Imran Khan 19 June 2013 Speech at National Assembly 19 … — Transcript

عمران خان کی قومی اسمبلی میں تقریر، پاکستان کی موجودہ صورتحال، ناانصافی، ٹیکس نظام اور ملک کی ترقی پر روشنی۔

Key Takeaways

  • پاکستان کی ترقی کے لیے عدل و انصاف کا نظام ضروری ہے۔
  • ٹیکس نظام میں اصلاحات اور منصفانہ ٹیکس کلچر کی ضرورت ہے۔
  • اوورسیز پاکستانی ملک کی سب سے بڑی دولت ہیں جنہیں واپس لانا چاہیے۔
  • حکومتی اخراجات میں شفافیت اور کمی کرنی ہوگی تاکہ قرضوں کا بوجھ کم ہو۔
  • ملک کی ترقی کے لیے سیاسی جماعتوں کو قومی مفادات کو فوقیت دینی چاہیے۔

Summary

  • عمران خان نے پاکستان کی 60 کی دہائی کی ترقی اور عالمی معیار کی اداروں کی مثال دی۔
  • انہوں نے پاکستان کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت پر زور دیا۔
  • تقریر میں ناانصافی کو ملک کے مسائل کی جڑ قرار دیا گیا۔
  • ٹیکس نظام کی خامیوں اور ٹیکس نیٹ میں کم لوگوں کی شمولیت پر تنقید کی گئی۔
  • اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
  • غربت اور مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے نئے ٹیکسوں کے منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی۔
  • پاکستان میں ٹیکس کلچر کی کمی اور اس کی اصلاح کی ضرورت پر بات کی گئی۔
  • حکومت کے غیر ضروری اخراجات اور قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی پر تشویش ظاہر کی گئی۔
  • ملک میں عدل و انصاف کے نظام کی بہتری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
  • سیاسی جماعتوں کو قومی مسائل پر اتفاق رائے قائم کرنے کی دعوت دی گئی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
پتہ کیا ہے وہ کائنڈلی دیکھ لیجئے گا
00:02
Speaker A
محترم عمران خان صاحب
00:09
Speaker A
پلیز آپ کو سمجھایا ہے پلیز آرڈر رکھیے ہاؤس میں
00:15
Speaker A
بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:19
Speaker A
اسپیکر صاحب سب سے پہلے تو آپ کو جیتنے کی مبارک
00:26
Speaker A
میں آج پرائم منسٹر صاحب کو مبارک دیتا ہوں پرائم منسٹر بننے کی
00:33
Speaker A
اور میں آپ سے یہ ریکویسٹ کروں گا کہ میں ابھی میری فٹنس وہ نہیں ہے کہ میں اسمبلی میں زیادہ دیر بیٹھ سکوں تو مجھے ابھی چھ ہفتے اور لگیں گے انشاءاللہ فٹ ہونے میں تو میں آپ سے یہ تقریر کر کے میں اس لیے جا رہا ہوں کہ میں زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا
00:52
Speaker A
میں اسپیکر صاحب ایک آج اپوزیشن پارٹی کا لیڈر بن کے بات نہیں کرنا چاہتا
00:59
Speaker A
میں ایک پاکستانی بن کے بات کرنا چاہتا ہوں
01:46
Speaker A
میرا میں جب 60 میں بڑا ہو رہا تھا
01:53
Speaker A
تو پاکستان وہ ملک تھا جس کی مثال دی جاتی تھی دنیا میں مجھے ساؤتھ کوریا کے منسٹر ملے ڈیوس میں جنہوں نے بتایا کہ کیسے انہوں نے پاکستان کو پاکستان میں آیا اور ہمارا اکنامک ماڈل اپنایا
