Asim's Power Grab: Start with Imran, End with Middle East?

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:14
Speaker A
سفر کے نام تقریبا ساڑھے تین ہزار میل سفر کر کے 14 دن بعد میں اپنے پہلے ہدف کیلیفورنیا تک پہنچ گیا ہوں
00:29
Speaker A
10 15 جو ریاستیں ہیں میں نے کراس کی مگر کیلیفورنیا ریاستوں کی ریاست ہے اگر الگ ہو جائے آج امریکہ سے تو دنیا کی پھر بھی پانچویں بڑی معیشت ہوگی
00:34
Speaker A
یہ فرانس سے بڑی برطانیہ سے بڑی اور ہندوستان سے بڑی معیشت ہے تقریبا چار ٹریلین ڈالرز کی اکانومی ادھر ہے
00:43
Speaker A
40 ملین لوگ ہیں اس میں تو امیجن کریں ادھر کتنا پیسہ کتنا ٹیکنالوجی کتنا ہالی وڈ کتنا کلچر کتنا میڈیا کتنا ایرو سپیس ادھر ہوگا کہ یہ جو ہے ایک خوفناک قسم کا اور زبردست قسم کا یہ یہ ایک ایکو سسٹم ہے جس کو سمجھنے کے لیے میں اب ادھر آ گیا ہوں
01:02
Speaker A
مگر ساتھ ساتھ پاکستان کا جو خوفناک ایکو سسٹم ہے اس کو سمجھنے کے لیے بھی وقت درکار ہے
01:12
Speaker A
اس لیے پچھلے دو تین دن میں نے بریک لی اور میں حاضر نہیں ہو سکا
01:20
Speaker A
آج بڑے دنوں بعد اس لیے حاضر ہوا ہوں کیونکہ جو دو پاکستان ہیں عمران خان کا پاکستان اور عاصم منیر کا پاکستان
01:30
Speaker A
یہ کنورج کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو اب چیلنج کر رہے ہیں
01:38
Speaker A
آج کے محاذ میں ہم ان دونوں کو کمپیئر کریں گے
01:42
Speaker A
میرے ساتھ رہیں گے
01:44
Speaker A
عاصم منیر سے شروع کرتے ہیں
01:46
Speaker A
عاصم منیر کے اس وقت تین ٹیسٹ کیسز ہیں تین اس کے ایگزام ہیں جو وہ پاس کرنے کی سخت کوشش کر رہے ہیں
02:00
Speaker A
ایک جو ہے وہ گلوبل ٹیسٹ ہے جیو پولیٹکس کا ٹیسٹ انٹرنیشنل بین الاقوامی سیاست کا ٹیسٹ
02:08
Speaker A
جس میں جنگ بھی ہے جس میں پیس کیپنگ بھی ہے جس میں سفارت کاری ڈپلومیسی بھی ہے
02:14
Speaker A
ایک جو ہے وہ نیشنل ٹیسٹ ہے نیشنل پولیٹیکل سٹیبلائزیشن اور انٹیگریشن کا
02:19
Speaker A
اس ٹیسٹ میں اف کورس عمران خان کے ساتھ ان کا مقابلہ ہے
02:24
Speaker A
اور ایک ٹیسٹ جو ہے وہ معاشی ٹیسٹ ہے اکنامک ٹیسٹ ہے جس کے لیے انہوں نے یہ پی ڈی ایم پارٹ ٹو فارم 47 کی حکومت ابھی تک ٹولریٹ کر رہے ہیں
02:30
Speaker A
اس کو انہوں نے ابھی تک پالا ہوا ہے
02:32
Speaker A
اور اس ٹیسٹ کا جو لیٹسٹ پرچہ جو ہے جو انہوں نے پاس کیا ہے کافی چیٹنگ کر کے وہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن ہے
02:39
Speaker A
ہم پی آئی اے پہ اور یہ جو پرچہ جو چیٹنگ کر کے پاس کیا ہے اس میں تھوڑی دیر میں آئیں گے
02:45
Speaker A
مگر پہلے جو یہ پرچہ خود دے رہے ہیں کچھ پرچے یہ دلوا رہے ہیں دوسروں کو ہائر کر کے
02:53
Speaker A
جیسے آپ کو یاد ہے وہ امیر زادے سکول یونیورسٹی میں جو دوسروں کو اپنا نام دے کے اپنی ائیڈنٹٹی دے کے اپنا کارڈ دے کے کہتے ہیں تم میرے لیے ایگزام لو
03:00
Speaker A
وہ تو یہ معیشت کے لیے کر رہے ہیں کیونکہ معیشت ان کے بس کا کام نہیں ہے
03:04
Speaker A
مگر گلوبل جیو پولیٹکس اوبیسلی ایک فیلڈ مارشل ہی کر سکتا ہے
03:10
Speaker A
پاکستان کا سٹرکچر ہی ایسا ہے کہ ادھر یہ کسی اور کو ہائر نہیں کر سکتے
03:15
Speaker A
ادھر انہوں نے خود جو ہے کلیرٹی لانی ہے
03:19
Speaker A
اب جو گلوبل ٹیسٹ کیس ہے اس پہ ان کو بہت اٹینشن مل رہی ہے
03:24
Speaker A
بہت ان کو لو مل رہا ہے
03:26
Speaker A
ان فیکٹ اگر آپ پچھلے 24 48 گھنٹوں میں دیکھیں تو واشنگٹن پوسٹ میں ان کے بارے میں سٹوری چھپی ہے
03:30
Speaker A
دا ہندو میں ان کے بارے میں سٹوری چھپی ہے
03:34
Speaker A
فائنینشل ٹائمز میں ان کے بارے میں سٹوری چھپی ہے بلکہ ان کو ایوارڈ ملا ہے
03:40
Speaker A
دنیا کا نمبر ون ایوارڈ ٹرمپ کو گھیرنے کا ایوارڈ ملا ہے
03:46
Speaker A
اور پھر ہاریٹس میں جو اسرائیلی اخبار ہے ادھر بھی ان کے بارے میں سٹوری چھپی ہے
03:50
Speaker A
کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی اسپیشلی ایک کنٹروورشل پاکستانی ملٹری لیڈر کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ میں
03:55
Speaker A
دا ہندو میں ایف ٹی میں اور ہاریٹس میں اسرائیلی انگریزی امریکی اور ہندوستانی اخبار ٹاپ کے اخباروں میں باتیں چھپے سٹوری چھپے
04:02
Speaker A
اور سب سٹوریز جو ہیں کنورج ایک ہی جگہ کر رہی ہیں
04:08
Speaker A
کہ عاصم منیر کے دو مسئلے ہیں ایک وہ پاور طاقت بہت جلدی بہت خوفناک طریقے سے اس کو امیس کر رہے ہیں اس کو اکٹھا کر رہے ہیں
04:15
Speaker A
اور دوسری کہ یہ اس کے زیادہ پیر نہیں ہیں اس طریقے کے جس طریقے سے چل رہے ہیں
04:22
Speaker A
اس کے زیادہ پیر نہیں ہیں کہ ابھی تک تو پاور جو ہے یہ امیس کر لیں گے
04:28
Speaker A
مگر آگے بہت سارے مسئلے پاکستان کو سٹرکچرل پولیٹیکل اکنامک مسئلے پڑنے والے ہیں
04:34
Speaker A
ان چاروں کو اگر آپ جیسے بھی پڑھیں ان چاروں کہانیوں کو کوئی مڈل پاورز کے ذریعے جو ہے ایکسپلین کرتا ہے
04:42
Speaker A
کوئی غذا کے طریقے سے جو ہے ایکسپلین کرتا ہے
04:46
Speaker A
کوئی جو ہے وہ عمران خان سے کمپیئر کرتا ہے
04:51
Speaker A
اور کوئی جو کہتا ہے پاکستان کے انہیرنٹ جو ہے بہت ساری فالٹ لائنز ہیں
04:55
Speaker A
مگر باٹم لائن یہ ہے کہ عاصم منیر از ان دا نیوز ناؤ ان دی انٹرنیشنل نیوز
05:02
Speaker A
یہ آپ کو میں یاد دلاتا چلوں دو سال پہلے یہی مہینہ تھا دسمبر کا مہینہ تھا جب یہ امریکہ آئے تھے
05:10
Speaker A
دو سال پہلے ان کی طاقت کہیں اور تھی یہ بائیڈن کی حکومت تھی
05:17
Speaker A
بائیڈن کے لوگوں سے یہ ملے بائیڈن نے ان کے ساتھ ملاقات نہیں کی اینتھنی بلنکن نے ان کے ساتھ ایسی ملاقات کی جس میں ان کے ساتھ وہ بیٹھا بھی نہیں
05:26
Speaker A
کھڑا ہو کے ہاتھ ملاتے ہوئے ہی ان کی اینتھنی بلنکن کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی
05:32
Speaker A
ندیم انجم ان کا ڈی جی آئی ایس پی آر تھا نمبر ون والا اور یہ بالکل الگ قسم کے جنرل تھے
05:40
Speaker A
الگ قسم کی ان کی باڈی لینگویج تھی الگ قسم کے لوگوں سے مل رہے تھے
05:45
Speaker A
اب ان چینج ہو گئے ہیں دو سالوں میں جس طریقے سے یہ چینج ہوئے ہیں
05:51
Speaker A
اس کی عکاسی جو ہے پچھلے ہفتے ان کی جو ان کا جو سکیجول رہا ہے اس کو اگر ہم دیکھیں تو کافی انٹرسٹنگ ہے
05:57
Speaker A
ایک تو یہ سعودی جب لیبیا سے واپس آ رہے تھے تو سعودی جو ہے ڈیفنس منسٹر سے ملے
06:02
Speaker A
ادھر ان کو کنگ عبدالعزیز میڈل ملا
06:06
Speaker A
اوبیسلی سعودیہ ہر چھ آٹھ مہینے بعد ان کو بلاتا ہے ان کو میڈل دیتا ہے
06:12
Speaker A
ایک وہ انٹرسٹنگ اسپیکٹ تھا کہ سعودیہ کے ساتھ یہ پکے ہوئے ہوئے ہیں
06:16
Speaker A
مگر جو اس ہفتے کی سب سے بڑی کہانی ہے جو میں نہیں کور کر سکا کیونکہ میں ٹریول کر رہا تھا
06:22
Speaker A
ٹریول تو کی میں نے
06:24
Speaker A
مگر آج ہم ڈیٹیل میں جائیں گے
06:27
Speaker A
وہ ان کی لیبیا کی کہانی ہے
06:30
Speaker A
اب اگر ہمارے پاس وقت ہوا تو شو کے آخر میں آپ کو لیبینز کے ساتھ جو ان کی پوری سپیچ ہے ہمارے پاس آئی ہے
06:37
Speaker A
شاید آپ نے نہیں دیکھی ہوگی
06:39
Speaker A
مگر وہ جو پوری سپیچ جب ہم آپ کو دکھائیں گے آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ ان کے دو تین اسپیکٹس ہیں ان کے ورلڈ ویو کے
06:46
Speaker A
ان کی سپیچ سے ان کا ورلڈ ویو نظر آتا ہے اور یہ جو سپیچ ہے انہوں نے جو ہے امپراپٹو کی ہے
06:54
Speaker A
پریپیئر نہیں کی لکھی نہیں
06:56
Speaker A
بات کی ایک ان کی سپیچ میں یہ ہے کہ پاکستان جو ہے وہ وین گارڈ ہے مسلم امہ کا
07:01
Speaker A
اور پاکستان ایک اسلامی فوجی قوت ہے
07:05
Speaker A
اور یہ جو اسلامی فوجی قوت ہے یہ اور بھی ممالک کو اور بھی اسلامی ممالک کو کہہ رہے ہیں تم لوگ بھی اپنی فوج بناؤ
07:11
Speaker A
ایک تو یہ کہہ رہے ہیں
07:13
Speaker A
کہہ رہے ہیں فوج سلوشن ہے
07:15
Speaker A
فوجداری سلوشن ہے
07:17
Speaker A
پریپیئرڈ رہو اور دوسرا جو ان کا اسپیکٹ ہے کہ پیچھے نہیں ہٹو
07:20
Speaker A
ڈیئر کرو جو ڈیئر کرتا ہے وہ ون کرتا ہے
07:23
Speaker A
اور ہندوستان کا یہ ایگزامپل دیتے ہیں
07:25
Speaker A
اور تیسرا یہ جو کہہ رہے ہیں کہ اسلامی جو ممالک ہیں ان کو کچھ قوتیں ٹارگٹ کر رہی ہیں
07:30
Speaker A
یہ انہوں نے جا کے لیبیا کو بیچا ہے
07:32
Speaker A
اور ساتھ ساتھ اکارڈنگ ٹو روئٹرز اس چار ساڑھے چار ارب ڈالرز کی انہوں نے ڈیل بھی کی ہے
07:38
Speaker A
جس سے یہ لیبیا کو ویپنز بیچیں گے
07:42
Speaker A
جے ایف 17 وغیرہ ایئر کرافٹس بیچیں گے
07:45
Speaker A
بہت بڑی ڈیل ہے
07:47
Speaker A
ابھی تک اس ڈیل کی صرف روئٹرز نے رپورٹ کی ہے
07:50
Speaker A
اب چکر یہ ہے
07:51
Speaker A
چکر یہ ہے کہ جنوں سے جن سے یہ ملے ہیں وہ ایکچولی لیبیا کی حکومت نہیں ہے
07:59
Speaker A
وہ لیبیا کے باغی ہیں جن کا نام لیبین نیشنل آرمی ہے
08:04
Speaker A
یہ ان کے ڈپٹی کمانڈر سے بھی ملے جنرل صدام سے اور یہ فیلڈ مارشل ہفتار سے بھی ملے
08:10
Speaker A
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہفتار اور صدام جو اس کا بیٹا ہے وہ مشرقی لیبیا چلاتے ہیں
08:16
Speaker A
ان پہ بہت ساری ایٹروسٹیز بہت سارے ظلم بھی انہوں نے کیے ہیں
08:20
Speaker A
اس کے بھی ان کے اوپر بلیم لگے ہیں
08:22
Speaker A
مگر ان کو بیک کون کون کرتا ہے اس لیبین فریکشن کو
08:25
Speaker A
ان کو بیک مصر کرتا ہے ان کو بیک روس کرتا ہے اور ان کو بیک یو اے ای والے کرتے ہیں
08:30
Speaker A
دبئی ابوظہبی والے
08:32
Speaker A
جو ان کو بھی بیک کرتے ہیں
08:35
Speaker A
یہ بھی پچھلے دنوں مصریوں سے ملے ان کے ہی روابط ہیں
08:40
Speaker A
بڑے بلکہ قربت ہے یو اے ای والوں کے ساتھ
08:43
Speaker A
رشیا کے ساتھ خود ابھی تک تو فیلڈ مارشل صاحب نہیں گئے
08:48
Speaker A
مگر رشیا کے ساتھ بھی ان کے ٹھیک ٹھاک تعلقات ہیں
08:51
Speaker A
جو دوسری سائیڈ ہے جو ایکچولی لیبیا کو ٹرپلی کے دارالحکومت سے چلاتی ہے
08:56
Speaker A
جو مغربی لیبیا کو چلاتی ہے
08:59
Speaker A
وہ سائیڈ جو ہے ترکی اس کو بیک کرتا ہے
09:02
Speaker A
آج کی خبر ہے یہ تازہ خبر ہے
09:05
Speaker A
کچھ ہی گھنٹوں پہلے یہ خبر آئی ہے
09:07
Speaker A
کہ اس کا جو جرنیل تھا اس کا جو چیف آف آرمی سٹاف تھا جس کا نام جنرل حداد تھا
09:15
Speaker A
جنرل حداد جو ہے وہ کچھ ہی گھنٹوں پہلے ترکی سے میٹنگ کرتے ہوئے وہ واپس آ رہا تھا
09:24
Speaker A
اور میٹنگ اسی موضوع پہ ہونی تھی جس موضوع پہ عاصم منیر کی میٹنگ ان والے مشرقی لیبین جرنیلوں اور فیلڈ مارشلوں سے ہوئی
09:28
Speaker A
ویپنز ہتھیار
09:30
Speaker A
اور جدھر پاکستان دے رہا ہے ہتھیار مشرقی لیبیا کی فوج کو ادھر مغربی لیبیا کی فوج کو
09:37
Speaker A
جس کو بائی دا وے اقوام متحدہ سپورٹ کرتی ہے یونائیٹڈ نیشنز سپورٹ کرتی ہے
09:42
Speaker A
ریکگنائز کرتی ہے اس کو اور ترکی بھی اسے سپورٹ کرتی ہے
09:46
Speaker A
اور یورپین ممالک بھی دیگر اس کو سپورٹ کرتے ہیں
09:50
Speaker A
اس کا آرمی چیف تھوڑی ہی دیر پہلے مارا گیا وہ جہاز میں بیٹھ کے ترکی گیا
09:56
Speaker A
ترکی میں اس نے سلامی لی ترکی والوں سے اس نے باتیں کی
10:00
Speaker A
اور اس کے بعد وہ واپس جب آ رہا تھا تو وہ مارا گیا
10:04
Speaker A
اس کا جہاز گر گیا
10:06
Speaker A
ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا کہ اس کا جہاز گرا یا کسی نے گرایا
10:12
Speaker A
مگر اس وقت سوشل میڈیا مڈل ایسٹ کا جو ہے اباز ہوا ہوا ہے پھٹا ہوا ہے
10:19
Speaker A
کہ لیبیا کے آرمی چیف کو کس نے مارا
10:23
Speaker A
اسپیشلی پاکستان کے آرمی چیف کے دو تین دن جانے کے بعد ہی جب وہ اس کے رائیولز سے بات کر رہا تھا
10:30
Speaker A
مشرق وسطی کی جو سیاست ہے کی جو جیو پولیٹکس ہے بڑی خوفناک ہے کیونکہ اس میں تیل بھی ہے اس میں انرجی بھی ہے
10:37
Speaker A
اس میں روسی بھی ہیں اس میں امریکی بھی ہیں اس میں اسرائیلی بھی ہیں اس میں مصری بھی ہیں
10:43
Speaker A
اس میں اوبیسلی یورپینز بھی ہیں
10:46
Speaker A
تو اس حساب سے اور اب ہمارے دوست ٹرکس بھی ہیں تو اس حساب سے پاکستان اور ترکی جو بالکل مشرق وسطی کے اوپر اور اس کے ویسٹ پہ اس کے ایسٹ پہ بیٹھتے ہیں
10:53
Speaker A
انوالو نہیں ہیں ٹوٹلی مگر اب گھسنے لگ گئے ہیں
10:56
Speaker A
مشرق وسطی اسپیشلی مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ کے جو کانفلکٹس ہو رہے ہیں اس میں گھسنے لگ گئے ہیں
11:02
Speaker A
یہ ایک انٹرسٹنگ چیلنج ہوگا
11:05
Speaker A
کہ پاکستان جو ہے مشرقی لیبین آرمی کو بیک کرے گا اور ترکی جو ہے وہ مغربی لیبین آرمی کو ویپنز بیچے گا
11:12
Speaker A
مگر اب
11:13
Speaker A
تو عاصم منیر ایک خوفناک قسم کی جنگ میں اب گھس گئے ہیں
11:18
Speaker A
مگر اوبیسلی یہ ایک خوفناک علاقہ ہے کیونکہ ان کے جو رائیول کیپشن فریکشن کے جو دوست ہیں
11:25
Speaker A
یا رادر جو ان کے دشمن ہیں جن کے خلاف ان کے ہتھیار استعمال ہونے ہیں یا ہوں گے
11:30
Speaker A
ان کا باس آلریڈی قتل یا جو ہے وفات پا گیا ہے
11:33
Speaker A
تو یہ ایک میں پچھلے ہفتے 10 دن سے یہ کہتا کہتا آ رہا ہوں کہ جتنا آپ اس گلوبل جیو پولیٹکس کے گیم میں گھسیں گے
11:40
Speaker A
اتنا آپ اور ایکسپوز ہوں گے
11:42
Speaker A
اب عاصم منیر کا نام صرف اخباروں میں نہیں لیا جا رہا
11:47
Speaker A
عاصم منیر کی سپیچز صرف مشرق وسطی میں نہیں دکھائی جا رہی
11:52
Speaker A
عاصم منیر کے رائیول فریکشنز صرف ترکی کے اوپر جہازوں میں نہیں کریش کیے جا رہے
11:58
Speaker A
عاصم منیر کا واشنگٹن میں بھی جائزہ کی جا رہی ہے
12:00
Speaker A
عاصم منیر کو آج مینشن کیا صدر ٹرمپ نے ایک اور بار صدر ٹرمپ نے کہا
12:05
Speaker A
کہ میں بڑی ریسپیکٹ کرتا ہوں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی
12:10
Speaker A
اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان نے اب آٹھ جہاز جی ہاں آٹھ جہاز گرائے ہیں ہندوستان کے
12:18
Speaker A
اور وہ اس کانٹیکسٹ میں انہوں نے کہا کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں اور نیوکلیئر جنگ رکوائی ہے
12:24
Speaker A
اور پاکستان کے پرائم منسٹر اور فیلڈ مارشل نے یہ کہا ہے کہ 10 ملین بندہ 10 ملین بندے کی میں نے جان بچائی ہے
12:32
Speaker A
مگر جے جے انہوں نے عاصم منیر کی مفت میں نہیں کی اس کا ایک مقصد ہے
12:38
Speaker A
امریکہ نے 48 گھنٹے پہلے جب ہماری پچھلی ملاقات ہوئی تھی تو اسی وقت مارکو روبیو جو صدر ٹرمپ کے وزیر خارجہ ہیں
12:47
Speaker A
نے تھینک یو کیا تھا پاکستان کو اور کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کو کچھ جواب دینے ہیں
12:53
Speaker A
مگر پاکستان کی ہے پاکستان چابی ہے مڈل ایسٹ کو سٹیبلائز کرنے کا
12:58
Speaker A
اور مارکو روبیو سے پاکستان کی یہ جو کیا توقعات ہیں وہ مارکو روبیو کہہ رہے ہیں کہ ابھی ہم نے بہت ساری چیزیں پیمنٹ جو لاجسٹکس ہیں
13:06
Speaker A
جو ٹرمز اینڈ کنڈیشنز ہیں وہ ابھی پاکستان کے ساتھ طے کرنی ہیں
13:11
Speaker A
اب پاکستان کے فیورٹ فیلڈ مارشل کی صرف تعریفیں کر کے یہ کام نہیں ہوگا
13:17
Speaker A
اگر تعریفوں سے ہوتا کام تو آلریڈی پاکستان کی ایک بریگیڈ جو ہے ادھر پہنچی ہوتی
13:22
Speaker A
مگر ابھی تک پاکستان کی بریگیڈ غذا تک نہیں پہنچی
13:27
Speaker A
پاکستان کے فیلڈ مارشل پاکستان کی فوج اس وقت وہ کام کر رہے ہیں جس میں وہ بہت اچھے ہیں بزنس نیگوسییشنز
13:35
Speaker A
اس وقت جو ہماری اطلاع کے مطابق جو نیگوسییشنز ہیں اس کے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز سیٹ کی جا رہی ہیں
13:42
Speaker A
کہ کیسے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز ہوں گی رولز اور آپریٹنگ پروسیجرز سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کیا ہوں گے
13:48
Speaker A
بہت سارے سوال جو ہیں وہ انٹرنیشنل پریس میں بھی چھپ رہے ہیں
13:53
Speaker A
بہت سارے سوال جو ہیں وہ فوج میں بھی ڈسکس ہو رہے ہیں
13:56
Speaker A
پرسوں ترسوں جب ہم نے آخری اپنا شو کیا تھا ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹریٹ جو فوج کا دماغ ہے فوج کا دل ہے
14:04
Speaker A
اس نے ایک میمو میں اوپر بھیج کے یہ کہا ہے کہ بہت سارے مسئلے پڑ سکتے ہیں
14:11
Speaker A
ہم نے پاکستان پہ بھی اپنی گرفت آئی ایس آر ڈیوٹیز کے ذریعے مطلب انٹیلیجنس سکیورٹی اور ریکونیسنس سرویلنس اور ریکونیسنس کے ذریعے اور سخت کرنی ہے
14:17
Speaker A
پاکستان میں جو کچھ طبقے ہیں جو ہمارے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں اسپیشلی جو مولوی طبقہ ہے جو دینی جماعتیں ہیں
14:25
Speaker A
جو اگر ہم اسرائیل اور فلسطین کے اس مسئلے میں گھس گئے تو وہ بھی ہمارے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں
14:30
Speaker A
وہ بھی مسئلہ ہے اور بین الاقوامی قوتیں جن کے بارے میں آج ہی عاصم منیر نے وارن کیا ہے
14:35
Speaker A
وہ بھی ہمارے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں اور دیگر اور سیاسی جو اندرونی مسئلے ہیں
14:40
Speaker A
مطلب پی ٹی آئی عمران خان وہ بھی ہمارے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں
14:43
Speaker A
اور ہم اس جنگ میں ہم مس انفارم بھی ہو سکتے ہیں
14:46
Speaker A
مس لیڈ بھی ہمیں اسرائیل یا امریکی کر سکتے ہیں
14:50
Speaker A
اور یہ نہ دیکھا جائے کہ ہم یہودیوں کی یا امریکیوں کی کے لیے کام کر رہے ہیں
14:54
Speaker A
تو اس وقت جو طے ہو رہا ہے وہ ریٹ طے ہو رہا ہے
14:59
Speaker A
اس وقت جو طے ہو رہا ہے وہ ٹرمز اینڈ کنڈیشنز ایس او پیز طے ہو رہے ہیں
15:03
Speaker A
اور اس ایس او پی میں ریٹ تو ریٹ پہ ہم کیا کہیں
15:08
Speaker A
ریٹ تو یہ خود ہی طے کریں گے کہ کتنے ملین کتنے بلین پاکستان کو ملیں گے اس کام کے لیے
15:13
Speaker A
جس کے اوپر جس مشن کے اوپر یہ اس وقت گامزن ہیں وہ اس وقت پاکستان کو بیچنے کے لیے
15:20
Speaker A
پاکستان کی فوج کی سروسز جو ہیں وہ مفت میں نہیں آتی
15:25
Speaker A
تو اس لیے وہ تو نیگوسییشن ہوگی
15:28
Speaker A
مگر پاکستان کی فوج ان سروسز میں کرے گی کیا
15:31
Speaker A
وہ بھی ایک اہم اہم جو ہے وہ چکر ہے
15:34
Speaker A
بلیک ستمبر آپ کو یاد ہے
15:36
Speaker A
بلیک ستمبر 1970 71 میں ہوا تھا جب ضیاء الحق ایک صرف ایک چھوٹا سا بریگیڈ کمانڈر تھا
15:44
Speaker A
مگر ہماری ایک لانگ سٹینڈنگ ایگریمنٹ تھی اردن کے ساتھ
15:50
Speaker A
اور اردن کے خلاف جب پی ایل او نے پیلسٹینین لبریشن آرگنائزیشن نے اردن کے بادشاہ شاہ حسین کے خلاف جب بغاوت کی
15:58
Speaker A
تو اس نے آرڈر دیا ضیاء الحق کو کہ ان کو انگیج کرو
16:03
Speaker A
اور ضیاء الحق نے کہا جاتا ہے کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کر دیا تھا
16:09
Speaker A
شہید کر دیا تھا اس پہ اس کو بڑی شاباشی ملی تھی اردن کی طرف سے
16:13
Speaker A
اور پاکستان واپس وہ آ کے جرنیلی پھر اس نے اختیار کی تھی
16:18
Speaker A
اس کے بعد اس کو بھٹو نے چیف بنایا
16:21
Speaker A
باقی جو ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے
16:23
Speaker A
مگر ضیاء الحق کا جو بلیک ستمبر ہے اس سے دو چیزیں کلیئر ہو گئیں پاکستانیوں نے ضیاء کو ویلکم نہیں کیا
16:30
Speaker A
پاکستانیوں نے ہمیشہ یاد رکھا کہ ضیاء الحق بلیک ستمبر کا قصائی کا قاتل تھا
16:35
Speaker A
اب اس پہ عاصم منیر پہ بھی یہ الزام اگر لگ گیا
16:40
Speaker A
اس صورت میں لگے گا کہ اس نے خدانخواستہ فلسطینیوں کو انگیج کیا
16:45
Speaker A
یہ ایک خوفناک الزام ہے اگر اس یہ اوبیسلی ٹرائی اوائڈ کرے گا
16:50
Speaker A
کہ یہ الزام اس پہ نہ لگے
16:52
Speaker A
مگر جو المیہ ہے جو چیلنج ہے وہ یہی ہے کہ پیس کیپنگ کرنی ہے
16:58
Speaker A
یا پیس بلڈنگ کرنی ہے یا پیس انفورسنگ کرنی ہے
17:02
Speaker A
یہ تین الگ الگ کیٹگریز ہیں
17:04
Speaker A
پیس انفورسنگ کا مطلب ہے کہ آپ لڑائی کر رہے ہیں
17:07
Speaker A
پیس کیپنگ کا مطلب ہے کہ آپ پیس کو مینٹین کر رہے ہیں
17:10
Speaker A
اور پیس بلڈنگ کا مطلب ہے جو یہ کرنا چاہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ آپ ری کنسٹرکشن وغیرہ کام سکول ہسپتال روڈیں وغیرہ بنا رہے ہیں
17:16
Speaker A
اب اوبیسلی امریکیوں نے بہت سارے ممالک کو صرف پاکستان اویلیبل نہیں تھا
17:20
Speaker A
مگر امریکیوں نے بہت سارے ممالک کو اپروچ کیا ہے 70 سے زیادہ ممالک کو اپروچ کیا ہے
17:26
Speaker A
تقریبا 18 سے مذاکرات امریکیوں کے بقول انٹرنیشنل پریس کے چل رہے ہیں
17:30
Speaker A
مگر پاکستان کی فوج سے ڈونلڈ ٹرمپ امپریسڈ ہے وہ اس لیے کیونکہ پاکستان کی فوج نے جا کے منجن بھی دبا کے بیچے ہیں امریکیوں کو
17:36
Speaker A
کہ ہم پیس کیپنگ آپریشنز بھی کر سکتے ہیں
17:40
Speaker A
ہم نے دیگر افریقی ممالک میں پیس کیپنگ آپریشنز آلریڈی کیے ہیں
17:44
Speaker A
مگر ہم لڑائی بھی کر سکتے ہیں
17:46
Speaker A
ہم نے حال ہی میں انڈیا کا منہ توڑ جواب دیا ہے
17:49
Speaker A
تو ڈونلڈ ٹرمپ اس لیے عاصم منیر سے امپریسڈ ہے
17:53
Speaker A
مگر وہ صرف عاصم منیر سے امپریسڈ نہیں
17:56
Speaker A
پاکستان کوئی خاص قسم پہ سینگ نہیں لگے ہوئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سے امپریسڈ ہے
18:01
Speaker A
ڈونلڈ ٹرمپ کی جو پالیسی ہے کہ انٹرنیشنل جنگوں سے نکلنا اور امریکہ کا جو ایک گلوبل پولیس مین کا ایک رول ہے جو دہائیوں سے ہے
18:09
Speaker A
اس کو چھوڑنا اور جو لوکل پاورز ہیں جو ریجنل سٹیک ہولڈرز ہیں
18:14
Speaker A
جو اس خطے کی جو قوتیں ہیں جو امریکہ جتنی بڑی تو نہیں مگر جو مڈل پاورز ہیں
18:20
Speaker A
وہ جو ہیں اگر ان پراجیکٹس میں پڑیں ان لڑائیوں میں پڑیں
18:25
Speaker A
تو امریکہ اس سے زیادہ مطمئن ہے
18:29
Speaker A
امریکہ نے یہی کیا ہے نیٹو کے ساتھ
18:32
Speaker A
امریکہ نے نیٹو کو ٹرمپ کے رول میں امریکہ نے نیٹو کو ایفیکٹیولی آل موسٹ چھوڑ ہی دیا ہے
18:39
Speaker A
امریکہ نے اس لیے زیادہ مداخلت نہیں کی یوکرین اور روس کی جنگ میں
18:43
Speaker A
اور امریکہ امریکہ نے دیگر اور جو جنگیں ہیں ان کو بھی لوکلی جو ہے میڈل کرنے کی بجائے انٹروین کرنے کی بجائے کہا ہے کہ لوکلی سٹڈ امگسٹ یور سیلفز
18:50
Speaker A
اب پاکستان اس خطے میں نہیں لگتا
18:53
Speaker A
اور آئی ایس ایف جو ہے جو انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس ہے ابھی ایک اور آئی ایس ایف بھی آنے والا ہے
19:00
Speaker A
عاصم منیر کے حساب میں وہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن ہے
19:03
Speaker A
اس کے لیے ذرا انتظار کریں آپ
19:05
Speaker A
مگر جو انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ میں جس کا حصہ بننا چاہتا ہوں
19:10
Speaker A
یہ بیک فائر بھی کر سکتی ہے
19:12
Speaker A
آپ کو اسرائیلیز غلط انفارمیشن فیڈ کر سکتے ہیں
19:16
Speaker A
آپ کو ایسی پرسیپشن آپ کی بن سکتی ہے لوکلی کہ آپ اسرائیلیوں کے لیے یہودیوں کے لیے کام کر رہے ہیں
19:22
Speaker A
تو جو 70 سال سے 75 سال سے جو منجن پاک فوج پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اپنے فوجیوں کو بیچ رہی ہے
19:29
Speaker A
اور ہمیں بھی بیچ رہی ہے کہ ہم جو ہیں وہ دارالاسلام ہیں
19:35
Speaker A
ہم جو ہیں وہ اسلامی جو جو جو گلوبل جہاد ہے اسلامی جہاد ہے جو غزوہ ہند ہے اس کا وین گارڈ ہیں
19:40
Speaker A
یہ جو چیزیں ہیں یہ لوگوں کو کنفیوز کر سکتی ہیں
19:43
Speaker A
یہ چیزیں جو ہیں وہ مولوی طبقہ جو ہے جو دینی مدارس ہیں ان کو بھی کنفیوز کر سکتے ہیں
19:50
Speaker A
اس لیے پچھلے دو ہفتے میں انہوں نے کم از کم دو بار جو ہے پاکستانی مشائخ کے ساتھ
19:55
Speaker A
پاکستانی مولویوں کے ساتھ انہوں نے میٹنگز بھی کی ہیں جو ٹیلی وائز بھی ہوئی ہیں
19:59
Speaker A
اور یہ چاہ رہے ہیں کہ اگر یہ گھسے اسرائیل میں تو یہ ان کا بیسکلی چاہ کیا رہے ہیں
20:05
Speaker A
ان کا آرڈر ہے ان مشائخ کو ان مولویوں کو جس میں بہت سارے رینٹل مولوی ہیں ان کو کہنا کہ تم نے مجھے بیک کرنا ہے
20:12
Speaker A
تم نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بیک کرنا ہے
20:16
Speaker A
تو یہ لوکلی بھی ان کے لیے چیلنجنگ ہے یہ گلوبلی بھی ان کے لیے چیلنجنگ ہے
20:22
Speaker A
مگر ریٹ طے ہو رہا ہے اور عاصم منیر اب ایک گلوبل گیم میں گھس گیا ہے
20:25
Speaker A
میں نے پہلے بھی بولا ہوا ہے کہ امریکہ سے دوستی بھی جو ہے وہ مہنگی ہے
20:29
Speaker A
امریکہ سے دشمنی بھی مہنگی ہے
20:31
Speaker A
اور اس وقت آپ دونوں کی کاسٹ ادا کر رہے ہیں
20:35
Speaker A
اگر آپ نے ان سے دوستی اگر یہ ڈیل نہیں کی تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ آپ کے پیچھے پڑ جائے گا
20:40
Speaker A
ڈونلڈ ٹرمپ کو منٹ نہیں لگتا ایک دم اپنا دماغ بدلنے میں جیسے اس نے انڈیا کے ساتھ کیا
20:46
Speaker A
انڈیا سے اسے زیادہ کچھ مل نہیں رہا تھا ایون دو اس کی فروری میں مودی سے ملاقات ہوئی
20:51
Speaker A
اور بات بھی ہوئی فون پہ مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منٹ نہیں لیا کہ انڈیا کے پیچھے لگ گیا
20:58
Speaker A
آج انڈیا پہ ٹیرفز آج انڈیا کی جو جے جے جو ہوتی تھی وہ ختم ہو گئی ہے
21:04
Speaker A
اور ٹیرفز اور بلکہ سینکشنز بس نہیں لگے انڈیا پہ باقی ہر کام اس نے جو کرنا تھا کر دیا ہے
21:09
Speaker A
تو اسی لیے عاصم منیر بھی ایک ایسی سچویشن میں ہے کہ ٹرمپ کو اب ڈس اپوائنٹ بھی نہیں کیا جا سکتا
21:13
Speaker A
حدود تو آپ نے لگا دیا ہے
21:16
Speaker A
جا کے اس کے ساتھ دنبہ شمبہ کھایا آپ نے باتیں شاتیں کی ہیں گپ شپ لگائی ہے فیورٹ فیلڈ مارشل بن گئے ہیں
21:23
Speaker A
مگر اب نکلنا اس گیم سے اب کہنا کہ نہیں یار میں نے تمہارے ساتھ اوپننگ نہیں کرنی کسی اور سے کروا لو
21:30
Speaker A
تمہاری ٹیم میں میں نے نہیں بیٹھنا
21:32
Speaker A
اب یہ مشکل ہوگا اس کے لیے ان کو باہر بھی کام کرنا پڑے گا
21:37
Speaker A
جو یہ کر رہے ہیں مشرق وسطی کی پاورز کے ساتھ
21:40
Speaker A
مگر اندرونی طور پہ ان کو اور کنٹرول میں لانا پڑے گا
21:44
Speaker A
پاکستان میں جو لوگ ہیں ان کو
21:47
Speaker A
اور پاکستان میں جو لوگ ہیں ان کو کنٹرول کرنے میں یہ ابھی تک لارجلی کامیاب ہوئے ہیں
21:52
Speaker A
بلوچستان ایک حد تک ان کی کنٹرول میں ہے
21:55
Speaker A
سندھ اوبیسلی ان کے کنٹرول میں ہے
21:58
Speaker A
پنجاب ٹوٹلی ان کے کنٹرول میں ہے
22:00
Speaker A
مگر ایک صوبہ ایک پارٹی اور ایک شخص ان کے کنٹرول میں نہیں ہے
22:05
Speaker A
اس صوبے کا نام خیبر پختونخواہ ہے
22:08
Speaker A
اس پارٹی کا نام پی ٹی آئی ہے
22:11
Speaker A
اور اس شخص کا نام عمران خان ہے
22:14
Speaker A
اب کرتے ہیں
22:15
Speaker A
دوسری طرف اپنے توپوں کا رخ
22:18
Speaker A
اڈیالہ کی طرف
22:19
Speaker A
اب ایک اور رات گزری ایک اور سٹ ان ہوا
22:24
Speaker A
ایک اور بار علیمہ خان اینڈ کمپنی اپنے بھائی سے اپنے پارٹی لیڈر سے نہیں مل سکے
22:29
Speaker A
تو وہ تو ڈبل ڈاؤن کر گئے ہیں
22:33
Speaker A
فوجی جو ہیں اس معاملے میں ڈھیٹ پڑ گئے ہیں اور ٹوٹل سپورٹ کر رہے ہیں
22:38
Speaker A
تخت لاہور کی پنجاب پولیس کو کہ وہ جو کرنا ہے کرے
22:43
Speaker A
وہ کبھی واٹر کینن کرو کبھی نہیں کرو
22:45
Speaker A
اور دونوں سائیڈیں جو ہیں وہ ایک دوسرے کے اوپر جو ہے
22:50
Speaker A
زبانی حملہ کرنے کے علاوہ بیچارے کیا کریں
22:53
Speaker A
ایک دوسرے کے اوپر
22:55
Speaker A
وہ الٹی سیدھی باتیں آ کے ان کے جو ٹاؤٹ ہیں وہ اپنے شوز پہ کرتے ہیں
23:00
Speaker A
یہ بیچارے جا کے زمین پہ کھڑے ہو کے واٹر کینن کھاتے ہیں
23:03
Speaker A
ٹھیک ہو گیا
23:04
Speaker A
تو ایک تو عمران خان کا تو کیس انہوں نے کلوز کیا ہوا ہے بلکہ 14 سال کے اوپر اب 17 سال سزا
23:10
Speaker A
اس کا یہ مطلب یہی ہے ان کے کنزیکٹو ٹرمز نہیں ہیں
23:14
Speaker A
اس کا مطلب ہے کہ سٹیٹ بیسکلی ریاست کہہ رہی ہے کہ عمران خان 104 سال کا جب ہوگا جب رہا ہوگا
23:20
Speaker A
بیسکلی سٹیٹ کہہ رہی ہے کہ عمران خان از گون
23:23
Speaker A
یہ آپ کی ریاست کا آپ کے لیے یہ میسج ہے کہ عمران خان از گون
23:27
Speaker A
یہ ریاست کہہ رہی ہے مگر ریاست کے اندر بھی ریاستیں ہوتی ہیں
23:31
Speaker A
جن کا نام پاکستان کے فیڈریٹنگ یونٹس میں جن کو صوبہ کہتے ہیں
23:34
Speaker A
اب چار صوبوں میں سے ایک صوبہ جو ہے وہ پی ٹی آئی کا ہے ماشاءاللہ سے
23:38
Speaker A
اور کے پی جو ہے وہ ہے تو چھوٹا صوبہ
23:43
Speaker A
مطلب کہ جو بڑے صوبے ہیں وہ دریائے سندھ کے اس طرف کی مشرقی طرف پنجاب اور سندھ
23:51
Speaker A
اور پھر جو چھوٹے صوبے ہیں جو دریائے سندھ کے اس طرف مطلب مغربی طرف مطلب کے پی اور بلوچستان
23:56
Speaker A
کے پی میں بھی لڑائی ہے بلوچستان میں بھی لڑائی ہے
23:59
Speaker A
مگر کے پی میں آپ ویسے کے پی کو کنٹرول نہیں کر سکتے جیسے آپ بلوچستان کو کنٹرول کرتے آ رہے ہیں
24:04
Speaker A
ایک تو عمران خان کو آپ ایز نیشنل سکیورٹی تھریٹ کہہ سکتے ہیں رائٹ اف کر سکتے ہیں
24:10
Speaker A
مگر کے ٹی کے پی کو آپ ایسے رائٹ اف نہیں کر سکتے
24:14
Speaker A
جو تھریٹ آپ کرتے ہیں کہ کے پی میں ہم گورنر راج لگا دیں گے
24:19
Speaker A
یہ شاید دوسرے صوبوں میں کام کرے مگر یہ کے پی میں کام نہیں کرے گا
24:24
Speaker A
نمبر ون
24:26
Speaker A
کے پی کو بلوچستان کی طرح آپ کل اینڈ ڈمپ آپریشنز کر کے کے پی کو ہینڈل نہیں کر سکتے
24:32
Speaker A
ایون دو آپ نے کے پی میں بھی کل اینڈ ڈمپ کیا ہے
24:36
Speaker A
ایون دو کے پی میں بھی آپ نے لوگوں کو غائب کیا ہے
24:40
Speaker A
مگر کے پی کا کوانٹم بڑا ہے
24:42
Speaker A
لوگ بڑے ہیں
24:44
Speaker A
لوگ زیادہ ہیں تعداد میں
24:46
Speaker A
پاپولیشن بڑی ہے
24:48
Speaker A
تو اس حساب سے وہ جو دور دراز کسی بلوچستان کی کسی ڈویژن میں جو آپ کرتے ہیں
24:53
Speaker A
یا آپ کا ایف سی کا یونٹ کرتا ہے یا آپ کا لیویز کا یونٹ کرتا ہے
24:57
Speaker A
یا آپ کا ایم آئی کا کوئی ڈیٹ کرتا ہے
25:00
Speaker A
وہ آپ کے پی میں نہیں کر سکتے
25:02
Speaker A
پاپولیشن جو ہے ڈینسٹی زیادہ ہے
25:04
Speaker A
نمبر ون
25:05
Speaker A
نمبر ٹو پی ٹی آئی کے لیے جو کے پی کا سٹانس ہے کے پی کا جو پیار ہے محبت ہے قربت ہے
25:12
Speaker A
وہ ایکچولی صرف پی ٹی آئی کے لیے نہیں ہے اس کی الگ الگ ڈگریز ہیں
25:17
Speaker A
تو الگ الگ ایڈجیسنٹ ڈگریز ہیں
25:20
Speaker A
اگر فرض کریں آپ کہ پی ٹی آئی کو آپ گورنر راج لگا کے پی ٹی آئی کو بین کر دیں اور اسمبلی بند کر دیں
25:29
Speaker A
اور کے پی میں گورنر راج لگا کے کسی پرو فوجی گورنر کو لگا دیں اور کے پی کو اپنے طریقے سے چلانے لگیں
25:35
Speaker A
تو اوبیسلی لوگ تو کھڑے ہوں گے
25:38
Speaker A
پی ٹی آئی ادھر منظم ہے
25:40
Speaker A
آرگنائزڈ ہے
25:41
Speaker A
وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور پی ٹی آئی بھی کھڑا ہوگا
25:44
Speaker A
مگر بہت سارے لوگ اسپیشلی جو پشتون عوام ہے وہ گریویٹیٹ کرے گی ایک پشتون کاز کے لیے
25:51
Speaker A
کیونکہ اب پی ٹی آئی کا کاز سوشل میڈیا پہ مین سٹریم میڈیا پہ نیشنل میڈیا پہ لوگوں کی زبانوں پہ اب پی ٹی آئی کا کاز ایک پشتون کاز ایک پٹھان کاز ایک پشتون کاز بھی بن گیا ہے
25:58
Speaker A
اس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کی ایبسنس میں کے پی کا ووٹر کے پی کا سپورٹر کے پی کا انصافین کے پی کا ٹائیگر
26:05
Speaker A
کے پی کا لیڈر جو ہے وہ گریویٹیٹ کر سکتا ہے پی ٹی ایم کی طرف
26:10
Speaker A
جو پشتون تحفظ موومنٹ ہے
26:13
Speaker A
ایون دو وہ پارٹی نہیں پھر بھی اس کے لیڈر وہ الیکشن کے لیے لڑتے ہیں
26:18
Speaker A
اس وقت سینٹ وینٹ میں بھی اور پی ٹی آئی کی اسمبلی میں بھی اس کے لوگ آتے ہیں
26:22
Speaker A
جرگوں میں بیٹھتے ہیں
26:23
Speaker A
تو اس حساب سے پی ٹی ایم جو ہے وہ نیکسٹ چوائس ہو جاتا ہے اور ایک ڈگری دور اگر پی ٹی آئی ختم کریں
26:30
Speaker A
پی ٹی آئی ختم کی تو پی ٹی ایم ہے
26:32
Speaker A
اور اگر پی ٹی ایم کو آپ اگر ٹارگٹ کریں تو لوگ پھر ٹی ٹی پی کی طرف بھی خدانخواستہ جا سکتے ہیں
26:40
Speaker A
جس کا بھی ایک پشتون اور اینٹی پنجاب سٹانس ہے مگر اوبیسلی زیادہ خوفناک قسم کا اور نائلسٹک قسم کا سٹانس ہے
26:47
Speaker A
جو سیاسی نہیں ہے بلکہ اینٹی ریاست اس کا سٹینڈ ہے
26:50
Speaker A
ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے ایکسپینڈ بھی کیا ہے
26:54
Speaker A
صرف پی ٹی ایم یا ٹی ٹی پی لوگوں کے لیے اپشنز نہیں ہوں گی پی ٹی آئی نے ایکسپینڈ کیا ہے ٹی ٹی اے پی کی طرف
27:02
Speaker A
جو تحریک تحفظ ائین پاکستان ہے جس میں جو اور مائنورٹیز ہیں چھوٹے صوبوں کی
27:07
Speaker A
وہ بھی اور بڑے صوبوں کی بھی مائنورٹیز جو ہیں ساتھ لگتی ہیں
27:10
Speaker A
فار ایگزامپل ایک اور چھوٹا صوبہ نیچے جو لگتا ہے پی کے میپ اس کے پشتون پاپولیشن کا
27:16
Speaker A
کا پہرے دار ہے محمود خان اچکزئی کی جو پارٹی ہے
27:20
Speaker A
وہ بلوچستان کے پٹھانوں کی پارٹی ہے بلوچ پارٹی نہیں مگر بلوچستان کے پٹھانوں کی پارٹی ہے
27:25
Speaker A
جو جیوگرافیکلی کنٹیگیوس ہے ان علاقوں کے ساتھ جو کے پی کے ساؤتھ میں لگتے ہیں
27:33
Speaker A
کے پی کے ساؤتھ سے بلوچستان کا نارتھ شروع ہوتا ہے مطلب قلعہ سیف اللہ ژوب لورالائی
27:39
Speaker A
اور پھر کوئٹہ اور پھر کچھ لاکھ اور اس طرف چمن کی طرف جو ہے جاتا ہے
27:43
Speaker A
یہ پٹھانوں کے علاقے ہیں
27:45
Speaker A
یہ پشتون بلوچستان ہے
27:47
Speaker A
اور یہ بھی پرو عمران خان ہے
27:50
Speaker A
ساتھ ساتھ اف کورس ایم ڈبلیو ایم اے جو ہمارے شیعہ بھائیوں کی پارٹی ہے اہل تشیع کی پارٹی ہے
27:57
Speaker A
جس میں راجہ علامہ عباس ناصر صاحب ہیں
28:00
Speaker A
تو اس حساب سے یہ بھی ایک اور اسپیکٹ ہے
28:05
Speaker A
یہ بھی ایک اور ایلیمنٹ ہے
28:07
Speaker A
پی ٹی آئی کے براڈ بیس کا
28:10
Speaker A
تو جب بیس اتنا براڈ ہو جائے کہ وہ دو صوبوں دو چھوٹے صوبوں تک پی ٹی آئی جا سکتا ہے
28:16
Speaker A
اور جو ہماری شیعہ پاپولیشن ہے اس کے بہت سارے اربن ووٹرز بھی ہیں
28:22
Speaker A
ایم ڈبلیو ایم اے کے بہت سارے ووٹرز اربن ووٹرز ہیں
28:25
Speaker A
اچکزئی کے بہت سارے ووٹرز پی کے میپ کے ناردرن اور ویسٹرن بلوچستان میں ہیں
28:30
Speaker A
پی ٹی آئی کے خود ووٹرز ویسے تو نیشنل ہی ہیں
28:34
Speaker A
مگر پی ٹی آئی کے مین لینڈ کے پی میں کونسنٹریٹڈ ہیں
28:37
Speaker A
ساتھ ساتھ پی ٹی ایم کی سپورٹ قبائلی علاقوں میں ہے
28:40
Speaker A
اور پھر ٹی ٹی پی کی بھی سپورٹ ہے جو ادھر ادھر ہے
28:44
Speaker A
وہ بھی قبائلی علاقوں میں ہے تو ان وے یہ جو تھریٹ ہے پی ٹی آئی کی
28:50
Speaker A
یہ صرف ایک سیاسی تھریٹ نہیں یہ ایک لوجسٹیکل تھریٹ
28:54
Speaker A
ایک ایک اکنامک تھریٹ اور اف کورس ایک کنٹرول کی تھریٹ ہے
28:57
Speaker A
پی ٹی آئی کے علاوہ کے پی میں جو اس کے لوگ ہیں وہ کچھ ایسے ذرائع پہ بیٹھے ہیں
29:02
Speaker A
ایسے معدنیات پہ بیٹھے ہیں ایسے چینلز پہ بیٹھے ہیں ایسے روٹس پہ بیٹھے ہیں
29:08
Speaker A
اور ایسے بارڈر پہ بیٹھے ہیں جدھر جو کمپلیکیشنز ہیں وہ کافی سیریس ہیں
29:13
Speaker A
افغانستان لگتا ہے
29:15
Speaker A
ساتھ ساتھ نیچے بلوچستان کے ساتھ ایران لگتا ہے
29:17
Speaker A
تو تھنگز ار کمپلیکیٹڈ ان اگر آپ نے پی ٹی آئی کے پیچھے کے پی کو کا تختہ پلٹا
29:22
Speaker A
تو چیزیں کمپلیکیٹ ہو سکتی ہیں
29:24
Speaker A
یہ تھا آج کا محاذ
29:26
Speaker A
ویسے تو ہندوستان سے بھی بہت ساری خبریں ہیں مگر وقت میرے پاس کم ہے
29:30
Speaker A
مقابلہ سخت ہے
29:32
Speaker A
اور وقت اور یہ ٹائم لمبا ہو گیا ہے
29:34
Speaker A
اب تھوڑی دیر میں پھر سے ملتے ہیں اپنا خیال رکھیں
29:38
Speaker A
شیئر کریں لائک کریں سبسکرائب کریں کمنٹ کریں
29:41
Speaker A
اور ٹاک ٹو یو سون
29:43
Speaker A
پاکستان زندہ باد

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →