
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
26:41
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
26:42
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
26:47
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
26:49
Speaker C
جی بالکل
26:49
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
26:55
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
26:57
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
26:58
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
27:01
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
27:08
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
27:11
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
27:16
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
27:19
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
27:22
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
27:23
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
27:27
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
27:28
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
27:29
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
27:33
Speaker A
سر یہ بتائیں
27:34
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
27:37
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
27:38
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
27:41
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
27:46
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
27:51
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
27:54
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
27:57
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
27:58
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
28:01
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
28:04
Speaker C
نو بٹ
28:05
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
28:06
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
28:12
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
28:14
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
28:16
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
28:17
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
28:19
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
28:20
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
28:25
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
28:27
Speaker C
جی بالکل
28:27
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
28:33
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
28:35
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
28:36
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
28:39
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
28:46
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
28:49
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
28:54
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
28:57
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
29:00
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
29:01
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
29:05
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
29:06
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
29:07
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
29:11
Speaker A
سر یہ بتائیں
29:12
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
29:15
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
29:16
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
29:19
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
29:24
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
29:29
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
29:32
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
29:35
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
29:36
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
29:39
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
29:42
Speaker C
نو بٹ
29:43
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
29:44
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
29:50
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
29:52
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
29:54
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
29:55
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
29:57
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
29:58
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
30:03
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
30:05
Speaker C
جی بالکل
30:05
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
30:11
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
30:13
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
30:14
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
30:17
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
30:24
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
30:27
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
30:32
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
30:35
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
30:38
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
30:39
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
30:43
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
30:44
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
30:45
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
30:49
Speaker A
سر یہ بتائیں
30:50
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
30:53
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
30:54
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
30:57
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
31:02
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
31:07
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
31:10
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
31:13
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
31:14
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
31:17
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
31:20
Speaker C
نو بٹ
31:21
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
31:22
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
31:28
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
31:30
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
31:32
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
31:33
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
31:35
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
31:36
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
31:41
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
31:43
Speaker C
جی بالکل
31:43
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
31:49
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
31:51
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
31:52
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
31:55
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
32:02
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
32:05
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
32:10
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
32:13
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
32:16
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
32:17
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
32:21
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
32:22
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
32:23
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
32:27
Speaker A
سر یہ بتائیں
32:28
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
32:31
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
32:32
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
32:35
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
32:40
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
32:45
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
32:48
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
32:51
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
32:52
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
32:55
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
32:58
Speaker C
نو بٹ
32:59
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
33:00
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
33:06
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
33:08
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
33:10
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
33:11
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
33:13
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
33:14
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
33:19
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
33:21
Speaker C
جی بالکل
33:21
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
33:27
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
33:29
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
33:30
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
33:33
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
33:40
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
33:43
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
33:48
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
33:51
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
33:54
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
33:55
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
33:59
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
34:00
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
34:01
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
34:05
Speaker A
سر یہ بتائیں
34:06
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
34:09
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
34:10
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
34:13
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
34:18
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
34:23
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
34:26
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
34:29
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
34:30
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
34:33
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
34:36
Speaker C
نو بٹ
34:37
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
34:38
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
34:44
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
34:46
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
34:48
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
34:49
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
34:51
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
34:52
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
34:57
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
34:59
Speaker C
جی بالکل
34:59
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
35:05
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
35:07
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
35:08
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
35:11
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
35:18
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
35:21
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
35:26
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
35:29
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
35:32
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
35:33
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
35:37
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
35:38
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
35:39
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
35:43
Speaker A
سر یہ بتائیں
35:44
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
35:47
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
35:48
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
35:51
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
35:56
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
36:01
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
36:04
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
36:07
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
36:08
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
36:11
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
36:14
Speaker C
نو بٹ
36:15
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
36:16
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
36:22
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
36:24
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
36:26
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
36:27
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
36:29
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
36:30
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
36:35
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
36:37
Speaker C
جی بالکل
36:37
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
36:43
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
36:45
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
36:46
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
36:49
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
36:56
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
36:59
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
37:04
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
37:07
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
37:10
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
37:11
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
37:15
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
37:16
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
37:17
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
37:21
Speaker A
سر یہ بتائیں
37:22
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
37:25
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
37:26
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
37:29
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
37:34
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
37:39
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
37:42
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
37:45
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
37:46
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
37:49
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
37:52
Speaker C
نو بٹ
37:53
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
37:54
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
38:00
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
38:02
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
38:04
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
38:05
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
38:07
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
38:08
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
38:13
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
38:15
Speaker C
جی بالکل
38:15
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
38:21
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
38:23
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
38:24
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
38:27
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
38:34
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
38:37
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
38:42
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
38:45
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
38:48
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
38:49
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
38:53
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
38:54
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
38:55
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
38:59
Speaker A
سر یہ بتائیں
39:00
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
39:03
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
39:04
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
39:07
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
39:12
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
39:17
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
39:20
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
39:23
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
39:24
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
39:27
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
39:30
Speaker C
نو بٹ
39:31
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
39:32
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
39:38
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
39:40
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
39:42
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
39:43
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
39:45
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
39:46
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
39:51
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
39:53
Speaker C
جی بالکل
39:53
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
39:59
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
40:01
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
40:02
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
40:05
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
40:12
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
40:15
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
40:20
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
40:23
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
40:26
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
40:27
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
40:31
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
40:32
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
40:33
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
40:37
Speaker A
سر یہ بتائیں
40:38
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
40:41
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
40:42
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
40:45
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
40:50
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
40:55
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
40:58
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
41:01
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
41:02
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
41:05
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
41:08
Speaker C
نو بٹ
41:09
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
41:10
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
41:16
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
41:18
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
41:20
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
41:21
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
41:23
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
41:24
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
41:29
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
41:31
Speaker C
جی بالکل
41:31
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
41:37
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
41:39
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
41:40
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
41:43
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
41:50
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
41:53
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
41:58
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
42:01
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
42:04
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
42:05
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
42:09
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
42:10
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
42:11
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
42:15
Speaker A
سر یہ بتائیں
42:16
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
42:19
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
42:20
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
42:23
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
42:28
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
42:33
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
42:36
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
42:39
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
42:40
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
42:43
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
42:46
Speaker C
نو بٹ
42:47
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
42:48
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
42:54
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
42:56
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
42:58
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
42:59
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
43:01
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
43:02
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
43:07
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
43:09
Speaker C
جی بالکل
43:09
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
43:15
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
43:17
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
43:18
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
43:21
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
43:28
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
43:31
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
43:36
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
43:39
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
43:42
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
43:43
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
43:47
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
43:48
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
43:49
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
43:53
Speaker A
سر یہ بتائیں
43:54
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
43:57
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
43:58
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
44:01
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
44:06
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
44:11
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
44:14
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
44:17
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
44:18
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
44:21
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
44:24
Speaker C
نو بٹ
44:25
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
44:26
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
44:32
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
44:34
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
44:36
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
44:37
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
44:39
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
44:40
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
44:45
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
44:47
Speaker C
جی بالکل
44:47
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
44:53
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
44:55
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
44:56
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
44:59
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
45:06
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
45:09
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
45:14
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
45:17
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
45:20
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
45:21
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
45:25
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
45:26
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
45:27
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
45:31
Speaker A
سر یہ بتائیں
45:32
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
45:35
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
45:36
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
45:39
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
45:44
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
45:49
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
45:52
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
45:55
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
45:56
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
45:59
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
46:02
Speaker C
نو بٹ
46:03
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
46:04
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
46:10
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
46:12
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
46:14
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
46:15
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
46:17
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
46:18
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
46:23
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
46:25
Speaker C
جی بالکل
46:25
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
46:31
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
46:33
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
46:34
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
46:37
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
46:44
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
46:47
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
46:52
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
46:55
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
46:58
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
46:59
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
47:03
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
47:04
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
47:05
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
47:09
Speaker A
سر یہ بتائیں
47:10
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
47:13
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
47:14
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
47:17
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
47:22
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
47:27
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
47:30
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
47:33
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
47:34
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
47:37
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
47:40
Speaker C
نو بٹ
47:41
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
47:42
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
47:48
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
47:50
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
47:52
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
47:53
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
47:55
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
47:56
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
48:01
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
48:03
Speaker C
جی بالکل
48:03
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
48:09
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
48:11
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
48:12
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
48:15
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
48:22
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
48:25
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
48:30
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
48:33
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
48:36
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
48:37
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
48:41
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
48:42
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
48:43
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
48:47
Speaker A
سر یہ بتائیں
48:48
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
48:51
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
48:52
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
48:55
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
49:00
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
49:05
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
49:08
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
49:11
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
49:12
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
49:15
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
49:18
Speaker C
نو بٹ
49:19
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
49:20
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
49:26
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
49:28
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
49:30
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
49:31
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
49:33
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
49:34
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
49:39
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
49:41
Speaker C
جی بالکل
49:41
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
49:47
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
49:49
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
49:50
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
49:53
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
50:00
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
50:03
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
50:08
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
50:11
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
50:14
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
50:15
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
50:19
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
50:20
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
50:21
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
50:25
Speaker A
سر یہ بتائیں
50:26
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
50:29
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
50:30
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
50:33
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
50:38
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
50:43
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
50:46
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
50:49
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
50:50
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
50:53
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
50:56
Speaker C
نو بٹ
50:57
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
50:58
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
51:04
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
51:06
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
51:08
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
51:09
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
51:11
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
51:12
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
51:17
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
51:19
Speaker C
جی بالکل
51:19
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
51:25
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
51:27
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
51:28
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
51:31
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
51:38
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
51:41
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
51:46
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
51:49
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
51:52
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
51:53
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
51:57
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
51:58
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
51:59
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
52:03
Speaker A
سر یہ بتائیں
52:04
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
52:07
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
52:08
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
52:11
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
52:16
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
52:21
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
52:24
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
52:27
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
52:28
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
52:31
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
52:34
Speaker C
نو بٹ
52:35
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
52:36
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
52:42
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
52:44
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
52:46
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
52:47
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
52:49
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
52:50
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
52:55
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
52:57
Speaker C
جی بالکل
52:57
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
53:03
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
53:05
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
53:06
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
53:09
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
53:16
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
53:19
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
53:24
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
53:27
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
53:30
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
53:31
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
53:35
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
53:36
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
53:37
Speaker C
نہیں سندھ اتا ہے ہم سب پہلے پاکستانی ہیں بعد میں ان تمام چیزوں میں بٹے ہوئے ہیں
53:41
Speaker A
سر یہ بتائیں
53:42
Speaker A
شفیع صاحب یہ بتائیں ان کا ارادہ پورا ہے
53:45
Speaker C
نہیں میرے خیال سے
53:46
Speaker C
ایز ایز سم بڈی ہوز ہوز گاٹ ا ویلتھ اف ایکسپیرینس
53:49
Speaker C
ایز ا جرنلسٹ ایز صحافی اپ جو دیکھتے ہیں وہاں پہ
53:54
Speaker C
کیا واقعتا اس صوبے کے وزیر اعلی کی پرائیورٹیز جو ہیں وہ درست سمت میں ہیں
53:59
Speaker C
کیا واقعتا وہاں پہ گورننس کے ایشوز نہیں ہیں
54:02
Speaker C
کیا واقعتا جو ہے
54:05
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے
54:06
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ اس اس وزیر اعلی کی پرائیورٹیز غلط ہیں
54:09
Speaker A
ائین میں یہ نہیں ہے کہ کیا صوبہ اگر نہیں گورن ہو رہا
54:12
Speaker C
نو بٹ
54:13
Speaker C
گورن نہیں ہو رہا
54:14
Speaker C
اگر گورن ہو رہا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں پہ بالکل ہیلتھ کیئر پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
54:20
Speaker C
ایجوکیشن پہ بھی کام ہو رہا ہوتا
54:22
Speaker C
سیکیورٹی سچویشن بھی انڈر کنٹرول ہوتی
54:24
Speaker A
باقی ساری جگہ پہ ہو رہا ہے
54:25
Speaker C
بالکل کر تو رہے ہیں
54:27
Speaker C
ایٹ لیسٹ ایفرٹس تو ہو رہے ہیں
54:28
Speaker A
کل کل کراچی میں تین سال کا بچہ ابراہیم گھر والوں کے ساتھ شاپنگ سے نکلا
54:33
Speaker A
اور وہ گٹر میں گر گیا
54:35
Speaker C
جی بالکل
54:35
Speaker A
گٹر میں گر گیا اور اپ کے الائیز کی گورنمنٹ ہے بقول اپ کے سندھ میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے
54:41
Speaker A
وہ اس کی لاش نہیں ڈھونڈ سکے
54:43
Speaker C
ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں
54:44
Speaker A
ان کے پاس ایکوپمنٹ نہیں تھا
54:47
Speaker A
پھر لوگوں نے خود پرائیویٹ سیکٹر سے لوگوں نے مشینیں لگائیں چیزیں لگائیں بہرحال اور اج کی اطلاع یہ ا رہی تھی کہ کوئی کچرا ڈھونڈنے والا کوئی افغانی بچہ تھا
54:54
Speaker A
اس نے کوئی لاش ڈھونڈی ہے وہاں سے
54:57
Speaker A
تو اگر پھر تو سندھ میں بھی لگنا چاہیے نا جہاں پہ گٹر کے اندر بچے گر رہے ہیں
55:02
Speaker C
میں تو اپ کو اپنی جماعت کے حوالے سے بتا سکتا ہوں نا
55:05
Speaker C
اپ نے تو الائیز کی بات کی میں اپنی جماعت کے حوالے سے
55:08
Speaker C
اپ پنجاب کو دیکھیں
55:09
Speaker C
اپ ایک جگسٹا پوزیشن میں رکھیں باقی صوبوں کو پنجاب کے ساتھ
55:13
Speaker A
یہ تو سندھ اپ کو نظر میں نہیں اتا
55:14
Speaker A
اپ کو سندھ نظر نہیں اتا
Topics:محمد ملکگورنر راجپی ٹی آئینیشنل اسمبلیسیاسی کشیدگیکشمیرافتاب شیر پاؤسیکیورٹیاحتجاجقومی سلامتی

Frequently Asked Questions

گورنر راج کیا ہے اور اس کا ملک کی سیاست پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

گورنر راج آئینی پروویژن ہے جس کے تحت صوبے کی حکومت کو عارضی طور پر معطل کر کے گورنر کو اختیارات دیے جاتے ہیں۔ اس کا اثر سیاسی عدم استحکام اور احتجاجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت پر کیسز کا سیاسی منظرنامے پر کیا اثر ہے؟

پی ٹی آئی کی قیادت پر متعدد کیسز ہیں جو ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر سکتے ہیں اور احتجاجی تحریکوں کو متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر گورنر راج نافذ ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کے درمیان کشمیر کے حوالے سے کیا تعاون ہو رہا ہے؟

پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این نے کشمیر کے حوالے سے تعاون پر اتفاق کیا ہے، جس میں گورنر کی نامزدگی اور سیاسی حکمت عملی شامل ہے تاکہ کشمیر کی حمایت کی جا سکے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →