What If Iran Had JF-17 Thunder? | The Untold Story of a Jet That Shocked India in War

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:01
Speaker A
ڈھائی ہزار سال پہلے قدیم روم میں ایک فلسفی رہتا تھا۔
00:06
Speaker A
ارسطو نام تھا اس کا۔ ارسطو کو ایک سوال بہت پریشان کرتا تھا۔
00:10
Speaker A
محبت، نفرت، یہ باتیں تو وہ سمجھتا تھا۔ لیکن بھلا یہ دوستی کیا بلا ہے؟
00:16
Speaker A
یہ سوال اسے بہت ستاتا تھا۔
00:20
Speaker A
اس سوال کے جواب میں اس نے ایک تھیوری پیش کی۔
00:23
Speaker A
اس تھیوری میں ایک نقطہ نمایاں تھا۔ ارسطو نے کہا کہ دوستی کے لیے لازم ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں۔
00:29
Speaker A
اہداف و عقائد ایک سے ہوں۔
00:35
Speaker A
لیکن پھر ارسطو کی وفات کے ڈھائی ہزار سال بعد
00:39
Speaker A
دو ایسے فریق وجود میں آئے جنہوں نے ارسطو کی تھیوری اف فرینڈشپ کی دھجیاں اڑا دیں۔
00:52
Speaker A
یہ دو انسان نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی نمائندگی کرنے والی دو ریاستیں تھیں اور ان دونوں ریاستوں کے درمیان دوستی کا ایک مثالی تعلق قائم ہوا۔ ان میں سے ایک تھا پاکستان۔
00:57
Speaker A
اور دوسرا کون تھا؟ یہ آپ گیس کریں۔ چلیں میں کچھ ہنٹس دیتا ہوں۔ وہ امریکہ کا دشمن ہے، ہم امریکہ کے یار۔ وہ خدا کو نہیں مانتے، ہم خدا پر جان دیتے ہیں۔ ان کے پاس ڈالرز کے انبار ہیں اور ہم کنگال۔
01:50
Speaker A
وہاں کرپشن کرنے والے کو تختہ دار پر لٹکایا جاتا ہے اور یہاں
01:57
Speaker A
اب تک تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ میں کس دوست کی بات کر رہا ہوں۔
02:01
Speaker A
نہیں سمجھے تو کوکومیلن لگائیں۔ باقی سب میرے ساتھ آئیں۔
02:08
Speaker A
پاکستان اور چائنا ان تمام ڈفرنس کے باوجود بہترین دوست ہے۔
02:12
Speaker A
کسی نے کیا خوب کہا کہ یہ دوستی ہمالیہ کی چوٹیوں سے زیادہ بلند،
02:16
Speaker A
سمندر سے زیادہ گہری، شہد سے زیادہ شیری اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔
02:21
Speaker A
چاہے وہ سی پیک پروجیکٹ کے تحت پاکستان کی سنگلاخ پہاڑیوں اور وسیع وادیوں کے درمیان سڑکوں کا جال بچھانا ہو۔
02:28
Speaker A
پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنانے میں کردار نبھانا ہو،
02:31
Speaker A
یا جب پاکستان کا بے وفا امریکی دوست نازک موڑ پہ اس کی کمر میں چھرا گھونپے،
02:35
Speaker A
تو سیسہ پلائی دیوار کی طرح پاکستان کی پشت پناہی کرنا ہو۔
02:40
Speaker A
اس دوستی کے نتیجے میں پاکستان کو فائدہ ہی فائدہ ہوا ہے۔ لیکن آج ہم نہ تو نیوکلیئر پروگرام کی بات کریں گے اور نہ ہی سی پیک کی۔
02:45
Speaker A
بلکہ آج ہم بات کریں گے اس دوستی کے نتیجے میں جنم لینے والی ایک ایجاد کی جس کی آمد نے دنیا میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
02:52
Speaker A
عالمی دفاعی مارکیٹس میں سپر پاور کی منوپلی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
02:56
Speaker B
JF-17 Thunder performed very well during Operation Sindoor.
03:00
Speaker B
Somalia is in talks with Pakistan to buy two dozen JF-17 fighter jets that are developed by Pakistan and its ally, China.
03:06
Speaker B
Pakistan is going to take its aircraft to Azerbaijan.
03:10
Speaker B
A $4.6 billion dollar deal signed between Azerbaijan and Pakistan under which Baku will acquire 40 JF-17 fighter jets from Pakistan.
03:18
Speaker A
پاک چین اتحاد کی صلاحیتوں کے ملاپ کی بدولت وجود میں آنے والی یہ شے ایک جنگی طیارہ ہے۔
03:23
Speaker A
The JF-17 Thunder.
03:26
Speaker A
سرحد کے اندرون خانہ قبائلی علاقوں میں موجود اینٹی پاکستان جہادیوں کے ٹھکانوں پہ بم گراتا ہے۔
03:34
Speaker A
کبھی سرحد کے باہر ایران میں موجود پاکستان دشمن شرمچاروں کے پاس موت کا پیغام لے جاتا ہے۔
03:42
Speaker A
کبھی افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو تباہ کراتا ہے۔
03:46
Speaker A
اور جب مشرقی پڑوسی کا طیارہ مہمان بن کر پاکستان کی سرحدی حدود میں آتا ہے تو پاکستان کا جنگی پرندہ بھرپور استقبال کرتے ہوئے اسے زمین پہ گراتا ہے۔
03:54
Speaker A
اور پھر گراؤنڈ پہ موجود دفاعی اہلکار کی جانب سے مہمان کو فینٹاسٹک ٹی پلا کر واپس روانہ کر دیا جاتا ہے۔
04:01
Speaker B
I hope you like the tea. The tea is fantastic. Thank you.
04:04
Speaker A
آج یہ جنگی طیارہ سبز ہلالی پرچم کے ناقابل تسخیر دفاع کی شناخت اور دفاعی خود مختاری کی علامت بن چکا ہے۔
04:13
Speaker A
کئی ممالک اس طیارے کو اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرنے کی ریس میں لگے ہوئے ہیں۔
04:20
Speaker A
لیکن آج جب دنیا بھر میں جے ایف سیونٹین کی واہ واہ ہو رہی ہے تو تعریف کی شورش میں اس ماسٹر پیس کی تعمیر کی کہانی کہیں دب گئی ہے۔
04:26
Speaker A
آج میں یہ کہانی آپ کو سناؤں گا۔ کیسے ایک بے وفا دوست کی بے وفائی نے پاکستانی فیصلہ سازوں کو ایک دفاعی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں لگایا۔
04:32
Speaker A
اس کی تفصیل بتاؤں گا۔
04:35
Speaker A
دنیا کے کئی ممالک اس طیارے کو خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
04:40
Speaker A
اس کا بھی جواب ڈھونڈ لاؤں گا۔
04:43
Speaker A
لیکن کہانی شروع کرنے سے پہلے میں آپ کا اس کہانی کے ایک کلیدی کردار سے تعارف کرانا چاہتا ہوں۔
04:48
Speaker A
وہ شخص جس نے جے ایف سیونٹین کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اہم رول ادا کیا۔
04:53
Speaker A
ایئر مارشل ارشد ملک۔
04:55
Speaker A
ارشد صاحب نے جے ایف سیونٹین کے چیف پروجیکٹ ڈائریکٹر ہوتے ہوئے نہ صرف جے ایف سیونٹین کی مینوفیکچرنگ کو لیڈ کیا بلکہ مختلف ممالک کے ساتھ جے ایف سیونٹین کی سیلز ڈیلز لاک کرنے کا کریڈٹ بھی انہی کے سر جاتا ہے۔
05:05
Speaker A
اور اسی لیے ہم اسلام آباد گئے تاکہ آپ لوگوں کو جے ایف سیونٹین کی ایکسکلوزو کہانی ارشد ملک صاحب کی زبانی سنائی جائے۔
05:11
Speaker C
میرے خیال میں جے ایف سیونٹین پاکستان کا وہ پروگرام ہے جو قومی عزم کی غمازی کرتا ہے۔
05:16
Speaker C
قومی عزم کی غمازی کے ساتھ ساتھ فکری استدلال اور دفاعی خود کفالت کی ایک مجسم تمثیل ہے۔
05:24
Speaker C
اس تمثیل کو اگر دیکھا جائے تو یہ ایک بہت لمبی داستان ہے۔
05:30
Speaker C
بٹ آج کی نشست میں میں کچھ وہ دلچسپ باتیں آپ سے شیئر کروں گا جو میرے نالج میں ہیں۔
05:47
Speaker A
سال انیس سو پینسٹھ۔
05:50
Speaker A
یہ وہ وقت تھا جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
05:55
Speaker A
توپوں کی گونج سے دھرتی سہم رہی تھی۔ جہازوں کی گرج سے فضا لرز رہی تھی۔
06:02
Speaker A
پاکستانی افواج کو معلوم تھا کہ سپر پاور امریکہ سیٹو اور سینٹو معاہدوں کے تحت ان کا اتحادی ہے۔
06:10
Speaker A
اگر وہ براہ راست مدد نہیں کرتا،
06:14
Speaker A
تو اس جنگ میں ان کے خلاف کوئی رکاوٹ بھی نہیں ڈالے گا۔
06:18
Speaker A
لیکن پھر جنگ شروع ہونے کے صرف دو دن بعد پاکستانی فوجی قیادت کو ایک شدید دھچکا لگا
06:25
Speaker A
کیونکہ آٹھ ستمبر کے دن امریکہ نے دونوں ممالک پہ ویپنز ایمبارگو عائد کر دیا۔
06:31
Speaker A
اس فیصلے سے انڈیا کو زیادہ نقصان نہ ہوا کیونکہ ان کی فوج امریکہ سے زیادہ سوویت یونین کے اسلحے پہ ڈیپینڈنٹ تھی۔
06:38
Speaker A
لیکن پاکستان کے لیے یہ ایمبارگو تباہ کن ثابت ہوا کیونکہ پاکستانی فوج کا اسلحے کے لیے امریکہ پہ مکمل انحصار تھا
06:49
Speaker A
اور جنگ کے عروج پہ دوست کا یوں پیٹھ میں چھرا گھونپنا پاکستان کی شکست کی آگہی کر رہا تھا۔
06:58
Speaker A
اس وقت ایوب خان زیر اقتدار تھے۔
07:02
Speaker A
اور یہ بات انہیں پریشان کرنے لگی۔
07:06
Speaker A
صحافی اینڈریو سمال اپنی کتاب پاکستان چائنا ایکسس میں بتاتے ہیں
07:12
Speaker A
کہ اس روز ایوب خان کا انفارمیشن سیکرٹری ان کے پاس آیا۔
07:18
Speaker A
ایوب نے کہا،
07:20
Speaker A
امریکہ ہمیں دھوکہ دے گئے ہیں
07:24
Speaker A
لیکن ساتھ ہی وہ خوفزدہ ہیں کہ کہیں چین اس معاملے میں نہ کود پڑے۔
07:29
Speaker A
یہ بات سن کر انفارمیشن سیکرٹری نے کہا،
07:33
Speaker A
صدر صاحب، اب آپ کے پاس کھیلنے کو یہی پتہ باقی ہے۔
07:37
Speaker A
ایوب خان مسکرائے۔
07:40
Speaker A
ہاتھ میں تھامی کتاب کو میز پہ رکھا۔
07:43
Speaker A
قدموں پہ کھڑے ہوئے
07:45
Speaker A
اور کہا،
07:47
Speaker A
تو چلو یہ آخری پتہ کھیلنے کا وقت آ گیا ہے۔
07:51
Speaker A
بالآخر بائیس ستمبر کے دن جنگ بندی ہو گئی۔
07:55
Speaker A
لیکن جنگ ختم ہونے کے باوجود امریکہ کا عائد کردہ آرمز ایمبارگو برقرار تھا۔
08:02
Speaker A
چین نے پاکستان کو جنگ کے دوران بھرپور سفارتی سپورٹ فراہم کی تھی
08:09
Speaker A
اور جنگ کے بعد اس سپورٹ کا دائرہ وسیع تر ہو گیا۔
08:13
Speaker A
پاکستانی قیادت امریکہ کے رویے کی اچانک تبدیلی کے بعد فیصلہ کر چکی تھی
08:20
Speaker A
کہ انہیں ایک دوسرے بااعتماد پارٹنر کی ضرورت ہے۔
08:25
Speaker A
اور بااعتماد ساتھی کی اس خلا کو چائنا نے پر کیا۔
08:30
Speaker A
چند سالوں میں چین پاکستان کا پرائمری ویپن سپلائر بن گیا۔
08:35
Speaker A
دونوں ممالک کے درمیان قربتیں بڑھنے لگیں۔
08:38
Speaker A
لیکن آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ پینسٹھ کی جنگ سے پہلے پاکستان اور چائنا کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔
08:46
Speaker A
بلکہ جب نائنٹین ففٹی ون میں پہلی بار پاکستانی سفیر نے چائنا کے حاکم ماؤزے ڈونگ سے ملاقات کی تو ماؤ نے ان کا پاکستان کا نمائندہ ہونے کے بجائے برطانوی راج کے نمائندے کے طور پہ استقبال کیا۔
08:55
Speaker A
لیکن پھر انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آغاز کے ساتھ انڈیا اور چائنا کے درمیان سرحدی معاملات پہ گرما گرمی شروع ہو گئی
09:05
Speaker A
جس کا نتیجہ انیس سو باسٹھ میں باقاعدہ جنگ کی صورت میں نکلا
09:11
Speaker A
اور وہ کہتے ہیں نا کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔
09:15
Speaker A
اس جنگ کے بعد چائنا اور پاکستان کی دوستی کا آغاز ہوا۔
09:19
Speaker A
چائنا پاکستان کو عسکری لحاظ سے مضبوط کرنا چاہتا تھا
09:25
Speaker A
تاکہ وہ انڈیا کو انگیج رکھ سکے۔
09:28
Speaker A
یعنی اس دوستی کی بنیاد دونوں ممالک کی انڈیا سے مشترکہ دشمنی میں پائی جاتی ہے۔
09:34
Speaker A
پاکستان نے بھی دوستی خوب نبھائی۔
09:37
Speaker A
اس وقت چائنا کو کمیونسٹ ہونے کی وجہ سے پوری دنیا سے آئسولیٹ کر کے رکھا گیا تھا۔
09:44
Speaker A
اس آئسولیشن کے دوران پاکستان چین کے لیے بیرونی دنیا میں ایک دریچہ ثابت ہوا۔
09:49
Speaker A
حتیٰ کہ نائنٹین سیونٹی ون میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان ایک برج کا کردار ادا کیا
09:57
Speaker A
اور دونوں ممالک کے ٹاپ آفیشلز کی خفیہ ملاقاتیں کرائیں۔
10:01
Speaker A
اتحاد کے بیچ سے جو پودا نکلا تھا دونوں ممالک اس کے پھل کھا رہے تھے
10:07
Speaker A
اور پھر جلد ہی یہ پودا ایک قد آور درخت کی شکل اختیار کرنے لگا۔
10:12
Speaker A
اینڈریو سمال اپنی کتاب پاکستان چائنا ایکسس میں لکھتے ہیں کہ پینسٹھ کے بعد سے پاکستان چین کو نیوکلیئر صلاحیت کے حصول میں مدد کرنے کے لیے آمادہ کر رہا تھا۔
10:20
Speaker A
یہ کوششیں رنگ لائیں اور بالآخر نائنٹین سیونٹی سکس میں بھٹو نے چین کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔
10:25
Speaker A
یوں نیوکلیئر پروگرام پہ کام شروع ہو گیا۔
10:28
Speaker A
اگلے ہی سال بھٹو کا تختہ الٹ کر جنرل ضیا نے اقتدار سنبھالا۔ لیکن حکمران کی تبدیلی سے پاک چین اتحاد میں کوئی تبدیلی نہ آئی
10:36
Speaker A
اور اسی کنسسٹنٹ پالیسی کی بدولت نائنٹین ایٹی فور میں پاکستان نے کامیابی سے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کر لی۔
10:44
Speaker C
سو پہلے یہ کنسیو کیا گیا کہ اس پروجیکٹ میں کوشش کی جائے گی کہ چائنا کے تعاون سے بنے گا
10:51
Speaker C
پھر بھی اس میں کم از کم ایویونکس کی حد تک ہم وہ ایویونکس ان ملکوں سے لیں جو ہمیں ریلیز کر دیں۔
11:00
Speaker C
لیکن پھر اس میں مشکلات سامنے آنے پڑ گئیں۔
11:07
Speaker C
سو پھر یہ کمپلیٹ فیصلہ یہ کیا گیا کہ پہلے اس جہاز کو بنایا جائے اس کے بعد دیکھا جائے کہ اس میں اس وقت کون سی ایویونکس اویلیبل ہیں اور ان کو انٹروڈیوس کیا جائے۔
11:20
Speaker A
اور پھر ستمبر دو ہزار تین میں جے ایف سیونٹین کا پہلا پروٹوٹائپ تیار ہو گیا۔
11:25
Speaker A
سمجھے یہ ایک سیمپل کی طرح تھا۔
11:28
Speaker A
اسی مہینے میں جے ایف سیونٹین نے پہلی مرتبہ رن وے سے پرواز بھری۔
11:35
Speaker A
اس پہلے پروٹوٹائپ میں کئی مسائل تھے۔ مغربی ایویونکس نہ ہونے کی وجہ سے چائنیز لوکل ریڈارز استعمال کیے گئے تھے
11:41
Speaker A
اور ان ریڈارز کی رینج بہت کم تھی۔
11:45
Speaker A
ساتھ ہی جہاز نئے میزائلز کیری کرنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔
11:49
Speaker A
لیکن پروٹوٹائپ تو ہوتا ہی اس لیے ہے تاکہ جہاز کی کمیوں کو اگلے ورژن میں دور کیا جائے
11:56
Speaker A
اور پھر اس میڈن فلائٹ کی لرننگز لے کر انجینئرز نے فائنل پروڈکٹ کے لیے کام شروع کر دیا۔
12:02
Speaker C
پاکستان کی پولیٹیکل لیڈرشپ نے یہ فیصلہ کیا کہ دو ہزار چھ یا سات میں ہم پاکستان کے پہلے جہاز کو اپنی فضاؤں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
12:10
Speaker C
یوں تئیس مارچ دو ہزار سات کو پہلی دفعہ جو سمال بیچ پروڈکشن ایئر کرافٹ تھا پہلا جہاز اگر آپ کو یاد ہو تو وہ پاکستان کلر کے ساتھ دفاعی پریڈ میں سامنے آیا
12:20
Speaker C
اور یوں الحمدللہ الحمدللہ جے ایف سیونٹین کا پروگرام ایک کامیابی کے دور میں داخل ہوا۔
12:29
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
12:31
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
12:35
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
12:41
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
12:46
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
12:52
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
12:56
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
12:59
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
13:02
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
13:09
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
13:14
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
13:20
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
13:22
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
13:28
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
13:30
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
13:38
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
13:41
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
13:45
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
13:53
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
13:59
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
14:03
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
14:11
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
14:20
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
14:35
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
14:44
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
14:53
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
15:03
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
15:10
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
15:13
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
15:17
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
15:26
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
15:33
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
15:42
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
15:46
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
15:54
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
16:02
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
16:11
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
16:18
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
16:25
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
16:27
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
16:30
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
16:36
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
16:41
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
16:47
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
16:51
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
16:54
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
16:57
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
17:04
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
17:09
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
17:15
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
17:17
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
17:24
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
17:26
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
17:34
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
17:37
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
17:42
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
17:50
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
17:56
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
18:00
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
18:08
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
18:17
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
18:32
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
18:41
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
18:50
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
19:00
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
19:06
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
19:09
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
19:14
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
19:23
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
19:30
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
19:39
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
19:43
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
19:52
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
20:01
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
20:10
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
20:17
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
20:23
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
20:26
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
20:29
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
20:35
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
20:40
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
20:46
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
20:50
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
20:53
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
20:56
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
21:03
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
21:08
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
21:14
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
21:16
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
21:23
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
21:25
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
21:33
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
21:36
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
21:41
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
21:49
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
21:55
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
21:59
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
22:07
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
22:16
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
22:31
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
22:40
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
22:49
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
22:59
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
23:05
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
23:08
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
23:13
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
23:22
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
23:29
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
23:38
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
23:42
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
23:51
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
24:00
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
24:09
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
24:16
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
24:22
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
24:25
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
24:28
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
24:34
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
24:39
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
24:45
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
24:49
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
24:52
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
24:55
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
25:02
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
25:07
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
25:13
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
25:15
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
25:22
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
25:24
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
25:32
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
25:35
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
25:40
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
25:48
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
25:54
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
25:58
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
26:06
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
26:15
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
26:30
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
26:39
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
26:48
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
26:58
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
27:04
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
27:07
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
27:12
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
27:21
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
27:28
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
27:37
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
27:41
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
27:50
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
27:59
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
28:08
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
28:15
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
28:21
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
28:24
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
28:27
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
28:33
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
28:38
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
28:44
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
28:48
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
28:51
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
28:54
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
29:01
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
29:06
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
29:12
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
29:14
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
29:21
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
29:23
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
29:31
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
29:34
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
29:39
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
29:47
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
29:53
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
29:57
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
30:05
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
30:14
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
30:29
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
30:38
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
30:47
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
30:57
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
31:03
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
31:06
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
31:11
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
31:20
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
31:27
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
31:36
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
31:40
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
31:49
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
31:58
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
32:07
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
32:14
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
32:20
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
32:23
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
32:26
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
32:32
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
32:37
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
32:43
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
32:47
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
32:50
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
32:53
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
33:00
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
33:05
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
33:11
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
33:13
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
33:20
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
33:22
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
33:30
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
33:33
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
33:38
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
33:46
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
33:52
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
33:56
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
34:03
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
34:12
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
34:27
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
34:36
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
34:45
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
34:55
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
35:01
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
35:04
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
35:09
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
35:18
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
35:25
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
35:34
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
35:38
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
35:47
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
35:56
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
36:05
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
36:12
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
36:18
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
36:21
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
36:24
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
36:30
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
36:35
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
36:41
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
36:45
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
36:48
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
36:51
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
36:58
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
37:03
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
37:09
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
37:11
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
37:18
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
37:20
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
37:28
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
37:31
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
37:36
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
37:44
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
37:50
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
37:54
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
38:02
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
38:11
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
38:26
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
38:35
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
38:44
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
38:54
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
39:00
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
39:03
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
39:08
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
39:17
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
39:24
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
39:33
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
39:37
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
39:46
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
39:55
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
40:04
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
40:11
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
40:17
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
40:20
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
40:23
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
40:29
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
40:34
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
40:40
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
40:44
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
40:47
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
40:50
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
40:57
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
41:02
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
41:08
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
41:10
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
41:17
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
41:19
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
41:27
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
41:30
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
41:35
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
41:43
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
41:49
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
41:53
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
42:01
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
42:10
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
42:25
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
42:34
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
42:43
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
42:53
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
42:59
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
43:02
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
43:07
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
43:16
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
43:23
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
43:32
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
43:36
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
43:45
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
43:54
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
44:03
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
44:10
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
44:16
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
44:19
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
44:22
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
44:28
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
44:33
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
44:39
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
44:43
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
44:46
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
44:49
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
44:56
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
45:01
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
45:07
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
45:09
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
45:16
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
45:18
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
45:26
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
45:29
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
45:34
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
45:42
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
45:48
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
45:52
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
46:00
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
46:09
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
46:24
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
46:33
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
46:42
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
46:52
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
46:58
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
47:01
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
47:06
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
47:15
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
47:22
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
47:31
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
47:35
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
47:44
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
47:53
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
48:02
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
48:09
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
48:15
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
48:18
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
48:21
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
48:27
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
48:32
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
48:38
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
48:42
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
48:45
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
48:48
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
48:55
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
49:00
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
49:06
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
49:08
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
49:15
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
49:17
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
49:25
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
49:28
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
49:33
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
49:41
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
49:47
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
49:51
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
49:59
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
50:08
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
50:23
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
50:32
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
50:41
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔
50:51
Speaker A
کامرہ کی انہی ورکشاپس میں جہاں پہلے صرف طیاروں کی مرمت ہوتی تھی اب وہاں تخلیق کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔
50:57
Speaker A
لیکن ابھی بھی طیارے کے ایویونکس چین میں ڈیولپ ہو رہے تھے۔
51:00
Speaker A
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ان ڈیولپمنٹس کا کریڈٹ صرف چائنیز ٹیکنیشنز کو جاتا ہے۔
51:05
Speaker A
لیکن اس ڈیولپمنٹ میں نہ صرف پاکستانی افراد انوالو تھے بلکہ انہوں نے ایک اہم گیپ کو فل کرنے میں کردار ادا کیا۔
51:14
Speaker C
ہمارے پائلٹس اور انجینئرز نے اس میں بھرپور ان پٹ دی۔
51:21
Speaker C
اور وہ ان پٹ کیا تھی جو میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ہمارے لوگوں کا ایکسپوژر جو تھا وہ ویسٹ کی ٹیکنالوجی سے تھا۔
51:30
Speaker C
اور ویسٹ ٹیکنالوجی اس وقت بام عروج پہ تھی۔
51:34
Speaker C
سو وہ ان پٹس وہ نالج جب چائنیز کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتا ہے امتزاج بنتا ہے تو وہ ایک اچھے جہاز کی صورت میں آ جاتا ہے۔
51:43
Speaker C
یہاں یہ بات کہنی بڑی ضروری ہے کہ چائنا نے اس میں انویسٹمنٹ تو کی،
51:52
Speaker C
لیکن چائنا کی انویسٹمنٹ اپنی مین پاور پہ بھی تھی جو کہ انہوں نے رشیا سے ٹریننگ لے کے کی۔
52:01
Speaker C
اب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رشین ٹیکنالوجی ورسز ویسٹ کی ٹیکنالوجی میں دیئر از ا گیپ۔
52:08
Speaker C
اس گیپ کو جو فل کرنا تھا وہ پاکستان کے لوگوں نے کیا۔
52:14
Speaker A
اب کیا سمجھے؟
52:17
Speaker A
بس طیارے آ گئے اور کہانی ختم ہو گئی۔
52:20
Speaker A
ویسے تو پاکستان میں پروگرامز کی ابتدا کی تختیاں بھی لگتی ہیں، فیتے بھی کٹتے ہیں۔
52:26
Speaker A
لیکن کچھ عرصے میں یہ پروگرامز یادداشت میں کہیں دفن ہو جاتے ہیں۔
52:31
Speaker A
لیکن یہاں رواج توڑا جا رہا تھا۔ کیونکہ دو ہزار سات میں جو طیارے چین سے بن کر پاکستان آئے
52:37
Speaker A
وہ جے ایف سیونٹین کے پہلے بلاک کا حصہ تھے۔
52:41
Speaker A
ابھی بہتری کی بہت گنجائش تھی۔
52:44
Speaker A
اس کو ذرا آسان کر کے سمجھتے ہیں۔
52:47
Speaker A
اسی سال ٹیک کی دنیا میں ایک بریک تھرو ہوا۔ ایپل نے آئی فون کا دنیا سے تعارف کرایا۔
52:54
Speaker A
لیکن اس آئی فون میں اور آج کے آئی فون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
52:59
Speaker A
اسی طرح جے ایف سیونٹین بلاک ون میں اور آج کے بلاک تھری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
53:05
Speaker A
فرق کیا ہے وہ بھی بتاؤں گا۔
53:07
Speaker A
لیکن کیا آپ جانتے ہیں بلاک ون کی کامیاب انڈکشن کے بعد پاکستان نے جے ایف سیونٹین کے اگلے بیچز لوکلی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
53:14
Speaker A
اونیسٹلی مجھے بھی یقین نہیں آیا۔
53:16
Speaker A
وہ ملک جو بنیادی اشیا کے لیے بھی دوسرے ممالک پہ انحصار کرتا ہو وہ ایک سٹیٹ آف دی آرٹ دفاعی ہتھیار کو کیسے پروڈیوس کرے گا؟
53:24
Speaker A
واقعی یہ ایک معجزہ تھا۔
53:27
Speaker A
لیکن ہر معجزے کی ایک منفرد کہانی ہوتی ہے۔
53:32
Speaker A
اور یہ کہانی شروع ہوئی پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ایک خاموش قصبے کامرہ سے
53:40
Speaker A
جہاں پاک فضائیہ کے زیر انتظام پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس موجود تھا۔
53:46
Speaker A
اسی کمپلیکس میں ایک کمپلیکس تیاری کی مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوا۔
53:50
Speaker C
سو پاکستان ایئر فورس نے الحمدللہ اس میں سے میکسیمم شیئر لیا جس کی پارٹس پروڈکشن پاکستان میں ہونی تھی۔
53:58
Speaker C
اس کے لیے جو سب سے بڑا دشوار کن مرحلہ تھا وہ تھا ان سپیسیفک اور پریسائز جن کو سی این سی سی این سی مشینز کہتے ہیں۔
54:07
Speaker C
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
54:22
Speaker C
اور وہ ایویونکس کے انجینئرز تھے جنہوں نے ان مشینوں کو انسٹال کیا اور پھر اس پہ یہ پارٹس پروڈیوس ہونا شروع ہوئے۔
54:31
Speaker C
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
54:40
Speaker C
جن میں ونگ تھا، جن میں ٹیل تھی اور اسی طرح پورا انجن جو تھا وہ ایز اٹ از رشیا سے چائنا آتا تھا اور چائنا سے پاکستان آتا تھا۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →