یہ دو انسان نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی نمائندگی کرنے والی دو ریاستیں تھیں اور ان دونوں ریاستوں کے درمیان دوستی کا ایک مثالی تعلق قائم ہوا۔ ان میں سے ایک تھا پاکستان۔
اور دوسرا کون تھا؟ یہ آپ گیس کریں۔ چلیں میں کچھ ہنٹس دیتا ہوں۔ وہ امریکہ کا دشمن ہے، ہم امریکہ کے یار۔ وہ خدا کو نہیں مانتے، ہم خدا پر جان دیتے ہیں۔ ان کے پاس ڈالرز کے انبار ہیں اور ہم کنگال۔
ارشد صاحب نے جے ایف سیونٹین کے چیف پروجیکٹ ڈائریکٹر ہوتے ہوئے نہ صرف جے ایف سیونٹین کی مینوفیکچرنگ کو لیڈ کیا بلکہ مختلف ممالک کے ساتھ جے ایف سیونٹین کی سیلز ڈیلز لاک کرنے کا کریڈٹ بھی انہی کے سر جاتا ہے۔
بلکہ جب نائنٹین ففٹی ون میں پہلی بار پاکستانی سفیر نے چائنا کے حاکم ماؤزے ڈونگ سے ملاقات کی تو ماؤ نے ان کا پاکستان کا نمائندہ ہونے کے بجائے برطانوی راج کے نمائندے کے طور پہ استقبال کیا۔
اینڈریو سمال اپنی کتاب پاکستان چائنا ایکسس میں لکھتے ہیں کہ پینسٹھ کے بعد سے پاکستان چین کو نیوکلیئر صلاحیت کے حصول میں مدد کرنے کے لیے آمادہ کر رہا تھا۔
سو پھر یہ کمپلیٹ فیصلہ یہ کیا گیا کہ پہلے اس جہاز کو بنایا جائے اس کے بعد دیکھا جائے کہ اس میں اس وقت کون سی ایویونکس اویلیبل ہیں اور ان کو انٹروڈیوس کیا جائے۔
یوں تئیس مارچ دو ہزار سات کو پہلی دفعہ جو سمال بیچ پروڈکشن ایئر کرافٹ تھا پہلا جہاز اگر آپ کو یاد ہو تو وہ پاکستان کلر کے ساتھ دفاعی پریڈ میں سامنے آیا
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔
وہ امپورٹ کرنا اس پہ زر مبادلہ خرچ کرنا پھر ان کو پاکستان میں لے کے آنا پھر ان کو انسٹال کرنا تو اس کے لیے ایک پوری ٹیم تھی جو کہ ہر جس میں سول انجینئرز تھے، مکینیکل انجینئرز تھے، الیکٹریکل انجینئرز تھے
میجر پورشن اف پارٹس پروڈکشن واز براٹ ان پاکستان اور جو لارج یا جن پہ انویسٹمنٹ زیادہ آتی تھی اور جن پہ چائنا پہلے سے خود کفیل تھا وہ پارٹس چائنا میں بنتے رہے۔