Islami Tarbiyati Course 2026 - Episode 02 - Ramzan Special Program - Muhammad Ajmal Raza Qadri

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:31
Speaker A
اللہ تبارک و تعالی نے جب ابلیس سے یہ فرمایا کہ تو نے حضرت ادم علیہ السلام کو میرے حکم کے مطابق سجدہ نہیں کیا
00:47
Speaker A
تو اب تو یہاں سے چلا جا قیامت تک کے لیے تیرے اوپر لعنت ہے
00:50
Speaker A
تو شیطان کہنے لگا کہ مجھے مہلت دی جائے تو اللہ تعالی نے اسے ایک معینہ اور مقررہ وقت تک کے لیے مہلت دے دی
00:56
Speaker A
تو اس نے کچھ دعوے خود کیے کہنے لگا کہ میں
01:00
Speaker A
لوگوں کے راستوں میں بیٹھوں گا
01:05
Speaker A
انہیں گمراہ کروں گا
01:07
Speaker A
ان کے خلاف چالیں چلوں گا
01:10
Speaker A
وسوسہ اندوزیاں کروں گا
01:12
Speaker A
اور کس حد تک لوگوں کو گمراہ کروں گا اور کن کن کو گمراہ کروں گا اس نے کہا
01:20
Speaker A
میں ان سب کو اجتماعی طور پر گمراہ کروں گا
01:25
Speaker A
ہر ایک پر اپنا جال پھینکوں گا
01:27
Speaker A
ہر ایک کو اس کے معاملے کے مطابق
01:34
Speaker A
راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کروں گا الا
01:40
Speaker A
عبادک منھم المخلصین
01:45
Speaker A
لیکن مالک جو تیرے مخلص بندے ہوں گے نا
01:50
Speaker A
وہ میرے شر سے بچے رہیں گے
01:53
Speaker A
دنیا میں ہر طرف شیطانی وساوس پھیل چکے
01:58
Speaker A
چانوں جانب فتنے گمراہ کرنے والی باتیں گمراہ کرنے والے راستے
02:05
Speaker A
ہر طرف منفی باتوں کا زور بری باتیں بھی لوگ اتنی مسجہ مکفہ اور خوبصورت
02:12
Speaker A
کر کے کرتے ہیں کہ بہت بڑے جھوٹے بھی سچے محسوس
02:17
Speaker A
ہوتے ہیں معاذاللہ
02:19
Speaker A
بہت کم لوگ ہیں جو اس گمراہی سے بچتے ہیں
02:24
Speaker A
وہ کون ہیں ان کی ایک ہی تعریف قران مجید نے بیان کی کہ وہ اللہ کے مخلص بندے ہیں
02:30
Speaker A
جتنا کسی کے اندر اخلاص ہوتا ہے جتنا وہ تصنع سے بچتا ہے جتنا وہ دکھلاوے سے بچتا ہے
02:37
Speaker A
جتنا وہ شہرت سے بچتا ہے
02:40
Speaker A
جتنا کوئی شخص اپنے اعمال کو چھپا کر
02:46
Speaker A
اپنی نیکی کو محض اپنے رب کریم کے لیے کرنے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی زیادہ وہ شیطان کے داؤ سے بچتا ہے
02:54
Speaker A
اپ جتنا جتنا مخلص ہوتے جائیں گے جتنا خالص ہوتے جائیں گے
03:02
Speaker A
جتنا اپ تصنع سے دکھاوے سے ریاکاری سے بناوٹ سے شہرت سے بچتے جائیں گے
03:11
Speaker A
تو یہ مت سمجھیں کہ اپ ریاکاری سے بچ رہے ہیں دکھاوے سے بچ رہے ہیں شہرت سے بچ رہے ہیں
03:15
Speaker A
بلکہ سمجھیں کہ اپ شیطان سے بچ رہے ہیں
03:19
Speaker A
وہ مزین کر دے گا نگاہوں کے سامنے
03:22
Speaker A
وہ تعریف کو مزین کر دے گا
03:26
Speaker A
بار بار نفس کو تسکین ملے گی
03:31
Speaker A
بار بار اپ محسوس کریں گے کہ میری تعریف ہو رہی ہے اور ہونی چاہیے
03:37
Speaker A
میری خوشامد ہو رہی ہے اور ہونی چاہیے
03:40
Speaker A
لوگ میرے لیے کیا کیا مناقب کہہ رہے ہیں اور ہونے چاہیے
03:45
Speaker A
اللہ کی رضا کا حصول یہ اخلاص کے اعلی ترین مقاصد میں سے ہے
03:49
Speaker A
اور ذرا سا بھی شائبہ اخلاص کس کو کہتے ہیں
03:51
Speaker A
اخلاص کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت میں ذرا برابر بھی کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے
03:58
Speaker A
یعنی کسی شخص نے روزہ رکھا ہے
04:03
Speaker A
تو وہ اتنی نیت کرے گا کہ میرے رب کا حکم ہے تو میں نے روزہ رکھا ہے
04:09
Speaker A
اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھا ہے اگر اس نے یہ ارادہ کیا نا چلو روزہ بھی ہو جائے گا
04:16
Speaker A
اور میرا وزن بھی کم ہو جائے گا
04:20
Speaker A
تو یہ اخلاص نہیں ہے
04:24
Speaker A
کسی شخص نے نماز پڑھنی ہے اللہ کی رضا کے لیے
04:27
Speaker A
اور اگر وہ نماز اس لیے پڑھے کہ نماز ایک بہترین ورزش بھی ہے اور جب میں نماز پڑھوں گا تو اس سے میرے اعضاء کے اندر بہتری بھی ائے گی
04:37
Speaker A
اور میرے وجود کو اس سے اطمینان بھی نصیب ہوگا اور میرا جسم جو ہے وہ بہترین حرکت کرنے لگے گا کام کرنے لگے گا
04:45
Speaker A
تو یہ والی نیت شامل کرنا ساتھ درست
04:49
Speaker A
نہیں ہے محض اللہ کی رضا کے لیے
04:52
Speaker A
یعنی اس پر حدیث موجود ہے
04:54
Speaker A
ایک صحابی نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک شخص اس لیے جہاد کرتا ہے
05:02
Speaker A
کہ اسے اجر بھی ملے اور ساتھ اس کی شہرت بھی ہو جائے
05:08
Speaker A
سیاست میں حدیث موجود ہے
05:10
Speaker A
تو نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا
05:15
Speaker A
اچھا یہ اپ اس حدیث کے لفظوں پر غور کریں
05:19
Speaker A
وہ عرض کرتے ہیں کہ محض شہرت کی نیت نہیں
05:24
Speaker A
اس کی نیت یہ ہے کہ جہاد بھی کر لوں اور شہرت
05:30
Speaker A
بھی ہو جائے یعنی دونوں نیتیں ہیں
05:32
Speaker A
اللہ کی رضا کی نیت بھی ہے
05:35
Speaker A
لیکن ساتھ تھوڑی بہت شہرت کی نیت بھی ہے
05:40
Speaker A
یا رسول اللہ اجر ملے گا
05:43
Speaker A
تو اللہ کے رسول نے دو ٹوک لفظوں میں فرمایا اس بندے کو کوئی اجر نہیں ملے گا
05:48
Speaker A
پھر عرض کی دوسری دفعہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نیت جہاد کی بھی ہے
05:55
Speaker A
لیکن ساتھ اس کا خیال ہے کہ مشہور بھی ہو جاؤں
06:01
Speaker A
تو کریم فرمانے لگے اسے کوئی اجر نہیں ملے گا
06:03
Speaker A
سے بار پوچھا
06:05
Speaker A
تیسری بار عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نیت جہاد کی بھی ہے
06:12
Speaker A
لیکن ساتھ خیال یہ ہے کہ میں شہرت بھی پا جاؤں
06:17
Speaker A
تو حکم کیا ہے
06:20
Speaker A
تو حبیب کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا حکم یہی ہے کہ اس بندے کو کوئی اجر
06:26
Speaker A
نہیں ملے گا
06:28
Speaker A
خالص ارادے ہوں اللہ
06:30
Speaker A
اگر چاہتے ہیں فتنوں سے بچیں
06:34
Speaker A
اگر چاہتے ہیں اس دور کی گرد سے بچیں
06:38
Speaker A
اگر چاہتے ہیں اس دور کے اندر جس قدر زیادہ ازمائش ہوتی جا رہی ہے اور جس قدر زیادہ مختلف روپ دھار کر
06:47
Speaker A
شیطانیت اپنا غلبہ کر رہی ہے اسے ہم بچیں
06:52
Speaker A
تو اس کا ایک ہی علاج قران مجید نے بیان کیا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے مخلص ہو جاؤ
06:58
Speaker A
اخلاص سے ملتا کیا ہے
07:01
Speaker A
جو لوگ مخلص ہوتے ہیں نا
07:06
Speaker A
وہ بہادر ہوتے ہیں
07:08
Speaker A
بزدلی دور ہوتی ہے مخلص ہو جانے سے
07:12
Speaker A
انسان کا ذہن مضبوط ہوتا ہے
07:15
Speaker A
اعصاب مضبوط ہوتے ہیں
07:18
Speaker A
اس کے مزاج میں استقامت اتی ہے
07:21
Speaker A
جب اپ مخلص ہوتے ہیں
07:25
Speaker A
تو پھر تو یہ حال ہوتا ہے کہ صحابہ میدانوں میں نکلتے تھے
07:30
Speaker A
تو کوئی کہتا تھا کیا کرنے جا رہے ہو تو کہتے تھے شہادت لینے جا رہے ہیں
07:36
Speaker A
وہ مرنے کو تیار تھے جان دینے کو تیار تھے
07:40
Speaker A
وجہ مخلص تھے
07:43
Speaker A
حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ میدان احد کے اندر جب ایک خبر پھیلا دی گئی معاذاللہ کہ حضور کو شہید کر دیا گیا ہے
07:52
Speaker A
اور کچھ لوگ بہت پریشان ہوئے اور ادھر ادھر ہونے لگے
07:57
Speaker A
تو حضرت انس بن نضر اواز دیتے تھے اور فرماتے تھے ادھر اؤ نا واپس تم کہاں جا رہے ہو
08:04
Speaker A
مجھے تو میدان احد سے جنت کی خوشبو ا رہی ہے
08:09
Speaker A
مخلص تھے تو دوڑتے تھے
08:12
Speaker A
بہادری پیدا ہوتی ہے انسان کے اندر سے سستی اور کاہلی ختم ہوتی ہے اخلاص کی برکت سے
08:20
Speaker A
دوسری جو چیز
08:24
Speaker A
اخلاص سے انسان کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جو مخلص ہوتے ہیں نا
08:31
Speaker A
ان کی اللہ مدد فرماتا ہے
08:34
Speaker A
انہیں تائید ایزوی حاصل ہوتی ہے
08:38
Speaker A
انہیں تائید باری تعالی حاصل ہوتی ہے
08:41
Speaker A
جب اپ ریاکار ہیں جب اپ تصنع کر رہے ہیں
08:47
Speaker A
تو اس میں پھر ظاہر ہے اپ کی نیت ہی ریاکاری کی ہے اپ لوگوں کو دکھاوے کے لیے کر رہے ہیں
08:55
Speaker A
تو اپ کیا توقع کرتے ہیں کہ اس میں اللہ کی مدد ائے گی
09:00
Speaker A
لیکن جب کوئی کام اپ کرتے ہی رب کے لیے ہیں
09:07
Speaker A
اور علیم بذات صدور رب جانتا ہے کہ میرے لیے لگا ہوا ہے
09:13
Speaker A
تو پھر اللہ مدد بھی بڑی فرماتا ہے
09:16
Speaker A
پھر اللہ تبارک و تعالی اسے تائید غیبی سے نوازتا ہے
09:20
Speaker A
پھر اپ کو محسوس ہوتا ہے کہ سارے راستے کھلتے جا رہے ہیں
09:26
Speaker A
اسانیاں ہوتی جا رہی ہیں
09:28
Speaker A
اسودگی ملتی جا رہی ہے
09:31
Speaker A
بہت ساری مشکل ترین وادیاں بھی ارام سے سر ہوتی جا رہی ہیں
09:37
Speaker A
اور پھر تیسری چیز
09:42
Speaker A
جو اخلاص سے پیدا ہوتی ہے نا
09:47
Speaker A
وہ یہ ہے کہ جو مخلص لوگ ہوتے ہیں نا ان کے اندر محنت کا جذبہ ہوتا ہے
09:53
Speaker A
اپ ایک کام کرتے ہیں اس میں اخلاص نہیں ہے تو اپ تھوڑا سا کریں گے
09:59
Speaker A
بھائی اتنا سا ٹھیک ہے لوگوں کو پتہ چل گیا میری حاضری لگ گئی
10:04
Speaker A
بس میں ا گیا
10:06
Speaker A
میری فوٹو چل گئی
10:08
Speaker A
بس کسی کو پتہ چل گیا لوگوں کو کہ میں ایا تھا
10:12
Speaker A
او بھائی حاضری لگوانا مقصود ہے
10:14
Speaker A
بس لگ گئی
10:16
Speaker A
لیکن جب اپ مخلص ہوتے ہیں تو اب حاضریاں نہیں لگواتے
10:21
Speaker A
پھر اپ ڈیوٹیاں دیتے ہیں
10:23
Speaker A
جب اپ مخلص ہوتے ہیں
10:27
Speaker A
تو پھر اپ صرف فوٹو میں نظر نہیں اتے
10:33
Speaker A
پھر صبح و شام تک اور شام سے صبح تک اپ کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے میں بھلا کیا خدمات پیش کر سکتا ہوں
10:41
Speaker A
میں کس حد تک اگے بڑھ کے اپنی صلاحیتیں دین کے لیے وقف کر سکتا ہوں پیش کر سکتا ہوں
10:47
Speaker A
پھر مقصود فقط یہ نہیں ہوتا
10:50
Speaker A
ایک دفعہ ایک جلوس نکلنا تھا کشمیر کے لیے
10:55
Speaker A
تو مذہبی سیاسی جماعتیں جمع تھیں تو ان میں سے
11:00
Speaker A
مجھے بھی ایک جگہ دعوت دے لی گئی تو مجھے کہنے لگے کہ وہ ہم نے جلوس نکالنا ہے
11:05
Speaker A
تو میں نے کہا کیا مطلب جلوس نکالنا ہے
11:08
Speaker A
تو پھر اس میں نہ ساتھ ابھی وہ بہت پرانی بات ہے ہم طالب علم تھے
11:12
Speaker A
تو اس میں یہ تھا کہ اخباری نمائندوں کو کسی طریقے سے بلائیں
11:19
Speaker A
اور زیادہ سے زیادہ جمع کریں
11:22
Speaker A
رپورٹر
11:24
Speaker A
تو مجھے ایک بزرگ کی بات نہیں بھولتی انہوں نے بڑی خاص بات کی کہنے لگے اوہو میں تو جا رہا ہوں
11:31
Speaker A
میں سمجھا تھا تم اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوئے ہو
11:36
Speaker A
لیکن جس قوم کا یہ حال ہو کہ وہ پہلے یہ دیکھے کہ کتنے کو نمائندے ائیں گے
11:43
Speaker A
کتنی کو خبر چلے گی کہاں تک بات پہنچے گی
11:47
Speaker A
تو ان کا مشن تو کوئی نہ نہ ہوا
11:50
Speaker A
تو جب اپ مخلص ہوتے ہیں
11:53
Speaker A
پھر اپ محنت کرتے ہیں
11:55
Speaker A
پھر اپ کے اندر میں اپ سے عرض کروں کہ جب ٹیچر ڈیوٹی کرتا ہے نا
12:01
Speaker A
تو پھر اس نے چار چھ گھنٹے پورے کرنے ہوتے ہیں
12:05
Speaker A
اور جب اس کا دل کرتا ہے نا کہ میرے سامنے جو بیٹھا ہے یہ علم کے نور سے فیض یاب ہو
12:13
Speaker A
پھر وہ صلاحیتیں لگا دیتا ہے
12:16
Speaker A
پھر وہ مشقتیں کرتا ہے
12:19
Speaker A
پھر وہ اپنے سینے کو نچوڑ کے اس کے اندر جو علم کا نور ہوتا ہے وہ طالب علم میں منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے
12:27
Speaker A
وہ ایک منٹ کے لیے بھی غیر نصابی کوئی بات نہیں کرتا مخلص جو ہوا
12:32
Speaker A
وہ جدوجہد کرتا ہے
12:34
Speaker A
کوشش کرتا ہے
12:36
Speaker A
محنت کا جذبہ پیدا کرتا ہے اخلاص
12:40
Speaker A
چوتھی بات
12:43
Speaker A
جو ریاکار ہوتے ہیں نا
12:48
Speaker A
اپنی نظروں میں گر جاتے ہیں
12:52
Speaker A
اور جو مخلص ہوتے ہیں ان کی اپنی نظر میں بھی اپنی بڑی عزت ہوتی ہے
13:00
Speaker A
اپنے اپ سے وہ دھوکہ نہیں کرتے
13:03
Speaker A
پتہ نہیں میں نے کتنی بڑی بات کی ہے
13:05
Speaker A
اللہ کرے اپ کو سمجھ ائی ہو
13:08
Speaker A
او بھائی بندہ خود مطمئن ہی نہ ہو
13:12
Speaker A
تو وہ کوئی کام کیسے کرے گا
13:15
Speaker A
جب کوئی تصنع کرتا ہے بناوٹ کرتا ہے دکھاوا کرتا ہے تو وہ اپنے اپ کو جواب ہی نہیں دے پاتا
13:24
Speaker A
وہ اپنے اپ سے دھوکہ کر رہا ہوتا ہے
13:26
Speaker A
فریب کر رہا ہے دھوکہ دے رہا ہے
13:29
Speaker A
اور جب انسان مخلص ہوتا ہے نا
13:34
Speaker A
تو اسے اپنے اپ سے بھی پیار ہوتا ہے
13:38
Speaker A
اسے محسوس ہوتا ہے میرا وجود کوئی بیکار وجود نہیں
13:43
Speaker A
میری زندگی کوئی بیکار زندگی نہیں یہ زندگی تو میں نے کسی کے نام کر دی ہے
13:49
Speaker A
یہ تو میں نے زندگی کسی کے لڑ لگا دی ہے
13:53
Speaker A
اسے اپنے اپ سے پیار ہونے لگتا ہے
13:56
Speaker A
جب وہ مخلص ہوتا ہے
13:58
Speaker A
اپنی نظر میں اس کی عزت ہوتی ہے
14:01
Speaker A
اسے پھر اپنی صلاحیت سے پیار ہوتا ہے
14:05
Speaker A
وہ پھر ضمیر کا قیدی نہیں ہوتا
14:08
Speaker A
اسے پھر لگتا ہے کہ وہ میں کسی کام لگ گیا ہوں کوئی ڈیوٹی اللہ نے مجھ سے لینی شروع کر دی
14:16
Speaker A
پانچویں بات
14:20
Speaker A
ریاکاری جھوٹ ہے
14:23
Speaker A
اخلاص سچ ہے
14:26
Speaker A
ریاکاری ناانصافی ہے
14:29
Speaker A
اخلاص انصاف ہے
14:32
Speaker A
ریاکاری چٹیل اور گمراہ کر دینے والا راستہ ہے
14:38
Speaker A
اور اخلاص اعتدال کا راستہ ہے
14:41
Speaker A
وہ ایک خوبصورت راہ ہے جس راہ پر انسان چلتا ہے تو راستہ بظاہر ٹوٹا پھوٹا بھی ہو
14:47
Speaker A
لیکن اسے تھکاوٹ محسوس نہیں ہوتی
14:50
Speaker A
وہ چلتا چلا جاتا ہے
14:52
Speaker A
اخلاص نعمت ہے سعادت ہے عدل ہے برکت ہے ٹھنڈک ہے نور ہے رب رسول کی مدد کا نام اخلاص ہے
15:01
Speaker A
اور پھر چھٹی بات
15:05
Speaker A
ریاکاری نا بے چینی بڑی پیدا کرتی ہے
15:09
Speaker A
جن کو تعریف کرانے کا شوق ہوتا ہے
15:12
Speaker A
میں نے دیکھا ہے وہ بیچارے منتیں کر رہے ہوتے ہیں
15:15
Speaker A
کوئی تھوڑی تعریف ہو جائے نا میری
15:20
Speaker A
جن کو تعریفیں کرانے کا خوشامدیں سننے کا شوق ہو جاتا ہے نا
15:26
Speaker A
وہ بیچارے ہر وقت اپنے منہ سے کہتے رہتے ہیں شکر ہے جی اللہ کا
15:30
Speaker A
بڑا اللہ کا فضل ہے
15:32
Speaker A
کبھی جھوٹ نہیں بولا
15:33
Speaker A
بڑا شکر ہے جی فلانی ڈیوٹی بھی میں نے کی
15:36
Speaker A
فلانی مسجد بھی میں نے بنائی
15:38
Speaker A
فلاں فلائی کام میں بھی میں شامل رہا
15:40
Speaker A
فلاں کو مشکل ا گئی تھی میں
15:42
Speaker A
بے چینی بڑا ہے
15:44
Speaker A
بتاتا پھرتا ہے سناتا پھرتا ہے
15:47
Speaker A
ریاکاری بے چینی ہے اور اخلاص سکون ہے
15:52
Speaker A
بے قراری والے کرتے ہیں نیکی کر فیس بک پہ ڈال
15:57
Speaker A
اور اخلاص والے کہتے ہیں نیکی کر دی اب چپ کر جاؤ اجر تو اللہ دے گا قیامت میں تو پتہ چل جائے گا رب کتنی مہربانی فرماتا ہے
16:05
Speaker A
پھر ریاکاری سے نا بے صبری پیدا ہوتی ہے
16:08
Speaker A
اپ جب تصنع کرتے ہیں دکھاوا کرتے ہیں
16:13
Speaker A
لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرتے ہیں
16:17
Speaker A
تو اپ کا خیال ہوتا ہے کہ جلدی نتیجہ نکلے
16:22
Speaker A
فٹا فٹ پتہ چل جائے کہ بھلا لوگوں کی رائے کیا ہے
16:27
Speaker A
اور اخلاص صبر پیدا کرتا ہے
16:30
Speaker A
سکون پیدا کرتا ہے
16:32
Speaker A
یہاں اجر نہ بھی ملے تو پتہ ہوتا ہے صبح قیامت اللہ ضرور اجر عطا فرمائے گا
16:38
Speaker A
ورنہ تو لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ کوئی کوئی مجھے نا کوئی اس پہ جلدی سے کوئی چیز ملے
16:42
Speaker A
سیدہ طیبہ طاہرہ
16:45
Speaker A
حضرت عائشہ صدیقہ
16:47
Speaker A
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا زمانہ مبارکہ ایا نا تو حضرت عثمان غنی نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک کنیز رکھ کے دی تھی گھر کے کام کاج کرنے کے لیے
16:57
Speaker A
کہ اماں جی یہ اپ کی خدمت کریں گی
17:00
Speaker A
تو سیدہ عائشہ نے دو چار دفعہ کہا کہ مجھے ضرورت نہیں ہے تھوڑے سے کام ہوتے ہیں گھر کے میں خود کر لیتی ہوں
17:05
Speaker A
کہا نہیں یہ اپ کو کر دے گی
17:09
Speaker A
تو وہ کنیز کہتی ہے میں نے عجیب نظارہ دیکھا کہ سیدہ عائشہ کھانا پکانے کھڑی ہوتی نا تو ایک روٹی میری بھی پکا دیتی
17:18
Speaker A
وہ کوئی دودھ گرم کرنے کے لیے کھڑے ہوتی تو ایک پیالی مجھے بھی گرم کر دیتی
17:23
Speaker A
میں ان سے کہتی کہ میں قربان جاؤں اپ کی خدمت کے لیے ائی ہوں اپ الٹا
17:30
Speaker A
مجھ سے کبھی کوئی کام انہوں نے نہیں لیا ہاں جب کوئی دروازے پر کچھ مانگنے اتا نا
17:38
Speaker A
تو سیدہ عائشہ صدیقہ مجھ سے فرماتی کہ جاؤ اسے یہ
17:43
Speaker A
کچھ دے اؤ کھجوریں دے اؤ سرکہ دے اؤ پیسے دے اؤ
17:48
Speaker A
تو میں ان کی خدمت میں عرض کرتی کہ اماں جی یہ کام تو لوگ پہنچ کے کرتے ہیں
17:53
Speaker A
باٹنے والا
17:56
Speaker A
تو اپ باقی کے جو گھر کے اندر کے چار دیواری کے کام ہیں وہ مجھے کرنے نہیں دیتی ہیں
18:03
Speaker A
اور یہ جو باہر کا کام ہے یہ اپ مجھ سے فرماتی ہیں تو دے اؤ
18:07
Speaker A
تو وجہ
18:09
Speaker A
تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ جب بندہ کسی کو کچھ دیتا ہے
18:15
Speaker A
تو وہ شکریہ بھی تو ادا کرتا ہے نا
18:21
Speaker A
تو میں چاہتی ہوں وہ شکریہ بھی تیرا ہی ادا کر جائے
18:26
Speaker A
میں نے جو بھی اجر لینا ہے محض اپنے رب کریم سے ہی لینا ہے
18:33
Speaker A
وہ تیرا شکریہ ادا کر جائے
18:36
Speaker A
تجھے کہہ دے تو نے دیا ہے اس کی نظر میں یہ ہو کہ یہ تو نے کیا ہے کام
18:41
Speaker A
اس طرح کا جب اعلی ترین جذبہ پیدا ہوتا ہے تو مجھے بتائیے پھر کوئی بے صبری ہوتی ہے کہ تعریف ہو میری
18:48
Speaker A
پھر کوئی بے چینی دل میں پیدا ہوتی ہے
18:51
Speaker A
اپ اطمینان قلبی اور سکون محسوس کرتے ہیں جب اپ کا اس طرح کا رویہ ہوتا ہے
18:58
Speaker A
یاد رکھیے گا
19:00
Speaker A
کچھ چیزیں بہت ساری چیزیں سامنے رکھ کے نچوڑ بیان کیا جاتا ہے
19:06
Speaker A
یہ اپ غور کریں کیا عرض کر رہا ہوں
19:11
Speaker A
جب بندہ مخلص ہو جاتا ہے نا
19:16
Speaker A
تو اس کے دل سے موت کا خوف نکل جاتا ہے
19:22
Speaker A
ڈرا ڈرا سہما سہما
19:27
Speaker A
خوف زدہ بیماری نہ ا جائے گھر نہ ہو جائے فلاں نہ ہو جائے فلاں نہ چلا جائے
19:33
Speaker A
موت کا خوف مخلصین کے دلوں سے نکل جاتا ہے
19:39
Speaker A
یعنی ہر روز حضرت عمر دعا مانگتے تھے یا اللہ اپنے راستے میں شہادت کی موت عطا فرما
19:45
Speaker A
یعنی سیدنا خالد ابن ولید ساری زندگی ڈھونڈتے رہے کہ مجھے
19:51
Speaker A
شہادت نصیب ہو جائے
19:55
Speaker A
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ
19:57
Speaker A
حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ
20:00
Speaker A
حضرت عمار ابن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ
20:03
Speaker A
شہادت کے ارزو مند تھے
20:07
Speaker A
یار کسی کا جان دینے کو بھی دل کرتا ہے
20:10
Speaker A
یعنی میں مر ہی جاؤں
20:13
Speaker A
نہیں میری جان ہی چلی جائے
20:15
Speaker A
بچے بھی نظر اتے تھے ان کو گھر بھی نظر اتا تھا ان کو اپنے جائیدادیں زمینیں باغات بھی ان میں سے بہت سارے لوگ رکھتے تھے
20:20
Speaker A
پھر بھی دل کرتا تھا
20:24
Speaker A
کہ جان پاویں نہ جان میرے محبوبہ
20:28
Speaker A
میں تے لگیاں توڑ نبھیساں
20:32
Speaker A
راہ تیرے وچ رل کے مرساں
20:36
Speaker A
تے قدم نہ پچھا ہٹیساں شہر تیرے دے ٹکڑے منگساں تے اعظم جان امانت تیری
20:42
Speaker A
تو جدوں منگساں میں پیش کریساں
20:48
Speaker A
مخلص بندے کا دل کرتا ہے
20:50
Speaker A
مخلص کا کہ جان دے دوں
20:52
Speaker A
جب اپ مخلص ہی نہیں ہیں
20:54
Speaker A
پھر تو زندگی سے پیار ہے
20:57
Speaker A
پھر تو مرنے سے خوف ہے
20:59
Speaker A
پھر تو ڈر لگ رہا ہے
21:01
Speaker A
تو اخلاص یہ ساری اسانیاں انسان کی زندگی میں لے اتا ہے شرط یہ ہے کہ نماز پڑھے تو مخلص ہو کر
21:10
Speaker A
روزہ رکھے تو مخلص ہو کر
21:12
Speaker A
صدقہ دے تو مخلص ہو کر
21:14
Speaker A
کسی کے ساتھ تعلق بنائے تو مخلص ہو کر
21:17
Speaker A
کسی سے پیار کرے تو مخلص ہو کر
21:20
Speaker A
کسی سے ملنے جائے تو مخلص ہو کر
21:23
Speaker A
کسی کو گھر بلائے تو مخلص ہو کر
21:26
Speaker A
کسی سے لین دین کرے تو کوئی کوئی دنیاوی درمیان میں کسی قسم کا بھی
21:29
Speaker A
حضرت معاذ ابن جبل کہتے ہیں میں یمن جا رہا تھا
21:34
Speaker A
اور یہ میری نبی پاک علیہ السلام سے وہ ملاقات تھی جو اخری اخری تھی
21:40
Speaker A
چونکہ جب میں واپس ایا
21:45
Speaker A
تو حالت یہ تھی کہ سرکار کا وصال ظاہری ہو چکا تھا
21:49
Speaker A
اور حضور نے مجھے کہہ کے بھیجا تھا ارشاد فرمایا تھا کہ جب تو لوٹے گا تو میری قبر کے پاس سے گزرے گا
21:55
Speaker A
فرماتے ہیں میں جب جا رہا تھا تو میری اخری اخری ملاقات تھی
22:02
Speaker A
اس وقت حضور نے مجھے جو نصیحتیں فرمائیں
22:05
Speaker A
تو ایک نصیحت یہ فرمائی مخلص ہو کر عمل کرنا
22:11
Speaker A
مخلص ہو کر کیا گیا تھوڑا عمل بھی اللہ کی بارگاہ میں زیادہ درجہ پا جایا کرتا ہے
22:20
Speaker A
تصنع نہ ہو
22:21
Speaker A
ریاکاری نہ ہو
22:23
Speaker A
بناوٹ نہ ہو
22:25
Speaker A
میں اللہ کے گھر میں بیٹھا ہوں
22:28
Speaker A
مجھے اپنے مرشد سے محبت نہیں عشق نہیں میرے پاس کوئی لفظ ہی نہیں ہے جو میں ان کے بارے میں استعمال کروں
22:35
Speaker A
وہ میرے پاس جملہ ہی نہیں ہے جو میں کہہ سکوں
22:40
Speaker A
میں کیسے کسی کو بتاؤں
22:44
Speaker A
کہ میں ان کے جو گلی سے گزرنے والے بچے تھے اور جوان تھے اور مسافر تھے وہ بھی بھلے لگتے تھے
22:50
Speaker A
کہ محبوب کی گلی سے گزرتے ہیں
22:54
Speaker A
میں تو اس شخص کے بھی ہاتھ چوما کرتا تھا جو وہاں برچی خانے میں لنگر پکاتا تھا
23:01
Speaker A
کہ یار تو قریب تو رہتا ہے نا
23:02
Speaker A
تو بار بار دیکھ جنہاں نے دلبر جانی ڈٹھا اکھیاں ہی تک لیے
23:08
Speaker A
وہ کیا بتائیں کہ اندر کیا ہے
23:10
Speaker A
روح کیسے مچلتی ہے
23:12
Speaker A
زندگی بھر جرات نہیں ہوئی کبھی
23:17
Speaker A
پاس بیٹھنے کی ساتھ والی کرسی پہ براجمان ہونے کی
23:21
Speaker A
ساتھ ہو کے فوٹو کھنچوانے کی
23:23
Speaker A
پتہ نہیں کہاں سے جراتیں ائی ہیں لوگوں میں
23:27
Speaker A
کہاں سے مزاج بنے ہیں
23:29
Speaker A
یہ کون سا نیا رنگ دنیا میں ایا ہے
23:32
Speaker A
میں ریاکاری نہیں کہہ رہا لیکن خدا کے بندو
23:37
Speaker A
میرے لیے اتنی لوگوں نے دعائیں کی ہیں اتنی دعائیں کی ہیں کہ میں سوچ نہیں سکتا
23:42
Speaker A
مجھے کسی دوست نے ایک دفعہ پوچھا تھا زندگی میں کمایا کیا
23:48
Speaker A
اور جمع کیا کیا
23:50
Speaker A
تو مجھے علامہ قمر الزمان اعظمی کی بات یاد ائی وہ کہا کرتے ہم نے زندگی میں نا محبت کمائی ہے
23:58
Speaker A
اور دعائیں جمع کر کے رکھی ہیں
24:01
Speaker A
محبت کمائی ہے اور دعائیں
24:03
Speaker A
جمع کر کے رکھی ہوئی ہیں
24:05
Speaker A
اتنی ہیں اللہ کے فضل سے کہ کہیں مشکل ا جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی دعا اٹھ کے سامنے ا جاتی ہے
24:12
Speaker A
اور سارے مسئلے حل کر جاتی ہے
24:14
Speaker A
دعائیں محافظ بن کے پہرے دار بن کے ساتھ رہتی ہیں
24:18
Speaker A
تو اخلاص
24:20
Speaker A
للہیت
24:21
Speaker A
پیار
24:22
Speaker A
خلوص
24:24
Speaker A
یہ اپ کو طاقتور کر دے گا اپ کے اندر وہ وہ خاص جذبہ پیدا ہو
24:31
Speaker A
یار اپ اس بات کو سمجھتے نہیں کہ فاروق اعظم چہرے پہ کپڑا ڈال کے کیوں گھومتے تھے مدینے کی گلیوں میں
24:40
Speaker A
کیوں
24:42
Speaker A
عمر کسی سے ڈرتے تھے
24:45
Speaker A
کوئی روک سکتا تھا جناب عمر کو
24:48
Speaker A
کپڑا اس لیے ڈال کے چلتے تھے کہ وہ دکھانا نہیں چاہتے تھے میں مدینے کی گلیوں میں
24:54
Speaker A
حضور کی امت کا دھیان رکھنے کے لیے نکلا ہوں
25:00
Speaker A
وہ بتانا نہیں چاہتے تھے
25:02
Speaker A
وہ حضرت ابوبکر صدیق جس بوڑھی مائی کا گھر میں جا کے کام کر کے اتے تھے اس کا تو بچہ ہی کوئی نہیں تھا
25:08
Speaker A
تو ووٹ کہاں سے ہونا تھا
25:12
Speaker A
اس کے تو گھر میں کھانے کو روٹی نہیں تھی
25:15
Speaker A
تو اس نے دینا کیا تھا
25:18
Speaker A
لیکن وہ اخلاص تھا نا کہ امیرالمومنین سحری کے وقت اٹھتے تھے اور تہجد پڑھنے سے پہلے بوڑھی کے گھر میں جھاڑو دے کے اتے تھے
25:30
Speaker A
سچ بتاؤ دیا جا سکتا ہے
25:32
Speaker A
اج یہ کام ہوتا ہے
25:34
Speaker A
اتنی ہمت ہے کسی کے پاس
25:37
Speaker A
کہ وہ کسی بوڑھی بیمار اور نابینا عورت کے گھر میں جا کے جھاڑو دے اس کے برتن دھوئے اس کے لیے پانی بھر کے لائے
25:45
Speaker A
یہاں تو لوگ ایک نیکی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ابھی تک فیس بک پہ کیوں نہیں ائی
25:50
Speaker A
ابھی تک جناب وہ واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کیوں نہیں ہوئی
25:54
Speaker A
ابھی تک فلاں مقام پہ کیوں نہیں گئی
25:57
Speaker A
تو اخلاص بہت بڑی نعمت
26:01
Speaker A
اخلاص کو کبھی نہ چھوڑیں
26:05
Speaker A
نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یہ حدیث پاک اپ نے بھولنی نہیں
26:11
Speaker A
حضور فرماتے ہیں جو شخص اس حال میں دنیا سے رخصت ہوا نا کہ وہ اللہ تعالی کے لیے اخلاص پر تھا
26:20
Speaker A
اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا نماز پڑھتا تھا
26:25
Speaker A
زکوۃ دیتا تھا اور مخلص تھا وہ اس حال میں دنیا سے گیا
26:31
Speaker A
تو سمجھو جب وہ رب کے حضور حاضر ہوگا تو اللہ تعالی اسے راضی ہوگا
26:36
Speaker A
وہ اپنے رب کو راضی پائے گا
26:39
Speaker A
تو یاد رکھنا بالخصوص ان لوگوں سے جو کوئی دینی کوئی فلاحی کوئی ملت کا کوئی بھی کام کرتے ہیں
26:45
Speaker A
اس میں اگر ذرا برابر بھی کوئی دنیاوی لالچ ا جائے گا تو اپ کے اندر جو خدائی مدد ہے وہ روٹھ جائے گی
26:55
Speaker A
تو پھر اپ مقابلہ نہیں کر سکتے
26:57
Speaker A
پھر کام کو دوام نہیں ہوگا
26:59
Speaker A
پھر اپ اگے نہیں بڑھیں گے
27:00
Speaker A
اپنے اپ کو خود سے سنبھالنا پڑتا ہے
27:04
Speaker A
نیت کو بار بار وضو کرانا پڑتا ہے
27:07
Speaker A
اپنے ارادوں کو تازہ کرنا پڑتا ہے
27:11
Speaker A
بار بار یہ شیطان دھوکہ دے گا بار بار نفس وسوسے ڈالے گا
27:16
Speaker A
بار بار اپنے اپ کو اخلاص کی بھٹی میں لائیں
27:20
Speaker A
بار بار اللہ کی رضا کی طرف سفر کریں
27:23
Speaker A
اج
27:25
Speaker A
دو رکعت نماز نفل پڑھیں
27:28
Speaker A
اور اللہ کے حضور عرض کریں کہ مالک اگر پیچھے کوئی دکھاوا ہو گیا ہے تو معاف کر دے
27:35
Speaker A
اور ائندہ کے لیے اخلاص کی دولت اخلاص کی نعمت اخلاص
27:41
Speaker A
نصیب فرما
27:42
Speaker A
اپ مخلص ہو نا
27:46
Speaker A
تو مدد ایزوی اپ کے ساتھ ہوتی ہے
27:49
Speaker A
اپ مخلص ایک بزرگ تھے
27:52
Speaker A
بہت بڑا ادارہ بنایا اور جلدی بنایا
27:57
Speaker A
اور بہت بڑی تعداد تھی جس کو وہ سنبھالتے تھے
28:02
Speaker A
تو میں نے ان سے ایک دفعہ کہا کہ حضرت کوئی نسخہ ہی بتائیں یہ کام کیسے ہوتا ہے
28:06
Speaker A
تو رو پڑے
28:11
Speaker A
تو پنجابی میں کہنے لگے میرے کو قسم چکا لے مینوں اپ بھی نہیں پتہ
28:19
Speaker A
میرے کو
28:21
Speaker A
حلف لے لے مینوں نہیں پتہ
28:26
Speaker A
بس ایک بات ضرور ہے کہ کوشش کرتا ہوں کوئی تصنع نہ ائے
28:31
Speaker A
کوئی ریاکاری نہ ائے کوئی دکھاوا نہ ائے
28:33
Speaker A
باقی قسم چکا لا پتہ
28:37
Speaker A
جے بندہ مخلص ہوے تو رب پتہ ہی نہیں لگن دیندا
28:42
Speaker A
لیکن یہ اخلاص جو ہے نا بات تو میری مکمل ہو گئی تھی
28:46
Speaker A
ایک شعر یاد ا گیا ہے
28:49
Speaker A
وہ ایک درویش نے لکھا تھا کہ اس سال میرے گاؤں کے میلے کی بھیڑ میں
28:58
Speaker A
جو گم ہوا وہ ایک بھکارن کا لال تھا
29:03
Speaker A
ایک منگن والی دا پتر سی
29:06
Speaker A
جڑی بیچاری کسی دی مدد نال گزارا کردی سی
29:11
Speaker A
وہ بھکارن کا لال میلے میں گم ہو گیا کیوں
29:17
Speaker A
کہ وہ میلے میں اوازیں ڈالتا تھا زور زور سے
29:23
Speaker A
ہے کوئی مخلص مجھے ایک مخلص بندہ چاہیے
29:30
Speaker A
ایک مخلص بندے کا سوال ہے
29:33
Speaker A
ایک مخلص دوست کی ضرورت ہے
29:38
Speaker A
ایک مخلص ہمدرد کی ضرورت ہے او پڑ جاتی ہے بھائی کبھی کبھی مخلص
29:43
Speaker A
ایک مخلص کی لوڑ پڑ جاتی ہے
29:44
Speaker A
ایک ہو بس ایک
29:48
Speaker A
ایک مخلص کی
29:51
Speaker A
جس دور میں بچے بھی باپ کی عزت اس لیے کرتے ہوں الا ماشاءاللہ
29:57
Speaker A
کہ باپ امیر ہے کہ نہیں
30:02
Speaker A
اس دور میں الا ماشاءاللہ سارے نہیں
30:05
Speaker A
لیکن اکثر جگہوں پہ ایسا ہوتا ہے
30:09
Speaker A
کہ ابا امیر ہے تو اس کی عزت بھی زیادہ ہے
30:11
Speaker A
اور اگر کچھ کر نہیں سکا تو کہتے ہیں تسیں ساڈے لیے کیتا کی ہے
30:15
Speaker A
او بھائی وہ بھکارن کا بچہ غریبنی کا بچہ
30:21
Speaker A
شاعر کہتا ہے وہ گلیوں میں شور ڈالتا تھا ایک مخلص بندہ ایک مخلص دوست
30:27
Speaker A
ایک مخلص سجن بس زیادہ نہیں ایک مل جائے

Transcribe Another YouTube Video

Paste any YouTube link and get the full transcript with timestamps for free.

Transcribe a YouTube Video