جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے پر لعنت کی اور وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا، تو ابلیس نے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک معینہ اور مقررہ وقت تک کے لیے مہلت دے دی۔
ابلیس نے دعویٰ کیا کہ وہ لوگوں کے راستوں میں بیٹھے گا، انہیں گمراہ کرے گا، ان کے خلاف چالیں چلے گا اور وسوسے ڈالے گا۔ تاہم، اس نے کہا کہ اللہ کے مخلص بندے اس کے شر سے بچے رہیں گے۔
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عبادت میں ذرا برابر بھی کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی نے روزہ رکھا ہے تو اس کی نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ وزن کم کرنے یا کسی اور دنیاوی فائدے کے لیے۔
Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.
Or transcribe another YouTube video here →