Iran vs Israel: The Untold Story Behind the World’s Most Dangerous Rivalry

Full Transcript — Download SRT & Markdown

00:00
Speaker A
وہ بابا جی نے کہا تھا نا کہ 2026 میں تو دنیا ختم ہے۔
00:04
Speaker A
حالات کچھ ایسے ہی لگ رہے ہیں اور دنیا کو ختم کرنے کے لیے جو دو ملک سب سے اگے اگے نظر ا رہے ہیں وہ ہیں ایران اور اسرائیل۔
00:14
Speaker A
دو ایسے ملک جو لگتا ہے ازل سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور شاید ابد تک رہیں گے۔
00:21
Speaker A
ہر روز دونوں کے بیچ ایک نئی جنگ شروع ہو جاتی ہے، ایک نئی دھمکی، ایک نیا حملہ۔
00:26
Speaker A
اب تو یہ دنیا کو تھرڈ ورلڈ وار کے کنارے پر لے ائے ہیں۔
00:30
Speaker A
لیکن ذرا ایک منٹ، ایک وقت وہ بھی تھا جب ایران اور اسرائیل دوست تھے۔
00:35
Speaker A
ایران کے تیل سے اسرائیل کے ٹینک اور جہاز چلتے تھے اور اسرائیل کے ہتھیاروں سے ایران کی حفاظت ہوتی تھی۔
00:44
Speaker A
ان کی سیکرٹ ایجنسیز موساد اور سواک بھائیوں کی طرح کام کرتی تھی۔
00:49
Speaker A
اسرائیل خود ایران میں میزائل فیکٹری بنا رہا تھا، ایک ایسی خفیہ ڈیل کر چکا تھا جو شاید اگر کمپلیٹ ہو جاتی تو اج مڈل ایسٹ کا نقشہ بالکل مختلف ہوتا۔
01:00
Speaker A
تو ایسا کیا ہوا کہ یہ محبت نفرت میں بدل گئی۔
01:04
Speaker A
دریچہ پر اج میں اپ کو ماڈرن ہسٹری میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے سب سے عجیب و غریب چیپٹر کے بارے میں بتاؤں گا۔
01:10
Speaker A
سناؤں گا اپ کو ایران اور اسرائیل کے تعلقات کی کہانی۔
01:59
Speaker A
یہ ہے 1950 کا مڈل ایسٹ، اج سے کہیں مختلف جگہ۔
02:04
Speaker A
پوری عرب ورلڈ میں ایک ہی نعرہ تھا، عرب نیشنلزم اور سب ایک ہی بندے کے پیچھے تھے، مصر کا صدر جمال عبدالناصر۔
02:14
Speaker A
اپ کہیں گے یہ ایران اور اسرائیل کی کہانی میں مصر کہاں سے اگیا؟
02:21
Speaker A
بھائی ساری کہانی شروع ہی وہیں سے ہوتی ہے۔ اصل میں ناصر کا خواب تھا کہ سارے عرب ملک ایک ہو جائیں اور ریجن سے ان ملکوں کا انفلوئنس ختم کر دیں جو عرب نہیں ہیں۔
02:30
Speaker A
ڈائریکٹ یہ بات اسرائیل کے خلاف جاتی تھی لیکن ان ڈائریکٹلی ایران بھی نشانہ بن رہا تھا۔
02:36
Speaker A
ناصر کا انفلوئنس ریجن میں اتنی تیزی سے اور اتنا زیادہ بڑھ رہا تھا۔
02:42
Speaker A
کہ مصر اور شام مل کر ایک ملک بن گئے اور نام رکھ لیا متحدہ عرب جمہوریہ۔
02:48
Speaker A
یہ بات دو ملکوں کے لیے بہت ہی خطرناک تھی، ایک اسرائیل جو ویسے ہی عربوں کے بیچ میں گھرا ہوا تھا۔
02:54
Speaker A
اور دوسرا ایران جو مسلمان تو تھا لیکن عرب نہیں تھا، سنی نہیں تھا۔
03:00
Speaker A
اب اسرائیل اور ایران کا دشمن ایک تھا اور سیاست کا سب سے پرانا اصول ہے۔
03:05
Speaker A
دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔
03:08
Speaker A
اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بین گوریون نے ایک ماسٹر پلان بنایا۔
03:14
Speaker A
نام تھا دی پیریفری ڈاکٹرائن۔
03:16
Speaker A
جس کے مطابق اگر ہمارے پڑوسی یعنی عرب ہمارے دشمن ہیں تو ہمیں ان کے پڑوسیوں سے دوستی کرنی چاہیے۔
03:24
Speaker A
بالکل ویسے ہی جیسے اج کل انڈیا افغانستان سے دوستیاں بڑھا رہا ہے۔
03:29
Speaker A
تو اس کے لیے اسرائیل کی نظریں تھیں تین ملکوں پر، ترکی، ایتھوپیا اور ایران۔
03:34
Speaker A
اور بات کیونکہ اسرائیل کے سروائیول کی تھی اس لیے خود کو بچانے کے لیے اس نے شاہ ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا۔
03:42
Speaker A
یہ کوئی عام دوستی نہیں تھی، کوئی کھلے عام ڈپلومیٹک ریلیشنز نہیں تھے بلکہ سمجھیں ایک سیکرٹ افیئر تھا۔
03:48
Speaker A
شاہ ایران تو اسرائیل کو چاہتا تھا لیکن عوام کے خوف سے اسے تسلیم نہیں کرتا تھا۔
03:55
Speaker A
لیکن پردے کے پیچھے یہ رشتہ اتنا گہرا تھا کہ اج سن کر یا پڑھ کر یقین نہیں اتا۔
04:00
Speaker A
بہرحال اس ریلیشن سے دونوں نے فائدے بھی حاصل کرنا شروع کر دیے۔
04:06
Speaker A
اسرائیل کو زندہ رہنے کے لیے تیل چاہیے تھا جو عرب اسے نہیں دے رہے تھے۔
04:12
Speaker A
ایران نے کہا کوئی مسئلہ نہیں۔
04:14
Speaker A
ہم دیں گے۔
04:15
Speaker A
لیکن کیسے؟
04:17
Speaker A
ایک مکمل طور پر نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ مصر کو بائی پاس کرنے کے لیے اسرائیل نے ایک پائپ لائن بنائی۔
04:25
Speaker A
ریڈ سی کے اسرائیلی پورٹ ایلات سے لے کر بحیرہ روم کے کنارے واقع شہر اسکلان تک اور پھر اس پائپ لائن میں تیل ایا ایران سے۔
04:33
Speaker A
ایران کے بحری جہاز ایلات تک تیل پہنچاتے اور یہاں سے یہ پائپ لائن کے ذریعے اسکلان تک جاتا۔
04:40
Speaker A
یہ پروجیکٹ اتنا کامیاب ہوا کہ ایک وقت ایسا بھی ایا کہ اسرائیل اپنی 90 پرسنٹ تیل کی ضرورت صرف ایران سے پوری کر رہا تھا۔
04:48
Speaker A
بلکہ یورپ کو سپلائی کر کے بھاری منافع کما رہا تھا۔
04:53
Speaker A
اور یہی ایرانی تیل تھا جس پر اسرائیل کے ٹینک، جہاز سب چلتے تھے۔
04:59
Speaker A
اور بدلے میں اسرائیل نے ایران کو کیا دیا؟
05:01
Speaker A
سیکیورٹی، باہر کے دشمنوں سے بھی اور اندر کے دشمنوں سے بھی۔
05:04
Speaker A
یاد رکھیں ہر بادشاہ کو سب سے زیادہ ڈر اپنے عوام سے لگتا ہے۔
05:09
Speaker A
شاہ ایران کو بھی اپنا تخت بچانا تھا۔
05:11
Speaker A
ملک میں خوف کا ماحول بنانے کے لیے اسرائیلی موساد نے ایران کی سیکرٹ سروس ایجنسی سواک کو ٹریننگ دینا شروع کر دی۔
05:20
Speaker A
یہی سواک تھی جس نے ہزاروں ایرانیوں کو گرفتار کیا، مارا پیٹا، بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا اور ان سب کاموں میں اس کے استاد تھے اسرائیلی۔
05:28
Speaker A
ملک کے باہر عرب انفلوئنس کو کم کرنے کے لیے بھی ایران اور اسرائیل ایک ساتھ تھے۔
05:36
Speaker A
دونوں مل کر عراق میں کرد باغیوں کو ہتھیار اور پیسے دیتے تاکہ بغداد میں حکومت کمزور رہے اور اسرائیل اور ایران دونوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔
05:45
Speaker A
لیکن اس پارٹنرشپ کا جو سب سے خطرناک پہلو تھا وہ تھا پروجیکٹ فلاور۔
05:50
Speaker A
1977 میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ کا مقصد تھا ایسا بیلسٹک میزائل بنانا جس کی رینج 200 کلومیٹرز ہو اور وہ نیوکلیئر وار ہیڈ بھی لے جانے کے قابل ہو۔
06:03
Speaker A
اس پروجیکٹ کی اڑ میں ایران اسرائیل کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی تک ایکسس حاصل کرنا چاہتا تھا۔
06:10
Speaker A
اور اسرائیل ایران کے پیسوں سے اپنے میزائل پروگرام کو اگے بڑھانا چاہتا تھا۔
06:16
Speaker A
اس بلین ڈالر پروجیکٹ کے لیے شاہ ایران نے 280 ملین ڈالرز کی ڈاؤن پیمنٹ بھی تیل کی صورت میں دی۔
06:24
Speaker A
اب اسرائیلی انجینئرز ایران میں تھے انہوں نے جگہ کا انتخاب کیا اور کام شروع کر دیا۔
06:30
Speaker A
انہوں نے ایران کے شہر سیرجان میں ایک میزائل فیکٹری لگائی اور رفسنجان میں ایک میزائل ٹیسٹ رینج بنانے کا کام بھی شروع ہو گیا۔
06:40
Speaker A
ایرانی انجینئرز کو ٹریننگ دی میزائل کیسے بنتے ہیں، کیسے اڑتے ہیں، کیسے نشانہ لگاتے ہیں۔
06:46
Speaker A
یہ سب سکھایا اور یہ سب اتنا خفیہ تھا، اتنا خفیہ تھا۔
06:52
Speaker A
کہ امریکہ کو بھی اس کا پتہ نہیں تھا۔
06:54
Speaker A
دو نان عرب پاورز مل کر پورے مڈل ایسٹ پر راج کرنے کا خواب دیکھ رہی تھیں۔
07:00
Speaker A
تہران کے ہوٹلوں میں اسرائیلی جرنلز اور ایرانی وزیر ساتھ بیٹھتے، ساتھ پیتے اور ریجن کے نقشے کو بدلنے کی باتیں کرتے۔
07:08
Speaker A
اسرائیل سمجھ رہا تھا کہ وہ عرب پاور کو ختم کرنے کے لیے ایک زبردست اتحاد بنا رہا ہے۔
07:15
Speaker A
لیکن تاریخ کا دھارا کسی اور ہی طرف مڑ رہا تھا۔
07:18
Speaker A
1978 میں جب ایران اور اسرائیل کے جرنل پہلا میزائل ٹیسٹ کامیاب ہونے کا جشن منا رہے تھے انہیں اندازہ نہیں تھا کہ تہران کی گلیوں میں وہ طوفان اٹھ چکا ہے۔
07:29
Speaker A
جو ان کی فیکٹری، ان کے میزائل، ان کی دوستی، ان کا اتحاد سب کچھ بہا لے جائے گا۔
07:34
Speaker A
شاہ کا ٹائم پورا ہو گیا۔
07:37
Speaker A
خمینی کی اواز گونجنے لگی۔
07:39
Speaker A
دنیا بھر کی خبریں رکھنے والی اسرائیلی انٹیلیجنس ایران میں اپنی ناک کے نیچے دیکھنے میں ناکام رہی۔
07:47
Speaker A
اور جب ہوش ایا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
07:50
Speaker A
فروری 1979 میں ایران میں انقلاب اگیا۔
07:53
Speaker A
دوستی دشمنی میں بدل گئی۔
07:55
Speaker A
لیکن کیا واقعی؟ کیا واقعی ایران اور اسرائیل دشمن بن گئے تھے؟
08:04
Speaker A
فروری 1979 ایران میں ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کا سورج غروب ہو گیا۔
08:10
Speaker A
شاہ رضا پہلوی بھاگ گیا اور اس کی جگہ وہ شخص ایا جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔
08:17
Speaker A
ایت اللہ روح اللہ خمینی۔
08:19
Speaker A
خمینی کا ایران شاہ کا ایران بالکل نہیں تھا۔
08:23
Speaker A
شاہ خود کو سائرس دی گریٹ کا وارث سمجھتا تھا۔
08:27
Speaker A
فارسی قوم پرستی پر یقین رکھتا تھا۔
08:29
Speaker A
لیکن خمینی وہ اسلامی انقلاب کا علمبردار تھا۔
08:35
Speaker A
وہ لا شرقی یا لا غربی یا اسلامیہ یا اسلامیہ کا نعرہ لگانے والے تھے۔
08:40
Speaker A
اور اسلامی لیڈر بننے کے لیے ایک شرط لازمی تھی۔
08:46
Speaker A
فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت۔
08:49
Speaker A
خمینی نے اتے ہی اپنا ایجنڈا بالکل کلیئر رکھا۔
08:53
Speaker A
امریکہ کو دی گریٹ سیٹن یعنی بڑا شیطان اور اسرائیل کو دی لٹل سیٹن یعنی چھوٹا شیطان قرار دیا۔
09:00
Speaker A
یہی نہیں ایک بہت ہی پاور فل سٹیٹمنٹ بھی دیا۔
09:03
Speaker A
یہ کہ تہران میں موجود اس عمارت پر قبضہ کر لیا جو اسرائیل کے ان افیشل سفارت خانے کا کام کرتی تھی۔
09:10
Speaker A
اور اس کی چابیاں کس کے حوالے کی؟
09:13
Speaker A
ازادی فلسطین کی تنظیم پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کے۔
09:18
Speaker A
وہ بلڈنگ جو کل تک اسرائیل کا ہیڈ کوارٹر تھی اب فلسطین کا سفارت خانہ بن گئی۔
09:25
Speaker A
یہ اسرائیل کے لیے ایک ڈراونا خواب تھا۔
09:31
Speaker A
ان کا اتحادی، ان کا پارٹنر راتوں رات ان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔
09:36
Speaker A
لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ سیاست میں نعرے کچھ اور ہوتے ہیں۔
09:40
Speaker A
اور حقیقت کچھ اور۔
09:42
Speaker A
خمینی اسرائیل کو مٹانا چاہتے تھے لیکن انہیں بالکل پتہ نہیں تھا۔
09:48
Speaker A
کہ بس کچھ ہی دنوں میں انہیں اپنے سروائیول کے لیے اسی چھوٹے شیطان یعنی اسرائیل کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
09:55
Speaker A
ایک ایسا دشمن ا رہا تھا جو اسرائیل سے بھی زیادہ خطرناک تھا کیونکہ وہ بالکل سرحد سے ملا ہوا تھا۔
10:02
Speaker A
صدام حسین۔
10:03
Speaker A
ایران اور عراق کے درمیان جنگ شروع ہو گئی اور تاریخ نے دیکھا۔
10:09
Speaker A
کہ عالمی سیاست میں صرف اور صرف مفادات ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔
10:16
Speaker A
1980 انقلابی ایران کو ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ ملک پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
10:22
Speaker A
عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا۔
10:26
Speaker A
ایران کمزور تھا اس کی فوج ابھی ملک کے اندر صفائی کرنے پر ہی لگی ہوئی تھی۔
10:30
Speaker A
امریکی پابندیوں کی وجہ سے اکانومی کا حال بھی برا تھا اور فوج کا بھی۔
10:36
Speaker A
ایران کے پاس ماڈرن امریکن جہاز تو اب بھی تھے ایف 14، ایف 4 فائٹرز لیکن ان کے لیے سپیئر پارٹس نہیں تھے، میزائل اور گولیاں نہیں تھیں۔
10:45
Speaker A
صدام حسین کی ملٹری مائٹ کے سامنے ایران ریت کی دیوار ثابت ہو رہا تھا اور خمینی یہ بات اچھی طرح جانتے تھے۔
10:52
Speaker A
کہ اگر ہتھیار نہ ملے تو انقلاب ختم ہو جائے گا۔
10:57
Speaker A
لیکن ہتھیار دیتا کون؟
10:59
Speaker A
امریکہ؟
11:00
Speaker A
یورپ؟
11:01
Speaker A
عرب؟
11:02
Speaker A
سب تو دشمن تھے۔
11:04
Speaker A
ان حالات میں صرف ایک ملک ایسا تھا جس کے پاس وہ امریکن ویپنز اور پارٹس موجود تھے۔
11:10
Speaker A
جن کی ایران کو ضرورت تھی اور ہاں۔
11:13
Speaker A
وہ ملک بھی صدام حسین سے نفرت کرتا تھا۔
11:15
Speaker A
جی ہاں اسرائیل۔
11:16
Speaker A
اور پھر ہم نے دیکھا تاریخ کا سب سے بڑا کنٹراڈکشن جب تہران کی گلیوں میں مرگ بر اسرائیل یعنی اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگ رہے تھے۔
11:27
Speaker A
اسی وقت اسی شہر کے ایئرپورٹ پر رات کے اندھیرے میں امدادی جہاز اترتے تھے۔
11:33
Speaker A
میں کوئی کانسپیریسی تھیوری نہیں بتا رہا ایک ڈاکومنٹڈ ریئلٹی ہے۔
11:40
Speaker A
لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے ایسا کیوں کیا؟
11:44
Speaker A
اس لیے کیونکہ وہ عراق کو اپنا زیادہ بڑا دشمن سمجھتا تھا اور اس کو ختم کرنے کے لیے اس نے ایران کو استعمال کر لیا۔
11:52
Speaker A
اسے کہا جاتا ہے اپریشن سیشیل۔
11:54
Speaker A
اسرائیل نے ایران کو جہازوں کے ٹائر، بریک پیڈز، اینٹی ٹیک میزائل یہاں تک کہ ٹینکوں کے انجن بھی بھیجے۔
12:04
Speaker A
ایک اندازے کے مطابق جنگ کے دوران اسرائیل سے ایران کو 500 ملین ڈالرز سے دو بلین ڈالرز تک کا اسلحہ ملا۔
12:12
Speaker A
کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگن نے امریکہ تک کو قائل کر لیا تھا۔
12:19
Speaker A
اپ ایران کنٹرا افیئر کے بارے میں پڑھیں۔
12:21
Speaker A
اپ کو اندازہ ہو جائے گا۔
12:23
Speaker A
لیکن ایک بات ایران نے کبھی یہ بات نہیں مانی۔
12:28
Speaker A
کہ اس نے اسرائیل سے کسی بھی قسم کا تعاون کیا ہے۔
12:31
Speaker A
جو بھی ہو اسلحہ جہاں سے بھی ایا یہ وہ لائف لائن تھی جس نے ایرانی فوج کو زندہ رکھا۔
12:38
Speaker A
ایران اور عراق کے بیچ اٹھ سال تک خونی کھیل چلتا رہا۔
12:43
Speaker A
دونوں ملکوں کے لاکھوں لوگ مارے گئے۔
12:46
Speaker A
اور اسرائیل سائیڈ پر کھڑا خوش ہو رہا تھا۔
12:49
Speaker A
یہ تک کہا وی وش بوتھ سائیڈز سکسس۔
12:52
Speaker A
یعنی ہم چاہتے ہیں دونوں جیتیں کیونکہ جیتے کوئی بھی کامیابی اسرائیلی کی ہوتی۔
12:59
Speaker A
جب جنگ ختم ہوئی اور صدام حسین کمزور ہو گیا۔
13:03
Speaker A
وہ کامن اینمی جو ایران اور اسرائیل کو جوڑ رہا تھا۔
13:08
Speaker A
راستے سے ہٹ گیا تو میدان صاف تھا۔
13:10
Speaker A
اب ریجن میں صرف اور صرف دو پاورز ہی بچی تھیں، ایران اور اسرائیل۔
13:16
Speaker A
اور ان کے پاس ایک دوسرے سے لڑنے کے سوا کوئی دوسرا اپشن نہیں تھا۔
13:22
Speaker A
دوستی کا ڈرامہ ختم ہوا اور شیڈو وار کا اغاز ہو گیا۔
13:30
Speaker A
90 میں دنیا بدل چکی تھی۔
13:33
Speaker A
سوویت یونین ٹوٹ گیا، صدام حسین کمزور ہو گیا اور ایران اور اسرائیل کے بیچ۔
13:38
Speaker A
اب کوئی بفر نہیں تھا۔
13:41
Speaker A
اس لیے دونوں کے بیچ ایسی جنگ شروع ہو گئی جس کا افیشلی کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
13:48
Speaker A
لیکن یہ لڑی جا رہی تھی۔
13:50
Speaker A
اس میں بندے مر رہے تھے۔
13:51
Speaker A
ایران کو پتہ تھا کہ وہ اسرائیل کو روایتی جنگ میں کبھی نہیں ہرا سکتا۔
13:56
Speaker A
کیونکہ اسرائیل کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی ملٹری پاور امریکہ ہے۔
14:00
Speaker A
اس لیے ایران نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی۔
14:03
Speaker A
فارورڈ ڈیفنس۔
14:04
Speaker A
اس نے اسرائیل کے گرد ایک رنگ اف فائر بنا دیا۔
14:08
Speaker A
لبنان میں حزب اللہ، فلسطین میں حماس اور اسلامی جہاد۔
14:15
Speaker A
اصل میں خمینی کا نظریہ تھا صدور انقلاب۔
14:20
Speaker A
یعنی انقلاب کو ایکسپورٹ کرنا۔
14:22
Speaker A
یہ انقلاب ایران میں لمیٹڈ رہنے کے لیے نہیں ایا تھا اسے پوری مسلم ورلڈ میں پھیلانا تھا۔
14:28
Speaker A
اور اس ایکسپورٹ کی پہلی ڈیسٹینیشن بنا لبنان۔
14:34
Speaker A
جی ہاں وہی لبنان جس کی سرحد اسرائیل سے ملتی ہے۔
14:38
Speaker A
1982 میں لبنان کی سول وار کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو ایران کو موقع مل گیا۔
14:46
Speaker A
اس نے پاسداران انقلاب کے ٹرینڈ بندے خاموشی کے ساتھ لبنان میں داخل کر دیے جنہوں نے وہاں کی شیعہ ابادی کو ارگنائز کیا۔
14:55
Speaker A
انہیں ٹریننگ دی، ہتھیار دیے، پیسے دیے اور پھر وہ تنظیم بنائی۔
15:00
Speaker A
جس نے انے والے سالوں میں گوریلا جنگ کی ہسٹری ہی بدل دی۔
15:04
Speaker A
یہ تھی حزب اللہ۔
15:05
Speaker A
اب سمجھیں ایران کی سرحدیں اسرائیل سے مل چکی تھیں۔
15:10
Speaker A
اب وہ تہران میں بیٹھ کر تل ابیب کو ڈرا سکتا تھا۔
15:14
Speaker A
لیکن اسرائیل کو اصل خوف پراکسیز سے نہیں کسی اور چیز سے تھا۔
15:20
Speaker A
ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے۔
15:22
Speaker A
اسرائیل کی ایک ڈاکٹرائن ہے بیگن ڈاکٹرائن۔
15:25
Speaker A
جس کے مطابق اسرائیل اپنے کسی بھی دشمن کو ایٹم بم بنانے نہیں دے گا۔
15:34
Speaker A
چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔
15:36
Speaker A
اور اس ڈاکٹرائن کا سب سے بھیانک عملی مظاہرہ ہم نے دیکھا 7 جون 1981 کو۔
15:44
Speaker A
اسرائیل کی فضائیہ نے تاریخ کا موسٹ ڈیرنگ اپریشن کرتے ہوئے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر اوسیراک کو تباہ کر دیا۔
15:53
Speaker A
ایران نے بھی کبھی ایسا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہا تھا۔
15:58
Speaker A
اسرائیل کے اس حملے نے عراق کو نیوکلیئر پاور بننے سے روک دیا جس کا سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا جو تب عراق کے خلاف حالت جنگ میں تھا۔
16:07
Speaker A
لیکن اس کاروائی سے یہ میسج بھی سب کو مل گیا کہ اسرائیل ریجن میں کسی کو بھی نیوکلیئر پاور نہیں بننے دے گا۔
16:15
Speaker A
اور ایران کو تو بالکل بھی نہیں۔
16:17
Speaker A
وقت گزرتا گیا حالات بدلتے گئے۔
16:20
Speaker A
بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ خراب ہوتے چلے گئے۔
16:23
Speaker A
لیکن تب تک جو بھی ہو رہا تھا وہ ایران کے مفاد میں تھا۔
16:28
Speaker A
2003 میں عراق پر حملہ۔
16:31
Speaker A
صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ۔
16:34
Speaker A
یہ سب ایران کے مفادات کے لیے فائدہ مند تھا اور 2011 میں جب عرب بہار کی اگ شام تک پہنچی۔
16:39
Speaker A
تو ایران کو وہ موقع مل گیا جو پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔
16:43
Speaker A
بشار الاسد کی حکومت گر رہی تھی۔
16:46
Speaker A
ایران نے فیصلہ کیا کہ وہ اسد کو بچائے گا۔
16:50
Speaker A
چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔
16:52
Speaker A
اس نے اپنی ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب کو بھیجا۔
16:57
Speaker A
جس نے حزب اللہ کو لبنان سے بلایا اور عراق اور افغانستان ہی نہیں پاکستان سے بھی ہزاروں جنگجو بھرتی کر کے شام بھیج دیے۔
17:04
Speaker A
کیوں؟
17:05
Speaker A
کیا یہ صرف اسد کی محبت تھی؟
17:07
Speaker A
نہیں یہ جیو پولیٹکس تھی۔
17:08
Speaker A
ایران جانتا تھا کہ اگر اسد کی حکومت بچ گئی۔
17:13
Speaker A
تو شام ہمیشہ کے لیے ایران کا غلام بن جائے گا۔
17:17
Speaker A
اور یہی ہوا اس جنگ نے ایران کو وہ ہائی وے دے دیا۔
17:20
Speaker A
جس کا وہ خواب دیکھتا تھا۔
17:21
Speaker A
ایک خونی ہائی وے جو تہران سے شروع ہوتا تھا بغداد سے گزرتا تھا اور دمشق سے ہوتا ہوا بیروت میں جا کر ختم ہوتا تھا۔
17:29
Speaker A
یہ شیعہ کریسنٹ تھا۔
17:31
Speaker A
جو اسرائیل تک پہنچ چکا تھا۔
17:33
Speaker A
جی ہاں ایران نے اپنی سرحدیں اٹھا کر اسرائیل کے بیڈ روم تک پہنچا دی تھیں۔
17:38
Speaker A
اسرائیل جو کل تک خود کو محفوظ سمجھتا تھا اب چاروں طرف سے گھر چکا تھا۔
17:42
Speaker A
وہ یہ سب خاموشی سے دیکھنے والا نہیں تھا۔
17:44
Speaker A
وہ جان گیا تھا کہ اب وقت سرجیکل سٹرائیک کا نہیں بلکہ اوپن سرجری کا ہے۔
17:50
Speaker A
اور اس سرجری کا اغاز اس نے کیا تہران کی سڑکوں سے۔
17:54
Speaker A
یہیں سے شروع ہوتا ہے شیڈو وار کا اصل اور خونی کھیل۔
18:04
Speaker A
اسرائیل جان گیا تھا کہ شام کے میدان میں ایران کو ہرانا مشکل ہے۔
18:08
Speaker A
اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگ کو دشمن کے گھر میں لڑے گا۔
18:12
Speaker A
یہیں سے شروع ہوئی تاریخ کی سب سے بڑی سپائے وار۔
18:17
Speaker A
یہ 31 جنوری 2018 کی رات تھی۔
18:21
Speaker A
تہران کے انڈسٹریل علاقے کہریزک میں ایک عام سا گودام۔
18:27
Speaker A
جس میں موساد کے درجن بھر ایجنٹ داخل ہوئے۔
18:31
Speaker A
ان کے پاس صرف سات گھنٹے تھے۔
18:33
Speaker A
صبح ہونے سے پہلے پہلے انہوں نے اپنا کام کر کے یہاں سے غائب ہونا تھا۔
18:38
Speaker A
ان کا ٹارگٹ کیا تھا؟
18:40
Speaker A
ایران کا سب سے بڑا راز۔
18:43
Speaker A
سیکرٹ نیوکلیئر ارکائیو۔
18:45
Speaker A
وہ تمام فائلیں، سی ڈیز اور بلو پرنٹس جو ثابت کرتے تھے کہ ایران ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
18:56
Speaker A
سمجھیں ایک فلمی سین تھا۔
18:58
Speaker A
ان ایجنٹوں نے جو سب کے سب لوکل تھے چھ گھنٹے 29 منٹ میں 32 بڑے بڑے سیف کاٹے الارم سسٹم کو ناکارہ بنایا اور 55 ہزار صفحات اور 163 سی ڈیز پر مشتمل 500 کلو سیکرٹ ڈاکومنٹس لے کر فرار ہو گئے۔
19:09
Speaker A
اور کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا۔
19:11
Speaker A
یہ صرف چوری نہیں تھی۔
19:13
Speaker A
ایران کے لیے کھلا میسج تھا کہ ہم تمہارے گھر کے اندر ہیں۔
19:18
Speaker A
اور تم سو رہے ہو۔
19:19
Speaker A
لیکن اسرائیل یہیں نہیں رکا چوری کے بعد اب باری تھی۔
19:23
Speaker A
شکار کی۔
19:29
Speaker A
27 نومبر 2020 تہران کے باہر ایک سڑک ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بانی۔
19:36
Speaker A
سمجھیں ایران کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن فخری زادہ۔
19:40
Speaker A
اپنی کار میں سفر کر رہے تھے۔
19:43
Speaker A
کہ اچانک سڑک پر کھڑے ایک پک اپ ٹرک سے مشین گن نکلی اور فائرنگ شروع کر دی۔
19:49
Speaker A
اس پک اپ میں کوئی ڈرائیور نہیں تھا اور نہ ہی اس گن کا ٹریگر کسی انسان نے دبایا تھا۔
19:54
Speaker A
یہ ایک سیٹلائٹ کنٹرول روبوٹک سنائپر تھی۔
19:57
Speaker A
جسے ہزاروں میل دور تل ابیب کے ایک کنٹرول روم سے چلایا جا رہا تھا۔
20:04
Speaker A
مشین گن اتنی انٹیلیجنٹ تھی کہ اس نے صرف فخری زادہ کو نشانہ بنایا۔
20:12
Speaker A
ان کی بیوی جو ساتھ بیٹھی تھی انہیں خراش تک نہیں ائی۔
20:16
Speaker A
سمجھیں یہ سائنس فکشن مووی کا سین تھا جسے دنیا نے ریئلٹی کی صورت میں دیکھا۔
20:21
Speaker A
یہ موساد کا دوسرا اور اخری میسج تھا۔
20:26
Speaker A
تم اپنے بلٹ پروف قلعوں میں بھی محفوظ نہیں ہم جب چاہیں جہاں چاہیں تمہیں مار سکتے ہیں۔
20:32
Speaker A
اب ایران زخمی تھا اور بدلے کی اگ میں جل رہا تھا۔
20:36
Speaker A
لیکن ابھی صبر کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔
20:40
Speaker A
اور اپریل 2024 میں وہ ہوا جس سے ایران کا صبر ختم ہو گیا۔
20:47
Speaker A
یکم اپریل 2024 اسرائیل کے ایف 35 جہازوں نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر بمباری کر دی۔
20:51
Speaker A
یہ کوئی عام عمارت نہیں تھی۔
20:54
Speaker A
انٹرنیشنل لاز کے تحت کسی بھی ملک کا سفارت خانہ اس کی سرزمین ہوتی ہے۔
21:00
Speaker A
اس لیے یہ حملہ دمشق پر نہیں بلکہ براہ راست ایران پر تھا۔
21:05
Speaker A
اس حملے میں مارا کون گیا؟ پاسداران انقلاب کا ایک بہت بڑا کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی۔
21:11
Speaker A
وہ شخص جو شام اور لبنان میں ایران کے تمام خفیہ اپریشنز کا انچارج تھا۔
21:19
Speaker A
اب ایران کے پاس دو ہی راستے تھے۔
21:22
Speaker A
یا تو یہ ذلت بھی برداشت کر جائے اور دنیا پر ظاہر کر دے کہ ایران صرف ایک پیپر ٹائیگر ہے یا پھر وہ قدم اٹھائے جو ایران نے اپنی 45 سالہ انقلابی تاریخ میں کبھی نہیں اٹھایا تھا۔
21:32
Speaker A
اسرائیل پر براہ راست حملہ۔
21:38
Speaker A
13 اپریل 2024 کو ایران کی سرزمین سے تاریخ میں پہلی بار۔
21:44
Speaker A
300 سے زیادہ خودکش ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی ایک ویو اسرائیل کی طرف روانہ کی گئی۔
21:50
Speaker A
حملہ ملٹریلی کامیاب تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔
21:54
Speaker A
اسرائیل کہتا ہے کہ اس نے 99 فیصد میزائل اور ڈرونز ہوا میں ہی تباہ کر دیے۔
22:00
Speaker A
لیکن یہ حملہ فوجی نہیں نفسیاتی تھا۔
22:03
Speaker A
یہ ایران کا اعلان تھا کہ اب رولز بدل چکے ہیں۔
22:08
Speaker A
اب جنگ شیڈوز میں نہیں ہو گی اب ہم تمہیں تمہارے گھر میں گھس کر ماریں گے۔
22:11
Speaker A
شیڈو وار ختم ہو چکی تھی۔
22:13
Speaker A
اوپن وار کا اغاز ہو چکا تھا۔
22:15
Speaker A
اس کے بعد سے اج تک یہ جنگ ختم نہیں ہوئی اس میں وقفے ضرور ائے ہیں۔
22:20
Speaker A
لیکن یہ بڑھتی ہی جا رہی ہے اس کی شدت اس کی انٹینسٹی اتنی ہو چکی ہے۔
22:26
Speaker A
کہ دنیا کو اب تھرڈ ورلڈ وار کا خطرہ ہے۔
22:29
Speaker A
ستمبر 2024 میں لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے قتل کے ساتھ یہ بات ثابت ہو گئی کہ اب بات لیڈرز تک پہنچ گئی ہے۔
22:39
Speaker A
وہ جنگ جو 40 سال سے اندھیروں میں لڑی جا رہی تھی اب دن کی روشنی میں سب کے سامنے ہے۔
22:45
Speaker A
2025 میں ایران اور اسرائیل کھل کر ایک دوسرے کے سامنے ا گئے۔
22:50
Speaker A
اب صرف یہ کنفلکٹ نہیں بلکہ وار اف سروائیول بن چکی تھی۔
22:55
Speaker A
اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے ایران میں گھس کر اس کے اہم ترین فوجی اور نیوکلیئر ایسٹس کو نشانہ بنایا۔
23:04
Speaker A
اور کلیئر میسج دیا کہ وہ ایران کو کبھی نیوکلیئر پاور نہیں بننے دے گا۔
23:11
Speaker A
چاہے پوری دنیا اس کے خلاف ہو جائے۔
23:13
Speaker A
دوسری طرف ایران تھا جس نے صبر کا دامن چھوڑ دیا۔
23:18
Speaker A
وہ میزائل جن کی ٹیکنالوجی کبھی اسرائیل خود ایران کو دینا چاہتا تھا۔
23:24
Speaker A
ویسے ہی میزائل تل ابیب اور حیفہ پر گر رہے تھے۔
23:27
Speaker A
ایران بھی بالکل کلیئر ہے اگر ہمیں مارو گے تو ہم بھی تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔
23:31
Speaker A
حزب اللہ کے راکٹ اور یمن کے ہوسی ڈرونز اب ایک ساتھ اسرائیل پر برسنا شروع ہو گئے۔
23:36
Speaker A
رنگ اف فائر مکمل طور پر بھڑک چکا تھا۔
23:39
Speaker A
دنیا تماشا دیکھ رہی تھی۔
23:41
Speaker A
کیونکہ یہ اگ صرف دو ملکوں تک نہیں رہتی پورے ریجن کو جلا کر راکھ کر سکتی تھی۔
23:47
Speaker A
تیل کی سپلائی لائنز بند ہو جاتی دنیا کی اکانومی ڈوب جاتی۔
23:51
Speaker A
امریکہ، روس، چین سب اس دلدل میں پھنس جاتے۔
23:55
Speaker A
اور تب امریکہ اگے بڑھا۔
23:57
Speaker A
اور سیز فائر کروا دیا۔
23:58
Speaker A
لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ ام دو جنگوں کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے۔
24:03
Speaker A
2026 میں اس سے کہیں بڑی اور کہیں خطرناک جنگ کا اغاز ہو گیا۔
24:09
Speaker A
کیونکہ ایک چیز تو اسرائیل پر کلیئر ہو چکی تھی۔
24:13
Speaker A
کہ جب تک ایران کا سپریم لیڈر زندہ ہے یہ اگ نہیں بجھے گی۔
24:19
Speaker A
اور پھر اس نے کی ڈیکیپیٹیشن سٹرائیک یعنی شیر کے سر پر وار۔
24:25
Speaker A
28 فروری 2026 کو اسرائیل نے اپنی تاریخ کا سب سے خطرناک جوا کھیلا۔
24:32
Speaker A
ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس کا صرف ایک ہی مطلب ہوتا ہے۔
24:38
Speaker A
مکمل جنگ۔
24:39
Speaker A
اب اسرائیل کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔
24:42
Speaker A
وہ لبنان کی طاقت ختم کر چکا۔
24:45
Speaker A
شام میں بشار کی حکومت ختم ہو چکی۔
24:47
Speaker A
عراق میں اسے روکنے کا دم نہیں۔
24:50
Speaker A
یعنی تل ابیب سے تہران تک کا راستہ بالکل صاف تھا۔
24:54
Speaker A
اور پھر تہران کے قلب میں ایک، دو، کئی زبردست دھماکے ہوئے۔
25:00
Speaker A
عام بموں کے نہیں بلکہ بسٹرڈ بموں کے دھماکے۔
25:02
Speaker A
وہ بم جو زمین کا سینہ چیر دیتے ہیں اور اندر گھس کر پھٹتے ہیں۔
25:06
Speaker A
اور جب دھوئیں کے بادل چھٹے تو ایران کے لیے دنیا بدل چکی تھی۔
25:10
Speaker A
کئی گھنٹے کی خاموشی کے بعد ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے اعلان ہوا۔
25:15
Speaker A
سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنئی اپنے گھر والوں کے ساتھ شہید کر دیے گئے۔
25:20
Speaker A
یہ ایران کی روح پر حملہ تھا۔
25:22
Speaker A
صرف ایک لیڈر کا نہیں یہ ایک نظریے کا قتل تھا۔
25:25
Speaker A
تہران کی سڑکوں پر کہرام تھا زاہدان سے لے کر تبریز تک مشہد سے لے کر اہواز تک پورے ملک میں ماتم کا سما تھا۔
25:32
Speaker A
پاسداران نے قسم کھائی کہ وہ اس کا بدلہ لیں گے۔
25:35
Speaker A
اور ایسا بدلہ لیں گے کہ تاریخ یاد رکھے گی۔
25:38
Speaker A
مڈل ایسٹ میں پھر اگ لگ چکی ہے۔
25:41
Speaker A
ایسی اگ جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
25:45
Speaker A
شیڈو وار اب تیسری عالمی جنگ کا اغاز کر سکتی ہے۔
25:50
Speaker A
وہ اسرائیل اور ایران جو اج سے کوئی 60 سال پہلے مل کر اگے بڑھ رہے تھے۔
25:57
Speaker A
اج اپنے ساتھ دنیا کو بھی ختم کرنے کے در پہ ہیں۔

Get More with the Söz AI App

Transcribe recordings, audio files, and YouTube videos — with AI summaries, speaker detection, and unlimited transcriptions.

Or transcribe another YouTube video here →