1 – Tafseer Surah Yaseen – Ayaat 1- 5 || Dr Mahboob A… — Transcript

سورہ یاسین کی پہلی پانچ آیات کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیری جائزہ، قرآن کی فضیلت اور حروف مقطعات کی وضاحت۔

Key Takeaways

  • قرآن کی تفسیر میں حدیث اور سنت کی پابندی ضروری ہے۔
  • حروف مقطعات کے معنی صرف اللہ جانتا ہے، اپنی رائے دینا جائز نہیں۔
  • قرآن کریم کی فضیلت اور بلاغت ناقابلِ تسخیر ہے۔
  • قرآن کا لفظی معنی 'کثرت سے پڑھا جانے والی کتاب' ہے۔
  • قرآن کی تفسیر میں غیر مستند خیالات گناہ ہیں اور احتیاط ضروری ہے۔

Summary

  • سورہ یاسین کی پہلی پانچ آیات کی تلاوت اور لفظی ترجمہ پیش کیا گیا۔
  • ہر لفظ کے معنی اور اللہ کے فضل سے تفسیر بیان کی گئی۔
  • قرآن کریم کی عظمت، فضیلت اور ہر حرف کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
  • حروف مقطعات کی حقیقت اور ان کے معنی پر بحث کی گئی۔
  • قرآن کی تفسیر میں اپنی رائے دینے کی ممانعت اور حدیث کی اہمیت بیان کی گئی۔
  • یاسین اور سین حروف کے بارے میں غلط فہمیوں کی وضاحت کی گئی۔
  • قرآن کریم کی عربی زبان میں نزول اور اس کی بلاغت پر روشنی ڈالی گئی۔
  • قرآن کے چیلنج اور اس کی بے مثال بلاغت کا ذکر کیا گیا۔
  • قرآن کے لفظ 'قرآن' کے معنی اور اس کی کثرت پڑھائی کی اہمیت بیان کی گئی۔
  • سوشل میڈیا پر قرآن کی غلط تفسیرات کے خطرات پر تنبیہ کی گئی۔

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:03
Speaker A
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
00:06
Speaker A
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی الہ وصحبہ ومن سار علی نہجہ الی یوم الدین وسلم تسلیما کثیرا اما بعد
00:22
Speaker A
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:29
Speaker A
یاسین والقران الحکیم انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم تنزیل العزیز الرحیم
00:42
Speaker A
یاسین والقران الحکیم قسم ہے اس قران کی جو بڑی حکمت والا ہے
00:52
Speaker A
انک لمن المرسلین بے شک اپ بھیجے جانے والے رسولوں میں سے ہو
01:00
Speaker A
علی صراط مستقیم سیدھی راہ پر ہو
01:04
Speaker A
تنزیل العزیز الرحیم نازل کیا جانے والا ہے یہ قران
01:10
Speaker A
اس ذات کی طرف سے العزیز جو بڑا غلبے والا
01:16
Speaker A
الرحیم اور بڑا مہربان ہے
01:21
Speaker A
سورہ یاسین کی پہلی پانچ ایتوں کی تلاوت اور ترجمہ پیش کیا گیا ہے
01:29
Speaker A
اور ہمارا درس کا انشاءاللہ انداز یہ رہے گا
01:36
Speaker A
کہ جن ایات کو ہم لینا چاہیں گے اس کی تلاوت کی جائے گی
01:42
Speaker A
اور تلاوت کے بعد ان کا لفظی ترجمہ بیان کیا جائے گا
01:48
Speaker A
کہ ہر لفظ کا کیا معنی بنتا ہے
01:52
Speaker A
اور اس کے بعد اس کی اللہ کے فضل توفیق سے تفسیر بیان ہوگی
02:00
Speaker A
کہ جو ہمارا بنیادی مقصد ہے اس پروگرام میں انے کا
02:07
Speaker A
سورہ یاسین کے حوالے سے ہم نے سابقہ ملاقات میں کچھ تذکرہ کیا تھا
02:11
Speaker A
کہ اس سورت کی کیا عظمت ہے
02:16
Speaker A
اس کی کیا فضیلت ہے
02:19
Speaker A
بلکہ قران کریم کی تمام سورتیں تمام ایتیں بلکہ ہر لفظ اور ہر حرف
02:29
Speaker A
اللہ کا جو کلام ہے اس کی اپنی جگہ پر بہت بڑی فضیلت ہے
02:33
Speaker A
اور بہت بڑا مقام ہے
02:36
Speaker A
ہم انشاءاللہ اگے چل کر مزید اس سورت کے بارے میں بیان کریں گے
02:41
Speaker A
کہ اس سورت کی بارے میں جو احادیث اتی ہیں
02:47
Speaker A
ان کے بارے میں انشاءاللہ تفصیلا بات ہوگی
02:53
Speaker A
تو یاسین
02:57
Speaker A
یا اور سین دو حرف ہیں
03:02
Speaker A
ہمیں شاید کبھی غور نہ کیا ہو
03:06
Speaker A
کہ یاسین کیا ہے
03:09
Speaker A
یہ دو حرف ہیں
03:12
Speaker A
جس طرح الف لام میم ہے حامیم ہے اور بھی مختلف سورتوں کے شروع میں
03:19
Speaker A
یہ حروف اتے ہیں
03:23
Speaker A
اپ یہ دیکھ رہے ہو کہ ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں
03:27
Speaker A
مقطعات یعنی الگ الگ حرف
03:31
Speaker A
اصل تو یہ حرف جو ہیں عربی کے جو حروف تہجی ہیں
03:37
Speaker A
الف با تا ثا جیم حا خا انہی میں سے ہیں
03:40
Speaker A
سمجھے نا
03:42
Speaker A
انہی حروف میں سے ہیں
03:46
Speaker A
تو لیکن ان سورت ان کو سورتوں سے لانے کا معنی پہلے لانے کا مقصد کیا ہوتا ہے
03:53
Speaker A
ان حروف ان بذات خود ان حروفوں کا معنی کیا ہوتا ہے
03:58
Speaker A
ہمارے بعض لوگ ان حرفوں کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں
04:03
Speaker A
کہ یا کا معنی کیا ہے
04:05
Speaker A
سین کا معنی کیا ہے
04:08
Speaker A
الف لام میم الف کا معنی کیا ہے
04:12
Speaker A
لام کا معنی کیا ہے
04:14
Speaker A
میم کا معنی کیا ہے
04:17
Speaker A
الف کے معنی اللہ
04:21
Speaker A
لام کا معنی جبریل
04:24
Speaker A
اور میم کا معنی محمد اپ دیکھو گے بعض تفسیروں میں
04:28
Speaker A
بعض ترجموں میں ایسی چیزیں لکھی ہوئی ہیں
04:32
Speaker A
لیکن اگر ان سے پوچھا جائے بھئی اپ نے جو یہ ترجمہ کیا ہے
04:37
Speaker A
ان حرفوں کا اس کی کیا دلیل ہے
04:42
Speaker A
کہ واقعی کسی حدیث میں اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے
04:50
Speaker A
کہ الف لام میم الف کا معنی اللہ ہے
04:57
Speaker A
اور لام کا معنی جبریل ہے
05:00
Speaker A
اور میم کا معنی محمد ہے
05:03
Speaker A
کوئی ایسی ہے تو پھر تو سر انکھوں پر
05:06
Speaker A
ہونا چاہیے بالکل
05:08
Speaker A
لیکن اگر نہیں ہیں تو بھائیو بہت اہم بات سنتے چلے جائیے
05:13
Speaker A
وہ کیا ہے
05:15
Speaker A
کہ اللہ کے اس کلام میں قران کریم میں
05:21
Speaker A
ہمیں اجازت نہیں کہ ہم اپنی طرف سے کوئی بات کریں
05:27
Speaker A
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے
05:31
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ جس نے قران میں قران کی تفسیر میں قران کے بیان کرنے میں
05:41
Speaker A
اپنی طرف سے باتیں کی
05:45
Speaker A
اگرچہ اس کی بات غلط نہ بھی ہو صحیح بھی ہو
05:50
Speaker A
تب بھی وہ گناہ ہے
05:54
Speaker A
صحیح ہو تب بھی گناہ ہے
05:57
Speaker A
ہاں گناہ اس لیے کیونکہ اس نے بات اپنی طرف سے کر دی
06:05
Speaker A
نہیں دیکھا کہ اللہ کا قران یا اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے سنت یا صحابہ کرام
06:12
Speaker A
اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
06:16
Speaker A
اس لیے ہمیں اللہ کے اس کلام میں قران کریم کے بارے میں
06:21
Speaker A
کوئی بات کرتے ہوئے بڑے محتاط ہونے کی ضرورت ہے
06:26
Speaker A
یہ اللہ کا کلام ہے کسی عام انسان کی باتیں نہیں ہیں
06:31
Speaker A
کہ ہم جیسے چاہیں اس کو اپنی طرف سے بیان کرتے پھریں
06:35
Speaker A
لیکن افسوس کہ اج سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی مفسر قران بن کے بیٹھا ہوا ہے
06:44
Speaker A
جس کو کوئی دعائیں پڑھنا اگئی چاہے اس نے علم حاصل نہ بھی کیا ہو
06:50
Speaker A
اپ دیکھو گے کس انداز سے الٹے سیدھے وہ طریقے سے اپنے اپنے اپنے ذہن کے مطابق
06:57
Speaker A
قران کی تفسیریں کر رہے ہوتے ہیں
07:01
Speaker A
اور یہ بہت بڑا گناہ ہے
07:05
Speaker A
بہت بڑا جرم ہے
07:07
Speaker A
تو اللہ کے اس کلام کے بارے میں ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں
07:14
Speaker A
ہاں قران کریم کی تفسیر کرنا ہے
07:19
Speaker A
سب سے پہلے دیکھیں کہ اللہ نے خود اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے
07:24
Speaker A
ہاں قران کریم کی بعض ایتیں بعض چیزیں ایک جگہ پر ذکر ہوتی ہیں
07:30
Speaker A
دوسری جگہ پر اس کا اس کی وضاحت بیان ہوتی ہے
07:35
Speaker A
قران میں موجود ہے اس طرح کی چیزیں
07:37
Speaker A
اگر قران سے نہیں ملتی ہم کو تو پھر کیا کریں گے
07:42
Speaker A
ہم احادیث دیکھیں گے
07:44
Speaker A
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ قران کے حقیقی مفسر ہیں
07:51
Speaker A
اور جن کی اصل میں اللہ تعالی کی طرف سے جو مداری تھی
07:56
Speaker A
کہ اپ قران کو بیان کریں
08:00
Speaker A
تو ہم احادیث میں دیکھیں گے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے
08:06
Speaker A
اس کا کیا معنی بیان کیا ہے
08:10
Speaker A
اور حدیثوں میں موجود ہیں بہت سی چیزیں
08:13
Speaker A
اپ حدیث کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں
08:17
Speaker A
اپ کو ایک چیپٹر نظر ائے گا کتاب التفسیر کے نام سے
08:23
Speaker A
اس میں سینکڑوں احادیث کہ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قران کی ایتوں کی سورتوں کی تفسیریں کی ہیں
08:31
Speaker A
اور اگر ہمیں صحابہ کے بعد ان ان سے بھی کوئی چیز نہیں ملتی
08:34
Speaker A
تو پھر تابعین
08:36
Speaker A
کہ جنہوں نے صحابہ سے علم حاصل کیا
08:40
Speaker A
تو یہ ہیں قران کے اصل تفسیر کرنے کے جو انداز ہیں
08:46
Speaker A
اپنی طرف سے باتیں کرتے چلے جائیں
08:51
Speaker A
اپنی طرف سے ہی خیالات میرا خیال یہ ہے میں یہ سمجھتا ہوں
08:57
Speaker A
ایسی چیزیں قران کے اندر نہیں ہونی چاہیے
09:01
Speaker A
تو علی کل حال
09:04
Speaker A
ہم بات کر رہے تھے جو سورتوں کے شروع میں حروف اتے ہیں
09:10
Speaker A
جن کو حروف مقطعات کہتے ہیں
09:13
Speaker A
تو بعض لوگ ان کے معنی بیان کرتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے اس کا معنی یہ ہے
09:19
Speaker A
لیکن اگر قران و حدیث سے اس کی دلیل نہیں ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے
09:25
Speaker A
سمجھے نا
09:27
Speaker A
اچھا یہاں پر بھی یا اور سین دو حرف ہیں
09:32
Speaker A
ہم ہمارے بعض لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں
09:36
Speaker A
کہ یاسین کیا ہے
09:39
Speaker A
نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا نام ہے
09:43
Speaker A
یاسین طہ
09:46
Speaker A
اپ نے شاید پڑھا ہوگا
09:49
Speaker A
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہیں
09:52
Speaker A
لیکن میرے علم میں جہاں تک حدیثوں کا مطالعہ کیا ہے اور ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے
10:01
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث نہیں ملتی کہ جس حدیث میں اپ نے فرمایا ہو
10:06
Speaker A
کہ میرا نام یاسین ہے یا میرا نام طہ ہے
10:11
Speaker A
سمجھے نا
10:13
Speaker A
ایسی کوئی حدیث اپ سے نہیں ملتی
10:16
Speaker A
تو اس کا مطلب کہ پھر لوگوں نے اپنی طرف سے یہ بات بنائی ہوئی ہے
10:21
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حدیثوں میں اپنے ناموں کا ذکر کیا ہے
10:27
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ میرا نام احمد ہے
10:30
Speaker A
میرا نام محمد ہے
10:33
Speaker A
حاشر ہے
10:35
Speaker A
مقفی ہے
10:36
Speaker A
مقفی ہے
10:38
Speaker A
اور اس طرح کے اپ نے ناموں کا ذکر کیا ہے
10:42
Speaker A
لیکن اس میں یاسین کا نام اپ نے ذکر نہیں کیا
10:47
Speaker A
تو یا اور سین حقیقت میں دو حرف ہیں
10:53
Speaker A
کہ جس طرح الف لام میم اس طرح کے حروف ہیں
10:57
Speaker A
یہ بھی حروف مقطعات میں سے ہیں
11:01
Speaker A
اس کا معنی تو اللہ تعالی ہی جانتا ہے
11:04
Speaker A
لیکن اس کا مقصد کیا ہے
11:08
Speaker A
ان حروف کو سورتوں کے شروع میں لانے کا مقصد کیا ہوتا ہے
11:12
Speaker A
مقصد جو ہے یہ بیان کرنا ہے کہ یہ قران کریم عربی زبان میں ہے
11:18
Speaker A
اس کی دلیل کیا ہے
11:21
Speaker A
اس کی دلیل عربی کے یہ حروف جو تمہاری عربی زبان کے حروف ہیں
11:27
Speaker A
انہی عربی عربی کے حروف اس سورت کے شروع میں لائے گئے ہیں کہ جو اس بات کی دلیل ہے کہ قران کریم عربی زبان میں ہے
11:35
Speaker A
اچھا
11:37
Speaker A
یہ بیان کرنے کا مقصد کیا ہے قران کریم عربی زبان میں ہے
11:42
Speaker A
کافروں کو قران کے منکروں کو چیلنج کرنا
11:47
Speaker A
وہ کیا کہتے تھے قران کے بارے میں
11:50
Speaker A
کہ قران اللہ کی کتاب نہیں ہے
11:54
Speaker A
یہ رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے گھڑ کر لائے ہیں نعوذ باللہ
12:00
Speaker A
کسی سے کسی سے سن کر لا کر ہم کو سنا دیتے ہیں
12:03
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرتے
12:05
Speaker A
قران کریم موجود ہے
12:08
Speaker A
تو اللہ تعالی نے ان کو چیلنج کیا
12:11
Speaker A
کہ تم اس جیسا قران لے اؤ
12:14
Speaker A
قران نہیں لا سکتے تو کیا کرو
12:17
Speaker A
دس سورتیں لے اؤ
12:20
Speaker A
دس سورتیں بھی نہیں لا سکتے کم از کم ایک ایک سورت لا کر دکھاؤ
12:26
Speaker A
اور عرب کے لوگ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں
12:31
Speaker A
عرب عربی کے بڑے فصیح و بلیغ بڑی بڑا ان کو فخر و ناز تھا اپنی عربی زبان پر
12:39
Speaker A
اور عربی کے بڑے بڑے مشاعرے ہوتے تھے
12:43
Speaker A
بڑے بڑے مقابلے کمپٹیشن ہوتے تھے
12:48
Speaker A
تو ان کو اپنی عربی زبان پر بڑا ناز تھا کہ ہم عرب کے عربی کے بڑے ماہر ہیں
12:55
Speaker A
تو اللہ نے ان کو چیلنج کیا کہ عربی کے تم بڑے ماہر ہو
12:59
Speaker A
تو پھر تم بھی اس جیسا کوئی قران لا کر دکھاؤ
13:04
Speaker A
اور اج تک کوئی اس چیلنج کو قبول نہیں کر سکا
13:10
Speaker A
کوئی چھوٹی سی چھوٹی سورت بھی
13:13
Speaker A
نہیں لا سکا اور نہ کوئی لا سکے گا
13:17
Speaker A
کیونکہ رب العالمین کا کلام ہے
13:20
Speaker A
ناممکن ہے کہ کسی انسان کو کہ ایسی چیز کو لا سکے
13:26
Speaker A
والقران الحکیم واو قسم کا ہے
13:30
Speaker A
قسم ہے القران الحکیم کی
13:35
Speaker A
قران کا نام قران کیوں ہے
13:39
Speaker A
کبھی اپ نے سوچا ہے
13:42
Speaker A
ویسے تو قران کہتے رہتے ہیں
13:44
Speaker A
سنتے رہتے ہیں
13:46
Speaker A
پڑھتے رہتے ہیں
13:49
Speaker A
لیکن کوئی اپ سے پوچھ لے بھئی قران کا معنی کیا ہے
13:53
Speaker A
اپ کہو گے یہ کتاب ہے اللہ کا کلام ہے
13:56
Speaker A
ہاں ٹھیک ہے کوئی شک نہیں اللہ کا کلام ہے
13:59
Speaker A
لیکن قران کا لفظی طور پر معنی کیا ہے
14:04
Speaker A
قران کس سے ہے
14:07
Speaker A
قرا یقرا
14:09
Speaker A
اور قرا یقرا کا معنی پڑھنا
14:11
Speaker A
اقرا
14:13
Speaker A
جو ہم پڑھتے ہیں
14:16
Speaker A
تو قران جو ہے صیغہ مبالغہ ہے کسی چیز کو پڑھنے کا
14:23
Speaker A
کہ جس چیز کو جس کتاب کو بہت زیادہ پڑھا جاتا ہو
14:30
Speaker A
اور واقعی کائنات میں کائنات میں کوئی ایسی کتاب نہیں جو قران سے زیادہ پڑھی جاتی ہو
14:38
Speaker A
اگرچہ اور دینوں کے ماننے والے بہت لوگ موجود ہیں دنیا کے اندر
14:44
Speaker A
لیکن ان کی کتابیں ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کی کتاب کیا ہے
14:50
Speaker A
کچھ شاذ و نادر پڑھنے والے ہوتے ہیں
14:53
Speaker A
لیکن اللہ کے فضل سے قران یہ وہ عظیم اللہ کا کلام ہے اللہ کی کتاب ہے
15:01
Speaker A
مسلمان کتنا بھی گہ گزرا کیوں نہ ہو کسی نہ کسی حد تک اس قران کو پڑھنے کا
15:07
Speaker A
سننے کا اس کا تعلق ہوتا ہے
15:10
Speaker A
سمجھے نا
15:13
Speaker A
تو اس لیے اس قران سے قران کریم سے بڑھ کر کوئی کائنات کی ایسی کتاب نہیں جس کو پڑھا جاتا ہو
15:20
Speaker A
اس لیے اس کو قران کا نام دیا گیا
15:24
Speaker A
فرمایا کہ والقران قسم ہے اس قران کی
15:28
Speaker A
الحکیم جو بڑی ہی حکمت والا ہے
15:32
Speaker A
حکیم کے اندر دو معنی ہیں
15:35
Speaker A
حکیم کے اندر دو معنی ہیں
15:39
Speaker A
ایک معنی حکمت سے بھرپور ہے
15:41
Speaker A
حکمت کیا ہوتا ہے
15:44
Speaker A
دانائی سچائی
15:47
Speaker A
جو حقیقت پر مبنی ہو
15:51
Speaker A
کہ اس قران کے اندر جو کچھ بیان ہوا ہے
15:54
Speaker A
حق بیان ہوا ہے
15:57
Speaker A
سچ بیان ہوا ہے
16:00
Speaker A
حقیقت پر مبنی ہے
16:02
Speaker A
اور حق اور حقیقت کیوں نہ ہو
16:05
Speaker A
کہ وہ رب العالمین کی طرف سے ہے
16:09
Speaker A
رب کائنات کا بیان ہے
16:11
Speaker A
اس کا کلام ہے
16:13
Speaker A
اس سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے
16:16
Speaker A
ومن اصدق من اللہ قیلا
16:19
Speaker A
اللہ سے بڑھ کر کون ہے جو سچا ہو
16:23
Speaker A
تو اس لیے حکیم کا معنی ایک تو یہ ہے کہ جو حکمت سے بھرپور ہے
16:29
Speaker A
دانائی سے بھرپور ہے کہ جس میں کسی بات کے غلط ہونے کا شائبہ تک نہیں
16:35
Speaker A
اور دوسرا حکیم کا معنی جو محکم ہے بڑا مضبوط ہے
16:42
Speaker A
کہ جس کے اندر کوئی رد و بدل کوئی تبدیلی ہو جانا کوئی بگاڑ پیدا کیا جا سکنا
16:50
Speaker A
ایسا ممکن نہیں ہے
16:53
Speaker A
اور یہ بھی حق اور حقیقت ہے
16:56
Speaker A
اج ساڑھے چودہ سو سال سے یہ کتاب نازل ہو چکی ہے
17:02
Speaker A
لیکن اج تک بھی کوئی ایک اس کے کوئی ایک حرف کو تبدیل نہیں کر سکا
17:10
Speaker A
سمجھے نا
17:12
Speaker A
حکیم کا معنی محکم کے معنی
17:14
Speaker A
جو بڑی مضبوط ہے ٹھوس ہے دو ٹوک ہے
17:19
Speaker A
اور جس میں کسی طرح کا رد و بدل ہونا ممکن نہیں ہے
17:24
Speaker A
اللہ تعالی نے خود اس قران کو نازل کیا ہے
17:29
Speaker A
اور خود ہی اس قران کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے
17:34
Speaker A
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون
17:39
Speaker A
کہ بے شک ہم ہی اس قران کو اس ذکر کو نازل کرنے والے ہیں
17:45
Speaker A
اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
17:50
Speaker A
اور یہ خصوصیت اور یہ یہ چیز صرف اس قران کے ساتھ ہے
17:56
Speaker A
سابقہ کتابوں کو یہ حاصل نہ ہوا
18:00
Speaker A
سابقہ کتابوں تورات انجیل زبور اور بھی اللہ اسمانی کتابیں
18:06
Speaker A
ان کی حفاظت کی اللہ نے ذمہ داری نہیں لی تھی
18:11
Speaker A
ان کی حفاظت کی ذمہ داری اس وقت کے لوگوں کو ڈالی
18:16
Speaker A
ان کو دی
18:18
Speaker A
لیکن وہ نہ حفاظت کر سکے
18:20
Speaker A
اس لیے وہ کتابیں بگڑ گئیں
18:24
Speaker A
بدل دی گئیں
18:27
Speaker A
دیکھیے
18:29
Speaker A
موسی علیہ السلام پر لانے والے انے والی تورات کیا وہ موجود ہے اج
18:33
Speaker A
نہیں موجود
18:35
Speaker A
بلکہ اج تو کیا ہزاروں سال پہلے سے تبدیل ہو چکی ہے
18:41
Speaker A
عیسی علیہ السلام پر انے والی انجیل وہ عیسی علیہ السلام کے اسمانوں سے
18:46
Speaker A
اٹھ اٹھ جانے کے چند سالوں کے بعد ہی تبدیل ہو چکی تھی
18:52
Speaker A
لیکن یہ قران اج تک بھی
18:56
Speaker A
انہی حروف کے ساتھ میں محفوظ ہے جس طرح سے اسمان سے نازل ہوا تھا
19:02
Speaker A
اور محفوظ رہے گا
19:05
Speaker A
اپ پوچھو گے
19:07
Speaker A
کہ قران کی یہ خصوصیت کیوں ہے
19:10
Speaker A
سابقہ کتابوں کو یہ چیز کیوں حاصل نہ ہوئی
19:15
Speaker A
کیا وجہ ہے
19:16
Speaker A
کیا وجہ ہو سکتی ہے
19:19
Speaker A
ایک تو اس قران کی عظمت
19:23
Speaker A
اس قران کی عظمت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے ہاں یہ قران کس قدر عظیم ہے
19:28
Speaker A
اور دوسری بات بھائیو جو اہم ترین چیز ہے وہ کیا ہے
19:33
Speaker A
کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخری نبی ہیں
19:38
Speaker A
اپ کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی انے والا نہیں ہے
19:44
Speaker A
اور یہ قران اللہ کی طرف سے انے والی اخری کتاب ہے
19:49
Speaker A
جو لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے
19:53
Speaker A
تو اس لیے اس کتاب کا محفوظ رہنا ضروری ہے
19:59
Speaker A
تاکہ قیامت تک انے والے لوگ اس صحیح کتاب سے ہدایت حاصل کرتے رہیں
20:05
Speaker A
جو اللہ نے اسمان سے نازل کی
20:09
Speaker A
یعنی فرض کریں تورات لوگوں نے بگاڑ دی
20:13
Speaker A
انجیل کو لوگوں نے بدل دیا
20:16
Speaker A
لیکن بعد میں انے والے انبیاء بیان کرتے رہے کہ اس میں تبدیلی ہے اس میں بگاڑ ہے
20:25
Speaker A
لیکن اپ اپ کے بعد جو نبی نہیں ائے گا تو کون بیان کرے گا قران میں کیا تبدیلی ائی
20:31
Speaker A
قیامت سے پہلے والے اج کے زمانے کے لوگ فرض کرو اگر قران تبدیل ہو چکا ہوتا
20:37
Speaker A
تو ہدایت ان کو کہاں سے ملتی
20:41
Speaker A
تو اس لیے عقلی طور پر بھی اس بات کا تقاضا ہے کہ قران قیامت تک جو ہے محفوظ رہے
20:48
Speaker A
تاکہ کسی وقت بھی انے والا شخص جو ہے وہ اللہ کی طرف سے جو صحیح ہدایت ہے
20:54
Speaker A
اس کو پاتا رہے اس کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو
20:59
Speaker A
تو فرمایا کہ یہ قران بڑا ہی جو حکمت سے بھرپور ہے
21:03
Speaker A
دانائی سے بھرپور ہے اور جو دو ٹوک ہے
21:06
Speaker A
جس میں ہر چیز جو ہے واضح ہے
21:11
Speaker A
اور جس میں کسی چیز کی کوئی تبدیلی ہونے والی رد و بدل ہونے والا نہیں ہے
21:17
Speaker A
اور یہ والقران الحکیم
21:21
Speaker A
اگے کیا فرمایا انک لمن المرسلین
21:25
Speaker A
کہ بے شک اپ یقینا اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ہو
21:32
Speaker A
قران کریم کا محکم حکیم ہونا ہی اپ کے سچے رسول ہونے کی دلیل ہے
21:42
Speaker A
اپ سے اگر سوال کیا جائے کہ کیا دلیل ہے اس میں
21:47
Speaker A
کیا بیان کریں گے
21:50
Speaker A
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھنا لکھنا جانتے تھے
21:55
Speaker A
قران کریم میں اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کئی بار اس چیز کا ذکر کیا ہے
22:00
Speaker A
النبی الامی
22:03
Speaker A
کہ وہ نبی کہ جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے
22:09
Speaker A
اور یہ پڑھنا لکھنا نہ جاننا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی کمزوری کی کوئی نقص کی دلیل نہیں
22:16
Speaker A
بلکہ اپ کی عظمت کی دلیل ہے
22:20
Speaker A
کہ ایک وہ شخص کہ جس کو پڑھنا نہ اتا ہو جس کو لکھنا نہ اتا ہو
22:27
Speaker A
اس جیسا قران لے ائے
22:32
Speaker A
سمجھے نا کہ جس جیسی کتاب کائنات میں نہ پائی گئی ہو
22:38
Speaker A
اس کا معنی کیا ہے
22:41
Speaker A
کہ ایک ادمی نہ پڑھنا جانتا ہے نہ لکھنا جانتا ہے اس طرح کی عظیم کتاب لا رہا ہے
22:47
Speaker A
تو کہاں سے لا رہا ہے وہ
22:51
Speaker A
خود لکھ رہا ہے
22:53
Speaker A
اپنی طرف سے ہو سکتا ہے اس کا
22:55
Speaker A
نہیں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی طرف سے ہے
23:00
Speaker A
تو اس قران کا حقیقت ہونا سچ ہونا حکیم ہونا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا نبی ہونے کی دلیل ہے
23:09
Speaker A
کیسے سچا نبی ہونے کی دلیل ہے
23:13
Speaker A
کہ ناممکن ہے کہ ایک ان پڑھ انسان جو ہے ایسے عظیم کلام کو لا سکے
23:21
Speaker A
تو اس لیے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا اس قران کو لانا ہی اس بات کی دلیل ہے
23:27
Speaker A
کہ اپ اللہ کے سچے نبی ہو
23:32
Speaker A
اور اس لیے اگلی ایت میں اسی چیز کا بیان کیا پھر فرمایا
23:36
Speaker A
انک لمن المرسلین
23:40
Speaker A
کہ بے شک ضرور اپ بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ہو
23:47
Speaker A
اچھا بے شک ضرور یہ ساری چیزیں کیا ہیں
23:50
Speaker A
تاکید کے لیے
23:52
Speaker A
کسی چیز کو مزید اس کی تاکید کرنے کے لیے
23:57
Speaker A
اس کی ضرورت کیوں پیش ائی
24:00
Speaker A
کیونکہ کافر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے
24:05
Speaker A
کہتے کہ اپ نبی نہیں ہو
24:08
Speaker A
سورہ رعد اللہ فرماتا ہے کافروں کے بارے میں
24:12
Speaker A
ویقول الذین کفروا لست مرسلا
24:16
Speaker A
کہ کافر کہتے ہیں کہ اپ رسول نہیں ہو
24:21
Speaker A
تو جس طرح سے کافروں نے اپ کی رسالت کا انکار کیا
24:28
Speaker A
اور بڑی شدت سے انکار کیا
24:31
Speaker A
اللہ نے اسی طرح سے ان کا سختی سے جواب دیا
24:38
Speaker A
تاکیدوں سے جواب دیا
24:40
Speaker A
کہ یہ کہتے ہیں کہ تم نبی رسول نہیں ہو
24:44
Speaker A
یقینا ضرور تم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہو
24:50
Speaker A
اور قران کریم میں اللہ نے اپ اپ کے متعلق جگہ جگہ اس چیز کا بیان کیا ہے
24:56
Speaker A
کیونکہ اپ کے زمانے کے کافر بھی اور اج تک بھی
25:01
Speaker A
پروپیگنڈا چلتا ہے
25:04
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپ کی نبوت کے خلاف اپ کی رسالت کے خلاف
25:09
Speaker A
اور یہ ہوتا رہا ہے اپ کے ساتھ نہیں
25:12
Speaker A
بلکہ اپ کے پہلے اپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے
25:16
Speaker A
ان کی نبوت کا انکار کہ تم نبی نہیں ہو
25:20
Speaker A
اپنی طرف سے اٹھ کر اگئے ہو
25:23
Speaker A
حالانکہ مکہ کے لوگ عرب کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن سے لے کر جانتے تھے
25:30
Speaker A
کہ اپ کون ہیں
25:33
Speaker A
بلکہ اپ کو نبوت رسالت ملنے سے پہلے اپ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے
25:41
Speaker A
اپ نے سب سے پہلے جو اعلان کیا اپنی نبوت کا
25:48
Speaker A
تو نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے اپ نے کیا منوایا ان سے
25:53
Speaker A
اپ کو معلوم ہوگا
25:54
Speaker A
کہ صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اپ نے کیا اعلان کیا
25:59
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے کوئی لشکر فوج ہے
26:05
Speaker A
جو تم پر حملہ کرنا چاہتی ہے
26:09
Speaker A
تو کیا میری بات مانو گے
26:12
Speaker A
تو سبھی نے کہا کہ اپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا
26:15
Speaker A
اپ ہمیشہ سچ بولتے ہو
26:18
Speaker A
اپ نے پہلے اپ نے اپ کو سچا منوایا
26:22
Speaker A
سمجھے نا
26:24
Speaker A
اپ نے اپنے اپ کو پہلے سچا منوایا ان ان لوگوں سے
26:29
Speaker A
کہ واقعی میں سچا ہوں
26:32
Speaker A
اگر تم سچا مانتے ہو تو میری اج کی بات بھی پھر سچی ہے
26:35
Speaker A
اور وہ کیا ہے کہ تم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے ایا ہوں
26:40
Speaker A
تو کہنے کا معنی کیا ہے
26:42
Speaker A
کہ یہ اپ کے بدترین دشمن بھی اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ اپ واقعی ہی سچے ہیں
26:51
Speaker A
اور اپ کو صادق اور امین کہتے تھے
26:56
Speaker A
لیکن صرف اور صرف ہٹ دھرمی ضد اور تعصب اور عناد
27:04
Speaker A
کیونکہ اپ وہ دین لے کر ائے تھے جو ان کے باپ دادا کے دین کے
27:09
Speaker A
ساتھ نہیں اٹیچ ہوتا تھا
27:11
Speaker A
اس کے ساتھ ان کے ساتھ میل نہیں تھا
27:13
Speaker A
باپ دادا کا دین
27:15
Speaker A
اپنی مرضی کا دین
27:19
Speaker A
اور جس کو چاہا اس کے سامنے گر گئے جس کو چاہا اس کو پکارا
27:25
Speaker A
اور جو چاہا کر لیا
27:27
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اللہ کا دین
27:31
Speaker A
کہ جس میں وہ منمانی کے دین نہیں چلتا
27:35
Speaker A
اصل مسئلہ یہ تھا
27:38
Speaker A
اس لیے کافر اپنی اس منمانی کے دین کو نہیں چھوڑنا چاہتے تھے ورنہ اپ کے بارے میں ان کو کوئی شک نہیں تھا
27:45
Speaker A
کہ اپ اللہ کے سچے نبی ہیں
27:50
Speaker A
بلکہ سورۃ الانعام ساتویں پارے میں اللہ فرماتا ہے
27:55
Speaker A
انہم لا یکذبونک
27:59
Speaker A
کہ کافر لوگ اپ کو نہیں جھٹلاتے
28:04
Speaker A
اپ کو نہ جھٹلانے کا معنی کہ ان کو یقین ہے کہ اپ سچے ہو
28:09
Speaker A
اس ایت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے واقعہ لکھا ہے
28:15
Speaker A
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہوتے تھے جب تو رات کو تہجد کی نماز پڑھتے
28:22
Speaker A
اور اپنے گھر میں تہجد کی نماز پڑھتے
28:27
Speaker A
اور اونچی اواز سے قران کی تلاوت کرتے
28:32
Speaker A
تو مکہ کے بعض کافر اور کافر نہیں بلکہ مکہ کے بڑے بڑے سردار
28:39
Speaker A
اتے جب اپ تلاوت کر رہے ہوتے رات کو تو اپ کے گھر کے اس پاس چھپ کر بیٹھتے اور اپ کی تلاوت سنتے
28:49
Speaker A
تو ایک دن کیا ہوا
28:51
Speaker A
کہ ابو جہل اور ایک اور بڑا مکہ کا سردار ابو البختری
28:58
Speaker A
دونوں اپ کی جب تلاوت ختم ہوئی تو دونوں گھروں کو لوٹنے لگے
29:03
Speaker A
یہ اس گلی سے جا رہا ہے وہ اس گلی سے جا رہا ہے
29:07
Speaker A
لیکن اگے کہیں دونوں ایک گلی میں مل گئے
29:12
Speaker A
تو دونوں کو پتہ چل گیا کہ کہاں سے ا رہے ہیں
29:16
Speaker A
یہ بے ایمان کیا کرتے تھے وہاں پر چھپ کر بیٹھتے تھے
29:19
Speaker A
تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم قران سن رہے ہیں
29:22
Speaker A
کیونکہ خود تو لوگوں کو قران سننے سے منع کرتے تھے نا
29:27
Speaker A
کہ قران نہیں سنو
29:30
Speaker A
لیکن خود سنتے تھے
29:33
Speaker A
کیسے سنتے تھے
29:35
Speaker A
پتہ تھا کہ قران کیا ہے
29:39
Speaker A
تو میں واقعہ سنانا چاہتا ہوں تاکہ اپ کو پتہ چلے
29:45
Speaker A
کہ ان کو پتہ تھا کہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام سچے ہیں اور یہ قران سچا ہے
29:52
Speaker A
تو دونوں سردار ملتے ہیں ایک گلی میں اگے چل کر
29:58
Speaker A
تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ جو سن کر ائے ہو
30:03
Speaker A
اس کے بارے میں کیا خیال ہے
30:07
Speaker A
ابو البختری ابو جہل سے پوچھتا ہے کہ جو سن کر ائے ہو کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں
30:14
Speaker A
ابو جہل کہتا ہے ہے تو سچ
30:18
Speaker A
ہے تو سچ
30:21
Speaker A
تو ابو البختری کہتا ہے پھر ایمان کیوں نہیں لاتے
30:25
Speaker A
پھر مان کیوں نہیں لیتے
30:28
Speaker A
ابو جہل کیا کہتا ہے
30:30
Speaker A
دیکھیے انسان کی بدبختی کیا ہوتی ہے
30:34
Speaker A
کہتا ہے ابو جہل کہ ہمارا اور بنو ہاشم اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان کیا تھا
30:40
Speaker A
بنو ہاشم
30:42
Speaker A
اور ابو جہل کا خاندان کون تھا
30:46
Speaker A
یہ بھی قریشی تھا
30:49
Speaker A
اس کا خاندان تھا بنو مخزوم
30:53
Speaker A
اور دونوں ہی بیت اللہ کی سرپرستی میں بیت اللہ کے حاجیوں کو پانی پلانے ان چیزوں کے اندر دونوں کی ٹسل تھی
31:01
Speaker A
دونوں کا کمپٹیشن مقابلہ تھا
31:06
Speaker A
تو ابو جہل کہتا ہے ہم بنو ہاشم کا مقابلہ کر رہے ہیں اس چیز میں
31:13
Speaker A
اور ہم واقعی اس مقابلے میں پورے اتر رہے ہیں
31:18
Speaker A
لیکن اگر ہم بنو ہاشم کے اس ادمی کو نبی مان لیتے ہیں تو ہمارے اندر کب کوئی نبی کھڑا ہوگا
31:25
Speaker A
کہ جو ان کے مقابلے میں کھڑا کریں گے
31:29
Speaker A
تو مقصد کیا ہوا صرف اور صرف انا کا
31:33
Speaker A
صرف اپنی انا کا مسئلہ ہے صرف ضد بادی کا مسئلہ ہے
31:37
Speaker A
اور کچھ نہیں ہے
31:39
Speaker A
ورنہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام صادق اور امین سچے ہیں
31:45
Speaker A
اور اپ کا لایا ہوا قران سچا ہے
31:49
Speaker A
اور یہی بات بھائیو انسان کی سب سے بڑی بدبختی ہے
31:54
Speaker A
کہ ایک چیز کو صحیح سمجھتے ہوئے حق سمجھتے ہوئے پھر بھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو
32:01
Speaker A
تو خیر بات کر رہے تھے
32:04
Speaker A
اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے انک لمن المرسلین
32:10
Speaker A
اللہ نے بڑی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ بے شک اپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ہو
32:19
Speaker A
علی صراط مستقیم
32:22
Speaker A
سیدھی راہ پر ہو
32:25
Speaker A
قران لائے ہو جو اللہ کی سچی کتاب ہے
32:29
Speaker A
اللہ کے سچے نبی رسول ہو
32:33
Speaker A
اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ہی راستہ سب سے سیدھا سچا راستہ ہے
32:39
Speaker A
اور یہ بہت بڑا سبق ہے ہمارے لیے
32:42
Speaker A
کہ اگر اپ کو صراط مستقیم چاہیے جس صراط مستقیم کے اپ ہر فاتحہ میں دعا کرتے ہو
32:48
Speaker A
کیا دعا کرتے ہو
32:51
Speaker A
اہدنا الصراط المستقیم
32:55
Speaker A
کیا معنی
32:58
Speaker A
اللہ ہم کو ہدایت دے دے ہم کو چلا دے دکھا دے کس پر
33:03
Speaker A
صراط مستقیم پر
33:05
Speaker A
صراط کا معنی راستہ
33:07
Speaker A
مستقیم سیدھا
33:09
Speaker A
ہم کو سیدھے راستے پر چلا دے
33:12
Speaker A
ہر فاتحہ میں ہم دعا کرتے ہیں
33:15
Speaker A
ہم کو اے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلا دے
33:19
Speaker A
وہ سیدھا راستہ کون سا ہے
33:23
Speaker A
انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم
33:27
Speaker A
تم ہو سیدھے راستے پر
33:30
Speaker A
کون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
33:33
Speaker A
اس لیے جس کو صراط مستقیم کو پانا ہو
33:39
Speaker A
اور جسے صراط مستقیم پر چلنا ہو
33:43
Speaker A
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلے
33:48
Speaker A
اور صراط مستقیم کے معنی سیدھا راستہ بھی
33:51
Speaker A
سیدھا راستہ کہاں جاتا ہے
33:55
Speaker A
اللہ کو جاتا ہے
33:57
Speaker A
جنتوں کو جاتا ہے
34:00
Speaker A
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا
34:05
Speaker A
کہ میری امت کے لوگ 73 فرقوں میں تقسیم ہوں گے
34:10
Speaker A
73 یعنی 73 فرقے جماعتیں بنیں گی
34:15
Speaker A
گروہ بنیں گے
34:17
Speaker A
جو کلمہ پڑھنے والے ہوں گے
34:20
Speaker A
مسلمان کہلانے والے ہوں گے
34:23
Speaker A
اللہ رسول کو ماننے کا دعوی کریں گے
34:27
Speaker A
لیکن کیا سبھی جنت میں جائیں گے
34:30
Speaker A
فرماتے ہیں کہ صرف ایک جنت میں جائے گا
34:35
Speaker A
صرف ایک جماعت ایک گروہ جنت کو جائے گا
34:40
Speaker A
صحابہ نے پوچھا وہ کون سا ہے
34:43
Speaker A
اپ نے فرمایا کہ ما انا علیہ واصحابی
34:47
Speaker A
وہ گروہ ہے کہ جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر ہے
34:53
Speaker A
جو اپ کا راستہ طریقہ ہے
34:56
Speaker A
جو اپ کے صحابہ کا راستہ طریقہ ہے
34:59
Speaker A
یہ ہے جو جنت کو جاتا ہے
35:03
Speaker A
جو اپ کے راستے پر نہیں ہے وہ صراط مستقیم پر نہیں ہے
35:09
Speaker A
وہ جنت کے راستے پر نہیں ہے
35:12
Speaker A
اس لیے بھائیو بہت بڑی ہمیں یہاں پر سبق ملتا ہے اس بات کا
35:18
Speaker A
کہ ہمیں صراط مستقیم کو پہچاننے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو جاننا
35:24
Speaker A
کہ اپ کا راستہ کیا تھا
35:28
Speaker A
اور اپ کا راستہ کہاں سے معلوم ہوگا
35:31
Speaker A
کیسے معلوم ہوگا
35:34
Speaker A
اپ تو دنیا سے چلے گئے
35:38
Speaker A
ہاں اپ اگرچہ چلے گئے دنیا سے لیکن اپ کی سنت اپ کی احادیث
35:45
Speaker A
اپ کی چھوڑی ہوئی تعلیمات قیامت تک باقی ہیں جاری ساری ہیں
35:52
Speaker A
کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا اپ کا طریقہ کیا تھا
36:00
Speaker A
اپ کا عقیدہ کیا تھا
36:03
Speaker A
اپ کی عبادت کا طریقہ کیا تھا
36:07
Speaker A
نماز روزہ حج زکوۃ
36:11
Speaker A
اپ کے اخلاق و کردار کیا تھے
36:16
Speaker A
اپ کی اکانومی کس طرح سے اپ مال کس طرح سے کماتے کیسے خرچ کرتے تھے
36:23
Speaker A
اپ کے گھریلو معاشرتی معاملات ان میں اپ کے کیا معاملات ہوتے تھے
36:30
Speaker A
خوشی غمی کے میں اپ کے کیسے معاملات ہوتے تھے
36:35
Speaker A
یہ سارا کیا ہے
36:37
Speaker A
یہ سارا اپ کی سیرت اپ کا طریقہ اپ کی سنت
36:44
Speaker A
ہیں یہ ہے جو صراط مستقیم ہے
36:48
Speaker A
تو قران دو ٹوک الفاظ پر یہاں پر گواہی دیتا ہے
36:54
Speaker A
کہ اگر کوئی سب سے سچا صراط مستقیم کا راستہ ہے تو کس کا ہے
37:00
Speaker A
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے
37:02
Speaker A
اور کوئی شک نہیں کہ اس میں کوئی شک ہونا بھی نہیں چاہیے
37:07
Speaker A
کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑھ کر کس کا سچا صحیح راستہ ہو سکتا ہے
37:13
Speaker A
اپ سے بڑھ کر کون ہے جو صراط مستقیم پر ہو سکتا ہے
37:18
Speaker A
لیکن افسوس
37:21
Speaker A
کہ اج اکثر و بیشتر اپ کا کلمہ پڑھنے والے اپ کا نام لینے والے جو ہیں
37:30
Speaker A
اپ کے راستے کو چھوڑ کر اور راستوں کو پسند کرتے ہیں
37:35
Speaker A
ان پر چلنا ان کو زیادہ اچھا لگتا ہے
37:39
Speaker A
قران کو چھوڑ کر حدیث کو چھوڑ کر
37:42
Speaker A
نہیں یہ کتاب پڑھو اس سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے
37:47
Speaker A
اس سے بڑی تربیت ہوتی ہے
37:50
Speaker A
اس سے بڑی روحانیت ملتی ہے
37:52
Speaker A
سمجھے نا
37:55
Speaker A
اپ کے سکھائے ہوئے طریقے چھوڑ کر درود ابراہیمی
38:02
Speaker A
جو اپ نے خود سکھایا صحابہ کرام کو
38:07
Speaker A
اور درود کے طریقے
38:09
Speaker A
ان کو چھوڑ کر ہمارے ہاں طرح طرح کے درود کے طریقے گھڑے ہوئے ہیں لوگوں نے
38:15
Speaker A
فلاں درود وہ نام رکھے ہوئے ہیں الگ الگ
38:19
Speaker A
نمازیں
38:22
Speaker A
یہ فلاں کی نماز ہے فلاں کی نماز ہے
38:25
Speaker A
نمازوں کے نام ہی الگ رکھے ہوئے ہیں
38:28
Speaker A
اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز سے ہٹ کر
38:33
Speaker A
اور اس طرح سے
38:36
Speaker A
تو معنی کیا ہے
38:39
Speaker A
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو صراط مستقیم کو چھوڑ کر اور راستوں پر چلنے والے بھائیو جنت کے راستے پر نہیں ہیں
38:48
Speaker A
جنت کا راستہ صرف وہی ہے جو نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا راستہ ہے
38:51
Speaker A
اور اللہ نے جنت کو جانے کا صرف ایک ہی راستہ رکھا ہے کوئی دوسرا نہیں رکھا
38:57
Speaker A
اس لیے ہمیں ضرورت ہے اشد ترین یہاں پر کہ ہم اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو پہچانیں
39:02
Speaker A
اور قران کریم میں یہاں پر بھی اور بھی کئی ایتوں پر دوسری ایت میں اللہ فرماتا ہے
39:09
Speaker A
وانک لتہدی الی صراط مستقیم
39:14
Speaker A
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقینا اپ ہو جو صحیح راستے کی طرف ہدایت دیتے ہو
39:22
Speaker A
اپ ہو جو صحیح راستے کی طرف ہدایت دیتے ہو
39:28
Speaker A
صراط اللہ الذی لہ ما فی السماوات وما فی الارض
39:32
Speaker A
وہ اللہ کا راستہ جو اسمان و زمین کا مالک ہے
39:37
Speaker A
الا الی اللہ تصیر الامور
39:40
Speaker A
تو کہنے کا مقصد یہ ہے جو اللہ کا راستہ ہے
39:44
Speaker A
یہ ہے جو صراط مستقیم ہے
39:48
Speaker A
کہ جس صراط مستقیم کو ایک مسلمان کو اپنانے کی اس پر چلنے کی ضرورت ہے
39:55
Speaker A
اور جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک ہم کو صراط مستقیم کی سمجھ نہیں ائے گی
40:01
Speaker A
اس پر نہیں چل سکیں گے
40:04
Speaker A
کیونکہ اج ہر کوئی ہر جماعت ہر فرقہ ہر گروہ بلکہ گروہ تو کیا
40:10
Speaker A
ہر دنیا کا دین اور مذہب وہ کہتے ہیں کہ ہم سچے ہیں
40:14
Speaker A
باقی سارے جھوٹے ہیں
40:17
Speaker A
ہندو سے کسی سے پوچھو
40:20
Speaker A
وہ کیا کہے گا
40:23
Speaker A
کہ ہمارا دین سچا ہے
40:25
Speaker A
باقی سارے جھوٹے ہیں
40:28
Speaker A
کس کرسچن سے پوچھو
40:31
Speaker A
بھئی اصل تو ہم ہیں
40:34
Speaker A
ہمارا دین ہے
40:36
Speaker A
باقی سارے غلط ہیں
40:40
Speaker A
اور مسلمانوں کی طرف ا جاؤ
40:43
Speaker A
طرح طرح کی جماعتیں ہیں
40:46
Speaker A
فرقے ہیں
40:47
Speaker A
گروہ ہیں
40:50
Speaker A
ہر کوئی اپنے اپ کو سچا دوسرے کو جھوٹا بتاتا ہے
40:56
Speaker A
تو یہاں پر ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ صراط مستقیم کیا ہے
41:01
Speaker A
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے
41:05
Speaker A
اور اللہ کے فضل سے اپ کی سنتیں موجود ہیں
41:11
Speaker A
اپ کی سنتیں واضح ہیں
41:14
Speaker A
دو ٹوک ہیں
41:17
Speaker A
صرف ان کو سمجھنے کی سیکھنے کی ضرورت ہے
41:21
Speaker A
ایک مسلمان کو ضرورت ہے اپنے اپنے دین کو سمجھنے سیکھنے کی
41:24
Speaker A
اس پر ٹائم دینے کی
41:26
Speaker A
اچھا اخر میں چلتے ہیں
41:29
Speaker A
علی صراط مستقیم
41:32
Speaker A
تنزیل العزیز الرحیم
41:36
Speaker A
ہاں اپ جو قران لے کر ائے ہو وہ کس کی طرف سے ہے
41:41
Speaker A
تنزیل نازل کیا جانے والا ہے العزیز الرحیم
41:48
Speaker A
اس ذات کی طرف سے کہ جو بڑا ہی عزیز الرحیم ہے
41:55
Speaker A
اس نے کیا معنی ہے
41:58
Speaker A
کہ اگر اج اب بھی توبہ کر لو خاص طور پر کافروں کو پیغام
42:03
Speaker A
دین کو قران کے منکروں کو اپ کے منکروں کو اپ کے دشمنوں کو پیغام
42:09
Speaker A
کہ ٹھیک ہے تم دشمنیاں کر چکے ہو مخالفتیں کر چکے ہو
42:14
Speaker A
لیکن اب بھی اگر پلٹ اتے ہو تو اللہ بڑا رحیم ہے
42:20
Speaker A
اللہ بڑا بخشنے والا ہے
42:24
Speaker A
اللہ بڑا رحیم و کریم ہے
42:28
Speaker A
ہاں واقعی اللہ تعالی کی یہ دونوں صفتیں ہمارے سامنے ہونا چاہیے
42:34
Speaker A
ایک طرف اللہ تعالی کا عزیز ہونا اس کا غلبہ اس کی قوت اس کا زور
42:41
Speaker A
اور دوسری طرف رحیم اس کا رحم
42:45
Speaker A
یہ دونوں صفتیں ہی ہر مومن مسلمان کے دل میں ہمیشہ اللہ تعالی کی یہ دونوں صفتیں اس کے دل میں ہونی چاہیے
42:52
Speaker A
کہ جو اس کو کنٹرول کرتی ہیں
42:54
Speaker A
کیسے کنٹرول کرتی ہیں
42:57
Speaker A
کہ جب اللہ تعالی کے عزیز ہونے کی صفت کو دیکھتا ہے
43:04
Speaker A
تو اللہ تعالی کی پکڑ
43:08
Speaker A
اللہ کا عذاب اس کی گرفت
43:11
Speaker A
یہ چیزیں سامنے اتی ہیں
43:14
Speaker A
اور جب رحیم ہونے کا معنی دیکھتا ہے
43:18
Speaker A
ہاں اللہ تعالی ہے تو بڑی پکڑ کرنے والا
43:22
Speaker A
لیکن ساتھ ساتھ بخش بھی دیتا ہے
43:26
Speaker A
اور رحم بھی کرتا ہے
43:30
Speaker A
اور یہی اللہ تعالی کی دونوں صفتیں قران کریم میں کئی جگہوں پر ذکر ہوئی ہیں
43:39
Speaker A
نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم
43:43
Speaker A
سورہ حجر میں اللہ فرماتا ہے
43:45
Speaker A
کہ میرے میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بڑا ہی غفور الرحیم ہوں
43:51
Speaker A
بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہوں
43:54
Speaker A
وان عذابی العذاب الالیم
43:58
Speaker A
اور میرا عذاب جو ہے وہ بھی بڑا سخت ترین عذاب ہے
44:03
Speaker A
میرا عذاب بھی بڑا سخت ترین عذاب ہے
44:07
Speaker A
ان دونوں کے اندر کیا پیغام ملتا ہے
44:11
Speaker A
ایک طرف اللہ تعالی کی رحمت کی امید
44:17
Speaker A
اور دوسری طرف اللہ تعالی کی پکڑ اس کے عذاب کا ڈر
44:23
Speaker A
یہ دونوں چیزیں جب انسان کے دل میں ہوتی ہیں تو پھر وہ صحیح چلتا ہے
44:30
Speaker A
لیکن جب ایک چیز کو غالب کر دیا جائے اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
44:37
Speaker A
کوئی گناہ کر رہا ہو کوئی غلطی کر رہا ہو کوئی جرم کر رہا ہو
44:40
Speaker A
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
44:43
Speaker A
غفور الرحیم تو ہے
44:45
Speaker A
لیکن اس کے ساتھ ساتھ شدید العقاب بھی ہے
44:49
Speaker A
اس کی پکڑ بڑی سخت ہے
44:52
Speaker A
سمجھے نا جس اللہ نے جنت بنائی ہے
44:55
Speaker A
اس نے جہنم بھی بنائی ہے
44:58
Speaker A
جہنم کس کے لیے ہے
45:02
Speaker A
بھئی بلکہ زیادہ تر تو جانے والے کہاں پر ہیں
45:09
Speaker A
ادم علیہ السلام کو اللہ تعالی قیامت کے دن کیا کہے گا
45:15
Speaker A
اے ادم اپنی اولاد سے جہنم کا ایندھن نکال
45:20
Speaker A
جہنم کا حصہ نکال
45:23
Speaker A
ادم علیہ السلام پوچھیں گے
45:24
Speaker A
اللہ کتنا حصہ
45:28
Speaker A
ہاں کتنا حصہ ہوگا
45:32
Speaker A
اللہ فرمائے گا کہ ہزار میں سے 999
45:40
Speaker A
ہزار میں سے 999 جہنم کے لیے
45:45
Speaker A
اپ فرماتے ہیں کہ یہ وہ
45:48
Speaker A
بات جب ہوگی اللہ کی طرف سے
45:50
Speaker A
تو وہاں پر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے
45:55
Speaker A
کہ ہزار میں سے 999 جہنم کو جانے والے
45:59
Speaker A
اور ایک صرف جنت کو جانے والا
46:03
Speaker A
اس لیے ہمیں یہاں پر سمجھنے کی ضرورت ہے اس بات کو
46:08
Speaker A
کہ جو اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ عزیز بھی ہے
46:16
Speaker A
اس لیے اللہ تعالی نے اکثر و بیشتر اپنی دونوں صفتیں ساتھ ساتھ بیان کی ہیں
46:22
Speaker A
کہ اللہ کا غلبہ اس کا زور اس کی قوت
46:28
Speaker A
اور ساتھ ساتھ اس کا رحم
46:32
Speaker A
تاکہ اللہ کی رحمت کی امید رکھیں کہ جتنے بھی گناہ کر لیے ہیں
46:37
Speaker A
اللہ تعالی بخش دے گا بخش سکتا ہے
46:40
Speaker A
توبہ کرنے کی ضرورت ہے
46:43
Speaker A
ہاں مایوس نہ ہوں اللہ سے
46:46
Speaker A
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں توبہ کریں
46:51
Speaker A
قل عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ
46:57
Speaker A
میرے بندوں سے جو اپنی بڑے گناہ کر چکے ہو ان سے کہہ دو کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو
47:06
Speaker A
ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا
47:09
Speaker A
کہ اللہ تعالی سبھی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے بشرط کہ بندہ توبہ تائب ہو
47:15
Speaker A
ہاں یہ ہے
47:18
Speaker A
لیکن یہ ہے کہ اللہ بڑا غفور الرحیم ہو کر گناہ کرتا چلا جائے
47:23
Speaker A
توبہ کرنے کی توفیق بھی نہیں ہو
47:24
Speaker A
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
47:28
Speaker A
یہ اللہ تعالی کے ساتھ حقیقت میں مذاق ہے
47:32
Speaker A
اللہ کے ساتھ مذاق ہے
47:35
Speaker A
کہ جرم بھی کرتے جاؤ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
47:40
Speaker A
توبہ کرنے کی توفیق بھی نہیں ہو
47:41
Speaker A
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے
47:45
Speaker A
اس لیے یہاں پر اللہ تعالی دونوں چیزیں بیان کرتا ہے
47:49
Speaker A
کہ قران کس کس کی طرف سے نازل ہوا ہے اس ذات کی طرف سے جو بڑا غلبے والا ہے
47:57
Speaker A
جس کا بڑا زور ہے بڑی قوتیں ہیں
48:03
Speaker A
اور بڑا ہی بخشنے والا ہے
48:06
Speaker A
کتنے بھی گناہ کر چکے ہو اور توبہ کر لو تو اللہ تعالی معاف کر دے گا
48:12
Speaker A
کتنی بھی دشمنیاں کر چکے ہو اسلام کی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
48:16
Speaker A
پھر بھی اگر توبہ کرتے ہو تو اللہ معاف کر دیتا ہے
48:20
Speaker A
بخش دیتا ہے
48:21
Speaker A
بخش دیتا ہے
48:22
Speaker A
تو اس میں دونوں طرح کے پیغام ہیں
48:25
Speaker A
تو اج یہ ہم نے پانچ ایتیں لی ہیں کہ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا بیان ہے
48:31
Speaker A
کہ اپ اللہ کے سچے نبی ہیں
48:34
Speaker A
قران کی حقیقت کا بیان ہے کہ قران کیا ہے
48:38
Speaker A
اللہ کی کتاب اللہ کی طرف سے نازل شدہ
48:42
Speaker A
کہ جس میں کوئی شک کی بات نہیں
48:46
Speaker A
اور جو اس عزیز اور رحیم ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے
48:53
Speaker A
کہ جس پر چلو گے تو اللہ کی طرف سے تمہیں کیا انعامات ملیں گے اور نہ چلو گے تو اللہ کی تمہارے لیے کیا پکڑ ہو سکتی ہے
49:08
Speaker A
تو یہ ہے اج کی پانچ ایتیں جس میں ہمیں یہ پیغام ملے ہیں
49:12
Speaker A
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں جو کہا اور سنا ہے اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
49:17
Speaker A
بارک اللہ فیکم وجزاکم اللہ خیر
49:19
Speaker A
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد
Topics:سورہ یاسینقرآن کی تفسیرحروف مقطعاتقرآن کی فضیلتقرآن کی بلاغتحدیث کی اہمیتقرآن کا معنیقرآن کی تلاوتاسلامی تعلیماتشیخ ڈاکٹر محبوب ابو عاصم

Frequently Asked Questions

سورہ یاسین کی پہلی پانچ آیات میں کن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے؟

سورہ یاسین کی پہلی پانچ آیات میں قرآن حکیم کی قسم کھائی گئی ہے، نبی کریم ﷺ کو رسولوں میں سے قرار دیا گیا ہے جو سیدھی راہ پر ہیں، اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ قرآن غالب اور مہربان ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔

درس کا انداز کیا ہوگا جس میں آیات کی تلاوت اور تفسیر کی جائے گی؟

درس کا انداز یہ ہوگا کہ جن آیات کو لیا جائے گا، پہلے ان کی تلاوت کی جائے گی، پھر ان کا لفظی ترجمہ بیان کیا جائے گا، اور اس کے بعد ان کی تفصیلی تفسیر پیش کی جائے گی۔

حروف مقطعات کیا ہوتے ہیں اور ان کے معنی کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

حروف مقطعات وہ الگ الگ حروف ہوتے ہیں جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں، جیسے یاسین یا الف لام میم۔ ان کے معنی کے بارے میں کچھ لوگ اپنی طرف سے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن میں ہمیں اپنی طرف سے کوئی بات کہنے کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ اس کی کوئی دلیل نہ ہو۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →