پھر اس کا حکم آئے گا حضرت اسرافیل علیہ السلام سور پھونکیں گے اور ساری کائنات فنا ہو جائے گی۔ پھر وہ ایک حکم ہی جاری کرے گا۔ تو لوگ اپنی قبروں سے نکل آئیں گے۔ اس کے حکم سے ہی میزان عمل قائم ہو گا۔ اسی کا حکم چلے گا۔ جنت اور دوزخ کے فیصلے ہوں گے۔
قرآن مجید سورہ انعام میں سے ایک آیہ کریمہ کا کچھ حصہ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ کتب ربکم علی نفسہ الرحمہ تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے۔
اس نے اپنے فضل سے فیصلہ کیا ہے کہ وہ رحمت ہی فرمائے گا۔ کریم جب غالب آتا ہے تو رحمت ہی فرماتا ہے۔ کرم ہی فرماتا ہے۔ دنیا میں بھی ہم اس کی رحمت کے نظارے دیکھتے ہیں۔
اور ایک جگہ نہیں جگہ جگہ دیکھتے ہیں۔ ایک بار نہیں بار بار دیکھتے ہیں۔ ایک جگہ نہیں کائنات کے رنگوں میں بکھرے ہوئے اس کے فضل اور اس کے کرم کی برکھا برستی ہم دیکھتے ہیں۔
ہماری زندگی اور ہمارا وجود اور ہمارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں ان سب کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ہماری محنت تو ایک فیصد بھی نہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہے اس کے فضل اور اس کی رحمت ہی کا صدقہ ہے۔
وہ کائنات کا رب دنیا میں ان سب کی سزا نہیں دیتا بلکہ فرماتا ہے وما اصابکم من مصیبت فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ فرمایا تمہیں جو مصیبت آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوت کے سبب سے آتی ہے و یعفو عن کثیر بہت ساری کی تو اللہ سزا ہی نہیں دیتا ویسے ہی معاف کر دیتا ہے۔
ایک بڑی تعداد تمہاری غلطیوں کی ایسی ہے جن کی اللہ سزا نہیں دیتا کثیر غلطیاں ایسی ہیں جو معاف کر دیتا ہے۔ تو ایک اس کی رحمت کا تقاضا یہ کہ بن مانگے دیتا ہے۔ ایک یہ کہ گناہ پر سزا نہیں دیتا۔ تیسری بات یہ کہ دنیا میں رحمت کا نزول کرتا ہے۔
لوگوں کے دلوں کے اندر جذبات ہیں رحمت کے۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک مثال دے کے بات کو سمجھایا یہ مشکات شریف میں بھی موجود ہے اور دیگر کتب احادیث میں بھی۔
فرمایا اس ایک حصے کی برکت سے ماں بچوں سے پیار کرتی ہے۔ باپ بچوں پر شفقت کرتا ہے۔ لوگ غرباء سے محبت کرتے ہیں ایک حصہ رحمت دنیا میں نازل۔ اگلے لفظ سنیں گے تو آپ خوش ہو جائیں گے۔ حضور فرماتے ہیں رب نے 99 حصے رحمت کے محفوظ کیے ہیں قیامت کے دن اپنے بندوں پر فرمائے گا۔
ایک حصہ دنیا میں نازل کیا۔ جس کے سبب سے یہ جتنا کرم ہے، فضل ہے، رحمت ہے، ایک دوسرے کے بارے میں محبت کے جذبات ہیں یہ ایک حصہ کرم کے سبب سے۔ درندے بھی اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔
اور دیکھیے کچھ جگہوں پہ ایسا نہیں ہے۔ مثلا ناگن اپنے بچوں کو کھا جاتی ہے۔ مچھلی اپنے بچوں کو پہچانتی بھی نہیں۔ تو یہ جو بعض جگہوں پہ ایسا سلسلہ رکھا گیا ہے یہ باقی جگہوں پہ جو رحمت ہے اس کی نشاندہی ہو جائے اس کے لیے رکھا گیا۔ کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہیں یہ معاملہ نہیں بھی ہے۔ اور جہاں ہے وہاں اللہ کا فضل ہے تو ہے۔
آپ غور فرمائیں بہت ساری جگہوں پہ بہت سارے والدین بھی ایسے ہمیں تاریخ میں ملتے ہیں اور ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں بحیثیت باپ ہونے کے بھی اس نے پرواہ ہی نہیں کی کبھی بچوں کی۔ اس کا اور ذوق ہے۔ تو یہ جو آپ کے دل میں جو بہت زیادہ پیار ہے بچوں کا تو یہ سمجھ لیں اللہ نے خاص رحمت فرمائی ہوئی ہے۔ یہ اس نے خاص کرم کیا ہے۔ پھر چوتھی بات رحمت الہی کے تعلق سے آپ اس کو سمجھ لیں۔ پرافٹ ایک بہت بڑی چیز کا نام ہے۔ جس کاروبار میں نفع نہ ہو لوگ اس کو بند کر دیتے ہیں۔
لمبا عرصہ تک لوگ وہ کاروبار نہیں کرتے جس کاروبار میں خسارہ ہو۔ ایک وقت تک اس کو دیکھا جاتا ہے جب سمجھ میں آتا ہے کہ یار یہ یہ تو معاملہ جو ہے یہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تو بڑے سالوں کا چلتا ہوا بزنس بھی لوگ چلتا ہوا کرتے ہیں۔ کہتے نہیں سمجھ میں آ رہا۔ اپنی زندگی کو پلٹ کے دیکھیں۔ کہ زندگی نفع میں ہے پرافٹ میں ہے۔ یا خسارے میں ہے۔ اللہ نے تو کہا ان الانسان لفی خسر۔ انسان نقصان میں ہے خسارے میں ہے۔
تو اللہ جب رحمت کرتا ہے نا تو پھر یہ جو زندگی ہوتی ہے یہ نفع میں ہو جاتی ہے۔ کس طرح؟ حضور فرماتے ہیں تم ایک گناہ کرتے ہو تو جب تک کرتے نہیں لکھا نہیں جاتا اور کر لیتے ہو تو ایک ہی لکھا جاتا ہے اور نیکی کا ارادہ کرتے ہو ابھی کی نہیں وہ لکھ دیتا ہے۔ اور فرمایا جب کر لیتے ہو تو پھر دس گنا بڑھا کے لکھتا ہے۔
تمہاری زندگی خسارے میں ہوتی۔ تم محسوس کرتے کہ ہر جگہ نقصان ہی نقصان ہے لیکن اس نے رحمت کی ہے تمہاری زندگی کو نفع والی زندگی بنا دیا۔ تمہارے اوقات میں برکت کر دی ہے۔ تمہارے لیے بہت ساری جگہوں پہ آسانیاں کر دی ہیں۔ پھر اعمال میں برکت کر دی۔ اعمال میں مسلمان ہونے کی نسبت سے اعمال کے اندر اللہ نے برکت کر دی۔ آپ کبھی غور فرمائیں۔ کہ صرف تین دفعہ سورہ اخلاص پڑھیں تو پورے قرآن پاک کا ثواب ہے۔ ایک دفعہ سورہ یاسین پڑھ لیں تو دس قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ہے۔ آپ ایک دفعہ درود پاک پڑھیں تو دس رحمتوں کا نزول ہو جاتا ہے۔ تو اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے چیزوں کو بڑھا دیا۔ ان کے اندر اللہ نے اجر کو زیادہ کر دیا۔ اللہ نے نا ہماری زندگی کے لمحات کو زرخیز کر دیا ہے۔ کسی کی زمین کو بنجر نہیں رکھا۔ فرمایا تم نیکیاں بوتے رہنا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک تمہیں اجر دیا جائے گا۔ جتنی نیت اچھی اتنا اجر اچھا۔ پھر ایک پانچویں بات جو اس تعلق سے بڑی سمجھنے والی ہے اور قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ایک اور انعام بھی فرمایا ہے۔
ایک اور کرم بھی اپنے بندوں پہ کیا ہے کہ بعض چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے اللہ راضی ہو جاتا ہے۔ بندوں کو منانا خاصہ مشکل کام ہے۔ کافی سارا پروٹوکول دینا پڑتا ہے اور ساری زندگی دینا پڑتا ہے۔ آپ نے 99 دفعہ بات مانی ایک دفعہ نہیں مانی تو سامنے والا ناراض ہے۔ ساری زندگی آپ کام آئے ایک دفعہ معذرت کی تو بگڑ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے تو نے تو کبھی توجہ ہی نہیں کی غور ہی نہیں کیا۔ وہ نبے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ آپ کس حد تک جائیں گے اور آپ یقین کریں۔ کہ ذرا اگر آپ نے کسی شخص کو تنبیہ کر دی۔ آپ کی رائے اس کی رائے سے ٹکرا گئی۔ وہ جو کہہ رہا تھا آپ نے ہاں میں ہاں نہیں ملائی آپ نے کہا نہیں میں یہ چیز سمجھتا ہوں بگڑ جائے گا۔ آپ محسوس کریں گے کہ لوگ صرف اس حال میں راضی ہیں کہ جس طرح کا وہ چاہتے ہیں آپ اس طرح کا بن جائیں اور یہ ممکن نہیں ہوتا۔
یہ خاصہ مشکل کام ہوتا ہے۔ لیکن وہ رب بڑا کریم ہے۔ ساری زندگی گناہوں میں گزارنے والی بی بی اور لتھڑی ہوئی اور آلودہ زندگی گزارنے والی اگر کوئی طوائف صرف ایک کتے کو چند قطرے پانی کے پلا دے تو مہربانی کر کے سارے گناہ ہی معاف فرما دیتا ہے۔
یہ چھوٹے چھوٹے اعمال سے راضی ہو جاتا ہے۔ اس لیے نبی پاک علیہ السلام نے تاکید فرمائی فرمایا تم نے نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا پتہ نہیں وہ کس بات سے گویا راضی ہو جائے۔ جو بھی خیر تمہارے ہاتھ آئے اس کو کر گزرو۔ جس حد تک ممکن ہو تم نیکی کرو۔ نہ جانے وہ کس بات سے راضی ہے۔
ابن ماجہ میں حدیث ہے دیگر کتب احادیث میں موجود ہے۔ قیامت کے دن ایک اللہ کا نیک بندہ جنت میں جا رہا ہو گا تو راستے میں اسے ایک روک کے کہے گا حضرت یاد ہے میں نے پانی پلایا تھا آپ کو۔ وہ یاد ہے نا میں نے وضو کرایا تھا یا یاد ہے نا میں نے فلاں جگہ پہ فلاں آپ کی خدمت کی تھی۔ تو اللہ کے حبیب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اس ایک عمل کی وجہ سے اور اس نیک آدمی کی سفارش کی وجہ سے اللہ اس گناہگار کو بھی جنت عطا فرما دے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ نیکی کرتا رہے آدمی۔ دیکھیں نا اللہ کی رحمت بہانہ تلاش کرتی ہے قیمت تلاش قیمت نہیں مانگتی بہانہ تلاش کرتی ہے تو کوئی بہانہ بنانا چاہیے۔
دل ساڈا ہوندا ہے بہانہ بن جائے۔ پر بہانہ ایدا بنے کہ کوئی جیک لگے راتوں رات امیر ہوندا۔ شریعت بھی قائل ہے پر شریعت کہتی ہے اس طرح کا رویہ کر کے کوئی بخشش کا بہانہ بن جائے۔ کوئی اس کی رحمت کا بہانہ بن جائے۔ کوئی ایک ایسا کام کرے جس سے وہ کریم مہربانی کرے۔ تو میرے بھائی ہر نیکی کے حصول کی کوشش کی جائے۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکیوں کو بھی کبھی چھوٹا سمجھ کے چھوڑا نہ جائے۔ یہ چیزیں اللہ کی رحمت کا بہانہ۔ چھٹی بات بعض اوقات انسان کی صرف سوچیں ہی اس کی رحمت کا بہانہ بن جاتی ہیں۔ لوگ اچھا بھی تو نہیں نا سوچتے۔ گمان کا بھی تو بڑا مسئلہ ہے نا۔ لوگ سوچتے بھی بڑا خطرناک ہے۔ یہ جو سوچیں ہیں نا اسلام کے اندر باقاعدہ گمان پر پابندی لگائی گئی ہے کہ اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اسم۔
تم نے بری سوچ سے برے گمان سے بچنا ہے۔ بعض گمان بھی گناہ ہیں۔ سوچوں کو لوگ پابند نہیں کرتے جو طبیعت میں آتا ہے سوچتے ہیں اور کوئی ثبوت نہیں ہوتا کوئی دلیل نہیں ہوتی ان کے پاس کوئی مضبوط بات نہیں ہوتی۔ بلاوجہ منفی سوچتے ہیں اور نہ سوچتے نہیں۔ خالی گمان کو ہی وہ اپنا نظریہ بنا لیتے ہیں۔ عمر بھر ذہن بن جاتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ خالی گمان کوئی دلیل نہیں کوئی وجہ نہیں۔ یعنی ابا جی جو ہیں وہ مجھ سے انفرادی سلوک کرتے ہیں باقی بھائیوں کے ساتھ ان کا سلوک بڑا اچھا ہے۔ یہ بس ایک دفعہ سوچ لیا پھر اس کو طے کر لیا اور دلیل کوئی نہیں۔
یعنی والد صاحب نے جس سکول میں بھائیوں کو داخل کرایا کرایا اس کو بھی اسی سکول میں ہی ہے۔ انہوں نے جس جس جگہ جس جس مکان میں رکھا باقیوں کو ہے اس کو بھی وہیں رکھا ہے۔ انہوں نے سارے رویے مشترکہ رکھے ہیں لیکن اس کا ذہن بن گیا ہے کہ میرے ساتھ وہ والا پیار نہیں جو باقیوں کے ساتھ ہے اور پھر اس کو طے کر لیا اور عمر گزار دی اسی بات پر۔ تو گمان کو ٹھیک رکھنا سوچوں کو ٹھیک رکھا نظریات کو پاکیزہ رکھنا۔ ہمارا جو گمان ہے نا وہ سیٹ نہیں ہوتا۔
ہمارے ملک میں ایک نا سلسلہ چلتا ہے بدگمانی کا بے یقینی کا ٹوٹتی سوچوں کا بکھرتے خیالات کا۔ وہ کہہ کہہ کے نا کہ ساری دنیا گڑبڑ ہو گئی تو محسوس ہوتا ہے کوئی بندہ اچھا بچا ہی نہیں۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوچیں ٹھیک نہیں ہوتی۔ سوچیں ٹھیک ہو جائیں نا کبھی سوچیں۔ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کشف المحجوب شریف کے اندر۔ داتا صاحب فرماتے ہیں کہ ایک شخص پہاڑ پر عبادت کرتا تھا اللہ تعالی کی بنی اسرائیل میں سے اور بڑا طویل وقت اس نے رب کی عبادت کی۔ پھر اس سے ایک غلطی ہو گئی۔ اعتراض کر بیٹھا اللہ کی تخلیق پر کہ یا اللہ یہ پہاڑ نہ بنائے ہوتے تو کیا یہ اچھا ہوتا معاذ اللہ۔
وہ بے نیاز ہے ناراض ہو گیا۔ اپنے اس وقت کے پیغمبر علیہ السلام کو وحی فرمائی۔ کہ اس سے جا کے کہو تم میری تخلیق پہ اعتراض کرتا ہے تیرا نام نیکوں کی صف سے کاٹ دیا ہے نافرمانوں کی صف میں لکھ دیا ہے۔ بندہ بڑا انوکھا تھا۔ اور یہ جو بندے کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں دراصل یہ بھی توفیق الہی ہوتی ہے۔ جب آ کے اس سے کہا نا کہ تیرا نام کاٹ دیا ہے تو کہنے لگا حضور کاٹنا اور لکھنا چھوڑیے یہ بتائیے میرے رب نے میرا نام لیا ہے۔ یعنی میرے رب نے میرا نام لیا ہے۔ میں قربان جاؤں ذرا پھر سے کہنا ایک دفعہ میرا نام اس نے لیا ہے۔
میرے رب نے میرا نام لیا ہے۔ اور پھر اس کے آنسو چھم چھم گرے۔ وہ رویا۔ اور کہنے لگا اس کریم کے حضور عرض کیجیے گا کہ اگر میرے لیے فیصلہ ہو ہی گیا ہے کہ میں نافرمان ہوں تو پھر میرا وجود اتنا بڑا کر دے۔ کہ دوزخ میں میں ہی اکیلا پورا ہوں میرا دل نہیں کرتا رب کا کوئی اور بندہ جہنم میں جائے۔ کبھی یہ گمان دیکھنا یہ سوچ ایسا ہو تو نہیں نا سکتا۔ جب تک رب نہ چاہے۔ اس نے عرض کی کہ میرا وجود اتنا بڑا کر دیا جائے۔ کہ میں ساری دوزخ میں پورا آ جاؤں اللہ کا کوئی اور بندہ سزا نہ پائے۔ وہیں کھڑے تھے اللہ کے پیغمبر پھر سے وحی آئی کہا اسے کہو میں راضی ہو گیا ہوں۔ اسے کہو میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ اسے کہہ دو میں نے اس کے لیے جنت کا فیصلہ کر دیا ہے اور اسے کہہ دو قیامت میں یہ جس جس کی سفارش کرے گا میں ان سب کو بھی جنت عطا کر دوں گا۔
لیکن شرط یہ ہے کہ سوچیں تو ٹھیک ہوں۔ گمان تو ٹھیک ہو۔ ارادے تو ٹھیک ہوں۔ لیکن وہ جیسے میں نے شروع میں عرض کیا نا ہمارے زمانہ تیز لوگوں کا زمانہ۔ وہ بڑی زبردست قسم کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور سارا کچھ چالاکی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر میں دوستوں سے کہا کرتا ہوں۔ کہ پہلے ہم سنتے تھے پرانے بزرگوں سے کہ لوگ اپنے دوسروں کو شیشے میں اتار لیتے ہیں۔ تو یہ جو ہمارا زمانہ ہے اب تو شیشہ نہیں اب تو لوگ شیشی میں بھی اتار لیتے ہیں۔ چھوٹی سی شیشی میں اتار لیتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایسی زبردست قسم کی لوگ بات سناتے ہیں کہ وہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ فن اور یہ بولنا اور یہ یہ منصوبہ بندی ہے اور یہ جو میرے ذہن کی تیزی ہے یہ میرا کمال ہے۔ یہ تو اللہ کا انعام تھا تو نے مثبت چیز کو منفی جگہ پہ استعمال کر کے ناشکری کی رب کی۔ یہ تیرے اوپر اللہ کا خاص انعام تھا لیکن تو سمجھا ہی نہیں۔ تو نے غلط رنگ اختیار کیا۔ میرے عزیز یاد رکھیے گا اچھے گمان سے اللہ راضی ہوتا ہے اور پھر ساتویں بات۔
بعض دن اللہ نے ایسے رکھے ہیں۔ وہ کہتا ہے چل تو فلاں دن آ جانا ہم بھی کہتے ہیں نا فلاں دن آ جانا ملاقات ہو جائے گی۔ فلاں دن میں فارغ ہوں تو میں آپ سے ملنے آ جاؤں گا۔ کچھ دن ہوتے ہیں نا خاص۔ اور کچھ بڑے بڑے تاجر بھی بعض اوقات کچھ آفریں بھی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جناب آپ یہ والا کام کریں تو ہماری طرف سے پھر یہ آفر ہے چلو ایسے کر لیں تو ایسے ہو جائے گا یہ جو لوگ زیادہ ٹریول کرتے ہیں نا میری طرح کے ہمیشہ کے مسافر۔ ان کو تو ایئر لائنیں بھی جہاز بھی کہتے ہیں کہ جناب آپ اس طرح کریں۔ ہمارے ساتھ آپ یہ کر لیں ہمارا کارڈ لے لیں اسی فلائٹ میں سفر کریں اتنا ڈسکاؤنٹ ہو جائے گا۔ وہ آہستہ آہستہ چیزیں اور رنگ اختیار کرنے لگتی ہیں بلا مثال و ملا تشبیہ۔ کائنات کا رب بھی بڑا ہی فضل کرتا ہے۔
فرماتا ہے جو جمعے کا دن ہے نا جمعے کا یہ سید الایام ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جو جمعے کے روز درود پڑھتے ہیں فرشتے مجھ پر فورا پہنچا دیتے ہیں۔ یہ خاص دن ہے اس دن کا ذکر قرآن مجید نے نام لے کے بیان فرمایا سید الایام ہے۔ پھر میرے بھائی کچھ مخصوص ایام اللہ نے اپنے فضل سے رحمت کرنے کے لیے بنائے۔ جن میں سے ایک وقت سحری کا وقت ہے۔ تہجد کا وقت۔ وہ جس ٹائم آج کل لوگ موبائل بند کر کے سوتے نہیں وہ اٹھنے کا ٹائم ہے دراصل۔ وہ ٹائم جو جاگنے کا ہے اس ٹائم لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کے حبیب علیہ السلام نے فرمایا جب سحری کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالی پہلے آسمان پر نزول اجلال فرماتا ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ سحری کے وقت یعنی پچھلی رات ہی رحمت رب دی کرے بلند آوازا۔ اللہ تعالی پہلے آسمان پر نزول اجلال فرماتا ہے اور کریم رب فرماتا ہے ہے کوئی رزق مانگنے والا اسے عطا کروں۔
ہے کوئی بخشش مانگنے والا اسے عطا کروں۔ ہے کوئی میری بارگاہ سے جنت کا سوالی میں اسے عطا کروں۔ اچھا عجیب بات ہے۔ جب گیٹ کھلنے کا وقت آیا تو لوگ دروازہ چھوڑ کے چلے گئے۔ حالانکہ جب عطا کرنے کا ٹائم ہے تو آپ سو گئے؟ جاگنے کا وقت آیا تو آپ کو آپ کی آنکھ لگ گئی؟ یہ غافلانہ مزاج ہے۔ نبی پاک علیہ السلام نا نفلوں کے لیے سختی نہیں فرماتے تھے۔ سختی فرائض کے لیے ہوتی ہے واجبات کے لیے ہوتی ہے۔ لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں سحری کا وقت آتا تو حضور میرے حجرے میں آتے آواز دیتے۔ اور کئی دفعہ مجھے ہلاتے۔ کہتے بیٹا اٹھو یہ سحری کا وقت ہے یہ رب سے رحمت مانگنے کا ٹائم ہے۔ میں کیسے آپ کی خدمت میں عرض کروں اب تو صبح جلدی اٹھنا یہ غریب ہونے کی علامت ہے۔
اٹھو کبھی غور کرو دیکھو۔ کہ کچھ ایسے بھی رب کے عاجز بندے ہیں۔ جو فجر کی نماز بھی جا کے اس منڈی میں پڑھتے ہیں جہاں سے انہیں امید ہے کہ میرا رب اس کے وسیلے سے رزق عطا کرے گا۔ سویرے اٹھتے ہیں اٹھا جا سکتا ہے۔ یہ ہوتا ہے۔ تو سحری کا وقت ایک ایسا وقت ہے جس میں اللہ راضی ہوتا ہے۔ کیا کریں۔ کس طرح قوم کو سمجھائیں۔ کیا رویہ اختیار کریں۔ میں کبھی کبھی دوستوں سے کہتا ہوں میرا دل نہیں کرتا بعض باتیں کرنے کو۔ وہ محسوس ہوتا ہے کہ یار یہ تو زیادہ ہی آگے چلے گئے لیکن کبھی کبھی مجھے مجھے فیل ہوتا ہے۔
کہ ابھی تک ہماری قوم اس بات پر بھی تیار نہیں ہو سکی کہ کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنے کی عادت بنائی جائے۔ مجھ سے ناراض نہ ہونا آپ پڑھتے ہوں گے۔ لیکن میں اپنا نظریہ عرض کر رہا ہوں۔ کہ ابھی اب اس کے لیے کوئی پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی مسئلہ ایسا ہے کہ جس کے لیے فقہ کی چار کتابیں پڑھیں گے تو سمجھ میں آئے گا کہ کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ تو جو قوم۔
یعنی بالکل بنیادی اور ضروری بات ہے۔ کہ آپ کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیں۔ اور میرا خیال ہے یہ بچے بچے کو ویسے ہی آتی ہے۔ ہو سکتا ہے جس کو با کی پہچان نہ ہو سین کی پہچان نہ ہو میم کی پہچان نہ ہو۔ الف کی اور لام کی پہچان نہ ہو ہا کی پہچان نہ ہو اسے ویسے ہی آتی ہو۔ زبانی یاد ہو گئی ہو۔ لیکن عادت کس نے بنانی ہے۔ مزاج کس نے بنانا ہے۔ بالکل بنیادی باتیں بھی اگر ہم ان پر غور نہیں کریں گے۔ تو پھر میرے بھائی بڑے بڑے فلسفوں کا اور بڑی بڑی باتوں کا پیچھے کیا رہ جائے گا تو سحری میں اٹھنا فجر میں اٹھنا نماز کا پابند ہونا۔
بہت پیچھے رہ گئے وہ والدین۔ سننا مجھ سے۔ اور مجھ سے ناراض نہ ہونا جس نے اپنے بچے کو ایم فل تک پڑھا لیا ہے اور ایم ایس سی تک کرا لیا ہے۔ پر وہ بڑا پیچھے رہ گیا ہے۔ جس نے سارا کچھ تو کرایا ہے پر اپنے بچے کو سجدے کا طریقہ نہیں بتایا۔ وہ نمازی نہیں بنا سکا عبادت گزار نہیں بنا سکا صبح اٹھنے کا سلیقہ نہیں بتا سکا۔ پیچھے رہ گیا ہے۔ نقصان میں رہ گیا ہے۔ کمزور رہ گیا ہے۔ پہلے بھی ایک دفعہ عرض کیا تھا پھر کہتا ہوں ایک دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں نے بڑا ہی زور لگایا میرا بچہ عالم نہیں بنتا بڑی کوشش کی۔ میں نے ان سے کہا ضروری نہیں ہے سارے بنیں۔
نہ ہی شریعت کا یہ حکم ہے کہ کل علم سارے حاصل کریں۔ آپ ایسا کریں عالم نہیں بنتا تو اچھا مسلمان بنا دیں۔ اس کے اخلاق درست ہونے چاہیے اس کی عبادات کا معاملہ درست ہونا چاہیے اسی پر اللہ کی رحمت برس جائے گی۔ اسی طرح کے کچھ ایام پھر اللہ نے رکھے ہیں جیسے ٹائم رکھا ہے اسی طرح کے ایام رکھیں۔ ان میں سے شب برات بھی ہے۔ شب قدر بھی ہے۔ رمضان کی ہر رات بھی ہے۔ پر کس کے لیے؟ شیخ سعدی فرماتے ہیں جو قدر کرے اس کے لیے ہر شب بھی شب قدر ہے۔ اور جو قدر نہ کرے۔
ٹھیک ہے وہ پھر شب قدر کی رات بھی سوٹ سیتا رہے۔ وہ شب قدر کی رات بھی دیکھے کہ آج کل کون سی چیز بک رہی ہے کون سی خریدنی ہے چلتا رہے کام۔ اگر قدر کرے گا تو ہر شب شب قدر ہے اور اگر قدر نہ کرے تو جتنی مرضی شب قدر گزر جائے یہ تو قدر والوں کے لیے۔ آپ اس کو سمجھ لیں۔ اس پر غور کر لیں۔ کہ اللہ نے وقت دیا ہے کہ آ جا رحمت برسے گی تو شب برات پہ آ جا کرم ہو جائے گا یہ نہیں آیا سویا ہوا ہے۔ آ جا۔ شب قدر کی رات کرم ہو جائے گا نہیں آیا سویا ہوا ہے وہ تو کہتا ہے کتب ربکم علی نفسہ الرحمہ۔ تیرے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت کو خاص کر لیا ہے پر آ تو سہی نا۔
حدیث سنو مزہ آئے گا۔ بخاری مسلم میں مشکات میں حدیث موجود ہے۔ نبی پاک فرماتے ہیں بندہ گناہ کرتا ہے۔ بندے سے گناہ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے یا رب یا رب یا رب مجھے معاف کر دے تو اللہ فرشتوں سے فرماتا ہے۔
فرمایا پھر نفس غالب آتا ہے پھر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے پھر عرض کرتا ہے یا رب یا رب یا رب۔ اللہ میں بھول گیا میری مدد فرما مجھے معاف کر دے۔ تو کریم فرماتے ہیں اللہ پھر فرشتوں سے فرماتا ہے میرے بندے کو پتہ ہے کہ اس کا رب بھی ہے۔ اور یہ بھی پتہ ہے کہ اس نے معاف کر دینا ہے تم گواہ ہو جاؤ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ تیسری بار حضور بیان فرماتے ہیں تیسری بار۔ فرمایا پھر بندے سے غلطی ہو جاتی ہے وہ پھر بھول جاتا ہے۔ پھر اللہ کے حضور عرض کرتا ہے یا رب یا رب یا رب۔
تو فرمایا مالک فرماتا ہے فرشتوں میرے بندے کو پتہ ہے کہ اس کا رب بھی ہے۔ اور یہ بھی پتہ ہے کہ اس نے معاف کر دینا ہے تم گواہ ہو جاؤ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔
شارحین حدیث فرماتے ہیں یہ حضور نے جو تین بار کا ذکر کیا یہ تمثیل کے طور پر ہے معنی کیا ہے؟ کہ وہ جتنی بار بھی سچے دل سے توبہ کرے گا اللہ اتنی بار ہی اسے معاف فرما دے گا۔
شرط یہ ہے کہ توبہ سچے دل سے کرے توبہ کے جملے نہ پکارے استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ اور ساری رات شب برات میں مسجدوں سے رونے کی اور چیخنے کی اور تڑپنے کی آواز آئے تو میں نے بارہا کہا ہے میں پھر کہتا ہوں۔ کہا اگر تو شب برات کی رات توبہ کرنے کے بعد پھر تھوڑا سا ہمیں پتہ چلے کہ اب معاشرے سے کچھ ملاوٹ ختم ہو گئی ہے کچھ جھوٹ ختم ہو گیا ہے کچھ بددیانتی ختم ہو گئی ہے تو پھر تو پتہ چلے رات کچھ لوگوں نے توبہ کی ہے۔
لیکن یہ کہ ساری رات روتے بھی رہیں تڑپتے بھی رہیں اور توبہ کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ یا اللہ پچھلے معاف کر دے آج کے بعد نہیں کروں گا لیکن پچھلے معاف کرا لیے۔ اور آئندہ چھوڑنے کا ارادہ ہی نہیں کیا تو توبہ کی شرط ہی نہ پائی گئی۔ یہ توبہ ہوئی ہی نا۔ یہ توبہ کی ہی نہیں گئی۔ جب تک آپ یہ ارادہ نہیں کرتے کہ اب میں چھوڑ دوں گا آج کے بعد یہ نہیں کروں گا اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے کریم ہے۔
آپ کو ہر کاروبار میں نقصان ہوا ہے آپ نے جتنی بھی سعی کی ہے آپ کی آگے نہیں بڑھ سکی بڑی جدوجہد کی ہے آگے نہیں آپ جا سکے آپ کو بار بار پیچھے لوٹنا پڑتا ہے بار بار آپ محسوس کرتے ہیں کہ میرا نقصان ہو گیا ہے۔ لیکن آپ کے لیے یہ سوچنا منع ہے کہ مجھے اب میں کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا اب مجھے میں تو بس جی ختم ہو گئی بات میں تو تھک گیا ہوں یہ کر کر کے۔
حکم یہ ہے کہ تو خدا کا نام لے کے آگے بڑھ وہ بڑا کریم ہے۔ فضل کرے گا اور اتنا رزق دے گا کہ کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا۔ یہ سوچیں شریعت کے اندر ضروری ہیں۔ یعنی علماء کا فقہاء کا محدثین کا ایک متفقہ فتوی ہے۔ کہ رحمت الہی کی امید رکھنا واجب ہے۔ یہ ضروریات دین کا مسئلہ ہے۔ کہ آپ اللہ کی رحمت کی امید رکھیں گے کہ میرا رب بڑا کریم ہے۔
ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ جب بھی آپ چل پڑیں گے نا منزل انشاء اللہ آ جائے گی۔ شرط چلنا ہے۔ شرط اٹھنا ہے۔ شرط سفر شروع کرنا ہے۔ آپ جب چلیں گے تو منزل آ جائے گی۔
یہ ابھی گزشتہ ایک دو مہینے پہلے کی بات ہے ہمیں بلوچستان جانا تھا اور پھر کچھ ایسا معاملہ ہوا۔ انہوں نے کہا راستہ ٹھیک نہیں ہے پر ہمیں پہنچنا بھی ہر صورت رات کو حیدرآباد میں تھا اور سفر وہ فلائٹ جو ہے وہ کنیکٹ نہیں ہوتی سارا بھائی روڈ سفر تھا۔ تو کچھ تھوڑی سی نا ایک دو دوست نے ہمت دلائی انہوں نے کہا جی اللہ خیر کرے گا تو اللہ نے خیر کر دی۔ یعنی وہ چل پڑے اور بڑے بروقت پہنچ گئے سارے کام ہو گئے جتنے جتنے منصوبے میں تھے۔ تھوڑا سا نا ہمارے ہاں نا اب ہمتیں دلانے کا ماحول بھی ختم ہوتا جاتا ہے۔
اور میں آپ کو عرض کرتا ہوں جوانوں کو۔ بعض بزرگوں کو بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی ہمت دلائی جائے۔ ان سے کہا جائے کچھ بھی نہیں انشاء اللہ خیر ہو جائے گی۔ آپ یہ کہتے ہیں اتنی عمر ہو گئی ہے اب میں ان کو تسلی دوں بھئی تسلی کی ضرورت تو ہر وقت رہتی ہے۔
دوسرا کیا کرتا ہے چند قدم اٹھاتا ہے پھر پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے۔ پھر چند قدم اٹھاتا ہے پھر پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے۔ پھر چند قدم اٹھاتا ہے پھر پلٹ کے۔ تو دروازہ آ گیا دوزخ کا اب ایک بھاگ گیا ہے ایک دبے قدموں آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ کریم مالک نے حکم دیا دونوں کو دوبارہ واپس لاؤ۔ اللہ اکبر۔
اللہ نے دونوں بندوں کو بلا لیا اور بلا کر کے فرمایا ہاں بھئی تو بڑا دوڑ کے گیا ہے دوزخ کی طرف کیوں گیا ہے؟ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے نا۔ انہ علیم بذات الصدور۔ دلوں کے حال جانتا ہے۔ تو کیوں دوڑ کے چلا گیا؟
تو اس بندے نے یہاں کوئی چالاکی نہیں دکھائی۔ دل کی بات کی کیونکہ رب دل کی بات جانتا ہے عرض کی مالک گناہگار ہوں۔ عاجز ہوں خطاکار ہوں مجرم ہوں پتہ سارا ہے سردار نوں کیتیاں۔ منانم کہ من دانم جو ہوں اس کی خبر ہے۔ مالک عمر بھر تیری نہیں مان سکا غلطی کی۔ آج دل میں خیال آیا کہ رب کا حکم آیا چل آج ہی مان لے۔
اس نے کہا سوچا میں دوڑ گیا آج تو مانوں اپنے رب کی۔ کریم اسی بات سے راضی ہو گیا ہے فرمایا بھیج دو اس کو جنت میں۔ او چلو آخر وقت تک کی صحیح کسی ٹائم ہی صحیح آخر میں ہی صحیح تو وہ جو دھیمے دھیمے قدم اٹھا رہا تھا اس سے پوچھا بھئی اللہ جانتا ہے۔
میں پلٹ پلٹ کے دیکھتا تھا کہ آواز آ ہی جائے گی۔ آواز آ ہی جائے گی۔ آواز آ ہی جائے گی۔ دوزخ کا دروازہ آ گیا۔ پر میری تیرے کرم سے امید نہیں ٹوٹی۔ اور مالک جب میں دوزخ کے دروازے پر پہنچا تو آواز آ ہی گئی۔
تو اللہ نے فرشتوں سے فرمایا جو میری رحمت کی اتنی امید رکھے اسے کوئی دوزخ میں پھینکا جاتا ہے۔ لے جاؤ اسے بھی جنت میں۔ دونوں کو جنت میں ڈال دیا تو آخری دم تک رحمت سے امید چھوڑنی نہیں۔ کوئی کچھ بھی کہہ دے کتنا بھی کہہ دے اس کے کرم سے امید چھوڑنی نہیں۔
اور بہت سارے لوگ سمجھتے تھے اور واقعی وہ ایسے کام بھی کرتا تھا فرماتے ہیں پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس نے توبہ کی۔ اور پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ریاضتیں کر کے ہم سے آگے نکل گیا۔ اور پھر ایک شام ایسی بھی آئی کہ میں اس سے دعا کرانے پہنچ گیا۔ تو اللہ تعالی کی حکمت ہے اس کا کرم ہے۔ کب کسی پر رحمت برکھے۔ تو اللہ نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے یہ جو دن ہیں نا سارے رحمت کے دن ہیں۔ یہ جتنی راتیں ہیں یہ رحمت والی ہیں کرم والی ہیں عطا والی ہیں۔ کوشش فرمائیے گا۔ جس حد تک ممکن ہو سکے انسان اپنے رب کے حضور حاضر ہو کھلے ہوئے دروازوں سے اپنے حصے کی خیر پائے۔ اللہ تبارک و تعالی مل بیٹھنا قبول کرے۔
Transcribe Another YouTube Video
Paste any YouTube link and get the full transcript with timestamps for free.