02:10
Speaker A
ملائشیا انہوں نے پاکستان کا ماڈل اپنایا پاکستان کی آپ کو حیرت ہوگی کہ 60 کے اندر جو انڈسٹریل پروڈکشن تھی وہ چار ایشین ٹائیگرز کی انڈسٹریل پروڈکشن کے برابر تھی
02:23
Speaker A
ملائشیا انڈونیشیا فلپینز اور تھائی لینڈ
02:27
Speaker A
پاکستان کی انسٹیٹیوشنز انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی تھی ہمارے جو میڈیکل کالجز انجینئرنگ یونیورسٹی وہ انٹرنیشنل کمپیٹ کرتی تھی
02:38
Speaker A
مجھے ہم سب کو بڑا فخر ہوتا تھا پی آئی اے پہ کہ دنیا کی نمبر ٹو ایئر لائنز ایک وقت پہ تھی تو اس پاکستان میں امید تھی اور ہمارے والدین نے ہمیں بتایا کہ تم ہم پہلی جنریشن تھے جو آزاد پاکستان میں پیدا ہوئے اور وہ ہمیں بتاتے تھے کہ تمہیں نہیں پتا غلامی کیا ہے
03:40
Speaker A
اور قدر تھی قدر کیا کرتے تھے اپنے ملک کے لیے
03:46
Speaker A
تو اور اسی پاکستان کے اوپر ایک ایک نوبل پرائز ونر گنل مرڈل نے مڈ 60 کے اندر ایک کتاب لکھی دی ایشین مریکل اور اس میں وہ پریڈکٹ کرتا تھا مڈ 60 میں کہ جو سارے ایشیا کے اندر ملک ایشیا کا کیلیفورنیا بننے جا رہا ہے وہ یہ موجودہ پاکستان تھا
04:08
Speaker A
تو اگر آج ہم جدھر کھڑے ہیں ہمیں ایک ایک قوم بن کے سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری کیا کدھر ہم غلط چلے گئے
05:03
Speaker A
ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کیسے واپس اس ٹریک پہ آ سکتے ہیں کہ جو اس ملک کا اتنا پوٹینشل ہے اس کو ہم کیسے پورا کر سکتے ہیں
05:15
Speaker A
یہ وہ ملک ہے جس کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے آپ پاکستان کو اگر سویٹزرلینڈ سے کمپیئر کریں تو سویٹزرلینڈ کے پاس کیا ہے پاکستان کے ناردرن ایریاز سویٹزرلینڈ کے دگنے سائز کے ہیں آدھی دنیا کی جو 14 ہائیسٹ پیکس ہیں وہ پاکستان میں ہیں سب سے سٹیپ گریڈینٹ ہے اوپر سے پہاڑوں سے سمندر تک 12 موسم ہیں زرخیز زمین ہے
05:44
Speaker A
کاپر ہے پاکستان میں گولڈ ہے یہاں گیس کے ریزرو ہیں یہاں کول کے کوئلے کے اتنے بڑے ریزرو ہیں ہائیڈرو پوٹینشل ہے
05:57
Speaker A
تو آج ہم یہاں کھڑے ہیں اس کو یہ کیونکہ بجٹ سیشن ہے
06:02
Speaker A
اس میں ہمیں اسیس کرنا چاہیے کہ ہم کدھر غلط گئے ہیں
06:10
Speaker A
میں قرآن کے اندر جو اللہ کہتا ہے کہ بڑی قوموں میں نے برباد کی جو میرے حکم پہ نہیں چلیں وہ اللہ کا حکم کیا ہے
06:50
Speaker A
جو پہلی اسلام کی ریاست بنی تھی مدینہ میں اس کے اوپر اس کی بنیاد کس چیز پہ رکھی گئی تھی عدل اور انصاف پہ اگر میں ایک چیز اگر ایک چیز میں پوائنٹ آؤٹ کروں کہ جس کی وجہ سے آج ہم ادھر کھڑے ہیں اور وہ ہے ناانصافی
07:10
Speaker A
میں پھر سے سویٹزرلینڈ کی مثال اس لیے دیتا ہوں کہ وہاں کچھ بھی نہیں ہے کوئی ریسورسز بھی نہیں ہیں
07:18
Speaker A
سب سے خوشحال ملک ہے سویٹزرلینڈ کے اندر جرمن بھی رہتے ہیں جرمن سوئس فرینچ اٹیلین لیکن کبھی جرمنز نے نہیں کہا کہ ہم جرمنی کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا فرینچ نے فرانس کا
07:36
Speaker A
خوشحال ملک ہیں جرمنی اور فرانس وہ بڑے خوش ہیں سویٹزرلینڈ کے اندر اس کی وجہ کیا ہے اس کی وجہ ہے کہ وہاں مکمل طور پہ ایک انصاف کا نظام ہے
08:20
Speaker A
لوگ لوگ ایک ملک کا حصہ بننا چاہتے ہیں کہ ان کو انصاف ملتا ہے پاکستان کے اندر جو بھی آج مسئلے ہیں یہ ناانصافی کے اوپر ہیں
08:34
Speaker A
بلوچستان کی ابھی بات ہوئی لوگ باہر بیٹھے ہوئے ہیں اس کے پیچھے ناانصافی ہے
08:43
Speaker A
ایسٹ پاکستان علیحدہ ہوا ناانصافی کی وجہ سے یہ نہیں کہ کوئی یہ جو کہتے ہیں کہ ٹو نیشن تھیوری ختم ہو گئی ناانصافی ہم نے کی ان لوگوں سے
08:55
Speaker A
آج آپ کا سب سے بڑا مسئلہ ریونیو کلیکشن ہے آج ہم ہم جو اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہیں کہ 1200 ارب تقریبا قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں جا رہا ہے
09:15
Speaker A
ٹوٹل ریونیو کلیکشن پچھلی 2000 ارب بھی نہیں ہے فوج کا لگا لیں بیچ میں خرچہ 600 700 ارب تو باقی کیا رہ جاتا ہے پاکستان کو چلانے کے لیے تو ہم وہ ملک یہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ جو سب سے زیادہ خیرات دیتا ہے وہ سب سے کم ٹیکس کیوں دیتا ہے
10:09
Speaker A
یہ نہیں ہم یہ آج میں جو ٹیکسز دیکھی ہیں جو لگے ہیں اس سے تو تباہی مچے گی اس سے تو سب سے پہلے غربت بڑھے گی کیونکہ جی ایس ٹی سے لگا ہے وہ آگے ہی غریب بیچارہ اور مڈل کلاسز پسی ہوئی ہیں مہنگائی میں اس سے اور مہنگائی بڑھے گی
10:19
Speaker A
اور آپ ان کو دیکھیں جو ٹاپ میں نے ڈار صاحب کی اس تقریر میں سن رہا تھا کہ انہوں نے کہا کہ صرف 3000 لوگ افیکٹڈ ہیں جن کا ٹیکس 20 پرسنٹ سے 30 پرسنٹ جمپ کیا 50 پرسنٹ جمپ کیا یہ 3000 لوگ کون ہیں یہ پاکستان کے وہ پروفیشنلز ہیں جن کو پاکستان کی ضرورت ہے
10:42
Speaker A
یہ وہ لوگ ہیں جو کہ بڑے آرام سے دنیا میں کہیں بھی جا سکتے ہیں ان کو نوکریاں ملیں گی میں اپنے ہسپتال کی مثال دیتا ہوں کہ ہمارے لیے اتنا مشکل ہے لوگوں کو ریٹین کرنا جو ٹاپ انکولوجسٹ مثلا ہے ایک انکولوجسٹ باہر جاتا ہے تو کم از کم کمزور سے کمزور بھی ہو تین کروڑ روپے پہ نوکری شروع کرتا ہے
11:45
Speaker A
تو اس کو وہ پہلے ہی سیلری کٹ لے کے آتے ہیں ہمارے پاکستان میں کام کرنے کے لیے اور ان کے آتے آتے روپیہ 60 روپے سے 100 روپے ڈالر پہنچ گیا اور اس کے بعد آپ ٹیکس بھی علیحدہ لگا دیں تو ویسے ہی ہمارے لیے مشکل ہے ان لوگوں کو ریٹین کرنا تو پہلے یہ سٹڈی کرنا چاہیے کہ یہ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ باہر سے جو ہمارا سب سے بڑا ایسٹ ہے اوورسیز پاکستانیز ان کو پاکستان میں لانا چاہیے اب واپڈا ہے آپ کے ریلوےز ہیں آپ کی ایئر لائنز ہیں ان کو وزیر نہیں ٹھیک کر سکتے ہیں ان کو ٹاپ پروفیشنلز جو ہیں ماہر ہیں اپنی فیلڈ کے ان کو اگر وہ کارپوریشن کی طرح ہیں وہ ٹھیک کر سکتے ہیں
12:21
Speaker A
لیکن یہ جو سلیب سٹرکچر دیا ہے یا تو آپ کو ان کو اور تنخواہیں دینی پڑیں گی ٹیکس کے اوپر
12:30
Speaker A
تو وہ عام جو یہاں ملک کے اندر ادارے ہیں وہ کیسے دے سکتے ہیں
12:36
Speaker A
تو میں پھر سے واپس آئیں کہ وہ ملک جو سب سے زیادہ چیریٹی دیتا ہے آپ کو اندازہ نہیں کہ سیلاب کے دوران کوئی ہمیں فارن ایڈ نہیں ملی کیسے ہم اس سے نکلیں
13:25
Speaker A
سارے پاکستان جو جدھر پاکستانی دنیا میں تھا اس نے پیسے دیے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم اب ٹیکس سب سے کم ہماری ٹیکس جی ڈی پی ریشو ہے
13:35
Speaker A
اور اس کے پیچھے بھی ناانصافی ہے کہ ایک تھوڑا سا مشکل سے 10 لاکھ لوگ ہیں جو ٹیکس نیٹ میں ہیں 30 لاکھ لوگ ہیں جن کے پاس نادرا کے پاس جن کی ساری ڈیٹیلز ہیں جن کے بڑے خوشحال طریقے سے رہتے ہیں وہ ٹیکس ہی نہیں دیتے
13:53
Speaker A
لوگ ریل اسٹیٹ ہے اب ریل اسٹیٹ کے اوپر کیا کیا اس کے اوپر بہانہ ہو سکتا ہے کہ ریل اسٹیٹ کے اوپر آپ ٹیکس نہ دیں برطانیہ میں آپ اپنے گھر کے علاوہ کوئی پراپرٹی بیچتے ہیں 35 پرسنٹ ٹیکس ہے
14:12
Speaker A
تو وہ جو اتنا لوگ امیر ہوئے ہیں ریل اسٹیٹ میں کوئی کیپیٹل گینز ٹیکس نہیں لگایا آج اگر میں ٹیکس پہنچانا چاہوں میں حوالے سے پیسہ باہر بھجوا دوں ریمیٹنس واپس لے آؤں 2 پرسنٹ کے اوپر میں بلیک کا پیسہ وائٹ کر سکتا ہوں تو اس کے پیچھے ناانصافی ہے جب تک ایک ٹیکس کمیشن ویریس ٹیکس کمیشنز کی ایک ہی رپورٹ ہے کہ جب تک ٹیکس منصفانہ نہ ہو اور لوگ ٹیکس دینے کے لیے تیار نہ ہوں آپ ٹیکس نہیں اکٹھا کر سکتے وہ طریقہ ڈھونڈ لیں گے کوئی ٹیکس بچانے کا
15:17
Speaker A
تو پاکستان میں اگر ہم نے اس کلچر کو چینج کرنا ہے کہ لوگ ٹیکس اویڈ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو بدلنا پڑے گا یعنی ہمیں قوم کو وہ کام اب کرنا پڑے گا وہ ہمیں سٹیپس اٹھانے پڑیں گے جو ابھی تک ہم نے نہیں اٹھائے ہمیں ٹیکس کلچر کریٹ کرنے کے لیے لوگوں کو انکریج کرنا پڑے گا کہ ان کا ٹیکس ان کے اوپر استعمال ہوتا ہے صاحب اقتدار کے اوپر نہیں ہوتا شاہانہ لائف سٹائل پہ نہیں ہوتا
15:46
Speaker A
میں گورنر ہاؤس لاہور کا بجٹ دیکھ رہا تھا مجھے نہیں پتا کہ فیڈرل گورنمنٹ اس کو کتنا فنڈ کرتی ہے لیکن پروونشل گورنمنٹ 11 کروڑ روپیہ لاہور کے گورنر ہاؤس کو فنڈ کرتی ہے کے پی کے کے اندر جو گورنر ہاؤس ہے جو پروونشل گورنمنٹ پانچ کروڑ روپیہ اس کے لیے دیتی ہے سالانہ پھر وہ نتھیا گلی میں گورنر ہاؤس ہے تو ہم یہ کیسے جسٹیفائی کرتے ہیں کہ وہ قوم
16:56
Speaker A
جو صرف قرضوں کی قسطوں کے اوپر تقریبا 1200 ارب روپیہ آپ خرچ کرے گی اور قرضے لے کے قرضوں کی قسطیں ادا کرے گی وہ کیسے جسٹیفائی کرتی ہے کہ یہ جو رولنگ ایلیٹ کا رہن سہن ہے یہ کیسے جسٹیفائی کرتی ہے تو پھر کیوں لوگ ٹیکس دیں
17:14
Speaker A
پہلے تو ٹیکس ویسے ہی منصفانہ نہیں ہے ان سٹرکچر ٹھیک نہیں ہے آپ پیسے ملک سے باہر بھجوا دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے لیکن اس کے بعد جو وہ ٹیکس دیتے بھی ہیں ان کو کیا فیلنگ ہے ان کے اوپر خرچ ہوتا ہے
17:25
Speaker A
تو میں سب سے پہلے یہ ہمارے پرائم منسٹر صاحب آج نہیں ہیں میں نے جب پرائم منسٹر صاحب مجھے جب نہیں بنے تھے تو مجھے ملنے آئے ہاسپٹل میں تو ہم نے کہا ہم نے بڑی تلخ باتیں کی ایک دوسرے کے خلاف الیکشن کے دوران لیکن اب سب سے زیادہ ذمہ داری پی ایم ایل این کے اوپر ہے اور پرائم منسٹر پہ ہے ہمارے پہ بھی چھوٹی ذمہ داری ہے ہمارا چھوٹا صوبہ ہے لیکن ذمہ داری ہم سب پہ ہے
18:35
Speaker A
تو میں نے ان کو یہ کہا کہ ہم پوری کوئی بھی جو نیشنل ایشوز ہیں ہم اکٹھے مل کے ان کے اوپر کنسنسس ڈویلپ کریں گے ان کو حل کریں گے
18:46
Speaker A
لیکن جہاں تک اپوزیشن ہے جدھر بھی پبلک کا پیسہ غلط استعمال ہوتا ہے سخت اپوزیشن کریں گے جدھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ کرپشن ہوتی ہے کرپشن کا مطلب پبلک کے اوپر ٹیکس ہے جدھر ہوگی ہم اپوزیشن کریں گے جدھر نیشنل انٹرسٹ کمپرومائز ہوتا ہے ادھر اپوزیشن کریں گے جو کہ اپوزیشن کا کام ہے لیکن نمبر ون ٹیررزم دہشت گردی
19:10
Speaker A
اس کے اوپر اب وقت آ گیا ہے میں سمجھتا ہوں ہم ساری قوم بحیثیت قوم اسے لڑنا چاہیے یہ پارٹیز یا گورنمنٹ نہیں لڑے ساری قوم اکٹھی ہوئی یہ اتنا بڑا سیریس ایشو ہے اس کے اگر ہم اس ایشو کو اس وقت ٹیکل نہیں کرتے اور ابھی ٹائم ہے گورنمنٹ کا ہنی مون پیریڈ ہے یہ ٹائم ہے کہ ہم اس کو ٹیکل کریں اگر ہم نے نہ کیا آپ بھول جائیں اکنامک گروتھ اور انویسٹر جب جب آپ کو دبئی میں جا کے انویسٹرز سے میٹنگ کرنی پڑتی ہے ہمارے بزنس مین کو
20:15
Speaker A
کے پی کا تو یہ حال ہے کہ آج صرف ایک ہی بزنس آگے بڑھ رہی ہے کہ لوگوں کو پکڑ کے ان سے پیسے لے کے ان کو رہا کرو کڈنیپ کرو اس کے علاوہ تو وہاں بزنس ہی ختم ہو گئی ہے وہاں تو اس وقت ابھی ہمارے دو ایم پیز پچھلے دو ہفتے کے اندر مارے گئے ہیں دہشت گردی میں تو جو حالات ہیں وہاں کیسے ہم جو مرضی کر لیں اگر یہ دہشت گردی چلتی رہی اس سے کوئی آگے نہ پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے اور خاص طور پہ کے پی کے وہ تو بالکل ہی وہاں حالات ایسے ہیں ہی نہیں کہ آپ کسی انویسٹر کو وہاں لے آئیں پولیو ڈراپ دینے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے وہاں
20:59
Speaker A
تو نمبر ون ایشو ہے ٹیررزم میں یہ ٹیررزم کے اوپر میں نے میاں صاحب جب مجھے ملنے آئے تھے ان کو بھی کہا
21:42
Speaker A
جنرل کیانی نے جب بات کی میں نے ان کو بھی کہا میں نے کہا اس کے اوپر آپ ساری چیزیں ایک طرف یہ چیز ایک ہے بلوچستان سے لے کے سندھ سے لے کے سیکٹیرین ٹیررزم سے لے کے اور سب سے بڑی جو ہے فاٹا کے اندر جدھر ایک لاکھ 40 ہزار فوج ہماری پھنسی ہوئی ہے یہ ایک نیشنل فوری طور پہ کنسنسس ڈویلپ کیا جائے اس کے اوپر کہ ہم نے کیسے یہ جنگ جیتنی ہے
22:27
Speaker A
ہم نے آئیڈیاز تیار کیے ہوئے ہیں ہمارے خیال میں کہ اس کے حل ہے اور اور ٹیررزم کا حل یہ ہوتا ہے کہ اب موٹیو کیا وجہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے آپ کو بم مار کے اڑاتا ہے جب تک آپ موٹیو کے اوپر نہیں پہنچیں گے جیسے روٹ کاز کہتے ہیں ٹیررزم نہیں حل یہ یہ ایک بیماری ہے جو پھیلتی جا رہی ہے ابھی تک ہم کینسر کا علاج ڈسپرن سے کر رہے ہیں کینسر کو جب تک ہم اس کی جڑ پہ نہیں پہنچیں گے کاٹ کے نہیں نکالیں گے ٹیررزم نہیں ختم ہونے لگی نو سال سے ہم ایک ہی ملٹری سلوشن کے اوپر ڈیپینڈ کر رہے ہیں جو ابھی تک کیا پاکستان میں ہم جنگ جیتے ہیں یا نہیں ہارے سارا ہاؤس جاتا ہے کہ ہمارے حالات کیا ہیں
23:34
Speaker A
تو اس کے اوپر میری ریکویسٹ یہ ہے سب سے پہلے کہ قوم سے سچ بولا جائے
23:48
Speaker A
وقت آ گیا ہے کہ ساری قوم کو اعتماد لیں اور اس سے سچ بولیں میں اسپیکر صاحب آپ کو تین سال پہلے سینیٹر کارل لیون ایک اوپن سینٹ کی ہیئرنگ ہو رہی تھی جس میں وہ ایڈمرل ملن سے پوچھتے ہیں کہ ایڈمرل ملن آپ کیوں پاکستان پر ڈرون اٹیکس کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی حکومت اس کی مذمت کرتی ہے
24:18
Speaker A
شیم شیم آگے سے جو جو جواب دیا کارل لیون نے وہ ہم ساری بحیثیت قوم کے لیے شرمناک جواب ہے
25:06
Speaker A
کارل لیون نے کہا کہ پاکستان کی گورنمنٹ اپنے لوگوں سے سچ کیوں نہیں بولتی
Topics:عمران خانقومی اسمبلیپاکستانٹیکس نظامناانصافیاوورسیز پاکستانیقدرتی وسائلمعاشی ترقیعدل و انصافسیاسی اتحاد

Frequently Asked Questions

عمران خان نے اپنی تقریر میں پاکستان کی ترقی کے حوالے سے کیا کہا؟

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت ہے، اور 60 کی دہائی میں ملک نے عالمی معیار کی ترقی کی تھی، لیکن ناانصافی اور بدانتظامی کی وجہ سے ترقی رک گئی ہے۔

عمران خان نے ٹیکس نظام کے بارے میں کیا مسائل بیان کیے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس نیٹ بہت محدود ہے، ٹیکس نظام منصفانہ نہیں ہے، اور امیر طبقہ ٹیکس سے بچ رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

عمران خان کے مطابق ملک کی بہتری کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کا نظام مضبوط کرنا، ٹیکس کلچر کو بہتر بنانا، اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں واپس لانا، اور سیاسی جماعتوں کو قومی مسائل پر اتفاق رائے قائم کرنا ضروری ہے۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →