THE REAL DEMONIC POSSESSION CASE IN ISLAMABAD | Horror Tape 262

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:19
Speaker A
السلام علیکم منہاج، امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گے اور آپ کے دیکھنے اور سننے والے بھی خیریت سے ہوں گے۔
00:26
Speaker A
میرا نام دعا ہے اور انیشلی میں رحیم یار خان سے بیلانگ کرتی ہوں لیکن 2019 میں میں اپنے بیچلر کے لیے اسلام آباد موو کر گئی تھی۔
00:34
Speaker A
اب میرے پاس بہت سی ہارر سٹوریز ہیں بٹ ابھی کے لیے فی الحال میں ایک شیئر کروں گی۔
00:41
Speaker A
اچھا میں کانٹیکسٹ کے لیے بتا دوں کہ مجھے ان چیزوں میں بہت زیادہ انٹرسٹ ہے، بہت زیادہ لائک بیلیف سسٹم میرا سٹرونگ ہے اور انٹرسٹ اس حد تک ہے، اس حد تک کیوراسٹی ہے کہ میں ان چیزوں پر ریسرچ کرتی تھی۔
00:54
Speaker A
انیشلی میں نے ریسرچ سٹارٹ کی تھی میں آپ کو کہوں گی کہ میں نے جرنی سٹارٹ کی تھی صرف سٹوری سننے سے لے کر پھر آگے میں نے ان کی ٹائپس پر ریسرچ کرنا سٹارٹ کی پھر دیکھا کہ آپ نے ان کو کیسے ٹیکل کرنا ہے آن یور اون اور اس کے علاوہ باقی چیزیں اس کے بعد پھر میں جادو وغیرہ ان سب چیزوں پر موو کر گئی تھی۔
02:05
Speaker A
تو اب یہ ایک سٹوری اس طرح سے سٹارٹ ہوتی ہے یہ کووڈ کی بات ہے اب 2020 کے سٹارٹ میں یہ چیزیں سٹارٹ ہوئی تھیں۔
02:14
Speaker A
اب ہوا ایسا کہ میں تب ہمارا فرسٹ سمسٹر کا اینڈ تھا بلکہ سیکنڈ سمسٹر کا سٹارٹ تھا کہ ہم ایک نئی بلڈنگ میں موو کیے تھے۔
02:36
Speaker A
اب وہ بلڈنگ نئی نئی بنی تھی اس کے آس پاس کوئی گھر نہیں تھے لائک اس کے تینوں سائیڈ پر پلاٹس تھے اور اوبیسلی گیٹ کا جو ایریا تھا وہ سٹریٹ میں اوپن ہوتا تھا۔
02:42
Speaker A
اس کے ساتھ کوئی گھر اٹیچ نہیں تھا۔ اب ہم جیسے ہی موو ہوئے ہم نے سامان اپنا وہاں رکھا اور لاک ڈاؤن ہو گیا۔ وہ لاک ڈاؤن آئی ایم ناٹ شور لیکن اراؤنڈ فائیو ٹو سکس منتھس یا سکس ٹو سیون منتھس رہا تھا۔
03:26
Speaker A
اس لاک ڈاؤن کے بعد یہ ہوا کہ ہم نے پلان کیا ہم سب دوستوں نے جب ہم ہاسٹل موو کر جاتے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن ختم ہو رہا تھا سارے موو کر رہے تھے تو ہمارا بھی یہ پلان تھا کہ اب ہمیں واپس جانا چاہیے۔
03:41
Speaker A
تو میں آپ کو اس طریقے سے بتاتی ہوں تھوڑا سا میں آپ کو روم کا آئیڈیا دے دوں کہ دو رومز تھے اس سٹوری میں دو رومز کا میں ذکر کروں گی۔
04:03
Speaker A
ایک روم میں میں اور میری دو دوستیں رہتی تھیں اے اینڈ بی اور جو ساتھ والا روم تھا ہمارے ہی ساتھ میں وہاں ایک وارڈن رہتی تھی اور اس کے ساتھ ہماری ایک دوست رہتی تھی سی۔
04:10
Speaker A
اب یوزلی یہ ہوتا تھا ہمیں نہیں آئیڈیا تھا کہ سفر کا مہینہ سٹارٹ ہے۔
04:16
Speaker A
اب ہم میں سے کسی کو اس بارے میں نہیں تھا تو جو ہماری روم میٹ تھی اے شی یوز ٹو سلیپ ویری ارلی تو باقی میں اور بی اینڈ سی جو ہے ہم ڈیلی رات کو چھت پہ جاتے تھے اور صحیح مستی کرنا سونگز ہو گئے اور مطلب گانے وغیرہ گانا یا ڈانس کر لیا کچھ بھی اس طرح کی ایکٹیویٹیز کر دیں۔
05:11
Speaker A
تو ان دنوں کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی میں ہاسٹل واپس آتی ہوں میں دیکھتی ہوں کہ جو میری فرینڈ ہے سی وہ ایک نیو لڑکی سے بات کر رہی ہے۔
05:31
Speaker A
اب وہ نیو لڑکی جو ہے وہ مجھے اس کی وائب تھوڑی سی آف لگی تو میں نے اس سے زیادہ اتنا انٹریکٹ نہیں کیا۔ آئی واز لائک کہ چلو ٹھیک ہے نئی لڑکی ہے صحیح ہے میرا انٹریکشن نہیں ہو گا تو میں اتنا اس میں انوالو نہیں ہوتی ہوں۔
05:49
Speaker A
پھر اس میں اتنا انوالو نہیں ہوئی میں نے بات وغیرہ نہیں کی لیکن ہاں میں مجھے نا آہستہ آہستہ اس طرح فیل ہونے لگا تھا مجھے ڈر لگنے لگا تھا اور میں اپنی دوستوں کو نہیں بتاتی تھی بیکاز پھر یہی ہوتا کہ اس کو تو زیادہ انٹرسٹ تھا ان سب چیزوں میں تو یہ کیوں ڈر رہی ہے کیسے ڈر رہی ہے اینڈ آل دیٹ۔
06:30
Speaker A
پھر ہم جب بھی رات کو جاتے تو میں سب سے پیچھے پیچھے ہوتی چھت پہ جانے کے لیے اور اترنے کے ٹائم پہ میں سب سے آگے آگے ہوتی تھی۔
06:43
Speaker A
تو انہی دنوں کچھ چیزیں بھی چل رہی تھیں سٹڈی سے ریلیٹڈ ادھر ادھر کی چیزیں تو میں بہت اپسیٹ تھی۔ اب چھت پہ اس طرح تھا ہم بالکل گراؤنڈ فلور پہ رہتے تھے۔
06:56
Speaker A
پھر ایک فرسٹ فلور آتا تھا اینڈ دین چھت آتی تھی۔ اس چھت پہ ہی وہیں ایک روم سا بنا ہوا تھا جسے ممٹی ہم بولتے تھے۔
07:07
Speaker A
تو اس ممٹی میں کوئی نہیں رہتا تھا۔ اب دن کا ٹائم تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے وہی شرٹ پہنی ہوئی ہے جو اس ٹائم میں نے پہنی ہوئی تھی۔
07:29
Speaker A
میں اپسیٹ تھی کسی بات پہ اور میں رو رہی تھی اور میں اس روم میں جا کر بیٹھ گئی۔ اور مجھے اس روم میں اس ممٹی میں ایک کونے سے بہت عجیب سی فیلنگز آنا سٹارٹ ہو گئیں۔
08:10
Speaker A
مطلب میرے اندر ایک عجیب سا ڈر آنا شروع ہو گیا۔ تو میں نے کسی کو بغیر بتائے چپ کر کے ایون شو کیے بغیر ہی چپ کر کے میں وہاں سے اٹھ کے نیچے اپنے روم میں آ گئی۔ جیسے ایز سچ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
08:37
Speaker A
تو رات میں پھر یہ ہوا کہ ہمارا سے ڈیلی میرا بی کا اینڈ سی کا پلان بنتا تھا کہ ہم ڈیلی جاتے تھے۔ ہم نے گرین ٹی بنائی ہم تینوں اوپر گئے ویسے ہی ہم نے موج مستی کی گرین ٹی پی اینڈ دین پھر ہم نے مذاق کے طور پر اس گرین ٹی کو پیچھے جو تھوڑی بہت بچ جاتا ہے گھونٹ وغیرہ ہم نے اس کو پیچھے پلاٹ میں پھینک دیا کچھ بولا۔
08:54
Speaker A
آئی ایم ناٹ شور مجھے ایگزیکٹ یاد نہیں ہے کیونکہ بات بہت پرانی ہے لیکن اس طرح کا کچھ بولا تھا کہ لو ہم نے پھینک دیا کچھ اس طرح سے۔
09:20
Speaker A
ہم واپس روم میں آتے ہیں اپنے اپنے اور یہ اسی دن کی بات ہے جب مجھے دن میں کچھ فیل ہوا تھا ڈر لگا تھا۔ ہم آتے ہیں روم میں اور میں اپنا سیزن دیکھنے لگ جاتی ہوں نیٹ فلکس پہ۔
09:59
Speaker A
میری دوست جو بی ہے وہ اپنا دیکھنے لگ جاتی ہے اے سو رہی تھی۔ اب ہوا یہ کہ سی نے نماز نہیں پڑھی ہوئی تھی وہ اپنے روم میں نماز پڑھنے لگ گئی۔ اب کوئی 10 ٹو 15 منٹس گزرے ہوں گے کہ ہماری وارڈن آتی ہے وہ ناک کرتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ تم لوگوں کے پاس یہ میڈیسن ہے کیونکہ جو وہ لڑکی تھی جس سے مجھے عجیب وائبز آ رہی تھی اس کا ہم نام لے لیتے ہیں عائشہ ٹھیک ہے۔
10:42
Speaker A
تو اس کی طبیعت جو ہے وہ بہت خراب ہے اس کا بی پی لو ہو گیا۔ تو ہم نے میں نے اس کو میرے پاس ہی ٹیبلٹس میں نے اس کو ٹیبلٹس دیں۔
11:22
Speaker A
اور میں نے بی سے بولا کہ چلو چلو چلتے ہیں جا کے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا ہے لائک ایکسائٹمنٹ میں نا کہ ہاسٹل میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے چلو جا کے دیکھتے ہیں۔
11:55
Speaker A
ہم گئے اس روم میں بیڈ پہ سامنے عائشہ لیٹی ہوئی تھی اور بالکل لائک اس کی باڈی بہت سٹف تھی۔ وہ لیٹی ہوئی تھی اینڈ دین جو میں ہوں میں نے اس کو ٹچ کیا تو مجھے اس کی باڈی ٹھنڈی فیل ہوئی۔
12:24
Speaker A
اس کے سارے سمٹمز جو تھے وہ بی پی لو والے تھے۔ آلدو میں نے کبھی ایسا کوئی پیشنٹ جو ہے وہ ایکسپیرینس نہیں کیا لیکن ہاں اس ٹائم پہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ بی پی لو کے سمٹمز ہیں۔
12:50
Speaker A
جو چیزیں ہوتی ہیں لیمن ہو گیا سالٹ ہو گیا وہ ساری چیزیں ہم نے اس کو اس ٹائم دی لیکن اس کی طبیعت ٹھیک ہی نہیں ہو رہی تھی۔ خیر ہوا یہ کہ ہم نے جو مین اونر تھا اس ہاسٹل کا اس کو بلایا۔
13:28
Speaker A
اور وہ اس لڑکی کو لے کر ہاسپٹل گئے۔ اب وارڈن اونر وہ لڑکی اینڈ اس لڑکی کی ایک روم میٹ جو تھی وہ ہاسپٹل چلی جاتی ہے۔
13:50
Speaker A
اور جو اس کی ایک روم میٹ تھی دوسری روم میٹ وہ ہمارے ساتھ بیٹھی تھی اور وہ بتا رہی تھی کہ اس کی یہ تو کتنے گھنٹے سے غائب تھی یہ تو چھت پہ تھی۔
14:18
Speaker A
اور میں اور بی اور سی ایک دوسرے کو ہم دیکھنے لگ گئے کہ کیسے کیونکہ چھت پہ تو ہم تھے اتنے گھنٹوں سے تو یہ تو چھت پہ نہیں تھی۔
14:40
Speaker A
اور جو ممٹی بھی ہے ممٹی کا بھی یہی تھا کہ وہ بالکل بند تھی۔ ممٹی لائک کمپلیٹلی ایک تو اس کا دروازہ بند تھا دوسرا اس کی لائٹس آف تھیں۔
15:02
Speaker A
وہاں سے کسی کی آواز ہی نہیں آ رہی تھی تو مطلب ایسے کیسے ہو سکتا ہے ایون اگر میں اپنی بات کروں مجھے اب ان چیزوں سے ڈر نہیں لگتا ہے لیکن سٹل میں اکیلی ممٹی میں بغیر لائٹ کے میں نہیں بیٹھ سکتی۔
15:35
Speaker A
ٹھیک ہے لائک ایک انسان کو نارمل اس طرح کے ماحول میں بیٹھنا عجیب ہی لگے گا۔ خیر اس کی جو روم میٹ گئی تھی وہ ہم سے کانٹیکٹ میں تھی۔
15:56
Speaker A
اور وہ ہمیں ساری چیزیں بتا رہی تھی تھوڑی دیر میں اس کا میسج آیا کہ یا عائشہ کو اتنا اینستھیزیا ہم نے لگایا ہے اتنی چیزیں جو ہیں وہ انجیکشنز لگے ہیں اس کو لیکن وہ بالکل آنکھیں بند نہیں کر رہی۔
16:35
Speaker A
اور اس ٹائم تک ہم لوگوں کو تھوڑا بہت اندازہ ہو گیا تھا کہ ہاں می بی اس طرح کی کوئی بات ہو۔
16:50
Speaker A
تو اس ٹائم میں یہ ہوا کہ ہم سب ایک روم میں بیٹھے تھے باقی ہاسٹل والے اور ہم سب کو تھوڑا بہت ڈر بھی لگ رہا تھا مطلب کہ ہاں کچھ ایسے ہو سکتا ہے ایسے ہو سکتا ہے۔
17:16
Speaker A
اتنی دیر میں اسی کی جو روم میٹ اس کے ساتھ گئی ہوئی تھی اس کا میسج آتا ہے کہ یار اس کی تو آواز بدل گئی اور وہ اپنا نام لے کر کہہ رہی ہے وہ کہہ رہی ہے میں عائشہ کو مار دوں گا۔
17:37
Speaker A
تب ہم سب کی حالت غیر ہو گئی۔ ہم سب اس حال میں تھے کہ ایون مطلب مجھے واش روم جانا تھا۔
17:50
Speaker A
اور اس ٹائم پہ مطلب میں اتنی ڈری ہوئی تھی کہ مجھ سے واش روم جایا نہیں جا رہا تھا۔ مطلب مجھے اتنا ڈر لگ رہا تھا اور ہم وہیں بیٹھے ہوئے تھے میں بالکل رونے پر آ گئی کہ میں اپنے بھائی کو میسج کرتی ہوں کہ میرے بھائی پشاور ہوتے ہیں۔
18:10
Speaker A
تو میں بھائی کو میسج کرتی ہوں کہ میں آ رہی ہوں ٹھیک ہے مجھ سے یہاں نہیں ہو رہا اس طرح کے مسئلے ہیں اور یہ ساری چیزیں ہیں۔
18:29
Speaker A
خیر اس کے تھوڑی دیر بعد جو ہے وہ وارڈن اونر اور اس کی روم میٹ اور وہ خود آ گئے اور وہ لڑکی آتے ہی اوپر ممٹی میں چلی گئی۔
18:42
Speaker A
لائک آتے ہی فورا اس نے کیا کیا کہ وہ ادھر ممٹی میں چلی گئی اندھیرے میں ابھی لائٹس آن نہیں ہوئی تھیں۔
18:51
Speaker A
اس کے ساتھ وارڈن گئی اس کی روم میٹس تھیں اور جو اونر تھے وہ تھے۔
19:00
Speaker A
اب کیا ہوا کہ جیسے ہی وارڈن نے لائٹ آن کرنے کی تو وہ چیخنے لگ گئی اور اس کی آواز چینج ہی تھی اس ٹائم پر وہ چیخنے لگ گئی کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں تو ہم لائٹ آن نہیں کرو ہمیں عادت نہیں ہے۔
19:20
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ تو وارڈن اس پوائنٹ پہ ڈر چکی تھی۔
19:30
Speaker A
اس نے بھی دل میں آیت الکرسی پڑھنا سٹارٹ کر دی اور تاکہ مطلب دل میں ابھی اس نے آؤٹ لاؤڈ کچھ نہیں پڑھا تھا۔
19:55
Speaker A
کہ اتنے ہی ٹائم میں عائشہ نے پھر چیخنا شروع کر دیا کہ پڑھنا بند کرو۔
20:01
Speaker A
کیوں تم دل میں پڑھ رہی ہو اور سب شاک میں تھے اس ٹائم پر۔
20:08
Speaker A
خیر وہ روم میٹ جو تھی وہ ہم سے کانٹیکٹ میں تھی بیکاز ہم میں سے کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اوپر جائے اور وہ اس بارے میں جو ہے وہ جا کے ڈسکشن کرے یا پھر اس چیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے۔
20:33
Speaker A
خیر اس کے تھوڑی دیر بعد جو ہے وہ وارڈن اونر اور اس کی روم میٹ اور وہ خود آ گئے اور وہ لڑکی آتے ہی اوپر ممٹی میں چلی گئی۔
21:02
Speaker A
لائک آتے ہی فورا اس نے کیا کیا کہ وہ ادھر ممٹی میں چلی گئی اندھیرے میں ابھی لائٹس آن نہیں ہوئی تھیں۔
21:12
Speaker A
اس کے ساتھ وارڈن گئی اس کی روم میٹس تھیں اور جو اونر تھے وہ تھے۔
21:22
Speaker A
اب کیا ہوا کہ جیسے ہی وارڈن نے لائٹ آن کرنے کی تو وہ چیخنے لگ گئی اور اس کی آواز چینج ہی تھی اس ٹائم پر وہ چیخنے لگ گئی کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں تو ہم لائٹ آن نہیں کرو ہمیں عادت نہیں ہے۔
21:43
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ تو وارڈن اس پوائنٹ پہ ڈر چکی تھی۔
21:53
Speaker A
اس نے بھی دل میں آیت الکرسی پڑھنا سٹارٹ کر دی اور تاکہ مطلب دل میں ابھی اس نے آؤٹ لاؤڈ کچھ نہیں پڑھا تھا۔
22:18
Speaker A
کہ اتنے ہی ٹائم میں عائشہ نے پھر چیخنا شروع کر دیا کہ پڑھنا بند کرو کیوں تم دل میں پڑھ رہی ہو اور سب شاک میں تھے اس ٹائم پر۔
22:39
Speaker A
خیر وہ روم میٹ جو تھی وہ ہم سے کانٹیکٹ میں تھی بیکاز ہم میں سے کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اوپر جائے اور وہ اس بارے میں جو ہے وہ جا کے ڈسکشن کرے یا پھر اس چیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے۔
23:08
Speaker A
خیر اس کے تھوڑی دیر بعد جو ہے وہ وارڈن اونر اور اس کی روم میٹ اور وہ خود آ گئے اور وہ لڑکی آتے ہی اوپر ممٹی میں چلی گئی۔
23:28
Speaker A
لائک آتے ہی فورا اس نے کیا کیا کہ وہ ادھر ممٹی میں چلی گئی اندھیرے میں ابھی لائٹس آن نہیں ہوئی تھیں۔
23:37
Speaker A
اس کے ساتھ وارڈن گئی اس کی روم میٹس تھیں اور جو اونر تھے وہ تھے۔
23:47
Speaker A
اب کیا ہوا کہ جیسے ہی وارڈن نے لائٹ آن کرنے کی تو وہ چیخنے لگ گئی اور اس کی آواز چینج ہی تھی اس ٹائم پر وہ چیخنے لگ گئی کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں تو ہم لائٹ آن نہیں کرو ہمیں عادت نہیں ہے۔
24:07
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ تو وارڈن اس پوائنٹ پہ ڈر چکی تھی۔
24:17
Speaker A
اس نے بھی دل میں آیت الکرسی پڑھنا سٹارٹ کر دی اور تاکہ مطلب دل میں ابھی اس نے آؤٹ لاؤڈ کچھ نہیں پڑھا تھا۔
24:42
Speaker A
کہ اتنے ہی ٹائم میں عائشہ نے پھر چیخنا شروع کر دیا کہ پڑھنا بند کرو۔
24:48
Speaker A
کیوں تم دل میں پڑھ رہی ہو اور سب شاک میں تھے اس ٹائم پر۔
24:55
Speaker A
خیر وہ روم میٹ جو تھی وہ ہم سے کانٹیکٹ میں تھی بیکاز ہم میں سے کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اوپر جائے اور وہ اس بارے میں جو ہے وہ جا کے ڈسکشن کرے یا پھر اس چیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے۔
25:20
Speaker A
خیر اس کے تھوڑی دیر بعد جو ہے وہ وارڈن اونر اور اس کی روم میٹ اور وہ خود آ گئے اور وہ لڑکی آتے ہی اوپر ممٹی میں چلی گئی۔
25:45
Speaker A
لائک آتے ہی فورا اس نے کیا کیا کہ وہ ادھر ممٹی میں چلی گئی اندھیرے میں ابھی لائٹس آن نہیں ہوئی تھیں۔
25:54
Speaker A
اس کے ساتھ وارڈن گئی اس کی روم میٹس تھیں اور جو اونر تھے وہ تھے۔
26:04
Speaker A
اب کیا ہوا کہ جیسے ہی وارڈن نے لائٹ آن کرنے کی تو وہ چیخنے لگ گئی اور اس کی آواز چینج ہی تھی اس ٹائم پر وہ چیخنے لگ گئی کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں تو ہم لائٹ آن نہیں کرو ہمیں عادت نہیں ہے۔
26:25
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ تو وارڈن اس پوائنٹ پہ ڈر چکی تھی۔
26:35
Speaker A
اس نے بھی دل میں آیت الکرسی پڑھنا سٹارٹ کر دی اور تاکہ مطلب دل میں ابھی اس نے آؤٹ لاؤڈ کچھ نہیں پڑھا تھا۔
27:00
Speaker A
کہ اتنے ہی ٹائم میں عائشہ نے پھر چیخنا شروع کر دیا کہ پڑھنا بند کرو۔
27:06
Speaker A
کیوں تم دل میں پڑھ رہی ہو اور سب شاک میں تھے اس ٹائم پر۔
27:13
Speaker A
خیر وہ روم میٹ جو تھی وہ ہم سے کانٹیکٹ میں تھی بیکاز ہم میں سے کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اوپر جائے اور وہ اس بارے میں جو ہے وہ جا کے ڈسکشن کرے یا پھر اس چیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے۔
27:38
Speaker A
خیر اس کے تھوڑی دیر بعد جو ہے وہ وارڈن اونر اور اس کی روم میٹ اور وہ خود آ گئے اور وہ لڑکی آتے ہی اوپر ممٹی میں چلی گئی۔
28:03
Speaker A
لائک آتے ہی فورا اس نے کیا کیا کہ وہ ادھر ممٹی میں چلی گئی اندھیرے میں ابھی لائٹس آن نہیں ہوئی تھیں۔
28:12
Speaker A
اس کے ساتھ وارڈن گئی اس کی روم میٹس تھیں اور جو اونر تھے وہ تھے۔
28:22
Speaker A
اب کیا ہوا کہ جیسے ہی وارڈن نے لائٹ آن کرنے کی تو وہ چیخنے لگ گئی اور اس کی آواز چینج ہی تھی اس ٹائم پر وہ چیخنے لگ گئی کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں تو ہم لائٹ آن نہیں کرو ہمیں عادت نہیں ہے۔
28:43
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ تو وارڈن اس پوائنٹ پہ ڈر چکی تھی۔
28:53
Speaker A
اس نے بھی دل میں آیت الکرسی پڑھنا سٹارٹ کر دی اور تاکہ مطلب دل میں ابھی اس نے آؤٹ لاؤڈ کچھ نہیں پڑھا تھا۔
29:18
Speaker A
کہ اتنے ہی ٹائم میں عائشہ نے پھر چیخنا شروع کر دیا کہ پڑھنا بند کرو۔
29:24
Speaker A
کیوں تم دل میں پڑھ رہی ہو اور سب شاک میں تھے اس ٹائم پر۔
29:31
Speaker A
خیر وہ روم میٹ جو تھی وہ ہم سے کانٹیکٹ میں تھی بیکاز ہم میں سے کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اوپر جائے اور وہ اس بارے میں جو ہے وہ جا کے ڈسکشن کرے یا پھر اس چیز کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے۔
29:56
Speaker A
خیر اس کے تھوڑی دیر بعد جو ہے وہ وارڈن اونر اور اس کی روم میٹ اور وہ خود آ گئے اور وہ لڑکی آتے ہی اوپر ممٹی میں چلی گئی۔
30:21
Speaker A
لائک آتے ہی فورا اس نے کیا کیا کہ وہ ادھر ممٹی میں چلی گئی اندھیرے میں ابھی لائٹس آن نہیں ہوئی تھیں۔
30:30
Speaker A
اس کے ساتھ وارڈن گئی اس کی روم میٹس تھیں اور جو اونر تھے وہ تھے۔
30:40
Speaker A
اب کیا ہوا کہ جیسے ہی وارڈن نے لائٹ آن کرنے کی تو وہ چیخنے لگ گئی اور اس کی آواز چینج ہی تھی اس ٹائم پر وہ چیخنے لگ گئی کہ ہم اندھیرے میں رہتے ہیں تو ہم لائٹ آن نہیں کرو ہمیں عادت نہیں ہے۔
31:01
Speaker A
اس طرح کی باتیں کرنا شروع ہو گئی۔ تو وارڈن اس پوائنٹ پہ ڈر چکی تھی۔
31:11
Speaker A
اس نے بھی دل میں آیت الکرسی پڑھنا سٹارٹ کر دی اور تاکہ مطلب دل میں ابھی اس نے آؤٹ لاؤڈ کچھ نہیں پڑھا تھا۔
31:36
Speaker A
کہ اتنے ہی ٹائم میں عائشہ نے پھر چیخنا شروع کر دیا کہ پڑھنا بند کرو۔
31:42
Speaker A
کیوں تم دل میں پڑھ رہی ہو اور سب شاک میں تھے اس ٹائم پر۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →