1 - Tafseer Surah Yaseen - Ayaat 1- 5 || Dr Mahboob Abu Asim Hafizahullah

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:03
Speaker A
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
00:06
Speaker A
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی الہ وصحبہ ومن سار علی نہجہ الی یوم الدین وسلم تسلیما کثیرا اما بعد
00:22
Speaker A
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:29
Speaker A
یاسین والقران الحکیم انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم تنزیل العزیز الرحیم
00:42
Speaker A
یاسین والقران الحکیم قسم ہے اس قران کی جو بڑی حکمت والا ہے
00:52
Speaker A
انک لمن المرسلین بے شک اپ بھیجے جانے والے رسولوں میں سے ہو
01:00
Speaker A
علی صراط مستقیم سیدھی راہ پر ہو
01:04
Speaker A
تنزیل العزیز الرحیم نازل کیا جانے والا ہے یہ قران
01:10
Speaker A
اس ذات کی طرف سے العزیز جو بڑا غلبے والا
01:16
Speaker A
الرحیم اور بڑا مہربان ہے
01:21
Speaker A
سورہ یاسین کی پہلی پانچ ایتوں کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا گیا ہے
01:29
Speaker A
اور ہمارا درس کا انشاءاللہ انداز یہ رہے گا
01:36
Speaker A
کہ جن ایات کو ہم لینا چاہیں گے اس کی تلاوت کی جائے گی
01:42
Speaker A
اور تلاوت کے بعد ان کا لفظی ترجمہ بیان کیا جائے گا
01:48
Speaker A
کہ ہر لفظ کا کیا معنی بنتا ہے
01:52
Speaker A
اور اس کے بعد اس کی اللہ کے فضل توفیق سے تفسیر بیان ہوگی
02:00
Speaker A
کہ جو ہمارا بنیادی مقصد ہے اس پروگرام میں انے کا
02:07
Speaker A
سورہ یاسین کے حوالے سے ہم نے سابقہ ملاقات میں کچھ تذکرہ کیا تھا
02:11
Speaker A
کہ اس سورت کی کیا عظمت ہے
02:16
Speaker A
اس کی کیا فضیلت ہے
02:19
Speaker A
بلکہ قران کریم کی تمام سورتیں تمام ایتیں بلکہ ہر لفظ اور ہر حرف
02:29
Speaker A
اللہ کا جو کلام ہے اس کی اپنی جگہ پر بہت بڑی فضیلت ہے
02:33
Speaker A
اور بہت بڑا مقام ہے
02:36
Speaker A
ہم انشاءاللہ اگے چل کر مزید اس سورت کے بارے میں بیان کریں گے
02:41
Speaker A
کہ اس سورت کی بارے میں جو احادیث اتی ہیں
02:47
Speaker A
ان کے بارے میں انشاءاللہ تفصیلا بات ہوگی
02:53
Speaker A
تو یاسین
02:57
Speaker A
یا اور سین دو حرف ہیں
03:02
Speaker A
ہمیں شاید کبھی غور نہ کیا ہو
03:06
Speaker A
کہ یاسین کیا ہے
03:09
Speaker A
یہ دو حرف ہیں
03:12
Speaker A
جس طرح الف لام میم ہے حامیم ہے اور بھی مختلف سورتوں کے شروع میں
03:19
Speaker A
یہ حروف اتے ہیں
03:23
Speaker A
اپ یہ دیکھ رہے ہو کہ ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں
03:27
Speaker A
مقطعات یعنی الگ الگ حرف
03:31
Speaker A
اصل تو یہ حرف جو ہیں عربی کے جو حروف تہجی ہیں
03:37
Speaker A
الف با تا ثا جیم حا خا انہی میں سے ہیں
03:40
Speaker A
سمجھے نا
03:42
Speaker A
انہی حروف میں سے ہیں
03:46
Speaker A
تو لیکن ان سورت ان کو سورتوں سے لانے کا معنی پہلے لانے کا مقصد کیا ہوتا ہے
03:53
Speaker A
ان حروف ان بذات خود ان حروفوں کا معنی کیا ہوتا ہے
03:58
Speaker A
ہمارے بعض لوگ ان حرفوں کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں
04:03
Speaker A
کہ یا کا معنی کیا ہے
04:05
Speaker A
سین کا معنی کیا ہے
04:08
Speaker A
الف لام میم الف کا معنی کیا ہے
04:12
Speaker A
لام کا معنی کیا ہے
04:14
Speaker A
میم کا معنی کیا ہے
04:17
Speaker A
الف کے معنی اللہ
04:21
Speaker A
لام کا معنی جبریل
04:24
Speaker A
اور میم کا معنی محمد اپ دیکھو گے بعض تفسیروں میں
04:28
Speaker A
بعض ترجموں میں ایسی چیزیں لکھی ہوئی ہیں
04:32
Speaker A
لیکن اگر ان سے پوچھا جائے بھئی اپ نے جو یہ ترجمہ کیا ہے
04:37
Speaker A
ان حرفوں کا اس کی کیا دلیل ہے
04:42
Speaker A
کہ واقعی کسی حدیث میں اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے
04:50
Speaker A
کہ الف لام میم الف کا معنی اللہ ہے
04:57
Speaker A
اور لام کا معنی جبریل ہے
05:00
Speaker A
اور میم کا معنی محمد ہے
05:03
Speaker A
کوئی ایسی ہے تو پھر تو سر انکھوں پر
05:06
Speaker A
ہونا چاہیے بالکل
05:08
Speaker A
لیکن اگر نہیں ہیں تو بھائیو بہت اہم بات سنتے چلے جائیے
05:13
Speaker A
وہ کیا ہے
05:15
Speaker A
کہ اللہ کے اس کلام میں قران کریم میں
05:21
Speaker A
ہمیں اجازت نہیں کہ ہم اپنی طرف سے کوئی بات کریں
05:27
Speaker A
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے
05:31
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ جس نے قران میں قران کی تفسیر میں قران کے بیان کرنے میں
05:41
Speaker A
اپنی طرف سے باتیں کی
05:45
Speaker A
اگرچہ اس کی بات غلط نہ بھی ہو صحیح بھی ہو
05:50
Speaker A
تب بھی وہ گناہ ہے
05:54
Speaker A
صحیح ہو تب بھی گناہ ہے
05:57
Speaker A
ہاں گناہ اس لیے کیونکہ اس نے بات اپنی طرف سے کر دی
06:05
Speaker A
نہیں دیکھا کہ اللہ کا قران یا اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے سنت یا صحابہ کرام
06:12
Speaker A
اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
06:16
Speaker A
اس لیے ہمیں اللہ کے اس کلام میں قران کریم کے بارے میں
06:21
Speaker A
کوئی بات کرتے ہوئے بڑے محتاط ہونے کی ضرورت ہے
06:26
Speaker A
یہ اللہ کا کلام ہے کسی عام انسان کی باتیں نہیں ہیں
06:31
Speaker A
کہ ہم جیسے چاہیں اس کو اپنی طرف سے بیان کرتے پھریں
06:35
Speaker A
لیکن افسوس کہ اج سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی مفسر قران بن کے بیٹھا ہوا ہے
06:44
Speaker A
جس کو کوئی دعائیں پڑھنا اگئی چاہے اس نے علم حاصل نہ بھی کیا ہو
06:50
Speaker A
اپ دیکھو گے کس انداز سے الٹے سیدھے وہ طریقے سے اپنے اپنے اپنے ذہن کے مطابق
06:57
Speaker A
قران کی تفسیریں کر رہے ہوتے ہیں
07:01
Speaker A
اور یہ بہت بڑا گناہ ہے
07:05
Speaker A
بہت بڑا جرم ہے
07:07
Speaker A
تو اللہ کے اس کلام کے بارے میں ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں
07:14
Speaker A
ہاں قران کریم کی تفسیر کرنا ہے
07:19
Speaker A
سب سے پہلے دیکھیں کہ اللہ نے خود اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے
07:24
Speaker A
ہاں قران کریم کی بعض ایتیں بعض چیزیں ایک جگہ پر ذکر ہوتی ہیں
07:30
Speaker A
دوسری جگہ پر اس کا اس کی وضاحت بیان ہوتی ہے
07:35
Speaker A
قران میں موجود ہے اس طرح کی چیزیں
07:37
Speaker A
اگر قران سے نہیں ملتی ہم کو تو پھر کیا کریں گے
07:42
Speaker A
ہم احادیث دیکھیں گے
07:44
Speaker A
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ قران کے حقیقی مفسر ہیں
07:51
Speaker A
اور جن کی اصل میں اللہ تعالی کی طرف سے جو مداری تھی
07:56
Speaker A
کہ اپ قران کو بیان کریں
08:00
Speaker A
تو ہم احادیث میں دیکھیں گے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے
08:06
Speaker A
اس کا کیا معنی بیان کیا ہے
08:10
Speaker A
اور حدیثوں میں موجود ہیں بہت سی چیزیں
08:13
Speaker A
اپ حدیث کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں
08:17
Speaker A
اپ کو ایک چیپٹر نظر ائے گا کتاب التفسیر کے نام سے
08:23
Speaker A
اس میں سینکڑوں احادیث کہ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قران کی ایتوں کی سورتوں کی تفسیریں کی ہیں
08:31
Speaker A
اور اگر ہمیں صحابہ کے بعد ان ان سے بھی کوئی چیز نہیں ملتی
08:34
Speaker A
تو پھر تابعین
08:36
Speaker A
کہ جنہوں نے صحابہ سے علم حاصل کیا
08:40
Speaker A
تو یہ ہیں قران کے اصل تفسیر کرنے کے جو انداز ہیں
08:46
Speaker A
اپنی طرف سے باتیں کرتے چلے جائیں
08:51
Speaker A
اپنی طرف سے ہی خیالات میرا خیال یہ ہے میں یہ سمجھتا ہوں
08:57
Speaker A
ایسی چیزیں قران کے اندر نہیں ہونی چاہیے
09:01
Speaker A
تو علی کل حال
09:04
Speaker A
ہم بات کر رہے تھے جو سورتوں کے شروع میں حروف اتے ہیں
09:10
Speaker A
جن کو حروف مقطعات کہتے ہیں
09:13
Speaker A
تو بعض لوگ ان کے معنی بیان کرتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے اس کا معنی یہ ہے
09:19
Speaker A
لیکن اگر قران و حدیث سے اس کی دلیل نہیں ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے
09:25
Speaker A
سمجھے نا
09:27
Speaker A
اچھا یہاں پر بھی یا اور سین دو حرف ہیں
09:32
Speaker A
ہم ہمارے بعض لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں
09:36
Speaker A
کہ یاسین کیا ہے
09:39
Speaker A
نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا نام ہے
09:43
Speaker A
یاسین طہ
09:46
Speaker A
اپ نے شاید پڑھا ہوگا
09:49
Speaker A
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہیں
09:52
Speaker A
لیکن میرے علم میں جہاں تک حدیثوں کا مطالعہ کیا ہے اور ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے
10:01
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث نہیں ملتی کہ جس حدیث میں اپ نے فرمایا ہو
10:06
Speaker A
کہ میرا نام یاسین ہے یا میرا نام طہ ہے
10:11
Speaker A
سمجھے نا
10:13
Speaker A
ایسی کوئی حدیث اپ سے نہیں ملتی
10:16
Speaker A
تو اس کا مطلب کہ پھر لوگوں نے اپنی طرف سے یہ بات بنائی ہوئی ہے
10:21
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حدیثوں میں اپنے ناموں کا ذکر کیا ہے
10:27
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ میرا نام احمد ہے
10:30
Speaker A
میرا نام محمد ہے
10:33
Speaker A
حاشر ہے
10:35
Speaker A
مقفی ہے
10:36
Speaker A
مقفی ہے
10:38
Speaker A
اور اس طرح کے اپ نے ناموں کا ذکر کیا ہے
10:42
Speaker A
لیکن اس میں یاسین کا نام اپ نے ذکر نہیں کیا
10:47
Speaker A
تو یا اور سین حقیقت میں دو حرف ہیں
10:53
Speaker A
کہ جس طرح الف لام میم اس طرح کے حروف ہیں
10:57
Speaker A
یہ بھی حروف مقطعات میں سے ہیں
11:01
Speaker A
اس کا معنی تو اللہ تعالی ہی جانتا ہے
11:04
Speaker A
لیکن اس کا مقصد کیا ہے
11:08
Speaker A
ان حروف کو سورتوں کے شروع میں لانے کا مقصد کیا ہوتا ہے
11:12
Speaker A
مقصد جو ہے یہ بیان کرنا ہے کہ یہ قران کریم عربی زبان میں ہے
11:18
Speaker A
اس کی دلیل کیا ہے
11:21
Speaker A
اس کی دلیل عربی کے یہ حروف جو تمہاری عربی زبان کے حروف ہیں
11:27
Speaker A
انہی عربی عربی کے حروف اس سورت کے شروع میں لائے گئے ہیں کہ جو اس بات کی دلیل ہے کہ قران کریم عربی زبان میں ہے
11:35
Speaker A
اچھا
11:37
Speaker A
یہ بیان کرنے کا مقصد کیا ہے قران کریم عربی زبان میں ہے
11:42
Speaker A
کافروں کو قران کے منکروں کو چیلنج کرنا
11:47
Speaker A
وہ کیا کہتے تھے قران کے بارے میں
11:50
Speaker A
کہ قران اللہ کی کتاب نہیں ہے
11:54
Speaker A
یہ رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے گھڑ کر لائے ہیں نعوذ باللہ
12:00
Speaker A
کسی سے کسی سے سن کر لا کر ہم کو سنا دیتے ہیں
12:03
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرتے
12:05
Speaker A
قران کریم موجود ہے
12:08
Speaker A
تو اللہ تعالی نے ان کو چیلنج کیا
12:11
Speaker A
کہ تم اس جیسا قران لے اؤ
12:14
Speaker A
قران نہیں لا سکتے تو کیا کرو
12:17
Speaker A
دس سورتیں لے اؤ
12:20
Speaker A
دس سورتیں بھی نہیں لا سکتے کم از کم ایک ایک سورت لا کر دکھاؤ
12:26
Speaker A
اور عرب کے لوگ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں
12:31
Speaker A
عرب عربی کے بڑے فصیح و بلیغ بڑی بڑا ان کو فخر و ناز تھا اپنی عربی زبان پر
12:39
Speaker A
اور عربی کے بڑے بڑے مشاعرے ہوتے تھے
12:43
Speaker A
بڑے بڑے مقابلے کمپٹیشن ہوتے تھے
12:48
Speaker A
تو ان کو اپنی عربی زبان پر بڑا ناز تھا کہ ہم عرب کے عربی کے بڑے ماہر ہیں
12:55
Speaker A
تو اللہ نے ان کو چیلنج کیا کہ عربی کے تم بڑے ماہر ہو
12:59
Speaker A
تو پھر تم بھی اس جیسا کوئی قران لا کر دکھاؤ
13:04
Speaker A
اور اج تک کوئی اس چیلنج کو قبول نہیں کر سکا
13:10
Speaker A
کوئی چھوٹی سی چھوٹی سورت بھی
13:13
Speaker A
نہیں لا سکا اور نہ کوئی لا سکے گا
13:17
Speaker A
کیونکہ رب العالمین کا کلام ہے
13:20
Speaker A
ناممکن ہے کہ کسی انسان کو کہ ایسی چیز کو لا سکے
13:26
Speaker A
والقران الحکیم واو قسم کا ہے
13:30
Speaker A
قسم ہے القران الحکیم کی
13:35
Speaker A
قران کا نام قران کیوں ہے
13:39
Speaker A
کبھی اپ نے سوچا ہے
13:42
Speaker A
ویسے تو قران کہتے رہتے ہیں
13:44
Speaker A
سنتے رہتے ہیں
13:46
Speaker A
پڑھتے رہتے ہیں
13:49
Speaker A
لیکن کوئی اپ سے پوچھ لے بھئی قران کا معنی کیا ہے
13:53
Speaker A
اپ کہو گے یہ کتاب ہے اللہ کا کلام ہے
13:56
Speaker A
ہاں ٹھیک ہے کوئی شک نہیں اللہ کا کلام ہے
13:59
Speaker A
لیکن قران کا لفظی طور پر معنی کیا ہے
14:04
Speaker A
قران کس سے ہے
14:07
Speaker A
قرا یقرا
14:09
Speaker A
اور قرا یقرا کا معنی پڑھنا
14:11
Speaker A
اقرا
14:13
Speaker A
جو ہم پڑھتے ہیں
14:16
Speaker A
تو قران جو ہے صیغہ مبالغہ ہے کسی چیز کو پڑھنے کا
14:23
Speaker A
کہ جس چیز کو جس کتاب کو بہت زیادہ پڑھا جاتا ہو
14:30
Speaker A
اور واقعی کائنات میں کائنات میں کوئی ایسی کتاب نہیں جو قران سے زیادہ پڑھی جاتی ہو
14:38
Speaker A
اگرچہ اور دینوں کے ماننے والے بہت لوگ موجود ہیں دنیا کے اندر
14:44
Speaker A
لیکن ان کی کتابیں ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کی کتاب کیا ہے
14:50
Speaker A
کچھ شاذ و نادر پڑھنے والے ہوتے ہیں
14:53
Speaker A
لیکن اللہ کے فضل سے قران یہ وہ عظیم اللہ کا کلام ہے اللہ کی کتاب ہے
15:01
Speaker A
مسلمان کتنا بھی گہ گزرا کیوں نہ ہو کسی نہ کسی حد تک اس قران کو پڑھنے کا
15:07
Speaker A
سننے کا اس کا تعلق ہوتا ہے
15:10
Speaker A
سمجھے نا
15:13
Speaker A
تو اس لیے اس قران سے قران کریم سے بڑھ کر کوئی کائنات کی ایسی کتاب نہیں جس کو پڑھا جاتا ہو
15:20
Speaker A
اس لیے اس کو قران کا نام دیا گیا
15:24
Speaker A
فرمایا کہ والقران قسم ہے اس قران کی
15:28
Speaker A
الحکیم جو بڑی ہی حکمت والا ہے
15:32
Speaker A
حکیم کے اندر دو معنی ہیں
15:35
Speaker A
حکیم کے اندر دو معنی ہیں
15:39
Speaker A
ایک معنی حکمت سے بھرپور ہے
15:41
Speaker A
حکمت کیا ہوتا ہے
15:44
Speaker A
دانائی سچائی
15:47
Speaker A
جو حقیقت پر مبنی ہو
15:51
Speaker A
کہ اس قران کے اندر جو کچھ بیان ہوا ہے
15:54
Speaker A
حق بیان ہوا ہے
15:57
Speaker A
سچ بیان ہوا ہے
16:00
Speaker A
حقیقت پر مبنی ہے
16:02
Speaker A
اور حق اور حقیقت کیوں نہ ہو
16:05
Speaker A
کہ وہ رب العالمین کی طرف سے ہے
16:09
Speaker A
رب کائنات کا بیان ہے
16:11
Speaker A
اس کا کلام ہے
16:13
Speaker A
اس سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے
16:16
Speaker A
ومن اصدق من اللہ قیلا
16:19
Speaker A
اللہ سے بڑھ کر کون ہے جو سچا ہو
16:23
Speaker A
تو اس لیے حکیم کا معنی ایک تو یہ ہے کہ جو حکمت سے بھرپور ہے
16:29
Speaker A
دانائی سے بھرپور ہے کہ جس میں کسی بات کے غلط ہونے کا شائبہ تک نہیں
16:35
Speaker A
اور دوسرا حکیم کا معنی جو محکم ہے بڑا مضبوط ہے
16:42
Speaker A
کہ جس کے اندر کوئی رد و بدل کوئی تبدیلی ہو جانا کوئی بگاڑ پیدا کیا جا سکنا
16:50
Speaker A
ایسا ممکن نہیں ہے
16:53
Speaker A
اور یہ بھی حق اور حقیقت ہے
16:56
Speaker A
اج ساڑھے چودہ سو سال سے یہ کتاب نازل ہو چکی ہے
17:02
Speaker A
لیکن اج تک بھی کوئی ایک اس کے کوئی ایک حرف کو تبدیل نہیں کر سکا
17:10
Speaker A
سمجھے نا
17:12
Speaker A
حکیم کا معنی محکم کے معنی
17:14
Speaker A
جو بڑی مضبوط ہے ٹھوس ہے دو ٹوک ہے
17:19
Speaker A
اور جس میں کسی طرح کا رد و بدل ہونا ممکن نہیں ہے
17:24
Speaker A
اللہ تعالی نے خود اس قران کو نازل کیا ہے
17:29
Speaker A
اور خود ہی اس قران کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے
17:34
Speaker A
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون
17:39
Speaker A
کہ بے شک ہم ہی اس قران کو اس ذکر کو نازل کرنے والے ہیں
17:45
Speaker A
اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
17:50
Speaker A
اور یہ خصوصیت اور یہ یہ چیز صرف اس قران کے ساتھ ہے
17:56
Speaker A
سابقہ کتابوں کو یہ حاصل نہ ہوا
18:00
Speaker A
سابقہ کتابوں تورات انجیل زبور اور بھی اللہ اسمانی کتابیں
18:06
Speaker A
ان کی حفاظت کی اللہ نے ذمہ داری نہیں لی تھی
18:11
Speaker A
ان کی حفاظت کی ذمہ داری اس وقت کے لوگوں کو ڈالی
18:16
Speaker A
ان کو دی
18:18
Speaker A
لیکن وہ نہ حفاظت کر سکے
18:20
Speaker A
اس لیے وہ کتابیں بگڑ گئیں
18:24
Speaker A
بدل دی گئیں
18:27
Speaker A
دیکھیے
18:29
Speaker A
موسی علیہ السلام پر لانے والے انے والی تورات کیا وہ موجود ہے اج
18:33
Speaker A
نہیں موجود
18:35
Speaker A
بلکہ اج تو کیا ہزاروں سال پہلے سے تبدیل ہو چکی ہے
18:41
Speaker A
عیسی علیہ السلام پر انے والی انجیل وہ عیسی علیہ السلام کے اسمانوں سے
18:46
Speaker A
اٹھ اٹھ جانے کے چند سالوں کے بعد ہی تبدیل ہو چکی تھی
18:52
Speaker A
لیکن یہ قران اج تک بھی
18:56
Speaker A
انہی حروف کے ساتھ میں محفوظ ہے جس طرح سے اسمان سے نازل ہوا تھا
19:02
Speaker A
اور محفوظ رہے گا
19:05
Speaker A
اپ پوچھو گے
19:07
Speaker A
کہ قران کی یہ خصوصیت کیوں ہے
19:10
Speaker A
سابقہ کتابوں کو یہ چیز کیوں حاصل نہ ہوئی
19:15
Speaker A
کیا وجہ ہے
19:16
Speaker A
کیا وجہ ہو سکتی ہے
19:19
Speaker A
ایک تو اس قران کی عظمت
19:23
Speaker A
اس قران کی عظمت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے ہاں یہ قران کس قدر عظیم ہے
19:28
Speaker A
اور دوسری بات بھائیو جو اہم ترین چیز ہے وہ کیا ہے
19:33
Speaker A
کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخری نبی ہیں
19:38
Speaker A
اپ کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی انے والا نہیں ہے
19:44
Speaker A
اور یہ قران اللہ کی طرف سے انے والی اخری کتاب ہے
19:49
Speaker A
جو لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے
19:53
Speaker A
تو اس لیے اس کتاب کا محفوظ رہنا ضروری ہے
19:59
Speaker A
تاکہ قیامت تک انے والے لوگ اس صحیح کتاب سے ہدایت حاصل کرتے رہیں
20:05
Speaker A
جو اللہ نے اسمان سے نازل کی
20:09
Speaker A
یعنی فرض کریں تورات لوگوں نے بگاڑ دی
20:13
Speaker A
انجیل کو لوگوں نے بدل دیا
20:16
Speaker A
لیکن بعد میں انے والے انبیاء بیان کرتے رہے کہ اس میں تبدیلی ہے اس میں بگاڑ ہے
20:25
Speaker A
لیکن اپ اپ کے بعد جو نبی نہیں ائے گا تو کون بیان کرے گا قران میں کیا تبدیلی ائی
20:31
Speaker A
قیامت سے پہلے والے اج کے زمانے کے لوگ فرض کرو اگر قران تبدیل ہو چکا ہوتا
20:37
Speaker A
تو ہدایت ان کو کہاں سے ملتی
20:41
Speaker A
تو اس لیے عقلی طور پر بھی اس بات کا تقاضا ہے کہ قران قیامت تک جو ہے محفوظ رہے
20:48
Speaker A
تاکہ کسی وقت بھی انے والا شخص جو ہے وہ اللہ کی طرف سے جو صحیح ہدایت ہے
20:54
Speaker A
اس کو پاتا رہے اس کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو
20:59
Speaker A
تو فرمایا کہ یہ قران بڑا ہی جو حکمت سے بھرپور ہے
21:03
Speaker A
دانائی سے بھرپور ہے اور جو دو ٹوک ہے
21:06
Speaker A
جس میں ہر چیز جو ہے واضح ہے
21:11
Speaker A
اور جس میں کسی چیز کی کوئی تبدیلی ہونے والی رد و بدل ہونے والا نہیں ہے
21:17
Speaker A
اور یہ والقران الحکیم
21:21
Speaker A
اگے کیا فرمایا انک لمن المرسلین
21:25
Speaker A
کہ بے شک اپ یقینا اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ہو
21:32
Speaker A
قران کریم کا محکم حکیم ہونا ہی اپ کے سچے رسول ہونے کی دلیل ہے
21:42
Speaker A
اپ سے اگر سوال کیا جائے کہ کیا دلیل ہے اس میں
21:47
Speaker A
کیا بیان کریں گے
21:50
Speaker A
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھنا لکھنا جانتے تھے
21:55
Speaker A
قران کریم میں اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کئی بار اس چیز کا ذکر کیا ہے
22:00
Speaker A
النبی الامی
22:03
Speaker A
کہ وہ نبی کہ جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے
22:09
Speaker A
اور یہ پڑھنا لکھنا نہ جاننا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی کمزوری کی کوئی نقص کی دلیل نہیں
22:16
Speaker A
بلکہ اپ کی عظمت کی دلیل ہے
22:20
Speaker A
کہ ایک وہ شخص کہ جس کو پڑھنا نہ اتا ہو جس کو لکھنا نہ اتا ہو
22:27
Speaker A
اس جیسا قران لے ائے
22:32
Speaker A
سمجھے نا کہ جس جیسی کتاب کائنات میں نہ پائی گئی ہو
22:38
Speaker A
اس کا معنی کیا ہے
22:41
Speaker A
کہ ایک ادمی نہ پڑھنا جانتا ہے نہ لکھنا جانتا ہے اس طرح کی عظیم کتاب لا رہا ہے
22:47
Speaker A
تو کہاں سے لا رہا ہے وہ
22:51
Speaker A
خود لکھ رہا ہے
22:53
Speaker A
اپنی طرف سے ہو سکتا ہے اس کا
22:55
Speaker A
نہیں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی طرف سے ہے
23:00
Speaker A
تو اس قران کا حقیقت ہونا سچ ہونا حکیم ہونا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا نبی ہونے کی دلیل ہے
23:09
Speaker A
کیسے سچا نبی ہونے کی دلیل ہے
23:13
Speaker A
کہ ناممکن ہے کہ ایک ان پڑھ انسان جو ہے ایسے عظیم کلام کو لا سکے
23:21
Speaker A
تو اس لیے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا اس قران کو لانا ہی اس بات کی دلیل ہے
23:27
Speaker A
کہ اپ اللہ کے سچے نبی ہو
23:32
Speaker A
اور اس لیے اگلی ایت میں اسی چیز کا بیان کیا پھر فرمایا
23:36
Speaker A
انک لمن المرسلین
23:40
Speaker A
کہ بے شک ضرور اپ بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ہو
23:47
Speaker A
اچھا بے شک ضرور یہ ساری چیزیں کیا ہیں
23:50
Speaker A
تاکید کے لیے
23:52
Speaker A
کسی چیز کو مزید اس کی تاکید کرنے کے لیے
23:57
Speaker A
اس کی ضرورت کیوں پیش ائی
24:00
Speaker A
کیونکہ کافر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے
24:05
Speaker A
کہتے کہ اپ نبی نہیں ہو
24:08
Speaker A
سورہ رعد اللہ فرماتا ہے کافروں کے بارے میں
24:12
Speaker A
ویقول الذین کفروا لست مرسلا
24:16
Speaker A
کہ کافر کہتے ہیں کہ اپ رسول نہیں ہو
24:21
Speaker A
تو جس طرح سے کافروں نے اپ کی رسالت کا انکار کیا
24:28
Speaker A
اور بڑی شدت سے انکار کیا
24:31
Speaker A
اللہ نے اسی طرح سے ان کا سختی سے جواب دیا
24:38
Speaker A
تاکیدوں سے جواب دیا
24:40
Speaker A
کہ یہ کہتے ہیں کہ تم نبی رسول نہیں ہو
24:44
Speaker A
یقینا ضرور تم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہو
24:50
Speaker A
اور قران کریم میں اللہ نے اپ اپ کے متعلق جگہ جگہ اس چیز کا بیان کیا ہے
24:56
Speaker A
کیونکہ اپ کے زمانے کے کافر بھی اور اج تک بھی
25:01
Speaker A
پروپیگنڈا چلتا ہے
25:04
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپ کی نبوت کے خلاف اپ کی رسالت کے خلاف
25:09
Speaker A
اور یہ ہوتا رہا ہے اپ کے ساتھ نہیں
25:12
Speaker A
بلکہ اپ کے پہلے اپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے
25:16
Speaker A
ان کی نبوت کا انکار کہ تم نبی نہیں ہو
25:20
Speaker A
اپنی طرف سے اٹھ کر اگئے ہو
25:23
Speaker A
حالانکہ مکہ کے لوگ عرب کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن سے لے کر جانتے تھے
25:30
Speaker A
کہ اپ کون ہیں
25:33
Speaker A
بلکہ اپ کو نبوت رسالت ملنے سے پہلے اپ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے
25:41
Speaker A
اپ نے سب سے پہلے جو اعلان کیا اپنی نبوت کا
25:48
Speaker A
تو نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے اپ نے کیا منوایا ان سے
25:53
Speaker A
اپ کو معلوم ہوگا
25:54
Speaker A
کہ صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اپ نے کیا اعلان کیا
25:59
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے کوئی لشکر فوج ہے
26:05
Speaker A
جو تم پر حملہ کرنا چاہتی ہے
26:09
Speaker A
تو کیا میری بات مانو گے
26:12
Speaker A
تو سبھی نے کہا کہ اپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا
26:15
Speaker A
اپ ہمیشہ سچ بولتے ہو
26:18
Speaker A
اپ نے پہلے اپ نے اپ کو سچا منوایا
26:22
Speaker A
سمجھے نا
26:24
Speaker A
اپ نے اپنے اپ کو پہلے سچا منوایا ان ان لوگوں سے
26:29
Speaker A
کہ واقعی میں سچا ہوں
26:32
Speaker A
اگر تم سچا مانتے ہو تو میری اج کی بات بھی پھر سچی ہے
26:35
Speaker A
اور وہ کیا ہے کہ تم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے ایا ہوں
26:40
Speaker A
تو کہنے کا معنی کیا ہے
26:42
Speaker A
کہ یہ اپ کے بدترین دشمن بھی اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ اپ واقعی ہی سچے ہیں
26:51
Speaker A
اور اپ کو صادق اور امین کہتے تھے
26:56
Speaker A
لیکن صرف اور صرف ہٹ دھرمی ضد اور تعصب اور عناد
27:04
Speaker A
کیونکہ اپ وہ دین لے کر ائے تھے جو ان کے باپ دادا کے دین کے
27:09
Speaker A
ساتھ نہیں اٹیچ ہوتا تھا
27:11
Speaker A
اس کے ساتھ ان کے ساتھ میل نہیں تھا
27:13
Speaker A
باپ دادا کا دین
27:15
Speaker A
اپنی مرضی کا دین
27:19
Speaker A
اور جس کو چاہا اس کے سامنے گر گئے جس کو چاہا اس کو پکارا
27:25
Speaker A
اور جو چاہا کر لیا
27:27
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اللہ کا دین
27:31
Speaker A
کہ جس میں وہ منمانی کے دین نہیں چلتا
27:35
Speaker A
اصل مسئلہ یہ تھا
27:38
Speaker A
اس لیے کافر اپنی اس منمانی کے دین کو نہیں چھوڑنا چاہتے تھے ورنہ اپ کے بارے میں ان کو کوئی شک نہیں تھا
27:45
Speaker A
کہ اپ اللہ کے سچے نبی ہیں
27:50
Speaker A
بلکہ سورۃ الانعام ساتویں پارے میں اللہ فرماتا ہے
27:55
Speaker A
انہم لا یکذبونک
27:59
Speaker A
کہ کافر لوگ اپ کو نہیں جھٹلاتے
28:04
Speaker A
اپ کو نہ جھٹلانے کا معنی کہ ان کو یقین ہے کہ اپ سچے ہو
28:09
Speaker A
اس ایت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے واقعہ لکھا ہے
28:15
Speaker A
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہوتے تھے جب تو رات کو تہجد کی نماز پڑھتے
28:22
Speaker A
اور اپنے گھر میں تہجد کی نماز پڑھتے
28:27
Speaker A
اور اونچی اواز سے قران کی تلاوت کرتے
28:32
Speaker A
تو مکہ کے بعض کافر اور کافر نہیں بلکہ مکہ کے بڑے بڑے سردار
28:39
Speaker A
اتے جب اپ تلاوت کر رہے ہوتے رات کو تو اپ کے گھر کے اس پاس چھپ کر بیٹھتے اور اپ کی تلاوت سنتے
28:49
Speaker A
تو ایک دن کیا ہوا
28:51
Speaker A
کہ ابو جہل اور ایک اور بڑا مکہ کا سردار ابو البختری
28:58
Speaker A
دونوں اپ کی جب تلاوت ختم ہوئی تو دونوں گھروں کو لوٹنے لگے
29:03
Speaker A
یہ اس گلی سے جا رہا ہے وہ اس گلی سے جا رہا ہے
29:07
Speaker A
لیکن اگے کہیں دونوں ایک گلی میں مل گئے
29:12
Speaker A
تو دونوں کو پتہ چل گیا کہ کہاں سے ا رہے ہیں
29:16
Speaker A
یہ بے ایمان کیا کرتے تھے وہاں پر چھپ کر بیٹھتے تھے
29:19
Speaker A
تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم قران سن رہے ہیں
29:22
Speaker A
کیونکہ خود تو لوگوں کو قران سننے سے منع کرتے تھے نا
29:27
Speaker A
کہ قران نہیں سنو
29:30
Speaker A
لیکن خود سنتے تھے
29:33
Speaker A
کیسے سنتے تھے
29:35
Speaker A
پتہ تھا کہ قران کیا ہے
29:39
Speaker A
تو میں واقعہ سنانا چاہتا ہوں تاکہ اپ کو پتہ چلے
29:45
Speaker A
کہ ان کو پتہ تھا کہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام سچے ہیں اور یہ قران سچا ہے
29:52
Speaker A
تو دونوں سردار ملتے ہیں ایک گلی میں اگے چل کر
29:58
Speaker A
تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ جو سن کر ائے ہو
30:03
Speaker A
اس کے بارے میں کیا خیال ہے
30:07
Speaker A
ابو البختری ابو جہل سے پوچھتا ہے کہ جو سن کر ائے ہو کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں
30:14
Speaker A
ابو جہل کہتا ہے ہے تو سچ
30:18
Speaker A
ہے تو سچ
30:21
Speaker A
تو ابو البختری کہتا ہے پھر ایمان کیوں نہیں لاتے
30:25
Speaker A
پھر مان کیوں نہیں لیتے
30:28
Speaker A
ابو جہل کیا کہتا ہے
30:30
Speaker A
دیکھیے انسان کی بدبختی کیا ہوتی ہے
30:34
Speaker A
کہتا ہے ابو جہل کہ ہمارا اور بنو ہاشم اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان کیا تھا
30:40
Speaker A
بنو ہاشم
30:42
Speaker A
اور ابو جہل کا خاندان کون تھا
30:46
Speaker A
یہ بھی قریشی تھا
30:49
Speaker A
اس کا خاندان تھا بنو مخزوم
30:53
Speaker A
اور دونوں ہی بیت اللہ کی سرپرستی میں بیت اللہ کے حاجیوں کو پانی پلانے ان چیزوں کے اندر دونوں کی ٹسل تھی
31:01
Speaker A
دونوں کا کمپٹیشن مقابلہ تھا
31:06
Speaker A
تو ابو جہل کہتا ہے ہم بنو ہاشم کا مقابلہ کر رہے ہیں اس چیز میں
31:13
Speaker A
اور ہم واقعی اس مقابلے میں پورے اتر رہے ہیں
31:18
Speaker A
لیکن اگر ہم بنو ہاشم کے اس ادمی کو نبی مان لیتے ہیں تو ہمارے اندر کب کوئی نبی کھڑا ہوگا
31:25
Speaker A
کہ جو ان کے مقابلے میں کھڑا کریں گے
31:29
Speaker A
تو مقصد کیا ہوا صرف اور صرف انا کا
31:33
Speaker A
صرف اپنی انا کا مسئلہ ہے صرف ضد بادی کا مسئلہ ہے
31:37
Speaker A
اور کچھ نہیں ہے
31:39
Speaker A
ورنہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام صادق اور امین سچے ہیں
31:45
Speaker A
اور اپ کا لایا ہوا قران سچا ہے
31:49
Speaker A
اور یہی بات بھائیو انسان کی سب سے بڑی بدبختی ہے
31:54
Speaker A
کہ ایک چیز کو صحیح سمجھتے ہوئے حق سمجھتے ہوئے پھر بھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو
32:01
Speaker A
تو خیر بات کر رہے تھے
32:04
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے انک لمن المرسلین
32:10
Speaker A
اللہ نے بڑی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ بے شک اپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ہو
32:19
Speaker A
علی صراط مستقیم
32:22
Speaker A
سیدھی راہ پر ہو
32:25
Speaker A
قران لائے ہو جو اللہ کی سچی کتاب ہے
32:29
Speaker A
اللہ کے سچے نبی رسول ہو
32:33
Speaker A
اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ہی راستہ سب سے سیدھا سچا راستہ ہے
32:39
Speaker A
اور یہ بہت بڑا سبق ہے ہمارے لیے
32:42
Speaker A
کہ اگر اپ کو صراط مستقیم چاہیے جس صراط مستقیم کے اپ ہر فاتحہ میں دعا کرتے ہو
32:48
Speaker A
کیا دعا کرتے ہو
32:51
Speaker A
اہدنا الصراط المستقیم
32:55
Speaker A
کیا معنی
32:58
Speaker A
اللہ ہم کو ہدایت دے دے ہم کو چلا دے دکھا دے کس پر
33:03
Speaker A
صراط مستقیم پر
33:05
Speaker A
صراط کا معنی راستہ
33:07
Speaker A
مستقیم سیدھا
33:09
Speaker A
ہم کو سیدھے راستے پر چلا دے
33:12
Speaker A
ہر فاتحہ میں ہم دعا کرتے ہیں
33:15
Speaker A
ہم کو اے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلا دے
33:19
Speaker A
وہ سیدھا راستہ کون سا ہے
33:23
Speaker A
انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم
33:27
Speaker A
تم ہو سیدھے راستے پر
33:30
Speaker A
کون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
33:33
Speaker A
اس لیے جس کو صراط مستقیم کو پانا ہو
33:39
Speaker A
اور جسے صراط مستقیم پر چلنا ہو
33:43
Speaker A
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلے
33:48
Speaker A
اور صراط مستقیم کے معنی سیدھا راستہ بھی
33:51
Speaker A
سیدھا راستہ کہاں جاتا ہے
33:55
Speaker A
اللہ کو جاتا ہے
33:57
Speaker A
جنتوں کو جاتا ہے
34:00
Speaker A
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا
34:05
Speaker A
کہ میری امت کے لوگ 73 فرقوں میں تقسیم ہوں گے
34:10
Speaker A
73 یعنی 73 فرقے جماعتیں بنیں گی
34:15
Speaker A
گروہ بنیں گے
34:17
Speaker A
جو کلمہ پڑھنے والے ہوں گے
34:20
Speaker A
مسلمان کہلانے والے ہوں گے
34:23
Speaker A
اللہ رسول کو ماننے کا دعوی کریں گے
34:27
Speaker A
لیکن کیا سبھی جنت میں جائیں گے
34:30
Speaker A
فرماتے ہیں کہ صرف ایک جنت میں جائے گا
34:35
Speaker A
صرف ایک جماعت ایک گروہ جنت کو جائے گا
34:40
Speaker A
صحابہ نے پوچھا وہ کون سا ہے
34:43
Speaker A
اپ نے فرمایا کہ ما انا علیہ واصحابی
34:47
Speaker A
وہ گروہ ہے کہ جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر ہے
34:53
Speaker A
جو اپ کا راستہ طریقہ ہے
34:56
Speaker A
جو اپ کے صحابہ کا راستہ طریقہ ہے
34:59
Speaker A
یہ ہے جو جنت کو جاتا ہے
35:03
Speaker A
جو اپ کے راستے پر نہیں ہے وہ صراط مستقیم پر نہیں ہے
35:09
Speaker A
وہ جنت کے راستے پر نہیں ہے
35:12
Speaker A
اس لیے بھائیو بہت بڑی ہمیں یہاں پر سبق ملتا ہے اس بات کا
35:18
Speaker A
کہ ہمیں صراط مستقیم کو پہچاننے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو جاننا
35:24
Speaker A
کہ اپ کا راستہ کیا تھا
35:28
Speaker A
اور اپ کا راستہ کہاں سے معلوم ہوگا
35:31
Speaker A
کیسے معلوم ہوگا
35:34
Speaker A
اپ تو دنیا سے چلے گئے
35:38
Speaker A
ہاں اپ اگرچہ چلے گئے دنیا سے لیکن اپ کی سنت اپ کی احادیث
35:45
Speaker A
اپ کی چھوڑی ہوئی تعلیمات قیامت تک باقی ہیں جاری ساری ہیں
35:52
Speaker A
کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا اپ کا طریقہ کیا تھا
36:00
Speaker A
اپ کا عقیدہ کیا تھا
36:03
Speaker A
اپ کی عبادت کا طریقہ کیا تھا
36:07
Speaker A
نماز روزہ حج زکوۃ
36:11
Speaker A
اپ کے اخلاق و کردار کیا تھے
36:16
Speaker A
اپ کی اکانومی کس طرح سے اپ مال کس طرح سے کماتے کیسے خرچ کرتے تھے
36:23
Speaker A
اپ کے گھریلو معاشرتی معاملات ان میں اپ کے کیا معاملات ہوتے تھے
36:30
Speaker A
خوشی غمی کے میں اپ کے کیسے معاملات ہوتے تھے
36:35
Speaker A
یہ سارا کیا ہے
36:37
Speaker A
یہ سارا اپ کی سیرت اپ کا طریقہ اپ کی سنت
36:44
Speaker A
ہیں یہ ہے جو صراط مستقیم ہے
36:48
Speaker A
تو قران دو ٹوک الفاظ پر یہاں پر گواہی دیتا ہے
36:54
Speaker A
کہ اگر کوئی سب سے سچا صراط مستقیم کا راستہ ہے تو کس کا ہے
37:00
Speaker A
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے
37:02
Speaker A
اور کوئی شک نہیں کہ اس میں کوئی شک ہونا بھی نہیں چاہیے
37:07
Speaker A
کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑھ کر کس کا سچا صحیح راستہ ہو سکتا ہے
37:13
Speaker A
اپ سے بڑھ کر کون ہے جو صراط مستقیم پر ہو سکتا ہے
37:18
Speaker A
لیکن افسوس
37:21
Speaker A
کہ اج اکثر و بیشتر اپ کا کلمہ پڑھنے والے اپ کا نام لینے والے جو ہیں
37:30
Speaker A
اپ کے راستے کو چھوڑ کر اور راستوں کو پسند کرتے ہیں
37:35
Speaker A
ان پر چلنا ان کو زیادہ اچھا لگتا ہے
37:39
Speaker A
قران کو چھوڑ کر حدیث کو چھوڑ کر
37:42
Speaker A
نہیں یہ کتاب پڑھو اس سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے
37:47
Speaker A
اس سے بڑی تربیت ہوتی ہے
37:50
Speaker A
اس سے بڑی روحانیت ملتی ہے
37:52
Speaker A
سمجھے نا
37:55
Speaker A
اپ کے سکھائے ہوئے طریقے چھوڑ کر درود ابراہیمی
38:02
Speaker A
جو اپ نے خود سکھایا صحابہ کرام کو
38:07
Speaker A
اور درود کے طریقے
38:09
Speaker A
ان کو چھوڑ کر ہمارے ہاں طرح طرح کے درود کے طریقے گھڑے ہوئے ہیں لوگوں نے
38:15
Speaker A
فلاں درود وہ نام رکھے ہوئے ہیں الگ الگ
38:19
Speaker A
نمازیں
38:22
Speaker A
یہ فلاں کی نماز ہے فلاں کی نماز ہے
38:25
Speaker A
نمازوں کے نام ہی الگ رکھے ہوئے ہیں
38:28
Speaker A
اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز سے ہٹ کر
38:33
Speaker A
اور اس طرح سے
38:36
Speaker A
تو معنی کیا ہے
38:39
Speaker A
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو صراط مستقیم کو چھوڑ کر اور راستوں پر چلنے والے بھائیو جنت کے راستے پر نہیں ہیں
38:48
Speaker A
جنت کا راستہ صرف وہی ہے جو نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا راستہ ہے
38:51
Speaker A
اور اللہ نے جنت کو جانے کا صرف ایک ہی راستہ رکھا ہے کوئی دوسرا نہیں رکھا
38:57
Speaker A
اس لیے ہمیں ضرورت ہے اشد ترین یہاں پر کہ ہم اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو پہچانیں
39:02
Speaker A
اور قران کریم میں یہاں پر بھی اور بھی کئی ایتوں پر دوسری ایت میں اللہ فرماتا ہے
39:09
Speaker A
وانک لتہدی الی صراط مستقیم
39:14
Speaker A
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقینا اپ ہو جو صحیح راستے کی طرف ہدایت دیتے ہو
39:22
Speaker A
اپ ہو جو صحیح راستے کی طرف ہدایت دیتے ہو
39:28
Speaker A
صراط اللہ الذی لہ ما فی السماوات وما فی الارض
39:32
Speaker A
وہ اللہ کا راستہ جو اسمان و زمین کا مالک ہے
39:37
Speaker A
الا الی اللہ تصیر الامور
39:40
Speaker A
تو کہنے کا مقصد یہ ہے جو اللہ کا راستہ ہے
39:44
Speaker A
یہ ہے جو صراط مستقیم ہے
39:48
Speaker A
کہ جس صراط مستقیم کو ایک مسلمان کو اپنانے کی اس پر چلنے کی ضرورت ہے
39:55
Speaker A
اور جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک ہم کو صراط مستقیم کی سمجھ نہیں ائے گی
40:01
Speaker A
اس پر نہیں چل سکیں گے
40:04
Speaker A
کیونکہ اج ہر کوئی ہر جماعت ہر فرقہ ہر گروہ بلکہ گروہ تو کیا
40:10
Speaker A
ہر دنیا کا دین اور مذہب وہ کہتے ہیں کہ ہم سچے ہیں
40:14
Speaker A
باقی سارے جھوٹے ہیں
40:17
Speaker A
ہندو سے کسی سے پوچھو
40:20
Speaker A
وہ کیا کہے گا
40:23
Speaker A
کہ ہمارا دین سچا ہے
40:25
Speaker A
باقی سارے جھوٹے ہیں
40:28
Speaker A
کس کرسچن سے پوچھو
40:31
Speaker A
بھئی اصل تو ہم ہیں
40:34
Speaker A
ہمارا دین ہے
40:36
Speaker A
باقی سارے غلط ہیں
40:40
Speaker A
اور مسلمانوں کی طرف ا جاؤ
40:43
Speaker A
طرح طرح کی جماعتیں ہیں
40:46
Speaker A
فرقے ہیں
40:47
Speaker A
گروہ ہیں
40:50
Speaker A
ہر کوئی اپنے اپ کو سچا دوسرے کو جھوٹا بتاتا ہے
40:56
Speaker A
تو یہاں پر ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ صراط مستقیم کیا ہے
41:01
Speaker A
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے
41:05
Speaker A
اور اللہ کے فضل سے اپ کی سنتیں موجود ہیں
41:11
Speaker A
اپ کی سنتیں واضح ہیں
41:14
Speaker A
دو ٹوک ہیں
41:17
Speaker A
صرف ان کو سمجھنے کی سیکھنے کی ضرورت ہے
41:21
Speaker A
ایک مسلمان کو ضرورت ہے اپنے اپنے دین کو سمجھنے سیکھنے کی
41:24
Speaker A
اس پر ٹائم دینے کی
41:26
Speaker A
اچھا اخر میں چلتے ہیں
41:29
Speaker A
علی صراط مستقیم
41:32
Speaker A
تنزیل العزیز الرحیم
41:36
Speaker A
ہاں اپ جو قران لے کر ائے ہو وہ کس کی طرف سے ہے
41:41
Speaker A
تنزیل نازل کیا جانے والا ہے العزیز الرحیم
41:48
Speaker A
اس ذات کی طرف سے کہ جو بڑا ہی عزیز الرحیم ہے
41:55
Speaker A
اس نے کیا معنی ہے
41:58
Speaker A
کہ اگر اج اب بھی توبہ کر لو خاص طور پر کافروں کو پیغام
42:03
Speaker A
دین کو قران کے منکروں کو اپ کے منکروں کو اپ کے دشمنوں کو پیغام
42:09
Speaker A
کہ ٹھیک ہے تم دشمنیاں کر چکے ہو مخالفتیں کر چکے ہو
42:14
Speaker A
لیکن اب بھی اگر پلٹ اتے ہو تو اللہ بڑا رحیم ہے
42:20
Speaker A
اللہ بڑا بخشنے والا ہے
42:24
Speaker A
اللہ بڑا رحیم و کریم ہے
42:28
Speaker A
ہاں واقعی اللہ تعالی کی یہ دونوں صفتیں ہمارے سامنے ہونا چاہیے
42:34
Speaker A
ایک طرف اللہ تعالی کا عزیز ہونا اس کا غلبہ اس کی قوت اس کا زور
42:41
Speaker A
اور دوسری طرف رحیم اس کا رحم
42:45
Speaker A
یہ دونوں صفتیں ہی ہر مومن مسلمان کے دل میں ہمیشہ اللہ تعالی کی یہ دونوں صفتیں اس کے دل میں ہونی چاہیے
42:52
Speaker A
کہ جو اس کو کنٹرول کرتی ہیں
42:54
Speaker A
کیسے کنٹرول کرتی ہیں
42:57
Speaker A
کہ جب اللہ تعالی کے عزیز ہونے کی صفت کو دیکھتا ہے
43:04
Speaker A
تو اللہ تعالی کی پکڑ
43:08
Speaker A
اللہ کا عذاب اس کی گرفت
43:11
Speaker A
یہ چیزیں سامنے اتی ہیں
43:14
Speaker A
اور جب رحیم ہونے کا معنی دیکھتا ہے
43:18
Speaker A
ہاں اللہ تعالی ہے تو بڑی پکڑ کرنے والا
43:22
Speaker A
لیکن ساتھ ساتھ بخش بھی دیتا ہے
43:26
Speaker A
اور رحم بھی کرتا ہے
43:30
Speaker A
اور یہی اللہ تعالی کی دونوں صفتیں قران کریم میں کئی جگہوں پر ذکر ہوئی ہیں
43:39
Speaker A
نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم
43:43
Speaker A
سورہ حجر میں اللہ فرماتا ہے
43:45
Speaker A
کہ میرے میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بڑا ہی غفور الرحیم ہوں
43:51
Speaker A
بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہوں
43:54
Speaker A
وان عذابی العذاب الالیم
43:58
Speaker A
اور میرا عذاب جو ہے وہ بھی بڑا سخت ترین عذاب ہے
44:03
Speaker A
میرا عذاب بھی بڑا سخت ترین عذاب ہے
44:07
Speaker A
ان دونوں کے اندر کیا پیغام ملتا ہے
44:11
Speaker A
ایک طرف اللہ تعالی کی رحمت کی امید
44:17
Speaker A
اور دوسری طرف اللہ تعالی کی پکڑ اس کے عذاب کا ڈر
44:23
Speaker A
یہ دونوں چیزیں جب انسان کے دل میں ہوتی ہیں تو پھر وہ صحیح چلتا ہے
44:30
Speaker A
لیکن جب ایک چیز کو غالب کر دیا جائے اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
44:37
Speaker A
کوئی گناہ کر رہا ہو کوئی غلطی کر رہا ہو کوئی جرم کر رہا ہو
44:40
Speaker A
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
44:43
Speaker A
غفور الرحیم تو ہے
44:45
Speaker A
لیکن اس کے ساتھ ساتھ شدید العقاب بھی ہے
44:49
Speaker A
اس کی پکڑ بڑی سخت ہے
44:52
Speaker A
سمجھے نا جس اللہ نے جنت بنائی ہے
44:55
Speaker A
اس نے جہنم بھی بنائی ہے
44:58
Speaker A
جہنم کس کے لیے ہے
45:02
Speaker A
بھئی بلکہ زیادہ تر تو جانے والے کہاں پر ہیں
45:09
Speaker A
ادم علیہ السلام کو اللہ تعالی قیامت کے دن کیا کہے گا
45:15
Speaker A
اے ادم اپنی اولاد سے جہنم کا ایندھن نکال
45:20
Speaker A
جہنم کا حصہ نکال
45:23
Speaker A
ادم علیہ السلام پوچھیں گے
45:24
Speaker A
اللہ کتنا حصہ
45:28
Speaker A
ہاں کتنا حصہ ہوگا
45:32
Speaker A
اللہ فرمائے گا کہ ہزار میں سے 999
45:40
Speaker A
ہزار میں سے 999 جہنم کے لیے
45:45
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ یہ وہ
45:48
Speaker A
بات جب ہوگی اللہ کی طرف سے
45:50
Speaker A
تو وہاں پر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے
45:55
Speaker A
کہ ہزار میں سے 999 جہنم کو جانے والے
45:59
Speaker A
اور ایک صرف جنت کو جانے والا
46:03
Speaker A
اس لیے ہمیں یہاں پر سمجھنے کی ضرورت ہے اس بات کو
46:08
Speaker A
کہ جو اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ عزیز بھی ہے
46:16
Speaker A
اس لیے اللہ تعالی نے اکثر و بیشتر اپنی دونوں صفتیں ساتھ ساتھ بیان کی ہیں
46:22
Speaker A
کہ اللہ کا غلبہ اس کا زور اس کی قوت
46:28
Speaker A
اور ساتھ ساتھ اس کا رحم
46:32
Speaker A
تاکہ اللہ کی رحمت کی امید رکھیں کہ جتنے بھی گناہ کر لیے ہیں
46:37
Speaker A
اللہ تعالی بخش دے گا بخش سکتا ہے
46:40
Speaker A
توبہ کرنے کی ضرورت ہے
46:43
Speaker A
ہاں مایوس نہ ہوں اللہ سے
46:46
Speaker A
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں توبہ کریں
46:51
Speaker A
قل عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ
46:57
Speaker A
میرے بندوں سے جو اپنی بڑے گناہ کر چکے ہو ان سے کہہ دو کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو
47:06
Speaker A
ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا
47:09
Speaker A
کہ اللہ تعالی سبھی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے بشرط کہ بندہ توبہ تائب ہو
47:15
Speaker A
ہاں یہ ہے
47:18
Speaker A
لیکن یہ ہے کہ اللہ بڑا غفور الرحیم ہو کر گناہ کرتا چلا جائے
47:23
Speaker A
توبہ کرنے کی توفیق بھی نہیں ہو
47:24
Speaker A
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
47:28
Speaker A
یہ اللہ تعالی کے ساتھ حقیقت میں مذاق ہے
47:32
Speaker A
اللہ کے ساتھ مذاق ہے
47:35
Speaker A
کہ جرم بھی کرتے جاؤ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
47:40
Speaker A
توبہ کرنے کی توفیق بھی نہیں ہو
47:41
Speaker A
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
47:45
Speaker A
اس لیے یہاں پر اللہ تعالی دونوں چیزیں بیان کرتا ہے
47:49
Speaker A
کہ قران کس کس کی طرف سے نازل ہوا ہے اس ذات کی طرف سے جو بڑا غلبے والا ہے
47:57
Speaker A
جس کا بڑا زور ہے بڑی قوتیں ہیں
48:03
Speaker A
اور بڑا ہی بخشنے والا ہے
48:06
Speaker A
کتنے بھی گناہ کر چکے ہو اور توبہ کر لو تو اللہ تعالی معاف کر دے گا
48:12
Speaker A
کتنی بھی دشمنیاں کر چکے ہو اسلام کی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
48:16
Speaker A
پھر بھی اگر توبہ کرتے ہو تو اللہ معاف کر دیتا ہے
48:20
Speaker A
بخش دیتا ہے
48:21
Speaker A
بخش دیتا ہے
48:22
Speaker A
تو اس میں دونوں طرح کے پیغام ہیں
48:25
Speaker A
تو اج یہ ہم نے پانچ ایتیں لی ہیں کہ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا بیان ہے
48:31
Speaker A
کہ اپ اللہ کے سچے نبی ہیں
48:34
Speaker A
قران کی حقیقت کا بیان ہے کہ قران کیا ہے
48:38
Speaker A
اللہ کی کتاب اللہ کی طرف سے نازل شدہ
48:42
Speaker A
کہ جس میں کوئی شک کی بات نہیں
48:46
Speaker A
اور جو اس عزیز اور رحیم ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے
48:53
Speaker A
کہ جس پر چلو گے تو اللہ کی طرف سے تمہیں کیا انعامات ملیں گے اور نہ چلو گے تو اللہ کی تمہارے لیے کیا پکڑ ہو سکتی ہے
49:08
Speaker A
تو یہ ہے اج کی پانچ ایتیں جس میں ہمیں یہ پیغام ملے ہیں
49:12
Speaker A
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں جو کہا اور سنا ہے اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
49:17
Speaker A
بارک اللہ فیکم وجزاکم اللہ خیر
49:19
Speaker A
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد

Transcribe Another YouTube Video

Paste any YouTube link and get the full transcript with timestamps for free.

Transcribe a YouTube Video